Explained with ayahs 17–18
شک، کفر اور نفاق کیا ہے ؟
مثال کو عربی میں مثیل بھی کہتے ہیں اس کی جمع امثال آتی ہے۔ جیسے قرآن میں ہے آیت (وَتِلْكَ الْاَمْثَالُ نَضْرِبُهَا للنَّاسِ ۚ وَمَا يَعْقِلُهَآ اِلَّا الْعٰلِمُوْنَ) 29۔ العنکبوت :43) یعنی یہ مثالیں ہم لوگوں کے لئے بیان کرتے ہیں جنہیں صرف عالم ہی سمجھتے ہیں۔ اس آیت شریف کا مطلب یہ ہے کہ جو منافق گمراہی کو ہدایت کے بدلے اور اندھے پن کو بینائی کے بدلے مول لیتے ہیں ان کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے اندھیرے میں آگ جلائی اس کے دائیں بائیں کی چیزیں اسے نظر آنے لگیں، اس کی پریشانی دور ہوگئی اور فائدے کی امید بندھی کہ دفعتہ آگ بجھ گئی اور سخت اندھیرا چھا گیا نہ تو نگاہ کام…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 17
حق بات سننے کے لیے بہرے، حق گوئی کے لیے گونگے، حق بینی کے لیے اندھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر اس کا قابل نفرت ہونا بیان فرمایا گیا دو مثالیں اس بناء پر دی گئیں کہ منافقین میں دو طرح کے آدمی تھے ایک وہ جو اپنے کفر میں بالکل پختہ تھے ایمان کا اظہار صرف دنیوی مصلحت کی وجہ سے کرتے تھے ایمان واسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر کبھی کبھی سچے مسلمان ہونے کا ارادہ بھی کرلیتے تھے مگر پھر دنیوی اغراض سامنے آکر ان کو اس ارادہ سے روک دیتی تھیں اسی طرح وہ ایک تذبذب اور تردد کے حال میں رہتے،
اسی مضمون کے ضمن میں ان ظالموں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
یہ تمثیل ایک ایسے شخص کی تمثیل ہے جس نے اندھیری رات میں لوگوں کو روشنی دکھانے کے لیے آگ جلائی۔ اس نے یہ کام بڑی محنت اور بڑے اہتمام کے ساتھ کیا یہاں تک کہ اس کا تمام گردوپیش منور ہو گیا۔ لیکن جن لوگوں کے لیے اس نے یہ محنت برداشت کی انہوں نے اس روشنی کی کوئی قدر نہیں کی۔ ان کی اس ناقدری کی سزا اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ دی کہ ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایک ایسے گھٹا ٹوپ اندھیرے کے اندر چھوڑ دیا جہاں ہاتھ کو ہاتھ بھی سجھائی نہیں دے رہا ہے۔ پھر اس اندھیرے کے اوپر مزید غضب یہ ہے کہ یہ لوگ بہرے، گونگے اور اندھے بھی ہیں اور یہ تمام اوصاف ان کے اندر بیک وقت موجود ہیں۔1 (1 صم بکم عمی سے متعلق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو کچھ لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر جلدی منافق ہوگئے۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول روشن ہوگیا اور مفید اور نقصان دہ چیزیں اس پر واضح ہوگئیں دفعتا وہ روشنی بجھ گئی اور حسب سابق تاریکیوں میں گھر گئے۔ یہ حال منافقین کا تھا پہلے وہ شرک کی تاریکی میں تھے مسلمان ہوئے تو روشنی میں آگئے۔ حلال و حرام کو پہچان گئے پھر وہ دوبارہ کفر و نفاق کی طرف لوٹ گئے تو ساری روشنی جاتی رہی (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
15 یہاں سے ان منافقوں کی مثال دی جارہی ہے جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود نفاق کی گمراہی میں پھنسے رہے، اسلام کے واضح دلائل کو آگ کی روشنی سے تشبیہ دی گئی ہے کہ جس طرح اس روشنی سے ماحول کی چیزیں صاف نظر آنے لگتی ہیں اسی طرح اسلام کے دلائل سے حقیقت ان پر واضح ہوگئی ؛ لیکن پھر ضد اور عناد کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے یہ روشنی ان سے سلب کرلی اور وہ دیکھنے کی قوت سے محروم ہوگئے۔
