Explained with ayahs 23–24
تصدیق نبوت اعجاز قرآن
توحید کے بعد اب نبوت کی تصدیق کی جا رہی ہے کفار مکہ کو خطاب کر کے فرمایا جا رہا ہے کہ ہم نے جو قرآن پاک اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر اتارا ہے اسے اگر تم ہمارا کلام نہیں مانتے تو تم اور تمہارے مددگار سب مل کر پورا قرآن نہیں صرف ایک سورت تو اس جیسی بنا لاؤ۔ جب تم ایسا نہیں کرسکتے اور اس سے عاجز ہو تو پھر اس قرآن کے کلام اللہ ہونے میں کیوں شک کرتے ہو ؟ اپنے ہم فکر اور مددگار سب کو جمع کرو تو بھی تم سب ناکام رہو گے۔ مطلب یہ ہے کہ جنہیں تم نے اپنا معبود بنا رکھا ہے انہیں بھی بلا لو اور ان سے بھی مدد چاہو پھر اس جیسی ایک سورت ہی تو بنا لاؤ۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ تم اپنے حاکموں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 23
یعنی جب تم خود بھی اس بات کے قائل ہو اور تمہیں معلوم ہے کہ یہ سارے کام اللہ ہی کے ہیں، تو پھر تمہاری بندگی اسی کے لیے خاص ہونی چاہیے، دوسرا کون اس کا حق دار ہوسکتا ہے کہ تم اس کی بندگی بجا لاؤ ؟ دوسروں کو اللہ کا مدِّ مقابل ٹھہرانے سے مراد یہ ہے کہ بندگی و عبادت کی مختلف اقسام میں سے کسی قسم کا رویّہ خدا کے سوا دوسروں کے ساتھ برتا جائے۔ آگے چل کر خود قرآن ہی سے تفصیل کے ساتھ معلوم ہوجائے گا کہ عبادت کی وہ اقسام کون کون سی ہیں جنہیں صرف اللہ کے لیے مخصوص ہونا چاہیے اور جن میں دوسروں کو شریک ٹھہرانا وہ ”شرک“ ہے، جسے روکنے کے لیے قرآن آیا ہے۔
Read the full tafseer →رسالت محمدی کا اثبات
بذریعہ اعجاز قرآن
وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَةٍ مِّنْ مِّثْلِهٖ وَادْعُوْا شُهَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 23 فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِىْ وَقُوْدُھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ اُعِدَّتْ لِلْكٰفِرِيْنَ
خلاصہ تفسیر
اگر تم لوگ کچھ خلجان میں ہو اس کتاب کی نسبت جو ہم نے نازل فرمائی ہے اپنے بندے خاص پر تو پھر تم بنا لاؤ ایک محدود ٹکڑا جو اور اس کا ہم پلہ ہو (کیونکہ تم بھی عربی زبان جانتے ہو اور اس کی نظم ونثر کے مشاق ہو پیغمبر ﷺ نے اس کی کوئی مشق بھی…
Read the full tafseer →’شہید‘ کا مفہوم: اُدْعُوْا شُہَدَآءَ کُمْ: شھید، قوم کے اس لیڈر، ترجمان اور نمائندہ کو کہتے ہیں، جو اہم مواقع پر اس کی ترجمانی اور نمائندگی کرتا ہے اور اس کا حمایتی بن کر کھڑا ہوتا ہے۔ یہ حمایتی انسانوں میں سے بھی ہو سکتے تھے اور اہل عرب کے اعتقاد کے مطابق جنوں میں سے بھی ہو سکتے تھے۔ عرب جاہلیت میں شاعروں اور خطیبوں کی بڑی عزت و عظمت تھی کیونکہ یہی لوگ تمام اہم مواقع پر قومی وقار کے محافظ بن کر کھڑے ہوتے تھے۔ مشرکین عرب یہ عقیدہ بھی رکھتے تھے کہ ہر شاعر کے ساتھ ایک جن ہوا کرتا ہے جو اس کو شعر الہام کرتا ہے۔ چنانچہ وہ قرآن کے متعلق بھی یہ گمان رکھتے تھے کہ یہ بھی اسی قسم کے الہام کا کرشمہ ہے۔…
Read the full tafseer →23۔ 1 توحید کے بعد اب رسالت کا اثبات فرمایا جا رہا ہے ہم نے بندے پر کتاب نازل فرمائی ہے اس کے منزل من اللہ ہونے میں اگر تمہیں شک ہے تو اپنے تمام حمایتیوں کو ساتھ ملا کر اس جیسی ایک ہی سورت بنا کر دکھا دو اور اگر ایسا نہیں کرسکتے تو سمجھ لینا چاہیے کہ واقع یہ کلام کسی انسان کی کاوش نہیں ہے کلام الہی ہی ہے اور ہم پر اور رسالت مآب پر ایمان لا کر جہنم کی آگ سے بچنے کی سعی کرنی چاہیے جو کافروں کے لئے ہی تیار کی گئی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
18 ان دو آیتوں (آیت نمبر : 21 اور 22) میں اسلام کے بنیادی عقیدے توحید کی دعوت دی گئی ہے اور مختصر انداز میں اس کی دلیل بھی بیان کردی گئی ہے اہل عرب یہ مانتے تھے کہ ساری کائنات کو پیدا کرنا، زمین و آسمان کی تخلیق اور آسمان سے بارش برسانا اور اس سے پیداوار اگانا، یہ سب کام اللہ تعالیٰ کے ہیں، اس کے باوجود یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے بہت سے کام بتوں کے سپرد کر رکھے ہیں اور وہ بت اپنے کاموں میں براہ راست فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں، لہذا وہ ان بتوں کی عبادت اس لئے کرتے تھے کہ وہ ان کی مدد کریں، اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ جب ہر چیز پیدا کرنے والے ہم ہیں اور ہمیں کائنات چلانے کے لئے کسی…
