Explained with ayahs 19–20
منافقین کی ایک اور پہچان
یہ دوسری مثال ہے جو دوسری قسم کے منافقوں کے لئے بیان کی گئی ہے۔ یہ وہ قوم ہے جن پر کبھی حق ظاہر ہوجاتا ہے اور کبھی پھر شک میں پڑجاتے ہیں تو شک کے وقت ان کی مثال برسات کی سی ہے۔ صیب کے معنی مینہ اور بارش کے ہیں۔ بعض نے بادل کے معنی بھی بیان کئے ہیں لیکن زیادہ مشہور معنی بارش کے ہی ہیں جو اندھیرے میں برسے۔ ظلمات سے مراد شک، کفر و نفاق ہے اور رعد سے مراد یعنی گرج ہے جو اپنی خوفناک آواز سے دل دہلا دیتی ہے۔ یہی حال منافق کا ہے کہ اسے ہر وقت ڈر خوف گھبراہٹ اور پریشانی ہی رہتی ہے۔ جیسے کہ اور جگہ فرمایا آیت (يَحْسَبُوْنَ كُلَّ صَيْحَةٍ عَلَيْهِمْ) 63۔ المنافقون :4) یعنی ہر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 19
پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو دل میں قطعی منکر تھے اور کسی غرض و مصلحت سے مسلمان بن گئے تھے۔ اور یہ دوسری مثال ان کی ہے جو شک اور تذبذب اور ضعف ایمان میں مبتلا تھے، کچھ حق کے قائل بھی تھے، مگر ایسی حق پرستی کے قائل نہ تھے کہ اس کی خاطر تکلیفوں اور مصیبتوں کو بھی برداشت کر جائیں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے جو انسانیت کے لیے رحمت بن کر آیا۔ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک سے مراد مشکلات و مصائب کا وہ، ہُجوم اور وہ سخت مجاہدہ ہے جو تحریک اسلامی کے مقابلہ میں اہل جاہلیّت کی شدید مزاحمت کے سبب سے پیش آرہا تھا۔ مثال کے آخری حِصّہ میں ان منافقین کی اس کیفیت کا نقشہ کھینچا گیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آخری چار آیتوں میں منافقین کے حال کی دو مثالیں دے کر اس کا قابل نفرت ہونا بیان فرمایا گیا دو مثالیں اس بناء پر دی گئیں کہ منافقین میں دو طرح کے آدمی تھے ایک وہ جو اپنے کفر میں بالکل پختہ تھے ایمان کا اظہار صرف دنیوی مصلحت کی وجہ سے کرتے تھے ایمان واسلام سے ان کا کوئی واسطہ نہ تھا دوسرے کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اسلام کی حقانیت سے متاثر ہو کر کبھی کبھی سچے مسلمان ہونے کا ارادہ بھی کرلیتے تھے مگر پھر دنیوی اغراض سامنے آکر ان کو اس ارادہ سے روک دیتی تھیں اسی طرح وہ ایک تذبذب اور تردد کے حال میں رہتے،
اسی مضمون کے ضمن میں ان ظالموں کو یہ تنبیہ بھی کردی گئی کہ وہ سب کے سب اللہ تعالیٰ کے احاطہ قدرت…
Read the full tafseer →’’جب بجلی چمکتی ہے تو چند قدم چلتے ہیں، جب غائب ہو جاتی ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔‘‘ یہ ان کی اس حیرانی و پریشانی کی تصویر ہے جس میں قرآن مجید کے نزول کے بعد وہ مبتلا ہو گئے تھے۔ ان کی سمجھ میں کچھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ قرآن کا مقابلہ کس طرح کریں۔ اس کی چمک اور دمک نگاہوں کو خیرہ کر دینے والی تھی اور اس کی برقِ خاطف سے ان کے لیے بچنا ممکن نہیں رہ گیا تھا۔ وہ حیران و درماندہ تھے کہ کیا کریں۔ اس حیرانی و درماندگی کی حالت میں اگر کوئی بات بنتی نظر آتی تھی تو بنانے کی کوشش کرتے تھے لیکن کسی حقیقت کا مقابلہ محض سخن سازی سے زیادہ دیر تک ممکن نہیں ہے اس وجہ سے جب بنائی ہوئی بات بگڑ جاتی ہے تو پھر حیران…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
1 یہ منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے۔ جس پر کبھی حق واضح ہوتا ہے اور کبھی اس کی بابت وہ شبہ و شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ پس ان کے دل میں شک و شبہ اس بارش کی طرح ہے جو اندھیروں شکوک کفر اور نفاق میں اترتی ہے گرج چمک سے ان کے دل ڈر ڈر جاتے ہیں حتٰی کے خوف کے مارے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ لیکن یہ تدبیریں اور یہ خوف و دہشت انہیں اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا کیونکہ وہ اللہ کے گھیرے سے نہیں نکل سکتے۔ کبھی حق کی کرنیں ان پر پڑتی ہیں تو حق کی طرف جھک پڑتے ہیں لیکن پھر جب اسلام یا مسلمان پر مشکلات کا دور آتا ہے تو پھر حیران و سرگردان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (ابن کثیر) منافقین کا یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–21
