Explained with ayahs 19–20
منافقین کی ایک اور پہچان
یہ دوسری مثال ہے جو دوسری قسم کے منافقوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جن پر کبھی حق ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی پھر شک میں پڑجاتے ہیں تو شک کے وقت ان کی مثال برسات کی سی ہے۔ صیب کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں۔ بعض نے بادل کے معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن زیادہ مشہور معنی بارش کے ہی ہیں جو اندھیرے میں برسے۔ ظلمات سے مراد شک، کفر و نفاق ہے اور رعد سے مراد یعنی گرج ہے جو اپنی خوفناک آواز سے دل دہلا دیتی ہے۔ یہی حال منافق کا ہے کہ اسے ہر وقت ڈر خوف گھبراہٹ اور پریشانی ہی رہتی ہے۔ جیسے کہ اور جگہ فرمایا آیت (يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ) 63۔ المنافقون :4) یعنی ہر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 18
یعنی کانوں میں انگلیاں ٹھونس کر وہ اپنے آپ کو کچھ دیر کے لیے اس غلط فہمی میں تو ڈال سکتے ہیں کہ ہلاکت سے بچ جائیں گے مگر فی الواقع اس طرح وہ بچ نہیں سکتے کیونکہ اللہ اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ ان پر محیط ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر اس کا قابل نفرت ہونا بیان فرمایا گیا دو مثالیں اس بناء پر دی گئیں کہ منافقین میں دو طرح کے آدمی تھے ایک وہ جو اپنے کفر میں بالکل پختہ تھے ایمان کا اظہار صرف دنیوی مصلحت کی وجہ سے کرتے تھے ایمان واسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر کبھی کبھی سچے مسلمان ہونے کا ارادہ بھی کرلیتے تھے مگر پھر دنیوی اغراض سامنے آکر ان کو اس ارادہ سے روک دیتی تھیں اسی طرح وہ ایک تذبذب اور تردد کے حال میں رہتے،
اسی مضمون کے ضمن میں ان ظالموں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت…
Read the full tafseer →’صیّب‘ کا مفہوم: صَیّب کا لفظ سخت بارش کے لیے بھی آتا ہے اور زور کے ساتھ برسنے والے بادل کے لیے بھی۔ ہم نے اپنے ترجمہ میں پہلے معنی کو ترجیح دی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ تمثیل میں، جیسا کہ آگے واضح ہو گا، اس لفظ سے اشارہ قرآن مجید کی طرف ہے اور قرآن کوخود قرآن میں بارش سے جگہ جگہ تشبیہہ دی گئی ہے۔
’سماء‘ کا مفہوم: سَماء کا لفظ عام طور پر تو اس سقف نیلگوں کے لیے بولا جاتا ہے جس کو ہم آسمان کہتے ہیں۔ اس کے علاوہ یہ ابر کے معنی میں بھی آیا ہے اور اس فضائے بسیط و عریض کے لیے بھی جو ہمارے سروں پر ہے۔
بارش اگرچہ آسمان ہی سے ہوتی ہے اس وجہ سے اس کے ساتھ لفظ سماء کا اضافہ بہ ظاہر کچھ غیر ضروری سا معلوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–19
1 حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ اور دیگر صحابہ نے اس کا مطلب یہ بیان کیا ہے نبی ﷺ جب مدینہ تشریف لائے تو کچھ لوگ مسلمان ہوگئے لیکن پھر جلدی منافق ہوگئے۔ ان کی مثال اس شخص کی سی ہے جو اندھیرے میں تھا اس نے روشنی جلائی جس سے اس کا ماحول روشن ہوگیا اور مفید اور نقصان دہ چیزیں اس پر واضح ہوگئیں دفعتا وہ روشنی بجھ گئی اور حسب سابق تاریکیوں میں گھر گئے۔ یہ حال منافقین کا تھا پہلے وہ شرک کی تاریکی میں تھے مسلمان ہوئے تو روشنی میں آگئے۔ حلال و حرام کو پہچان گئے پھر وہ دوبارہ کفر و نفاق کی طرف لوٹ گئے تو ساری روشنی جاتی رہی (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
