Al-Baqara 2:8

Al-Baqara · from ayah 8

2:8

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا هُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۟ۘوَمِنَ النَّاسِ مَنۡ يَّقُوۡلُ اٰمَنَّا بِاللّٰهِ وَبِالۡيَوۡمِ الۡاٰخِرِ وَمَا هُمۡ بِمُؤۡمِنِيۡنَ‌ۘ‏

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And of the people are some who say, "We believe in Allah and the Last Day," but they are not believers.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 2 of surah · Ruku 2 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:8

بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، حالانکہ در حقیقت وہ مومن نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور بعض لوگ ایسے ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم خدا پر اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ ایمان نہیں رکھتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

بعض لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں، لیکن درحقیقت وه ایمان والے نہیں ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

کچھ لوگ وہ ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے، حالانکہ وہ (حقیقت میں) مومن نہیں ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور کچھ لوگ کہتے ہیں کہ ہم اللہ اور پچھلے دن پر ایمان لائے اور وہ ایمان والے نہیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور لوگوں میں سے بعض وہ (بھی) ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور یومِ قیامت پر ایمان لائے حالانکہ وہ (ہرگز) مومن نہیں ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور لوگوں میں سے کچھ وہ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے، حالانکہ وہ ہرگز مومن نہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں۔ حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور لوگوں میں کچھ ایسے بھی ہیں جو دعوی کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور کچھ لوگ ایسے ہیں جو (زبان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ پر اور قیامت کے دن پر مگر وہ ایمان دار ہیں نہیں

— مولانا اسحاق مدنی

اور کچھ لوگ ایسے (بھی) ہیں جو کہتے ہیں۔ کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ اور روز آخرت پر حالانکہ وہ (بالکل ہی) ایمان والے نہیں

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور لوگوں میں سے کچھ ایسے بھی ہیں جو کہتے تو یہ ہیں کہ ہم ایمان رکھتے ہیں اللہ پر بھی اور یوم آخر پر بھی مگر وہ حقیقت میں مؤمن نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور بعض وہ لوگ ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ پر ایمان رکھتے ہیں اور روز آخرت پر حالانکہ وہ ایمان رکھنے والے نہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

Then there are some who say, "We believe in Allah and the Last Day", whereas they do not believe at all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And among men there are some who say, :We believe in Allah and in the Last Day , yet they are not believers.

— Muhammad Taqi Usmani

And among men there are some who say, :We believe in Allah and in the Last Day , yet they are not believers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And of mankind, there are some who say: "We believe in Allah and the Last Day" while in fact they do not believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And of mankind are some who say: We believe in Allah and the Last Day, when they believe not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And of the people are some who say, "We believe in Allah and the Last Day," but they are not believers.

— Saheeh International

Some people say, "We believe in God and the Day of Judgment," but they are not true believers.

— Muhammad Sarwar

And there are some people who say: We believe in Allah and the last day; and they are not at all believers.

— Muhammad Habib Shakir

And of mankind are some who say: we believe in Allah and in the Last Day: whereas they are not believers.

— Abdul Majid Daryabadi

Of the people there are some who say: "We believe in Allah and the Last Day;" but they do not (really) believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:8

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 8–9

منافقت کی قسمیں۔ دراصل نفاق کہتے ہیں بھلائی ظاہر کرنے اور برائی پوشیدہ رکھنے کو۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں اعتقادی اور عملی۔ پہلی قسم کے منافق تو ابدی جہنمی ہیں اور دوسری قسم کے بدترین مجرم ہیں۔ اس کا بیان تفصیل کے ساتھ انشاء اللہ کسی مناسب جگہ ہوگا۔ امام ابن جریج فرماتے ہیں " منافق کا قول اس کے فعل کے خلاف، اس کا باطن ظاہر کے خلاف اس کا آنا جانے کے خلاف اور اس کی موجودگی عدم موجودگی ہوا کرتی ہے۔ نفاق مکہ شریف میں تو تھا ہی نہیں بلکہ اس کے الٹ تھا یعنی بعض لوگ ایسے تھے جو زبردستی بہ ظاہر کافروں کا ساتھ دیتے تھے مگر دل میں مسلمان ہوتے تھے۔ جب آنحضرت ﷺ ہجرت کر کے مکہ چھوڑ کر مدینہ تشریف لائے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْبَقَرَة 10 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کردیا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ پسند کرلیا، تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس مہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہوگا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کردیتا ہے، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے، اور آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور لوگوں میں بعض ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم ایمان لائے اللہ پر اور آخری دن پر حالانکہ وہ بالکل ایمان والے نہیں (بلکہ) چالبازی نہیں کرتے بجز اپنی ذات کے اور وہ اس کا شعور نہیں رکھتے (یعنی اس چالبازی کا انجام بد خود اپنے ہی کو بھگتنا پڑے گا) ان کے دلوں میں بڑا مرض ہے سو اور بھی بڑھا دیا اللہ نے ان کا مرض (اس مرض میں ان کی بداعتقادی اور اسلام اور مسلمانوں کی ترقی دیکھ کر حسد میں جلنا اور ہر وقت اپنا کفر ظاہر ہوجانے کی فکر وخلجان سب داخل ہیں مسلمانوں کی ترقی سے ان کا مرض حسد اور بڑہنا واضح ہے) اور ان کے لئے سزائے دردناک ہے اس وجہ سے کہ وہ جھوٹ بولا کرتے تھے (یعنی ایمان کا جھوٹا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مِنَ ٱلنَّاسِ: الناس کا لفظ اگرچہ عام ہے لیکن قرینہ دلیل ہے کہ یہاں اس عام سے ایک خاص گروہ مراد ہےاور وہ گروہ ہے یہود کا۔ اس تخصیص کی وجہ یہ ہے کہ صرف یہود ہی ہو سکتے تھے جن کے اندر کی کوئی جماعت وہ روپ دھار سکتی تھی جس کی طرف قرآن نے ان آیات میں اشارہ کیا ہے۔ آگے مستقل عنوان سے اس اجمال کی وضاحت آئے گی۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 8–9