16 منافقوں کی پہلی مثال تو ان منافقین سے متعلق تھی جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود خوب سوچ سمجھ کر کفر اور نفاق کا راستہ اختیار کئے ہوئے تھے، اب منافقین کے اس گروہ کی مثال دی جارہی ہے جو اسلام لانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا، جب اسلام کی حقانیت کے دلائل سامنے آئے تو ان کے دل میں اسلام کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا اور وہ اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ؛ لیکن جب اسلامی احکام کی ذمہ داریاں اور حلال و حرام کی باتیں سامنے آتیں تو وہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے رک جاتے، یہاں اسلام کو ایک برستی ہوئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کفر وشرک کی خرابیوں کا جو بیان ہے اسے اندھیریوں سے اور اس میں کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اب ایک دوسری تمثیل کے ذریعے ان کی نفسیاتی صورتحال کا تجزیہ کیا جاتا ہے ۔ جس سے ان کے اندرونی اضطراب ، حیرت اور خوف وبے چینی کا اظہار ہوتا ہے ۔ أَوْ كَصَيِّبٍ مِنَ السَّمَاءِ........ إِنَّ اللَّهَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ” یا پھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے ، اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ۔ یہ بجلی کے کڑاکے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں انگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لئے ہوئے ہے ۔ چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی ان کی بصارت لے جائے ۔ جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ…
Read the full tafseer →1 حاصل یہ ہے کہ منافقین اپنی ضلالت اور ظلماتی خیال میں مبتلا ہیں لیکن جب غلبہ نور اسلام اور ظہور معجزات قویہ دیکھتے ہیں اور تاکید و تہدید شرعی سنتے ہیں تو متنبہ ہو کر ظاہر میں صراط مستقیم کی طرف متوجہ ہوجاتے ہیں اور جب کوئی اذیت و مشقت دنیاوی نظر آتی ہے تو کفر پر اڑ جاتے ہیں جیسے شدت باراں اور تاریکی میں بجلی چمکی تو قدم رکھ لیا پھر کھڑے ہوگئے مگر چونکہ اس کو سب کا علم ہے اور اس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں تو ایسے حیلوں اور تدبیروں سے کیا کام نکل سکتا ہے۔
فائدہ : سورۃ کے اول سے یہاں تک تین طرح کے لوگوں کا ذکر فرمایا۔ اول مومنوں کا پھر کافروں کا (جن کے دلوں پر مہر ہے کہ ہرگز ایمان نہ لائیں…
Read the full tafseer →آیت 20 یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ ط
کُلَّمَآ اَضَآءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِ ق
جونہی انہیں ذرا روشنی محسوس ہوتی ہے اور دائیں بائیں کچھ نظر آتا ہے تو کچھ دور چل لیتے ہیں۔
وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْا ط یہ ایک نقشہ کھینچا گیا ہے کہ ایک طرف بارش ہو رہی ہے۔ یعنی قرآن مجید آسمان سے نازل ہو رہا ہے۔ بارش کو قرآن مجید ”مَاءً مُّبَارَکاً“ قرار دیتا ہے اور یہ خود ”کِتَابٌ مُّبَارَکٌ“ ہے۔ لیکن یہ کہ اس کے ساتھ کڑکے ہیں ‘ گرج ہے ‘ کفر سے مقابلہ ہے ‘ کفر کی طرف سے دھمکیاں ہیں ‘ اندیشے اور خطرات ہیں ‘ امتحانات اور آزمائشیں ہیں۔ چناچہ منافقین کا معاملہ یہ ہے کہ ذرا کہیں حالات کچھ بہتر…
Read the full tafseer →25 منافقوں کی مثال (2) :۔ یہ ایک دوسری قسم کے منافقوں کی مثال بیان کی گئی ہے۔ پہلی قسم کے منافق تو وہ تھے جن کے دل میں کفر ہی کفر تھا۔ مگر مفاد پرستی کی خاطر مسلمانوں کے سامنے اسلام کا دعویٰ کرتے تھے، اور یہ دوسری قسم ان منافقوں کی ہے جو شک اور تذبذب کا شکار ہیں۔ اس مثال میں زوردار مینہ سے مراد اسلامی احکامات کا نزول ہے جو پے در پے ہو رہے تھے اور جو جملہ انسانیت کے لیے رحمت ہی رحمت تھے اور اس میں تاریکیوں اور کڑک سے مراد وہ مصائب و مشکلات ہیں جو مسلمانوں کو اقامت دین کے سلسلہ میں پیش آرہی تھیں اور چمک سے مراد وہ کامیابیاں اور کامرانیاں ہیں جو مسلمانوں کو حاصل ہو رہی تھیں۔ اب جب کوئی کڑک کی…