Read the full tafseer →اللہ نے انسان کو آنکھ ، کان اور زبان دی ہی اس لئے ہے کہ انسان بات سن سکے ۔ روشنی کو دیکھ سکے اور نور ہدایت سے فائدہ اٹھائے ۔ لیکن انہوں نے اپنے کانوں سے کام نہ لیا ۔ بہرے قرار پائے ۔ انہوں نے اپنی زبان سے بھی کام نہ لیا ۔ پس گونگے قرار دیے گئے ، انہوں نے آنکھ سے دیکھنا ہی بند کردیا لہٰذا اندھے بن گئے ۔ ظاہر ہے کہ ایسے حالات میں ان کے لئے ممکن نہیں ہے کہ وہ حق کی طرف لوٹ سکیں ، راہ ہدایت کی طرف مڑسکیں اور صداقت کی روشنی کو دیکھ سکیں ۔
Read the full tafseer →10 یعنی بہرے ہیں جو سچی بات نہیں سنتے گونگے ہیں جو سچی بات نہیں کہتے۔ اندھے ہیں جو اپنے نفع و نقصان کو نہیں دیکھتے۔ سو جو شخص بہرا بھی ہو اور گونگا بھی ہو وہ کس طرح راہ پر آئے صرف اندھا ہو تو کسی کو پکارے یا کسی کی بات سنے تو اب ان سے ہرگز توقع نہیں کہ گمراہی سے حق کی طرف لوٹیں۔
Read the full tafseer →آیت 8 1 صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْیٌ فَھُمْ لَا یَرْجِعُوْنَ
اَصَمُّ بہرے کو کہتے ہیں ‘ صُمٌّ اس کی جمع ہے ‘ اَبْکَمُ گونگے کو کہا جاتا ہے ‘ بُکْمٌ اس کی جمع ہے۔ اَعْمٰی اندھے کو کہتے ہیں ‘ عُمْیٌ اس کی جمع ہے۔ فرمایا کہ یہ بہرے ہیں ‘ گونگے ہیں ‘ اندھے ہیں ‘ اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں۔ یہ کون ہیں ؟ ابوجہل ‘ ابولہب ‘ ولید بن مغیرہ اور عقبہ ابن ابی معیط سب کے سب ابھی زندہ تھے جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں۔ یہ سب تو غزوۂ بدر میں واصل جہنم ہوئے جو سن 2 ہجری میں ہوا۔ تو یہ لوگ اس مثال کا مصداق کامل تھے۔ آگے اب دوسری مثال بیان کی جا رہی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
24 آخر ان منافقوں کی حالت یہ ہوگئی کہ یہ حق بات سننے کے لیے بہرے، حق کہنے کے لحاظ سے گونگے ہیں اور حق سامنے موجود ہو تب بھی انہیں نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →50 ۔ یعنی صدائے حق گویا سنتے ہی نہیں۔ اور کلمہ حق و ایمان کے ادا کرنے سے ان کی زبان گنک ہے۔ اور دید حق کی طرف سے ان کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں، اور یہ سب کچھ اپنی اختیاری گمراہی کے نتیجہ کے طور پر۔
5 1 ۔ (باطل سے حق کی طرف، کفر سے ایمان کی طرف) عن کفرھم وضلالتھم (ابن عباس ؓ الی الھدی ولا الی خیر (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقین کے ایک گروہ کی مثال :
مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْ قَدَ نَارًا : عبداللہ بن مسعود ؓ و تعالیٰ عنہ کے بیان کے مطابق اس مثال کا مطلب یہ ہے کہ جب آپ ﷺ ہجرت کرکے مدینہ منورہ تشریف لائے تو آپ کی دعوت و تبلیغ کی وجہ سے کفر و ظلمت کی تاریکیاں چھٹنے لگیں اور صحیح کو غلط سے اور راہ راست کو گمراہی سے بالکل الگ کردیا گیا، تو دیدہ بینا رکھنے والوں پر ساری حقیقتیں روشن ہوگئیں، مگر منافق نفس پرستی میں اندھے ہو رہے تھے، ان کو اس روشنی میں کچھ نظر نہ آیا، ان ہی میں بعض لوگ ایسے بھی تھے جو مسلمان ہوگئے، لیکن جلدی ہی مرتد و منافق ہوگئے، ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے آگ جلائی…
