ہدایت یافتہ لوگ
یعنی وہ لوگ جن کے اوصاف پہلے بیان ہوئے مثلاً غیب پر ایمان لانا، نماز قائم رکھنا، اللہ کے دئیے ہوئے سے دینا۔ حضور ﷺ پر جو اترا اس پر ایمان لانا، آپ سے پہلے جو کتابیں اتریں ان کو ماننا، دار آخرت پر یقین رکھ کر وہاں کام آنے کے لئے نیک اعمال کرنا۔ برائیوں اور حرام کاریوں سے بچنا۔ یہی لوگ ہدایت یافتہ ہیں جنہیں اللہ کی طرف سے نور ملا، اور بیان و بصیرت حاصل ہوا اور انہی لوگوں کے لئے دنیا اور آخرت میں فلاح و نجات ہے۔ ابن عباس نے ہدایت کی تفسیر " نور " اور " استقامت " سے کی ہے اور " فلاح " کی تفسیر اپنی چاہت کو پالینے اور برائیوں سے بچ جانے کی ہے۔ ابن جریر فرماتے ہیں کہ یہ لوگ اپنے رب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
سورة الْبَقَرَة 7
یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں، رہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(آیت) وَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ یعنی متقین ایسے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہی لوگ یقین رکھتے ہیں،
اس آیت میں متقین کی باقی صفات کا بیان ہے جس میں ایمان بالغیب کی کچھ تفصیل اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ عہد رسالت میں مؤمنین متقین دو طرح کے حضرات تھے ایک وہ جو پہلے مشرکین میں سے تھے پھر مشرف باسلام ہوئے دوسرے وہ جو پہلے اہل کتاب…
Read the full tafseer →عَلَى هُدًى: ھدی کے مختلف معانی اوپر بیان ہو چکے ہیں۔ یہاں مذکورہ معانی میں سے نور بصیرت کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں اور صراط مستقیم کے معنی بھی لئے جا سکتے ہیں۔ ان دونوں معنوں میں سے جو معنی بھی لے لیا جائے آیت کی تاویل ٹھیک بن جاتی ہے اور لغت اور استعمالات قرآن سے اس کی تائید ہوتی ہے۔
الْمُفْلِحُونَ: اس لفظ کی اصلی روح انشراح اور انکشاف کی ہے اور اس سے مراد وہ فائزالمرامی اور کامیابی ہوتی ہے جو اگرچہ حاصل ہو تو ایک صبر آزما اور جاں گسل جدوجہد کے بعد لیکن جب حاصل ہو تو محنت کرنے والے نہال ہوجائیں اور ان کی توقعات کے سارے پیمانے اس کے ناپنے سے قاصر رہ جائیں۔
Read the full tafseer →1 یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ و عمل اور عقیدہ صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں۔ محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے۔ کامیابی سے مراد آخرت میں رضائے الٰہی اور اس کی رحمت و مغفرت کا حصول ہے۔ اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوش حالی اور سعادت و کامرانی مل جائے تو سبحان اللہ۔ ورنہ اصل کامیابی آخرت ہی کی کامیابی ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ دوسرے گروہ کا تذکرہ فرما رہا ہے جو صرف کافر ہی نہیں بلکہ اس کا کفر وعناد اس انتہا تک پہنچا ہوا ہے جس کے بعد اس سے خیر اور قبول اسلام کی توقع ہی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(5) یعنی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو وحی حضور اکرم ﷺ پر اتاری گئی وہ بھی بالکل سچی ہے اور جو آپ سے پہلے انبیائے کرام (علیہم السلام) مثلاً حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) وغیرہ پر نازل کی گئی تھی وہ بھی بالکل سچی تھی اگرچہ بعد میں لوگوں نے اسے ٹھیک ٹھیک محفوظ نہ رکھا بلکہ اس میں تحریف کردی۔
اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ وحی کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ پر ختم ہوگیا، آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جس پر وحی آئے یا اسے پیغمبر بنایا جائے، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی وحی اور آپ سے پہلے کے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر فرمایا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 1–5
تفسیر آیت 1 تا 5
مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7)
” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،…
Read the full tafseer →1 یعنی اہل ایمان کے دونوں گروہ مذکورہ بالا دنیا میں ان کو ہدایت نصیب ہوئی اور آخرت میں ان کو ہر طرح کی مراد ملے گی جس سے معلوم ہوگیا کہ جو نعمت ایمان اور اعمال حسنہ سے محروم رہے ان کی دنیا و آخرت دونوں برباد ہیں۔ اب ان دونوں فریق مومنین سے فارغ ہو کر اس کے آگے کفار کی حالت بیان کی جاتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 5 اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْق
وہ ابتدائی ہدایت بھی ان کے پاس تھی اور اس تکمیلی ہدایت یعنی قرآن پر بھی ان کا پورا یقین ہے ‘ اور محمد ﷺ کا اتباع بھی وہ کر رہے ہیں۔ّ
وَاُولٰٓءِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ
”فلاح“ کا لفظ بھی قرآن مجید کی بہت اہم اصطلاح ہے۔ اس کا معنی ہے منزل مراد کو پہنچ جانا ‘ کسی باطنی حقیقت کا عیاں ہوجانا۔ اس پر ان شاء اللہ سورة المؤمنون کے شروع میں گفتگو ہوگی۔ یہاں فرمایا جا رہا ہے کہ فلاح پانے والے ‘ کامیاب ہونے والے ‘ منزل مراد کو پہنچنے والے اصل میں یہی لوگ ہیں۔ تاویل خاص کے اعتبار سے یہ صحابہ کرام رض کی طرف اشارہ ہوگیا ‘ جبکہ تاویل عام کے اعتبار سے ہر شخص کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 5–6
9 دیکھئے یہاں اسلام کے تین اہم بنیادی ارکان کا اجمالاً ذکر کردیا گیا ہے اور اجمال ہی کی وجہ سے روزہ اور حج کا ذکر نہیں کیا گیا۔
کیونکہ جن لوگوں میں مندرجہ بالا پانچ صفات پیدا ہوجائیں گی، وہ صرف روزہ اور حج ہی نہیں دوسرے تمام شرعی اوامرو نواہی پر عمل کرنے کے لیے از خود مستعد ہوجائیں گے اور درج ذیل حدیث میں نماز روزہ اور زکوٰۃ کا ذکر آیا ہے۔ حج چونکہ زندگی میں صرف ایک بار اور وہ بھی صاحب استطاعت پر فرض ہے لہذا اس کا ذکر نہیں کیا گیا۔
ارکان اسلام کی اہمیت اور ترتیب :۔ طلحہ بن عبید اللہ ؓ کہتے ہیں کہ ایک شخص حضور نبی اکرم ﷺ کے پاس آیا جس کے بال بکھرے ہوئے تھے۔ اس کی بات سمجھ میں نہ آتی تھی اور ہم…
Read the full tafseer →4 1 سورة فاتحہ میں دعا بندوں کی زبان سے طلب ہدایت کی تھی، اھدنا الصراط المستقیم دعا معا قبول ہوئی کتاب ہدایت نازل ہوگئی۔ ھدی للمتقین، اب ارشاد ہوا کہ فلاں فلاں علامتیں جن میں موجود ہوں، وہی ہدایت یاب لوگ ہیں (آیت) ” اولئک علی ھدی من ربھم “۔ (آیت) ” اولئک۔ ان ہدایت یاب لوگوں کے خصوصیات ذیل قرآن مجید ہی سے معلوم چکے ہیں۔ ( 1) ان کا ضمیر زندہ ہوتا ہے۔ ان کے دلوں میں خوف خدا کی جگہ ہوتی ہے۔ (آیت) ” المتقین “ (2) ان کا اعتقاد اس مادی دنیا سے پرے ایک عالم غیب پر ہوتا ہے (آیت) ” یؤمنون بالغیب “ (3) ان کے تعلق مع اللہ کا عملا اظہاریوں ہوتا ہے کہ یہ نماز پڑھتے رہتے ہیں، اور نماز کا حق ادا کرتے رہتے…
Read the full tafseer →اُولِئلکَ عَلیٰ ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ وَاُولٰئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : یہ ان اہل ایمان کا انجام بیان کیا گیا ہے جو ایمان لانے کے بعد تقویٰ و عمل اور عقیدہ صحیحہ کا اہتمام کرتے ہیں، محض زبان سے اظہار ایمان کو کافی نہیں سمجھتے، کامیابی دار آخرت میں رضائے الہیٰ اور اس کی رحمت و معرفت کا حصول ہے اگر اس کے ساتھ دنیا میں بھی خوشحالی اور کامرانی مل جائے، تو سبحان اللہ ورنہ اصل کامیابی آخرت کی ہی کامیابی ہے۔
فلاح : عربی میں بڑے وسیع معنی میں آتا ہے، دنیا و آخرت کی ساری خوبیوں کو جامع ہے اس لئے مُفْلِحُوْنَ کا پورا مفہوم کامیاب، بامراد، وغیرہ کسی اردو لفظ سے ادا ہونا دشوار ہے، امام لغت زبیدی کا قول…
