Explained with ayahs 17–18
شک، کفر اور نفاق کیا ہے ؟
مثال کو عربی میں مثیل بھی کہتے ہیں اس کی جمع امثال آتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے آیت (وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ) 29۔ العنکبوت :43) یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جنہیں صرف عالم ہی سمجھتے ہیں۔ اس آیت شریف کا مطلب یہ ہے کہ جو منافق گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور اندھے پن کو بینائی کے بدلے مول لیتے ہیں ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اندھیرے میں آگ جلائی اس کے دائیں بائیں کی چیزیں اسے نظر آنے لگیں، اس کی پریشانی دور ہوگئی اور فائدے کی امید بندھی کہ دفعتہ آگ بجھ گئی اور سخت اندھیرا چھا گیا نہ تو نگاہ کام…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 16
مطلب یہ ہے کہ جب ایک اللہ کے بندے نے روشنی پھیلائی اور حق کو باطل سے، صحیح کو غلط سے، راہ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کردیا، تو جو لوگ دیدہء بینا رکھتے تھے، ان پر تو ساری حقیقتیں روشن ہوگئیں، مگر یہ منافق، جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا۔”اللہ نے نور بصارت سلب کرلیا“ کے الفاظ سے کسی کو یہ غلط فہمی نہ ہو کہ ان کے تاریکی میں بھٹکنے کی ذمہ داری خود ان پر نہیں ہے۔ اللہ نور بصیرت اسی کا سلب کرتا ہے، جو خود حق کا طالب نہیں ہوتا، خود ہدایت کے بجائے گمراہی کو اپنے لیے پسند کرتا ہے، خود صداقت کا روشن چہرہ نہیں دیکھنا چاہتا۔ جب انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر اس کا قابل نفرت ہونا بیان فرمایا گیا دو مثالیں اس بناء پر دی گئیں کہ منافقین میں دو طرح کے آدمی تھے ایک وہ جو اپنے کفر میں بالکل پختہ تھے ایمان کا اظہار صرف دنیوی مصلحت کی وجہ سے کرتے تھے ایمان واسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر کبھی کبھی سچے مسلمان ہونے کا ارادہ بھی کرلیتے تھے مگر پھر دنیوی اغراض سامنے آکر ان کو اس ارادہ سے روک دیتی تھیں اسی طرح وہ ایک تذبذب اور تردد کے حال میں رہتے،
اسی مضمون کے ضمن میں ان ظالموں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہ تمثیل ایک ایسے شخص کی تمثیل ہے جس نے اندھیری رات میں لوگوں کو روشنی دکھانے کے لیے آگ جلائی۔ اس نے یہ کام بڑی محنت اور بڑے اہتمام کے ساتھ کیا یہاں تک کہ اس کا تمام گردوپیش منور ہو گیا۔ لیکن جن لوگوں کے لیے اس نے یہ محنت برداشت کی انہوں نے اس روشنی کی کوئی قدر نہیں کی۔ ان کی اس ناقدری کی سزا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دی کہ ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایک ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر چھوڑ دیا جہاں ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ پھر اس اندھیرے کے اوپر مزید غضب یہ ہے کہ یہ لوگ بہرے، گونگے اور اندھے بھی ہیں اور یہ تمام اوصاف ان کے اندر بیک وقت موجود ہیں۔1 (1 صم بکم عمی سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو کچھ لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر جلدی منافق ہوگئے۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول روشن ہوگیا اور مفید اور نقصان دہ چیزیں اس پر واضح ہوگئیں دفعتا وہ روشنی بجھ گئی اور حسب سابق تاریکیوں میں گھر گئے۔ یہ حال منافقین کا تھا پہلے وہ شرک کی تاریکی میں تھے مسلمان ہوئے تو روشنی میں آگئے۔ حلال و حرام کو پہچان گئے پھر وہ دوبارہ کفر و نفاق کی طرف لوٹ گئے تو ساری روشنی جاتی رہی (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15 یہاں سے ان منافقوں کی مثال دی جارہی ہے جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود نفاق کی گمراہی میں پھنسے رہے، اسلام کے واضح دلائل کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح اس روشنی سے ماحول کی چیزیں صاف نظر آنے لگتی ہیں اسی طرح اسلام کے دلائل سے حقیقت ان پر واضح ہوگئی ؛ لیکن پھر ضد اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی ان سے سلب کرلی اور وہ دیکھنے کی قوت سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →چناچہ مزید وضاحت کی خاطر قرآن کریم مثالیں دے کر اس گروہ کی نفسیات ، اس کے مزاج کے تلون ، اس کی بےثباتی اور قلابازیوں کی مزید نشان دہی کرتا ہے کہ ایسے افراد کے خدوخال نکھر کر ہمارے سامنے آجائیں ۔
مَثَلُهُمْ كَمَثَلِ الَّذِي اسْتَوْقَدَ نَارًا فَلَمَّا أَضَاءَتْ مَا حَوْلَهُ ذَهَبَ اللَّهُ بِنُورِهِمْ وَتَرَكَهُمْ فِي ظُلُمَاتٍ لا يُبْصِرُونَ
” ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب سارا ماحول چمک اٹھا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا ۔ یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں ، اندھے ہیں ، اسی لئے یہ اب نہ پلٹیں گے ۔ “
اس سے…
Read the full tafseer →9 یعنی منافقوں کی مثال ایسی ہے کہ کوئی شخص اندھیری گھنگھور رات میں آگ روشن کرے جنگل میں راستہ دیکھنے کو اور جب آگ روشن ہوگئی اور راستہ نظر آنے کو ہوا تو خدا تعالیٰ نے اسکو بجھا دیا اور اندھیری رات میں جنگل میں کھڑا رہ گیا کہ کچھ نظر نہیں آتا۔ ایسے ہی منافقین نے مسلمانوں کے خوف سے کلمہ شہادت کی روشنی سے کام لینا چاہا مگر سردست کچھ فائدہ حقیر (مثل حفظ جان و مال) اٹھانے پائے تھے کہ نور کلمہ شہادت اور منافع سب نیست و نابود ہوگئے اور مرتے ہی عذاب الیم میں مبتلا ہوگئے۔
Read the full tafseer →آیت 17 مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْقَدَ نَارًا ج
یہاں ایک شب تاریک کا نقشہ کھینچا جا رہا ہے۔ علامہ اقبال کے الفاظ میں
اندھیری شب ہے جدا اپنے قافلے سے ہے تو
ترے لیے ہے مرا شعلۂ نوا قندیل !
اندھیری شب ہے۔ قافلہ بھٹک رہا ہے۔ کچھ لوگ بڑی ہمت کرتے ہیں کہ اندھیرے میں بھی ادھر ادھر سے لکڑیاں جمع کرتے ہیں اور آگ روشن کردیتے ہیں۔ لیکن عین اس وقت جب آگ روشن ہوتی ہے تو کچھ لوگوں کی بینائی سلب ہوجاتی ہے۔ پہلے وہ اندھیرے میں اس لیے تھے کہ خارج میں روشنی نہیں تھی۔ اب بھی وہ اندھیرے ہی میں رہ گئے کہ خارج میں تو روشنی آگئی مگر ان کے اندر کی روشنی گل ہوگئی ‘ ان کی بصارت سلب ہوگئی۔ یہ مثال ہے ان کفار…
Read the full tafseer →23 منافقوں کی مثال (1) :۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے منافقوں کی صورت حال بیان فرمائی ہے۔ یہ آگ جلانے والا شخص خود رسول اللہ ﷺ ہیں جنہوں نے کفر و ضلالت کی تاریکیوں میں اسلام کی شمع روشن اور حق کو باطل سے، صحیح کو غلط سے اور راہ راست کو گمراہیوں سے چھانٹ کر بالکل نمایاں کردیا۔ اب جو لوگ (سچے مومن) دیدہ بینا رکھتے تھے۔ انہیں سب کچھ واضح طور پر نظر آنے لگا۔ مگر یہ منافقین جو اپنی مفاد پرستی کی وجہ سے اندھے ہو رہے تھے۔ انہیں اس روشنی میں بھی کچھ نظر نہ آیا۔ ان کے اس طرح اندھے بنے رہنے کو ہی اللہ تعالیٰ نے آیت (ذَھَبَ اللّٰهُ بِنُوْرِهِمْ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ 17) 2 ۔ البقرة…
