Explained with ayahs 21–22
تعارف اللہ بزبان اللہ
یہاں سے اللہ تعالیٰ کی توحید اور اس کی الوہیت کا بیان شروع ہوتا ہے وہی اپنے بندوں کو عدم سے وجود میں لایا، اسی نے ہر طرح کی ظاہری و باطنی نعمتیں عطا فرمائیں، اسی نے زمین کو فرش بنایا اور اس میں مضبوط پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں اور آسمان کو چھت بنایا۔ جیسے کہ دوسری آیت میں آیا کہ آیت (وَجَعَلْنَا السَّمَاۗءَ سَقْفًا مَّحْفُوْظًا ښ وَّهُمْ عَنْ اٰيٰـتِهَا مُعْرِضُوْنَ) 21۔ الانبیآء :32) یعنی آسمان کو محفوظ چھت بنایا اس کے باوجود وہ نشانیوں سے منہ موڑ لیتے ہیں، آسمان سے پانی اتارنے کا مطلب بادل نازل فرمانا ہے۔ اس وقت جبکہ لوگ اس کے پورے محتاج ہوں۔ پھر اس پانی سے طرح طرح کے پھل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سورة الْبَقَرَة 21
اگرچہ قرآن کی دعوت تمام انسانوں کے لیے عام ہے، مگر اس دعوت سے فائدہ اٹھانا یا نہ اٹھانا لوگوں کی اپنی آمادگی پر اور اس آمادگی کے مطابق اللہ کی توفیق پر منحصر ہے۔ لہٰذا پہلے انسانوں کے درمیان فرق کر کے واضح کردیا گیا کہ کس قسم کے لوگ اس کتاب کی رہنمائی سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں اور کس قسم کے نہیں اٹھا سکتے۔ اس کے بعد اب تمام نوع انسانی کے سامنے وہ اصل بات پیش کی جاتی ہے، جس کی طرف بلانے کے لیے قرآن آیا ہے۔
سورة الْبَقَرَة 22
یعنی دنیا میں غلط بینی و غلط کاری سے اور آخرت میں خدا کے عذاب سے بچنے کی توقع۔
Read the full tafseer →کائنات زمین و آسمان میں قدرت حق کے مظاہر
پھر دوسری آیت میں رب کی دوسری صفات کا بیان اس طرح فرمایا گیا ہےالَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِهٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ یعنی رب وہ ذات ہے جس نے بنایا تمہارے لئے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت اور برسایا آسمان سے پانی پھر اس پانی کے ذریعہ پردہ عدم سے نکالی پھلوں کی غذا تمہارے لئے،
پہلی نعمت
اس سے پہلی آیت میں ان انعامات کا ذکر تھا جو انسان کی ذات سے متعلق ہیں اور اس آیت میں آیت میں ان انعامات کا ذکر ہے جو انسان کے گرد وپیش کی چیزوں سے متعلق ہیں یعنی پہلی آیت میں…
Read the full tafseer →فَلَا تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ: انداد نِدّ کی جمع ہے جس کے معنی ہم سر، ہم پایہ، مدمقابل مشابہ اور کفو کے ہیں۔
اہل عرب صفاتِ باری سے متعلق ان تمام بنیادی مقدمات کو تسلیم کرتے تھے جن سے بدیہی طور پر توحید ثابت ہوتی ہے لیکن اس کے باوجود وہ خدا کے شریک بھی مانتے تھے اس وجہ سے فرمایا کہ جب تم خود اس بات کو جانتے ہو کہ خدا ہی نے تمہیں پیدا کیا ہے ، اسی نے تمہارے اگلوں کو پیدا کیا ہے اسی نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا ہے ، اسی نے آسمان کا شامیانہ تانا ہے، اسی نے آسمان سے پانی اتارا ہے اور اسی نے تمہارے رزق کے لیے قسم قسم کے پھل اور میوے پیدا کیے ہیں تو پھر ان کو خدا…
Read the full tafseer →1 ہدایت اور ضلالت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کے تذکرے کے بعد اللہ تعالیٰ کی وحدانیت اور اس کی عبادت کی دعوت تمام انسانوں کو دی جا رہی ہے۔ فرمایا جب تمہارا اور کائنات کا خالق اللہ ہے تمہاری تمام ضروریات کا مہیا کرنے والا وہی ہے پھر تم اسے چھوڑ کر دوسروں کی عبادت کرتے ہو ؟ دوسروں کو اس کا شریک کیوں ٹھہراتے ہو اگر تم عذاب خداوندی سے بچنا چاہتے ہو تو اس کا صرف ایک طریقہ ہے کہ اللہ کو ایک مانو اور صرف اسی کی عبادت کرو جانتے بوجھتے شرک کا ارتکاب مت کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