Read the full tafseer →56 (اور ان کی آنکھیں خیرہ ہوکررہ جائیں) تشبیہ مرکب کے سلسلہ میں بیان ہورہا ہے آثار غلبہ اسلام کی قوت وشدت کا، کہ یہ منافقین کی آنکھوں کو خیرہ کردینے کے لیے اور انہیں مرعوب کرنے کے لیے کافی ہے۔ وھذا تمثیل لشدۃ الامر علی المنافقین (کشاف)
57 ۔ یعنی جب اسلام کی مادی فتح مندیاں اور کامیابیاں دیکھتے تو ان منافقین ومذبذبین کے قدم گویا اضطرار اسلام کی طرف بڑھنے لگے ہیں۔ طلب حق تو ان کے دل میں ہوتی ہی نہیں البتہ مرعوبیت کچھ دیر کے لیے آمادہ کردیتی ہے۔ لیکن جب اہل ایمان کو ابتلاء پیش آنے لگتے ہیں تو یہ منافقین ومذبذبین انکار اور بےیقینی کے مقام پر پھر ٹھٹک جاتے ہیں۔ اور اسلام کی طرف ان کے بڑھتے ہوئے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافقین کے دوسرے گروہ کی مثال :
اَوْکَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآءِ فِیْہِ ظُلُمَاتٌ وَّرَعْدٌ وَّبَرْقٌ (الآیۃ) یہ منافقین کے دوسرے گروہ کی مثال ہے یہ وہ طبقہ تھا کہ جو یکسر منکر تو نہ تھا بلکہ آج کل کے انتہائی روشن خیالوں کی طرح ریب و تذبذب کا شکار تھا اسلام کی ظاہری قوت و شوکت اور مادی اقتدار و فتح مندی کو دیکھ کر کبھی چند قدم آگے بڑھتا اور جب مسلسل یہ کامیابی نہ پاتا تو پھر پیچھے ہٹ جاتا منافقوں کے اس طبقہ کی حالت اس بارش کی طرح ہے جو تاریکیوں میں برس رہی ہو جس کی گرج چمک سے ان کے دل ڈر جاتے ہوں کہ خوف و دہشت کے مارے اپنی انگلیوں کو اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں، مگر ان کا یہ خوف اور ان کی…
Read the full tafseer →یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ ( قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے) یہ جملہ مستانفہ یعنی جواب سوال مقدر کا ہے گویا کوئی سائل سوال کرتا ہے کہ جب اس کڑک وغیرہ نے ان کو گھیرا تو ان کی کیا حالت ہوئی ؟ اس سوال کے جواب میں یہ جملہ فرمایا۔ لفظ کاَدَیہ بتانے کے لیے وضع کیا گیا ہے کہ اس کی خبر قریب الوقوع تھی لیکن کسی شرط کے مفقود ہونے یا کسی مانع کے موجود ہونے کی وجہ سے واقع نہیں ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کا دمع اپنی خبر کے خبر محض ہے جملہ انشائیہ نہیں ہے بخلاف عسیٰ کے کہ وہ امیدوار اور انشاء کے لیے موضوع ہے۔ خطف کے معنی جھپٹ کر کسی شے کو لینے کے ہیں۔
کُلَّمَا ( ہر مرتبہ) لفظ کلما تکرار…
Read the full tafseer →(20) جب بجلی کی روشنی ہوتی ہے تو چلنا شروع کردیتے ہیں، اسی طرح جب منافقین ایمان کا اظہار کرتے ہیں تو مومنوں کے درمیان چلنا شروع کردیتے ہیں کیوں کہ ان کا اظہار ایمان بظاہر قبول کرلیا جاتا ہے لیکن جب مرجاتے ہیں تو قبر کے اندھیرے میں پڑے رہتے ہیں۔
اور اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو گرج وچمک سے ان کے کانوں اور نگاہوں کو ختم کردے اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو قرآن کریم کی وعید اور عذاب سے منافقوں اور یہودیوں کی سننے کی قوت اور قرآن حکیم کی وضاحت سے ان کی دیکھنے کی قوت ختم کردے۔
شان نزول : (آیت) ”او کصیب من السمآء فیہ ظلمت“۔ (الخ)
ابن جریر ؒ ، سدی کبیر ؒ ، ابی مالک ؒ ، ابن عباس ؓ ، مرہ ؓ ، ابن مسعود ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
یہ مثال اللہ تعالیٰ نے منافقین کے دوسرے گروہ کی بیان فرمائی ہے، یعنی وہ لوگ جو بظاہر مسلمان تو ہوگئے تھے مگر ضعف ایمان کی وجہ سے ہمیشہ شک اور تذبذب میں مبتلا رہتے تھے، راحت و آرام کی صورت میں مطمئن نظر آتے، جب تکالیف کا سامنا ہوتا تو شک و شبہ میں پڑجاتے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : (وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّعْبُدُ اللّٰهَ عَلٰي حَرْفٍ ۚ فَاِنْ اَصَابَهٗ خَيْرُۨ اطْـمَاَنَّ بِهٖ ۚ وَاِنْ اَصَابَتْهُ فِتْنَةُۨ انْقَلَبَ عَلٰي وَجْهِهٖ ڗ خَسِرَ الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةَ ۭ ذٰلِكَ هُوَ الْخُسْرَانُ الْمُبِيْنُ) [ الحج : 11 ]”اور لوگوں میں سے کوئی وہ ہے جو اللہ کی عبادت ایک کنارے پر کرتا ہے، پھر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 20