1 یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا تذکرہ شروع ہوتا ہے جن کے دل تو ایمان سے محروم تھے مگر وہ اہل ایمان کو فریب دینے کے لئے زبان سے ایمان کا اظہار کرتے تھے اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ وہ نہ اللہ کو دھوکا دینے میں کامیاب ہوسکتے ہیں کیونکہ وہ تو سب کچھ جانتا ہے اور اہل ایمان کو مستقل فریب میں رکھ سکتے ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ وحی کے ذریعے سے مسلمانوں کو ان کی فریب کاریوں سے آگاہ فرما دیتا تھا یوں اس فریب کا سارا نقصان خود انہی کو پہنچتا ہے کہ انہوں نے اپنی عاقبت برباد کرلی اور دنیا میں بھی رسوا ہوئے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

(10) سورت کے شروع میں مومنوں کے اوصاف اور ان کا انجام خیر بیان فرمایا گیا، پھر ان لوگوں کا ذکر ہوا جو کھلے کافر ہیں، اب یہاں سے ایک تیسرے گروہ کا بیان ہورہا ہے جسے منافق کہا جاتا ہے یہ لوگ ظاہر میں تو اپنے آپ کو مسلمان کہتے تھے مگر دل سے مسلمان نہیں ہوئے تھے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب سیاق کلام تیسری تصویر اور تیسرے منظر کی طرف منتقل ہوجاتا ہے ۔ اس تیسرے نمونے کی تصویر کشی ان الفاظ میں کی جاتی ہے ۔” بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔ وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ۔ مگر دراصل وہ اپنے آپ ہی کو دھوکہ میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعور نہیں ۔ ان کے دلوں میں ایک بیماری ہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا ۔ اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں ۔ اس کی پاداش میں ان کے لئے دردناک سزا ہے۔ جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو ، تو انہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 یعنی دل سے ایمان نہیں لائے جو حقیقت میں ایمان ہے صرف زبان سے فریب دینے کے لئے اظہار ایمان کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 8 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ یہاں ایک بات سمجھ لیجیے ! اکثر و بیشتر مفسرین نے اس تیسری قسم category کے بارے میں یہی رائے قائم کی ہے کہ یہ منافقین کا تذکرہ ہے ‘ اگرچہ یہاں لفظ منافق یا لفظ نفاق نہیں آیا۔ لیکن مولانا امین احسن اصلاحی صاحب نے اس کے بارے میں ایک رائے ظاہر کی ہے جو بڑی قیمتی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہاں ایک کردار کا نقشہ کھینچ دیا گیا ہے ‘ غور کرنے والے غور کرلیں ‘ دیکھ لیں کہ وہ کس پر چسپاں ہو رہا ہے۔ اور جب یہ آیات نازل ہو رہی تھیں تو ان میں شخصیات کی کردار نگاری کا یہ جو نقشہ کھینچا جا رہا ہے یہ بالفعل دو…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

11 مہر کیسے کافروں کو لگتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ مہر صرف ان کافروں کے دلوں پر لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو خوب سمجھ لینے کے بعد محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14۝ۧ) 27 ۔ النمل :14) اور ان لوگوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر کی بنا پر (ان حقائق کا) انکار کردیا جن پر ان کے دل یقین کرچکے تھے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ 101۔ ) 7 ۔ الاعراف :101) جس بات کو پہلے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

