Al-Baqara 2:7

Al-Baqara · from ayah 7

2:7

خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰی قُلُوْبِهِمْ وَعَلٰی سَمْعِهِمْ ؕ— وَعَلٰۤی اَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ؗ— وَّلَهُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ۟۠خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ؕ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:7

اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑ گیا ہے وہ سخت سزا کے مستحق ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑا ہوا) ہے اور ان کے لیے بڑا عذاب (تیار) ہے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کر دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پرده ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب ہے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے زبردست عذاب ہے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر کردی اور ان کی آنکھوں پر گھٹاٹوپ ہے، اور ان کے لئے بڑا عذاب،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اللہ نے (ان کے اپنے اِنتخاب کے نتیجے میں) ان کے دلوں اور کانوں پر مُہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ (پڑ گیا) ہے اور ان کے لئے سخت عذاب ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی اور ان کی نگاہوں پر ایک پردہ ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگا دی ہے۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اللہ نے مہر لگا دی ان کے دلوں پر اور (ڈاٹ لگادیئے) ان کے کانوں پر (ان کی اپنی بدنیتی اور سوء اختیار کی بنیاد پر) ان کی آنکھوں پر ایک (سخت قسم کا) پردہ ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے

— مولانا اسحاق مدنی

مہر لگا دی ہے اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کی شنوائی پر۔ اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے۔ اور ان کے لئے بڑا (ہی) عذاب ہے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اللہ نے مہر کردی ہے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر۔ ) اور ان کی آنکھوں کے سامنے پردہ پڑچکا ہے اور ان کے لیے بہت بڑا عذاب ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اللہ نے انکے دلوں اور کانوں پر مہر لگا رکھی ہے اور انکی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے اور ان کے لئے بڑا عذاب تیار ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

Allah has sealed up their hearts and ears and a covering has fallen over their eyes, and they have incurred the severest punishment.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Allah has set a seal on their hearts and on their hearing; and on their eyes there is a covering, and for them awaits a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani

Allah has set a seal on their hearts and on their hearing; and on their eyes there is a covering, and for them awaits a mighty punishment.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Allah has set a seal on their hearts and on their hearing, and on their eyes there is a covering. Theirs will be a great torment.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Allah hath sealed their hearing and their hearts, and on their eyes there is a covering. Theirs will be an awful doom.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their vision is a veil. And for them is a great punishment.

— Saheeh International

God has sealed their hearts and hearing and their vision is veiled; a great punishment awaits them.

— Muhammad Sarwar

Allah has set a seal upon their hearts and upon their hearing and there is a covering over their eyes, and there is a great punishment for them.

— Muhammad Habib Shakir

Allah hath set a seal upon their hearts and upon their hearing, and over their sights is a covering; and unto them shall be a torment mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

Allah hath set a seal on their hearts and on their hearing, and on their eyes is a veil; great is the penalty they (incur).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:7

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

مہر کیوں لگا دی گئی ؟ حضرت سدی فرماتے ہیں ختم سے مراد طبع ہے یعنی مہر لگا دی حضرت قتادہ فرماتے ہیں یعنی ان پر شیطان غالب آگیا وہ اسی کی ماتحتی میں لگ گئے یہاں تک کہ مہر لگا دی حضرت قتادہ فرماتے ہیں یعنی ان پر شیطان غالب آگیا وہ اسی کی ماتحتی میں لگ گئے یہاں تک کہ مہر الٰہی ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر لگ گئی اور آنکھوں پر پردہ پڑگیا۔ ہدایت کو نہ دیکھ سکتے ہیں نہ سن سکتے ہیں، نہ سمجھ سکتے ہیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں کہ گناہ لوگوں کے دلوں میں بستے جاتے ہیں اور انہیں ہر طرف سے گھیر لیتے ہیں۔ بس یہی طبع اور ختم یعنی مہر ہے۔ دل اور کان کے لئے محاورہ میں مہر آتی ہے۔ مجاہد ؒ فرماتے ہیں قرآن میں…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 7–8

سورة الْبَقَرَة 10 اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی، اس لیے انہوں نے تسلیم کرنے سے انکار کیا، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے ان بنیادی امور کو رد کردیا جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے، اور اپنے لیے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ پسند کرلیا، تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس مہر لگنے کی کیفیت کا تجربہ ہر اس شخص کو ہوگا جسے کبھی تبلیغ کا اتفاق ہوا ہو۔ جب کوئی شخص آپ کے پیش کردہ طریقے کو جانچنے کے بعد ایک دفعہ رد کردیتا ہے، تو اس کا ذہن کچھ اس طرح مخالف سمت میں چل پڑتا ہے کہ پھر آپ کی کوئی بات اس کی سمجھ میں نہیں آتی، آپ کی دعوت کے لیے اس کے کان بہرے، اور آپ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(1) گناہوں کی دنیوی سزا سلب توفیق ان دونوں آیتوں سے معلوم ہوا کہ کفر اور ہر گناہ کی اصل سزا تو آخرت میں ملے گی مگر بعض گناہوں کی کچھ سزا دنیا میں بھی مل جاتی ہے پھر دنیا کی سزا بعض اوقات یہ شکل اختیار کرتی ہے کہ اصلاح حال کی توفیق سلب ہوجاتی ہے، انسان آخرت کے حساب و کتاب سے بےفکر ہو کر اپنی نافرمانیوں اور گناہوں میں بڑہتا چلا جاتا ہے اور اس کی برائی کا احساس بھی اس کے دل سے جاتا رہتا ہے ایسے حال کے متعلق بعض بزرگوں کا ارشاد ہے ان من جزاء السۃ السیۃ بعدھا وان من جزاء الحسنۃ الحسنۃ بعدھا یعنی گناہ کی ایک سزا یہ بھی ہوتی ہے کہ ایک گناہ دوسرے گناہ کو کھینچ لاتا ہے جس طرح نیکی کا نقد بدلہ یہ بھی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

