Al-Baqara 2:16

Al-Baqara · from ayah 16

2:16

اُولٰٓىِٕكَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالْهُدٰی ۪— فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوْا مُهْتَدِیْنَ ۟اُولٰٓئِكَ الَّذِيۡنَ اشۡتَرَوُا الضَّلٰلَةَ بِالۡهُدٰى فَمَا رَبِحَتۡ تِّجَارَتُهُمۡ وَمَا كَانُوۡا مُهۡتَدِيۡنَ‏

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Those are the ones who have purchased error [in exchange] for guidance, so their transaction has brought no profit, nor were they guided.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:16

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت چھوڑ کر گمراہی خریدی، تو نہ تو ان کی تجارت ہی نے کچھ نفع دیا اور نہ وہ ہدایت یاب ہی ہوئے

— مولانا فتح محمد جالندہری

یہ وه لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو ہدایت کے بدلے میں خرید لیا، پس نہ تو ان کی تجارت نے ان کو فائده پہنچایا اور نہ یہ ہدایت والے ہوئے

— مولانا محمد جوناگڑہی

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے لہٰذا نہ ان کی تجارت میں نفع ہوا اور نہ انہیں صحیح راستہ نصیب ہوا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

یہ لوگ جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی تو ان کا سودا کچھ نفع نہ لایا اور وہ سودے کی راہ جانتے ہی نہ تھے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی لیکن ان کی تجارت فائدہ مند نہ ہوئی اور وہ (فائدہ مند اور نفع بخش سودے کی) راہ جانتے ہی نہ تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

یہ وہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی، تو نہ ان کی تجارت نے نفع دیا اور نہ وہ ہدایت پانے والے بنے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی کو خرید لیا۔ ان کی اس تجارت نے انہیں کچھ نفع نہ دیا اور نہ ہی وہ ہدایت پانے والے تھے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

یہی لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی تو تو ان کی تجارت ان کے لیے نفع بخش نہ ہوئی اور یہ ہدایت پانے والے نہ بنے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

یہ وہ (بد بخت) لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی کو اپنایا ہدایت کے بدلے میں پس نہ ان کو نفع دیا ان کی اس تجارت نے اور نہ ہی یہ ہدایت پانے والے ہیں،

— مولانا اسحاق مدنی

یہ وہ لوگ ہیں کہ انہوں نے گمراہی خرید کرلی ہدایت کے بدلے سو نہ ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی اور نہ وہ راہ یاب ہوئے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یہ وہ لوگ ہیں کہ جنہوں نے ہدایت کے عوض گمراہی خرید لی ہے۔ سو نافع نہ ہوئی ان کی تجارت ان کے حق میں اور نہ ہوئے راہ پانے والے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے گمراہی خرید لی ہدایت کے بدلے سو نہ تو ان کی تجارت ہی سود مند ہوئی نہ وہ ہدایت پانے والے ہوئے

— محترمہ رفعت اعجاز

These are the people who have bartered away Guidance for error, but this is a profitless bargain that they have made, and they are not at all on the right way.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

These are the people who have bought error at the price of guidance; so their trade has brought no gain, nor have they reached the right Path.

— Muhammad Taqi Usmani

These are the people who have bought error at the price of guidance; so their trade has brought no gain, nor have they reached the right Path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

These are they who have purchased error with guidance, so their commerce was profitless. And they were not guided.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

These are they who purchase error at the price of guidance, so their commerce doth not prosper, neither are they guided.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Those are the ones who have purchased error [in exchange] for guidance, so their transaction has brought no profit, nor were they guided.

— Saheeh International

They have traded guidance for error, but their bargain has had no profit and they have missed the true guidance.

— Muhammad Sarwar

These are they who buy error for the right direction, so their bargain shall bring no gain, nor are they the followers of the right direction.

— Muhammad Habib Shakir

These are they who purchased error for guidance, but their traffic profited not, nor have they ever become guided.

— Abdul Majid Daryabadi

These are they who have bartered Guidance for error: But their traffic is profitless, and they have lost true direction,

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:16

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ایمان فروش لوگ حضرت ابن عباس، ابن مسعود اور بعض دیگر صحابہ رضوان اللہ علیہم سے مروی ہے کہ انہوں نے ہدایت چھوڑ دی اور گمراہی لے لی۔ حضرت عبداللہ فرماتے ہیں انہوں نے ایمان کے بدلے کفر قبول کیا۔ مجاہد فرماتے ہیں ایمان لائے پھر کافر ہوگئے۔ قتادہ فرماتے ہیں " ہدایت پر گمراہی کو پسند کرتے ہیں۔ " جیسے اور جگہ قوم ثمود کے بارے میں ہے آیت (وَاَمَّا ثَمُوْدُ فَهَدَيْنٰهُمْ فَاسْتَــحَبُّوا الْعَمٰى عَلَي الْهُدٰى فَاَخَذَتْهُمْ صٰعِقَةُ الْعَذَابِ الْهُوْنِ بِمَا كَانُوْا يَكْسِبُوْنَ) 41۔ فصلت :17) یعنی باوجود اس کے کہ ہم نے قوم ثمود کو ہدایت سے روشناس کردیا مگر پھر بھی انہوں نے اس رہنمائی کی جگہ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 14–16