22 (فحض زبان سے، شرکت قلب کے بغیر) من۔ واحد تثنیہ، جمع تینوں موقعوں پر یہ لفظ استعمال ہوتا ہے۔ حالت افراد میں لحاظ اس کی لفظی حیثیت کا کیا جاتا ہے، اور جمع میں نظر اس کے معنی ومفہوم پر رکھی جاتی ہے۔ اب تک قرآن مجید نے ذکر وقسم کے انسانوں کا کیا ہے۔ ایک مومن، فرمانبردار، قانون الہی کے مطیع۔ دوسرے کافر، نافرمان، قانون الہی کے منکر وباغی۔ اب ذکر ایک تیسری صنف کا شروع ہورہا ہے۔ ہوتے یہ بھی کافر ومنکر ہی ہیں، لیکن اپنے کفر و انکار پر پردہ مکروفریب کا ڈالے رکھتے ہیں۔ یعنی زبان پر دعوی اسلام رکھتے ہیں لیکن دل میں کفر خالص۔ زبان سے اقرار ایسا کہ جس میں قلب کی تصدیق کسی درجہ میں بھی شامل نہیں، ان ننگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

آیت نمبر 8 ترجمہ : (آئندہ آیت) منافقوں کے بارے میں نازل ہوئی ہے، اور بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں، یعنی قیامت کے دن پر اس لئے کہ وہ آخر الایام ہے حالانکہ وہ (بالکل ہی) ایمان لانے والے نہیں ہیں، (ھم، ضمیر جمع لانے میں) مَنْ کے معنی کی رعایت کی گئی ہے، اور یقول کی ضمیر (واحد لانے میں) مَن کے لفظ کی رعایت کی گئی ہے (بلکہ) وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کر رہے ہیں، اپنے اس کفر کے خلاف ظاہر کرکے جس کو وہ چھپائے ہوئے ہیں تاکہ وہ اپنے اوپر سے کفر کے دنیوی احکام کو دفع کرسکیں، حالانکہ (فی الواقع) وہ دھوکا کسی کو نہیں دے رہے بجز اپنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ مِنَ النَّاسِ ( اور لوگوں میں سے) ابو عمرو سے النَّاسِ کے فتحہ کا امالہ موضع جرمین جہاں بھی آئے مروی ہے وصل اور وقف میں ان سے خلاف مروی ہے۔ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا باللّٰہِ وَ بالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ( بعض ایسے بھی ہیں جو منہ سے تو کہہ دیتے ہیں کہ ہم خدا اور روزآخرت یعنی قیامت پر ایمان لائے) یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول اور معتب بن قشیر اور جد بن قیس اور ان کے رفقاء کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں اکثر تو یہودی تھے اور بعض منافق۔ نَاساصل میں اناس تھا ہمزہ کو حذف کرکے اس کے عوض حرف تعریف یعنی الف لام لے آئے اسی وجہ سے ہمزہ اور حرف تعریف ایک کلمہ میں جمع نہیں ہوسکتے ( کیونکہ عوض اور معوض میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(8) یہ لوگ یہود میں سے کعب بن اشرف، حیی بن اخطب اور جدی بن اخطب ہیں ایک قول یہ بھی ہے کہ اس سے مکہ مکرمہ کے مشرکین عتبہ، شیبہ، اور ولید مراد ہیں، یہ لوگ علانیہ اور ظاہری طور پر ایمان لاتے ہیں اور ہمارے ایمان باللہ اور بعث بعد الموت (مرنے کے بعد اٹھائے جانے) جس میں اعمال کا بدلہ دیا جائے گا تصدیق کرتے ہیں، مگر قلبی طور پر وہ مومن نہیں اور اپنے ایمان لانے کے دعوے میں سچے نہیں ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس سے پہلے پانچ آیات میں اہل ایمان اور دو آیات میں کھلے کافروں کے ذکر کے بعد منافقین کی خصلتوں کا ذکر تیرہ آیات میں فرمایا ہے، کیونکہ چھپا ہوا کفر زیادہ خطرناک اور اس کی پہچان بہت مشکل ہے۔ مَا نافیہ کی تاکید باء کے ساتھ ہونے کی وجہ سے ترجمہ ”ہرگز“ کے ساتھ کیا گیا ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 8 اس آیت میں سات مسائل ہیں : مسئلہ نمبر 1: ابن جریج نے مجاہد سے روایت کیا ہے، فرمایا : سورة بقرہ میں مومنین کے بارے چار آیات نازل ہوئیں، دو آیات کافروں کے بارے نازل ہوئیں اور تیرہ آیات منافقین کے بارے نازل ہوئیں۔ اسباط نے سدی سے ومن الناس کے تحت روایت کیا ہے، فرمایا : اس سے مراد منافقین ہیں۔ علماء صوفیاء نے فرمایا : الناس اسم جنس ہے اور اسم جنس کے ساتھ اولیاء کو مخاطب نہیں کیا جاتا ہے۔ مسئلہ نمبر 2: لفظ الناس کے بارے میں نحویوں کا اختلاف ہے۔ بعض نے فرمایا : یہ اسماء جموع میں سے ایک اسم ہے یہ بغیر لفظ کے انسان اور انسانۃ کی جمع ہے اس کی تصغیر نویس ہے۔ الناس، النوس سے مشتق ہے جس کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن الناس من یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر وما ہم بمؤمنین “ سے مراد قبیلہ اوس، خزرج کے منافقین سے وہ لوگ ہیں جو ان کے حکم پر چلنے والے ہیں۔ (2) امام ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ سورة بقرہ کے شروع کی سو آیات یہود کے علماء اور اوس اور خزرج کے منافقین کے متعلق ہیں۔ آپ نے ان کے نام اور نسب بھی بتائے ہیں۔ (3) حضرت ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ومن الناس من یقول امنا باللہ وبالیوم الاخر وما ھم بمؤمنین “ اس آیت سے منافقین مراد ہیں۔ منافقین کی صفات (4)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَمِنَ النَّاسِ : اور لوگوں میں سے ] [ مَنْ : وہ (بھی) ہیں جو ] [ يَّقُوْلُ : کہتے ہیں ] [ اٰمَنَّا : ہم ایمان لائے ] [ بِاللّٰهِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : اللہ پر اور آخری دن پر ] [ وَ : حالانکہ ] [ مَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ : وہ لوگ ایمان لانے والے نہیں ہیں ] ق و ل [ قولا : (ن) کہنا، بولنا۔ وَاِذْ قَالَ رَبُّكَ لِلْمَلٰۗىِٕكَةِ اِنِّىْ جَاعِلٌ فِى الْاَرْضِ خَلِيْفَةً (اور جب کہا آپ کے رب نے بیشک میں بنانے والا ہوں زمین میں ایک خلیفہ) قیل ماضی مجہول ہے ۔ کہا گیا۔ یقال ۔ مضارع مجہول ہے کہا جاتا ہے مَا يُقَالُ لَكَ اِلَّا مَا قَدْ قِيْلَ لِلرُّسُلِ مِنْ قَبْلِكَ ۭ، (نہیں کہا جاتا آپ سے مگر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 8–10