16 منافقوں کی پہلی مثال تو ان منافقین سے متعلق تھی جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود خوب سوچ سمجھ کر کفر اور نفاق کا راستہ اختیار کئے ہوئے تھے، اب منافقین کے اس گروہ کی مثال دی جارہی ہے جو اسلام لانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا، جب اسلام کی حقانیت کے دلائل سامنے آئے تو ان کے دل میں اسلام کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا اور وہ اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ؛ لیکن جب اسلامی احکام کی ذمہ داریاں اور حلال و حرام کی باتیں سامنے آتیں تو وہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے رک جاتے، یہاں اسلام کو ایک برستی ہوئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کفر وشرک کی خرابیوں کا جو بیان ہے اسے اندھیریوں سے اور اس میں کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ…
Read the full tafseer →11 دوسری مثل ان منافقین کی ان لوگوں کی سی ہے کہ ان پر آسمان سے مینہ شدت کے ساتھ پڑ رہا ہو اور کئی طرح کی تاریکی اس میں ہو۔ مثلا بادل بھی تو بر تو بہت غلیظ و کثیف ہے اور قطرات ابر کی بھی بہت کثرت اور ہجوم ہے اور رات بھی اندھیری ہے اور تاریکی شدید کے ساتھ بجلی کی کڑک اور چمک بھی ایسی ہولناک ہے کہ وہ لوگ موت کے خوف سے کانوں میں انگلیاں دیتے ہیں کہ آواز کی شدت سے دم نہ نکل جائے۔ اسی طرح پر منافقین تکالیف و تہدیدات شرعیہ کو سن کر اور اپنی خواری و رسوائی کو دیکھ کر اور اغراض و مصالح دنیاوی کو خیال کر کے عجب کشمکش اور خوف و پریشانی میں مبتلا ہیں اور اپنی بیہودہ تدبیروں سے اپنا بچاؤ کرنا چاہتے ہیں۔…
Read the full tafseer →آیت 19 اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ ج
یعنی اس ہیبت ناک کڑک سے کہیں ان کی جانیں نہ نکل جائیں۔
وَاللّٰہُ مُحِیْطٌ بالْکٰفِرِیْنَ
وہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے ‘ یہ بچ کر کہاں جائیں گے ؟
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
24 آخر ان منافقوں کی حالت یہ ہوگئی کہ یہ حق بات سننے کے لیے بہرے، حق کہنے کے لحاظ سے گونگے ہیں اور حق سامنے موجود ہو تب بھی انہیں نظر نہیں آتا۔
Read the full tafseer →52 ۔ منافقین مدینہ کے بھی دو طبقے تھے۔ ایک تو وہ تھے جن کے دلوں میں سرتا پا کفر تھا۔ ایمان کا گزر ہی نہ تھا۔ اس طبقہ کے منافقین کی مثال ابھی اوپر گزر چکی ہے۔ (آیت) ” ذھب اللہ بنورھم وترکھم فی ظلمت لا یبصرون “ دوسرا طبقہ ان منافقین کا تھا جو یکسر منکر نہ تھے بلکہ آج کل کے بعض انتہائی روشن خیالوں کی طرح متشککین ومذبذبین میں تھے۔ اسلام کی ظاہری قوت و شوکت اور مادی اقتداروفتح مندی کو دیکھ کر کبھی چند قدم اس کی طرف بڑھتے۔ اور جب مسلسل یہ کامیابی نہ پاتے، تو پھر پیچھے ہٹ جاتے۔ آیت میں مثال اس طبقہ کے منافقین کی بیان ہورہی ہے۔ ھذا مثل اخر ضربہ اللہ تعالیٰ لضرب اخر من المنفقین وھم وقوم یظھر لھم الحق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافقین کے دوسرے گروہ کی مثال :
اَوْکَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ (الآیۃ) یہ منافقین کے دوسرے گروہ کی مثال ہے یہ وہ طبقہ تھا کہ جو یکسر منکر تو نہ تھا بلکہ آج کل کے انتہائی روشن خیالوں کی طرح ریب و تذبذب کا شکار تھا اسلام کی ظاہری قوت و شوکت اور مادی اقتدار و فتح مندی کو دیکھ کر کبھی چند قدم آگے بڑھتا اور جب مسلسل یہ کامیابی نہ پاتا تو پھر پیچھے ہٹ جاتا منافقوں کے اس طبقہ کی حالت اس بارش کی طرح ہے جو تاریکیوں میں برس رہی ہو جس کی گرج چمک سے ان کے دل ڈر جاتے ہوں کہ خوف و دہشت کے مارے اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، مگر ان کا یہ خوف اور ان کی…