Read the full tafseer →صُمٌّ بُکْمٌ عُمْیٌ ( وہ بہرے ہیں ‘ گونگے ہیں ‘ اندھے ہیں) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں نے آگ سلگائی تھی جب اللہ نے ان کے نور کو ضائع کردیا اور انہیں اندھیروں میں چھوڑ دیا تو ان کو مدہوش کردیا اور ان کے حواس میں خلل آگیا پس اس تفسیر کے موافق یہ کلام حقیقۃ ہے (مجاز ماننے کی ضرورت نہیں) اور اگر بنورھم میں ضمیر منافقین کی طرف راجع ہو تو معنی یہ ہونگے کہ جب انہوں نے حق کی طرف کان نہ لگائے حق بات کہنے اور آیات کو سمجھنے ا ورحق پر غور کرنے سے انکار کیا تو گویا ان کے حواس اور قوی جاتے رہے اور اس تقدیر پر ان کو بہرے ‘ گونگے ‘ اندھے کہنا تمثیل کے طور پر ہے استعارہ نہیں ہے کیونکہ مستعار بہ یعنی کلمہ ہم اگرچہ…
Read the full tafseer →(18) رسول اللہ ﷺ کے ساتھ ان یہودیوں کی یہ بھی مثال بیان کی گئی ہے، جیسا کہ کسی شکست کھائے ہوئے انسان نے کوئی علم حاصل کیا اور اس کے پاس اور شکست خوردہ لوگ جمع ہوگئے پھر انہوں نے اپنے علم کو تبدیل کردیا، جس کی وجہ سے ان کا فائدہ اور امن وسلامتی سب ہی برباد ہوگئے، اسی طرح سے یہود رسول اکرم ﷺ کی بعثت سے پہلے آپ کے اور قرآن مجید کے ذریعے سے مدد مانگا کرتے تھے جب آپ ﷺ کی بعثت ہوئی تو انہوں نے انکار کردیا تو اللہ تعالیٰ نے اس کفر و انکار کے سبب ان کے ایمان لانے کی خواہش اور ان کے ایمان کے نفع کو ختم کردیا اور انھیں یہودیت کی گمراہیوں میں بھٹکنے کے لئے چھوڑ دیا کہ انھیں اب ہدایت کا راستہ ہی نظر نہیں…
Read the full tafseer →ۻ (بہرے) ”اَصَّمُ“ کی جمع ہے۔ بُكْمٌ (گونگے) ”اَبْکَمُ“ کی جمع ہے اور عُمْىٌ (اندھے) ”اَعْمَی“ کی جمع ہے۔ ان کے بہرے، گونگے اور اندھے ہونے کا مطلب یہ نہیں کہ ان کے کان، زبانیں یا آنکھیں ہیں ہی نہیں، بلکہ مراد یہ ہے کہ انھوں نے یہ سب کچھ رکھنے کے باوجود ان سے فائدہ نہیں اٹھایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَجَعَلْنَا لَهُمْ سَمْعًا وَّاَبْصَارًا وَّاَفْـــِٕدَةً ڮ فَمَآ اَغْنٰى عَنْهُمْ سَمْعُهُمْ وَلَآ اَبْصَارُهُمْ وَلَآ اَفْــِٕدَتُهُمْ مِّنْ شَيْءٍ اِذْ كَانُوْا يَجْـحَدُوْنَ ۙبِاٰيٰتِ اللّٰه) [ الأحقاف : 26 ] ”اور ہم نے ان کے لیے کان اور آنکھیں اور دل بنائے تو نہ ان کے کان ان کے کسی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 18
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے صم بکم عمی۔ صم یعنی ھم ھم یعنی یہ مبتدا محذوف کی خبریں ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت حفصہ کی قراءت میں صماً بکما ًعیماً میں بطور ذم نصب (1) بھی جائز ہے۔ جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ملعونین اینما ثقفوا (الاحزاب :61) (ان پر لعنت برس رہی ہوگی جہاں وہ پائے جائیں گے ) ۔ اسی طرح فرمایا : وامراتہ حما لۃ الحب۔ (اللہب) (اور اس کی جورو بھی بدبخت ایندھن اٹھانے والی ہے ) ۔ شاعر نے کہا :
سقول اتخمر ثم تکنفونی عداۃ اللہ من کذب وزور
انہوں نے مجھے شراب پلائی پھر مجھے گھیر لیا۔ اللہ ! دشمنوں کی جھوٹ اور غلط بیانی پر میں مذمت کرتا ہوں۔