Read the full tafseer →47 (محرومی و خسران کے لحاظ سے) (آیت ) ” الذی “ لفظا واحد ہے لیکن یہاں معنی بطور جمع کے استعمال ہوا ہے۔ یقع للواحد والجمع (قرطبی) وضع الذی موضع الذین (کشاف) عربی میں متعدد نظائر اس طریق استعمال کے کہ لفظ واحد لا کر مراد جمع لی گئی ہے، خود قرآن مجید میں مل جاتے ہیں۔ مثلا (آیت ) ” خضتم کالذی خاضوا۔ (آیت ) ” الذی جآء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون۔ ما خلقکم ولا بعثکم الا کنفس واحدۃ۔ وغیرھا مثل کے مفہوم میں ایک پہلو ندرت و غرابت کا بھی شامل رہتا ہے۔ یعنی ایسا حال جو عجیب و غریب ہو۔ ولم یضربوا مثلا الاقولا فیہ غرابۃ من بعض الوجوہ (کشاف )
48۔ یعنی مسائل وحقائق خوب واضح و روشن ہوگئے۔
49۔ (اور طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقین کے ایک گروہ کی مثال :
مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْ قَدَ نَارًا : عبداللہ بن مسعود ؓ و تعالیٰ عنہ کے بیان کے مطابق اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کی دعوت و تبلیغ کی وجہ سے کفر و ظلمت کی تاریکیاں چھٹنے لگیں اور صحیح کو غلط سے اور راہ راست کو گمراہی سے بالکل الگ کردیا گیا، تو دیدہ بینا رکھنے والوں پر ساری حقیقتیں روشن ہوگئیں، مگر منافق نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا، ان ہی میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہوگئے، لیکن جلدی ہی مرتد و منافق ہوگئے، ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے آگ جلائی…
Read the full tafseer →مَثَلُھُمْ ( ان کا عجیب حال) لفظ مثل اور مثل اور مثیل اصل میں نظیر کو کہتے ہیں پھر اس قول مشہور کو کہنے لگے جس کا محل استعمال محل وضع سے مشابہ ہو اور مثل وہی قول بن سکتا ہے جس میں کسی قسم کی غرابت ہو اس کے بعد ہر حال عجیب و نادر کو مثل بولنے لگے چناچہ اس آیت میں مثل کے معنی حال عجیب اور نادر کے ہی ہیں۔
کَمَثَلِ الَّذِیْ ( ان لوگوں کے حال عجیب کی مانند ہے) اس مقام میں الَّذِیْ بمعنی الَّذِیْن ہے جیسا کہ آیت : وَ خُضْتُمْ کَالَّذِیْ خَاضُوْا ( میں الّذی بمعنی الذین ہے) اور الذی کو بجائے الذین کے ذکر کرنا جائز ہے حالانکہ لفظ القائم کو بجائے القائمین کو بولنا جائز نہیں اس فرق کی وجہ یہ ہے کہ الذی…
Read the full tafseer →(17) منافقین کی رسول اللہ ﷺ کے مقابلے میں یہ مثال ہے، جیسا کسی شخص نے اندھیرے میں آگ جلائی، تاکہ اس کے ذریعے سے اپنے مال اور اہل و عیال کی حفاظت کرے، جب وہ آگ روشن ہوگئی اور ارد گرد اور چیزیں بھی نظرآنے لگیں اور اپنے مال اور اہل واعیال کے بارے میں اطمینان ہوگیا تو اچانک وہ آگ بجھ گئی، اسی طرح منافقین رسول اللہ ﷺ اور قرآن پاک پر ایمان لائے اور حقیقت میں ان کا ایمان صرف اتنا ہے کہ وہ اپنی جانوں، اموال و عیال کی قتل اور قید سے حفاظت کریں، چناچہ جب وہ مرجائیں گے تو ان کے ایمان کا نفع ختم ہوجائے گا اور ان کو حق تعالیٰ قبر کی ایسی سختیوں میں ڈال دے گا کہ اس کے بعد ان کو راحت و آرام نظر ہی آئے گا۔
