Al-Baqara 2:6

Al-Baqara · from ayah 6

2:6

اِنَّ الَّذِیْنَ كَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْهِمْ ءَاَنْذَرْتَهُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ۟اِنَّ الَّذِيۡنَ كَفَرُوۡا سَوَآءٌ عَلَيۡهِمۡ ءَاَنۡذَرۡتَهُمۡ اَمۡ لَمۡ تُنۡذِرۡهُمۡ لَا يُؤۡمِنُوۡنَ‏

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Indeed, those who disbelieve - it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:6

جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا، اُن کے لیے یکساں ہے، خواہ تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو، بہرحال وہ ماننے والے نہیں ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو لوگ کافر ہیں انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لیے برابر ہے۔ وہ ایمان نہیں لانے کے

— مولانا فتح محمد جالندہری

کافروں کو آپ کا ڈرانا، یا نہ ڈرانا برابر ہے، یہ لوگ ایمان نہ ﻻئیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

بیشک وہ لوگ جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں، چاہے آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہیں لائیں گے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بیشک وہ جن کی قسمت میں کفر ہے ا نہیں برابر ہے، چاہے تم انہیں ڈراؤ، یا نہ ڈراؤ، وہ ایمان لانے کے نہیں۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

بیشک جنہوں نے کفر اپنا لیا ہے ان کے لئے برابر ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، وہ ایمان نہیں لائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

بے شک جن لوگوں نے کفر کیا، ان پر برابر ہے، خواہ تو نے انھیں ڈرایا ہو، یا انھیں نہ ڈرایا ہو، ایمان نہیں لائیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

بلاشبہ جن لوگوں نے (مندرجہ بالا امور کو تسلیم کرنے سے) انکار کردیا، آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں، ان کے لیے ایک ہی بات ہے (یعنی) وہ ایمان نہیں لائیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جن لوگوں نے کفر کیا، ان کے لیے یکساں ہے ڈرا یا نہ ڈرآ، وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

(اس کے برعکس) جو لوگ اڑ گئے اپنے کفر (و باطل) پر (اپنے عناد اور ہٹ دھرمی کی وجہ سے) بیشک ان کے حق میں برابر ہے کہ آپ انہیں خبردار کریں یا نہ کریں، انہوں نے (بہر حال) ایمان نہیں لانا

— مولانا اسحاق مدنی

ترجمہ بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں۔ ان کے حق میں یکساں ہے خواہ آپ انہیں ڈرائیں یا آپ انہیں نہ ڈرائیں۔ وہ ایمان نہ لائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

یقیناً جن لوگوں نے کفر کیا (یعنی وہ لوگ کہ جو کفر پر اڑ گئے) ان کے لیے برابر ہے (اے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہ آپ انہیں انذار فرمائیں یا نہ فرمائیں وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو لوگ کافر ہیں، انہیں تم نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے وہ ایمان نہیں لائیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

As for those who have rejected (these things), it is all the same to them whether you warn them or do not warn them: they are not going to believe.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Surely for those who have disbelieved, it is all the same whether you warn them or you warn them not: they do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani

Surely for those who have disbelieved, it is all the same whether you warn them or you warn them not: they do not believe.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Verily, those who disbelieve, it is the same to them whether you warn them or do not warn them, they will not believe.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

As for the Disbelievers, Whether thou warn them or thou warn them not it is all one for them; they believe not.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Indeed, those who disbelieve - it is all the same for them whether you warn them or do not warn them - they will not believe.

— Saheeh International

Those who deny your message will not believe whether you warn them or not

— Muhammad Sarwar

Surely those who disbelieve, it being alike to them whether you warn them, or do not warn them, will not believe.

— Muhammad Habib Shakir

Verily those who have disbelieved, it is equal to them whether thou warnest them or warnest them not; they will not believe.

— Abdul Majid Daryabadi

As to those who reject Faith, it is the same to them whether thou warn them or do not warn them; they will not believe.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:6

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

بدقسمت لوگ یعنی جو لوگ حق کو پوشیدہ کرنے یا چھپا لینے کے عادی ہیں اور ان کی قسمت میں یہی ہے کہ انہیں آپ کا ڈرانا سود مند ہے اور نہ ہی ڈرانا۔ یہ کبھی اللہ تعالیٰ کی اس وحی کی تصدیق نہیں کریں گے جو آپ پر نازل ہوئی ہے۔ جیسے اور جگہ فرمایا آیت (اِنَّ الَّذِيْنَ حَقَّتْ عَلَيْهِمْ كَلِمَتُ رَبِّكَ لَا يُؤْمِنُوْنَ 96 ۙ وَلَوْ جَاۗءَتْھُمْ كُلُّ اٰيَةٍ حَتّٰى يَرَوُا الْعَذَابَ الْاَلِيْمَ 97؀) 10۔ یونس :96۔ 97) یعنی جن لوگوں پر اللہ کی بات ثابت ہوچکی ہے وہ ایمان نہ لائیں گے اگرچہ تمام آیتیں دیکھ لیں یہاں تک کہ درد ناک عذاب دیکھیں۔ ایسے ہی سرکش اہل کتاب کی نسبت فرمایا آیت (وَلَىِٕنْ اَتَيْتَ…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 9 یعنی وہ چھ کی چھ شرطیں، جن کا ذکر اوپر ہوا ہے، پوری نہ کیں، اور ان سب کو، یا ان میں سے کسی ایک کو بھی قبول کرنے سے انکار کردیا۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر بیشک جو لوگ کافر ہوچکے ہیں برابر ہے ان کے حق میں خواہ آپ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لاویں گے (یہ بات ان کافروں کے متعلق ہے جن کی نسبت خدا تعالیٰ کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا عام کافر مراد نہیں ان میں بہت سے لوگ بعد میں مسلمان ہوگئے) بند لگا دیا ہے اللہ نے انکے دلوں پر اور ان کے کانوں پر اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے، اور ان کے لئے سزا بڑا ہے، معارف و مسائل خلاصہ مضمون مع ربط۔ سورة بقرہ کی پہلی آیتوں میں قرآن کریم کا کتاب ہدایت اور ہر شک وشبہ سے بالاتر ہونا بیان کرنے کے بعد ان خوش نصیب لوگوں کا ذکر تھا، جنہوں نے اس کتاب ہدایت سے پورا فائدہ اٹھایا جن کو قرآن کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