Read the full tafseer →اُوْلٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ (یہی لوگ اپنے پروردگار کے سیدھے رستہ پر ہیں) یہ جملہ محل رفع میں ہوگا اگر اَلَّذِیْن یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ اور الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ میں سے ایک موصول کو المتَّقِیْن سے جدا اور منفصل قرار دیا جائے گویا یہ صفات مذکورہ پر مرتب ہونے والا نتیجہ ہوگا کیونکہ اسم اشارہ کا صفات کے بعد ذکر کرنا گویا موصوف کا اس کے صفات سمیت اعادہ کرنا اور مکرر مذکور کرنا ہے۔ (1) [ اولٰءِکَ اسم اشارہ ہے اس سے ان مؤمنوں کی طرف اشارہ ہے جن کی صفات کا ذکر اوپر کردیا گیا ہے گویا اختصار کلام کے پیش نظر موصوف اور صفات کے مجموعہ کو لفظ اولٰءِکَسے تعبیر کیا اور شیخ عبد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(4۔ 5) اور جو قرآن کریم اور تمام انبیائے کرام پر جو کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اور جنت کے جملہ انعامات کی تصدیق کرتے ہیں، یہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ہیں۔ ایسی اچھائیوں کے مالک اپنے پروردگار کی جانب سے رحمت و کرامت اور بزرگی کے مالک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے رہائی پانے والے ہیں۔
یہ تفسیر بھی ہے کہ جن حضرات نے حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کو پایا اور جن چیزوں کا ان حضرات نے مطالبہ کیا تھا اس کو حاصل کرلیا اور جن برائیوں سے بھاگ کر آئے تھے، اس سے نجات حاصل کرلی (یعنی محبت نبوی کی برکت سے تزکیہ نفوس کے مرحلے سے بخوبی گزر گئے) یہ حضرات رسول…
Read the full tafseer →(ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ) الف لام کی وجہ سے ’ پورے کامیاب ‘ ترجمہ کیا گیا ہے، یعنی وہی متقی جن میں یہ اوصاف ہوں گے رب تعالیٰ کی طرف سے سیدھے راستے پر قائم رہیں گے اور وہی مکمل کامیابی سے سرفراز ہوں گے۔ ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے ساتھ اللہ کا وعدہ ہے کہ وہ انھیں ہدایت دے گا اور جنت بھی۔ (دیکھیے یونس : 9)
Read the full tafseer →آیت نمبر 5
نحاس نے کہا : اہل نجد کہتے ہیں : ألاک، بعض کہتے ہیں : ألالک، ک خطاب کے لئے ہے۔ کسائی نے کہا : جس نے اولئک کہا اس کا واحد ذالک ہے اور جس نے الان کہا اس کا واحد ذاک ہے اور الالک، اولئک کی مثل ہے۔ ابن سکیت نے شعر کہا ہے :
الالک قومی لم یکونوا اشابۃ وھل یعظ الضلیل الا الالکا
اس شعر میں الالک کا معنی اولئک ہے۔
بعض کہتے ہیں : اولئک غیر عقلاء کے لئے ہے۔ شاعر نے کہا :
ذم المنازل بعد منزلۃ اللوی والعیش بعد اولئک الایام
اس میں الئک غیر عقلاء کے لئے استعمال ہوا ہے۔
اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : ان السمع والبصر والفواد کل اولئک کان عنہ مسؤلا۔ (الاسراء)
ہمارے علماء نے فرمایا : من ربھم کے کلمات میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک “ سے مراد ہے کہ جو چیز آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں وہ لوگ اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور اس چیز کی بھی تصدیق کرتے ہیں جو آپ سے پہلے رسول اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ان کے رب کی طرف سے جو کچھ آیا ہے اس کا انکار نہیں کرتے۔ اور لفظ آیت ” وبالاخرۃ ہم یوقنون “ کہ وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ دوبارہ اٹھنے پر جنت پر، دوزخ پر، حساب پر اور میزان پر یعنی یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو گمان کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے تو جو آپ سے پہلے نازل ہوا تھا۔ اس چیز کا انکار…
Read the full tafseer →[ اُولٰٓـئِکَ : یہی لوگ ] [ عَلٰی ھُدًی : ہدایت پر ہیں ] [ مِّنْ رَّبِّھِمْ : اپنے رب کی جانب سے ] [ وَاُولٰٓـئِکَ : اور یہ لوگ ] [ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ : ہی مراد پانے والے ہیں ]
ل ح
فَلَحَ یَفْلُحُ (ن) فَلْحًا : پھاڑنا ‘ زمین میں ہل چلانا۔ ثلاثی مجرد سے فعل یا اسم قرآن مجید میں استعمال نہیں ہوا۔