18 ان دو آیتوں (آیت نمبر : 21 اور 22) میں اسلام کے بنیادی عقیدے توحید کی دعوت دی گئی ہے اور مختصر انداز میں اس کی دلیل بھی بیان کردی گئی ہے اہل عرب یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کو پیدا کرنا، زمین و آسمان کی تخلیق اور آسمان سے بارش برسانا اور اس سے پیداوار اگانا، یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں، اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے کام بتوں کے سپرد کر رکھے ہیں اور وہ بت اپنے کاموں میں براہ راست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا وہ ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہر چیز پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہمیں کائنات چلانے کے لئے کسی…
Read the full tafseer →الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الأرْضَ فِرَاشًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَأَنْزَلَ مِنَ السَّمَاءِ مَاءً فَأَخْرَجَ بِهِ مِنَ الثَّمَرَاتِ رِزْقًا لَكُمْ فَلا تَجْعَلُوا لِلَّهِ أَنْدَادًا وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ
” وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا ، آسمان کی چھت بنائی ، اوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لئے رزق بہم پہنچایا۔ “ زمین ایک تخت کی طرح بچھی ہوئی ہے ۔ اس کی فضاؤں کا نظام قانون قدرت میں بندھا ہوا ہے اس کے ذریعہ آبپاشی کا ایسا انتظام کیا گیا ہے کہ روئے زمین پر لوگوں کی ضروریات کی فراہمی کے لئے ہر قسم کی پیداوار کا بندوبست کردیا گیا ہے ۔ یہ سب کچھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
2 اب سب بندوں کو مومن ہوں یا کافر یا منافق خطاب فرما کر توحید جناب باری تعالیٰ سمجھائی جاتی ہے جو ایمان کے لئے اصل الاصول ہے خلاصہ معنی یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اور تم سے پہلوں کو سب کو پیدا کیا اور تمہاری ضروریات اور کل منافع کو بنایا۔ پھر اس کو چھوڑ کر کسی دوسرے کو معبود بنانا جو تم کو نہ نفع پہنچا سکے نہ مضرت (جیسے بت) کس قدر حماقت اور جہالت ہے حالانکہ تم یہ بھی جانتے ہو کہ اس جیسا کوئی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 22 الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآءَ بِنَآءًص
وَاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَکا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ جب تم بھی مانتے ہو کہ اس کائنات کا خالق اللہ کے سوا کوئی نہیں ‘ تو پھر اس کے شریک کیوں ٹھہراتے ہو ؟ اہل عرب یہ بات مانتے تھے کہ کائنات کا خالق صرف اور صرف اللہ ہے ‘ البتہ جو ان کے دیوی دیوتا تھے انہیں وہ سمجھتے تھے کہ یہ اللہ کے اوتار ہیں یا اللہ کے ہاں بہت پسندیدہ ہیں ‘ اس کے محبوب ہیں ‘ اس کے اولیاء ہیں ‘ اس کی بیٹیاں ہیں ‘ لہٰذا یہ شفاعت کریں گے تو ہمارا بیڑا پار ہوجائے گا۔ ان سے کہا جا رہا ہے کہ جب تم یہ مانتے ہو کہ کائنات کا خالق ایک اللہ ہے ‘ وہی اس کا مدبر ہے تو اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
26 دلائل توحید :۔ مدینہ میں موجود تین طرح کے لوگوں کا ذکر کرنے کے بعد اب اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں سے مشترکہ خطاب فرما کر انہیں اسلام کی بنیادی دعوت کی طرف متوجہ کیا اور فرمایا کہ تم لوگ یہ خوب جانتے ہو کہ اللہ ہی نے تمہیں بھی اور تم سے پہلے لوگوں کو بھی پیدا کیا۔ پھر تمہارے لیے زمین کو مستقر اور آسمان کو محفوظ چھت بنادیا کہ کوئی سیارہ اوپر سے گر کر زمین کو تہس نہس نہیں کردیتا۔ پھر تمہاری تمام ضروریات زندگی اسی زمین سے وابستہ کردیں اور گاہے گاہے آسمان سے بارش برسا کر تمہارے کھانے پینے کی چیزیں اور پھل وغیرہ بھی وہی تمہیں مہیا کرتا ہے، تو پھر تمہیں عبادت بھی صرف اسی کی کرنی چاہیے اور کسی دوسرے…