اس شعر میں عداۃ اللہ بطور ذم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الصابونی نے المأتین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مثلہم کمثل الذی استوقدنارا “ اس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لیے مثال بیان فرمائی (یہ لوگ) منسوب ہوتے ہیں اسلام کی طرف مسلمانوں سے نکاح کرتے ہیں اور ان کے (مسلمانوں کے مال) وارث بن جاتے ہیں۔ اور ان کو فئی کا مال تقسیم کیا کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ مرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اسلام والی عزت کو سلب کرلیتا ہے جیسے آگ والا آگ کی روشنی کو ختم کردیتا ہے لفظ آیت ” وترکیم فی ظلمت “ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی عذاب میں لفظ آیت ” صم بکم عمی “ یعنی وہ ہدایت کو نہ سنتے ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →[ ۻ: بہترے ہیں ] [ بُكْمٌ: گونگے ہیں ] [ عُمْىٌ: اندھے ہیں ] [ فَھُم : پس وہ لوگ ] [ لَا يَرْجِعُوْنَ : نہیں پلٹیں گے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقوں کے بارے میں دو اہم مثالیں
منافقوں نے ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا اور دل میں ان کے ایمان نہ تھا ظاہری ایمان قبول کرنے سے جو کچھ انہیں دنیاوی فائدہ پہنچ گیا مثلاً جان و مال محفوظ کرلیا کہ مسلمان ان سے تعرض نہ کریں اس کو اولاً ایسے شخص سے تشبیہ دی جو اندھیری رات میں آگ جلائے اور اس روشنی سے راستہ دیکھنے کا فائدہ حاصل کرنا چاہے، اور ان لوگوں کا جو انجام ہونے والا ہے کہ مرتے ہی سخت عذاب میں مبتلا ہوں گے، اس کو اس آگ کے بجھانے سے تشبیہ دی جس کو انہوں نے روشنی کے لئے جلایا تھا، دنیا میں جھوٹے منہ سے ایمان ظاہر کر کے ذرا سا فائدہ اٹھا لیا اور ہمیشہ کے لیے عذاب الیم میں گرفتار ہوئے، جیسے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
قال تعالیٰ مثلھم کمثل الذی استوقد نارا۔۔۔ الی۔۔ فھم لایرجعون
(ربط): حق جل شانہ جب منافقین کے قبائح بیان کرچکے تو مزید ایضاح کے لیے دو مثالیں بیان کرتے ہیں تاکہ اچھی طرح ان کی سفاہت اور بےوقوفی واضح ہوجائے۔ جس کا ماقبل میں بیان ہوا۔
حق جل شانہ نے قرآن کریم میں بار بار ایمان اور ہدایت کو نور فرمایا ہے اور مردہ دلوں کے لیے حیات اور زندگی فرمایا ہے اور کفر اور ضلالت کو ظلمت اور تاریکی اور دلوں کی موت اور بربادی بتایا ہے اس لیے حق تعالیٰ نے منافقین کے مناسب جنہوں نے ہدایت کے عوض میں ضلالت اور گمراہی کو اختیار کیا دو مثالیں بیان فرمائیں ایک ناری اور دوسری مائی اس لیے کہ نار مادۂ نور ہے اور ماء یعنی…
Read the full tafseer →ف 38 ۔ اگرچہ ان کے ظاہری حواس درست ہیں لیکن جب انہوں نے ان حواس سے کام نہ لیا، کانوں سے حق نہ سنا۔ زبان سے حق کا اقرار نہ کیا، اور بصیرت کی آنکھوں سے حق کو نہ دیکھا تو گویا ان کے حواس ہی بیکار ہوچکے ہیں۔ اور وہ بہرے، گونگے اور اندھے ہیں۔ کانت حواسہم سلیمۃ ولکن لما سدوا عن الاصاغۃ الی الحق مسامعہم وابوا ان ینطقوا بہ السنتھم وان ینظروا ویبصروا بعیونھم جعلوا کانما ایفت مشعرھم (مدارک ص 20 ج 1) ۔