منافقین کی تاریخ اور نفاق کے اسباب جب سرور عالم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے اور دین اسلام خوب پھیلنے لگا تو یہودیوں اور خاص کر ان کے علماء اور احبار کو یہ بات زیادہ کھلی اور یہ لوگ دشمنی پر اتر آئے۔ کچھ لوگ اوس اور خزرج میں سے بھی اسلام کے مخالف ہوگئے۔ اسلام کی اشاعت عام ہوجانے کے بعد کھل کر یہ لوگ مقابلہ نہیں کرسکتے تھے اور دشمنی کے اظہار سے بھی عاجز تھے۔ اس لیے انہوں نے یہ چال چلی کہ ظاہری طور پر اسلام قبول کرلیا، اندر سے کافر تھے اور ظاہر میں مسلمان تھے۔ ان کا سردار عبداللہ ابن ابی تھا۔ حضور اقدس ﷺ کے مدینہ منورہ تشریف لانے سے پہلے اوس اور خزرج نے عبداللہ بن ابی کو اپنا بادشاہ بنانے اور اس کو…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

قبائح منافقین قال تعالیٰ ومن الناس من یقول۔۔۔ الی۔۔۔ وما کانوا مھتدین ربط : ابتداء سورت میں حق تعالیٰ نے ان لوگوں کی مدح فرمائی جنہوں نے دل سے اللہ کی کتاب اور اس کے دین کو مانا اور زبان سے اس کا اقرار کیا۔ یہ اتقیاء کا گروہ تھا بعد میں اشقیاء کا حال ذکر کیا۔ اشقیاء میں دو گروہ تھے۔ پہلا گروہ وہ تھا جو دل اور زبان دونوں سے منکر تھے۔ ان کا ذکر ہوچکا۔ اب آئندہ آیات میں اشقیاء کے دوسرے گروہ کا ذکر ہے جو کسی دباؤ اور مصلحت کی بناء پر زبان سے تو مانتے ہیں مگر دل سے نہیں مانتے۔ ایسے شخص کو اصطلاح شریعت میں منافق کہتے ہیں۔ کافروں میں سب سے بدتر یہی فرقہ ہے کہ جس نے کفر کے ساتھ جھوٹ کو جمع…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 11 ۔ یہ جملہ معللہ ہے اور ماقبل کی علت اور اس کا سبب بیان کر رہا ہے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما بین فی الایۃ انھم لا یومنون اخبر فی ھذہ الایۃ باالسبب الذی لاجلہ لم یومنوا وھو الختم (تفسیر کبیر ص 270 ج 1) خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ استیناف تعلیلی لما سبق من الحکم (ابو السعود ص 288 ج 1 اشارۃ الی برھان لمی للحکم السابق (روح المعانی ص 131 ج 1) یعنی پیغمبر خدا ﷺ کے انذار کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ قبول حق کی تمام راہیں ان پر بند ہوچکی ہیں اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اس دولت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 8–12