Read the full tafseer →65 ۔ آیت کے اس ٹکڑے کی جان یا اصل روح (آیت) ” جعل لکم “ ہے۔ مقصود زمین یا آسمان کی ہیئت بیان کرنا، یا ان کی ارضیاتی یا فلکیاتی ماہیت بیان کرنا کسی درجہ میں بھی نہیں۔ بیان صرف یہ کرنا ہے کہ زمین ہو یا آسمان، کوئی بھی از خود نہیں بن گئے ہیں، بلکہ جو کچھ اور جیسے بھی کچھ ہیں، اللہ کے بنائے ہوئے، اور اسی قادر مطلق کے زیر فرمان ہیں۔ (آیت) ” ربکم الذی جعل لکم الخ “ دوسری تعلیم ساتھ ہی ساتھ یہ ملی، کہ زمین و آسمان انسان کے لیے خلق ہوئے ہیں، انسان زمین و آسمان کے لیے خلق نہیں ہوا ہے۔ مقصود ومطلوب انسان ہے۔ زمین و آسمان دونوں، باذن الہی، اسی خلیفۃ اللہ کے خادم ہیں، پھر یہ کیسی شدید حماقت ہے کہ انسان…
Read the full tafseer →جَعَلَ لَکُمْ الْاَرْضَ فِرَاشًا : اس سے پہلی آیت میں ان انعامات کا ذکر تھا، جو انسانی ذات سے متعلق ہیں اور اس آیت میں ان انعامات کا ذکر ہے جو انسان کے گردوپیش کی چیزوں سے متعلق ہیں اس طرح اَنْفُسْ اور آفاقی نعمتوں کا احاطہ فرمایا، ان آفاقی نعمتوں میں اول زمین کا ذکر فرمایا کہ ہم نے زمین کو انسان کیلئے فرش بنایا جو نہ لوہے کی مانند نہایت سخت ہے کہ ہم اسے اپنی ضرورت کے مطابق آسانی سے استعمال نہ کرسکیں اور نہ پانی کی طرح نرم کہ جس پر قرار ہی ممکن نہ ہو، بلکہ سختی اور نرمی کے درمیان ایسا بنایا گیا کہ جو عام انسانی ضروریات زندگی میں کام دے سکے۔
اس آیت میں زمین کو فرش کہا گیا ہے، فرش کے لفظ سے یہ…
Read the full tafseer →الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا (جس نے بنا دیا تمہارے لیے زمین کو بچھونا) جَعَلَ بمعنی صَیَّرَ زمین کو بچھونا بنانے کے یہ معنی ہیں کہ ایسا نرم بنا دیا کہ جس پر بسہولت ٹھیراؤ اور جماؤ ہوسکتا ہے نہ زیادہ سخت نہ زیادہ نرم کہ جس پر انتہا درجہ کی سختی یا نرمی کے سبب سکونت پذیر نہ ہو سکیں۔ اَلَّذِیْ جَعَل۔۔ یا تو رَبّکُمْ کی دوسری صفت ہے یا منصوب بنا بر مدح یا مرفوع بنا بر مدح یا مبتدا ہے اور خبر فَلَا تَجْعَلُوْا ہے۔
وَّالسَّمَاۗءَ : (اور آسمان کو) اَلسَّمَآء اسم جنس ہے ایک اور ایک سے زیادہ پر بھی اس کا اطلاق آتا ہے۔
بِنَاۗءً ۠ : (عمارت) مصدر بمعنی اسم مفعول یعنی تم پر آسمان کا خیمہ نصب…
Read the full tafseer →(22) اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کرو جس نے تمہارے لیے زمین کو بستر اور بچھونا اور آسمان کو بلند چھت والا بنایا اور آسمان سے بارش اتاری جس سے طرح طرح کے پھل تمہارے لیے اور تمام مخلوقات کے لیے پیدا کیے، لہذا اللہ تعالیٰ کے برابر و مشابہ کسی کو نہ بناؤ کیونکہ تم خوب جانتے ہو کہ ان تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
Read the full tafseer →یعنی تمہیں اور تمہارے باپ دادا کو پیدا کرنے کے بعد تمہاری ضروریات کے لیے تمہیں کسی دوسری ہستی کے سپرد نہیں کردیا، بلکہ ہر چیز کا بندوبست خود فرمایا، زمین کو تمہارے لیے بچھونا بنایا، آسمان کو چھت بنایا، پھر آسمان سے پانی اتار کر تمہاری روزی کے لیے مختلف انواع کے پھل پیدا کیے۔ جب تم یہ سب کچھ جانتے ہو تو لازم ہے کہ اللہ کے لیے کسی قسم کے شریک نہ بناؤ، یا پھر اس کی زمین سے نکل جاؤ اور اپنے کسی داتا یا دستگیر کی بنائی ہوئی زمین کے اوپر اور اس کے بنائے ہوئے آسمان کے نیچے رہو اور اسی کا پیدا کیا ہوا رزق کھاؤ۔
مَاۗءً کا ترجمہ ”کچھ پانی“ تنوین کی وجہ سے اور (اَنْدَادًا) کا ترجمہ ”کسی قسم کے شریک“ جمع…
Read the full tafseer →آیت نمبر 22
اللہ تعالیٰ کے ارشاد : الذی جعل لکم الارض فراشا میں چھ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: الذی جعل۔ یہاں جعل بمعنی صیر ہے۔ کیونکہ یہ دو مفعولوں کی طرف متعدی ہے، جعل، خلق کے معنی میں بھی آتا ہے۔ اس معنی میں اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد ہے : ما جعل اللہ من بحیرۃ ولا سائبۃ (المائدہ : 103) نہیں مقرر کیا اللہ تعالیٰ نے بحیرہ اور سائبہ۔ اور ارشاد ہے جعل الظلمت والنور (الانعام : 1) اور بنایا اندھیروں کو اور نور کو یہ سمی مقرر کے معنی میں بھی آتا ہے اس معنی ہے یہ ارشاد ہے حم۔ والکتب المبین۔ انا جعلنہ قرءٰ ناً عربیا یعنی ہم نے اس کا نام قرأنا عربیاً رکھا، اور ارشاد ہے وجعلوا لہ من عبادہ جزءًا (الزخرف :…