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یکاد البرق یخطف ابصارھم، یکاد بمعنی یقارب ہے۔ کہا جاتا ہے : کا دیفعل کذا جب کوئی شخص کام کرنے کے قریب ہو اور کرے نہیں۔ غیر قرآن میں جائز ہے یکاد ان یفعل، جیسا کہ رؤبۃ نے کہا :
قد کا د من طول البلی ان یمصحا
قریب ہے کہ لمبی آزمائش ختم ہوجائے۔
یہ المصح سے مشتق ہے جس کا معنی ہے ختم ہوجانا، مٹ جانا۔ بہتر یہ ہے کہ اس کی خبر بغیر ان کے ہو کیونکہ یہ حال کی مقاربت کے لئے آتا ہے اور ان کلام کو زمانہ مستقبل کی طرف پھیر دیتا ہے اور یہ منافات ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یکاد سنابرقہ یذھب بالابصار۔ (النور)
عرب کلام میں ہے : کا د النمعام یطیر، شتر مرغ اڑنے کے قریب ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، الصابونی نے المأتین میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” مثلہم کمثل الذی استوقدنارا “ اس میں اللہ تعالیٰ نے منافقین کے لیے مثال بیان فرمائی (یہ لوگ) منسوب ہوتے ہیں اسلام کی طرف مسلمانوں سے نکاح کرتے ہیں اور ان کے (مسلمانوں کے مال) وارث بن جاتے ہیں۔ اور ان کو فئی کا مال تقسیم کیا کرتے ہیں۔ جب یہ لوگ مرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ ان سے اسلام والی عزت کو سلب کرلیتا ہے جیسے آگ والا آگ کی روشنی کو ختم کردیتا ہے لفظ آیت ” وترکیم فی ظلمت “ اور ان کو اندھیروں میں چھوڑ دیتا ہے۔ یعنی عذاب میں لفظ آیت ” صم بکم عمی “ یعنی وہ ہدایت کو نہ سنتے ہیں اور نہ…
Read the full tafseer →[ يَكَادُ : قریب ہے کہ ] [ الْبَرْقُ : بجلی کی چمک ] [ يَخْطَفُ : اچک لے ] [ اَبْصَارَھُمْ ۭ : ان کی بصارت کو ] [ كُلَّمَآ : جب کبھی ] [ اَضَاۗءَ لَھُمْ : روشنی ہوتی ہے ان کے لیے ] [ مَّشَوْا فِيْهِ ڎ : وہ لوگ چلتے ہیں اس مین ] [ وَاِذَآ : اور جب کبھی ] [ اَظْلَمَ عَلَيْهِمْ : اندھیرا چھا جاتا ہے ان پر ] [ قَامُوْا ۭ : وہ لوگ کھڑے رہتے ہیں ] [ وَلَوْ شَاۗءَ اللّٰهُ : اور اگر اللہ چاہتا ] [ لَذَھَبَ : تو وہ جاتا ] [ بِسَمْعِهِمْ : ان کی سماعت کے ساتھ ] [ وَاَبْصَارِهِمْ ۭ : اور ان کی بصارت کے ساتھ ] [ اِنَّ اللّٰهَ : بیشک اللہ ] [ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ : ہر چیز پر ] [ قَدِيْرٌ : کامل قدرت رکھنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ان دو آیتوں میں منافقین کی دوسری مثال پیش فرمائی جیسے تیز بارش ہو، اندھیریاں چھائی ہوئی ہوں، گرج بھی ہو اور بجلی کی چمک بھی ہو موت کا سامنا ہو۔ جو لوگ وہاں موجود ہوں کڑک کی آواز سے خوف زدہ ہو رہے ہیں اور ڈر رہے ہیں کہ ابھی موت آجائے گی۔ کڑک کی آواز کی وجہ سے کانوں میں انگلیاں دیئے ہوئے ہیں۔ سخت بجلی ان کی آنکھوں کی روشنی سلب کرنے کو ہے اسی حیرانی اور پریشانی میں کھڑے کھڑے جب ذرا بجلی چمکتی ہے تو اس کی روشنی میں ایک دو قدم چل لیتے ہیں اور جب اندھیرا چھا جاتا ہے تو حیران سرگرداں کھڑے رہ جاتے ہیں۔ منافقوں کی یہی حالت ہے جب غلبہ اسلام کو دیکھتے ہیں اور اس کا نور پھیلتا ہوا نظر آتا ہے تو اس کی طرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافقین کی دوسری مثال
قال تعالیٰ او کصیب من السماء۔۔۔۔ الی۔۔۔ ان اللہ علی کل شیئ قدیر
یا مثال 1 ان منافقین کی گمراہی کو ہدایت کے بدلہ خرید کر خسارہ اٹھانے میں ایسے ہے جیسے آسان سے زوردار پانی پڑ رہا ہو۔ من السماء کا لفظ بڑھانے میں اس طرف اشارہ ہے کہ وہ بارش آسمان کے تمام اطراف اور جوانب کو محیط ہے جس طرح پورے آسمان کو سماء کہتے ہیں اس طرح آسمان کی جانب کو بھی سماء کہتے ہیں۔ نیز من السماء کے لفظ میں ایک یہ بھی اشارہ ہے کہ اس بارش کو کوئی روک نہیں سکتا۔ کس کی مجال ہے کہ آسمان سے آنے والی چیز کو روک سکے۔ اس میں ا ندھیرے اور گرج اور بجلی ہے۔ جو لوگ اس بزارش میں چل رہے ہیں۔ خوف کی وجہ سے ان کی یہ…