ختم کا مفہوم :۔ " ختم اللہ " ختم کے معنی عربی زبان میں موم یا مٹی یا کسی اسی طرح کی چیز پر ٹھپہ لگانے کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ خط پر مہر لگانے اور کسی چیز کے منہ کو اس طرح بند کردینے کے لیے استعمال ہونے لگا جس کے بعد جس کے بعد نہ اس میں کوئی چیز داخل ہوسکے اور نہ کوئی چیز اس سے نکل سکے۔ قرآن مجید میں بعض جگہ جب اللہ تعالیٰ کسی فعل کو اپنی طرف منسوب فرماتا ہے تو اس سے مقصود نفس اس فعل کو اپنی طرف منسوب کرنا نہیں ہوتا بلکہ اس قانون یا اس سنت کو اپنی طرف منسوب کرنا ہوتا ہے جس قانون اور سنت کے تحت وہ فعل ظہور میں آتا ہے۔ چوں کہ یہ قانون خود اللہ تعالیٰ ہی کا مقرر کردہ ہوتا ہے اس وجہ سے وہ فعل جو اس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 یہ ان کے عدم ایمان کی وجہ بیان کی گئی ہے کہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں سے قبول حق کی استعداد ختم ہوچکی ہے اور ان کے کان حق کی بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں تو اب وہ ایمان کس طرح سے لاسکتے ہیں ؟ ایمان تو ان ہی لوگوں کے حصے آیا ہے اور آتا ہے، جو اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے اور ان سے مغفرت حاصل کرتے ہیں۔ اس کے برعکس لوگ تو اس حدیث کا مصداق ہیں جس میں بیان کیا گیا ہے کہ مومن جب گناہ کر بیٹھتا ہے تو اس کے دل میں سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے اگر وہ توبہ کر کے گناہ سے باز آجاتا ہے تو اس کا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

(9) اس آیت میں یہ واضح فرمایا گیا ہے کہ ضد اور ہٹ دھرمی بڑی خطرناک چیز ہے، اگر کوئی شخص ناواقفیت یاغفلت وغیرہ کی وجہ سے کسی غلطی کا ارتکاب کرے تو اس کی اصلاح کی امید ہوسکتی ہے ؛ لیکن جو شخص غلطی پر اڑ جائے اور تہیہ کرلے کہ کسی بھی حالت میں بات نہیں ماننا ہے، تو اس کی ضد کا آخری انجام یہ ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کے دل پر مہر لگادی جاتی ہے جس کے بعد اس سے حق کو قبول کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہوجاتی ہے، اللہ تعالیٰ اس حالت سے محفوظ رکھے، لہذا اس پر شبہ نہیں ہونا چاہیے کہ جب خود اللہ تعالیٰ نے ان کے دل پر مہر لگادی تو معذور ہوگئے اس لئے کہ یہ مہر لگانا خود انہی کی ضد اور تہیہ کرنے کا نتیجہ…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

خَتَمَ اللہ ُ عَلٰی قُلُوبِہِم وَ عَلٰٓی سَمعِہِم ” اللہ نے ان کے دلوں اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے ۔ “ جس کی وجہ سے وہ حقیقت رشد وہدایت پانے اور حق کی آواز سننے کے قابل نہیں رہے ۔ وَ عَلٰٓی اَبصَارِھِم غِشَاوَةٌ ز ” اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے ۔ لہٰذا وہ نور ہدایت دیکھنے سے محروم ہیں ۔ چونکہ انہوں نے اپنی غلط روش سے مسلسل انذار وتبشیر کو ٹھکرادیا اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی اس روش پر انہیں دنیا ہی میں سخت سزادی کہ ان کے دلوں پر مہر لگادی ، آنکھوں پر پردے پڑگئے اور ان کے کان صدائے صداقت کے لئے بہرے ہوگئے ہیں ۔ یوں ان کے لئے وعظ وتبلیغ اور انہیں خبردار کرنا نہ کرنا برابر ہوگیا۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 انکے دلوں پر مہر کردی (یعنی حق بات کو نہیں سمجھتے) اور کانوں پر مہر کردی (یعنی سچی بات کو متوجہ ہو کر نہیں سنتے) اور آنکھوں پر پردہ ہے (یعنی راہ حق کو نہیں دیکھتے) کفار کا بیان ختم ہوگیا اب منافقوں کا حال اس کے بعد تیرہ آیتوں میں ذکر کیا جاتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 7 خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْ ط ایسا کیوں ہوا ؟ ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر ابتدا ہی میں نہیں لگا دی گئی ‘ بلکہ جب انہوں نے حق کو پہچاننے کے بعدردّکر دیا تو اس کی پاداش میں اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر کردی اور ان کی سماعت پر بھی۔ وَعَلٰی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌز یہ مضمون سورة یٰسٓ کے شروع میں بہت شرح و بسط کے ساتھ دوبارہ آئے گا۔ وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ ‘ یہ دوسرے گروہ کا تذکرہ ہوگیا۔ ایک رکوع کل سات آیات میں دو گروہوں کا ذکر سمیٹ لیا گیا۔ ایک وہ گروہ جس نے قرآن کریم کی دعوت سے صحیح صحیح استفادہ کیا ‘ ان میں طلب ہدایت کا مادہ موجود تھا ‘ ان کی…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 7–8