إِنَّ ٱلَّذِينَ كَفَرُوا۟: کفر کے معنی اصل لغت میں ڈھانکنے اور چھپانے کے ہیں۔ قران میں یہ لفظ شکر کے ضد کی حیثیت سے بھی استعمال ہوا ہے اور ایمان کے ضد کی حیثیت سے بھی۔ پہلی صورت میں اس کے معنی ناشکری اور کفران نعمت کے ہوتے ہیں۔ دوسری صورت میں انکار کے۔ غور کیجئے تو معلوم ہوگا کہ لفظ کی اصل روح ان دونوں معنوں کے اندر موجود ہے۔ قرآن مجید میں یہ لفظ مطلق بھی استعمال ہوا ہے اور اپنے مفعول کے ساتھ بھی۔ جہاں مفعول کے ساتھ استعمال ہوا ہے وہاں تو متعین طور پر اس مفعول ہی کا کفر و انکار مراد ہے۔ لیکن جہاں کسی مفعول کے بغیر مطلق صورت میں استعمال ہوا ہے وہاں بالعموم تو ان تمام چیزوں کے انکار کے معنی میں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 نبی ﷺ کی یہ شدید خواہش تھی کہ سب مسلمان ہوجائیں اور اسی حساب سے آپ ﷺ کوشش فرماتے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایمان ان کے نصیب میں ہی نہیں ہے۔ یہ وہ چند مخصوص لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی (جیسے ابو جہل اور ابو لہب وغیرہ) ورنہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے حتٰی کہ پھر پورا جزیرہ عرب اسلام کے سایہ عاطفت میں آگیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

7) یہاں ان کافروں کا ذکر ہورہا ہے جنہوں نے یہ طے کرلیا تھا کہ چاہے کتنے واضح اور روشن دلائل ان کے سامنے آجائیں وہ کبھی آنحضرت ﷺ کی دعوت پر ایمان نہیں لائیں گے، حضرت عبداللہ بن عباس ؓ نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ یہ وہ لوگ ہیں جو کفر پر اڑگئے ہیں۔”ترجمے میں“ کفر اپنا لیا ہے“ کے الفاظ اسی مفہوم کو ادا کرنے کے لئے استعمال کئے گئے ہیں۔ (8) ”ڈرانا“ انذار کا ترجمہ کیا گیا ہے۔ قرآن کریم نے انبیائے کرام (علیہم السلام) کی دعوت کو بکثرت ”ڈرانے“ سے تعبیر کیا ہے۔ کیونکہ انبیاء کرام (علیہم السلام) لوگوں کو کفر اور بداعمالیوں کے برے انجام سے ڈراتے ہیں ؛ لیکن جن لوگوں نے تہیہ کر رکھا ہے کہ کوئی بات…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

درس 2 ایک نظر میں 1۔ آیات کا یہ حصہ ، اس عظیم سورت کا افتتاحیہ ہے ، اس میں یہودیوں کے سوا ان تمام عناصر (Pressure Groups) سے ہم متعارف ہوجاتے ہیں جن کا مقابلہ مدینہ طیبہ میں تحریک اسلامی کو کرنا پڑا ۔ اس میں یہودیوں کی طرف ایک مختصرسا اشارہ پایا جاتا ہے۔ قرآن انہیں منافقین کو ” شیاطین “ کا لقب دیتا ہے ، یہ لفظ ہی ان کی بیشتر صفات کو ظاہر کردیتا ہے ۔ اور بتا دیتا ہے کہ تحریک اسلامی کی مخالفت میں ان کا کردار کیا رہا ۔ اگرچہ یہ اشارہ مختصر ہے لیکن ابتداء میں ان کی حقیقت کے اظہار کے لئے کافی ہے بعد میں ان کے کردار پر تفصیلی تبصرہ ہوتا ہے۔ 2۔ ان خصوصیات کی نقشہ کشی کے دوران ہم قرآن مجید کی تعبیری…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 ان کفار سے خاص وہ لوگ مراد ہیں جن کے لئے کفر مقرر ہوچکا اور دولت ایمان سے ہمیشہ کے لئے محروم کردیئے گئے (جیسے ابو جہل ابو لہب وغیرہ) ورنہ ظاہر ہے کہ بہت سے لوگ جو کافر تھے مشرف با اسلام ہوئے اور ہوتے رہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 6 اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ ”اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا“ سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جو اپنے کفر پر اڑ گئے۔ اس کو ہم تاویل عام میں نہیں لے سکتے۔ اس لیے کہ اس صورت میں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ جس شخص نے کسی بھی وقت کفر کیا اب وہ ہدایت پر آہی نہیں سکتا ! یہاں یہ بات مراد نہیں ہے۔ اگر کوئی شخص کسی مغالطہ کی بنا پر یا عدم توجہی کی بنا پر کفر میں ہے ‘ حق اس پر واضح نہیں ہوا ہے تو انذار وتبشیر سے اسے فائدہ ہوجائے گا۔ آپ اسے وعظ و نصیحت کریں تو وہ اس کا اثر قبول کرے گا۔ لیکن جو لوگ حق کو حق سمجھنے اور پہچاننے کے باوجود…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 5–6