گزشتہ سے پیوستہ : ہدایت کے اعتبار سے انسانوں کے تین گروہوں کا ذکر آچکا ہے۔ پہلا گروہ وہ ہے جو ظاہراً اور باطنا ہدایت کو قبول کرتے ہیں ، وہ مومن اور متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال بیان ہوا ہے۔ دوسرا گروہ وہ ہے جو ظاہر اور باطناً ہدایت الٰہی کا انہار کرتا ہے۔ وہ کافروں کا گروہ ہے۔ اگلی دو آیات میں ان کا حال بیان ہوچکا ہے اب ان آیات میں تیسرے گروہ منافقین کا تذکرہ ہے جو ظاہر میں تو ہدایت کو تسلیم کرتے ہیں مگر ان کے باطن میں کفر ہوتا ہے۔ اگلی تیرہ آیات میں منافقین کی خرابیاں ، انکی سازشوں اور چال بازیوں کا حال ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے مثالوں کے ذریعے سارا معاملہ سمجھایا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

رکوع نمبر 2 وَمِنَ النَّاسِ مَنْ يَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللہِ وَبِالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِيْنَ۝ 8 نوس النَّاس قيل : أصله أُنَاس، فحذف فاؤه لمّا أدخل عليه الألف واللام، وقیل : قلب من نسي، وأصله إنسیان علی إفعلان، وقیل : أصله من : نَاسَ يَنُوس : إذا اضطرب، قال تعالی: قُلْ أَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ [ الناس/ 1] ( ن و س ) الناس ۔ بعض نے کہا ہے کہ اس کی اصل اناس ہے ۔ ہمزہ کو حزف کر کے اس کے عوض الف لام لایا گیا ہے ۔ اور بعض کے نزدیک نسی سے مقلوب ہے اور اس کی اصل انسیان بر وزن افعلان ہے اور بعض کہتے ہیں کہ یہ اصل میں ناس ینوس سے ہے جس کے معنی مضطرب ہوتے کے ہیں ۔ قرآن میں ہے : ۔ قُلْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : یقول فعل ضمیر ہوراجع مَنْ کی طرف اس کا فاعل اور آمنا باللہ الخ جملہ فعلیہ اس کا مقولہ فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صفت ہوئی مَنْ نکرہ موصوفہ کی من جار الناس مجرور جار مجرور متعلق ثابت یا ثبت کے ہوا جو رافع ہے من کا تقدیر کلام یوں ہوئی و من الناس ناس یقولون یہ جملہ خبر یہ ہوا اس کا عطف الذین یؤمنون الخ پر یا قصہ کفار مصرین پر ہے اور ممکن ہے کہ من کو موصولہ مانا جاوے ھم ما کا اسم اور بمؤمنین خبر۔ اسم و خبر مل کر جملہ خبریہ ہوا اور واو حالیہ کے ساتھ مل کر حال ہوا۔ فاعل یقول سے جو من ہے من لفظ مفرد ہے مگر معنی میں تثنیہ اور جمع کے بھی آتا ہے اسی لیے علم اصول میں اس…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَمِنَ النَّاسِ مَنْ یَّقُوْلُ اٰمَنَّا بِاللّٰہِ وَبِالْیَوْمِ الْاٰخِرِوَمَا ھُمْ بِمُؤْمِنِیْنَ ۔ (البقرۃ : 8) (اور لوگوں میں سے کچھ ایسے ہیں جو دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتے ہیں حالانکہ وہ مومن نہیں ہیں) الناس سے کون لوگ مراد ہیں ؟ اس آیت کریمہ میں الناس کا لفظ اگرچہ عام ہے جس میں سب لوگ شامل ہیں۔ لیکن ترکیبِ کلام سے صاف ظاہر ہے کہ یہاں پر ایسے لوگوں کا تذکرہ ہورہا ہے جو نہ تو ان لوگوں میں سے ہیں جن کا سب سے پہلے ذکرہوا اور نہ ان میں سے ہیں جن کا ذکرسابقہ دو آیتوں میں ہوا۔ البتہ سابقہ دو آیتوں میں جن کافروں کا ذکر ہوا ان کے بارے میں فرمایا کہ وہ ایمان نہیں لائیں…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : ایمان کی مبادیات تسلیم کرنے سے انکار کرنے والوں کے بیان کے بعد تیرہ آیات میں منافقوں یعنی دوغلے لوگوں کے کردار کا ذکر کیا گیا ہے تاکہ معلوم ہو کہ نبی ﷺ اور ہر داعی حق کو تین قسم کے لوگوں سے سابقہ پیش آئے گا۔ لہٰذا گھبرانے اور حوصلہ ہارنے کی ضرورت نہیں بلکہ اس میدان کے غازی کو اپنا کام جاری رکھنا چاہیے۔ نفاق : دل میں کفر اور ظاہر میں اسلام کا اظہار کرنا نفاق کہلاتا ہے۔ نفاق کی دو قسمیں ہیں، اعتقادی نفاق اور عملی نفاق دونوں احکام کے لحاظ سے مختلف ہیں۔ تین قسم کے لوگ : نظریاتی اعتبار سے دنیا میں تین قسم کے لوگ ہوا کرتے ہیں۔ (1) حق اور سچ قبول کرنے والے۔ (2) حق کا انکار کرنے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 7–10

وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب کا لفظ نکال کی طرح ہے بناوٹ ومعنی ہر دو لحاظ سے کیونکہ تم کہو گے۔ اعذب عن الشیٔ یعنی جب وہ کسی چیز سے رک جائے جیسا کہتے ہیں نکل عنہ وہ اس سے باز آیا۔ عظیم و کبیر کا فرق : یہ ہے کہ عظیم حقیر کے بالمقابل آتا ہے۔ کبیر صغیر کے مقابل آتا ہے گویا عظیم کبیر سے بڑھ کر ہے جیسا حقیر صغیر سے کمتر ہے۔ یہ دونوں اجسام واحداث کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلًا کہو گے رجل عظیم و کبیر۔ مراد یہ ہوگی کہ اس کا جسم بڑا ہے یا رعب بڑا ہے۔ نکرہ لانے کی وجہ : غشاوۃ کو نکرہ لائے کہ ان کی آنکھوں پر ایک قسم کا پردہ ہے یہ وہ پردہ نہیں جس کو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت)” ومن الناس من یقول آمنا باللہ “ منافقین کے بارے میں نازل ہوئی ، مثلا عبداللہ بن ابی ابن سلول ، متعب بن قشیر جد بن قیس اور ان کے ساتھی ، اس لیے کہ انہوں نے اظہار اسلام اس لیے کیا تاکہ حضور ﷺ اور آپ کے ساتھیوں سے بچیں اور کلمہ اسلام کے خلاف عقیدہ رکھا ، منافقین کی اکثریت یہود سے تھی ۔ (آیت)” الناس “ انسان کی جمع ہے ، انسان کی وجہ تسمیہ یہ کہ اس کی طرف عہد کیا گیا پس وہ بھول گیا جیسے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” ولقد عھدنا الی ادم من قبل فنسی “۔ اور کہا گیا ہے کہ انسان کو انسان اس لیے کہتے ہیں کہ وہ ظاہر و نمایاں انسان ان کے اس قول سے ماخوذ ہوگا ” انست “ بمعنی ابصرت یعنی میں نے دیکھا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 8–20

(8 ۔ 20): 8۔ 20۔ شروع سورة سے یہاں تک چار آیتوں میں خالص مومنوں کا ذکر تھا۔ اور پھر دو آیتوں میں کافروں کا اب ان تیرہ آیتوں میں منافقوں کا ذکر ہے۔ منافق وہ ہے جو زبان سے اچھی بات کہے اور دل میں اس کے بدی ہو۔ منافقوں کا ذکر قرآن شریف میں آنحضرت ﷺ کے مدینہ منورہ میں آنے کے بعد شروع ہوا ہے۔ ہجرت سے پہلے جس قدر حصہ قرآن شریف کا مکہ میں اترا ہے اس میں منافقوں کا ذکر اس واسطے نہیں ہے کہ مکہ میں یا کھلم کھلا مسلمان تھے یا کافر۔ منافق لوگ وہاں نہیں تھے کیونکہ مکہ میں کفار کا غلبہ تھا جس کے سبب سے آنحضرت ﷺ کو مکہ سے ہجرت کا حکم ہوا۔ اس اپنے غلبہ کے سبب سے وہاں کے کافر اپنی اصلی حالت پر تھے۔ جب آنحضرت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 8–10

آیات نمبر 8 تا 10 معلوم ہونا چاہیے کہ نفاق کا اظہار کرنے اور باطن میں برائی چھپانے کا نام ہے۔ اس تعریف میں نفاق اعتقادی اور نفاق عملی دونوں شامل ہیں۔ جیسے نبی ﷺ نے بھی اپنے اس فرمان میں اس کا ذکر فرمایا :” آیۃ المنافق ثلاث، اذا حدت کذب واذا وعدا خلف واذا ئتمن خان) (1) ” منافق کی تین نشانیاں ہیں : جب بات کرے تو جھوٹ بولے، جب وعدہ کرے تو وعدہ خلافی کرے، جب اس کے پاس امانت رکھی جائے تو اس میں خیانت کرے۔ “ ایک اور روایت میں آتا ہے (واذا خاصم فجر)-2” جب جھگڑا کرے تو گالی گلوچ کرے۔ “ رہا نفاق اعتقادی جو دائرہ اسلام سے خاج کرنے والا ہے۔ تو یہ نفاق ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے منافقین کو اس سورت میں اور…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–8

