Al-Baqara 2:21

Al-Baqara · from ayah 21

2:21

یٰۤاَیُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِیْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۟ۙيٰۤاَيُّهَا النَّاسُ اعۡبُدُوۡا رَبَّكُمُ الَّذِىۡ خَلَقَكُمۡ وَالَّذِيۡنَ مِنۡ قَبۡلِكُمۡ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ ۙ ‏

لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

— Fateh Muhammad Jalandhari

O mankind, worship your Lord, who created you and those before you, that you may become righteous -

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 3 of surah · Ruku 3 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:21

لوگو! بندگی اختیار کرو اپنے اُس رب کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع اِسی صورت ہوسکتی ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

لوگو! اپنے پروردگار کی عبات کرو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم (اس کے عذاب سے) بچو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اے لوگو! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا، یہی تمہارا بچاؤ ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اے لوگو اپنے اس پروردگار کی عبادت کرو جس نے تمہیں اور ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزرے ہیں تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اے لوگو! اپنے رب کو پوجو جس نے تمہیں اور تم سے اگلوں کو پیدا کیا، یہ امید کرتے ہوئے، کہ تمہیں پرہیزگاری ملے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اے لوگو! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو (بھی) جو تم سے پیشتر تھے تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اے لوگو ! اپنے رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اے لوگو ! اپنے اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں بھی پیدا کیا ہے اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی (اور اس کی عبادت اس لیے کرو) کہ تم پرہیزگار بن سکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اے لوگو، بندگی کرو اپنے اس خدا کی جس نے تم کو بھی پیدا کیا اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزرے ہیں، تاکہ دوزخ کی آگ سے محفوظ رہو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اے لوگوں بندگی کرو تم سب اپنے اس رب (وحدہ لاشریک) کی جس نے پیدا فرمایا تم سب کو بھی (اپنی قدرت بےنہایت اور رحمت بےغایت سے) اور ان کو بھی جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں تاکہ تم پرہیزگار بن سکو،

— مولانا اسحاق مدنی

اے انسانو !۔ عبادت (اختیار) کرو اپنے پروردگار کی۔ جس نے تمہیں پیدا کیا۔ اور تم سے قبل والوں کو (بھی)۔ عجب نہیں کہ تم پرہیز گا بن جاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اے لوگو ! بندگی اختیار کرو اپنے اس ربّ (مالک) کی جس نے تم کو پیدا کیا اور تم سے پہلے جتنے لوگ گزرے ہیں (انہیں بھی پیدا کیا) تاکہ تم بچ سکو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اے لوگو ! بندگی اختیار کرو اپنے اس رب کی جس نے تمہیں اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں ان سب کو پیدا کیا ہے تاکہ تم پرہیزگاربن جاؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

O Mankind, submit to your Lord Who created you and those who were before you; in this way only you may expect to save yourselves.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

O people, worship your Lord who created you and those before you, so that you may become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

O people, worship your Lord who created you and those before you, so that you may become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

O mankind! Worship your Lord (Allah), Who created you and those who were before you so that you may acquire Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

O mankind! worship your Lord, Who hath created you and those before you, so that ye may ward off (evil).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

O mankind, worship your Lord, who created you and those before you, that you may become righteous -

— Saheeh International

People, worship your Lord who created you and those who lived before you, so that you may become pious.

— Muhammad Sarwar

O men! serve your Lord Who created you and those before you so that you may guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

O Mankind worship your Lord who hath created you and those before you, haply ye may become God-fearing-

— Abdul Majid Daryabadi

O ye people! Adore your Guardian-Lord, who created you and those who came before you, that ye may have the chance to learn righteousness;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:21

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 21–22

تعارف اللہ بزبان اللہ یہاں سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت کا بیان شروع ہوتا ہے وہی اپنے بندوں کو عدم سے وجود میں لایا، اسی نے ہر طرح کی ظاہری و باطنی نعمتیں عطا فرمائیں، اسی نے زمین کو فرش بنایا اور اس میں مضبوط پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں اور آسمان کو چھت بنایا۔ جیسے کہ دوسری آیت میں آیا کہ آیت (وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ښ وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ) 21۔ الانبیآء :32) یعنی آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس کے باوجود وہ نشانیوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، آسمان سے پانی اتارنے کا مطلب بادل نازل فرمانا ہے۔ اس وقت جبکہ لوگ اس کے پورے محتاج ہوں۔ پھر اس پانی سے طرح طرح کے پھل…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 21–22