Read the full tafseer →اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ ( یا ان کا حال آسمانی بارش والوں کا سا ہے) لفظ صیب صوب بمعنی نزول سے فیعل کے وزن پر ہے بارش کو صیب اس لیے کہتے ہیں کہ وہ بھی نازل ہوتی ہے اور لفظ صوب میں مبالغہ ہے کیونکہ صوب کے معنی بےحد بہنے کے ہیں اور خود صیغہ فیعل میں بھی مبالغہ ہے اور تنکیر صیب کی تفخیم کے لیے ہے اور کلمۂ اوشک میں مساوات کے لیے اصل میں موضوع ہے پھر اس کے استعمال میں وسعت کرلی گئی اور جو مساوات بغیر شک کے ہو اس کے لیے بھی استعمال کرنے لگے۔ اس آیت میں او کے یہ معنی ہوں گے کہ منافقین کو دونوں قصوں سے تشبیہ دینا برابر ہے گویا مطلب یہ ہے کہ اے مخاطب تجھ کو تشبیہ میں اختیار دیا جاتا ہے دونوں…
Read the full tafseer →(19) منافقین اور یہودیوں کی قرآن پاک کے ساتھ یہ دوسری مثال ہے جیسا کہ جنگل میں رات کے وقت آسمان سے بارش برسے اسی طرح قرآن حکیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوا ہے کہ اس میں فتنوں کی تاریکیوں بیان کی گئی ہیں اور گرج، چمک، ڈر اور ڈانٹ اور بیان وتبصرہ اور وعید ہے، یہ لوگ موت اور تباہی کے خوف سے، کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، اسی طرح یہ منافقین قرآن مجید کے بیان اور وعید کے وقت موت سے بچنے کے لیے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ڈاخل کرلیتے ہیں کہ کہیں دل ان کی طرف مائل نہ ہوجائے مگر اللہ تعالیٰ منافقین کو اچھی طرح جانتا ہے اور ان سب کو دوزخ میں جمع کرنے والا ہے، قریب ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہ مثال اللہ تعالیٰ نے منافقین کے دوسرے گروہ کی بیان فرمائی ہے، یعنی وہ لوگ جو بظاہر مسلمان تو ہوگئے تھے مگر ضعف ایمان کی وجہ سے ہمیشہ شک اور تذبذب میں مبتلا رہتے تھے، راحت و آرام کی صورت میں مطمئن نظر آتے، جب تکالیف کا سامنا ہوتا تو شک و شبہ میں پڑجاتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ) [ الحج : 11 ]”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 19
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : او کصیب من السماء طبری نے کہا : او بمعنی واؤ ہے (2) ۔ فراء نے یہی کہا ہے۔
وقد زعمت لیلی بانی فاجر لنفسی تقاھا او علیھا فجورھا
لیلیٰ نے کہا کہ میں گنہگار ہوں میرے نفس کے لئے تقویٰ ہے اور اس کے خلاف اس کا فجور ہے۔
ایک اور شاعر نے کہا :
نال الخلافۃ لہ قدراً کما اتی ربہ موسیٰ علی قد
اس نے خلافت کو پایا اور خلافت اس کا مقدر تھی جس طرح موسیٰ (علیہ السلام) اپنے رب کی بارگاہ میں آئے جو ان کے حق میں مقدر تھا۔
ان اشعار میں او بمعنی واؤ ہے۔ بعض نے فرمایا : او تخییر کے لئے ہے۔
یعنی تم ان منافقوں کو اس سے تشبیہ دو یا اس سے، کسی ایک امر پر اکتفا نہیں۔ معنی ہے : او کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الصابونی نے المأتین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مثلہم کمثل الذی استوقدنارا “ اس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لیے مثال بیان فرمائی (یہ لوگ) منسوب ہوتے ہیں اسلام کی طرف مسلمانوں سے نکاح کرتے ہیں اور ان کے (مسلمانوں کے مال) وارث بن جاتے ہیں۔ اور ان کو فئی کا مال تقسیم کیا کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ مرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اسلام والی عزت کو سلب کرلیتا ہے جیسے آگ والا آگ کی روشنی کو ختم کردیتا ہے لفظ آیت ” وترکیم فی ظلمت “ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی عذاب میں لفظ آیت ” صم بکم عمی “ یعنی وہ ہدایت کو نہ سنتے ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →[ اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ : یا آسمان سے بارش کی مانند ہے ] [ فِيْهِ : اس میں ] [ ظُلُمٰتٌ: اندھیرے ہیں ] [ وَّرَعْدٌ: اور بادل کی گرج ہے ] [ وَّبَرْقٌ ۚ : اور بجلی کی چمک ] [ يَجْعَلُوْنَ : وہ لوگ رکھتے ہیں ] [ اَصَابِعَھُمْ : اپنی انگلیوں کو ] [ فِىْٓ اٰذَانِهِمْ : اپنے کانوں میں ] [ مِّنَ الصَّوَاعِقِ : بجلی گرنے سے ] [ حَذَرَ الْمَوْتِ ۭ : موت کے ڈر سے ] [ وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ : اور اللہ گھیرنے والا ہے ] [ بِالْكٰفِرِيْنَ : کافروں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ان دو آیتوں میں منافقین کی دوسری مثال پیش فرمائی جیسے تیز بارش ہو، اندھیریاں چھائی ہوئی ہوں، گرج بھی ہو اور بجلی کی چمک بھی ہو موت کا سامنا ہو۔ جو لوگ وہاں موجود ہوں کڑک کی آواز سے خوف زدہ ہو رہے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ابھی موت آجائے گی۔ کڑک کی آواز کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں دیئے ہوئے ہیں۔ سخت بجلی ان کی آنکھوں کی روشنی سلب کرنے کو ہے اسی حیرانی اور پریشانی میں کھڑے کھڑے جب ذرا بجلی چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں ایک دو قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو حیران سرگرداں کھڑے رہ جاتے ہیں۔ منافقوں کی یہی حالت ہے جب غلبہ اسلام کو دیکھتے ہیں اور اس کا نور پھیلتا ہوا نظر آتا ہے تو اس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافقین کی دوسری مثال
قال تعالیٰ او کصیب من السماء۔۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علی کل شیئ قدیر
یا مثال 1 ان منافقین کی گمراہی کو ہدایت کے بدلہ خرید کر خسارہ اٹھانے میں ایسے ہے جیسے آسان سے زوردار پانی پڑ رہا ہو۔ من السماء کا لفظ بڑھانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بارش آسمان کے تمام اطراف اور جوانب کو محیط ہے جس طرح پورے آسمان کو سماء کہتے ہیں اس طرح آسمان کی جانب کو بھی سماء کہتے ہیں۔ نیز من السماء کے لفظ میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ اس بارش کو کوئی روک نہیں سکتا۔ کس کی مجال ہے کہ آسمان سے آنے والی چیز کو روک سکے۔ اس میں ا ندھیرے اور گرج اور بجلی ہے۔ جو لوگ اس بزارش میں چل رہے ہیں۔ خوف کی وجہ سے ان کی یہ…
Read the full tafseer →ف 40 ۔ مثال فریق ثالث یعنی منافقین۔ اَوْ کَصَیِّبٍ پہلی تفسیر کے مطابق یہ منافقین کی دوسری مثال ہے اور اَوْ تخییر کے لیے ہے اور حضرت شیخ (رح) کی تفسیر کے مطابق اَوْ تنویع کیلئے ہے۔ اور یہ منافقین کے حال کی واحد تمثیل ہے اور پھر اس تمثیل کی دو شقیں ہیں ایک وَاللّٰهُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ تک اور دوسری یَکَادُ الْبَرْقُ سے آخر رکوع تک۔ اور صَیِّبٌ سے پہلے لفظ ذوی یا اصحاب محذوف ہے ای کا صحاب صیب (معالم ص 31 ج 1) یعنی منافقون کی مثال ان لوگوں جیسی ہے جو شدید بارش میں گھر جائیں اور صَیِّب کے معنی موسلا دھار بارش کے ہیں۔
41 ۔ سماء ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو اوپر کی جانب ہو اسماء کل ما علاک فاظلک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
گزشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے منافقین کی برائی میں دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی مثال گزشتہ درس میں گزرچکی ہے کہ منافقوں کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے جنگل میں آگ جلائی ہو۔ اور جب اس نے اردگرد کو روشن کردیا ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی روشنی کو لے گیا۔ اور آگ کو بجھا دیا۔ منافقین کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کسی چیز کو نہیں دیکھتے وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں پس وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
یہ پہلی قسم کے وہ منافق ہیں جو اپنے نفاق میں پختہ ہیں اور جہل مرکب میں مبتلا ہیں ان کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ کیونکہ وہ غلط بات کو صحیح سمجھ رہے ہیں۔ ایسے لوگ محض چال بازی اور فریب کاری کی بنا پر کلمہ…
Read the full tafseer →اَوْ كَصَيِّبٍ مِّنَ السَّمَاۗءِ فِيْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ 0 ۚ يَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِىْٓ اٰذَانِہِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ 0 ۭ وَاللہُ مُحِيْطٌۢ بِالْكٰفِرِيْنَ 19
صيب
والصَّيِّبُ : السّحابُ المختصّ بالصَّوْبِ ، وهو فيعل من : صَابَ يَصُوبُ. قال الشاعر :
فكأنما صَابَتْ عليه سحابة وقوله : أَوْ كَصَيِّبٍ [ البقرة/ 19] ، قيل : هو السّحاب، وقیل : هو المطر، وتسمیته به کتسمیته بالسّحاب، وأَصَابَ السّهمَ : إذا وصل إلى المرمی بالصَّوَابِ
اور صیب خاص کر صاب یصؤب سی فعیل کے وزن پر ( مبالغہ کا صیغہ ہے جس کے معنی ہیں بارش کا گرنا اوپر سے نیچے آنا شاعر نے کہا ہے ( طویل ) (…
Read the full tafseer →ترکیب : مثلہم مبتداء محذوف کصیب اس کی خبر۔ تقدیر کلام یوں ہے اومثلہم کمثل اصحاب صیّب۔ عطف جملہ کا پہلے جملہ پر ہوا اور یہ کاف موضع رفع میں ہے من السماء کائن کے متعلق ہو کر صیب کی صفت ظلمات ور عدو برق بواؤ عاطفہ مبتداء موخرفیہ خبرمقدم اور ضمیر فیہ کی راجع ہے صیب کی طرف یہ جملہ صیب کی صفت ہوا یجعلون فعل بافاعل اصابعھم مفعول فی آذانہم ظرف۔ اصابع من الصواعق متعلق یجعلون کے حذرالموت مفعول لہ ہے یجعلون کا یہ جملہ مستانفہ ہے جو ان کا حال ظاہر کر رہا ہے اور ممکن ہے کہ حال ہو ضمیر فیہ سے اللہ مبتداء محیط بالکافرین خبر جملہ معترضہ ہے محیط اصل میں محوط تھا حاطہ یحوط سے کسرہ واو حاء کی طرف نقل ہوا تو واؤ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ج یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللّٰہُ مُحِیْطٌم بِّالْکٰفِرِیْنَ ۔ یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْط کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِق وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْاط وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍء قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 19 تا 20)
(یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو اس میں تاریکیاں ہوں، کڑک ہو اور چمک ہو۔ وہ ٹھونس رہے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑکے کی وجہ سے موت سے ڈر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : دین کے بارے میں دوسری مثال، دین اسلام ایک ابر باراں ہے مگر اس میں منافق کی حالت زار بیان کی گئی ہے۔
بارش کی تمثیل کے ساتھ اسلام کی روشنی اور نفاق کی تاریکیوں کا فرق واضح کیا جا رہا ہے۔ جس طرح بارش اوپر سے نازل ہوتی ہے اللہ کا دین بھی آسمانوں سے نازل ہوا ہے۔ اس سے نہایت لطیف انداز میں کفار کے الزام کی تردید ہو رہی ہے کہ دین کسی شخص کے ذہن کی اختراع اور زمین کی پیداوار نہیں یہ تو اللہ تعالیٰ کا نازل کردہ ہے۔ بارش سے بیک وقت ہر چیز تر و تازہ ہوجاتی ہے ایسے ہی دین اسلام سے دل شاداب ‘ کردار میں نکھار اور دنیا میں برکات نازل ہوتی ہیں جیسے بارش میں بسا اوقات اندھیرا اور گرج…