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

20 منافقین کا ذکر اور ایک بدعی مغالطے کا جواب : سو یہاں سے تیسرے گروہ یعنی منافقین کا ذکر شروع ہوتا ہے، جو کہ زبانی کلامی تو ایمان کا دم بھرتے اور دعوی کرتے ہیں، مگر اندر سے یہ لوگ کافر اور منکر ہوتے ہیں۔ وَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم۔ یہ لوگ چونکہ مار آستین کی طرح کھلے کافروں سے بھی زیادہ خطرناک اور نقصان دہ ہوتے ہیں، اس لئے یہاں ان کا ذکر نسبتاً زیادہ تفصیل سے فرمایا گیا ہے، اور اسی بنا پر ان کا عذاب بھی زیادہ سخت ہوگا، جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا { اِنَّ المُنٰفِقِیْنَ فِی الدَّرْک الْاَسْفَل مِنَ النَّارِ } ۔ (النساء۔ 145) یعنی " منافق لوگ یقینی طور پر دوزخ کے سب سے نچلے گڑھے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

منافق کا دعویٰ ایمانی تشریح : اسلام کے آنے کے بعد تین گروہ پیدا ہوگئے تھے۔ مومن، منافق اور کافر، مومن اور کافر کے بارے میں کافی بتایا جا چکا ہے۔ اب منافق کی تفصیل بیان کی جاتی ہے۔ ” منافق “ وہ لوگ ہیں جو بظاہر مسلمان کہلاتے، نماز پڑھتے، مگر دل سے ایمان نہ لاتے تھے، دل سے وہ مسلمانوں کے خلاف، کفار کے ساتھ ہوتے ہیں اور یہی نفاق کہلاتا ہے جو لوگ ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت کو دل سے مان لیتے ہیں وہ مسلمان کہلاتی ہیں اور جو دل سے نہیں مانتے وہ منافق کہلاتے ہیں۔ جب آنحضرت ﷺ نے مدینہ کی طرف ہجرت کی تو قبیلہ خزرج کا عبداللہ بن ابی بن سلول نامی شخص جو کہ نہایت ہوشیار اور مکار تھا اس کی قبیلے کے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 8–20

آیات 8- 20 اسرارو معارف یہاں کفر کی دوسری قسم بیان ہوتی ہے جسے نفاق کہتے ہیں اور یہ اپنے ضرر کے اعتبار سے شدید تر ہے پہلی پانچ آیات میں مومنین کی تعریف ، پھر دو آیات میں کفر کی وضاحت کے بعد تیرہ آیات میں نفاق اور منافق کے حالات ارشاد ہوئے ہیں تاکہ اس کی خوب وضاحت ہوجائے جس طرح منافق ضرر میں بڑھا ہوا ہے اسی طرح نفاق کا عذاب بھی دوسری قسم کے کفر سے زیادہ ہوگا۔ ان المنافقین فی الدرک الاسغل من النار ، یعنی کفار سے نیچے کے دجے میں ان کو رکھا جائے گا کیونکہ ان کا دعویٰ ہے کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں مگر وہ مومن نہیں ہیں اور مومن نہ ہونے کی دلیل یہ ہے کہ اللہ کو دھوکا دیتے ہیں بھئی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 4 اہل ایمان اور کھلے ڈلے کفار کا ذکر نے کے بعد اس آیت میں ان منافقین کا ذکر ہو رہا ہے جو بظاہر ان کا دعوی کرتے تھے مگر حقیقت میں ان کے دل یقین و اذعان اور نور ایمان سے یکسر خالی تھے اور ان کی تمام ہمدرد دیاں کفر اور اہل کفر کے ساتھ تھیں، یہ بیان تا آخر رکوع 13 آیات میں پھیلا ہوا ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:8) ومن الناس۔ میں من تبعیضیہ ہے یعنی بعض ایسے بھی ہیں۔ یہ آیت عبد اللہ بن ابی سلول اور معتب بن قشیر، اور جدین قیس اور ان کے رفقاء کے بارے میں نازل ہوئی ہے جن میں اکثر یہودی تھے۔ اور بعض منافق۔ ناس اصل میں اناس تھا۔ ہمزہ کو حذف کرکے اس کے عوض حرف تعریف یعنی الف لام لے آئے یہ جمع ہے انسان کی۔ اور بعض کے نزدیک جمع نہیں بلکہ اسم جمع ہے کیونکہ جمع کے اوزان میں فعال نہیں آیا ۔ یہ یا تو انس یا نس انس مصدر باب سمع سے۔ بمعنی مانوس ہونا۔ یا انس یونس ایناس (باب افعال) سے۔ مشتق ہے، جس کے معنی دور سے دیکھنا یا محسوس کرنے کے ہیں۔ چونکہ آدمی ایک دوسرے کو دکھائی دیتے ہیں اس لئے انہیں ناس کہتے ہیں۔ جس طرح…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 8–16