Read the full tafseer →یہودیوں کو نبی ﷺ کی رسالت میں شک تھا ۔ منافقین بھی اس میں شک کرتے تھے اور مشرکین کی بھی یہی حالت تھی ۔ قرآن کریم یہاں سب کو چیلنج دیتا ہے ۔ اور ان کے سامنے ایک فیصلہ کن عملی تجربہ رکھ کر ان کو دعوت دیتا ہے کہ وہ اس قرآن جیسی کتاب بنالائیں۔
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَى عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ (23)
” اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ، یہ ہماری ہے یا نہیں ، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنالاؤ، اپنے سارے ہم نواؤں کو بلالو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس کی…
Read the full tafseer →3 یہ بات گزر چکی ہے کہ اس کلام پاک میں شبہ کی وجہ یا یہ ہوسکتی تھی کہ اس کلام میں کوئی بات کھٹکے کی ہو سو اس کے دفعیہ کے لئے لا ریب فیہ فرما چکے ہیں۔ اور یا یہ صورت ہوسکتی ہے کہ کسی کے دل میں اپنی کوتاہی فہم یا زیادت عناد سے شبہ پیدا ہو تو یہ صورت چونکہ ممکن بلکہ موجود تھی تو اس کے رفع کرنے کی عمدہ اور سہل صورت بیان فرما دی کہ اگر تم کو اس کلام کے کلام بشری ہونے کا خیال ہے تو تم بھی تو ایک سورة ایسی فصیح وبلیغ تین آیت کی مقدار بنا دیکھو اور جب تم باوجود کمال فصاحت و بلاغت چھوٹی سی سورة کے مقابلہ سے بھی عاجز ہوجاؤ تو پھر سمجھ لو کہ یہ اللہ کا کلام ہے کسی بندہ کا نہیں، اس آیت میں آپ کی نبوت کو…
Read the full tafseer →آیت 23 وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا ‘
”تعارف قرآن“ میں یہ بات تفصیل سے بیان کی گئی تھی کہ قرآن حکیم میں ایسے پانچ مقامات ہیں جہاں پر یہ چیلنج موجود ہے کہ اگر تمہارا یہ خیال ہے کہ یہ کلام محمد ﷺ کی اختراع ہے تو تم بھی مقابلے میں ایسا ہی کلام پیش کرو۔ سورة الطور کی آیات 33 ‘ 34 میں ارشاد ہوا : ”کیا ان کا یہ کہنا ہے کہ اسے محمد ﷺ نے خود گھڑ لیا ہے ؟ بلکہ حقیقت یہ ہے کہ یہ ماننے کو تیار نہیں۔ پھر چاہیے کہ وہ اسی طرح کا کوئی کلام پیش کریں اگر وہ سچے ہیں“۔ سورة بنی اسراء یل آیت 88 میں فرمایا گیا کہ ”اگر تمام جن و انس جمع ہو کر بھی اس قرآن جیسی کتاب پیش کرنا چاہیں…
Read the full tafseer →27 قرآن کا چیلنج اور اس کی معجزانہ حیثیت :۔ اس آیت میں خالصتاً کافروں کو خطاب کیا جا رہا ہے کہ اگر تمہیں اس کلام (قرآن) کے اللہ کا کلام ہونے میں شک ہے تو پھر تم سب مل کر اس جیسی ایک سورت ہی بنا کر دکھاؤ۔ حقیقت حال از خود تم پر واضح ہوجائے گی۔ کافروں کو اس قسم کا چیلنج قرآن کریم میں چار اور مقامات پر بھی کیا گیا ہے یعنی سورة یونس کی آیت نمبر 14، سورة ہود آیت نمبر 13، سورة بنی اسرائیل آیت 88 اور سورة طور کی آیت نمبر 34 میں اور یہ ایسا چیلنج ہے۔ جس کا جواب کفار سے نہ اس دور میں میسر آسکا نہ آج تک میسر آیا ہے اور نہ ہی آئندہ تا قیامت میسر آسکے گا اور قرآن کریم کی یہ اعجازی حیثیت آج تک بدستور مسلم…
Read the full tafseer →70 ۔ (یعنی اس کے کلام الہی ہونے کے باب میں اے کافرو اور منکرو ! ) خطاب یہاں (آیت) ” یایھا الناس “ کے تحت میں ساری دنیا سے ہورہا ہے، صرف اہل عرب یا قریش سے نہیں۔ ارشاد ہورہا ہے کہ اگر تمہارے خیال میں یہ کلام الہی نہیں، تو یقیناً ایک انسانی تصنیف ہوگی۔ اور جب ایک انسان ایسی تصنیف پر قادر ہے تو دوسرا بھی ہوسکتا ہے، چہ جائیکہ لائق وفائق انسانوں کا ایک پورا مجمع ! کلمہ اسلام کے اجزائے ترکیبی دو ہیں، ایک توحید باری، دوسرے رسالت محمدی ﷺ ۔ توحید کا بیان اوپر کی دو آیتوں میں ہوچکا، اب دعوت تصدیق رسالت کی دی جارہی ہے۔
71 ۔ (جن کا نام محمد ﷺ ہے) سیاق وموقع ظاہر ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے خاص قرب واختصاص کے…