39 ۔ یعنی اب ان کے ہدایت پر آنے کی کوئی راہ نہیں۔ لیکن حضرت شیخ علیہ الرحمۃ والغفران نے فرمایا کہ دنیا میں جب بھی کسی داعی توحید نے دعوت توحید پیش کی ہمیشہ لوگ دو جماعتوں میں بٹ گئے۔ کچھ لوگوں نے دعوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
گزشتہ سے پیوستہ : بدبختی اور شقاوت کے لحاظ سے دوسرا گروہ منافقین کا ہے اللہ تعالیٰ نے منافقین کا حال بیان فرمایا ہے کہ ان کا کام جھوٹ بولنا ، فریب دینا ، زمین میں فساد کرنا ہے وہ ایمانداروں کو بیوقوف کہتے تھے ۔ اور اپنے آپ کو اصلاح کرنے والے سمجھتے تھے۔ جب انہیں حقیقی مؤمنوں کی طرح ایمان لانے کی دعوت دی جاتی تو کہتے کہ ہم بیوقوفوں کی طرح کیوں ایمان لائیں۔ مسلمانوں کی جماعت کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ۔ تاکہ ان کی جان و مال محفوظ رہے۔ اور ان کے حقوق کو کوئی نقصان نہ پہنچے۔ مگر جب اپنے سرداروں کے پاس جاتے تو کہتے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں۔ ہم تو مسلمانوں کے ساتھ تمسخر اور ہنسی کرتے ہیں ۔…
Read the full tafseer →صُمٌّۢ بُكْمٌ عُمْىٌ فَھُمْ لَا يَرْجِعُوْنَ 18 ۙ
صمم
الصَّمَمُ : فقدانُ حاسّة السّمع، وبه يوصف من لا يُصغِي إلى الحقّ ولا يقبله . قال تعالی: صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] ،
( ص م م ) الصمم
کے معیم حاصہ سماعت ضائع ہوجانا کے ہیں ( مجاز) اس کے ساتھ ہر وہ شخص متصف ہوتا ہے جو نہ تو حق کی آواز سنے اور نہ ہی اسے قبول کرے ( بلکہ اپنی مرضی کرتا چلا جائے ) قرآن میں ہے : صُمٌّ بُكْمٌ عُمْيٌ [ البقرة/ 18] بہرے ہیں گونگے ہیں اندھے ہیں ۔
بكم
قال عزّ وجلّ : صُمٌّ بُكْمٌ [ البقرة/ 18] ، جمع أَبْكَم، وهو الذي يولد أخرس، فكلّ أبكم أخرس، ولیس کل أخرس أبكم، قال تعالی: وَضَرَبَ اللَّهُ مَثَلًا رَجُلَيْنِ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ترکیب : مثلہم مبتدا کمثل الخ موصول وصلہ سے مل کر اس کی خبر کاف بمعنی مثل ہے اور ممکن ہے کہ محذوف کے متعلق ہو۔ لما حرف شرط اضاءت فعل نار اس کا فاعل ماحولہ ای حول المستو قد اس کا مفعول۔ ممکن ہے کہ اضاءت لازمی ہو پھر ما اس کا فاعل قرار دیا جائے اور تانیث اضاءت بلحاظ معنی ما ہو کہ جس سے مراد اشیاء یا اماکن ہیں اس تقدیر پر ماظرف ہوگا۔ لفظ ما کی تین صورت ہیں ایک بمعنی الذی دوم
1 ؎ ظلمات جمع کا صیغہ لایا گیا تاکہ معلوم ہو کہ ایک اندھیری نہ تھی بلکہ بہت سی۔ حبِّ جاہ کی حبِّ مال کی، حبِّ لذات کی دارآخرت سے غفلت کی کہ جو سب ظلمتوں سے زیادہ ہے۔ حقانی
نکرہ موصوفہ اے مکاناً حولہ۔ سوم زائدہ۔ ذھب فعل اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
مَثَلُھُمْ کَمَثَلِ الَّذِی اسْتَوْ قَدَ نَارًاج فَلَمَّآاَضَآئَ تْ مَاحَوْلَہٗ ذَھَبَ اللّٰہُ بِنُوْرِھِمْ وَتَرَکَھُمْ فِیْ ظُلُمٰتٍ لاَّیُبْصِرُوْنَ ۔ صُمٌّ م بُکْمٌ عُمْی فَھُمْ لاَ یَرْجِعُوْنَ ۔
(ان لوگوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ جلائی، جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کی روشنی سلب کرلی اور ان کو ایسی تاریکیوں میں چھوڑ دیا جن میں ان کو کچھ نظر نہیں آتا یہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اب یہ لوٹنے والے نہیں ہیں) (البقرۃ : 17 تا 18)