Read the full tafseer →(1) امام اس جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن مسعود ؓ اور صحابہ میں سے بعض حضرات سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الذی جعل لکم الارض فراشا “ سے مراد ہے وہ زمین بچھونا ہے جس پر چلتے ہیں اور وہ بچھونا ہے اور ٹھہرنے کی جگہ بھی ہے لفظ آیت ” والسماء بناء “ کے بارے میں فرمایا کہ زمین پر آسمان قبہ کی شکل میں بنایا گیا اور وہ ایک چھت ہے زمین پر۔
بارش اترنے کا نظام
(2) امام ابو داؤد، ابن عبی حاتم، ابو الشیخ، ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت جیر بن مطعم ؓ سے روایت کیا ہے کہ ایک دیہاتی رسول اللہ ﷺ کے پاس آیا اور کہنے لگا یا رسول اللہ ! جانیں مشقت میں پڑگئیں اور اولاد ضائع ہوگئی اور مال کم ہوگئے…
Read the full tafseer →[ الَّذِىْ جَعَلَ : جس نے بنایا ] [ لَكُمُ : تمہارے لیے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ فِرَاشًا : اس حال میں کہ وہ فرش ہے ] [ وَّالسَّمَاۗءَ : اور آسمان کو ] [ بِنَاۗءً ۠ : اس حال میں کہ وہ بلندی ہے ] [ وَّاَنْزَلَ : اور اس نے اتارا ] [ مِنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ مَاۗءً : پانی کو ] [ فَاَخْرَجَ : تو اس نے نکالا ] [ بِهٖ : اس سے ] [ مِنَ الثَّمَرٰتِ : پھلوں میں سے ] [ رِزْقًا : رزق کو ] [ لَّكُمْ ۚ : تمہارے لیے ] [ فَلَا تَجْعَلُوْا : پس تم لوگ مت بناؤ ] [ لِلّٰهِ : اللہ کے لیے ] [ اَنْدَادًا : کوئی مد مقابل ] [ وَّ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ : تم لوگ ] [ تَعْلَمُوْنَ : جانتے ہو ]
Read the full tafseer →پھر بارش کے پانی کا تذکرہ کیا اور یہ فرمایا کہ اللہ جل شانہٗ نے آسمان سے پانی اتارا اور اس کے ذریعہ طرح طرح کے پھل پیدا فرمائے جو بنی نوع انسان کے لیے رزق ہیں اور غذا ہیں ان کے ذریعہ انسانوں کی پرورش اور بقا ہے اس میں دلائل قدرت بھی ہیں اور شان ربوبیت کا اظہار بھی ہے۔ ایک ہی زمین ہے اس میں طرح طرح کے پھل ہیں جن کے رنگ بھی مختلف ہیں مزے بھی مختلف ہیں۔
آخر میں فرمایا کہ جب اپنے رب اور خالق کو تم نے اس کے دلائل قدرت کے ذریعہ اور اس کی نعمتوں کے واسطہ سے پہچان لیا تو عقل اور سمجھ کا تقاضا ہے کہ صرف اسی کی عبادت کرو اس کو ایک جانو اور ایک مانو، اس کی الوہیت اور ربوبیت کا اقرار کرو۔ اور اس کے مقابل…
Read the full tafseer →الذی جعل لکم الارض فراشا والسماء بناء وانزل من السماء ماء فاخرج بہ من الثمرات رزقا لکم فلا تجعلوا لللہ اندادا وانتم تعلمون۔ وہ پاک ذات کہ جس نے زمین کو تمہارے لیے فرش اور آسمان کو چھت بنایا اور آسمان سے پانی اتارا۔ پھر اس پانی سے تمہارے کھانے کے لیے قسم قسم کے کچھ پھل اور میوے نکالنے پس خدا کے لیے اس کے مقابل اور مماثل ہمتا اور شریک نہ بناؤ اور حالانکہ تم خوب جانتے ہو۔ کہ تمہارا اور ان سب چیزوں کا پیدا کرنے والا صرف ایک وحدہ لا شریک لہ ہے اور ان انعامات اور انتظامات میں کوئی اس کا شریک اور سہیم نہیں پس ان انعامات کے شکر میں خاص اسی کی عبادت کرو اور کسی دوسرے کو شریک نہ کرو یعنی یہ سارا عالم…
Read the full tafseer →ف 48 ۔ یہ مذکورہ دلیل کا نتیجہ ہے۔ مخاطبین اپنا، اپنے آباؤ اجداد کا، باقی تمام انسانوں، جنوں اور فرشتوں کا، زمین و آسمان اور ساری کائنات کا خالق خدا ہی کو مانتے تھے۔ اور تمام تکوینی امور کو خدا ہی کے تصرف واختیار میں سمجھتے تھے اس لیے ان مسلمہ امور کو بطور دلیل پیش کر کے فرمایا کہ جب یہ سب کام اللہ ہی کے ہیں، جب یہ سارے انعامات اسی ہی نے تم کو دئیے ہیں۔ جب تمہارا اور ساری کائنات کا خالق ومالک اور رزاق ومربی وہی ہے اور ان تمام کاموں میں کوئی اس کا شریک نہیں ہے تو پھر صرف اسی ہی کی عبادت کرو اور صرف اسی ہی کو اپنی حاجات ومشکلات میں غائبانہ پکارو اور اس کی عبادت اور پکار میں کسی نوری، ناری یا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