سورة الْبَقَرَة 21 اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے، مگر اس دعوت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے۔ لہٰذا پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کردیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اٹھا سکتے۔ اس کے بعد اب تمام نوع انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے، جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے۔ سورة الْبَقَرَة 22 یعنی دنیا میں غلط بینی و غلط کاری سے اور آخرت میں خدا کے عذاب سے بچنے کی توقع۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اے لوگو ! عبادت اختیار کرو اپنے پروردگار کی جس نے تم کو پیدا کیا اور ان لوگوں کو بھی جو تم سے پہلے گذر چکے ہیں عجب نہیں کہ تم دوزخ سے بچ جاؤ (شاہی محاورہ میں عجب نہیں کا لفظ وعدہ کے موقع پر بولا جاتا ہے) وہ ذات پاک ایسی ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر (پردہ عدم سے) نکالا بذریعہ اس پانی کے پھلوں سے غذا کو تم لوگوں کے واسطے اب ٹھراؤ اللہ پاک کے مقابل اور تم تو جانتے بوجھتے ہو، (یعنی یہ جانتے ہو کہ یہ تمام تصرّفات خدا تعالیٰ کے سوا کوئی کرنے والا نہیں پھر خدا کے مقابلہ میں دوسری چیزوں کو معبود بنانا کیسے درست ہوسکتا ہے) معارف و…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

’ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ‘ کا خطاب مشرکین سے: ’ٰٓیاَیُّھَا النَّاسُ‘ سے خطاب اگرچہ بظاہر عام ہے لیکن یہاں مخاطب ، جیسا کہ اوپر گزرا ، خاص طور پر مشرکین عرب ہیں۔ اس خطاب کو مشرکین کے ساتھ مخصوص ماننے کی وجہ ہمارے نزدیک یہ ہے کہ اس کے بعد جو بات کہی گئی ہے، جو طرزِ استدلال اختیار کیا گیا ہے اور مخاطب سے جو مطالبہ کیا گیا ہے، ہر چیز اس بات کی شہادت دیتی ہے کہ یہاں خطاب کا اصلی رخ مشرکین ہی کی طرف ہے۔ یہود کے ذکر کے بیچ میں یہ خطاب بطور ایک امانت کے آ گیا ہے۔ اُعْبُدُوْا رَبَّکُمُ: لفظ عبادت کی تحقیق سورۂ فاتحہ کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ یہاں ’اُعْبُدُوْا رَبَّکُمُ‘ سے مقصود مشرکین کو صرف خدا کی بندگی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 20–21

1 یہ منافقین کے ایک دوسرے گروہ کا ذکر ہے۔ جس پر کبھی حق واضح ہوتا ہے اور کبھی اس کی بابت وہ شبہ و شک میں مبتلا ہوجاتے ہیں۔ پس ان کے دل میں شک و شبہ اس بارش کی طرح ہے جو اندھیروں شکوک کفر اور نفاق میں اترتی ہے گرج چمک سے ان کے دل ڈر ڈر جاتے ہیں حتٰی کے خوف کے مارے اپنی انگلیاں اپنے کانوں میں ٹھونس لیتے ہیں۔ لیکن یہ تدبیریں اور یہ خوف و دہشت انہیں اللہ کی گرفت سے نہیں بچا سکے گا کیونکہ وہ اللہ کے گھیرے سے نہیں نکل سکتے۔ کبھی حق کی کرنیں ان پر پڑتی ہیں تو حق کی طرف جھک پڑتے ہیں لیکن پھر جب اسلام یا مسلمان پر مشکلات کا دور آتا ہے تو پھر حیران و سرگردان کھڑے ہوجاتے ہیں۔ (ابن کثیر) منافقین کا یہ…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 19–21

16 منافقوں کی پہلی مثال تو ان منافقین سے متعلق تھی جو اسلام کے واضح دلائل سامنے آنے کے باوجود خوب سوچ سمجھ کر کفر اور نفاق کا راستہ اختیار کئے ہوئے تھے، اب منافقین کے اس گروہ کی مثال دی جارہی ہے جو اسلام لانے کے بارے میں تذبذب کا شکار تھا، جب اسلام کی حقانیت کے دلائل سامنے آئے تو ان کے دل میں اسلام کی طرف جھکاؤ پیدا ہوتا اور وہ اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ؛ لیکن جب اسلامی احکام کی ذمہ داریاں اور حلال و حرام کی باتیں سامنے آتیں تو وہ اپنی خود غرضی کی وجہ سے رک جاتے، یہاں اسلام کو ایک برستی ہوئی بارش سے تشبیہ دی گئی ہے اور اس میں کفر وشرک کی خرابیوں کا جو بیان ہے اسے اندھیریوں سے اور اس میں کفر…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

مذکورہ بالا تین قسم کے لوگوں کی تصویر کشی کے بعد سیاق کلام اب پوری انسانیت کو دعوت دینے کی طرف مڑجاتا ہے ۔ پوری انسانیت سے کہا جاتا ہے کہ وہ ان تین تصاویر میں سے سیدھی اور شریفانہ ، پاک وخالص ، سرگرم عمل اور نفع بخش اور ہدایت یافتہ اور کامیاب تصویر یعنی متقین کی تصویر کو اختیار کرے ۔ چناچہ کہا جاتا ہے : يَا أَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوا رَبَّكُمُ الَّذِي خَلَقَكُمْ وَالَّذِينَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ (21) الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 21–22