Read the full tafseer →ف 43 ۔ لیکن یہ حیلہ انہیں موت سے نہیں بچا سکتا کیونکہ جس کے اختیار میں میں موت وحیات ہے وہ علم وقدرت کے لحاظ سے ان پر حاوی ہے وہ اس کی گرفت سے کبھی آزاد نہیں ہوسکتے۔ اس مثال کا حاصل یہ ہے کہ موسلا دھار بارش ہو رہی ہو۔ چاروں طرف گھٹا ٹوپ اندھیرا چھایا ہوا ہو۔ رعد کی گرجدار آواز بھی سنائی دے رہی ہو اور بجلی چمک رہی ہو تو اس وقت چاہئے تو یہ تھا کہ وہ رعد کی گرجدار آواز کی طرف دھیان دیتے اور سمجھتے کہ مزید بارش ہونے والی ہے اور اولے برسنے والے ہیں اس لیے اپنے بچاؤ کی کوئی صورت تلاش کرتے جب بجلی چمکتی اس وقت اپنے مامن کا راستہ دیکھتے اور جب اندھیرا ہوجاتا اس وقت مامن کی طرف چل پڑتے۔ مگر ان منافقوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
گزشتہ سے پیوستہ : اللہ تعالیٰ نے منافقین کی برائی میں دو مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ پہلی مثال گزشتہ درس میں گزرچکی ہے کہ منافقوں کی مثال اس شخص جیسی ہے جس نے جنگل میں آگ جلائی ہو۔ اور جب اس نے اردگرد کو روشن کردیا ۔ تو اللہ تعالیٰ اس کی روشنی کو لے گیا۔ اور آگ کو بجھا دیا۔ منافقین کو اندھیروں میں چھوڑ دیا کہ وہ کسی چیز کو نہیں دیکھتے وہ بہرے گونگے اور اندھے ہیں پس وہ لوٹ کر نہیں آئیں گے۔
یہ پہلی قسم کے وہ منافق ہیں جو اپنے نفاق میں پختہ ہیں اور جہل مرکب میں مبتلا ہیں ان کی اصلاح کی کوئی امید باقی نہیں رہی۔ کیونکہ وہ غلط بات کو صحیح سمجھ رہے ہیں۔ ایسے لوگ محض چال بازی اور فریب کاری کی بنا پر کلمہ…
Read the full tafseer →يَكَادُ الْبَرْقُ يَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْ 0 ۭ كُلَّمَآ اَضَاۗءَ لَھُمْ مَّشَوْا فِيْہِ 0 ۤۙوَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَيْہِمْ قَامُوْا 0 ۭ وَلَوْ شَاۗءَ اللہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِہِمْ وَاَبْصَارِہِمْ 0 ۭ اِنَّ اللہَ عَلٰي كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ 20 ۧ
كَادَ
ووُضِعَ «كَادَ» لمقاربة الفعل، يقال : كَادَ يفعل : إذا لم يكن قد فعل، وإذا کان معه حرف نفي يكون لما قد وقع، ويكون قریبا من أن لا يكون . نحو قوله تعالی: لَقَدْ كِدْتَ تَرْكَنُ إِلَيْهِمْ شَيْئاً قَلِيلًا[ الإسراء/ 74] ، وَإِنْ كادُوا[ الإسراء/ 73] ، تَكادُ السَّماواتُ
[ مریم/ 90] ، يَكادُ الْبَرْقُ [ البقرة/ 20] ، يَكادُونَ يَسْطُونَ [ الحج/ 72] ،…
Read the full tafseer →ترکیب : یکاد فعل البرق اسم یکاد یخطف ابصارھم جملہ فعلیہ اس کی خبر یہ اپنے اسم اور خبر سے مل کر جملہ مستانفہ ہوا گویا کہ کوئی پوچھتا تھا کہ اس کڑک میں ان کا کیا حال ہے فرمایا کہ گویا بجلی کی چمک سے اندھے ہی ہوجاویں گے۔ کلما کلمہ شرط اضائلہم بمعنی لمع لہم شرط مشوفیہ جملہ جواب شرط فیہ اے فی ضوء البرق یہ جملہ بھی مستانفہ ہے گویا کوئی سوال کرتا تھا کہ اس چمکنے اور تھم جانے میں وہ کیا کرتے ہیں ؟ فرمایا ذرا روشنی ہوئی تو چل پڑے ورنہ وہیں کھڑے رہے۔ اذا کلمہ شرط اظلم علیہم جملہ شرط قاموا جملہ فعلیہ جواب شرط لو حرف شرط شاء فعل اللہ فاعل لذھب الخ جملہ اس کا جواب اور مفعول شاء کا ان یذہب بسمعھم محذوف۔ کس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
اَوْ کَصَیِّبٍ مِّنَ السَّمَآئِ فِیْہِ ظُلُمٰتٌ وَّرَعْدٌ وَّ بَرْقٌ ج یَجْعَلُوْنَ اَصَابِعَھُمْ فِیْٓ اٰذَانِھِمْ مِّنَ الصَّوَاعِقِ حَذَرَ الْمَوْتِ وَاللّٰہُ مُحِیْطٌم بِّالْکٰفِرِیْنَ ۔ یَکَادُ الْبَرْقُ یَخْطَفُ اَبْصَارَھُمْط کُلَّمَآ اَضَآئَ لَھُمْ مَّشَوْا فِیْہِق وَاِذَآ اَظْلَمَ عَلَیْھِمْ قَامُوْاط وَلَوْ شَآئَ اللّٰہُ لَذَھَبَ بِسَمْعِھِمْ وَاَبْصَارِھِمْ ط اِنَّ اللّٰہَ عَلٰی کُلِّ شَیْ ٍء قَدِیْرٌ۔ (البقرۃ : 19 تا 20)
(یا ان کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے بارش ہورہی ہو اس میں تاریکیاں ہوں، کڑک ہو اور چمک ہو۔ وہ ٹھونس رہے ہیں اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں کڑکے کی وجہ سے موت سے ڈر…