سورة الْبَقَرَة 15 شیطان عربی زبان میں سرکش، متمرّد اور شوریدہ سر کو کہتے ہیں۔ انسان اور جِنّ دونوں کے لیے یہ لفظ مستعمل ہوتا ہے۔ اگرچہ قرآن میں یہ لفظ زیادہ تر شیاطین جِنّ کے لیے آیا ہے، لیکن بعض مقامات پر شیطان صفت انسانوں کے لیے بھی یہ استعمال کیا گیا ہے اور سیاق وسباق سے بآسانی معلوم ہوجا تا ہے کہ کہاں شیطان سے انسان مراد ہیں اور کہاں جِنّ۔ اس مقام پر شیاطین کا لفظ ان بڑے بڑے سرداروں کے لیے استعمال ہوا ہے، جو اس وقت اسلام کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

نویں آیت میں منافقین کے اس حال کا ذکر ہے کہ انہوں نے اسلام کو بھی قریب سے دیکھا اس کا ذائقہ بھی چکھا اور کفر میں تو پہلے سے مبتلا ہی تھے پھر کفر واسلام دونوں کو دیکھنے سمجھنے کے بعد انہوں نے اپنی ذلیل دنیاوی اغراض کی خاطر اسلام کے بدلے کفر ہی کو ترجیح دی ان کے اس عمل کو قرآن کریم نے تجارت (بیوپار) کا نام دے کر یہ بتلایا کہ ان لوگوں کو بیوپار کا بھی سلیقہ نہ آیا کہ بہترین قیمتی چیز یعنی ایمان دے کر ردی اور تکلیف دہ چیز یعنی کفر خرید لیا،

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ: اشتراء کے معنی خریدنے کے ہیں۔ آدمی جس چیز کو کوئی قیمت ادا کر کے خریدتا ہے اس کو اس شے کے مقابل میں، جس کو وہ قیمت قرار دیتا ہے، ترجیح دیتا ہے۔ یہیں سے اس لفظ کے اندر ترجیح دینے کا مفہوم پیدا ہو گیا اور اس معنی میں یہ لفظ قران میں جگہ جگہ استعمال ہوا ہے۔ یہ اشارہ کن لوگوں کی طرف ہے؟ اوپر دو گروہوں کا ذکر ہوا ہے۔ ایک ان لوگوں کا جو ایمان لائے، دوسرے ان لوگوں کا جو ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ ان دونوں گروہوں کے بعد یہ ایک تیسرے گروہ کا بیان ہے جو تعلق تو رکھتا ہے ایمان نہ لانے والے گروہ سے لیکن اپنی بعض خصوصیات کے لحاظ سے ان سے کچھ مختلف مزاج رکھتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 تجارت سے مراد ہدایت چھوڑ کر گمراہی اختیار کرنا ہے۔ جو سراسر گھاٹے کا سودا ہے۔ منافقین نے نفاق کا جامہ پہن کر ہی گھاٹے والی تجارت کی۔ لیکن یہ گھاٹا آخرت کا گھاٹا ہے ضروری نہیں کہ دنیا ہی میں اس گھاٹے کا انہیں علم ہوجائے۔ بلکہ دنیا میں تو اس نفاق کے ذریعے سے انہیں جو فوری فائدے حاصل ہوتے تھے، اس پر وہ بڑے خوش ہوتے اور اس کی بنیاد پر اپنے آپ کو بہت دانا اور مسلمانوں کو عقل فہم سے عاری سمجھتے تھے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 15–16

14 یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی رسی دراز کر رکھی ہے کہ ان کے دوغلے پن کی فوری سزا دنیا میں انہیں نہیں مل رہی ہے، جس سے وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہماری تدبیر کارگر ہوگئی، چنانچہ وہ اپنی اس گمراہی میں اور پختہ ہوتے جارہے ہیں، آخرت میں انہیں ایک دم پکڑلیا جائے گا، چونکہ اللہ تعالیٰ کا یہ عمل ان کے مذاق کا نتیجہ تھا اسے یہاں اللہ ان سے مذاق کرتا ہے کے عنوان سے تعبیر فرمایا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب قرآن کریم چند آخری کلمات میں ان کی حقیقت حال اور ان کے اس خسارے کو بیان کرتا ہے جو ان کی اس روش کی وجہ سے انہیں پہنچ رہا ہے ۔ أُولَئِكَ الَّذِينَ اشْتَرَوُا الضَّلالَةَ بِالْهُدَى فَمَا رَبِحَتْ تِجَارَتُهُمْ وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ” یہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہرگز صحیح راستے پر نہیں ہیں ۔ “ اگر وہ چاہتے تو ہدایت کی راہ ان کے پاس تھی ۔ ان پر ہدایت کے دریا بہادیئے گئے تھے ۔ یہ ان کے ہاتھ میں تھی لیکن انہوں نے اپنی مرضی سے ہدایت دے کر اس کے بدلے ضلالت خرید لی ۔ جیسا کہ ایک غافل تاجر کا انجام ہوتا ہے ۔ ویسا ہی انجام ان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