11 مہر کیسے کافروں کو لگتی ہے ؟ اللہ تعالیٰ مہر صرف ان کافروں کے دلوں پر لگاتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کے ارشادات کو خوب سمجھ لینے کے بعد محض اپنی ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے ٹھکرا دیتے ہیں۔ جیسے ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (وَجَحَدُوْا بِهَا وَاسْتَيْقَنَتْهَآ اَنْفُسُهُمْ ظُلْمًا وَّعُلُوًّا ۭ فَانْظُرْ كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُفْسِدِيْنَ 14۝ۧ) 27 ۔ النمل :14) اور ان لوگوں نے ہٹ دھرمی اور تکبر کی بنا پر (ان حقائق کا) انکار کردیا جن پر ان کے دل یقین کرچکے تھے اور ایک دوسرے مقام پر فرمایا : آیت (كَذٰلِكَ يَطْبَعُ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِ الْكٰفِرِيْنَ 101۔ ) 7 ۔ الاعراف :101) جس بات کو پہلے ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

19 قلب۔ دل سے مراد سینہ کے اندر کا وہ مضغہ گوشت نہیں جو طبعی اصطلاح میں دل کہلاتا ہے۔ بلکہ وہ دل مراد ہے جو محاورۂ زبان میں احساس، عقل، ارادہ سب کا مرکز ہے۔ انسانی بول چال میں دل اسی کو کہا جاتا ہے اور افعال ارادی کا صدور اسی سے ہوتا ہے۔ توریت، انجیل اور دوسرے صحیفے سب میں یہی محاورہ استعمال کیا گیا ہے۔ (آیت) ” ختم اللہ “۔ اللہ کی طرف سے مہر لگ جانے کا یہ فعل بندہ کے کفر اختیاری کے بعد ہوتا ہے نہ کہ اس کے قبل۔ اس کا نتیجہ ہوتا ہے نہ کہ اس کا سبب۔ فطرت سلیم ہر انسان کو عطا ہوئی ہے، اور اس میں دلائل حق پر غوروفکر کی استعداد بھی شامل ہے۔ لیکن انسان جب اپنے ارادہ وعقل کا غلط استعمال کرنے لگتا ہے،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

خَتَمَ اللہُ عَلیٰ قُلُوْبِھِمْ : یہ ان کے ایمان قبول نہ کرنے کی وجہ بیان کی گئی ہے چونکہ کفر و معصیت کے مسلسل ارتکاب کی وجہ سے ان کے دلوں کی قبول حق کی استداد ختم ہوچکی ہے ان کے کان بات سننے کے لئے آمادہ نہیں اور ان کی نگاہیں کائنات میں پھیلی ہوئی رب کی نشانیاں دیکھنے سے محروم ہیں، تو اب وہ ایمان کس طرح لاسکتے ہیں ؟ ایمان تو انہیں لوگوں کے حصے میں آتا ہے جو اللہ کی دی ہوئی صلاحیتوں کا صحیح استعمال کرتے ہیں۔ قبول حق کی صلاحیت سے محروم کفر پر مرتے ہیں : ایسے لوگ جو قیام دلائل کے باوجود کفر پر اڑے رہتے ہیں، آخر کار علم الہیٰ میں کفر ہی پر مرنے والے ہیں، جو لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ ( ان کے دلوں پر خدا نے مہر لگا دی ہے) تو وہ بھلائی اور نیک باتوں کو یاد نہیں رکھ سکتے قلب ایک گوشت کے لوتھڑے کا نام ہے ( جو صنوبری شکل میں بائی جانب پسلیوں کے قریب لٹکا ہوا ہے) لیکن کبھی اس کا اطلاق عقل اور معرفت پر بھی ہوا کرتا ہے جیسا کہ قرآن مجید کے دوسرے مقام پر ارشاد ہوا اِنَّ فِیْ ذٰلِکَ لَذِکْرٰی لِمَنْ کَانَ لَہٗ قَلْبٌ واضح ہو کہ خدا تعالیٰ تمام چیزوں کا پیدا کرنے والا ہے خواہ وہ اعراض ہوں یا جواہر اور اسباب سب کے اسباب نظر یہ ہیں جن کے عقب میں خدا تعالیٰ ان کے نتائج پیدا کرتا ہے تو جب آدمی اپنے حواس یعنی کان ‘ آنکھ وغیرہ سے کام لیتا اور انہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(7) اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کے کانوں اور آنکھوں پر پردہ ہے اور آخرت میں ان کے لیے سخت ترین عذاب ہے۔ شان نزول : (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ (الخ) ابن جریر ؒ نے ابن اسحاق ؒ ، محمد بن ابی ؒ ، عکرمہ ؒ ، سعید بن جبیر ؒ ، حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ کے واسطے سے اللہ تعالیٰ کے فرمان (آیت) ”ان الذین کفروا“۔ کے بارے میں روایت کیا ہے کہ یہ دو آیات مدینہ منورہ کے یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ اور ابن جریر ہی نے ربیع بن انس ؓ کے ذریعے سے روایت کیا ہے کہ (آیت) ”ان الذین کفرو“۔ سے (آیت) ”ولھم عذاب عظیم“۔ تک یہ دو آیات غزوہ احزاب کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ (لباب النقول فی اسباب النزول از…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