Read the full tafseer →منافق کا کردار یہ ہوتا ہے کہ اسلام اور مسلمانوں سے فائدہ حاصل ہونے کی توقع ہو تو منافق مسلمانوں کے ساتھ ہوتا ہے بلکہ مخلص مسلمانوں سے بھی چار قدم آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے لیکن جوں ہی اس کے مفاد کو ٹھیس پہنچنے کا خدشہ ہو تو اس کے قدم جم جاتے ہیں۔ منافقوں کی حرکات اور منافقت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے ان کی سمع و بصر کی حقیقی صلاحیتیں سلب کرلی ہیں۔ اگر ربِّ ذوالجلال چاہے تو ان کے کان اور آنکھوں کی جسمانی صلاحیتوں کو بھی مسخ کر دے کیونکہ قادر مطلق کی طاقت سے کوئی چیز بھی باہر نہیں ہے۔
(عَنْ أَبِيْ مُوْسٰی ؓ عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ مَثَلُ مَابَعَثَنِيَ اللّٰہُ بِہٖ مِنَ الْھُدٰی وَالْعِلْمِ…
Read the full tafseer →سوال : اصابعھم فرمایا انامل نہیں فرمایا۔ حالانکہ یہ پورے ہی کانوں میں رکھے جاتے ہیں۔
جواب : مبالغہ کے لیے بطور وسعت فرما دیا۔ جیسا کہ سورة مائدہ آیت نمبر 38 فَاقْطَعُوْا اَیْدِیَھُمَا۔ میں یَدْ بولا گیا اگرچہ مراد پنجہ ہے گٹے تک۔ اصابع فرمانے میں جو مبالغہ ہے وہ انامل کہنے میں نہیں اور دو انگلیوں کا بھی ذکر نہیں کیا۔ جن سے عمومًا کان بند کیے جاتے ہیں۔ کیونکہ السبابہ یہ السبّ سے فعّالۃ کا وزن ہے (جس کا معنی گالی والی) تو آداب قرآن کا تقاضا یہ ہے کہ اس سے بچا جائے۔ اور مسبّحہ نہیں فرمایا کیونکہ یہ نو ایجاد غیر مشہور لفظ ہے۔
مِّنَ الصَّوَاعِقِ : (کڑک کے سبب) یہ یجعلون کے متعلق ہے یعنی صواعق کی…
Read the full tafseer →تفسیر : (20) (یکاد) قریب ہے کہا جاتا ہے کاد یفعل جب وہ (کام کرنے کے) قریب ہو اور کیا نہ ہو ۔ (آیت)” یخطف ابصارھم “ ان (آنکھوں) کو اچک لے خطف کے معنی تیزی کے ساتھ چھین لینا (کما) کل کا حرف کل مقدار کے لیے ہے جسے ماجزاء کے ساتھ ملایا گیا ، چناچہ حرف برائے تکرار بن گیا اور دونوں کا معنی متی ما یعنی جب بھی ہوگا ۔
(آیت)” اضاء لھم مشوا فیہ واذا اظلم علیھم قاموا “ یعنی حیران کھڑے ہوجاتے ہیں پس اللہ تعالیٰ نے ان کو کفر ونفاق میں ایسی قوم کے ساتھ تشبیہ دی جو جنگل میں اور تاریک رات کی سیاہی اس قوم کو بارش پہنچے جس میں ظلمتیں ہوں اس بارش کا حال یہ کہ چلنے والے کیلئے چلنا ناممکن ہو ، اس بارش میں گرج ہو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
آیت 17 تا 20
یعنی ان کی مثال، جو ان کے احوال کی آئینہ دار ہے، اس شخص کی سی ہے جس نے آگ جلائی ہو۔۔۔ یعنی یہ شخص اندھیرے میں تھا، آگ کی اسے سخت ضرورت تھی اس نے کسی اور سے لے کر آگ روشن کی۔ یہ آگ اس کے پاس تیار اور موجود نہ تھی۔ جب آگ نے اس کے ماحول کو روشن کردیا اور اس نے اس جگہ کو دیکھا جہاں وہ کھڑا تھا، ان خطرات کو دیکھا جنہوں نے اسے گھیر رکھا تھا اور اس امن کو دیکھا (جو اسے اس روشنی کے باعث حاصل ہوا تھا) اس نے اس آگ سے فائدہ اٹھایا اور اس آگ سے اسے اطمینان حاصل ہوا وہ سمجھتا تھا کہ اس آگ پر اسے پوری قدرت حاصل ہے اور اسی خیال میں غلطاں تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس سے روشنی لے کر زائل کردی اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →52 منافقوں کا ایمان وقتی مفادات کے تابع : پس جس طرح بجلی کی چمک سے ملنے والی روشنی میں اندھیروں میں ڈوبے ایسے لوگ کچھ قدم اٹھا کر آگے بڑھ جاتے ہیں اسی طرح ان منافقوں کو جب اسلام کا نام لینے سے کچھ وقتی فوائد اور دنیوی و مادی منافع نظر آتے ہیں، تو یہ اسلام کی طرف بڑھتے اور جھکتے ہیں، اور جب کچھ مشکلات و مصائب کا سامنا ہوجائے، تو بدک جاتے ہیں، حالانکہ مصائب و مشکلات کے اس سلسلے میں بھی مومن صادق کے لئے بڑے فوائد و منافع ہوتے ہیں کہ ابتلاء و آزمائش کی ان بھٹیوں سے گزرنے پر اس کی متاع ایمان میں مزید جلا آتی اور قوت پیدا ہوتی ہے، اور اس میں ایسا نکھار آتا ہے جس کے بعد لذت ایمانی سے شاد کامی میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
منافق کی بےبسی اور تذبذب