7 تجارت سے مراد وہی گمراہی کا ہدایت کے بدلے مول لینا ہے جو اس سے پہلے مذکور ہے۔ 8 یعنی منافقین نے بظاہر ایمان قبول کیا اور دل میں کفر کو رکھا جسکی وجہ سے آخرت میں خراب اور دنیا میں خوار ہوئے کہ حق تعالیٰ نے اپنے کلام پاک میں ان کے احوال پر سب کو مطلع فرما دیا۔ ایمان لاتے تو دارین میں سرخرو ہوتے تو اب ان کی تجارت نے کوئی نفع ان کو نہ پہنچایا نہ دنیا کا اور نہ آخرت کا۔ اور وہ کچھ نہ سمجھے کہ مجرد ایمان زبانی کو کافی اور نافع سمجھ کر اس خرابی اور رسوائی میں گرفتار ہوئے۔ اب ان منافقین کے مناسب حال دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 16 اُولٰٓءِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بالْھُدٰیص یہ بڑا پیارا انداز بیان ہے۔ ان کے سامنے دونوں options تھے۔ ایک شخص نے گمراہی کو چھوڑا اور ہدایت لے لی۔ اسے اس کی بھاری قیمت دینا پڑی۔ اسے تکلیفیں اٹھانی پڑیں ‘ آزمائشوں میں سے گزرنا پڑا ‘ قربانیاں دینا پڑیں۔ اس نے یہ سب کچھ منظور کیا اور ہدایت لے لی۔ جبکہ ایک شخص نے ہدایت دے کر گمراہی لے لی ہے۔ آسانی تو ہوگئی ‘ فوری تکلیف سے تو بچ گئے ‘ دونوں طرف سے اپنے مفادات کو بچالیا ‘ لیکن حقیقت میں سب سے زیادہ گھاٹے کا سودا یہی ہے۔ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ”رَبِحَ یَرْبَحُ“ کے معنی ہیں تجارت وغیرہ میں نفع…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 15–16

21 اوصاف کا سدہ کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کیوں ؟ قرآن کی بعض آیات میں بعض اوصاف ذمیمہ مثلاً استہزاء مکر اور خدع کی اللہ تعالیٰ کی طرف جو نسبت کی گئی ہے، یہ محض اہل عرب کے محاورہ کی وجہ سے ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ قرآن اہل عرب اور بالخصوص قریش کے محاورہ کے مطابق نازل ہوا ہے۔ ایسے افعال اللہ تعالیٰ کی طرف کبھی اکیلے منسوب نہیں ہوتے بلکہ کافروں کے افعال کے جواب کے طور پر استعمال ہوتے ہیں۔ عرف عام میں ایسی صورت کو مشاکلہ کہتے ہیں ورنہ اللہ تعالیٰ کی ذات ایسے اوصاف سے پاک ہے۔ ایسے عرب محاوروں کی ایک مثال درج ذیل آیت میں بھی موجود ہے۔ (وَجَزَاءُ سَیِّئَۃٍ سَیِّئَۃٌ مِثْلُھَا) (42: 40) برائی کا بدلہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

45 ۔ ان کی بدبختی کی انتہا ہے کہ انہوں نے ہدایت و ایمان جیسی جنس بےبہا قیمت میں دے کر خریدی بھی تو کیسی نکمی اور بےحقیقت چیز، گمراہی وکفر ! (آیت) ” اشتروا “ اشتروا یا خریداری کے معنی کسی چیز کا معاوضہ میں لینا۔ ایمان کا قبول کرلینا ان منافقین کے بالکل اختیار کے اندر تھا۔ لین اس کے بجائے انہوں نے روش کفر اختیار کرلی۔ اہل عرب ہر استبدال کے موقع پر اشتراء بولتے ہیں۔ اختاروا الکفر علی الایمان (ابن عباس ؓ اے استبدلوا الکفر بالایمان (معالم) والعرب تستعمل ذلک کل من استبدل شیئا بشیء (قرطبی) ویجوز الشراء والاشتراء فی کل ما یحصل بہ شئی (راغب) (آیت) ” بالھدی “ میں ب کے معنی ہیں بعوض۔ اے بدلا منہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 16 ترجمہ : یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی اختیار کرلی (یعنی) گمراہی کو ہدایت سے بدل لیا، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے، یعنی ان کو اس سودے میں نفع نہیں ہوا بلکہ خسارا ہوا ان کے دائمی آگ کی طرف پلٹنے کی وجہ سے اور یہ اپنے طریقہ کار میں ہرگز صحیح طریقہ پر نہیں ہیں اور ان کی کیفیت ان کے نفاق میں اس شخص کی کیفیت جیسی ہے، جس نے تاریکی میں آگ جلائی سو جب آگ نے اطراف و جوانب کو روشن کردیا، تو اس کو سجھائی دینے لگا اور سردی کی تکلیف دور ہوگئی اور خوف کی چیزوں سے مامون ہوگیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا (یعنی) اس کو بجھا دیا اور (ھم) ضمیر کو جمع لانا، اَلَّذِیْ ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اُوْلٰءِکَ اَلَّذِیْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بالْھُدٰی فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ (یہی ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خریدی سو نفع نہ لائی ان کی سوداگری) اِشْتَروْا میں اِشْتَراء سے مراد استبدال اور ضَلَلاَۃٌ سے مراد کفر اور ھدٰی سے مراد ایمان ہے اور خریدو فروخت کے ذریعے سے اصل سرمایہ پر زیادتی طلب کرنے کو تجارۃ کہتے ہیں اور ربح تجارۃ کی طرف مجازاً اسناد کردیا ہے اور وجہ مناسبت یہ ہے کہ لفظ تجارت ربح 2 ؂ کے فاعل کے ساتھ متصل ہے یا یہ مناسبت ہے کہ تجارۃ ربح کا سبب ہے جیسا کہ فاعل ربح کا سبب ہوتا ہے۔ وَ مَا کَانوُْا مُھْتَدِیْنَ ( اور وہ راہ پانے والے نہ ہوئے) یعنی تجارت سے انہوں نے راہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(16) اللہ تعالیٰ دنیاوی زندگی میں بھی ان کے کفر اور گمراہی میں اتنی ڈھیل دیتا ہے کہ جس پر انکی بصیرت کا خاتمہ ہوجاتا ہے اور سچائی کا امتیاز باقی نہیں رہتا، یہ اس طرح کے لوگ ہیں جنہوں نے ایمان کے بدلے کفر کو اختیار کرلیا ہے اور ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے، لیکن انکو اپنی اس تجارت میں کوئی فائدہ نہیں ہوا بلکہ نقصان ہی میں مبتلا ہوئے اور اب یہ گمراہی سے سیدھی راہ پر نہیں آئیں گے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا لقوالذین امنوا“۔ الخ) واحدی ؒ اور ثعلبی ؒ نے بواسطہ محمد بن مروان، سدی صیغر، کلبی، ابوصالح، ابن عباس ؓ سے روایت کرتے ہیں کہ آیت کریمہ عبداللہ بن ابی اور اس کے ساتھیوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 15–16