ان کے کفر اور اعمال بد کے نتیجے میں ان کے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کی استعداد جو فطرتاً ہر شخص میں رکھی گئی ہے، ان سے چھن چکی ہے۔ یہ مہر اگرچہ اللہ تعالیٰ نے لگائی ہے، مگر اس کا باعث ان کا عمل ہے، فرمایا : (بَلْ طَبَعَ اللّٰهُ عَلَيْهَا بِكُفْرِهِمْ فَلَا يُؤْمِنُوْنَ اِلَّا قَلِيْلًا) [ النساء : 155 ] ”بلکہ اللہ نے ان پر ان کے کفر کی وجہ سے مہر کردی۔“ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بندہ جب کوئی گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نکتہ لگا دیا جاتا ہے، پھر جب وہ باز آجائے استغفار کرے اور توبہ کرے تو اس کا دل چمک جاتا ہے اور اگر دوبارہ گناہ کرے تو نکتہ بڑھا دیا جاتا ہے، یہاں تک کہ اس کے دل…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 7 اس آیت میں دس مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: ختم اللہ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے ان کے ایمان نہ لانے کو ختم اللہ کے ارشاد سے بیان فرمایا ہے۔ الختم ختمت الشیء ختماً فھو مختوم ومختم (مبالغہ کے لئے شد پڑھی گئ ہے) کا مصدر ہے۔ اس کا معنی کسی شے کو ڈھانپ دینا اور اسے باندھ دینا ہے حتیٰ کہ اس میں کوئی چیز داخل نہ ہو۔ اس سے ختم الکتاب والباب اور اس کے مشابہ چیزیں ہیں حتی کہ اس کے اندر کوئی چیز نہیں پہنچ سکتی اور جو کچھ اس میں ہے اس کے علاوہ کچھ رکھا نہیں جاسکتا۔ اہل معانی نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے کفار کے دلوں کو دس اوصاف کے ساتھ موصوف فرمایا ہے۔ الختم، الطبع، الضیق، المرض، الرین، الموت،…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

پھر فرمایا لفظ آیت ” ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی انصارھم غشاوۃ “ یعنی ہدایت کے سننے اور دیکھنے سے ان پر پردہ ہے کہ وہ اس ہدایت کو کبھی نہ پائیں گے۔ بغیر اس چیز کے جو انہوں نے جھٹلا دیا حق کو جو تیرے پاس تیرے رب کی طرف سے آیا یہاں تک کہ ایمان لائیں اس کے ساتھ۔ اگر وہ ایمان نہ لائیں اس کتاب پر جو آپ سے پہلے (اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل ہوچکی) تھی۔ اور اس کے لیے تیری مخالفت کی وجہ سے عذاب عظیم ہوگا۔ یہ آیت یہود کے علماء کے بارے میں ہے۔ (4) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا “ کا مطلب ہے کہی یہ دو آیتیں جنگ احزاب کے سرداروں…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ خَتَمَ : سیل لگا دی ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ : ان کے دلوں پر ] [ وَعَلٰي سَمْعِهِمْ ۭ : اور ان کی سماعت پر ] [ وَعَلٰٓي اَبْصَارِهِمْ : اور ان کی بصارتوں پر ] [ غِشَاوَةٌ: ایک پردہ ہے ] [ وَّلَھُمْ : اور ان کے لیے ] [ عَذَابٌ عَظِيْمٌ: ایک عظیم عذاب ہے ] خ ت م خَتَمَ یَخْتِمُ (ض) خَتْمًا : (1) سیل (Seal) لگانا تاکہ اندر کی چیز باہر اور باہر کی چیز اندر نہ جاسکے { الیوم نختم علی افواھھم وتکلمنا ایدیھم ونشھد ارجلھم بما کانوا یکسبون ۔ } (یٰسٓ) ” اور اس دن ہم سیل لگا دیں گے ان کے مونہوں پر اور ہم سے کلام کریں گے ان کے ہاتھ اور گواہی دیں گے ان کے پیر ‘ جو وہ لوگ کیا کرتے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

کافروں کی گمراہی اور آخرت میں بدحالی۔ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ جن کا اللہ کے علم میں خاتمہ کفر پر ہونا ہے اور جو لوگ حق واضح ہوتے ہوئے اور حق و باطل کو سمجھتے ہوئے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ہرگز کسی حالت میں اسلام قبول نہیں کرنا۔ اللہ جل شانہ نے ہر شخص کو فطرت ایمانیہ پر پیدا فرمایا پھر اس کے ماں باپ اس کو کفر پر ڈال دیتے ہیں اور وہ اپنے ماحول اور معاشرہ کی وجہ سے ایمانی استعداد کو کھو بیٹھتا ہے اور اپنے کو اس درجہ میں پہنچا دیتا ہے کہ کسی قیمت پر اسلام قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب انہوں نے اپنی شرارت اور عناد کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