Read the full tafseer →ربط آیات : وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رِیْبِ شک، مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلیٰ عَبْدِنَا : (الآیۃ) سابقہ دو آیتوں میں توحید کا اثبات تھا، ان دو آیتوں میں رسالت محمد ﷺ کا اثبات ہے، قرآن جو ہدایت لے کر آیا ہے اس کے دو ستون ہیں، توحید اور رسالت، اس آیت میں بڑی قوت اور شدت کے ساتھ پوری دنیا کو چیلنج کیا گیا ہے کہ اگر یہ کلام محمد ﷺ پر نازل کردہ خدائی کلام نہیں ہے، تو ایک فرد نہیں پوری جماعت مل کر ایک چھوٹی سے سورت اس کے مثل لے آؤ، یہ چیلنج مکی زندگی میں بھی بارہا کیا جاچکا تھا اور اب مدینہ پہنچ کر بھی اس کا اعادہ کیا جار ہا ہے، یعنی اگر تم اس کو انسانی تصنیف سمجھتے ہو تو تم بھی انسان ہو اس جیسی چند آیات ہی…
Read the full tafseer →وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا (اور اگر تم اس کلام سے شک میں ہو جو ہم نے اتارا) نَزَّلْنَا کے یہ معنی ہیں کہ ہم نے تھوڑا تھوڑا حسب ضرورت و واقعات نازل کیا اور یہ اس لئے فرمایا کہ زیادہ تر شک کا سبب یہی تھا کیونکہ لوگ اور شعراء کے کلام پر اسے بھی قیاس کرتے تھے ( یعنی کہتے تھے اگر یہ کلام باری تعالیٰ ہوتا تو ایک ہی دفعہ کل کا کُل نازل ہوجاتا یہ تو بشر کا کلام ہے جیسے اور شاعر بتدریج اشعار کہتے ہیں اسی طرح یہ بھی ہے چنانچہ) ان کے اس زعم فاسد کو حق تعالیٰ نے دوسرے مقام پر بیان بھی فرمایا ہے لَوْ لَا نُزِّلَ عَلَیْہِ الْقُرْاٰنُ جُمْلَۃً وَّاحِدَۃً (یعنی یہ قرآن محمد ﷺ پر ایک ہی…
Read the full tafseer →(23) تم اپنی کتابوں میں یہ بات پاتے ہو کہ اس وحدہ لاشریک کی نہ کوئی اولاد ہے اور نہ کوئی اس کے مشابہ اور شریک ہے اور اگر تمہیں اس کلام میں جو کہ ہم نے بذریعہ جبریل امین اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر اتارا ہے، شک ہے کہ یہ کلام انہوں نے خود بنا لیا ہے تو اس کلام جیسی ایک سورت لے آؤ اور اپنے ان معبودوں کو بھی ساتھ ملا لو جن کی تم عبادت کرتے ہو یا اپنے سرداروں کو بلا لو اگر تم اپنی بات میں سچے ہو اور حقیقت یہ ہے کہ ایک سو رہ بھی تم ہرگز اس جیسی لانے پر قادر نہیں ہوسکتے۔
Read the full tafseer →سورت کے شروع میں اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو (ُ لَا رَيْبَ) قرار دیا، اب فرمایا کہ (اس کتاب میں کوئی شک تو نہیں لیکن) اگر تم اس کے بارے میں کسی ادنیٰ سے شک میں بھی مبتلا ہو تو اس جیسی ایک سورت بنا کرلے آؤ۔ یہ چیلنج پہلے اس کتاب جیسی ایک کتاب لانے کا کیا گیا۔ [ بنی إسرائیل : 88 ] پھر اس جیسی دس سورتیں لانے کا۔ [ ہود : 13 ] پھر مکہ میں اس جیسی ایک سورت لانے کا چیلنج کیا گیا۔ [ یونس : 38 ] اب مدینہ میں یہ چیلنج دہرایا جا رہا ہے، کیونکہ سورة بقرہ مدنی ہے۔
پچھلی دو آیات میں شرک کی تردید اور توحید کی دعوت ہے۔ ان آیات میں رسول اللہ ﷺ کی رسالت پر ایمان لانے کی دعوت ہے۔
عَبْدِنَا اگرچہ تمام بندے اللہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 23
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وان کنتم فی ریب یعنی اگر تم شک میں ہو، مما نزلنا یعنی القرآن۔ اس آیت کا مخاطب مشرک ہیں جن کو چیلنج کیا گیا کیونکہ انہوں نے جب قرآن سنا تو کہا : یہ اللہ تعالیٰ کے کلام کے مشابہ نہیں ہے۔ ہم اس میں شک کرتے ہیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔ اس آیت کا ماقبل سے اتصال اس طرح ہے کہ اللہ تعالیٰ نے جب پہلی آیت میں اپنی وحدانیت وقدرت پر دلالت کو ذکر کیا تو اس کے بعد اپنے نبی کی نبوت پر دلالت کو ذکر کیا ہے کہ وہ جو کچھ لے کر آیا ہے وہ اس کا اپنا گھڑا ہوا نہیں ہے۔
عبدنا : یعنی محمد ﷺ ۔ عبد، تعبد سے ماخوذ ہے جس کا معنی عجزو انکساری کرنا، غلام کو عبد اس لئے کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(1) امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور بیہقی نے دلائل النبوۃ میں حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا انبیاء میں سے کوئی نبی ایسا نہیں مگر اس کا ایسے معجزات دئیے گئے جن پر لوگ ایمان لے آئے۔ اور مجھے قرآن دیا گیا جو اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی کیا ہے میں امید کرتا ہوں کہ میں ان (انبیاء) میں سے تابعداری کے لحاظ سے قیامت کے دن زیادہ ہوں گا۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے حضرت حسن ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وان کنتم فی ریب “ الآیۃ سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ کا یہ قول کفار میں سے اس شخص کے لئے ہے جس نے اس چیز میں شک کیا جس کو محمد ﷺ لے کر آئے۔