3 منافقین دل میں کفر رکھنے اور کفار کا ساتھ دینے کے باوجود مسلمانوں سے ملتے تو ”اٰمَنَّا“ کہتے اور اسے اہل ایمان کے ساتھ مذاق قرار دیتے۔ اللہ تعالیٰ نے بھی جواباً ان کے ساتھ یہی معاملہ فرمایا کہ ان کے متعلق یہ طے کردیا کہ وہ جہنم کے سب سے نچلے حصے میں ہوں گے، اس کے باوجود دنیا میں انھیں مسلمان قرار دیا اور ان کی رسی دراز کردی، تاکہ وہ سرکشی میں زیادہ سے زیادہ بڑھ جائیں، فرمایا : (اِنَّمَا نُمْلِيْ لَھُمْ لِيَزْدَادُوْٓا اِثْمًا) [ آل عمران : 178 ] ”ہم انھیں صرف اس لیے مہلت دے رہے ہیں کہ وہ گناہ میں بڑھ جائیں۔“ وہ ان کا مذاق تھا یہ اللہ تعالیٰ کا مذاق ہے۔ قرآن مجید میں ایسے الفاظ مقابلے میں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 16 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی سیبویہ نے کہا : اشتروا میں واؤ کو ضمہ دیا گیا ہے تاکہ واؤ جمع اور واوصیلہ میں فرق ہوجائے جیسے وان لو استقاموا علی الطریقۃ (الجن : 16) ۔ ( اور اگر وہ ثابت قدم رہیں راہ حق پر) ۔ ابن کیسان نے کہا : واؤ میں ضمہ دوسری حرکات کی نسبت خفیف ہے کیونکہ ضمہ واو کی جنس سے ہے۔ الزجاج نے کہا : ضمہ کی حرکت دی گئی ہے جیسے نحن میں کہا گیا ہے۔ ابن ابی اسحاق، یحییٰ بن یعمر نے التقاء ساکنین کی اصل پر واو کے کسرہ کے ساتھ پڑھا ہے (1) ۔ ابو زید انصاری نے قعنب ابی سمال عدوی سے روایت کیا ہے کہ انہوں نے واو کے فتحہ کے ساتھ پڑھا ہے کیونکہ فتحہ خفیف…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ سے مراد ہے ایمان کے بدلے کفر۔ (2) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ سے مراد ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کیا۔ (3) امام عبدبن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت مجاہد سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “ سے مراد ہے کہ وہ ایمان لائے پھر کفر کیا۔ (4) امام عبد الرزاق، عبد بن حمدی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے لفظ آیت ” اولئک الذین اشتروا الضللۃ بالھدی “…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اُولٰۗىِٕكَ : یہ لوگ ہیں ] [ الَّذِيْنَ : جن لوگوں نے ] [ اشْتَرَوُا : خریدا ] [ الضَّلٰلَةَ : گمراہی کو ] [ بِالْهُدٰى ۠ : ہدایت کے بدلے میں ] [ فَمَا رَبِحَتْ : تو نفع بخش نہ ہوئی ] [ تِّجَارَتُھُمْ : ان کی تجارت ] [ وَمَا كَانُوْا : اور وہ لوگ نہیں تھے ] [ مُهْتَدِيْنَ : ہدایت پانے والے ] ش ر ی (ض) شراء ] سوداگری کرنا، خریدو فروخت کرنا، وَلَبِئْسَ مَا شَرَوْا بِهٖٓ اَنْفُسَھُمْ ۭ لَوْ كَانُوْا يَعْلَمُوْنَ (اور کتنا برا ہے جو ان لوگوں نے سودا کیا اپنے آپ کا، کاش وہ لوگ جانتے ہوتے) (افتعال) اشتراء : خریدنا، کسی چیز کے بدلے کوئی چیز حاصل کرنا وَقَالَ الَّذِي اشْتَرٰىهُ مِنْ مِّصْرَ (اور…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