منافقین کی دو تمثیلیں
اس آیت کریمہ میں جن لوگوں کی مثال دی گئی ہے، وہ دو طرح کے لوگ ہوسکتے ہیں یا تو وہ لوگ مراد ہیں جن کا ذکر ان…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : منافقوں کا تذکرہ جاری ہے۔ منافقت کی بیماری کے ظاہری اعضا پر منفی اثرات۔
جو لوگ رسالت مآب ﷺ کی ذات اقدس کو پہچاننے اور دین اسلام کے اوصاف کو جاننے کے باوجود کفر و نفاق پر ڈٹے ہوئے ہیں وہ تو اس شخص کی طرح ہیں جو آنکھوں سے اندھا، کانوں سے بہرا اور زبان سے گونگا ہے۔ یعنی ایسے لوگ نہ عبرت کی نگاہ سے دیکھتے ہیں نہ نصیحت کی زبان سنتے ہیں اور نہ ہی سبق آموزی کے لیے سوچنے پر تیار ہیں۔ یہ تو چلتے پھرتے انسانی ڈھانچے اور لکڑی یا پتھر کے ستون کی طرح ہیں اس کے سوا کچھ نہیں۔ لکڑی اور پتھر تو نہیں سنا کرتے ہدایت پائیں تو کس طرح ؟ کان، آنکھ اور لمس ہدایت پانے اور راہنمائی حاصل کرنے کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
تجارت کیا ہے ؟
فَمَارَبِحَتْ تِّجَارَتُھُمْ : (پس ان کی تجارت نے انہیں نفع نہ دیا)
تعریف ربح : اصل مال میں اضافہ کو کہا جاتا ہے۔
تجارت : کاریگری۔ تاجر کا فن :
تاجر : نفع کی خاطر خرید وفرخت کرنے والا۔ نفع کی نسبت تجارت کی طرف اسناد مجازی ہے اس کا معنی انہیں اپنی اصل تجارت میں نفع نہ ہوا اور ضائع کردی۔ جب تجارت فائدہ مندنہ رہی اور مجازا گمراہی کا ہدایت کے بدلے خرید نا ثابت ہوگیا۔ تو اس کے بعد بطور استعارہ ترشییحہ کے ربح اور تجارۃ کا ذکر کردیا جیسا کہ شاعر نے اپنے اس شعر میں ؎
لما رایت النَّسْرَ عَزَّابن دَابۃ۔ وعَشَّشَ فی وَکْرِہٖ جاش لہ صدری میں بڑھا پے کو نسر اور سیاہ بالوں کو کوئلے سے تشبیہ…
Read the full tafseer →18۔ (صم) یعنی وہ لوگ حق سے بہرے ہیں اسے قبول نہیں کرتے اور جب انہوں نے قبول نہ کیا پس گویا انہوں نے سنا ہی نہیں (بکم) حق سے گونگے ہیں کہ حق بات کہتے ہیں نہیں یا یہ کہ جب انہوں نے ظاہر (بول ایمان) کے خلاف دل میں (کفر) چھپایا پس گویا کہ وہ حق کا بول بولے ہی نہیں ۔ (عمی) یعنی ان کو بصیرتیں حاصل نہیں ہیں اور جسے بصیرت حاصل نہیں وہ بینائی سے بھی گویا کہ محروم ہے۔
(آیت)” فھم لا یرجعون “ گمراہی سے حق کی طرف لوٹیں گے ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 تا 20
یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو۔۔۔ یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کردی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →48 سوء اختیار اور بدنیتی باعث محرومی ۔ والعیاذ باللہ العظیم : ـ سو سوء اختیار اور بدنیتی کی بنا پر انسان رجوع الي الحق کی توفیق سے محروم ہوجاتا ہے۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ۔ اس لیے ایسے لوگ راہ صدق و صواب کی طرف نہیں لوٹیں گے، کیونکہ یہ اندھیرے جن میں یہ لوگ ڈوبے ہوئے ہیں، بڑے گھمبیر اور انتہائی گھٹا ٹوپ ہیں، نور ہدایت کو انہوں نے اپنے سوء اختیار سے ضائع کردیا، آنکھیں ان کی اندھی ہوگئی ہیں، جس سے یہ دیکھنے کے قابل رہے ہی نہیں، کان ان کے آواز حق سننے سے بند ہوگئے ہیں، جس کے باعث کسی داعی حق اور خیر خواہ حقیقی کی آواز ان کے دل و دماغ تک پہنچتی ہی نہیں، اور زبانیں ان کی گنگ ہوگئی ہیں، جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