2 اب سب بندوں کو مومن ہوں یا کافر یا منافق خطاب فرما کر توحید جناب باری تعالیٰ سمجھائی جاتی ہے جو ایمان کے لئے اصل الاصول ہے خلاصہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو پیدا کیا اور تمہاری ضروریات اور کل منافع کو بنایا۔ پھر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود بنانا جو تم کو نہ نفع پہنچا سکے نہ مضرت (جیسے بت) کس قدر حماقت اور جہالت ہے حالانکہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس جیسا کوئی نہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

سورة البقرۃ کے تیسرے رکوع میں قرآن کی دعوت کا خلاصہ آگیا ہے کہ قرآن اپنے مخاطب کو کیا ماننے کی دعوت دیتا ہے اور اس کی پکار کیا ہے۔ جیسا کہ میں عرض کرچکا ہوں ‘ سورة البقرۃ کے نزول سے قبل دو تہائی قرآن نازل ہوچکا تھا۔ ترتیب مصحف کے اعتبار سے وہ قرآن بعد میں آئے گا ‘ لیکن ترتیب نزولی کے اعتبار سے وہ پس منظر میں موجود ہے۔ لہٰذا سورة البقرۃ کے پہلے دو ‘ رکوعوں میں مکی قرآن کے مباحث کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے اور تیسرے رکوع میں قرآن مجید کی دعوت کا خلاصہ اور لب لبابّ آگیا ہے ‘ جبکہ قرآن مجید کا فلسفہ اور بعض نہایت اہم موضوعات و مسائل کا خلاصہ چوتھے رکوع میں بیان ہوا ہے۔ اب ہم تیسرے رکوع کا مطالعہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 21–22

26 دلائل توحید :۔ مدینہ میں موجود تین طرح کے لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے مشترکہ خطاب فرما کر انہیں اسلام کی بنیادی دعوت کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ خوب جانتے ہو کہ اللہ ہی نے تمہیں بھی اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا۔ پھر تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو محفوظ چھت بنادیا کہ کوئی سیارہ اوپر سے گر کر زمین کو تہس نہس نہیں کردیتا۔ پھر تمہاری تمام ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور گاہے گاہے آسمان سے بارش برسا کر تمہارے کھانے پینے کی چیزیں اور پھل وغیرہ بھی وہی تمہیں مہیا کرتا ہے، تو پھر تمہیں عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہیے اور کسی دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

60 ۔ قرآن مجید کا مخاطب سارا عالم انسانیت ہے۔ کوئی مخصوص نسل مثلا بنی اسرائیل اور کوئی مخصوص قوم مثلا اہل عرب نہیں۔ خطاب لجمیع من یعقل (بحر) یہ طرز خطاب خود ایک دلیل ہے تخاطب کے عام ہونے پر۔ پچھلے دو رکوعوں میں موجودات انسانی کی سہ گانہ تقسیم از روئے اعتقاد بیان ہوچکی ہے۔ یعنی مومن، کافر، منافق، اب خطاب سارے عالم انسانی کو مجموعی طور پر شروع ہورہا ہے۔ 61 ۔ قرآن مجید کے اصل پیام کا آغاز گویا اب ہورہا ہے۔ اور اس کا عنوان اول ہے مسئلہ تو حید، کہ وہی اصل و اساس ہے سارے عقائد ومسائل اسلامی کی۔ 62 (تن تنہا، بلاکسی کی شرکت واعانت کے) عمل تخلیق خالص خدائی عمل ہے۔ ہمسر و مساوی ہونا تو خیر الگ رہا،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 21 ترجمہ : اے لوگو (یعنی) اے مکہ کے رہنے والو، اپنے اس رب کی بندگی کرو یعنی اس کی توحید کا اقرار کرو جس نے تم کو پید کیا، حال یہ کہ تم کوئی (قابل ذکر) شئ نہ تھے اور تم سے پہلے کے لوگوں کو پیدا کیا تاکہ تم اس کی عبادت کے ذریعہ اس کے عذاب سے محفوظ رہو اور لَعَلَّ دراصل ترجی کے لئے ہے اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں تحقیق کے لئے ہے، جس نے تمہارے لئے زمین کو فرش بنایا، (فِراشًا) حال ہے (یعنی) ایسا بچھونا جس کو بچھایا جائے، جو نہ نہایت سخت ہے اور نہ نہایت نرم کہ اس پر قرار ہی ممکن نہ ہو اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی برسایا، جس کے ذریعہ تمہاری غذا کے لئے مختلف قسم کے پھل پیدا کئے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