(3) امام عبد الرزاق، عبد بن حمید، ابن…
Read the full tafseer →[ وَاِنْ : اور اگر ] [ كُنْتُمْ : تم لوگ ہو ] [ فِىْ رَيْبٍ : کسی شک میں ] [ مِّمَّا : اس کے بارے میں جو ] [ نَزَّلْنَا : ہم نے اتارا ] [ عَلٰي عَبْدِنَا : اپنے بندے پر ] [ فَاْتُوْا : تو تم لوگ آؤ ] [ بِسُوْرَةٍ : ایک سورة کے ساتھ ] [ مِّنْ مِّثْلِهٖ ۠ : کس طرح اسکے جیسی ] [ وَادْعُوْا : اور تم لوگ بلاؤ ] [ شُهَدَاۗءَكُمْ : اپنے مددگاروں کو ] [ مِّنْ دُوْنِ اللّٰهِ : اللہ کے علاوہ ] [ اِنْ كُنْتُمْ : اگر تم لوگ ہو ] [ صٰدِقِيْنَ : سچے ]
Read the full tafseer →رسالت محمدیہ ﷺ کی دلیل اور قرآن پاک کا اعجاز
توحید کے ثابت کرنے کے بعد رسالت کے ماننے اور تسلیم کرنے کی دعوت دی جا رہی ہے، کوئی شخص خالق ومالک کو مان لے تو اس کی معرفت کی بھی ضرورت رہتی ہے اس کی ذات وصفات کو جاننا اور ماننا لازم ہے اور ان کا علم خود بخود نہیں ہوسکتا اور خالق ومالک جل مجدہ کی عبادت کے طریقے اپنے پاس سے ایجاد نہیں کئے جاسکتے۔ لہٰذا ان سب چیزوں کے سمجھانے اور بتانے کے لیے اللہ جل شانہٗ نے حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو مبعوث فرمایا، جو انسان تھے اور انسانوں سے انسان کی زبان میں بات کرتے تھے، جتنے بھی انبیاء (علیہ السلام) مبعوث ہوئے ان کو نبوت ثابت کرنے کے لیے ہر ایک زمانہ کے…
Read the full tafseer →اثبات رسالت نبی کریم علیہ افضل الصلوۃ والتسلیم بضمن اثبت حقی قرآن عظیم
قال تعالیٰ وان کنتم فی ریب مما نزلنا۔۔۔ الی۔۔۔ اعدت للکافرین
(ربط) گزشتہ آیات میں عبادت اور معرفت معبود کے طریقے بتلائے اور محکم دلائل سے وجود صانع اور اس کی توحید کو ثابت کیا اور شرک کو باطل کیا اب ان آیات میں دلائل نبوت بیان کرتے ہیں جس سے آنحضرت ﷺ کی نبوت و رسالت کی معرفت حاصل ہو۔ اور معرفت نبوت کا طریقہ معجزہ اس لیے ان آیات میں نبی اکرم ﷺ کی نبوت و رسالت ثابت کرنے کے لیے آپ کے سب سے اعلی اور افضل معجزہ کو ذکر کرتے ہیں۔ تاکہ آپ کی نبوت و رسالت میں منکرین کو کوئی شبہ باقی نہ رہے۔
ربط دیگر : علاوہ ازیں گزشتہ آیات میں…
Read the full tafseer →ف 50 ۔ یہ مشرکین کے پہلے شبہ کا جواب ہے یعنی جو کچھ ہم نے اپنے بندے حضرت محمد ﷺ پر نازل کیا ہے اگر اس کے اللہ کی طرف سے ہونے میں تمہیں کسی قسم کا شبہ ہے تو اس کا واحد علاج حسب ذیل ہے ومعنی قولھم فی ریب منہ فی کونہ وحیا من اللہ تعالیٰ شانہ (روح ص 192 ج 1) ۔
51 ۔ کہ تم بھی زیادہ نہیں صرف ایک ہی سورت ایسی بنا لاؤ جو فصاحت وبلاغت میں، مضامین کی ندرت میں، واقعات ماضیہ اور آیۃ کی صداقت میں، امثال ومواعظ کی اثر انگیزی میں، دلائل وبراہین کی جامعیت اور معقولیت میں محمد ﷺ کے پیش کردہ قرآن کی مثل اور ہم پلہ ہو۔ حضرت شیخ (رح) فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کا معجزہ ہونا صرف فصاحت وبلاغت ہی کے اعتبار سے نہیں ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
گزشتہ سے پیوستہ : سورة کے ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے “ اھدنا الصراط المستقیم ” کا جواب “ ذلک الکتب لاریب فیہ ” سے دیا۔ پھر انسانون کے تین گروہ بیان فرمائے۔ پہلا مومنین ، متقین کا گروہ۔ اور اس کے اوصاف بیان فرمائے۔ اس کے بعد دوسرے گروہ کفار کا ذکر کیا جو ظاہراً اور باطناً اللہ تعالیٰ کی توحید اس کے دین اور قیامت کے منکر ہیں اس کے بعد تیرہ آیات میں منافقین کا حال ذکر کیا۔ جو سب سے زیادہ خطرناک گروہ ہے ان کی علامات کارنامے اور ان کی ذہنیت کا بیان ہوا۔ اس کے بعد مثالوں کے ذریعے ہر قسم کے منافقوں کی نشاندہی کی ۔ جو کفر میں پکے ہوچکے ہیں یا پھر ابھی متردد ہیں۔ اور پھر ان کے برے انجام کا بھی ذکر…