Read the full tafseer →اسْـتَوْقَدَ نَارًا ”اَوْ قَدَ نَارًا“ کے معنی ہیں اس نے آگ جلائی۔ ”اسْـتَوْقَدَ“ میں سین اور تاء زیادہ ہونے سے معنی میں اضافہ ہوگیا، اس لیے اس کا ترجمہ ”خوب بھڑکائی“ کیا ہے۔
منافقین کی تشبیہ اس شخص سے کس طرح دی گئی جس نے ایک آگ خوب بھڑکائی، پھر اس کی آگ بجھ گئی اور اللہ ان کا نور لے گیا ؟ جواب یہ ہے کہ دو وجہ سے، پہلی یہ کہ یہ لوگ پہلے ایمان لائے تو نور ایمان سے ان کے لیے ہر چیز روشن ہوگئی، پھر نفاق میں مبتلا ہوگئے تو وہ نور بجھ گیا اور وہ کفر و نفاق اور شکوک و شبہات کے کئی اندھیروں میں بھٹکتے رہ گئے۔ اس معنی کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے : (ذٰلِكَ بِاَنَّهُمْ اٰمَنُوْا ثُمَّ كَفَرُوْا فَطُبِعَ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 17
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : مثلھم کمثل الذی استوا قد نارا مثلھم مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے خبر کاف میں ہے یہ اسم ہے جیسا کہ اعشی کے قول میں ہے :
اتنتھون ولن ینھی ذوی شطط کالطعن یذھب فیہ الزیت والفتل (3)
کیا تم روکتے ہو جبکہ ظالم لوگ پیٹ تک پہنچنے والے تیر کی طرح نہ رکیں گے جس میں تیل اور ڈیوٹ چلی جاتی ہے۔
امراء القیس کا شعر ہے :
ورحمنا بکابن الماء یجنب وسطنا تصوب فیہ العین طوراً وترتقی
ان اشعار میں ک بمعنی مثل ہے یعنی مثل الطعن اور بمثل ابن الماء مراد لیا ہے۔ یہ بھی جائز ہے کہ خبر محذوف ہو۔ تقدیر کلام یوں ہو : مثلھم مستقر کمثل۔ اس صورت میں کاف حرف ہوگا، المثل، المثل والمثیل تمام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الصابونی نے المأتین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مثلہم کمثل الذی استوقدنارا “ اس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لیے مثال بیان فرمائی (یہ لوگ) منسوب ہوتے ہیں اسلام کی طرف مسلمانوں سے نکاح کرتے ہیں اور ان کے (مسلمانوں کے مال) وارث بن جاتے ہیں۔ اور ان کو فئی کا مال تقسیم کیا کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ مرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اسلام والی عزت کو سلب کرلیتا ہے جیسے آگ والا آگ کی روشنی کو ختم کردیتا ہے لفظ آیت ” وترکیم فی ظلمت “ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی عذاب میں لفظ آیت ” صم بکم عمی “ یعنی وہ ہدایت کو نہ سنتے ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →[ مَثَلُھُمْ : ان لوگوں کی مثال ] [ كَمَثَلِ الَّذِى: اس کی مثال کی مانند ہے جس نے ] [ اسْـتَوْقَدَ نَارًا ۚ : جلایا آگ کو ] [ فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ : پس جب اس نے روشن کیا ] [ مَا حَوْلَهٗ : اس کو جو اس کے ارد گرد تھا ] [ ذَھَبَ اللّٰهُ : تو اللہ لے گیا ] [ بِنُوْرِهِمْ : ان کے نور کے ساتھ ] [ وَتَرَكَھُمْ : اور اس نے چھوڑ دیا ان کو ] فِىْ ظُلُمٰتٍ : اندھیروں میں ] [ لَّا يُبْصِرُوْنَ : اس حال میں کہ وہ لوگ بصارت نہیں کرتے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقوں کے بارے میں دو اہم مثالیں
منافقوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا اور دل میں ان کے ایمان نہ تھا ظاہری ایمان قبول کرنے سے جو کچھ انہیں دنیاوی فائدہ پہنچ گیا مثلاً جان و مال محفوظ کرلیا کہ مسلمان ان سے تعرض نہ کریں اس کو اولاً ایسے شخص سے تشبیہ دی جو اندھیری رات میں آگ جلائے اور اس روشنی سے راستہ دیکھنے کا فائدہ حاصل کرنا چاہے، اور ان لوگوں کا جو انجام ہونے والا ہے کہ مرتے ہی سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کو اس آگ کے بجھانے سے تشبیہ دی جس کو انہوں نے روشنی کے لئے جلایا تھا، دنیا میں جھوٹے منہ سے ایمان ظاہر کر کے ذرا سا فائدہ اٹھا لیا اور ہمیشہ کے لیے عذاب الیم میں گرفتار ہوئے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قال تعالیٰ مثلھم کمثل الذی استوقد نارا۔۔۔ الی۔۔ فھم لایرجعون
(ربط): حق جل شانہ جب منافقین کے قبائح بیان کرچکے تو مزید ایضاح کے لیے دو مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ اچھی طرح ان کی سفاہت اور بےوقوفی واضح ہوجائے۔ جس کا ماقبل میں بیان ہوا۔
حق جل شانہ نے قرآن کریم میں بار بار ایمان اور ہدایت کو نور فرمایا ہے اور مردہ دلوں کے لیے حیات اور زندگی فرمایا ہے اور کفر اور ضلالت کو ظلمت اور تاریکی اور دلوں کی موت اور بربادی بتایا ہے اس لیے حق تعالیٰ نے منافقین کے مناسب جنہوں نے ہدایت کے عوض میں ضلالت اور گمراہی کو اختیار کیا دو مثالیں بیان فرمائیں ایک ناری اور دوسری مائی اس لیے کہ نار مادۂ نور ہے اور ماء یعنی…
Read the full tafseer →ف 35 ۔ عام مفسرین کی رائے مطابق اب یہاں سے منافقوں کی دو مثالیں بیان کی جارہی ہیں۔ پہلی مثال مَتلُھُم سے لے کر لَایَرْجِعُوْن تک اور دوسری ۙاَوْ كَصَيِّبٍ سے لیکر آخر رکوع تک۔
36 ۔ آگے چل کر ان آگ جلانے والوں کے لیے جمع کی ضمیر ذکر کی گئی ہے۔ اس لیے یہاں الذی معنی جمع ہے۔ اسْـتَوْقَدَ اور حَوْلَہٗ میں لفظ کے لحاظ سے ضمیر واحد استعمال کی گئی ہے اور جمع کی ضمیروں میں معنی کا لحاظ کیا گیا ہے۔
37 ۔ یہ ما قبل کی تفسیر ہے یعنی جب آگ کی وجہ سے چاروں طرف روشنی ہوگئی تو اچانک آگ بجھ گئی اور وہ روشنی ان سے سلب کرلی گئی اور وہ گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چھوڑ دئیے گئے اور انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ اس تمثیل میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
گزشتہ سے پیوستہ : بدبختی اور شقاوت کے لحاظ سے دوسرا گروہ منافقین کا ہے اللہ تعالیٰ نے منافقین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کا کام جھوٹ بولنا ، فریب دینا ، زمین میں فساد کرنا ہے وہ ایمانداروں کو بیوقوف کہتے تھے ۔ اور اپنے آپ کو اصلاح کرنے والے سمجھتے تھے۔ جب انہیں حقیقی مؤمنوں کی طرح ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو کہتے کہ ہم بیوقوفوں کی طرح کیوں ایمان لائیں۔ مسلمانوں کی جماعت کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ۔ تاکہ ان کی جان و مال محفوظ رہے۔ اور ان کے حقوق کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مگر جب اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →مَثَلُھُمْ كَمَثَلِ الَّذِى اسْـتَوْقَدَ نَارًا 0 ۚ فَلَمَّآ اَضَاۗءَتْ مَا حَوْلَہٗ ذَھَبَ اللہُ بِنُوْرِہِمْ وَتَرَكَھُمْ فِىْ ظُلُمٰتٍ لَّا يُبْصِرُوْنَ 17
مثل
والمَثَلُ عبارة عن قول في شيء يشبه قولا في شيء آخر بينهما مشابهة، ليبيّن أحدهما الآخر ويصوّره . فقال : وَتِلْكَ الْأَمْثالُ نَضْرِبُها لِلنَّاسِ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُونَ [ الحشر/ 21] ، وفي أخری: وَما يَعْقِلُها إِلَّا الْعالِمُونَ [ العنکبوت/ 43] .