اَفْلَحَ یُفْلِحُ (افعال) فَلَاحًا : اس کا مصدر اِفْلَاحٌ کے بجائے فَلَاحٌ استعمال ہوتا ہے۔ مشکلات اور رکاوٹوں کو پھاڑ کر یعنی عبور کر کے اپنا مطلوب حاصل کرلینا۔ مراد پالینا (فعل لازم ہے) ۔ { وَاعْبُدُوْا رَبَّـکُمْ وَافْعَلُوا الْخَیْرَ لَـعَلَّکُمْ تُفْلِحُوْنَ ۔ } (الحج) ” تم لوگ بندگی کرو اپنے…
Read the full tafseer →(اُولٰٓءِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ) (آخر تک) اس آیت میں ان لوگوں کے لیے ہدایت پر ہونے اور کامیاب ہونے کا اعلان فرمایا ہے۔ جن کی صفات پہلے بیان ہوئیں۔ ان کو اس بات کی سند دی گئی کہ یہ ہدایت پر ہیں اور حقیقی اور واقعی کامیابی انہی کو حاصل ہونے والی ہے جو آخرت میں اللہ کی رضا اور دخول جنت کی صورت میں حاصل ہوگی۔ اللہ کی رضا سے بڑھ کر کوئی کامیابی نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
قال تعالیٰ والذین یؤمنون بما انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون
اور وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے اس کتاب پر جو تیری طرف نازل ہوئی اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوئیں اس سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں۔ جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ ؓ اسی لیے اس جگہ والذین کو مکرر لائے کہ یہ متقین کا دوسرا گروہ ہے۔ اور پہلی آیت میں اہل عرب اور امیین کا ذکر تھا وابالاخرۃ ھم یوقنون اور متقین کے یہ دونوں گروہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں آخرت کا تذکرہ اور استحضار متقین کا خاص شعا رہے بخلاف کافروں کے کہ وہ ہر وقت دنیا ہی کی فکر میں رہتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔
اور وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے اس کتاب پر…
Read the full tafseer →ف 9 ۔ دونوں جگہوں میں اُولٰۗىِٕكَ کا اشارہ مذکورہ بالا صفات کے حاملیں کی طرف ہے۔ ای المتصفون بما تقدم من الایمان بالغیب واقام الصلوۃ والانفاق من الذی رزقہم الخ (تفسیر ابن کثیر ص 44 ج 1) ای الذین ھذہ صفتہم (تفسیر خازن ص 26 ج 1) ای اھل ھذہ الصفۃ (معالم ص 26 ج 1) یعنی جو لوگ مذکورہ صفات سے متصف ہیں دنیا میں وہ سیدھی راہ پر ہیں اور آخرت میں بھی انہیں خاطر خواہ کامیابی ہوگی۔ فان الہدی فی الدنیا والفلاح فی الاخرۃ (روح المعانی ص 125 ج 1) اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ مفلحون کا تعلق دنیا اور آخرت دونوں سے ہو (تفسیر ابن کثیر ص 44 ج 1) یعنی سیدھی راہ پر چلنے اور کتاب ہدایت پر عمل کرنے کی وجہ سے وہ دنیا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 2–5
لفظ ذلک کی حکمت : عربی میں ذلک اشارہ بعید کے لئے اور ھذا اشارہ قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے یہاں پر گفتگو اس کتاب یعنی قرآن پاک کے لیے ہو رہی ہے۔ لہٰذا سم اشارہ ھذا استعمال ہونا چاہئے تھا۔ یعنی یہ کتاب ، نہ کہ ذلک یعنی وہ کتاب ۔ اس اشکال کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر روح المعانی ج 1 ، ص 105 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 79 پ 1) کہ یہاں پر اشارہ بعید استعمال کرنے کا مقصد اس کتاب کی عظمت اور شان کا اظہار ہے۔ لہٰذا ذلک الکتب کا معنی یہ ہوگا کہ یہ وہ کتاب ہے جو اپنے کمال حقائق ، دقائق ، اسرار اور درجے کی بلندی کی وجہ سے مخاطبین کے فہم سے غائب اور انسانی افکار کی جو لانکاہ سے بہت بلند ہے لہٰذا…
Read the full tafseer →اُولٰۗىِٕكَ عَلٰي ھُدًى مِّنْ رَّبِّہِمْ 0 ۤوَاُولٰۗىِٕكَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ 5
هدى
الهداية دلالة بلطف،
وهداية اللہ تعالیٰ للإنسان علی أربعة أوجه :
الأوّل : الهداية التي عمّ بجنسها كلّ مكلّف من العقل،
والفطنة، والمعارف الضّروريّة التي أعمّ منها كلّ شيء بقدر فيه حسب احتماله كما قال : رَبُّنَا الَّذِي أَعْطى كُلَّ شَيْءٍ خَلْقَهُ ثُمَّ هَدى
[ طه/ 50] .