9 دیکھئے یہاں اسلام کے تین اہم بنیادی ارکان کا اجمالاً ذکر کردیا گیا ہے اور اجمال ہی کی وجہ سے روزہ اور حج کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیونکہ جن لوگوں میں مندرجہ بالا پانچ صفات پیدا ہوجائیں گی، وہ صرف روزہ اور حج ہی نہیں دوسرے تمام شرعی اوامرو نواہی پر عمل کرنے کے لیے از خود مستعد ہوجائیں گے اور درج ذیل حدیث میں نماز روزہ اور زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔ حج چونکہ زندگی میں صرف ایک بار اور وہ بھی صاحب استطاعت پر فرض ہے لہذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔ ارکان اسلام کی اہمیت اور ترتیب :۔ طلحہ بن عبید اللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی اور ہم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

16 (اور قیام دلائل کے باوجود اس پر اڑے ہوئے ہیں) اے اثبتوا علی الکفر (ابن عباس ؓ ایسے لوگ ظاہر ہے کہ علم الہی میں کفر ہی پر مرنے والے ہیں۔ جو لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور باطل پر جمے رہتے ہیں، ان کی استعداد قبول حق کے باب میں روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے۔ یہاں تک کہ بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں خصوصی اشارہ یہود مدینہ کی جانب ہے۔ ان کا کفر کفر جحود کی قسم کا تھا۔ یعنی یہ نبی ﷺ آخرالزمان کی بابت پیشگوئیوں اور ان کی علامتوں سے اچھی طرح واقف تھے۔ اور پھر دانستہ اغماض واخفا کرتے رہتے تھے کہ اپنی دینی ریاست اور دنیوی سیادت میں فرق نہ پڑنے پائے۔ واما معنی الکفر فانہ الجحود ذلک ان الاحبار من…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اِنَّ الَّذِیْنَ کفَرُوْا سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَاَنْذَرْتھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ بیشک جو لوگ کفر (اختیار) کئے ہوئے ہیں ان کے حق میں یکساں ہے کہ آپ ﷺ ان کو ڈرائیں یا نہ ڈرائیں وہ ایمان نہ لائیں گے نبی ﷺ کی شدید خواہش تھی کہ سب لوگ مسلمان ہوجائیں اور اسی حساب سے آپ ﷺ کوشش فرماتے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ایمان ان کے نصیب میں ہے ہی نہیں، مراد ان سے چند مخصوص لوگ ہیں جن کے دلوں پر مہر لگ چکی تھی (جیسے ابوجہل، ابولہب وغیرہ) ورنہ آپ ﷺ کی دعوت و تبلیغ سے بیشمار لوگ مسلمان ہوئے حتی کہ پورا جزیرۃ العرب اسلام کے سایہ عاطفت میں آگیا۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا ( اے پیغمبر جن لوگوں نے قبول اسلام سے انکار کیا) کفر کے لغوی معنی ہیں نعمت کا چھپانا اور شرع میں کفر کہتے ہیں ایمان کی ضد اور خداوندی نعمت کے چھپانے کو۔ سَوَآءٌ عَلَیْھِمْ ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ ( ان کے حق میں یکساں ہے کہ تم ان کو عذاب الٰہی سے ڈراؤیا نہ ڈراؤ) یہ اِنَّ کی خبر ہے اور سَوَاء اسم ہے معنی میں اِسْتِوَآءٌ کے اس کا حمل مبتدا پر ویسا ہی ہوا ہے جیسا مصادر کا حمل اسماء پر ہوا کرتا ہے ءَ اَنْذَرْتَھُمْ اور اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ دونوں جملے بتاویل سواءٌ کے فاعل ہیں اور تقدیر عبارت یوں ہے مُسْتَوٍ عَلَیْھِم اِنْذَارُکَ وَ عَدَمُہٗ یا یوں کہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