منافقین نے ہدایت کے بدلہ گمراہی خریدلی اللہ تعالیٰ جل شانہٗ نے ہر شخص کو فطرت ایمان پر پیدا فرمایا پھر عقل اور ہوش بھی دیا۔ اور انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا۔ کتابیں نازل فرمائیں اس سب کے باوجود اگر کوئی شخص ہدایت کو اختیار نہ کرے اور گمراہی کو اختیار کرے تو یہ ہدایت کے بدلے گمراہی خریدنے والا بن گیا اس نے اپنی عقل و بصیرت کی پونجی کو جس کے ذریعہ ہدایت پر چل سکتا تھا، ضائع کردیا اور گمراہی اختیار کرلی۔ یعنی اپنی پونجی گمراہی حاصل کرنے میں لگا دی ایسے لوگوں کی یہ تجارت نفع مند نہیں، بلکہ سراسر نقصان اور خسران کا باعث ہے۔ حقیر دنیا کے لیے گمراہی لی، ہدایت سے منہ موڑا، آخرت کی بربادی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 14–16

منافقوں کی چوتھی قباحت قال تعالیٰ واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔ الی۔۔۔ وما کانوا مھتدین اور جب وہ منافقین ملتے ہیں اہل ایمان سے تو یہ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے ہیں اور جب اپنے شیاطین الانس یعنی اپنے رؤسا کے پاس تنہا ہوتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ بیشک ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ سوائے اس کے نہیں کہ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں تاکہ لوگوں پر مسلمانوں کی سفاہت اور بیوقوفی ظاہر ہو کہ محض زبانی اقرار سے ہم کو دعوائے ایمان میں سچا سمجھتے ہیں۔ شیاطین سے منافقین کے پیشوا اور سردار مراد ہیں جو دین الٰہی کے مقابلہ میں ہر قسم کے فتنہ اور فساد کے سرغنہ بنے ہوئے تھے۔ شیطان لغت میں سرکش اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 33 ۔ اُولٰۗىِٕكَ سے مذکورہ منافقین کی طرف اشارہ ہے جن کی خباثتوں کا ابھی ابھی ذکر ہوا ہے۔ ان کی تمام خباثتوں کا سرچشمہ اختیاری گمراہی ہے۔ انہوں نے راہ ہدایت کو چھوڑ کر راہ ضلالت پر چلنے کی ٹھان لی ہے۔ اشتراء کے معنی خریدے کے ہیں اور ظاہر ہے کہ خریداری کیلئے ضروری ہے کہ قیمت خریدار کے پاس موجود ہو۔ یہاں ہدایت کو گمراہی کی قیمت قرار دیا گیا ہے جس کے عوض منافقوں نے گمراہی مول لی تو اس سے لازم آتا ہے کہ منافقین پہلے ہدایت پر تھے۔ حالانکہ ایسا نہیں ہے کیونکہ یہ لوگ شروع ہی سے منافقانہ طور پر ایمان لائے تھے تو اس کا ایک جواب تو یہ ہے کہ یہاں اشتراء بمعنی استبدال نہیں بلکہ محض ترجیح اور اختیار کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 13–16

گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے تیسرا گروہ منافقین کا ہے۔ کل بھی ان کا ذکر ہوا تھا۔ اور آج کی آیت میں بھی منافقین کا ہی ذکر ہے۔ اللہ تعالیٰ نے منافقین کی خرابیوں کو ذرا تفصیل کے ساتھ بیان فرمایا ہے پہلی آیات میں آیا تھا کہ بعض لوگ زبان سے کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور قیامت پر ایمان رکھتے ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان کی نفی فرما دی ہے۔ کہ یہ لوگ مومن نہیں ہیں۔ اللہ تعالیٰ اور ایمانداروں دونوں سے دغا بازی کرتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو تو دھوکا نہیں دے سکتے اللہ تعالیٰ ایمان والوں کو بھی ان کے دھوکے سے بچائے گا۔ کیونکہ ان کا دھوکا ان کی اپنی ہی جانوں پر ہے اور یہ ان باتوں کو سوچتے تک نہیں۔ ان…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اُولٰۗىِٕكَ الَّذِيْنَ اشْتَرَوُا الضَّلٰلَۃَ بِالْہُدٰى۝ 0 ۠ فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ وَمَا كَانُوْا مُہْتَدِيْنَ۝ 16 شری الشِّرَاءُ والبیع يتلازمان، فَالْمُشْتَرِي دافع الثّمن، وآخذ المثمن، والبائع دافع المثمن، وآخذ الثّمن . هذا إذا کانت المبایعة والْمُشَارَاةُ بناضّ وسلعة، فأمّا إذا کانت بيع سلعة بسلعة صحّ أن يتصور کلّ واحد منهما مُشْتَرِياً وبائعا، ومن هذا الوجه صار لفظ البیع والشّراء يستعمل کلّ واحد منهما في موضع الآخر . وشَرَيْتُ بمعنی بعت أكثر، وابتعت بمعنی اشْتَرَيْتُ أكثر، قال اللہ تعالی: وَشَرَوْهُ بِثَمَنٍ بَخْسٍ [يوسف/ 20] ، أي : باعوه، ( ش ر ی ) شراء اور بیع دونوں لازم ملزوم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 15–16