صفات کافرین کا ذکر قال تعالیٰ ان الذین کفرو۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم (یہ آیت نازل ہوئی ان کے حق میں جن کی موت کفر پر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم قدیم میں جانی تھی جیسا کہ عتبہ وشیبہ وابی جہل وولید بن مغیر (موضح القرآن) یہاں تک گروہ اتقیاء کا ذکر فرمایا کہ جو قرآن کریم کی ہدایت سے متمع اور منتفع ہوئے اب آئندہ اشقیاء کا ذکر فرماتے ہیں کہ اپنی شقاوت اور فساد فطرت کی وجہ سے اس چشمۂ ہدایت سے منتفع نہیں ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا یعنی جو لوگ اللہ کے علم میں کافر ہیں ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا سب برابر ہے وہ ایمان نہ لائیں گے آپ اس قسم کے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 11 ۔ یہ جملہ معللہ ہے اور ماقبل کی علت اور اس کا سبب بیان کر رہا ہے۔ اعلم انہ تعالیٰ لما بین فی الایۃ انھم لا یومنون اخبر فی ھذہ الایۃ باالسبب الذی لاجلہ لم یومنوا وھو الختم (تفسیر کبیر ص 270 ج 1) خَتَمَ اللّٰهُ عَلٰي قُلُوْبِهِمْ استیناف تعلیلی لما سبق من الحکم (ابو السعود ص 288 ج 1 اشارۃ الی برھان لمی للحکم السابق (روح المعانی ص 131 ج 1) یعنی پیغمبر خدا ﷺ کے انذار کے باوجود ایمان نہیں لائیں گے۔ کیونکہ ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگ چکی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑچکا ہے۔ قبول حق کی تمام راہیں ان پر بند ہوچکی ہیں اس لیے وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ اور اس دولت سے ہمیشہ کے لیے محروم رہیں گے۔…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–7

انسانوں کے تین گروہ : ہدایت (اور گمراہی) کے اعتبار سے انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ پہلا گروہ مومنین کا ہے جو ہدایت کو ظاہراً اور باطناً قبول کرتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔ یہ مومن متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال ، ان کے اوصاف اور ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ انسانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے ، جو ہدایت الٰہی کا ظاہراً بھی انکار کرتے ہیں اور باطناً بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ لوگ کسی طور پر ہدایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ، لہذا کافر کہلاتے ہیں۔ ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے۔ ان کا تیسرا گروہ زبان سے تو ہدایت ربانی کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

خَتَمَ اللہُ عَلٰي قُلُوْبِہِمْ وَعَلٰي سَمْعِہِمْ۝ 0 ۭ وَعَلٰٓي اَبْصَارِہِمْ غِشَاوَۃٌ۝ 0 ۡوَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۝ 7 ۧ ختم الخَتْمُ والطّبع يقال علی وجهين : مصدر خَتَمْتُ وطبعت، وهو تأثير الشیء کنقش الخاتم انتهيت إلى آخره، فقوله : خَتَمَ اللَّهُ عَلى قُلُوبِهِمْ [ البقرة/ 7] ، وقوله تعالی: قُلْ أَرَأَيْتُمْ إِنْ أَخَذَ اللَّهُ سَمْعَكُمْ وَأَبْصارَكُمْ وَخَتَمَ عَلى قُلُوبِكُمْ [ الأنعام/ 46] ، إشارة إلى ما أجری اللہ به العادة أنّ الإنسان إذا تناهى في اعتقاد باطل، أو ارتکاب محظور۔ ولا يكون منه تلفّت بوجه إلى الحقّ- يورثه ذلك هيئة تمرّنه علی استحسان المعاصي، وكأنما يختم بذلک علی قلبه،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–7

ترکیب : اِنَّ اسم مشبہ اَلَّذِیْنَ موصول کفروا اس کا صلہ، موصول اور صلہ دونوں مل کر اس کا اسم ہوئے اور سِوَآئٌ بمعنی استوا اس کی خبر ہے اور اس کے مابعد جو ہے وہ اس مصدر کا فاعل بن کر مرفوع ہے گویا کلام یوں ہوا ان الذین کفروامستو علیہم انذارک وعدمہ۔ ختم فعل لفظ اللہ فاعل علی جار قلوب مجرورمضاف ھم مضاف الیہ۔ مضاف اور مضاف الیہ دونوں مل کر معطوف علیہ اور علی سمعہم معطوف۔ معطوف اور معطوف علیہ دونوں مجرور ہوئے جار کے پھر متعلق ہوئے ختم سے۔ ختم اپنے فعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ غشاوۃ مبتداء مؤخر اور علٰٓی ابصارھم ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر۔ مبتداء خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا اور جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

خَتَمَ کا مفہوم خَتَمَ کا معنی عربی زبان میں ” موم یا مٹی یا اسی طرح کی کسی چیز پر ٹھپہ لگانے “ کے ہیں۔ یہیں سے یہ لفظ خط پر مہر لگانے اور کسی چیز کے منہ کو اس طرح بند کردینے کے لیے استعمال ہونے لگا جس کے بعد نہ اس میں کوئی چیز داخل ہوسکے اور نہ کوئی چیز اس سے نکل سکے۔ اس لیے آپ اس آیت کریمہ میں دیکھتے ہیں قلوب اور سمع کے لیے تو ختم کا لفظ استعمال ہوا ہے یعنی اللہ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر لگادی ہے۔ لیکن ابصار کے لیے غشاوۃ کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ ان کی آنکھوں پر پردے ڈال دیئے گئے ہیں۔ سبب یہ ہے کہ کانوں اور دل میں ہر طرف سے آواز داخل ہوتی ہے اس پر مہر کرنے کی یہی صورت ہے کہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