6) جو لوگ کفر پر پکے ہوچکے ان کو بھلائی کی بات کرتا اور انکو قرآن پاک کے ذریعے ڈرانا نہ ڈرانا ایک جیسا ہے وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے، اور یہ بھی تفسیر ہے کہ اللہ تعالیٰ کے علم میں یہ بات ہے کہ وہ ایمان نہیں لائیں گے، لیکن اللہ نے انہیں ارادے کی آزادی دے کر تمام حجت کردی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(لَا يُؤْمِنُوْنَ) اس سے مراد تمام کفار تو ہو نہیں سکتے، کیونکہ بیشمار کافر دعوت کے نتیجے میں ایمان لائے اور لا رہے ہیں۔ اس لیے یہاں مراد وہ لوگ ہیں جو پچھلی آیات میں مذکور چھ چیزوں کا یا ان میں سے بعض کا انکار کردیتے ہیں اور ہٹ دھرمی کی اس حد تک پہنچ جاتے ہیں کہ اگر یہ حق بھی ہو تو ہم اسے نہیں مانیں گے، جیسے بعض یہود مدینہ (بقرۃ : 146) اور ابو جہل اور اس کے ساتھی وغیرہ (انفال : 32)۔ جب کوئی طے کرلے کہ میں نے ماننا ہی نہیں تو اسے ایمان کیسے نصیب ہوسکتا ہے ؟ سوئے ہوئے کو جگایا جاتا ہے، جاگتے ہوئے مدہوش کو کون جگا سکتا ہے ؟ اس کے یہ معنی نہیں کہ ڈرانا بالکل فضول ہے، بلکہ اللہ تعالیٰ کا پیغام ہر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 6 جب پہلے مومنین اور ان کے احوال کا ذکر فرمایا تو کافروں اور ان کے انجام کا اب ذکر ہو رہا ہے۔ کفر، ایمان کی ضد ہے، آیت میں یہی مراد ہے کبھی کفر کا لفظ نعمت اور احسان کی ناشکری کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے، حدیث کسوف میں عورتوں کے متعلق نبی کریم ﷺ کا ارشاد اسی معنی میں ہے۔ فرمایا : ودایت النار قلم ارمنظراً کالیوم قط افظع ورایت اکثر اھلھا النساء قیل بم یا رسول اللہ ﷺ قال یکفر ھن قیل أیکفرون باللہ قال یکفرن العشیر ویکفرن الاحسان لو احسنت الی احداھن الدھر کلہ ثم رات منک شیئا قالت ما رایت منک خیراً قط (1) (بخاری) میں نے جہنم دیکھی اور میں آج کی طرح کبھی خوفناک منظر نہیں دیکھا۔ میں نے دوزخ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریج ابن ابی حاتم، طبرانی نے الکبیر میں ابن مردویہ اور بیہقی نے الاسماء والصفات میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ان الذین کفروا سواء علیہمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یؤمنون “ اور اس جیسی دوسری آیات قرآن مجید میں سے ان سے مراد ہے کہ رسول اللہ ﷺ اس بات پر حریص تھے کہ سب لوگ ایمان لے آئیں اور ہدایت پر ان کی تابعداری کریں نہیں ایمان لائیں گے مگر وہ لوگ جن کے لئے اللہ تعالیٰ کی طرف سے سعادت یعنی نیک بختی (ذکر اول میں لکھی جا چکی ہے یعنی لوح محفوظ میں) تو وہی ایمان لائے گا اور جس کے لیے اللہ تعالیٰ کی طرف سے شفاء ہے (یعنی بدبختی لکھی جاچکی ہے (ذکر اول میں) یعنی لوح محفوظ…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ اِنَّ : یقینا ] [ الَّـذِیْنَ کَفَرُوْا : جن لوگوں نے انکار کیا ] [ سَوَآئٌ عَلَیْھِمْ : برابر ہے ان پر ] [ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ : خواہ آپ خبردار کریں ان کو ] [ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا یُؤْمِنُوْنَ : یا آپ ﷺ خبردار کریں نہ کریں ان کو ] [ لَا یُؤْمِنُوْنَ : وہ لوگ ایمان نہیں لائیں گے ] کر کفر یکفر (ن) کفرا : کسی چیز کو دبا دینا ‘ چھپا دینا۔ پھر اس بنیادی مفہوم کے ساتھ دو معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1) کفورًا : ناشکری کرنا یا ناقدری کرنا اور ایمان لانے سے انکار کرنا۔ دراصل اللہ تعالیٰ کی معرفت ‘ (3) کفرانًا : اس کی وحدانیت ‘ نیکی بدی کا شعور ‘ جذبہ شکر وغیرہ انسان کی فطرت میں ڈال کر اسے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 6–7

کافروں کی گمراہی اور آخرت میں بدحالی۔ اہل ایمان کے اوصاف بیان فرمانے کے بعد ان آیات میں ان کافروں کا ذکر فرمایا ہے۔ جن کا اللہ کے علم میں خاتمہ کفر پر ہونا ہے اور جو لوگ حق واضح ہوتے ہوئے اور حق و باطل کو سمجھتے ہوئے کفر پر جمے ہوئے ہیں۔ اور انہوں نے طے کر رکھا ہے کہ ہمیں ہرگز کسی حالت میں اسلام قبول نہیں کرنا۔ اللہ جل شانہ نے ہر شخص کو فطرت ایمانیہ پر پیدا فرمایا پھر اس کے ماں باپ اس کو کفر پر ڈال دیتے ہیں اور وہ اپنے ماحول اور معاشرہ کی وجہ سے ایمانی استعداد کو کھو بیٹھتا ہے اور اپنے کو اس درجہ میں پہنچا دیتا ہے کہ کسی قیمت پر اسلام قبول کرنے کو تیار نہیں۔ جب انہوں نے اپنی شرارت اور عناد کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 6–7