ترکیب : اولئک مبتدا۔ الذین موصول اشترو الخ جملہ فعلیہ اس کا صلہ مجموعہ بن کر خبر ہوئی فا تفرعیہ ما حرف نفی ربحت فعل تجارتہم فاعل مجموعہ جملہ فعلیہ خبریہ معطوف علیہ اور وما کا نوا مہتدین جملہ اس پر معطوف۔ تفسیر : یعنی وہ جو انسان کو خدا کی طرف سے ایک فطری ہدایت ہے (اگر اس پر کوئی عوارض و موانع پیش نہ آئے تو اس کی وجہ سے نیکی اور حیات ابدی کے رستہ پر چل سکے) ان منافقوں نے اپنے اندر اخلاق رذیلہ اور ملکات فاسدہ پیدا کرکے اس نور فطرت کو بجھا دیا (جس کو خدائے تعالیٰ نے ہدایت کے بالعوض گمراہی خریدنے کے ساتھ تعبیر فرمایا ہے) ان لوگوں نے اپنے نزدیک بڑی عمدہ اور نفع دینے والی تجارت کی تھی کہ منہ سے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اُوْلٰٓئِکَ الَّذِیْنَ اشْتَرَوُالضَّلٰلَۃَ بِالْھُدٰی ص فَمَا رَبِحَتْ تِّجَارَتُہُمْ وَمَا کَانُوْا مُھْتَدِیْنَ ط (یہی لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت پر گمراہی کو ترجیح دی تو ان کی تجارت ان کے لیے نفع بخش نہ ہوئی اور یہ ہدایت پانے والے نہ بنے) (البقرۃ : 16) اشتراء کا مفہوم اس آیت میں اِشْتَرَوا استعمال ہوا ہے۔ اس کا مصدر ہے اشترائٌ اس کا عام طور پر معنی کیا جاتا ہے ” خریدنا “۔ لیکن معمولی غور وفکر سے یہ بات سمجھی جاسکتی ہے کہ آدمی جب کسی چیز کو خریدتا ہے تو وہ چیز کی قیمت دیتا ہے اور اس کے بدلے میں وہ چیز لے لیتا ہے اور یہ دونوں چیزیں مال ہیں اور انسان کی ضرورت ہیں۔ کسی کو پیسے کی ضرورت ہوتی ہے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے سورة الصف میں ایمان، نیک اعمال اور جہاد کو اپنے ساتھ تجارت کرنے کے مترادف قرار دیا ہے منافق ایمان اور اعمال میں مخلص نہیں ہوتے اس لیے وہ اس تجارت میں ہدایت کے بدلے گمراہی کے خریدار بن جاتے ہیں اور دھوکہ باز کی تجارت دینی ہو یا دنیوی اس کا انجام آخر خسارہ ہوتا ہے۔ ایمان کے جھوٹے دعوے اور اس جھوٹ کے ذریعے مومنوں کو دھوکہ دینے کی بنا پر منافقوں کے دل ایمان کی روشنی اور صحیح فیصلہ کرنے کی بصیرت سے محروم ہوچکے ہیں۔ منافق کی حالت اس شخص جیسی ہوچکی ہے جو نقص بصر کی وجہ سے ہر چیز کو ٹیڑھا دیکھتا ہے۔ اسی بنا پر منافق ایمان اور بصیرت سے محروم ہونے کی وجہ سے فساد کو…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

یہ اصلح للعبد کے سلسلہ میں معتزلہ کے خلاف دلیل ہے۔ عُمْہٌ : بصیرت و دانائی کے ضائع ہونے کہتے ہیں۔ اُولٰۗىِٕكَ : (یہ لوگ) : یہ مبتدا ہے اس کی خبر الَّذِیْنَ اشْتَرَوُاالضَّلَالَۃَ بِالْھُدٰی یعنی اس کے بدلہ میں لے لیا اور ہدایت پر اس کو ترجیح دی۔ ایک سوال : سوال : اللہ تعالیٰ نے فرمایا۔ (اشْتَرَوُاالضَّلَالَۃَ بِالْھُدٰی) خرید لیا گمراہی کو ہدایت کے بدلہ میں۔ کہ انہوں نے ہدایت کے بدلہ میں گمراہی کو لے لیا) حالانکہ وہ تو ہدایت پر نہیں تھے۔ جواب : اس لیے کہ منافقین ایسی قوم میں سے تھے جو ایمان لانے کے بعد پھر کافر ہوگئے (پس اشتراء ضلالت کا مصداق بن گئے) لفظ تجارت ربح کے فاعل سے متصل ہے یا تجارت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(16) (آیت)” اولئک الذین اشتروا الضلالۃ بالھدی “۔ بالھدی کا معنی بالایمان (آیت)” فماربحت تجارتھم “ یعنی انہوں نے کفر کو بدلے میں لیا یعنی نہ نفع مند ہوئے وہ لوگ اپنی تجارت میں ، ربح یعنی نفع کی نسبت تجارت کی طرف کی کیونکہ نفع تجارت میں ہوتا ہے جیسے عرب والے کہتے ہیں ” ربح بیعک وخسرت صففتک “ یعنی تیری بیع نفع والی ہوئی اور تیرا سودا خسارہ کا ہوا ۔ (آیت)” وما کانوا مھتدین “ (یعنی نہیں تھے وہ راہ اپنانے والے گمراہی سے اور کہا گیا درست پہنچنے والے اپنی تجارت میں ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–20