یَآاَیُّھَاالنَّاسُ (اے لوگو) یہ خطاب سب آدمیوں کو ہے جو قابل خطاب ہوں (یعنی مکلف) خواہ وہ خطاب کے وقت موجود ہوں یا بعد میں موجود ہونے والے ہوں کیونکہ جناب رسول اللہ ﷺ کی شریعت مطہرہ عہد رسالت میں موجود لوگوں کو اور ان سب لوگوں کو جو قیامت تک ہونگے شامل ہے اسی طرح جو جمع و اسم جمع معرف باللام ہو وہ عموم پر دلالت کیا کرتی ہے۔ نیز صحابہ ؓ نے بھی اس آیۃ کے عموم سے استدلال کیا ہے۔ حضرت ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ قرآن مجید میں جہاں کہیں بھی یآ ایُّھَا النَّاس کرکے خطاب فرمایا گیا ہے۔ اس سے مراد اہل مکہ ہیں اور جہاں یٰآ اَیُّھَا الَّذِیْن آمَنُوْا سے یاد فرمایا گیا ہے۔ وہاں اہل مدینہ اس لیے کہ مکہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(21) اس سے اہل مکہ اور یہودی بھی مراد ہیں، اپنے اس رب کی توحید بیان کرو جس نے تمہیں نطفہ سے پیدا کیا اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا تاکہ تم اللہ تعالیٰ کے غصہ اور عذاب سے بچ جاؤ۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس سے پہلی آیت تک تو تمہید تھی کہ قرآن جو ہدایت کا اصلی سر چشمہ ہے اسے ماننے اور نہ ماننے کے اعتبار سے لوگ تین قسم کے ہیں، اب آگے براہ راست خطاب کے ساتھ تمام لوگوں کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جا رہی ہے جو اس کتاب کی دعوت کا حقیقی مقصد ہے، جس کے لیے کتابیں اتاری گئیں اور انبیاء بھیجے گئے وہ ہے دعوت توحید یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی عبادت اور دعا میں کسی کو شریک نہ کرنا۔ طبری نے ابن عباس ؓ سے (اعْبُدُوْا) کا معنی بیان کیا ہے : ”اَیْ وَحِّدُوْا رَبَّکُمْ“ یعنی اپنے رب کو ایک مانو۔ 3 توحید کے لیے پہلی دلیل یہ بیان فرمائی کہ میں تمہارا رب ہوں جو تمہاری پرورش کر رہا ہے اور تمہاری ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 21 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : یایھا الناس اعبدوا ربکم علقمہ اور مجاہد نے کہا : ہر وہ آیت جس کی ابتدا میں یا یھا الناس ہے وہ مکہ میں نازل ہوئی ہے۔ اور ہر آیت جس کی ابتدا میں یایھا الذین امنوا ہے وہ مدینہ میں نازل ہوئی ہے۔ میں کہتا ہوں : اس قول کا رداس سے ہوجاتا ہے کہ یہ سورة اور سورة نساء مدنی ہیں۔ ان میں یایھا الناس آیا ہے۔ رہا یہ کہ یایھا الذین امنوا جس سورت میں ہے وہ مدنی ہے۔ یہ قول صحیح ہے۔ عروہ بن زبیر نے کہا : ہر حد اور ہر فرض مدینہ طیبہ میں نازل ہوا اور جہاں امم اور عذاب کا ذکر ہے وہ مکہ میں نازل ہوا۔ یہ واضح ہے۔ “ یا ” یایھا میں حرف ندا ہے۔ ای منادیٰ مفرد مبنی بر ضمہ ہے۔ کیونکہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام بزار، حاکم، ابن مردویہ اور بیہقی نے دلائل میں حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ مدینہ منورہ میں نازل ہوئی اور ” یایھا الناس “ مکہ مکرمہ میں اتاری گئی۔ (2) ابن ابی شیبہ نے المصنف میں عبد بن حمید طبرانی نے الاوسط میں اور حاکم نے ابن مسعود سے روایت کیا ہے اور حاکم نے اس کو صحیح بھی کہا ہے کہ ہم نے مفصل (سورتیں) پڑھیں اور ہم مکہ مکرمہ میں حج کر رہے تھے۔ اس میں لفظ آیت ” یایھا الذین امنوا “ نہیں تھا۔ (3) ابو عبید، ابن ابی شیبہ، عبد بن حمید، ابن الضریس، ابن المنذر اور ابو الشیخ نے اپنی تفسیر میں حضرت علقمہ سے روایت کیا ہے کہ ہر چیز قرآن میں (جہاں) لفظ آیت ”…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ : اے لوگو ] [ اعْبُدُوْا : تم لوگ بندگی کرو ] [ رَبَّكُمُ : اپنے رب کی ] [ الَّذِىْ : جس نے ] [ خَلَقَكُمْ : پیدا کیا تم لوگوں کو ] [ وَالَّذِيْنَ : اور ان لوگوں کو جو ] [ مِنْ قَبْلِكُمْ : تم سے پہلے تھے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : تقویٰ اختیار کرو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

دعوت توحید اور دلائل توحید مومنین مخلصین اور کافرین اور منافقین کا ذکر کرنے کے بعد اب دلائل کے ساتھ توحید کی دعوت دی گئی اور اللہ جل شانہٗ کی شان خالقیت اور شان ربوبیت بیان فرمائی اور اللہ تعالیٰ کی قدرت اور نعمت کا تذکرہ فرمایا جس کا مظاہرہ سب کے سامنے ہے اور ایک کم سمجھ آدمی بھی اس کو دیکھتا ہے۔ (اوّل): تو یہ فرمایا کہ تم اپنے رب کی عبادت کرو جو تمہاری پرورش فرماتا ہے اور یہی نہیں کہ صرف پرورش فرماتا ہے بلکہ اس نے تم کو وجود بھی بخشا ہے، ممکن ہے کوئی ناسمجھ یہ کہنے لگتا کہ مجھے تو میرے ماں باپ نے پیدا کیا، اس وہم کو دفع فرمانے کے لیے فوراً ہی یہ بھی فرمایا کہ جو لوگ تم سے پہلے ہیں ان سب کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