تشریح جس طرح پچھلے اسباق میں منافقوں کے بارے میں بڑی وضاحت سے بتایا گیا ہے پھر مثال سے بھی سمجھایا گیا ہے تو اسی سلسلے میں دوسری قسم کے منافقین کی مثال اللہ تعالیٰ دیتا ہے یہ وہ منافقین ہیں جو دل سے مسلمان تو ہوجاتے ہیں لیکن صرف فائدہ دیکھنے کی حد تک جونہی قربانی اور آزمائش کا وقت آتا فوراً کفر کی طرف لوٹ جاتے، بارش کے فوائد سے تو لطف اندوز ہوتے ہیں مگر بادل کی کڑک اور چمک سے آنکھیں بند کرلیتے ہیں اور کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیتے ہیں گویا بجلی کے چمکنے کی طرح جب اسلام کی برکتیں رحمتیں اور روشنی ان پر واضح ہوتی ہے تو مسلمان ہوجاتے ہیں جونہی آزمائش پڑتی ہے تو فوراً کفر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 8–20
آیات 8- 20
اسرارو معارف
یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔
ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…
Read the full tafseer →ف 6 اس آیت میں ان لوگوں کو متنبہ کیا ہے جو اپنی خداد او صلاحیتوں کو سلب کرلے اور تم اندھے گونگے اور بہرے بن کر وہ جاؤ۔ (جامع البیان )
Read the full tafseer →یکاد البرق۔ یکاد۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ قریب ہے کاد۔ یکاد۔ کود۔ مصدر (باب سمع) افعال مقاربہ میں سے ہے۔ اگرچہ یہ فعل تامہ ہے۔ لیکن استعمال میں اس کے بعد کوئی دوسرا فعل ضرور ہوتا ہے۔ جس کے واقع ہونے کے قرب کو کاد سے ظاہر کیا جاتا ہے جیسے آیت ہذا میں : یکاد البرق یخطف ابصارھم قریب ہے کہ بجلی ان کی آنکھوں کو اچک لے۔ نیز ملاحظہ ہو (2:71) ۔
یخطف۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ خطف مصدر (باب سمع) اچک لے۔ جھپٹ لے جائے، باز مخطف۔ باز جو اپنے شکار پر جھپٹتا ہے۔
یکاد البرق یخطف ابصارھم ۔ جملہ مستانفہ ہے۔ گویا کہ کوئی پوچھتا تھا کہ اس کڑک میں ان کا کیا حال ہے۔ فرمایا کہ گویا بجلی کی چمک سے وہ اندھے ہی ہوجاویں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
لغات القرآن : آیت نمبر 19 تا 20
(او): یا ۔ (ک): جیسا ، جیسی (حرف تشبیہ) ۔ (صیب): بارش، تیز بارش ، زوردار بارش۔ (السماء) : آسمان۔ بلندی، اونچی جگہ (اس کی جمع السموات آتی ہے) ۔ (رعد): کڑک، زور دار آواز۔ (برق) : بجلی۔ (اصابع ) : انگلیاں (اصبع کی جمع) ۔ (اذان ): کان (اذن کی جمع ہے ) ۔ (الصواعق): کڑک (الصاعقہ کی جمع ہے ، تیز آواز، کڑک) ۔ (حذر الموت): موت کا ڈر اور خوف۔ (محیط): گھیرنے والا۔ (یکاد): قریب ہے ۔ (یخطف): وہ اچک لیتا ہے، وہ چھین کرلے جائے گا۔ (مشوا): وہ چلے۔ (قاموا) : وہ کھڑے ہوئے ، وہ کھڑے رہ گئے۔ (اظلم): اندھیرا ہوگیا (اندھیرا چھا جانا) ۔ (شاء): اس نے چاہا۔ (قدیر): قدرت رکھنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
فرشتہ رعد اور منافقوں کا ذکر
آنحضرت ﷺ کے مدینہ میں آنے کے وقت پہلے پہل ان لوگوں نے کچھ نور ایمان کما لیا تھا، پھر نفاق کے سبب سے اسی کفر کی تاریکی میں یہ لوگ پھنس گئے۔ دوسری مثال کی مطابقت صحابہ نے منافقوں کے حال سے اس طرح بیان کی ہے کہ بجلی کی آناً فاناً چمک کی طرح مسلمانوں کے دباؤ سے کبھی ان لوگوں میں ایمان کی عارضی جھلک آجاتی ہے، اور جس طرح کڑک کی آواز کے ڈر سے کوئی شخص کانوں میں انگلیاں دے کر اپنا ڈر رفع کرلیتا ہے۔ اسی طرح عارضی ایمان جھلک سے مسلمانوں کے ہاتھ سے ان کی جان و مال کی خیر ہوجاتی ہے لیکن اس عارضی ایمان سے کیا ہوتا ہے۔ ان کے دلوں پر تو وہی کفر و نفاق کی گھٹا چھائی ہوئی ہے جس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 20–21
[16] پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو اسلام کے قطعی منکر تھے۔ اور کسی فائدے کی خاطر مسلمان بن گئے تھے۔ اور دوسری مثال ان منافقین کی ہے جو شک اور تذبذب میں مبتلا تھے۔ کچھ حق کے قائل بھی تھے مگر ایسے بھی نہیں کہ اس کی خاطر تکلیف اٹھائیں اور مصیبت برداشت کریں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے یہ منافقین جب اسلام کی مادی کامیابیاں دیکھتے ہیں تو ان کے قدم اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور جب مشکلات کے بادل چھا جاتے ہیں تو یہ ٹھٹھک کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔
[17] یعنی اللہ اگر چاہتا تو ان کی بینائی سلب کرلیتا جس طرح پہلی قسم کے منافقین کی بصارت اس نے سلب کرلی۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ جو کسی حد تک دیکھنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 18–20