Read the full tafseer →وَاِنْ كُنْتُمْ فِىْ رَيْبٍ مِّـمَّا نَزَّلْنَا عَلٰي عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ 0 ۠ وَادْعُوْا شُہَدَاۗءَكُمْ مِّنْ دُوْنِ اللہِ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ 23
ريب
فَالرَّيْبُ : أن تتوهّم بالشیء أمرا مّا، فينكشف عمّا تتوهّمه، قال اللہ تعالی: يا أَيُّهَا النَّاسُ إِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِنَ الْبَعْثِ [ الحج/ 5] ،
( ر ی ب )
اور ریب کی حقیقت یہ ہے کہ کسی چیز کے متعلق کسی طرح کا وہم ہو مگر بعد میں اس تو ہم کا ازالہ ہوجائے ۔ قرآن میں ہے :
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنا عَلى عَبْدِنا [ البقرة/ 23] اگر تم کو ( قیامت کے دن ) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
دیکھی جاتی ہے کہ کسی مرشد برحق یا غیر برحق کے خیالات پر اہل غرض اور بےاحتیاط مفسر کبھی کبھی اپنے خیالات کی قلعی چڑھا لیا کرتے ہیں الخ اگر سید صاحب زوائدِ اسلام کو خارج کرکے اسلام جو قرآن و حدیث میں ہے دکھلاتے اور پھر ثابت کرتے کہ علوم کی روشنی اور مخالفوں کے اعتراض سے محفوظ ہے تو ان کی یہ کوشش قابل تحسین و شکر تھی لیکن سید صاحب نے ملحدوں اور لامذہبوں اور حکمائِ مخالفین انبیاء کے اصول اور کلکتہ کے بنگالیوں کے خیالات جن کے دلوں میں سے بت پرستی کو انگریزی تعلیم نے نکالا اور ملحد انگریزوں کے اصولوں کو جمع کرکے قرآن و حدیث میں جمع کرنے کا پورا بندوبست کرلیا اور یہ بھی اس طرح پر کہ قرآن و حدیث کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا عَلٰی عَبْدِنَا فَاْتُوْا بِسُوْرَۃٍ مِّنْ مِّثْلِہٖ ص وَادْعُوْا شُہَدَآئَ کُمْ مِنْ دُوْنِ اللّٰہِ اِنْ کُنْتُمْ صٰدِقِیْنَ ۔ فَاِنْ لَّمْ تَفْعَلُوْا وَلَنْ تَفْعَلُوْا فَاتَّقُوْ النَّارَالَّتِیْ وَقُوْدُ ھَا النَّاسُ وَالْحِجَارَۃُ ج اُعِدَّتْ لِلْـکٰفِرِیْنَ ۔
(اگر تم شک میں ہو اس چیز کی جانب سے جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے۔ تو لائو، اس کے مانند کوئی سورت اور بلالو اپنے حمائیتوں کو بھی اللہ کے سوا اگر تم سچے ہو۔ پس اگر تم نہ کرسکو اور ہرگز نہ کرسکوگے تو پھر ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن آدمی اور پتھر بنیں گے، جو تیار کی گئی ہے کافروں کے لیے)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
فہم القرآن
ربط کلام : توحید کے بیان کے بعد قرآن مجید کے بارے میں چیلنج دیا گیا ہے کیونکہ قرآن نے ہی توحید کے دلائل اور دیگر مسائل بتلائے ہیں اس لیے ابتدا میں قرآن کی حقانیت کے بارے میں شک کرنے والوں کو چیلنج دیا گیا ہے کہ یہ قرآن من جانب اللہ ہے کسی انسان کی ذہنی اختراع نہیں ہے اگر پھر بھی تمہیں یقین نہیں آتا تو تم ایسا کلام بنا کر دکھاؤ۔
اہل مکہ جناب رسالت مآب ﷺ کی نبوت کے انکار کے لیے مختلف بہانے بنایا کرتے تھے۔ کبھی کہتے کہ نبوت کے منصب جلیلہ کے لیے معاشی اعتبار سے خوشحال، سیاسی لحاظ سے طاقتور اور خاندانی اعتبار سے کسی بڑے قبیلے کا سردار ہونا چاہیے تھا۔ پھر مکہ میں ابو الحکم بن ہشام یعنی…
Read the full tafseer →فائدہ عطف :
اب اس پر عطف کیلئے وہ چیز لائے جو نبوت محمد ﷺ پر دلیل و حجت بن سکے اور اعجاز قرآن کو بھی پختہ کردیا جائے۔ پس فرمایا :
وَاِنْ کُنْتُمْ فِیْ رَیْبٍ مِّمَّا نَزَّلْنَا (الاٰیۃ) (اور اگر تم شک میں ہو اس چیز کے متعلق جو ہم نے اتاری)
نحو : ممّا میں مَا نکرہ موصوفہ ہے یا الذی کے معنی میں ہے
عبد کی تعریف :
عَلٰی عَبْدِنَا : (اپنے بندے پر) العبد ! عقلاء کی جنس میں مملوک کو کہا جاتا ہے۔
المملوک : ایسا موجود جس کو غلبہ سے تابع کیا جائے۔
نزلنا کی حکمت :
نزلنا : فرمایا۔ انزلنا کی بجائے۔ کیونکہ تدریج وتنجیم سے اتارنا مراد ہے۔ اور تحدی و چیلنج کے موقعہ پر یہی مقابل بنتا ہے۔
مقولہ کفار :
اگر قرآن…
Read the full tafseer →23۔ (آیت)” وان کنتم فی ریب “ یعنی اور اگر تم شک میں ہو ‘ کیونکہ اللہ تعالیٰ اس بات کو جانتا ہے بیشک وہ شک میں ہیں ۔ (آیت)” ممانزلنا “ یعنی قرآن کریم (علی عبدنا) محمد ﷺ پر ” فاتو “ یہ حکم حکم تعجیر (امر تعجیر یہ ہوتا ہے کہ کسی کو ایسی چیز کا امر کرنا جسے وہ یقینا نہ کرسکتا ہو اور یہ بات امر کرنے والا بھی جانتا ہے مگر اس امر سے مقصود مخاطب کا عجز ظاہر کرنا ہوتا ہے ۔