گزشتہ سے پیوستہ : دوسرے رکوع کے اختتام تک اللہ تعالیٰ نے تین قسم کے انسانوں کا ذکر فرمایا ہے۔ سورة بقرہ کی ابتدائی چار آیتوں میں ایمان والوں کا ذکر کیا ہے اور ا ن کے اوصاف بیان فرمائے ہیں۔ اگلی دو آیتوں میں ظاہراً اور باطناً انکار کرنے والے کفار کا حال اور ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ اس کے بعد تیرہ آیات میں منافقین کا حال تفصیل کے ساتھ بیان ہوا ہے۔ ان کی چال بازی ، دھوکا بازی ، فریب کاری ، ریشہ دوانی ، ظاہرو باطن میں تفاوت ، فساد فی الارض اور غلط عقیدے کا رد ہے۔ پھر اس کی وضاحت دو مثالوں کے ذریعے کی گئی ہے۔ ایک آگ کی مثال اور دوسری پانی کی۔ منافقین کا انجام بھی بیان ہوا ہے اور تنبیہ بھی کی گئی…
Read the full tafseer →الَّذِىْ جَعَلَ لَكُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَاۗءَ بِنَاۗءً 0 ۠ وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَاۗءِ مَاۗءً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰتِ رِزْقًا لَّكُمْ 0 ۚ فَلَا تَجْعَلُوْا لِلہِ اَنْدَادًا وَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ 22
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
أرض
الأرض : الجرم المقابل للسماء، وجمعه أرضون، ولا تجیء مجموعةً في القرآن ، ويعبّر بها عن أسفل الشیء، كما يعبر بالسماء عن أعلاه .
( ا رض ) الارض
( زمین ) سماء ( آسمان ) کے بالمقابل ایک جرم کا نام ہے اس…
Read the full tafseer →مسنگ
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
یٰٓاَیُّھَا النَّاسُ اعْبُدُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ وَالَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ الَّذِیْ جَعَلَ لَکُمُ الْاَرْضَ فِرَاشًا وَّالسَّمَآئَ بِنَائً ص وَّاَنْزَلَ مِنَ السَّمَآئِ مَـآئً فَاَخْرَجَ بِہٖ مِنَ الثَّمَرٰاتِ رِزْقًالَّـکُمْج فلَاَ تَجْعَلُوْا لِلّٰہِ اَنْدَادًوَّاَنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ ۔
(اے لوگو ! بندگی کرو اپنے رب کی، جس نے تمہیں پیدا کیا اور ان کو جو تم سے پہلے تھے، تاکہ تم بچ جاؤ جس نے بنایا تمہارے لیے زمین کو بچھونا اور آسمان کو چھت اور اتارا آسمان سے پانی۔ پھر نکالے اس سے پھل تمہارے کھانے کے لیے، پس نہ ٹھہرائو کسی کو اللہ کا مقابل اور تم جانتے…
Read the full tafseer →اس تصور عبادت سے ہٹنا مقصد حیات کی نفی اور غیر اللہ کی عبادت کرنے کے مترادف ہے۔ جس کا آدمی کو کسی حال میں بھی حق نہیں پہنچتا۔ ایمان، کفر اور نفاق کی بڑی بڑی نشانیاں ذکر کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے بلا امتیاز تمام طبقات انسانی کو عبادت کا حکم دیتے ہوئے اپنی عبادت کے استحقاق کی یہ دلیل دی ہے کہ اس رب کی عبادت کرو جس نے تمہیں، تمہارے آباؤ اجداد اور سب لوگوں کو پیدا فرمایا۔ اسی نے تمہارے لیے زمین کو فرش بنایا اور آسمان کو سائبان، پھر آسمان سے پانی نازل کیا جس سے تمہارے رزق کا بندوبست فرمایا۔ یہ سب کچھ ایک رب نے پیدا کیا اور وہی تمہارا خالق ومالک ہے۔ یہ حقائق تم بھی جانتے ہو کہ تخلیقِ کائنات اور ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
سابقہ سے ربط :
ربط : جب اللہ تعالیٰ نے مکلفین کی تین جماعتوں مؤمن، کفار اور منافقین کا ذکر اور ان کی صفات حالات خصوصیات جن سے وہ سعادت مندوبد بخت اور مردود، مقبول ہوتے ہیں بیان کردیں۔ تو یہاں سے ان کو مخاطب فرمایا۔ یہ التفات کی قسم میں ہے۔ پس فرمایا۔
خطابِ عام :
یٰٓاَ یُّھَا النَّاسُ : (اے لوگو) حضرت علقمہ نے فرمایا قرآن میں یایھا الناس سے خطاب اہل مکہ کو ہے اور یایھا الذین اٰمنوا سے اہل مدینہ کو خطاب کیا۔ یہ خطاب مشرکین مکہ کو ہے۔
نحو : یا حرف ندا بعید ہے ای اور ہمزہ قریب کے لئے۔ پھر بھولنے والے اور غافل کو آواز دینے کے لیے استعمال ہونے لگا۔ خواہ وہ بالکل قریب ہو۔ اس کو دور شمار کر کے۔ جب…