دوسرے مقام پر قرآن مجید نے واضح فرمایا ہے کہ ان کے گناہوں اور کفر کی وجہ سے ان کے کان بہرے، آنکھیں اندھی اور دلوں پر مہریں لگ چکی ہیں۔ (الاعراف : 179) ان آیات میں کفر و شرک کے مریض کی حالت اور نبی کریم ﷺ کی بھر پورکوششوں کا نقشہ پیش فرما کر رب کریم نے آپ ﷺ کو تسلی دی ہے اور انکار کرنے والوں پر ہمیشہ کی ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ ان کو اس قدر ہولناک اور اذیت ناک عذاب ہوگا کہ وہ دنیا کی سب نعمتوں اور سہولتوں کو بھول جائیں گے۔ (عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ﷺ یُؤْتٰی بِأَنْعَمِ أَھْلِ الدُّنْیَا مِنْ أَھْلِ النَّارِ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ فَیُصْبَغُ فِی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 7–10

وَلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ : (اور آخرت میں ان کو بڑا عذاب ہونے والا ہے) عذاب کا لفظ نکال کی طرح ہے بناوٹ ومعنی ہر دو لحاظ سے کیونکہ تم کہو گے۔ اعذب عن الشیٔ یعنی جب وہ کسی چیز سے رک جائے جیسا کہتے ہیں نکل عنہ وہ اس سے باز آیا۔ عظیم و کبیر کا فرق : یہ ہے کہ عظیم حقیر کے بالمقابل آتا ہے۔ کبیر صغیر کے مقابل آتا ہے گویا عظیم کبیر سے بڑھ کر ہے جیسا حقیر صغیر سے کمتر ہے۔ یہ دونوں اجسام واحداث کے بارے میں استعمال ہوتے ہیں۔ مثلًا کہو گے رجل عظیم و کبیر۔ مراد یہ ہوگی کہ اس کا جسم بڑا ہے یا رعب بڑا ہے۔ نکرہ لانے کی وجہ : غشاوۃ کو نکرہ لائے کہ ان کی آنکھوں پر ایک قسم کا پردہ ہے یہ وہ پردہ نہیں جس کو لوگ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت)” ختم اللہ “ یعنی اللہ تعالیٰ نے مہر لا دی (آیت)” علی قلوبھم “ پس نہ خیر کو مقصود بناتے ہیں اور نہ اسے سمجھتے ہیں حتم کا حقیقی معنی کسی شئی کو مضبوط ومستحکم اس طرح کرنا تاکہ جو چیز اس شئی سے نکل چکی ہے وہ اس میں داخل نہ ہو اور جو داخل ہوچکی ہے وہ اس سے نکل نہ سکے اور اسی سے ہے ختم علی الباب یعنی دروازہ پر تالا لگا دیا ، اہل السنۃ والجماعت فرماتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنے عمل سابق ان کے دلوں پر کفر کا حکم کردیا ، معتزلہ کہتے ہیں ان کے دلوں پر اللہ تعالیٰ نے ایسی علامت لگا دی ہے جس کے ذریعے ان کافروں کو فرشتے پہچانتے ہیں۔ (آیت)” وعلی سمعھم “ یعنی ان کی سماعت کی جگہوں پر (مہر لگا دی) پس…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–7

(6 ۔ 7): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھا جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 تا 7 اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا یعنی کفر کی صفات سے متصف ہوئے اور کفر کے رنگ میں اس طرح رنگ گئے کہ کفر ان کا وصف لازم بن گیا جس سے کوئی ہٹانے والا ان کو ہٹا نہیں سکتا اور نہ کوئی نصیحت ان پر کارگر ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کفر میں راسخ اور اس پر جمے ہوئے ہیں، لہٰذا اس کے لئے برابر ہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ حقیقت میں کفر اس تعلیم یا اس کے بعض حصے کا انکار کرنے کا نام ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ پس ان کفار کو کوئی دعوت فائدہ نہیں دیتی البتہ اس دعوت سے ان پر حجت ضرور قائم ہوجاتی ہے۔ اس آیت میں گویا رسول اللہ ﷺ کی اس امید کو ختم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–8

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

17 " ختم قلوب " کا مفہوم اور اس کا سبب اور باعث : سو اس طرح انہوں نے اپنی فطری استعداد کو ضائع کرکے، اور اپنے آپ کو نور حق سے محروم کرکے، اپنی جانوں پر خود ظلم کیا، کہ حق و ہدایت سے محرومی درحقیقت ہر خیر سے محرومی ہے ـ ـــوَالْعِیَاذ باللّٰہ الْعَظِیْم ـ ورنہ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ تو اپنے بندوں پر کبھی بھی اور کسی بھی طرح ذرہ برابر کوئی ظلم نہیں کرتا، جیسا کہ کلام حکیم میں اس کی جابجا تصریح فرمائی گئی ہے، مثلاً سورة توبہ کی آیت نمبر 70 میں ارشاد فرمایا گیا { فَمَا کَان اللّٰہُ لِیَظْلِمَہُمْ وَلٰکِنْ کَانُوْا اَنْفُسَہُمْ یَظْلِمُوْنَ } ۔ (توبہ : 70) " سو اللہ ایسا نہیں تھا کہ ان پر ظلم…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