” بسورۃ “ اور سورة قرآن کریم کے اس حصہ کا نام ہے جس کا اول وآخر معلوم ہو سورة اسارت سے ماخوذ ہے جس کا معنی بچی ہوئی چیز ، ہمزہ حذف کردیا گیا اور بعض نے کہا کہ سورة بلند مقام کا نام ہے اسی سے سورة البلد یعنی شہر کی فصیل ہے کیونکہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
(23 ۔ 24): اسلام کے بڑے دو ہی جز ہیں۔ ایک توحید دوسرے تسلیم رسالت اول آیت میں توحید الٰہی کا ذکر تھا اس آیت میں اللہ کے رسول کی رسالت کی تسلیم کا حکم ہے اور رسول کے بچے ہونے کی دلیل یہ بیان فرمائی ہے کہ یہ قرآن قریش کی زبان میں اترا ہے اور مکہ میں دس برس تک برابر قرآن اترتا رہا۔ اور قریش کو اپنی فضاحت و بلاغت کا بھی بڑا دعویٰ تھا اور ان کو ایک سورة قرآن کی مانند بنا کر لانے کو کہا بھی گیا مگر سوا عاجز ہوجانے کے اور کچھ ان سے نہ ہوسکا۔ جس سے یہ ثابت ہوا کہ یہ نبی برحق ہیں۔ اور جو کلام ان پر اترتا ہے وہ بیشک کلام الٰہی ہے کیوں کہ انسان اور جنات سب مل کر اس جیسا کلام بنانے سے عاجز ہیں۔ اس پر بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
آیت 23 تا 24
یہ رسول اللہ ﷺ کی صداقت اور وحی الٰہی کی صحت کی عقلی دلیل ہے۔ گویا فرمایا :” اے رسول کے ساتھ عناد رکھنے والو ! اس کی دعوت کو رد کرنے والو ! اور اسے جھوٹا سمجھنے والو ! اگر تم اس وحی کے بارے میں کسی شک و شبہ میں مبتلا ہو جو ہم نے اپنے بندے پر نازل کی ہے کہ آیا یہ حق ہے یا نہیں تو یہاں ایک ایسا معاملہ موجود ہے جسے ہم تمہارے اور اس کے درمیان فیصلہ کن انداز میں بیان کرتے ہیں اور وہ یہ کہ وہ بھی تمہاری طرح بشر ہے کسی اور جنس سے نہیں، جب سے وہ پیدا ہوا ہے اس وقت سے تم اسے جانتے ہو وہ لکھ سکتا ہے نہ پڑھ سکتا ہے۔ اس نے تمہارے سامنے ایک کتاب پیش کی ہے اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی…
Read the full tafseer →قول باری ہے : وان کنتم فی ریب مما نزلنا علی عبدنا فاتوا بسورۃ من مثلہ وادعوا شھدآء کم من دون اللہ ان کنتم صدقین (اور اگر تمہیں اس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے، یہ ہماری ہے یا نہیں، تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لائو، اپنے سارے ہمنوائوں کو بلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو مدد لے لو، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کر کے دکھائو۔ )
اس آیت میں کئی وجوہ سے حضور ﷺ کی نبوت کی صحت کی سب سے بڑی دلالت موجود ہے۔ ایک وجہ تو یہ ہے کہ اللہ نے مخاطبین کو اس جیسی ایک سورت پیش کرنے کا چیلنج کردیا اور پھر ببانگ دہل یہ اعلان کردیا کہ اپنی حمیت اور فخر و غرور کے باوجود وہ ایسا…
Read the full tafseer →64 ہمارے حضور کی شان عبدیت کا ذکر وبیان : یعنی " عبدنا " سے یہاں پر مراد امام الانبیاء حضرت محمد ﷺ ہیں، سو اگر تم لوگوں کو ان پر نازل کی جانے والی اس وحی کے بارے میں کسی بھی طرح کا کوئی شک ہو کہ یہ ہماری طرف سے نازل کردہ ہے، یا ان کی خود ساختہ، اور اس میں جو کچھ بتایا گیا ہے وہ سب حق اور سچ ہے یا نہیں، تو تمہارے لیے یہ چیلنج ہے، سو اس سے واضح فرما دیا گیا کہ عبدیت آنحضرت ﷺ کی ایک خاص صفت و شان ہے، اور اس میں آپ ﷺ وہ امتیازی درجہ اور مرتبہ رکھتے ہیں جو آپ ہی کے لائق ہے۔ اس لیے قرآن حکیم میں مختلف مقامات پر آپ ﷺ کی اسی شان عبدیت کا بطور خاص ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلاً سورة بنی اسرائیل میں ارشاد…
Read the full tafseer →کلام اللہ کا چیلنج
تشریح : اس آیت مبارکہ میں اللہ تعالیٰ کفار اور منافقین کو مخاطب کرکے فرماتے ہیں کہ اگر تمہیں قرآن کی سچائی پر کسی قسم کا شک ہے یعنی تم نہیں مانتے کہ یہ نبی کریم ﷺ پر اتاری گئی ہے تو تم اس کے مقابلے میں اس جیسی سورتبنا لاؤ۔ اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو کہ یہ انسانی کلام ہے، خدائی کلام نہیں یہ سب بیان کرنے کا مقصد محض یہ ہے کہ پچھلی آیات میں جو اللہ کی وحدانیت کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس طرح وہ اپنی صفات میں یکتا اور لاشریک ہے اسی طرح اس کی بھیجی ہوئی کتاب بھی لاجواب اور یکتا ہے۔