صفات کافرین کا ذکر قال تعالیٰ ان الذین کفرو۔۔۔ الی۔۔۔ عذاب عظیم (یہ آیت نازل ہوئی ان کے حق میں جن کی موت کفر پر اللہ تعالیٰ نے اپنے علم قدیم میں جانی تھی جیسا کہ عتبہ وشیبہ وابی جہل وولید بن مغیر (موضح القرآن) یہاں تک گروہ اتقیاء کا ذکر فرمایا کہ جو قرآن کریم کی ہدایت سے متمع اور منتفع ہوئے اب آئندہ اشقیاء کا ذکر فرماتے ہیں کہ اپنی شقاوت اور فساد فطرت کی وجہ سے اس چشمۂ ہدایت سے منتفع نہیں ہوئے۔ چناچہ فرماتے ہیں تحقیق جن لوگوں نے کفر کیا یعنی جو لوگ اللہ کے علم میں کافر ہیں ان کے حق میں آپ کا ڈرانا اور نہ ڈرانا سب برابر ہے وہ ایمان نہ لائیں گے آپ اس قسم کے لوگوں کے ایمان نہ لانے سے رنجیدہ اور…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 10 ۔ اس آیت میں كَفَرُوْاسے مراد مطلق کافر مراد نہیں ہیں کیونکہ نبی کریم (علیہ السلام) کی تبلیغ پر ہزاروں کافر ایمان لائے اور یہ سلسلہ ابھی تک جاری ہے بلکہ اس سے مراد خاص قسم کے کافر ہیں۔ یعنی وہ لوگ جو حق کو اچھی طرح سمجھ چکے اور پہچان چکے ہوں مگر محض ضد اور عناد کی وجہ سے اس کا انکار کرتے ہوں۔ ضد و انکار کی وجہ سے ان کے ضمیر مردہ اور دل سیاہ ہوچکے ہیں اس لیے وعظ ونصیحت اور تبلیغ وانذار کا ان پر کوئی اثر نہیں ہوسکتا۔ ای ستروا الحق عناداً (مدارک) مشرکین مکہ میں ابو جہل، ابولھب، ولید بن مغیرہ وغیرہ اور یہود کے بعض علماء اور رؤسا مثلا حی بن اخطب، کعب بن اشرف وغیرہ اسی قسم کے کافر تھے۔ (ابو…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 6–7

انسانوں کے تین گروہ : ہدایت (اور گمراہی) کے اعتبار سے انسان تین گروہوں میں تقسیم ہوتے ہیں۔ پہلا گروہ مومنین کا ہے جو ہدایت کو ظاہراً اور باطناً قبول کرتے ہیں اور اسے اپناتے ہیں۔ یہ مومن متقی کہلاتے ہیں۔ سورة بقرہ کی پہلی چار آیتوں میں ان کا حال ، ان کے اوصاف اور ان کا انجام بیان ہوا ہے۔ انسانوں کا دوسرا گروہ وہ ہے ، جو ہدایت الٰہی کا ظاہراً بھی انکار کرتے ہیں اور باطناً بھی انکار کرتے ہیں۔ یہ لوگ کسی طور پر ہدایت کو قبول کرنے پر آمادہ نہیں ہوتے ، لہذا کافر کہلاتے ہیں۔ ان دو آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے انہیں لوگوں کا حال اور ان کا انجام بیان فرمایا ہے۔ ان کا تیسرا گروہ زبان سے تو ہدایت ربانی کا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

اِنَّ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا سَوَاۗءٌ عَلَيْہِمْ ءَاَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْھُمْ لَا يُؤْمِنُوْنَ۝ 6 كفر الكُفْرُ في اللّغة : ستر الشیء، ووصف اللیل بِالْكَافِرِ لستره الأشخاص، والزّرّاع لستره البذر في الأرض، وأعظم الكُفْرِ : جحود الوحدانيّة أو الشریعة أو النّبوّة، والکُفْرَانُ في جحود النّعمة أكثر استعمالا، والکُفْرُ في الدّين أكثر، والکُفُورُ فيهما جمیعا قال : فَأَبَى الظَّالِمُونَ إِلَّا كُفُوراً [ الإسراء/ 99] ( کر ) الکفر اصل میں کفر کے معنی کیس چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اور رات کو کافر کہا جاتا ہے کیونکہ وہ تمام چیزوں کو چھپا لیتی ہے ۔ اسی طرح کاشتکار چونکہ زمین کے اندر بیچ کو چھپاتا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 6–7