تعلیم توحید قال تعالیٰ یا ایہا الناس اعبدوا ربکم الذی۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم تعلمون۔ (ربط): یہاں تک مومنین اور کافرین اور منافقین کے احوال علیحدہ علیحدہ بیان فرمائے اب اس آیت میں علی العموم سب کو خطاب فرماتے ہیں۔ نیز وہ ہدایت جس کے لیے یہ کتاب نازل کی گئی وہ دو اصولوں پر منقسم ہے ایک توحید اور دوسرے رسالت۔ اس لیے اول توحید اور عبادت کا مضمون ارشاد فرماتے ہیں جو تقویٰ اور پرہیزگاری کی جڑ ہے۔ یعنی یہ کتاب متقین کی ہدایت کے لیے نازل کی گئی ہے۔ لیکن تقویٰ کے حاصل کرنیکا طریقہ یہ ہے کہ صرف خدائے وحدہ لا شریک لہ کی عبادت کرو اسی وجہ سے یا ایہا الناس اعبدوا کے بعد لعلکم تتقون۔ فرمایا خلاصہ یہ کہ شروع سورت…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

یہاں تک تمہید تھی جس میں ہدایت کے اصل سرچشمہ کی نشان دہی کی گئی اور ماننے والوں اور نہ ماننے والوں کے اوصاف اور ان کے انجام کا ذکر تھا۔ اب اگلی آیت سے دعوی توحید پیش کیا جا رہا ہے۔ دعوی توحید 47 ۔ تمہید میں تین جماعتوں یعنی مومنین، کفار اور منافقین کے اوصاف اور ان کی جزا وسزا بیان کرنے کے بعد اب یہاں ان سب کو مخاطب کر کے ان کے سامنے دعوت توحید بیان کی ہے۔ اس سورت میں دعویٰ توحید کو تین بار دہرایا گیا ہے جیسا کہ تفصیلاً پہلے گزر چکا ہے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ پہلی يٰٓاَيُّهَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ (رکوع 3) میں دعوی توحید کا ذکر فرمایا۔ اس کے بعد وَاِلٰھُکُمْ اِلٰہٌ وَّاحِدٌالخ (رکوع 19)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 21–22

گزشتہ سے پیوستہ : دوسرے رکوع کے اختتام تک اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے انسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة بقرہ کی ابتدائی چار آیتوں میں ایمان والوں کا ذکر کیا ہے اور ا ن کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ اگلی دو آیتوں میں ظاہراً اور باطناً انکار کرنے والے کفار کا حال اور ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد تیرہ آیات میں منافقین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان کی چال بازی ، دھوکا بازی ، فریب کاری ، ریشہ دوانی ، ظاہرو باطن میں تفاوت ، فساد فی الارض اور غلط عقیدے کا رد ہے۔ پھر اس کی وضاحت دو مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے۔ ایک آگ کی مثال اور دوسری پانی کی۔ منافقین کا انجام بھی بیان ہوا ہے اور تنبیہ بھی کی گئی…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 3 يٰٓاَيُّہَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّكُمُ الَّذِىْ خَلَقَكُمْ وَالَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ 21 ۙ نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : یا حرف ندا ایہا الناس منادیٰ اعبدوا فعل بافاعل ربکم اس کا مفعول موصوف ‘ الذی موصول ‘ خلقکم صلہ جملہ فعلیہ معطوف علیہ و الذین من قبلکم ای والذین خلقہم من قبل خلقکم صلہ موصول جملہ ہو کر معطوف ہوا معطوف علیہ اور معطوف مل کر دونوں صفت ہوئے ربکم کی۔ لعل مشبہ بفعل کم اسم تتقون جملہ اس کی خبر الذی موصول جعل فعل بافاعل لکم متعلق بجعل الارض مفعول اول فراشا مفعول ثانی۔ واؤ حرف عطف السماء معطوف برالارض یعنی جعل السماء بناء مفعول ثانی یہ سب جملہ صلہ ھوا الذی کا وانزل فعل بافاعل من السماء من ابتدائیہ متعلق ہے انزل سے مائً مفعول انزل کا فاخرج فعل بافاعل بہ ای بالماء متعلق ہے اخرج کے من الثمرات میں…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 21–22

یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَائً ص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰاتِ رِزْقًالَّـکُمْج فلَاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًوَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔ (اے لوگو ! بندگی کرو اپنے رب کی، جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی۔ پھر نکالے اس سے پھل تمہارے کھانے کے لیے، پس نہ ٹھہرائو کسی کو اللہ کا مقابل اور تم جانتے…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ایمانداروں، کفار اور منافقین کے ذکر کے بعد توحید اور عبادت کا بیان ہوتا ہے۔ قرآن مجید کا مرکزی پیغام ” اللہ “ کی توحید اور اس کی ربوبیت کا اقرار ہے جس کا منطقی نتیجہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا ہے۔ اکثر مفسرین نے عبادت کا معنی تذلّل یعنی نہایت عاجزی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی پرستش کرنا بیان کیا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ عبادت میں عاجزی اور انتہا درجے کی انکساری ضروری ہے کہ آدمی اللہ کے حضور قیام کرے تو نا صرف زبان سے اقرار کرنے کے ساتھ اس کا پورا جسم خاموش گواہی دے کہ میرے جسم کا ایک ایک ریشہ تیرے حضور عاجز و بےبس ہے۔ جبین نیاز جھکائے تو اپنے آپ کو عجز و انکساری کی انتہا تک…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 21–22

سابقہ سے ربط : ربط : جب اللہ تعالیٰ نے مکلفین کی تین جماعتوں مؤمن، کفار اور منافقین کا ذکر اور ان کی صفات حالات خصوصیات جن سے وہ سعادت مندوبد بخت اور مردود، مقبول ہوتے ہیں بیان کردیں۔ تو یہاں سے ان کو مخاطب فرمایا۔ یہ التفات کی قسم میں ہے۔ پس فرمایا۔ خطابِ عام : یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ : (اے لوگو) حضرت علقمہ نے فرمایا قرآن میں یایھا الناس سے خطاب اہل مکہ کو ہے اور یایھا الذین اٰمنوا سے اہل مدینہ کو خطاب کیا۔ یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے۔ نحو : یا حرف ندا بعید ہے ای اور ہمزہ قریب کے لئے۔ پھر بھولنے والے اور غافل کو آواز دینے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ بالکل قریب ہو۔ اس کو دور شمار کر کے۔ جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

21۔ (آیت)” یایھا الناس “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ، یایھا الناس “ کا خطاب اہل مکہ کو ہے اور ” یا ایھا الذین امنوا “ سے اہل مدینہ کو خطاب ہے اور یہاں خطاب ، خطاب عام ہے مگر یہ کہ نابالغ اور پاگل انسانوں کو شامل نہیں ہے ” اعبدوا “ وحدوا ‘(صرف ایک خدا کی عبادت کرو) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ قرآن پاک میں جہاں کہیں عبادت کا حکم وارد ہے اس سے مراد توحید ہے (آیت)” ربکم الذی خلقکم “ خلق کسی شیء کی ایجاد اس طرح پر کہ اس سے پہلے اس کی مثال موجود نہ ہو۔ (آیت)” والذین من قبلکم “ ان کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے ۔ (آیت)” لعلکم تتقون “ تاکہ تم عذاب سے نجات پاجاؤ۔ بعض مفسرین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 21–22

(21 ۔ 22): حاصل یہ ہے کہ جب خالق رازق وہی ایک ذات وحدہٗ لا شریک ہے تو اس کو چھوڑ کر دوسرے کو پوجنا اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسرے کو شریک کرنا بڑی نادانی اور ناشکرگذاری ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نافرمانی اور گناہ دنیا میں نہیں ہے صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے 1۔ اسی واسطے اللہ چاہے تو اور گناہوں کو بغیر توبہ کے معاف کر دیوے لیکن شرک بغیر خالص توبہ اور بغیر خالص عبادت الٰہی کے ہرگز نہیں معاف ہوسکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 21–22

آیت 21، 22 یہ تمام لوگوں کے لئے امر عام ہے اور وہ اللہ کی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کے نواہی سے اجتناب اور اس کی خبر کی تصدیق کی جامع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کے لئے ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ فرمایا : (وما خلقت الجن والانس الالیعبدون) (الذاریات :56/51) ” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔ “ پھر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ وہ تمہارا رب ہے اس نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نواز کر تمہاری تربیت اور پرورش کی۔ وہ تمہیں عدم سے وجود میں لایا، اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے،…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 11–22

قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

54 معبود برحق صرف اللہ وحدہ لا شریک ہے ۔ سبحانہ وتعالیٰ : سو رب کی ربوبیّت کا تقاضا ہے کہ ہر قسم کی عبادت و بندگی صرف اسی وحدہ لاشریک کی ہو : یعنی وہ چونکہ تم سب کا رب ہے اس لیے اس کی اس ربوبیت کا تقاضا یہ ہے کہ تم لوگ عبادت و بندگی اسی کی اور صرف اسی کی کرو، اور اپنے رب کی اس بندگی میں خود تمہارا ہی بھلا اور فائدہ ہے، اس لئے وہ تم لوگوں کو اس کا حکم و ارشاد فرماتا ہے تاکہ خود تمہارا بھلا ہو، ورنہ وہ تو ہر طرح سے اور ہر کسی سے غنی اور بےنیاز ہے سبحانہ و تعالیٰ ۔ اور جب پیدا کرنے والا سب کا وہی ہے۔ تم لوگوں کو بھی اسی نے پیدا کیا جو بالفعل موجود ہو اور ان سب کو بھی جو کہ تم سے پہلے گزر چکے ہیں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