Read the full tafseer →دوسری تمثیل :
اَوْکَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ : (یا جیسے بادل آسمان میں اس میں اندھیرے اور گرج اور بجلی ہے) ان کے متعلق بات کو اور زیادہ واضح کرنے کے لیے ایک دوسری تمثیل ذکر کی پہلی تمثیل میں منافقین کو آگ جلانے والے سے اور اظہار ایمان کو آگ روشن کرنے سے اور اس سے فائدہ کے منقطع ہونے کو آگ کے بجھنے سے تشبیہ دی۔ اور اس تمثیل دین کو بادل سے تشبیہ دی۔ کیونکہ دل دین سے اسی طرح زندہ ہوتے ہیں جیسے بارش سے زمین۔ اور کفار کو دین کے سلسلہ میں شبہات کو ظلمات سے تشبیہ دی۔ اور قرآن میں جو وعدے اور وعیدیں ہیں۔ ان کو رعد وبرق سے تشبیہ دی اور منافقین کو گھبراہٹیں اور مصائب…
Read the full tafseer →19۔ (آیت)” او کصیب “۔ یعنی بارش والوں کی طرح ، یہ اور مثال ہے جسے اللہ تعالیٰ نے منافقوں کے لیے بیان فرمایا بایں معنی کہ اے مخاطب اگر تو چاہے تو ان منافقوں کے لیے اس آگ جلانے والے کی مثال بیان کرے جو روشنی کے بعد اندھیرے میں پھنس گیا ہو یا تو چاہے تو بارش والوں کی مثال دے اور کہا گیا ہے کہ او بمعنی واؤ ہے ، یعنی جب اللہ تعالیٰ بارش برسانے کا ارادہ کرتے ہیں ۔
” وکصیب “ جیسے کہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے ” اویزیدون “ بمعنی ویزیدون اور صیب بارش ہے اور ہر وہ چیز جو اوپر سے نیچے کی طرف نازل ہو وہ صیب ہے ، صیب بروزن فیعل ہے صاب یصوب سے یعنی اترا (من السمائ) آسمان سے یعنی بادل سے اور کہا گیا ہے کہ سماء…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 تا 20
یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو۔۔۔ یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کردی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →49 قرآن حکیم رحمت خداوندی کی ایک زور دار بارش : " صیّب " اوپر سے اترنے والی زور دار بارش کو کہا جاتا ہے۔ پس قرآن حکیم وہ زور دار بارش ہے جو حضرت حق جل جلالہ کی طرف سے اس کی مخلوق کی سیرابی اور نفع رسانی کے لئے نازل فرمائی گئی ہے، فرق صرف اتنا ہے کہ ظاہری اور حسی بارش تو ظاہری زمین پر اترتی، اور اسی کو سیراب کرتی ہے، اور اسی کو گل و گلزار بناتی ہے، جبکہ قرآن حکیم کی معنوی اور روحانی بارش دلوں کی دنیا پر برستی، اور اس کی زندگی کا ذریعہ بنتی ہے، اور جس طرح ظاہری اور حسی طور پر برسنے والی بارش کو برسنے سے روکنا کسی کے بس میں نہیں، اسی طرح قرآن پاک کی دلوں کی زمین کو سیراب کرنے والی اس معنوی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافق کی بےبسی اور تذبذب
تشریح جس طرح پچھلے اسباق میں منافقوں کے بارے میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے پھر مثال سے بھی سمجھایا گیا ہے تو اسی سلسلے میں دوسری قسم کے منافقین کی مثال اللہ تعالیٰ دیتا ہے یہ وہ منافقین ہیں جو دل سے مسلمان تو ہوجاتے ہیں لیکن صرف فائدہ دیکھنے کی حد تک جونہی قربانی اور آزمائش کا وقت آتا فوراً کفر کی طرف لوٹ جاتے، بارش کے فوائد سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں مگر بادل کی کڑک اور چمک سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں گویا بجلی کے چمکنے کی طرح جب اسلام کی برکتیں رحمتیں اور روشنی ان پر واضح ہوتی ہے تو مسلمان ہوجاتے ہیں جونہی آزمائش پڑتی ہے تو فوراً کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 5 یہ مثال اللہ تعالیٰ نے منافقین کی دوسرے گروہ کی بیان فرمائی ہے یعنی وہ لوگ جو بظاہر ہر مسلمان تو ہوگئے تھے، مگر صعف ایمان کی وجہ سے ہمیشہ شک وتذبذب میں مبتلا رہتے تھے۔ راحت و آرام کی صورت میں مطمئن نظر آئے تے اور تکا لیف کا سامنا ہوتا تو شک میں پڑجاتے۔ اگلی آیت میں ان کے اسی تذبذب کو بیان فرمایا ہے کہ جب کبھی ان پر رشنی پڑتی ہے تو حل دیتے ہیں اور جب اندھیرا ہوتا ہے تو ٹھہر جاتے ہیں۔ (ابن کثیر) شاہ صاحب (رح) لکھتے ہیں : دین اسلام میں آخرت اسی سے آبادی ہے۔ اور اول کڑک ہے اور بجلی ہے منا فق لوگ اول سختی سے ڈرجاتے ہیں اور ان کو آفت سامنے نظر آتی ہے اور جیسے بادل کی چمک میں کبھی اجا لا ہوتا ہے…
Read the full tafseer →(2:19) او۔ او اصل میں شک کے لئے وضع کیا گیا ہے جہاں دو باتوں میں شک کے طور پر برابری ہو وہاں اس کا استعمال ہوتا تھا۔ پھر مطلقاً دو چیزوں کی برابری بیان کرنے میں استعمال ہونے لگا کہ جہاں شک مقصود نہیں جیسا کہ بولتے ہیں جالس الحسن او ابن سیرین۔ کہ خواہ تو حسن کے پاس بیٹھ یا ابن سیرین کے، دونوں کے پاس بیٹھنا برابر ہے۔ اس مقام پر (آیت ہذا) بھی یہ کلمہ اسی معنی میں استعمال ہوا ہے کہ منافقوں کو خواہ آگ جلانے والوں سے تشبیہ دو خواہ مینہ سے بھاگنے والوں سے دونوں برابر ہیں (تفسیر حقانی) او کے معنی یا ہیں یہ حرف عطف ہے۔
کصیب : ک تشبیہ کا ہے۔ صیب۔ صوب مصدر (باب نصر) سے مشتق ہے اور فیعل کے وزن پر مبالغہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 20
(او): یا ۔ (ک): جیسا ، جیسی (حرف تشبیہ) ۔ (صیب): بارش، تیز بارش ، زوردار بارش۔ (السماء) : آسمان۔ بلندی، اونچی جگہ (اس کی جمع السموات آتی ہے) ۔ (رعد): کڑک، زور دار آواز۔ (برق) : بجلی۔ (اصابع ) : انگلیاں (اصبع کی جمع) ۔ (اذان ): کان (اذن کی جمع ہے ) ۔ (الصواعق): کڑک (الصاعقہ کی جمع ہے ، تیز آواز، کڑک) ۔ (حذر الموت): موت کا ڈر اور خوف۔ (محیط): گھیرنے والا۔ (یکاد): قریب ہے ۔ (یخطف): وہ اچک لیتا ہے، وہ چھین کرلے جائے گا۔ (مشوا): وہ چلے۔ (قاموا) : وہ کھڑے ہوئے ، وہ کھڑے رہ گئے۔ (اظلم): اندھیرا ہوگیا (اندھیرا چھا جانا) ۔ (شاء): اس نے چاہا۔ (قدیر): قدرت رکھنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فرشتہ رعد اور منافقوں کا ذکر
آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں آنے کے وقت پہلے پہل ان لوگوں نے کچھ نور ایمان کما لیا تھا، پھر نفاق کے سبب سے اسی کفر کی تاریکی میں یہ لوگ پھنس گئے۔ دوسری مثال کی مطابقت صحابہ نے منافقوں کے حال سے اس طرح بیان کی ہے کہ بجلی کی آناً فاناً چمک کی طرح مسلمانوں کے دباؤ سے کبھی ان لوگوں میں ایمان کی عارضی جھلک آجاتی ہے، اور جس طرح کڑک کی آواز کے ڈر سے کوئی شخص کانوں میں انگلیاں دے کر اپنا ڈر رفع کرلیتا ہے۔ اسی طرح عارضی ایمان جھلک سے مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی جان و مال کی خیر ہوجاتی ہے لیکن اس عارضی ایمان سے کیا ہوتا ہے۔ ان کے دلوں پر تو وہی کفر و نفاق کی گھٹا چھائی ہوئی ہے جس کے…
Read the full tafseer →[15] یعنی وہ سمجھتے ہیں کہ کانوں میں انگلیاں ٹھونس لینے سے وہ ہلاکت سے بچ جائیں گے لیکن بچ نہیں سکتے کیونکہ اللہ انہیں گھیرے ہوئے ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) پہلی مثال تو کفر کے تحیر کی تھی ، اس مثال میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بہرحال مطلب کے پورے ہیں ۔ جب اسلام لانے سے کچھ مطلب براری ہوتی ہے تو پھر انہیں بھی اعلان کرنے میں دریغ نہیں ہوتا اور جب آزمائش وابتلا کا وقت ہو تو صاف انکار کردیتے ہیں یعنی جہاں ان کا ذاتی مفاد روشن طور پر نظر آرہا ہو ، مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جہاں مشکلات کی تاریکی نظر آئی ، رک گئے ، انہیں تنبیہہ فرمائی کہ ایسا نہ کرو ، ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا اور پھر تم میں یہ استعداد بھی باقی نہ رہے گی ،