Read the full tafseer →22۔ (آیت)” الذین جعل لکم الارض فراشا “ یعنی بچھونا اور کہا گیا ہے سونے کی جگہ اور کہا گیا ہے نرم ونازک گدا تو آیت کریمہ کا معنی ہوگا کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کو ایسا نرم بنادیا تاکہ اس پر ٹھہرنا آسان ہوجائے ، ایسی زمین نہیں بنائی کہ باعث تکلیف ہو اور اس پر قرار پکڑنا ممکن نہ ہو یہاں جعل بمعنی خلق ہے ۔
(آیت)” والسماء بنائ “ بلند چھت (آیت)” وانزل من السمائ “ یعنی بادل سے (مائ) بارش ” فاخرج بہ من الثمرات “ رنگا رنگ پھلوں اور قسم وقسم پیداوار سے ” رزقالکم “ تمہارے لیے طعام اور تمہارے چوپایوں کے لیے چارہ (آیت)” فلا تجعلوا للہ اندادا “ اس کی مثل کہ تم ان کی عبادت ایسے کرو جیسے اللہ تعالیٰ کی عبادت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(21 ۔ 22): حاصل یہ ہے کہ جب خالق رازق وہی ایک ذات وحدہٗ لا شریک ہے تو اس کو چھوڑ کر دوسرے کو پوجنا اس کی تعظیم اور عبادت میں دوسرے کو شریک کرنا بڑی نادانی اور ناشکرگذاری ہے اور اس سے بڑھ کر کوئی نافرمانی اور گناہ دنیا میں نہیں ہے صحیحین میں حضرت عبداللہ بن مسعود سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے 1۔ اسی واسطے اللہ چاہے تو اور گناہوں کو بغیر توبہ کے معاف کر دیوے لیکن شرک بغیر خالص توبہ اور بغیر خالص عبادت الٰہی کے ہرگز نہیں معاف ہوسکتا۔ حضرت عبد اللہ بن عباس اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
آیت 21، 22
یہ تمام لوگوں کے لئے امر عام ہے اور وہ اللہ کی عبادت ہے جو اللہ تعالیٰ کے احکام کی اطاعت، اس کے نواہی سے اجتناب اور اس کی خبر کی تصدیق کی جامع ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے بندوں کو اس چیز کا حکم دیا جس کے لئے ان کی تخلیق کی گئی ہے۔ فرمایا : (وما خلقت الجن والانس الالیعبدون) (الذاریات :56/51) ” میں نے جنوں اور انسانوں کو صرف اس لئے پیدا کیا تاکہ وہ میری عبادت کریں۔ “
پھر صرف ایک اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنے پر اس بات سے استدلال کیا ہے کہ وہ تمہارا رب ہے اس نے تمہیں بہت سی نعمتوں سے نواز کر تمہاری تربیت اور پرورش کی۔ وہ تمہیں عدم سے وجود میں لایا، اس نے ان لوگوں کو پیدا کیا جو تم سے پہلے تھے،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 11–22
قول باری ہے : الذی جعل لکم الارض فراشاً (وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا) یعنی تمہارے لئے قرار اور ٹھکانا بنایا اور صرف فراش کا لفظ علی الاطلاق ذکر کیا جائے تو یہ زمین کو شامل نہیں ہوگا، بلکہ زمین کو فرش کا نام اسی لفظ کے ساتھ مقید کر کے دیا جاتا ہے۔ جس طرح یہ قول باری ہے : والجبال اوتاداً (اور پہاڑوں کو میخیں ) اوتاد یعنی میخوں کے اسم کا اطلاق پہاڑوں کا مفہوم ادا نہیں کرتا۔ اسی طرح قول باری ہے : والشمس سراجاً اور سورج کو چراغ ) اسی بنا پر فقہاء نے کہا ہے کہ جو شخص فرش اور بچھونے پر نہ سونے کی قسم کھالے اور پھر زمین پر سو جائے تو وہ حانث نہیں ہوگا۔ اسی طرح اگر کوئی شخص چراغ تلے…
Read the full tafseer →58 بچھونہ ارضی میں سامان غور و فکر : سو زمین کا یہ عظیم الشان بچھونا قدرت و عنایت خداوندی کا ایک عظیم الشان مظہر ہے اور یہ ایک ایسا عظیم الشان اور بےمثال بچھونا ہے جس کی دوسری کوئی نظیر و مثال نہ کبھی ہوئی ہے نہ ہوسکتی ہے، اور ایسا عظیم الشان کہ انسانوں کے بنائے ہوئے عام بچھونے تو صرف ایک دو یا چند آدمیوں کے لئے ہوتے ہیں، اور ہوسکتے ہیں، مگر لا محدود قدرت والے اس خداوند قدوس کا یہ عظیم الشان بچھونا ساری دنیا میں پھیلی ہوئی اس کی گوناگوں اور رنگا رنگ مخلوق اور اس کی بےحد و حساب سب ضروریات کی کفالت کے لئے کافی و وافی ہے۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ خَالِقٍ عَظِیْمٍ جَلَّتْ قُدْرَتُہٗ ۔ سو انسان کے…
Read the full tafseer →شرک کی ممانعت