(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

آیت 16 یعنی وہ گمراہی کی طرف اس طرح راغب ہوئے جیسے خریدار کسی ایسے سامان تجارت کو خریدنے کی طرف مائل ہو جسے خریدنے کی اسے سخت چاہت ہو چناچہ وہ اس رغبت کی وجہ سے اس میں اپنا قیمتی مال خرچ کرتا ہے اور یہ بہترین مثال ہے، اس لئے کہ اللہ تعالیٰ نے گمراہی کو جو کہ برائی کی انتہا ہے، سامان تجارت سے تشبیہ دی ہے اور ہدایت کو جو کہ بھلائی کی انتہا ہے، اس سامان تجارت کی قیمت سے تشبیہ دی۔ پس انہوں نے ہدایت کو، اس سے بےرغبتی کی وجہ سے اور گمراہی کی طرف رغبت اور چاہت کی وجہ سے، گمراہی کے بدلے میں خرچ کردیا۔۔۔ پس یہ تھی ان کی تجارت کتنی بری تجارت تھی اور یہ تھا ان کا سامان بیع اور کتنا برا سامان بیع تھا۔ جب…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

39 نور حق و ہدایت سے محرومی کا نتیجہ اندھیروں میں بھٹکنا ہے۔ والعیاذ باللہ : سو نور حق و ہدایت سے محرومی سب سے بڑی محرومی ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ کیونکہ راہ حق سے محرومی کا لازمی نتیجہ جگہ جگہ بھٹکنا اور طرح طرح سے دھکے کھاتے رہنا ہے، پھر اس گمراہی پر دنیوی مال و دولت اور جاہ و اقتدار کا ملنا ایسے لوگوں کو اور زیادہ اندھا کردیتا ہے، اور وہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک ہیں، ورنہ ہمیں یہ سب کچھ کیوں ملتا، سو دنیوی ترقی اور مال و دولت کا یہ پہلو بہت ہی خطرناک ہوتا ہے، کہ اس کی بنا پر برخود غلط لوگ حق سے اور زیادہ دور اور محروم ہوتے چلے جاتے ہیں، حالانکہ یہ ان کے لئے کوئی انعام نہیں ہوتا، بلکہ اللہ تعالیٰ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

گمراہی و خسارہ تشریح : اس آیت مبارکہ میں پھر منافقوں کی حماقت کا ذکر کیا گیا ہے یہ اپنے آپ کو بڑا خوش نصیب اور کامیاب سمجھتے تھے اور اپنی عقل مندی پر بڑا گھمنڈ کرتے ہیں کہ ہم نے بڑا اچھا سودا کیا کہ منہ سے تو توحید کا کلمہ پڑھا اور دل میں کفر کی سیاہی رکھی اور یوں اپنی پوری عمر صرف کرکے دنیا کی عارضی خوشیاں، کامیابیاں اور آرام حاصل کرلیا، جبکہ یہ بڑے گھاٹے کا سودا انہوں نے کیا۔ فائدے کی تجارت تو یہ تھی کہ اپنا مال اور جان اللہ کی راہ میں خرچ کرتے اور آخرت کی ابدی آسائش حاصل کرتے۔ لیکن منافق لوگ ہدایت پانے والے نہ ہوئے اور اس طرح گمراہی اور خسارے کو کامیابی سمجھتے رہے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–20

آیات 8- 20 اسرارو معارف یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔ ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی ہدایت و ایمان کی راہ چھوڑکر اور کفر و ضلالت کی راہ اختیار کر کے انہوں نے بجائے فائے کے نقصان اٹھا یا ہے جو سنت کی راہ چھوڑ کر بد عت کی۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:16) اولئک اسم اشارہ۔ جمع مذکر۔ وہ لوگ، یہی وہ لوگ ہیں۔ اشتروا۔ ماضی جمع مذکر غائب ۔ اشتراء (افتعال) مصدر ، بیچنے اور خریدنے ہر دو معنوں میں آتا ہے اور یہاں بمعنی خرید کرنا ہے۔ انہوں نے خرید کیا۔ انہوں نے مول لیا۔ مشتری خرید کرنے والا۔ الضللۃ۔ گمراہی، بھٹکنا، گمراہ ہونا۔ جل یضل (باب ضرب) کا مصدر ہے بمعنی گمراہ ہونا۔ راہ حق سے بھٹک جانا۔ ھدایۃ کی ضد ہے اشتروا کا مفعول ہونے کی وجہ سے منصوب ہے۔ بالھدی : ب عوض اور بدلہ کے لئے ہے۔ ھدی۔ بمعنی ہدایت، یعنی انہوں نے ہدایت دے کر اس کے بدلہ میں گمراہی مول لے لی۔ فما ۔ ف۔ تفریعیہ (مستنبط ) ۔ ما نافیہ۔ ربحت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ رنج و رباح (باب سمع) کا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–16

لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16 (الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–18

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 14–16

[10] شیطان کے معنی شریر و سرکش کے ہیں۔ یہ لفظ جنوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے اور ان انسانوں کے لئے بھی جو اس خصوصیت کے حامل ہوتے ہیں۔ یہاں شیطانوں سے مراد یا تو وہ کفار ہیں جو اپنے کفر کو سب پر ظاہر کرتے تھے یا وہ منافقین مراد ہیں جو ان میں رئیس سمجھے جاتے تھے۔ [11] اردو کے محاورے میں بنانے کے معنی احمق بنانا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 15–17

(ف 2) اللہ ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں سلوک بھی اسی طرح کا روا رکھتے ہیں کہ جو بجائے خود ایک قسم کا مذاق ہو نہ ایمان وذوق کی شیرینی سے یہ جماعت بہرہ ور ہوتی ہے اور نہ کفر والحاد کے فوائد ظاہری سے متمتع ، کفر اگر تذبذب کے خرخشوں سے معرا ہو تو کم از کم ظاہری وعارضی لذات سے محروم نہیں اور ایمان و عقیدت اگر شک وارتباب سے پاک ہو تو پھر دونوں جہان کے مزے ہیں ۔ اللہ بھی خوش ہے اور دنیا بھی تابع ۔ امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن جب یہ جنت کی طرف بڑھیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ مقام سرور وجسور ہمارے لئے ہے تو یکایک ان میں اور جنات نعیم مین ایک دیوار حائل ہوجائے گی اور گویا یہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2 ۔ یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے صحیح راہ کو چھوڑ کر گمراہی اور کج روی اختیار کرلی ۔ نتیجہ یہ ہوا کہ نہ تو ان کی یہ تجارت اور کاروبار کچھ سود مند ثابت ہوا اور نہ وہ راہ یافتہ ہوکر رہے۔ ( تیسیر) بیع اور شرا کی اصل تو یہ ہے کہ جو شخص مال دیکر کوئی چیز خریدے تو خریدنے والے کو مشتری اور فروخت کرنیوالے کو بائع کہتے ہیں لیکن کثرت استعمال کی وجہ سے معنی میں توسیع ہوگئی اور اب اشیاء دے کر اشیاء کے حاصل کرنے کو بھی بیع شرا کہتے ہیں ۔ حتیٰ کہ دو چیزوں میں سے ایک چیز کو بےرغبتی سے چھوڑ کر دوسری چیز کو رغبت کے ساتھ اختیار کرلینے پر بھی بیع شرا بولتے ہیں ۔ قرآن میں عام طور پر انسانی زندگی کے لئے اور اس کے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 16–17

ف 6۔ یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت کی سی اچھی چیز چھوڑ دی اور گمراہی کی بری چیز پالی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

امثال قرآنی : 34: قرآن کریم کا درس و فکر ہم کو بتاتا ہے کہ اللہ کریم بسا اوقات اپنے اعلیٰ ترین مطالب و مقاصد کے اظہار کے لئے امثلہ و نظائر پیش کرتا ہے یہی وجہ ہے کہ قرآن کریم کا بہت بڑا حصہ انہیں تمثیلات پر مشتمل ہے۔ کہیں ہواؤں کی تعریف ہے۔ بادلوں کی انبساط ہے ، زمین کی نشونما ہے۔ لیل و نہار کا اختلاف ہے۔ موجودات و مخلوقات کے مختلف اشکال و الوان ہیں۔ کو اکب و سیارات اور نجوم و ثوابت کے طلوع و غروب ہیں۔ انقلابات طبعیہ کے مناظر جمیلہ ہیں۔ رعد و برق کے دہشت انگیز اور خوف دلانے والے نظارے ہیں۔ بیع و شرا اور خریدو فروخت کے منازعات و مناقشات ہیں۔ پس ! ان میں وہ تمام اسرار و معارف بیان کئے گئے ہیں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The ninth verse shows the basic denseness of the hypocrites - how they failed to make use of the ordinary sense of discrimination. They had grown up in a pagan society, and knew very well what the way of the infidels was. Now they had become familiar enough with Islam too, and could easily see the difference. But, in their greed, and for the sake of petty worldly profit, they still chose disbelief as against Islam, and bartered away something as invaluable as Iman ایمان (faith) for something as worthless, and even harmful as kufr کفر (infidelity). In giving the name of 'trade' or 'commerce'…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 14–16

15. 'Satan' in Arabic means refractory, rebellious and headstrong, and is used for both human beings and jinn. Although this word is generally used in the Qur'an for the satans amongst the jinn, it is also used occasionally for human beings possessing satanic characteristics. The context generally explains whether the word 'satan' refers to jinn or to human beings. In this particular case the word 'satans' refers to those influential leaders of the time who were in the vanguard of opposition and hostility to Islam

Read the full tafseer →