عبادت کا مطالعہ تشریح : اس آیت مبارکہ میں پہلی دفعہ انسان کو مخاطب کرکے عبادت کے لئے کہا جارہا ہے۔ اس سورت کے شروع میں متقین کی صفات بیان کی گئی ہیں۔ اس کے بعد کفار کے بارے میں بتایا گیا اور پھر منافق کی توضیح کی گئی ہے۔ اب پوری نوع انسانی کو مخاطب کرکے اللہ تعالیٰ عبادت گزاری کی دعوت دیتا ہے اور فرماتا ہے کہ اپنے رب یعنی خالق ومالک کو اس کی صفات اور مصنوعات سے پہچانو، اس نے تمہیں پیدا کیا اور ان تمام لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے گزر چکے ہیں اس میں دنیا کا فانی ہونا بھی بتایا گیا جب انسان خالق حقیقی کو پہچان لیتا ہے تو پھر وہ کامل عبد متقی کی راہ اختیار کرلیتا ہے جب نیکی کی راہ مل جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 21–29

آیات 21- 29 اسرارو معارف تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں : یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔ ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہاں تک تو تمہید تھی کہ قرآن جو ہدایت کا اصلی سر چشمہ ہے اسے ماننے اور نہ ماننے کے اعتبار سے تین قسم کے لوگ ہیں اب آگے بنی نوع انسان کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جا رہی ہے جو قرآنی دعوت کا حقیق نصب الیعن ہے اور جس کے لیے کتابوں کی تنزیل اور انبیاء کی بعثت کا سلسلہ شروع کیا گیا ہے وہ ہے دعوت الہی التو حید یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک ماننا اور اس کی عبادت اور دعا میں کسی کو شریک نہ سمجھنا۔ 8 حضرت ابن عباس فرماتے ہیں کہ اعبدوا کے معنی ہیں وحدوا یعنی اللہ تعالیٰ کو ایک مانو اور شرک سے بچو۔ (ابن کثیر) جب آیت سے مقصد یہی ہے تو خلق کا ذکر تو محض اقامت حجت کے طور پر ہے یعنی جس اللہ کو خالق کائنات مانتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:21) اعبدوا فعل امر، جمع مذکر حاضر، عبادۃ وعبودۃ مصدر (باب نصر) تم بندگی کرو، تم عبادت کرو ۔ لعلکم۔ لعل کی اصل وضع امید یا اندیشہ کے لئے ہے لیکن جس چیز کی امید کی جائے اس کا ممکن ہونا ضروری ہے۔ اسی لئے لعل الشباب یعود۔ کہنا غلط ہے کیونکہ جوانی کا لوٹنا ممکن نہیں۔ قرآن مجید میں فرعون کا جو قول لعلی ابلغ الاسباب ۔ (شاید میں آسمانی اسباب تک پہنچ جاؤں) آیا ہے۔ (حالانکہ اس کا آسمان تک پہنچانا ممکن تھا) اس کی یہ وجوہات دی گئی ہیں۔ (1) اس کی جہالت کہ وہ جانتا ہی نہ تھا کہ آسمان کہاں ہے اور یہ کہ اس کا وہاں تک پہنچانا ممکن ہے۔ (2) فرعون اہل دربار کو دھوکہ دینا چاہتا تھا۔ وہ فریب کے ساتھ یہ ظاہر…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 21–24

لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 24 (یایھا ) : اے (حرف ندا) کسی کو آواز دینے اور بلانے کے لئے یہ حرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی مونث کو ندا دی جائے تو ” یایتھا “ آئے گا۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ (اعبدوا): (اعبد) تم عبادت و بندگی کرو۔ عبادت صرف چند رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو عاجزی، ادب واحترام کے ساتھ ماننا، اطاعت و فرمان برداری کرتے ہوئے زندگی کو پوری طرح ادا کرنا عبادت ہے۔ (خلق): اس نے پیدا کیا۔ اسی خالق (پیدا کرنے والا) اور مخلوق (پیدا کیا گیا ) بھی آتا ہے۔ (قبل): پہلے۔ یہ لفظ اردو میں بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔ (لعلکم ): (لعل۔ کم ) شاید کہ تم، تا کہ…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 21–23

حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلف نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں، منافقوں اور اہل کتاب سب کو خالص عبادت الہی کی اور جس خالص توحید الہی کی ترغیب نبی آخر الزماں ﷺ دلاتے تھے، اس کے اتباع کی تاکید ان سب کو فرمائی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 20–21