لغات القرآن آیت نمبر 8 تا 16 (الناس): لو گ ، انسان، آدمی۔ (یقول): وہ کہتا ہے ، اردو میں اس کا ترجمہ ” امنا “ کی وجہ سے اس طرح کیا جائے گا، ” وہ کہتے ہیں۔ ” (امنا): ہم ایمان لے آئے۔ (یوم آخر): آخری دن، قیامت کا دن۔ (یخدعون): اور یخدعون کے الفاظ ” خدع “ سے بنے ہیں دھوکہ دینا، دل میں بری بات چھپا کر بظاہر اچھا بننے کی کوشش کرنا تا کہ دوسرے اس سے دھوکہ کھا جائیں۔ (انفس): نفس کی جمع ہے۔ جان، ذات شخصیت۔ (ما یشعرون): وہ شعور نہیں رکھتے، انہیں سمجھ نہیں ہے، بیخبر ہیں، اس کا مقصد یہ ہے کہ وہ اپنی حماقت میں مبتلا ہیں مگر ان کو اس کا احساس اور خبر نہیں ہے۔ (مرض): بیماری ، بیماری ایک تو وہ ہوتی ہے جو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–18

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–9

[8] اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی اس لئے انہوں نے نافرمانی کی راہ اختیار کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ اختیار کرلیا تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اللہ نے انسان کو نیکی و بدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی اس کو اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ اگر وہ نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے اور اگر وہ بدی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ناقابل اصلاح گروہ : آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔ ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 8–10

ف 4۔ اور لوگوں میں سے کچھ لوگ وہ ہیں جو ظاہر ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور یوم آخرت پر ایمان لے آئے ہیں ۔ لیکن ان کی حالت یہ ہے کہ وہ مومن نہیں ہیں بلکہ منافق ہیں ۔ وہ اپنے خیال میں اللہ کو اور مسلمانوں کو دھوکہ دے رہے ہیں حالانکہ وہ خود ہی اپنے آپ کو دھوکے میں مبتلا کر رہے ہیں اور ان کو اس کا بالکل شعور اور تمیز نہیں ہے۔ ان لوگوں کے دلوں میں بیماری ہے ، پھر اللہ تعالیٰ نے ان کی بیماری کو اور بڑھا دیا اور ان کو ان کی جھوٹی باتیں بنانے کے باعث درد ناک سزا ملنے والی ہے۔ قلب اور زبان میں چونکہ موافقت نہ تھی اس لئے ان کو منافق فرمایا پھر جس عرض کیلئے فریب دینے کی کوشش کی تھی وہ نا کام…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 3۔ انہوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے سو اس تباہی و استعداد کا سبب وفاعل تو وہ خود ہی ہیں مگر چونکہ بندوں کے جمیع افعال کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے اس لیے اس آیت میں اپنے خالق ہونے کا بیان فرمادیا کہ جب وہ تباہی استعداد کے فاعل ہوئے اور اس کو بقصد خود اختیار کرنا چاہا تو ہم نے بھی وہ بداستعدادی کی کیفیت ان کے قلوب وغیرہ میں پیدا کردی بند لگانے سے اسی بداستعدادی کا پیدا کرنا مراد ہے ان کا یہ فعل اس ختم کا سبب ہو ختم الہی اس فعل کا سبب نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

منافقین کا گروہ : 17: اب تک قرآن کریم نے دو قسم کے انسانوں کا ذکر کیا ہے۔ ایک مؤمن فرمانبردار ، قانون الٰہی کے مطیع۔ دوسرے کافر ، نافرمان ، قانون الٰہی کے منکر و باغی۔ اب ذکر ایک تیسرے قسم کے لوگوں کا شروع ہورہا ہے۔ حقیقت میں تو یہ بھی کافر و منکر ہی ہوتے ہیں لیکن انہوں نے اپنے کفر و انکار پر مکرو فریب کا پردہ ڈال رکھا ہوتا ہے یعنی زبان پر دعویٰ اسلام رکھتے ہیں لیکن دل ان کے تصدیق نہیں کرتے۔ صرف زبان سے دعویٰ و اقرار کرتے ہیں جس میں قلبی تصدیق ہرگز شامل نہیں ہوتی۔ ان ننگ انسانیت انسانوں کو اصطلاح شریعت میں منافق کہا گیا ہے۔ نفاق کی حقیقت یہ ہے کہ انسان بھلائی کا علان و اظہار کرتا رہے لیکن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Lying is contemptible (4) The verse آمَنَّا بِاللَّـهِ وَبِالْيَوْمِ الْآخِرِ‌:"We believe in Allah and in the Last Day" shows us how disgusting it is to tell a lie - even the hypocrites, with all their hostility to Islam, tried to refrain from it as far as possible. In claiming to be Muslims, they used to mention only their faith in Allah and in the Day of Judgment, but left out the faith in the Holy Prophet ﷺ for fear of telling a lie.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

10. This does not mean that their rejection of the Truth is a consequence of God sealing their hearts. What is meant is that God sealed their hearts and ears as a consequence of their decision to reject the fundamentals of faith, of their deliberate choice of a path divergent from that charted out by the Qur'an. Anyone who has worked for the dissemination of the Truth often finds that if, after full consideration, a person decides against a doctrine, his mind begins to move in a completely opposite direction so that he fails to appreciate anything that is explained to him. His ears become…

Read the full tafseer →