قرآن مجید علم و ادب کا خزینہ اور کائنات کی تمام دانائیوں کا منبع ہے محکم اور معقول ہے اس کا ایک ایک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–29
آیات 21- 29
اسرارو معارف
تفسیر : دنیا میں صرف دو قومیں ہیں :
یا ایھا الناس اعبدوار بکم…وانتم تعلمون۔
ایمان وکفر کا فرق اور مومن کے اوصاف اور کافر کی عادات ارشاد فرما کر پوری آبادی میں صرف دو قومیں مقرر فرمائی ہیں۔ ایک مومن دوسری کافر جو محض دعویٰ کرنے سے نہیں بن سکتا بلکہ ایمان اور کفر کا معیار بھی ارشاد ہوا اور ایمان کا دعویٰ کرنے والے ان کافروں کی نشاندہی بھی فرما دی گئی جو عقائد تو کفر یہ رکھتے ہیں مگر مدعی اسلام کے ہیں ۔ ان کی حرکات فساد کا سبب ہیں جس کو وہ اصلاح کا نام دیتے ہیں یہ کفر ہی کی خطرناک تر قسم ہے کوئی تیسری قوم نہیں جب حق و باطل واضح ہوگیا تو اب صلائے عام ہے ساری نوع انسانی کو…
Read the full tafseer →ف 3 گزشتہ دو آیتوں میں توحید کی دعوت اور شرک کا رد ہے اب یہاں سے رسالت اور بنوت پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی ہے اور اس سلسلے میں قرآن کے معار ضہ کی دعوت دی جا رہی ہے اس سے پہلے یہی چیلنچ مکہ میں کئی بار دیا جا چکا ہے۔ (دیکھئے سورت یونس رکوع :5 سجفہ ہو و رکوع 2 وغیرہ)
Read the full tafseer →(2:23) ان کنتم ۔ ان شرطیہ ہے۔
ریب۔ راب۔ یریب۔ ریب (باب ضرب) کا مصدر ہے بمعنی شک میں ڈالنا۔ اداب یریب ادابۃ (باب افعال) سے بھی شک میں ڈالنا کے معنی آتے ہیں، ریب۔ اس شک یا وہم کو کہتے ہیں جس کا بعد میں ازالہ ہوجائے۔ جیسے آیت ہذا۔ یا ان کنتم فی ریب من البعث (2:25) اگر تم کو (قیامت کے دن) پھر جی اٹھنے میں کسی طرح کا شک ہو۔
ریب المنون ۔ (52:30) گردش زمانہ، زمانہ کے ھوادث کہ ان کے وقوع میں شک رہتا ہے کہ کب وقوع پذیر ہوجاویں۔
مما۔ من اور ما سے مرکب ہے من جار ہے اور ما موصولہ ہے۔ اس کا صلہ اگلا جملہ نزلنا علی عبدنا ہے۔ نزلن۔ ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ تنزیل (تفعیل) مصدر۔
تنزیل۔ کے معنی ہیں ٹکڑے ٹکڑے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–24
لغات القرآن : آیت نمبر 21 تا 24
(یایھا ) : اے (حرف ندا) کسی کو آواز دینے اور بلانے کے لئے یہ حرف استعمال کیا جاتا ہے۔ اگر کسی مونث کو ندا دی جائے تو ” یایتھا “ آئے گا۔ دونوں کے معنی ایک ہی ہیں۔ (اعبدوا): (اعبد) تم عبادت و بندگی کرو۔ عبادت صرف چند رسموں کا نام نہیں ہے بلکہ اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے ہر حکم کو عاجزی، ادب واحترام کے ساتھ ماننا، اطاعت و فرمان برداری کرتے ہوئے زندگی کو پوری طرح ادا کرنا عبادت ہے۔ (خلق): اس نے پیدا کیا۔ اسی خالق (پیدا کرنے والا) اور مخلوق (پیدا کیا گیا ) بھی آتا ہے۔ (قبل): پہلے۔ یہ لفظ اردو میں بھی اسی معنی میں بولا جاتا ہے۔ (لعلکم ): (لعل۔ کم ) شاید کہ تم، تا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 21–23
حضرت عبداللہ بن مسعود ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ جس خدا نے انسان کو پیدا کیا ہے۔ اس کی تعظیم اور عبادت میں کسی کو شریک کرنا اس سے بڑھ کر کوئی گناہ دنیا میں نہیں ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس اور عبداللہ بن مسعود ؓ اور سلف نے فرمایا ہے کہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بت پرستوں، منافقوں اور اہل کتاب سب کو خالص عبادت الہی کی اور جس خالص توحید الہی کی ترغیب نبی آخر الزماں ﷺ دلاتے تھے، اس کے اتباع کی تاکید ان سب کو فرمائی ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–23
[18] یعنی جب تم اس بات کو جانتے ہو کہ ان تصرفات کا بجز اللہ تعالیٰ کے کوئی کرنے والا نہیں تو اس صورت میں کب زیبا ہے کہ اللہ کے مقابلہ میں دوسروں کو معبود بناؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–25
جنت (ف 1) و دوزخ کی حقیقت :