کفر کا نتیجہ تشریح : اس آیت کریمہ میں ان لوگوں کا ذکر کیا گیا ہے جو محض ہٹ دھرمی اور ضد کی وجہ سے نیکی اختیار نہیں کرتے، اس طرح نیکی اور پاکیزگی کی وجہ سے جو وجدانی اور روحانی قوت انسان کے دل پر اثرانداز ہوتی ہے وہ اس سے محروم رہتے ہیں اور یوں اس خوبصورت اور کارآمد آلہ کو بےکار چھوڑنے سے اس پر زنگ چڑھ جاتا ہے، کیونکہ دل محض ایک گوشت کا لوتھڑا ہی نہیں، بلکہ بہت کار آمد اور ضروری تحفہ جسم کے لئے عطا کیا گیا ہے جو کہ حقیقت میں انسانی شعور اور ادراک کا مرکز ہے۔ انسان سچائی اور حقائق تک کبھی نہیں پہنچ سکتا اگر اللہ دل پر مہر لگا دے، دل کے ساتھ دو بنیادی اعضاء آنکھ اور کان کے تعلق کو زور دے کر بیان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

ختم اللہ علی قلوبھم وعلی سمعھم وعلی ابصارھم غشاوۃ ولھم عذاب عظیم۔ ان کے دلوں پر اللہ نے مہر کردی ہے کانوں پر بھی اور ساتھ ہی آنکھوں پر بھی پردہ ڈال دیا ہے اور ان کے لئے بہت بڑا عذاب ہے ہم دل کو ایک پمپنگ مشین سمجھتے تھے مگر یہ تو بری شے نکلا۔ ذرا سوچیں تو دماغ کیا ہے ؟ رگوں کا ایک مجموعہ ۔ مگر اس میں کیا کچھ خزانے دفن ہیں اور کس قدر علوم کو سیکھنے کی قوت ہے کس قدر یاداشتیں اور کتنی وسعت ہے اپنے سارے کمال کے باوجود خطاب الٰہی کا سزاوار نہ ٹھہرا مگر یہ نعمت دل کے حصے میں آئی فرمایا ، نزل بہ الروح الامین علی قلبک یعنی کلام الٰہی کا نزول قلب پر ہوا گویا قلب کی استعداد اس سے کروڑوں گنازیادہ نکلی…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 یعنی گنا ہوں کو کثرت سے ان کتے ضمیر مردہ ہوچکے ہیں اور قبول حق کے استعداد جو فطرتا ہر شخص میں ودیعت کی گئ ہے ان سے سلب ہوچکی ہے اباان حق ناحق کی تمیز باقی نہیں ر ہی گویا ان کے دل ایسے ہوگئے ہیں فی سے کسی چیز کو بند کرکے اس پر مہر لگا دی جائے گا یا یہ کہا جائے کہ ختم ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے مگر ہے ان کے مسلسل گناہوں کے ارتکاب کی وجہ سے چناچہ حضرت ابوہریرہ ؓ سے مر فو عا مروی ہے کہ جب مومن گناہ کرتا ہے تو اس کے دل پر ایک سیاہ نقطہ پڑجاتا ہے پھر اس نے توبہ کرلی تو بڑھنے سے رک گیا اور گناہ سے بچنے کی کوشش کی تو اس کا دل صاف ہوگیا۔ اور اگر وہ گنا پر گنا کرتا گیا تو وہ سیاہ نقطہ پھیل کر سارے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:7) ختم ماضی واحد مذکر غائب۔ ختم (باب ضرب) مصدر سے۔ اس نے مہر لگائی۔ اس نے مہر لگا دی۔ امام راغب فرماتے ہیں۔ الختم ۔ الطبع کے لفظ دو طرح سے استعمال ہوتے ہیں ۔ کبھی تو ختمت۔ اور طبعت کے مصدر ہوتے ہیں اور اس کے معنی کسی چیز پر مہر کی طرف نشان لگانے کے ہیں۔ اور کبھی اس نشان کو کہتے ہیں جو مہر لگانے سے بن جاتا ہے۔ اور مجازاً کبھی اس سے کسی چیز کے متعلق وثوق حاصل کرلینا۔ اور اس کا محفوظ کرلینا مراد ہوتا ہے جیسا کہ کتابوں یا دروازوں پر مہر لگا کر انہیں محفوظ کردیا جاتا ہے کہ کوئی چیز ان کے اندر داخل نہ ہو۔ یہاں آیت ہذا میں بھی ختم اللہ علی قلوبھم کے معنی ہیں : خدا نے ان کے دلوں پر مہر لگا رکھی ہے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 7 (کفروا): انہوں نے کفر کیا، دین اسلام کی سچائیوں سے انکار کیا۔ چھپایا۔ (سواء) : برابر ہے، یکساں ہے، ایک جیسا ہے۔ (انذرت): تو نے ڈرایا۔ اسی سے نذیر کا لفظ بنا ہے جو کہ بشیر کے لفط کے بالمقابل ہے۔ ۔ ۔ نذیر کے معنی ہیں ۔ آخرت کے عذاب سے شفقت و مہربانی کی بناء پر ڈرانے اور سمجھانے والا اور بشیر کے معنی ہیں “ خوشخبریاں سنانے والا ”۔ (ختم): اس نے مہر لگا دی۔ جب کسی چیز پر مہر یا سیل لگا دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب باہر سے کوئی چیز اندر اور اور اندے سے باہر نہیں آسکتی۔ دلوں پر مہر لگنے کا مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ان کے دلوں میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 7–18