( م ث ل ) مثل ( ک )
المثل کے معنی ہیں ایسی بات کے جو کسی دوسری بات سے ملتی جلتی ہو ۔ اور ان میں سے کسی ایک کے ذریعہ دوسری کا مطلب واضح ہوجاتا ہو ۔ اور معاملہ کی شکل سامنے آجاتی ہو ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ترکیب : مثلہم مبتدا کمثل الخ موصول وصلہ سے مل کر اس کی خبر کاف بمعنی مثل ہے اور ممکن ہے کہ محذوف کے متعلق ہو۔ لما حرف شرط اضاءت فعل نار اس کا فاعل ماحولہ ای حول المستو قد اس کا مفعول۔ ممکن ہے کہ اضاءت لازمی ہو پھر ما اس کا فاعل قرار دیا جائے اور تانیث اضاءت بلحاظ معنی ما ہو کہ جس سے مراد اشیاء یا اماکن ہیں اس تقدیر پر ماظرف ہوگا۔ لفظ ما کی تین صورت ہیں ایک بمعنی الذی دوم
1 ؎ ظلمات جمع کا صیغہ لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ ایک اندھیری نہ تھی بلکہ بہت سی۔ حبِّ جاہ کی حبِّ مال کی، حبِّ لذات کی دارآخرت سے غفلت کی کہ جو سب ظلمتوں سے زیادہ ہے۔ حقانی
نکرہ موصوفہ اے مکاناً حولہ۔ سوم زائدہ۔ ذھب فعل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْ قَدَ نَارًاج فَلَمَّآاَضَآئَ تْ مَاحَوْلَہٗ ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لاَّیُبْصِرُوْنَ ۔ صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْی فَھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔
(ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی، جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکیوں میں چھوڑ دیا جن میں ان کو کچھ نظر نہیں آتا یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں) (البقرۃ : 17 تا 18)
منافقین کی دو تمثیلیں
اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مثال دی گئی ہے، وہ دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں یا تو وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ منافق کے کردار کی مثال
اس مثال کے ذریعے اسلام اور نفاق، منافقین اور سرور گرامی ﷺ کے درمیان فرق بیان کیا گیا ہے۔ آپ نے دن رات کی جدوجہد سے اسلام کے چہرۂ تاباں کو ایسے پیش فرمایا جس سے کفر اور اسلام، گمراہی اور ہدایت کے درمیان اس طرح امتیاز پیدا ہوا جس طرح روشنی اور اندھیرے کے درمیان فرق ہوا کرتا ہے۔ لیکن اس کے باوجود منافقوں کے لیے ان کے کفر و نفاق کی تاریکیاں اسلام کی روشن تعلیمات اور آپ ﷺ کی درخشاں سیرت کے درمیان حائل ہوگئیں یہ سب کچھ اس طرح ہوا جیسے ایک آدمی نے آگ جلا کر گھٹا ٹوپ راستے کو منور کردیا ہو۔ تاکہ اس راستے پر چلنے والے کو نشیب و فراز کا پتہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تجارت کیا ہے ؟
فَمَارَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ : (پس ان کی تجارت نے انہیں نفع نہ دیا)
تعریف ربح : اصل مال میں اضافہ کو کہا جاتا ہے۔
تجارت : کاریگری۔ تاجر کا فن :
تاجر : نفع کی خاطر خرید وفرخت کرنے والا۔ نفع کی نسبت تجارت کی طرف اسناد مجازی ہے اس کا معنی انہیں اپنی اصل تجارت میں نفع نہ ہوا اور ضائع کردی۔ جب تجارت فائدہ مندنہ رہی اور مجازا گمراہی کا ہدایت کے بدلے خرید نا ثابت ہوگیا۔ تو اس کے بعد بطور استعارہ ترشییحہ کے ربح اور تجارۃ کا ذکر کردیا جیسا کہ شاعر نے اپنے اس شعر میں ؎
لما رایت النَّسْرَ عَزَّابن دَابۃ۔ وعَشَّشَ فی وَکْرِہٖ جاش لہ صدری میں بڑھا پے کو نسر اور سیاہ بالوں کو کوئلے سے تشبیہ…
Read the full tafseer →17۔ (آیت)” مثلھم “ ان کی مشابہت اور بعض نے کہا کہ اس سے مراد ان کی صفات ہیں ۔۔۔۔۔ مثل معاشرہ میں اس مشہور قول کو کہتے ہیں جس سے کوئی چیز پہچانی جائے اور امثال قرآن کریم کی سات قسموں میں سے ایک قسم ہے ، ” کمثل الذی “ الذی بمعنی الذین ہے (گویا لفظا مفرد اور معنی کے لحاظ سے جمع) آیت کے سیاق کے لحاظ سے (یعنی بعد میں آنے والے صیغوں کے اعتبار سے) اور اس کی مثال (آیت)” والذی جاء بالصدق وصدق بہ اولئک ھم المتقون “۔ (یعنی جیسے یہاں ” والذی “ بمعنی ” الذین “ ہے کیونکہ اس کے بعد اسم اشارہ جمع لایا گیا یعنی ’ اولئک “ اس مقام میں الذی بھی بمعنی ” الذین “ کے ہے کیونکہ بعد میں اس کی طرف جمع کی ضمیریں لوٹ رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 تا 20
یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو۔۔۔ یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کردی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →43 منافقوں کے نفاق کی مثال : یعنی جس طرح کسی نے آگ جلائی تاکہ اس کو رات کی ظلمت و تاریکی اور اس سے پیدا ہونے والی وحشت و خوف سے نجات ملے۔ پس یہاں " اِسْتَوْقَدَ " طلب فعل کے لئے نہیں جو کہ باب استفعال کا خاصہ ہے، اور جیسا کہ اس لفظ کے ظاہر سے عموماً سمجھا جاتا ہے۔ بلکہ یہاں پر یہ لفظ " اَوْقَدَ " کے معنی میں ہے جیسے " اَجَابَ " اور " اِسْتَجَابَ " میں ہے (صفوۃ البیان لمعانی القرآن) ۔ سو ایسے ہی ان منافقوں نے کلمہ حق کا اوپر اوپر سے اقرار کیا، جس سے ان کو ظاہری طور پر کچھ روشنی ملی اور حیات دنیا کی محدود فرصت میں انہوں نے اس سے کچھ فائدے بھی اٹھائے، مگر صدق و اخلاص کے فقدان کی وجہ سے یہ لوگ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقوں کی مثال اور ان کا انجام
تشریح : اس میں بھی منافقین کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں منافق دو قسم کے تھے ایک وہ جو دل سے اسلام کے پکے دشمن تھے مگر زبانی مسلمان تھے دوسرے وہ جو ارادہ کے کمزور تھے اور مکمل طور پر ایک راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ نہ کرسکتے تھے جس طرف ذاتی مفاد دیکھتے ادھر ہی جھک جاتے ان لوگوں کی مثال اللہ تعالیٰ نے یوں دی ہے کہ گویا ایک شخص آگ روشن کرتا ہے جب چاروں طرف روشنی پھیل جاتی ہے تو اچانک ان کی بصارت سلب کرلی جاتی ہے اور انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ منافق لوگوں کو چاروں طرف ایمان، اسلام اور سلامتی کی راہیں نظر آرہی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر کفر کا پردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 2 جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لا آئے تو کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا اور بعد میں منا فق ہوگئے۔ ان لوگوں کے حال کی یہاں مثال بیان فرمائی کہ ایمان لا کر انہوں نے کچھ روشنی کو کھو دیا اور نفاق کے اندھیرے میں پڑگئے اور وہ تمیز بھی جاتی رہی۔ ( فتح القدیر )
Read the full tafseer →استوقد۔ ماضی، واحد مذکر غائب۔ استیقاد (استفعال) مصدر۔ اس نے آگ جلائی۔ اسی سے ہے وقود۔ ایندھن جس سے آگ جلائی جاتی ہے۔
فلما۔ فاء عطف اور ترتیب کے لئے ہے لما حرف شرط ہے اضاءت ما حولہ جملہ شرطیہ ہے اور اگلہ جملہ اس کی جزائ۔ پس جب۔ اضاء ت۔ ماضی واحد مؤنث غائب۔ ضمیر فاعل۔ نارا کی طرف راجع ہے اضاء ۃ (باب افعال) مصدر ض دء مادہ ۔ روشن کرنا یعنی جب اس نے آگ کو روشن کردیا۔
ما حولہ۔ ما۔ صلہ حولہ مضاف مضاف الیہ مل کر موصول حول ۔ اردگرد ، آس پاس۔ جو اس کے اردگرد یا آس پاس تھا۔ ہ۔ ضمیر واحد مذکر غائب کا مرجع الموستوقد۔ آگ جلانے والا ہے۔ موصول وصلہ مل کر اضاءت کا مفعول ہے۔
بنورھم ۔ ب حرف جار تعدیہ کا ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
لغات القرآن : آیت نمبر 17 تا 18
(مثل): مثال ، تشبیہ۔ (استوقد) : اس نے بھڑکایا، جلایا ، سلگایا۔ (نار ): آگ ، جہنم ، دوزخ۔ (اضاءت ): روشن ہوگئی۔ اس جگہ ترجمہ ہوگا، ” روشن ہوگیا “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں لفظ ” ماحول “ مذکر ہے۔ (ما حول) : ارد گرد، آس پاس۔ (ذھب): گیا، چونکہ، یہاں ذھب کے بعد ” ب “ آگئی ہے عربی قاعدہ سے اس کا ترجمہ ہوگا ” لے گیا “ ۔ (ترک): چھوڑ دیا، الگ کردیا۔ (ظلمات): اندھیریاں، اندھیرے۔ (ظلمۃ کی جمع ہے ) ۔ (لا یبصرون): وہ نہیں دیکھتے ہیں (وہ نہیں دیکھ سکتے ) ۔ (صم): بہرے ، (صم اصم کی جمع ہے ) جو سن نہ سکتے ہوں۔ (بکم ) : گونگے، (بکم ابکم کی جمع ہے ) جو دیکھ نہ سکتے ہوں۔ (عمی) :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →[12] یعنی جب پیغمبر نے نور ایمان پھیلایا تو اہل بصیرت پر تو ساری حقیقتیں روشن ہوگئیں مگر منافق جو نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 15–17