جس طرح دنیا میں دو جماعتیں ہیں ، ایک ماننے اور عمل کرنے والی ، دوسری انکار کرنے والی اور فسق وفجور میں مبتلا رہنے والی ۔ اسی طرح اللہ کی رضا اور غضب کے دو مقام ہیں ، دوزخ یا جہنم نام ہے کے مقام غضب و جلال کا اور جنت کہتے ہیں اس کی رضا و محبت کے مظہر اتم کو ۔
چونکہ انسان روح و مادہ سے مرکب حقیقت کا نام ہے اور اس میں دونوں کے الگ الگ مقتضیات ہیں ‘ اس لئے ضروری ہے کہ سزا اور جزا میں دونوں چیزوں کا خیال رکھا جائے ، نہ صرف مادہ متاثر ہو اور نہ صرف روح منفعل ۔ قرآن حکیم نے اس نکتے کو بڑی وضاحت سے بیان فرمایا ہے ، وہ کہتا ہے جہنم میں تمہارے جسم کو بھی ایذا دی جائے گی اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 22–24
ف 1۔ اور اگر تم کو اس کتاب کے بارے میں جو ہم نے اپنے خاص بندے محمد ﷺ پر نازل فرمائی ہے کچھ شک و شبہ ہو کہ یہ ہم نے نازل نہیں کی بلکہ اس کتاب کو ہمارے بندے نے بنایا ہے تو تم اسکی مثل ایک چھوٹی سی سورت ہی بنا کرلے آئو اور تم اللہ تعالیٰ کے سوا اپنے تمام مدد گاروں اور حمایتوں کو بلا لو اگر تم اپنے اس دعوے میں سچے ہو ۔ پھر اگر تم نے ایسا نہ کیا اور اس کتاب کی مثل کوئی چھوٹی سی سورت باوجود اپنے حمایتوں کے بنا کر نہ لائے اور ہم کہتے ہیں کہ تم اس قرآن کا جواب بنا کر لا بھی نہ سکو گے تو پھر اس آگ سے بچنے کی فکر کروجس آگ کا ایندھن بجائے لکڑی اور کوئلے کے آدمی اور پتھر ہیں اور وہ آگ کافروں اور دین حق…
Read the full tafseer →ف 5۔ رسول مقبول ﷺ کو بیشمار معجزے عطا ہوئے جن میں سے سب سے بڑا معجزہ قرآن شریف ہے کہ اثبات نبوت کی بڑی دلیل ہے، اس کے معجزہ ہونے میں مخالفین کو یہ شبہ تھا کہ شاید اس کو رسول اللہ ﷺ خود تصنیف کرلیا کرتے ہوں۔ تو اس صورت میں اس کا معجزہ ہونا محل کلام میں ہوگیا پس دلیل نبوت مشتبہ ہوگئی، اس لئے اللہ تعالیٰ اس اشتباہ کو رفع فرماتے ہیں کہ تاکہ اس کا معجزہ ہونا ثابت ہوجائے پھر نبوت قطعی دلیل بن سکے۔
6۔ جب باوجود اس کے نہ بنا سکیں گے تو بشرط انصاف بلا تامل ثابت ہوجائے گا کلہ یہ معجزہ منجانب اللہ ہے اور بلا شبہ آپ پیغمبر ہیں اور یہی مقصود تھا۔
Read the full tafseer →پوری انسانیت کے لیے ایک چیلنج :
53: کلمہ اسلام کے اجزائے ترکیبی دو ہیں۔ ایک توحید الٰہی ، دوسرے رسالت محمدی ﷺ ۔ توحید کا بیان اوپر کی دو آیتوں میں ہوچکا ہے اب دعوت تصدیق رسالت کی دی جارہی ہے اور پیرایہ بیان ایسا اختیار کیا گیا ہے جو صرف قریش مکہ یا اہل عرب ہی کے لیے نہیں بلکہ پوری انسانیت کے لیے ایک چیلنج کی حیثیت رکھتا ہے۔ چیلنج بھی ایسا کہ کسی خاص وقت کے لیے نہیں بلکہ رہتی دنیا تک جب تک انسان کو انسان کہا جاتا رہے گا یا انسان ، انسان رہے گا یہ چیلنج موجود رہے گا جس طرح نزول قرآن کے وقت تھا اب بھی ہے اور قیامت کے وقت تک بدستود رہے گا۔ وہ چیلنج کیا ہے ؟ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر اسلام نے قرآن کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 23–24
The Guidance which the Holy Qur'an provides to man rests on two basic principles - Tauhid توحید (the Oneness of God) and Risalah (Prophethood). The two preceding verses (21 and 22) affirm the Oneness of God in presenting certain acts peculiar to Allah alone as a proof; these two verses (23 and 24) affirm the prophethood of Muhammad ﷺ in presenting the word of Allah as a proof. In both the places, the mode of argument is the same. The preceding verses mention certain things which no one could or can do except Allah - for example, creating the sky and the earth, sending down water from the sky,…
Read the full tafseer →24. Before this, in Makka, opponents had often been challenged to produce anything of comparable merit if they believed the Qur'an to be the work of a human being. In Madina the same challenge was reiterated. (For similar challenges made elsewhere in the Qur'an, see 10: 38; 11: 13; 17: 88 and 52: 33
Read the full tafseer →