[16] پہلی مثال ان منافقین کی تھی جو اسلام کے قطعی منکر تھے۔ اور کسی فائدے کی خاطر مسلمان بن گئے تھے۔ اور دوسری مثال ان منافقین کی ہے جو شک اور تذبذب میں مبتلا تھے۔ کچھ حق کے قائل بھی تھے مگر ایسے بھی نہیں کہ اس کی خاطر تکلیف اٹھائیں اور مصیبت برداشت کریں۔ اس مثال میں بارش سے مراد اسلام ہے یہ منافقین جب اسلام کی مادی کامیابیاں دیکھتے ہیں تو ان کے قدم اسلام کی طرف بڑھنے لگتے ہیں اور جب مشکلات کے بادل چھا جاتے ہیں تو یہ ٹھٹھک کر کھڑے ہوجاتے ہیں۔ [17] یعنی اللہ اگر چاہتا تو ان کی بینائی سلب کرلیتا جس طرح پہلی قسم کے منافقین کی بصارت اس نے سلب کرلی۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں کہ جو کسی حد تک دیکھنا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 21–22

(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انعام گنائے ہیں اور توجہ دلائی ہے غافل انسان کو یہ کہ وہ زمین کی طرف دیکھے کس قدر آرام دہ ہے آسمان کی طرف نظر دوڑائے کیونکہ چھت کی طرح ہم پر سایہ فگن ہے ۔ آسمان کی طرف سے پانی پرستا ہے اور ہمارے روکھے سوکھے باغ لہلہا اٹھتے ہیں اور اثمار ونتائم کا انبار لگ جاتا ہے ، کیا یہ نعمتیں ایک خدا کی طرف سے نہیں ؟ قرآن حکیم روزہ مرہ کے مشاہدات کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتا ہے ، اور قیمتی نتائج پیدا کردیتا ہے ، وہ کہتا ہے ، ان سب چیزوں کو بنظر غور وتعمق دیکھو ، ایک خدا کی خدائی کس طرح واضح اور بین طور پر نظر آرہی ہے ، قرآن حکیم کا اصرار ہے کہ اس کی پیش گاہ جلالت میں کوئی…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ اے افراد انسانی تم اپنے اس پروردگار کی بندگی اور عبادت بجا لائو جس نے تم کو اور تم سے پہلے لوگوں کو پیدا کیا ہے۔ توقع ہے کہ تم خدا کے عذاب سے بچ جائو ، وہ پروردگار جس کی عبادت کے لئے تم کو دعوت دی جا رہی ہے وہ ایسا محسن ہے کہ اس نے تمہارے بسنے اور زندگی بسر کرنے کے لئے زمین اور آسمان کو چھت بنایا اور اس نے آسمان کی جانب سے پانی اتارا ۔ اور اس پانی سے تمہاری غذا اور تمہارے کھانے کیلئے مختلف انواع و اقسام کے پھل اگائے، لہٰذا ایسے بڑے حقیقی محسن کا کسی کو ہمسر اور شریک نہ ٹھہرائو ، حالانکہ تم جانتے بوجھتے ہو۔ (تیسیر) اس آیت میں تمام بنی نوع انسانی کو اپنے پروردگار کی عبادت کا حکم دیا گیا…

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ۡقرآن کریم کا انداز تخاطب : 44: گزشتہ آیات میں تین قسم کے لوگوں کا ذکر کیا گیا تھا۔ مسلمان ، کافر اور منافق۔ پھر منافقین کو دو گروہوں میں تقسیم کر کے بتایا گیا اور دونوں گروہوں کو الگ الگ مثال دے کر خوب ذہن نشین کرادیا کہ ان کے یہ یہ اوصاف ہیں تاکہ ہر انسان اپنا تجزیہ کر کے اپنی حیثیت کو پوری طرح سمجھنے کی کوشش کرے اگر کوئی بات ایسی نظر آئے جو کفر و نفاق کی طرف لے جارہی ہو تو فوراً اس کی اصلاح کی کوشش کرے۔ کیونکہ بحیثیت انسان تینوں گروہ ایک ہی اصل سے متعلق ہیں اس لیے اکرام انسانیت کو ملحوظ رکھتے ہوئے ان کو ” اے نسل انسانی “ کہہ کر مخاطب کیا ” اے کافرو “ یا ” اے منافقو ! “ کہہ کر نہیں بلایا۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

A review of verses linked together The second verse of the Surah 'Al-Baqarah' provides the answer to the prayer made in the Surah Al-Fatihah, اهْدِنَا الصِّرَ‌اطَ الْمُسْتَقِيمَ "Guide us in the straight path"- that is to say, the guidance man has prayed for is present in this book, for the Holy Qur'an is from the beginning to the end a detailed account of the straight path. Then, the Surah proceeds to divide men into three groups according to whether they accept the guidance of the Holy Qur'an or not. Three verses speak of the true and God-fearing Muslims, who not only accept but also act…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

21. Even though the message of the Qur'an is addressed to all, benefiting from it depends on ones willingness and on God's succour in relation to that willingness. This is why the Qur'an first explained which kind of people can and which kind of people cannot benefit from the Qur'an. As this has been explained in the foregoing verses, the quintessence of the message to which the Qur'an invites all mankind is now put forth. 22. So that you are saved from false beliefs and unrighteous conduct in this life, and from the punishment of God in the Next.

Read the full tafseer →