دعوت عبادت واتقاء :
قرآن نے ساری کائنات کو دعوت دی ہے کہ وہ رب خالق کی عبادت کرے اور اس طرح تمام انسانوں کو ایک مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 1۔ یا ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے زور کا مینہ پڑ رہا ہو اس میں مختلف قسم کی تاریکیاں اور اندھیرے ہوں اور سخت کڑک چمک بھی ہو رہی ہو اس زور کی بارش میں جو لوگ چل رہے ہوں ان کی حالت یہ ہو کہ وہ کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں موت کے خوف سے اپنے کانوں میں گھسائے لیتے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ہر طرف سے اپنے علم وقدرت کے احاطہ میں لے رکھا ہے بجلی کی چمک کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کی بصارت کو اور بینائی کو اچکے لیتی ہے جہاں ذرا بجلی نے چمک کر ان پر روشنی کردی تو اس روشنی میں چلنے لگے اور جب ان پر اندھیرا ہوگیا تو کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کو سلب کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–19
ف 1۔ یعنی حق سے بہت بعید ہوگئے ہیں کہ ان کے کان حق سننے کے قابل نہ رہے، زبان ان کی حق بات کہنے کے لائق نہ رہی، آنکھیں حق دیکھنے کے قابل نہ رہیں سو اب ان کے حق کی طرف رجوع ہونے کی کیا امید ہے۔
Read the full tafseer →منافقین کی دوسری جماعت کی مثال :
40: یہ دوسری قسم کے لوگ ہیں جو اپنی کمزوریٔ طبیعت کی وجہ سے ان مصیبتوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ ان لوگوں کی مثال ٹھیک اس شخص کی سی ہے جو شب کے وقت کہیں جا رہا ہو اور رعد و برق کے خوف سے اپنی جان بچانے کی فکر میں ہو۔ مطلب یہ ہے کہ اسلام تو قبول کرلیا مگر اب یہاں مشکلات کا سامنا ہے ، عزیزو اقارب ، وطن و دیار ، مال و جائیداد سے علیحدگی ہے۔ جہاد و قتال فی سبیل اللہ کے لئے سر بکف پھرنا ہے۔ منہیات شرعیہ سے اجتناب ہے۔ یہ قربانیاں ان کو تکلیفوں میں مبتلا کئے ہوئے ہیں۔ چونکہ یہ طبیعت کے کمزور ہیں اس لئے ان کو دھمکی دی گئی ہے کہ اگر اب بھی اپنی کانوں اور آنکھوں سے کام نہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
The last four verses bring out the miserable plight of the hypocrites with the help of two extended similes. The choice of two examples is meant to divide the hypocrites into two kinds of men. On the one hand were those in whom disbelief had taken deep roots, so that they had little inclination towards Islam, but pretended to be Muslims for worldly motives - the Holy Qur'an compares them to the man who, having found light, again loses it, and is left in darkness. On the other hand were those who did recognize the truth of Islam, and sometimes wished to be genuine Muslims, but worldly…
Read the full tafseer →18. By thrusting their fingers into their ears they temporarily deceive themselves into believing that they can escape the catastrophic end that awaits them. However, they cannot escape that end since God with all His might, encompasses them.
Read the full tafseer →