ترکیب : اِنَّ اسم مشبہ اَلَّذِیْنَ موصول کفروا اس کا صلہ، موصول اور صلہ دونوں مل کر اس کا اسم ہوئے اور سِوَآئٌ بمعنی استوا اس کی خبر ہے اور اس کے مابعد جو ہے وہ اس مصدر کا فاعل بن کر مرفوع ہے گویا کلام یوں ہوا ان الذین کفروامستو علیہم انذارک وعدمہ۔ ختم فعل لفظ اللہ فاعل علی جار قلوب مجرورمضاف ھم مضاف الیہ۔ مضاف اور مضاف الیہ دونوں مل کر معطوف علیہ اور علی سمعہم معطوف۔ معطوف اور معطوف علیہ دونوں مجرور ہوئے جار کے پھر متعلق ہوئے ختم سے۔ ختم اپنے فعل اور متعلق سے مل کر جملہ فعلیہ ہوا۔ غشاوۃ مبتداء مؤخر اور علٰٓی ابصارھم ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر۔ مبتداء خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا اور جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْاسَوَآئٌ عَلَیْھِمْ ئَ اَنْذَرْتَھُمْ اَمْ لَمْ تُنْذِرْ ھُمْ لَایُؤْمِنُوْنَ ۔ خَتَمَ اللّٰہُ عَلٰی قُلُوْبِھِمْ وَعَلٰی سَمْعِھِمْط وَعَلٰٓی اَبْصَارِھِمْ غِشَاوَۃٌ ز وَّلَھُمْ عَذَابٌ عَظِیْمٌ۔ (البقرۃ : 6 تا 7) (جن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے یکساں ہے ڈرائو یا نہ ڈرائو۔ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں۔ اللہ نے ان کے دلوں پر اور کانوں پر مہر لگادی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ہے اور ان کے لیے عذاب عظیم ہے ) انسانوں میں کوئی تفریق نہیں سوائے ایمان اور کفر کے اسلامی تعلیمات کے مطابق تمام انسان ایک وحدت میں شریک ہیں۔ جس کی بنیاد وحدت رب اور وحدت اب ہے یعنی ان کا رب بھی ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : لوگوں کی دوسری قسم جنہوں نے حق کا انکار کیا ان کے مزاج اور انجام کا بیان۔ لغت میں کفر کا معنٰی ہے کسی شے کو چھپانا۔ جو شخص نعمت کو چھپائے اور اس کا شکرا ادا نہ کرے اس کے فعل کو کفر اور کفران نعمت کہتے ہیں۔ سب سے بڑا کفر اللہ کی وحدانیت اور شریعت، نبوت کا انکار ہے۔ قرآن مجید میں کفر کا لفظ کفران نعمت اور کفر باللہ دونوں کے لیے استعمال ہوا ہے۔ (اَلْکُفْرُ عَدَمُ تَصْدِیْقِ الرَّسُوْلِ فِیْمَا عُلِمَ بالضَّرُوْرَۃِ مَجِیْءُہٗ بِہٖ ) (تفسیر رازی : ص 306، ج 1) ” کفر کے معنٰی یہ ہیں کہ رسول اور پیغمبر کی اس بات میں تصدیق نہ کرنا جس کا بدیہی اور قطعی طور پر دین سے ہونا معلوم…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

ربط : جب اللہ تعالیٰ نے اپنے پسندیدہ بندوں کا اپنے قرب والی صفات کے ساتھ تذکرہ فرمایا اور واضح کردیا کہ کتاب مقدس ان کے لیے ہادی ہے تو اس کے پیچھے ان کے ضد و مخالف لوگوں کو ذکر کیا۔ اور وہ انتہائی سرکش و نافرمان لوگ جن کے متعلق ہدایت فائدہ مند نہیں۔ فرمایا : اِنَّ الَّذِیْنَ کَفَرُوْا کفر سخت انکار سے حق کو چھپانا۔ کفر کے حروف کی ترکیب چھپانے پر دلالت کرتی ہے اسی لیے کسان پر کافر کا لفظ بولا جاتا ہے۔ اسی طرح رات پر۔ عدم عطف کی وجہ : سوال : یہاں حرف عطف نہیں لائے جیسا کہ سورة انفطار آیت 13، 14 (اِنَّ الْاَبْرَارَ لَفِیْ نَعِیْمٍ وَاِنَّ الْفُجَّارَ لَفِیْ جَحِیْمٍ ) میں عطف کے ساتھ ذکر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت)” ان الذین کفروا “ اس سے مراد مشرکین عرب، کلبی کہتے ہیں اس سے مراد یہود ہیں اور کفر جحود کے معنی میں سے یعنی انکار کرنا اور اس کا اصل معنی ستر ہے اسی اعتبار سے رات کو کافر کا نام دیا گیا کیونکہ وہ اپنی تاریکی سے چیزوں کو چھپا دیتی ہے اور کسان کو کافر کہ وہ دانہ کو مٹی میں چھپاتا ہے ، پس کافر حق کو اپنے انکار کے ساتھ چھپاتا ہے ۔ (اقسام کفر) کفر چار قسم پر ہے (1) کفر انکار (2) کفر جحود (3) کفر عناد (4) کفرنفاق۔ کفر انکار یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کو بالکل نہیں پہچانتا اور انہ اس کا اعتراف کرتا ہے اور اس کا کفر کرتا ہے ،۔ کفر جحود یہ ہے کہ نہ دل سے اللہ تعالیٰ کو پہچانتا ہے اور نہ زبان سے اقرار…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 6–7

(6 ۔ 7): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھا جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 6–7

آیت نمبر 6 تا 7 اللہ تعالیٰ خبر دیتا ہے کہ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا یعنی کفر کی صفات سے متصف ہوئے اور کفر کے رنگ میں اس طرح رنگ گئے کہ کفر ان کا وصف لازم بن گیا جس سے کوئی ہٹانے والا ان کو ہٹا نہیں سکتا اور نہ کوئی نصیحت ان پر کارگر ہوسکتی ہے۔ وہ اپنے کفر میں راسخ اور اس پر جمے ہوئے ہیں، لہٰذا اس کے لئے برابر ہے تم انہیں ڈراؤ یا نہ ڈراؤ وہ ہرگز ایمان نہیں لائیں گے۔ حقیقت میں کفر اس تعلیم یا اس کے بعض حصے کا انکار کرنے کا نام ہے جسے رسول اللہ ﷺ لے کر آئے۔ پس ان کفار کو کوئی دعوت فائدہ نہیں دیتی البتہ اس دعوت سے ان پر حجت ضرور قائم ہوجاتی ہے۔ اس آیت میں گویا رسول اللہ ﷺ کی اس امید کو ختم…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–8