منافقوں کی مثال اور ان کا انجام
تشریح : اس میں بھی منافقین کے بارے میں بات ہو رہی ہے۔ آنحضرت ﷺ کے زمانے میں منافق دو قسم کے تھے ایک وہ جو دل سے اسلام کے پکے دشمن تھے مگر زبانی مسلمان تھے دوسرے وہ جو ارادہ کے کمزور تھے اور مکمل طور پر ایک راستہ اختیار کرنے کا فیصلہ نہ کرسکتے تھے جس طرف ذاتی مفاد دیکھتے ادھر ہی جھک جاتے ان لوگوں کی مثال اللہ تعالیٰ نے یوں دی ہے کہ گویا ایک شخص آگ روشن کرتا ہے جب چاروں طرف روشنی پھیل جاتی ہے تو اچانک ان کی بصارت سلب کرلی جاتی ہے اور انہیں کچھ دکھائی نہیں دیتا۔ منافق لوگوں کو چاروں طرف ایمان، اسلام اور سلامتی کی راہیں نظر آرہی ہیں وہ دیکھتے ہیں مگر کفر کا پردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 4 یعنی عقل و فکر کھو دیے میں زبان سے بھی بوجہ بز دلی کے اعتراف حق نہیں کرسکتے تو پھر راہ حق کی طرف سے کیسے رجوع ہوسکتے ہیں ؟
Read the full tafseer →(2:18) صم۔ بہرے، اصم کی جمع ہے افعل فعلاء فعل کے وزن پر، صم صفت مشبہ کا صیغہ ہے۔ واحد مذکر۔
بکم۔ گونگے۔ ابکم کی جمع جس کے معنی پیدائشی گونگے کے ہیں۔
عمی۔ اعمی کی جمع۔ اعمی کا استعمال آنکھوں کے اندھے اور دل کے اندھے دونوں کے لئے ہوتا ہے۔ صم۔ خبر اول ہے مبتدا محذوف ھم کی بکم خبر دوم اور عمی خبر سوم ، مبتدا محذوف اپنی ہر سہ اخبار سے مل کر جملہ اسمیہ ہے اور یہ معطوف علیہ ہے اگلے جملہ کا
فھم لا یرجعون ۔ فاء حرف عطف بمعہ ترتیب کے۔ ھم مبتدا ۔ لا یرجعون فعل بافاعل جو جملہ فعلیہ ہوکر خبر ہے مبتدا کی۔ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوا۔ یہ جملہ معطوف ہے جملہ سابقہ پر۔
وہ بہرے ہیں، گونگے ہیں، اندھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
لغات القرآن : آیت نمبر 17 تا 18
(مثل): مثال ، تشبیہ۔ (استوقد) : اس نے بھڑکایا، جلایا ، سلگایا۔ (نار ): آگ ، جہنم ، دوزخ۔ (اضاءت ): روشن ہوگئی۔ اس جگہ ترجمہ ہوگا، ” روشن ہوگیا “ اس کی وجہ یہ ہے کہ اردو میں لفظ ” ماحول “ مذکر ہے۔ (ما حول) : ارد گرد، آس پاس۔ (ذھب): گیا، چونکہ، یہاں ذھب کے بعد ” ب “ آگئی ہے عربی قاعدہ سے اس کا ترجمہ ہوگا ” لے گیا “ ۔ (ترک): چھوڑ دیا، الگ کردیا۔ (ظلمات): اندھیریاں، اندھیرے۔ (ظلمۃ کی جمع ہے ) ۔ (لا یبصرون): وہ نہیں دیکھتے ہیں (وہ نہیں دیکھ سکتے ) ۔ (صم): بہرے ، (صم اصم کی جمع ہے ) جو سن نہ سکتے ہوں۔ (بکم ) : گونگے، (بکم ابکم کی جمع ہے ) جو دیکھ نہ سکتے ہوں۔ (عمی) :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 7–18
شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…
Read the full tafseer →[13] حق بات سننے کے لئے بہرے، حق گوئی کے لئے گونگے، حق بینی کے لئے اندھے۔
[14] یعنی باطل سے حق کی طرف اور کفر سے ایمان کی طرف نہ پلٹیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) پہلی مثال تو کفر کے تحیر کی تھی ، اس مثال میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بہرحال مطلب کے پورے ہیں ۔ جب اسلام لانے سے کچھ مطلب براری ہوتی ہے تو پھر انہیں بھی اعلان کرنے میں دریغ نہیں ہوتا اور جب آزمائش وابتلا کا وقت ہو تو صاف انکار کردیتے ہیں یعنی جہاں ان کا ذاتی مفاد روشن طور پر نظر آرہا ہو ، مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جہاں مشکلات کی تاریکی نظر آئی ، رک گئے ، انہیں تنبیہہ فرمائی کہ ایسا نہ کرو ، ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا اور پھر تم میں یہ استعداد بھی باقی نہ رہے گی ،