(ف 2) اللہ ایسے لوگوں سے دنیا وآخرت میں سلوک بھی اسی طرح کا روا رکھتے ہیں کہ جو بجائے خود ایک قسم کا مذاق ہو نہ ایمان وذوق کی شیرینی سے یہ جماعت بہرہ ور ہوتی ہے اور نہ کفر والحاد کے فوائد ظاہری سے متمتع ، کفر اگر تذبذب کے خرخشوں سے معرا ہو تو کم از کم ظاہری وعارضی لذات سے محروم نہیں اور ایمان و عقیدت اگر شک وارتباب سے پاک ہو تو پھر دونوں جہان کے مزے ہیں ۔ اللہ بھی خوش ہے اور دنیا بھی تابع ۔
امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ قیامت کے دن جب یہ جنت کی طرف بڑھیں گے اور یہ سمجھیں گے کہ یہ مقام سرور وجسور ہمارے لئے ہے تو یکایک ان میں اور جنات نعیم مین ایک دیوار حائل ہوجائے گی اور گویا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 3۔ ان کی حالت اس گروہ کی حالت کے مشابہ ہے جس نے کہیں آگ جلائی ہو ، پھر جب اس آگ نے اس گروہ کے ارد گرد اور آس پاس کی تمام چیزوں کو روشن کردیا ہو تو اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نور کو سلب کرلیا ہو اور ان کو سخت تاریکیوں میں اس طرح چھوڑ دیا ہو کہ ان کو اپنے آس پاس کی کوئی چیز نظر نہ آتی ہو ۔ وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اور اندھے ہیں ، لہٰذا وہ گمراہی سے ہدایت کی جانب نہیں لوٹیں گے۔ ( تیسیر)
مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح روشنی حاصل کرنی کی غرض سے کچھ لوگ شب کی تاریکی میں آگ جلائیں اور آگ کی روشنی سے فائدہ حاصل کرنا چاہیں اور جب وہ آگ ان لوگوں کے چاروں طرف کی چیزوں کو روشن کر دے تو ایک دم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 16–17
ف 6۔ یعنی ان کو تجارت کا سلیقہ نہ ہوا کہ ہدایت کی سی اچھی چیز چھوڑ دی اور گمراہی کی بری چیز پالی۔
Read the full tafseer →منافقین کے دو گروہوں کا ذکر :
37: منافقین کے دو گروہ ہیں ایک گروہ تو اس دجہ اسلام کا دشمن ہے کہ اس سے کبھی نیکی کی توقع نہیں ہوسکتی بلکہ وہ ہمیشہ اسلام کی تباہی و بربادی کی تجاویز سوچتا رہتا ہے لیکن ایک گروہ ایسا بھی ہے جو اپنی طبعی کمزوری سے مجبور ہے۔ اس گروہ کے لوگ ہر اثر کو قبول کرلیتے ہیں۔ ہر صحبت و ہم نشینی ان پر غالب آجاتی ہے اور ہر زبردست شخصیت ان کو اپنے قابو میں لاسکتی ہے اس لئے کوئی وجہ نہیں کہ قرآن مجید جس طرح پہلی جماعت کی پروا نہیں کرتا دوسری طرف سے بھی آنکھیں بند کرلے اور ان کی ہدایت و راہنمائی کی کوئی سبیل تجویز نہ کرے۔ دو مثالیں پیش فرما کر دونوں جماعتوں یا گروہوں کی نشاندہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
The last four verses bring out the miserable plight of the hypocrites with the help of two extended similes. The choice of two examples is meant to divide the hypocrites into two kinds of men. On the one hand were those in whom disbelief had taken deep roots, so that they had little inclination towards Islam, but pretended to be Muslims for worldly motives - the Holy Qur'an compares them to the man who, having found light, again loses it, and is left in darkness. On the other hand were those who did recognize the truth of Islam, and sometimes wished to be genuine Muslims, but worldly…
Read the full tafseer →16. This means that two opposite effects emerged when a true servant of God radiated the light which made it possible to distinguish true from false and right from wrong, and made the straight way distinct from the ways of error. To those endowed with true perception, all truths became evident. But those who were almost blinded by the worship of their animal desires perceived nothing.
The expression, 'Allah took away the light of their perception' should not create the impression that these people were not responsible for their stumbling into darkness. Only those who do not seek the Truth,…
Read the full tafseer →