تشریح : بلاغت قرآنی کا ایک عام اسلوب یہ بھی ہے کہ جزئیات احکام بیان کرتے کرتے برسبیل تذکرہ کوئی عام فائدہ یا اصولی نکتہ بیان کردیا جاتا ہے جس کے اندر کوئی گہرا مقصد یا اصول ضرور پنہاں ہوتا ہے اس آیت میں انسانوں کو فراہم کردہ سہولیات پر غور کرکے اللہ کی شان کریمی پر دھیان دینے کی توجہ مبذول کرائی ہے۔ تاہم ساتھ ہی ایسے بیانات بھی ہیں جو جدید سائنسی نقطہ نظر سے دلچسپ اور چونکا دینے والے ہیں ایک طرف تو اس آیت میں سیدھے سادے خیالات کا بیان ہے جو جزیرہ نما عرب کے بدو لوگوں کو بآسانی سمجھ میں آجائیں اور ساتھ ہی ساتھ ایسے رموز و نکات شامل ہیں کہ اگر مہذب اور ترقی یافتہ لوگ اس پر غور و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21- 29
اسرارو معارف
تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں :
یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔
ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…
Read the full tafseer →ف 1 ۔ السماء سے مراد اس جگہ بادل ہے۔ ابن کثیر )
2 اندادا کا واحد ند ہے جس کے معنی اور شریک کے ہیں یعنی جب تم جب تم جانتے ہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز کا خالق ہے اور نفع و نقصان بھی اس کے قبضہ قدرت میں ہے تو پھر دوسرا کا ہمسر کیوں سمجھتے ہو شرک کے بہت سے شعبے ہیں اور آنحضرت نے اس کا سد باب کرنے کے لیے ہر ایسے قولو فعل سے منع فرمایا ہے جس میں شرک کا شائبہ تک بھی پایا جاتا ہے۔ حدیث میں ہے کہ ایک آدمی نے آنحضرت ﷺ سے کہا ماشاء اللہ وما شئت اس پر آپ ﷺ نے فرمایا ؛ اجعلتنی للہ ندا کہ تو نے مجھے اللہ کا شریک ٹھہرا دیا ( نسائی ابن ماجہ)
حضرت ابن عباس ؓ سے روایت ہے شرک بہت خفی ہے، ایک شخص کسی کی جان کی قسم…
Read the full tafseer →الذی۔ اسم موصول۔ ربکم کے لئے ہے۔
فراشا ۔ جس کو بچھا یا جاتا ا ہے۔ یعنی بستر۔ بنائ۔ چھت، عمارت، جو چیز بنائی جائے۔ بناء کہلاتی ہے۔
الارض۔ جعل ۔ کا مفعول اول ہے۔ فراشا مفعول ثانی، دونوں مل کر معطوف علیہ ہوئے ۔ والسماء بناء کے۔ واؤ عاطفہ ہوا۔ السماء مفعول اول اور بناء مفعول ثانی۔ دونوں مل کر معطوف جملہ سابقہ کے معطوف علیہ معطوف مل کر مفعول اول دوم ہوئے جعل کے جعل فاعل اور دونوں مفعول صلہ ہوئے الذی کا۔
رزقا۔ روزی، رزق، اخرج کا مفعول بہ ہے۔ انداد۔ مفعول ہے لا تجعلوا کا۔ بمعنی مقابل ، برابر، ند کی جمع ہے۔ ند اس کو کہتے ہیں جو کسی شے کی ذات اور جوہر میں شریک ہو۔
وانتم تعلمون یہ جملہ حالیہ ہے، یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 24
(یایھا ) : اے (حرف ندا) کسی کو آواز دینے اور بلانے کے لئے یہ حرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی مونث کو ندا دی جائے تو ” یایتھا “ آئے گا۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ (اعبدوا): (اعبد) تم عبادت و بندگی کرو۔ عبادت صرف چند رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو عاجزی، ادب واحترام کے ساتھ ماننا، اطاعت و فرمان برداری کرتے ہوئے زندگی کو پوری طرح ادا کرنا عبادت ہے۔ (خلق): اس نے پیدا کیا۔ اسی خالق (پیدا کرنے والا) اور مخلوق (پیدا کیا گیا ) بھی آتا ہے۔ (قبل): پہلے۔ یہ لفظ اردو میں بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔ (لعلکم ): (لعل۔ کم ) شاید کہ تم، تا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلف نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں، منافقوں اور اہل کتاب سب کو خالص عبادت الہی کی اور جس خالص توحید الہی کی ترغیب نبی آخر الزماں ﷺ دلاتے تھے، اس کے اتباع کی تاکید ان سب کو فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[18] یعنی جب تم اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی کرنے والا نہیں تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–22