دعوت عبادت واتقاء :
قرآن نے ساری کائنات کو دعوت دی ہے کہ وہ رب خالق کی عبادت کرے اور اس طرح تمام انسانوں کو ایک مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–18
ف 3۔ ان کی حالت اس گروہ کی حالت کے مشابہ ہے جس نے کہیں آگ جلائی ہو ، پھر جب اس آگ نے اس گروہ کے ارد گرد اور آس پاس کی تمام چیزوں کو روشن کردیا ہو تو اسی حالت میں اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے نور کو سلب کرلیا ہو اور ان کو سخت تاریکیوں میں اس طرح چھوڑ دیا ہو کہ ان کو اپنے آس پاس کی کوئی چیز نظر نہ آتی ہو ۔ وہ بہرے ہیں گونگے ہیں اور اندھے ہیں ، لہٰذا وہ گمراہی سے ہدایت کی جانب نہیں لوٹیں گے۔ ( تیسیر)
مثال کا خلاصہ یہ ہے کہ جس طرح روشنی حاصل کرنی کی غرض سے کچھ لوگ شب کی تاریکی میں آگ جلائیں اور آگ کی روشنی سے فائدہ حاصل کرنا چاہیں اور جب وہ آگ ان لوگوں کے چاروں طرف کی چیزوں کو روشن کر دے تو ایک دم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1۔ یعنی حق سے بہت بعید ہوگئے ہیں کہ ان کے کان حق سننے کے قابل نہ رہے، زبان ان کی حق بات کہنے کے لائق نہ رہی، آنکھیں حق دیکھنے کے قابل نہ رہیں سو اب ان کے حق کی طرف رجوع ہونے کی کیا امید ہے۔
Read the full tafseer →بہرے ، گونگے اور اندھے کون ہیں ؟
39: یہ منافقین کی اس پہلی جماعت کے لوگ ہیں جن کا ذکر اوپر گزرچکا۔ ” صُمٌّۢ “ بہرے ہیں یعنی صدائے حق گویا سنتے ہی نہیں۔ ” بُكْمٌ “ گونگے ہیں یعنی کلمہ حق و ایمان کے ادا کرنے سے ان کی زبانیں گنگ ہیں۔ ” عُمْیٌ “ اندھے ہیں یعنی دید حق کی طرف سے ان کی آنکھیں اندھی ہوچکی ہیں اور یہ سب کچھ ان کی اپنی اختیاری گمراہی کے نتیجہ کے طور پر ہوا۔ دوسری جگہ اللہ تعالیٰ نے اسی مضمون کو اس طرح ادا فرمایا ہے کہ : اَفَلَمْ یَسِیْرُوْا فِی الْاَرْضِ فَتَكُوْنَ لَهُمْ قُلُوْبٌ یَّعْقِلُوْنَ بِهَاۤ اَوْ اٰذَانٌ یَّسْمَعُوْنَ بِهَا 1ۚ فَاِنَّهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَ لٰكِنْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
The last four verses bring out the miserable plight of the hypocrites with the help of two extended similes. The choice of two examples is meant to divide the hypocrites into two kinds of men. On the one hand were those in whom disbelief had taken deep roots, so that they had little inclination towards Islam, but pretended to be Muslims for worldly motives - the Holy Qur'an compares them to the man who, having found light, again loses it, and is left in darkness. On the other hand were those who did recognize the truth of Islam, and sometimes wished to be genuine Muslims, but worldly…
Read the full tafseer →17. They have become deaf to hear, dumb to utter and blind to perceive the truth.
Read the full tafseer →