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

14 فلاح کا مفہوم اور اس کی عظمت شان کا بیان : یعنی ایسے لوگ اس اصل اور حقیقی کامیابی سے سرفراز ہوں گے جو ان کو دوزخ سے پناہ اور جنت کی سدا بہار نعمتوں سے سرفرازی کی شکل میں نصیب ہوگی، اور وہی ہوگی اصلی اور حقیقی کامیابی، کیونکہ وہاں پر مومن صادق کو وہ کچھ ملے گا جو نہ کسی آنکھ نے دیکھا ہوگا، نہ کسی کان نے سنا ہوگا، اور نہ ہی کسی بشر کے دل پر اس کا گزر ہی ہوا ہوگا، جیسا کہ حضرت نبی معصوم (علیہ الصلوۃ والسلام) سے صاف اور صریح طور پر مروی ہے، اور وہاں پر مومن صادق کو وہ کچھ ملے گا جو اس دنیا میں کسی بڑے سے بڑے بادشاہ کو بھی نصیب نہیں ہوسکتا، جس کے لئے دو بنیادی پہلوؤں کے اعتبار سے موازنہ کافی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

کافر لوگ تشریح : اس آیت میں اللہ تعالیٰ آنحضرت ﷺ کو مخاطب کرکے کہتے ہیں کہ یہ قوم بڑی ھڈ حرام اور بگڑی ہوئی ہے اور منکر اللہ ہے ان کو ڈرانا، برائیوں سے منع کرنا، نصیحت کرنا کوئی افادیت نہیں رکھتا۔ ان کو نصیحت کرو یا نہ کرو ان کے لئے برابر ہے یہ ان کفار قریش کے لئے کہا گیا ہے جو کہ پکے کافر اور انتہائی بگڑے ہوئے لوگ تھے جو ہر وقت نبی کریم ﷺ کو تکلیف پہنچانے اور مذاق اڑانے میں خوشی محسوس کرتے تھے۔ ان میں ابوجہل، عتبہ، شیبہ اور دیگر سرداران قریش شامل تھے۔

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

ان الذین کفرو سوآء علیھمء انذرتھم ام لم تنذرھم لا یومنون یعنی جو لوگ آپ ﷺ کی تعلیمات خود آپ ﷺ کی زبان حق ترجمان سے سن کر پھر ایمان نہیں لاتے تو وہ ایمان لا ہی نہیں سکتے کہ نہ اس سے بڑھ کر کوئی نبی ہے اور نہ کلام اس بات کو جاننے کے لئے یوں غور کریں کہ انسان صرف جسم کا نام نہیں اور نہ اکیلے روح کا بلکہ جسم وجان مل کر انسان کہلاتے ہیں جسم کی ضروریات میں یہ بیشمار چیزوں کا محتاج ہے جن میں لباس اور غذا سب سے زیادہ ضروری اور اس کی بقا وتعمیر کا سبب ہیں لیکن اس سے زیادہ اس کی صحت وعلاج معالجہ ہیں اگر صحت درست نہ ہو تو نہ غذا کام کرتی ہے اور نہ لباس خوشی دیتا ہے۔ یہاں وہ چیزیں ہیں کہ غذا ہر جگہ سے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 یعنی جو اللہ تعالیٰ کے علم ازلی میں کافر قرار پاچکے ہیں ان کو انذار سے فائدہ نہیں ہوگا ( قرطبی) اس کے معنی یہ نہیں کہ انذار بالکل فضول ہے نہیں بلکہ منذر کو تو تبلیغ رسالتہ کا حق ادا کرنے کا ضرور ثواب ملتا ہے رہے گا اس لیے علیہم فرمایا کہ ان کے حق میں انذار اور عدم انذار برابر ہے۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

کفروا : ماضی جمع مذکر غائب، کفرو کفران وکفور، مصادر ہیں۔ الکفر : کے اصل معنی کسی چیز کو چھپانے کے ہیں ۔ اسی لئے رات کو بھی کافر کہا جاتا ہے کہ وہ تمام چیزوں کو چھپالیتی ہے۔ یا کسان کو بھی کافر کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی بیج کو زمین کے اندر چھپا دیتا ہے۔ کفر زیادہ تر شریعت حقہ سے انکار یا دین سے انکار کے لئے استعمال ہوتا ہے اور سب سے بڑا کفر اللہ تعالیٰ کی وحدانیت یا اس کے فرستادہ انبیاء سے یا ان کی لائی ہوئی شریعت سے انکار ہے۔ کفران : زیادہ تر نعمت کے انکار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور کفور دونوں قسموں کے انکار پر بولا جاتا ہے۔ ان الذین کفروا (اے پیغمبر) جن لوگوں نے قبول اسلام سے انکار کیا۔…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 6–7

لغات القرآن : آیت نمبر 6 تا 7 (کفروا): انہوں نے کفر کیا، دین اسلام کی سچائیوں سے انکار کیا۔ چھپایا۔ (سواء) : برابر ہے، یکساں ہے، ایک جیسا ہے۔ (انذرت): تو نے ڈرایا۔ اسی سے نذیر کا لفظ بنا ہے جو کہ بشیر کے لفط کے بالمقابل ہے۔ ۔ ۔ نذیر کے معنی ہیں ۔ آخرت کے عذاب سے شفقت و مہربانی کی بناء پر ڈرانے اور سمجھانے والا اور بشیر کے معنی ہیں “ خوشخبریاں سنانے والا ”۔ (ختم): اس نے مہر لگا دی۔ جب کسی چیز پر مہر یا سیل لگا دی جاتی ہے تو اس کا یہ مطلب ہوتا ہے کہ اب باہر سے کوئی چیز اندر اور اور اندے سے باہر نہیں آسکتی۔ دلوں پر مہر لگنے کا مطلب یہ ہے کہ حق نہ تو ان کے دلوں میں داخل ہو سکتا ہے اور نہ ان کے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