(ف 1) ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انعام گنائے ہیں اور توجہ دلائی ہے غافل انسان کو یہ کہ وہ زمین کی طرف دیکھے کس قدر آرام دہ ہے آسمان کی طرف نظر دوڑائے کیونکہ چھت کی طرح ہم پر سایہ فگن ہے ۔ آسمان کی طرف سے پانی پرستا ہے اور ہمارے روکھے سوکھے باغ لہلہا اٹھتے ہیں اور اثمار ونتائم کا انبار لگ جاتا ہے ، کیا یہ نعمتیں ایک خدا کی طرف سے نہیں ؟
قرآن حکیم روزہ مرہ کے مشاہدات کی طرف ہماری توجہ مبذول کرتا ہے ، اور قیمتی نتائج پیدا کردیتا ہے ، وہ کہتا ہے ، ان سب چیزوں کو بنظر غور وتعمق دیکھو ، ایک خدا کی خدائی کس طرح واضح اور بین طور پر نظر آرہی ہے ، قرآن حکیم کا اصرار ہے کہ اس کی پیش گاہ جلالت میں کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1۔ اور اگر تم کو اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک و شبہ ہو کہ یہ ہم نے نازل نہیں کی بلکہ اس کتاب کو ہمارے بندے نے بنایا ہے تو تم اسکی مثل ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا کرلے آئو اور تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں اور حمایتوں کو بلا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اس کتاب کی مثل کوئی چھوٹی سی سورت باوجود اپنے حمایتوں کے بنا کر نہ لائے اور ہم کہتے ہیں کہ تم اس قرآن کا جواب بنا کر لا بھی نہ سکو گے تو پھر اس آگ سے بچنے کی فکر کروجس آگ کا ایندھن بجائے لکڑی اور کوئلے کے آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں اور دین حق…
Read the full tafseer →ف 4۔ یعنی اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز خدا تعالیٰ کے کوئی کرنے و الا نہیں۔ تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ خدا کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناو۔
Read the full tafseer →زمین و آسمان کی صدائے وحدت :
49: فراش کے معنی مفروش یعنی پھیلائی ہوئی چیز کے ہیں۔ امام راغب کہتے ہیں کہ اس سے مراد یہ ہے کہ زمین کو ایسا بنایا جس پر انسان قرار پکڑ سکتا ہے اگر انسان کی پیدائش اللہ تعالیٰ کی عظمت کی دلیل ہے تو زمین و آسمان کی پیدائش اور بناوٹ اس عظمت کا اور بھی بلند تر احساس پیدا کرتی ہے زمین کو فرش اور آسمان کو چھت یا عمارت کہنے سے یہ بات بھی واضح ہوتی ہے کہ فرش بچھانے ، چھت یا عمارت بنانے میں ایک خاص نظم و نسق یا ایک خاص ترتیب موجود ہوتی ہے جس میں اس بات کا واضح اشارہ دیا جارہا ہے کہ وہ ذات جو ان سب کی بنانے والی ہے وہ بہت ہی مدبر بالا رادہ ذات ہے کیونکہ ہر صنعت صانع کا پتہ…
Read the full tafseer →That is to say, once one has understood that, in reality, Allah alone is the Creator and the Provider, one will have also understood that no one else can be worthy of worship and of being associated with Allah as an equal or rival god.
To sum up, these two verses call men to what is the essential purpose of sending down all the Divine Books and all the prophets – Tauhid توحید ، or the affirmation and the worship of the one God.
Tauhid توحید is a doctrine which has an all-pervading and radically transforming impact on every sphere of human life, internal as well as external, individual as…
Read the full tafseer →23. That is, when man recognizes that all those things were done by none but God, then worship, devotion and service must be exclusively for Him. For who besides the Creator can legitimately claim these things from man?
Not to set up others as rivals to Allah means not to make anyone other than God the object of worship, service and obedience that one owes to God alone. Later on we shall see, in some detail, how the Qur'an itself specifies the forms of worship and service which we owe exclusively to God, and wherein associating anyone else amounts to shirk (associating others with God in His…
Read the full tafseer →