شان نزول : جب آنحضرت ﷺ مدینہ میں ہجرت کرکے تشیف لائے اور اہل اسلام کی جماعت کی قوت بڑھی تو اہل مدینہ میں سے جن کی قسمت میں اللہ تعالیٰ نے اسلام لکھا تھا وہ تو خالص مسلمان ہوگئے۔ لیکن ایک جماعت اہل مدینہ کی ان یہود سے میل جول رکھتی تھی، جو مدینہ کے گرد و نواح میں رہتے تھے۔ ان یہود کے بہکانے سے اہل مدینہ کے کچھ لوگ مسلمانوں کی قوت اور شوکت کو دیکھ کر جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنا جان و مال بچانے کے لیے مسلمانوں کے روبرو اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے۔ اور جب اپنے ساتھیوں سے ملتے تو کہتے : ہم تمہارے ساتھ ہیں، ہم تو دل لگی کے طور پر اپنا اوپری اسلام ظاہر کردیتے ہیں۔ لوگوں کی دغا بازی ظاہر کرنے کو اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 7–9

[8] اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ اللہ نے مہر لگا دی تھی اس لئے انہوں نے نافرمانی کی راہ اختیار کی بلکہ مطلب یہ ہے کہ جب انہوں نے قرآن کے پیش کردہ راستہ کے خلاف دوسرا راستہ اختیار کرلیا تو اللہ نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی۔ اس سلسلے میں یہ بات جان لینی چاہئے کہ اللہ نے انسان کو نیکی و بدی کا امتیاز بخشا ہے اور ساتھ ہی اس کو اختیار دیا ہے کہ چاہے وہ نیکی کا راستہ اختیار کرے چاہے بدی کا۔ اگر وہ نیکی اور بھلائی کی راہ اختیار کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اس کو نیکی کی راہ میں ترقی کی توفیق ملتی ہے اور اگر وہ بدی کے راستے پر چل پڑتا ہے تو پھر آہستہ آہستہ اس کا دل برائی کا رنگ پکڑنا شروع…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ناقابل اصلاح گروہ : آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔ ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں پر اور ان کے کانوں پر مہر کردی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لئے بہت بڑی سزا ہے۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جس طرح ظاہری بدپرہیزی اور عد م احتیاط کے باعث انسانی جسم مختلف امراض میں مبتلا ہوجاتے ہیں یا مریض کے مرض میں اضافہ ہوجاتا ہے اسی طرح ایک انسان کی بد اعمالی اور انبیاء علیہم الصلوٰۃ والسلام کی مخالفت انسان کو روحانی امراض میں مبتلا کردیتی ہے یا روحانی مریض کے مرض میں اضافہ کا موجب ہوجاتی ہے۔ مثلاً ایک شخص نے ترشی کا استعمال کیا اور اس کو زکام ہوگیا ۔ طیب نے اس کو دوا بتائی اور پرہیز کی تاکید کی لیکن وہ برابر بد پرہیزی کرتا رہا اور اس نے دوا استعمال…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 7–8

ف 3۔ انہوں نے شرارت وعناد کر کے باختیار خود اپنی استعداد برباد کرلی ہے سو اس تباہی و استعداد کا سبب وفاعل تو وہ خود ہی ہیں مگر چونکہ بندوں کے جمیع افعال کا خالق اللہ سبحانہ وتعالی ہے اس لیے اس آیت میں اپنے خالق ہونے کا بیان فرمادیا کہ جب وہ تباہی استعداد کے فاعل ہوئے اور اس کو بقصد خود اختیار کرنا چاہا تو ہم نے بھی وہ بداستعدادی کی کیفیت ان کے قلوب وغیرہ میں پیدا کردی بند لگانے سے اسی بداستعدادی کا پیدا کرنا مراد ہے ان کا یہ فعل اس ختم کا سبب ہو ختم الہی اس فعل کا سبب نہیں ہوا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

قرآن کریم کا فیصلہ : 14: لیکن قرآن کریم نے ان سب سے الگ اپنی راہ نکالی ہے وہ کہتا ہے کہ انسان خالص و کامل نیکی ہے۔ اس میں خیر کے سوا اور کچھ نہیں۔ بات صرف اتنی ہے کہ اس میں برائی کمانے کی استعداد بھی پائی جاتی ہے۔ یعنی جس قدر بھی برائی ہے وہ اس کا کسب خارجی ہے۔ نیکی اس کا فطری عمل اور بدی غیر فطری ، خارجی اور یکسر صناعی ہے۔ اگر وہ نیک ہے تو یہ فطرت ہے اگر بد ہے تو یہ تصنع ہے۔ قرآن کریم اسی کو فطرتِ صالحہ ، دین الٰہی ، دین قیم ، دین حنیفی ، صراط مستقیم ، فطرت اللہ ، صبغۃ اللہ اور اسلام کہتا ہے۔ قرآن کہتا ہے کہ انسان کی اصل فطرت اسلام ہے اور کفر ایک صناعی اور غیر فطری عمل ، اگر ایک انسان مسلم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Favour withdrawn by Allah is a punishment These two verses tell us that the other world is the place where one would receive the real punishment for one's disbelief or for some of one's sins. One may, however, receive some punishment for certain sins even in this world. Such a punishment sometimes takes a very grievous form - that is, the divine favour which helps one to reform oneself is withdrawn, so that, ignoring how one's deeds are to be assessed on the Day of Judgment, one keeps growing in disobedience and sin, and finally comes to lose even the awareness of evil. In delineating such a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 7–8

10. This does not mean that their rejection of the Truth is a consequence of God sealing their hearts. What is meant is that God sealed their hearts and ears as a consequence of their decision to reject the fundamentals of faith, of their deliberate choice of a path divergent from that charted out by the Qur'an. Anyone who has worked for the dissemination of the Truth often finds that if, after full consideration, a person decides against a doctrine, his mind begins to move in a completely opposite direction so that he fails to appreciate anything that is explained to him. His ears become…

Read the full tafseer →