کفر کی چار اقسام : علماء نے کفر کی چار قسمیں بیان کی ہیں : ایک کفر جیسا فرعون کا کفر تھا کہ وہ اللہ کی ذات کا ہی دل و زبان دونوں سے منکر تھا۔ اللہ تعالیٰ کو دل سے ماننا زبان سے اقرار نہ کرنا جیسے ابلیس کا کفر۔ دل و زبان دونوں سے خدا کو ماننا لیکن اس کا حکم نہ ماننا جیسے ابو طالب اور اہل کتاب کفر۔ کفر منافقوں کا کہ زبان سے سب کچھ کہنا اور دل میں کچھ نہیں۔ ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اللہ کے علم میں جن لوگوں کا حالت کفر میں مرنا ٹھہر چکا ہے، ان کے دلوں میں حق بات کے سمجھنے کی اور ان کے کانوں میں حق بات کے سننے کی کچھ گنجائش نہیں اور نبی کے معجزات دیکھنے سے ان کی آنکھوں پر پردہ پڑا ہوا ہے۔ ترمذی…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[7] یہ انسانوں کی دوسری قسم ہے جو قبولیت حق کے لحاظ سے پہلی قسم کی ضد ہے اس سے مراد مشرکین و اہل کتاب کے وہ لوگ ہیں جو حق کو اچھی طرح پہچان لینے کے بعد اس کی مخالفت میں پیش پیش تھے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ناقابل اصلاح گروہ : آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔ ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 2۔ بلا شبہ جو لوگ کفر اور انکار کے عادی اور خوگر ہوچکے ان کو خواہ آپ ڈرائیں یا نہ ڈرائیں ان کے حق میں دونوں باتیں برابر ہیں وہ ایمان نہیں لائیں گے۔ (تیسیر) اس آیت میں یا تو مخصوص کافر مراد ہیں ۔ جیسے ابو جہل ، ابو لہب ، ولید بن مغیرہ اور احبار یہود وغیرہ یا یہ آیت عام ہے اگر دوسری صورت مراد لی جائے تو وہ کافر جو بعد میں مسلمان ہوئے وہ خاص ہوں گے اور آیت کے مصداق صرف وہی کافر ہوں گے جو اپنے کفر پر مصر اور ضدی اور ہٹ دھرم تھے اور جو لوگ ایسے نہیں تھے وہ اس آیت میں داخل نہیں ہوں گے ۔ ہم نے ترجمہ میں دونوں معنی کی رعایت رکھی ہے یہ جو فرمایا کہ آپ کا ڈرانا یا نہ ڈرانا ان کے حق میں برابر ہے تو اس…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 2۔ اس آیت میں سب کافروں کا بیان نہیں بلکہ خاص ان کافروں کا ذکر ہے جن کی نسبت خدا کو معلوم ہے کہ ان کا خاتمہ کفر پر ہوگا اور اس آیت سے یہ غرض نہیں کہ ان کو عذاب الہی سے ڈرانے اور احکام سنانے کی ضرورت نہیں بلکہ مطلب یہ ہے کہ آپ ان کے ایمان لانے کی فکرنہ کریں اور ان کے ایمان نہ لانے مغموم نہ ہوں انکے ایمان لانے کی امید نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کفار کون ہیں ؟ 12: ہر تحریک کے دور میں تین قسم کے لوگوں کا پیدا ہونا ضروری ہے : i: وہ جو اس تحریک کے حامیان کار ہوں۔ ii: وہ جو مکمل طور پر اس کے مخالف اور نہ ماننے والے ہوں۔ iii: ایسے لوگ جن کے تعلقات دونوں طرف موجود ہوں۔ بس ! دوسری قسم کے لوگوں کو جو اسلامی تحریک کے سخت مخالف ہیں اسلام کی زبان میں کفار کہا جاتا ہے ظاہر ہے کہ ایسے لوگوں کو کافر یعنی انکار کرنے والے ہی کہا جائے گا۔ یہی لوگ دلائل حق میں غور نہیں کرتے اور باطل پر جمے رہتے ہیں۔ انکی استعداد قبول حق کے باب میں روز بروز کمزور ہوتی جاتی ہے یہاں تک کہ بالکل مردہ ہوجاتی ہے۔ آیت میں خصوصی اشارہ یہود مدینہ کی جانب ہے ان کا کفر کفر جحود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

After affirming the Holy Qur'an as the Book of Guidance and as being beyond all doubt, the first five verses of the present Surah refer to those who derive full benefit from this Book and whom the Holy Qur'an has named as Mu'minun مؤمنون (true Muslims) or Muttaqun مُتَّقون (the God-fearing), and also delineate their characteristic qualities which distinguish them from others. The next fifteen verses speak of those who refuse to accept this guidance, and even oppose it out of sheer spite and blind malice. In the time of the Holy Prophet , ﷺ there were two distinct groups of such people. On the…

Read the full tafseer →