(ف 1) پہلی مثال تو کفر کے تحیر کی تھی ، اس مثال میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ یہ لوگ بہرحال مطلب کے پورے ہیں ۔ جب اسلام لانے سے کچھ مطلب براری ہوتی ہے تو پھر انہیں بھی اعلان کرنے میں دریغ نہیں ہوتا اور جب آزمائش وابتلا کا وقت ہو تو صاف انکار کردیتے ہیں یعنی جہاں ان کا ذاتی مفاد روشن طور پر نظر آرہا ہو ، مسلمانوں کا ساتھ دیتے ہیں اور جہاں مشکلات کی تاریکی نظر آئی ، رک گئے ، انہیں تنبیہہ فرمائی کہ ایسا نہ کرو ، ورنہ اللہ کا عذاب آجائے گا اور پھر تم میں یہ استعداد بھی باقی نہ رہے گی ،
دعوت عبادت واتقاء :
قرآن نے ساری کائنات کو دعوت دی ہے کہ وہ رب خالق کی عبادت کرے اور اس طرح تمام انسانوں کو ایک مرکز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 19–20
ف 1۔ یا ان منافقوں کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے زور کا مینہ پڑ رہا ہو اس میں مختلف قسم کی تاریکیاں اور اندھیرے ہوں اور سخت کڑک چمک بھی ہو رہی ہو اس زور کی بارش میں جو لوگ چل رہے ہوں ان کی حالت یہ ہو کہ وہ کڑک کی آواز سے اپنی انگلیاں موت کے خوف سے اپنے کانوں میں گھسائے لیتے ہوں اور اللہ تعالیٰ نے کافروں کو ہر طرف سے اپنے علم وقدرت کے احاطہ میں لے رکھا ہے بجلی کی چمک کا یہ عالم ہے کہ وہ ان کی بصارت کو اور بینائی کو اچکے لیتی ہے جہاں ذرا بجلی نے چمک کر ان پر روشنی کردی تو اس روشنی میں چلنے لگے اور جب ان پر اندھیرا ہوگیا تو کھڑے رہ گئے اور اگر اللہ تعالیٰ ان کے کانوں اور ان کی آنکھوں کو سلب کرنا…
Read the full tafseer →ف 2۔ متردد و منافقین آثار غلبہ اسلام میں کبھی نور اسلام کی جھلک دیکھ کر ادھر کو بڑھنے لگتے ہیں کہ اور کبھی خود غرضی کی ظلمت میں پڑ کر پھر حق سے رک جاتے ہیں۔
Read the full tafseer →خلاصۃ الکلام :
42: منافقین کا پہلا گروہ تو ایڑی سے چوٹی تک اسلام کا شدید دشمن ہے۔ اس سے کسی خیر و صلاحیت کی توقع رکھنا ہی فضول ہے البتہ دوسری قسم کے لوگ جن کی مثال ” اَوْ کَصَیِّبٍ “ سے دی گئی ہے ایسے ہیں کہ ان کی رکاوٹوں کو دور کیا جائے ، رشد و ہدایت ان کے سامنے ہو تو ممکن ہے ترغیب و ترہیب سے وہ اپنے اندر عبرت و مؤعظت پیدا کریں اور سچے دل سے دائرہ اسلام میں داخل ہوجائیں۔ یہی وجہ ہے کہ اب آنے والی آیات میں ان کی جانب توجہ کی جاتی ہے اور تذکیر بآلاء اللہ کے ذریعہ ان کے لئے تنبیہ اور عبرت کی راہ کھولی جاتی ہے اور یہ بات اس مضمون سے خود بخود نکل آتی ہے جو اللہ تعالیٰ نے بیان فرمایا ہے کہ : ” اگر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 17–20
The last four verses bring out the miserable plight of the hypocrites with the help of two extended similes. The choice of two examples is meant to divide the hypocrites into two kinds of men. On the one hand were those in whom disbelief had taken deep roots, so that they had little inclination towards Islam, but pretended to be Muslims for worldly motives - the Holy Qur'an compares them to the man who, having found light, again loses it, and is left in darkness. On the other hand were those who did recognize the truth of Islam, and sometimes wished to be genuine Muslims, but worldly…
Read the full tafseer →19. The first parable refers to those hypocrites who disbelieved completely but had become Muslims merely, to further their worldly interests. The second parable refers to those who were prone to doubt and hesitation or whose faith was weak; who believed in the Truth but not to the extent of exposing themselves to hardships for its sake. The 'violent rainstorm' here alludes to Islam, which came to the world as a blessing. 'Pitch-dark clouds, thunder and lightning' refer to trials, tribulations and difficulties which confronted the Islamic movement, owing to the violent opposition and…
Read the full tafseer →