الثاني : الهداية التي جعل للناس بدعائه إيّاهم علی ألسنة الأنبیاء،
وإنزال القرآن ونحو ذلك، وهو المقصود بقوله تعالی: وَجَعَلْنا مِنْهُمْ أَئِمَّةً يَهْدُونَ بِأَمْرِنا
[ الأنبیاء/ 73] .
الثالث : التّوفیق الذي يختصّ به من اهتدی،
وهو المعنيّ بقوله…
Read the full tafseer →ترکیب : اُوْلٰئِکَ مبتدا اور عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَبّْہْمْ ثابت کے متعلق ہو کر اس کی خبر، مبتدا خبر مل کر جملہ اسمیہ ہوا، واؤ حرف عطف۔ اُولٰٓئِکَ مبتدا اور ھم المفلحون اس کی خبر ھم مبتدا المفلحون خبر دونوں مل کر اولٰٓئِکَ کی خبر ہوئے۔ یہ مبتدا اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہو کر معطوف ہوا۔
تفسیر : پہلے کہا تھا کہ قرآن ھدی للمتقین پرہیز گاروں کے لیے ہدایت ہے۔ اس کے بعد پرہیز گاروں کے اوصاف بیان کردیے کہ وہ ایسے ایسے اوصاف حمیدہ رکھنے والے ہیں اور یہ اوصاف قرآن سے حاصل ہوتے ہیں کیونکہ طرح طرح کے پراثر بیانوں سے قرآن نے انسان کو ان اوصاف کا مشتاق کردیا ہے اور جس میں یہ اوصاف ہوتے ہیں وہ ہدایت پر…
Read the full tafseer →اُولٰٓئِکَ عَلٰی ھُدًی مِّنْ رَّبِّھِمْ ق وَاُولٰٓئِکَ ھُمُ الْمُفْلِحُوْنَ (البقرۃ : 5)
(یہی لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ ہیں، جو کامیاب ہیں)
ہدایت کا تکمیلی مفہوم
جن لوگوں نے پورے احساس اور شعور کے ساتھ قرآن پاک سے استفادہ کیا اور جس کے نتیجے میں ان کے اندر متذکرہ بالا صفات پیدا ہوگئیں یہی وہ لوگ ہیں، جو اپنے رب کی طرف سے ہدایت پر ہیں۔ یہاں ہدایت اپنے تکمیلی مفہوم میں ہے۔ یعنی یہی وہ لوگ ہیں، جن کے لیے قرآن پاک کے دیئے ہوئے نظام زندگی پر چلنا آسان ہوجاتا ہے۔ جنھیں قلبی نور اور بصیرت عطا ہوتی ہے، نہ ان کی فکر میں کوئی کجی ہوتی ہے اور نہ ان کے عمل میں کوئی کو تاہی۔…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : ایمان کے چھ اوصاف اپنانے اور ان کے تقاضے پورے کرنے والوں کو کامیابی کا مژدہ سنایا جاتا ہے۔
کتاب مبین کے الفاظ اور اس کی ہدایت پر کسی شک وتردد کے بغیر یقین کرنا، قرآن مجید کے بتلائے ہوئے ان دیکھے حقائق پر ایمان لانا، نماز کی شرائط کے مطابق اس کی ادائیگی اور اللہ تعالیٰ کی عطا کردہ نعمتوں کا انفاق، قرآن و حدیث کی صورت میں جو کچھ جناب محمد کریم ﷺ پر نازل ہوا ہے اسے اعتقاداً ، قولًا اور عملًاتسلیم کرنا، انبیاء کرام (علیہ السلام) اور پہلی کتب آسمانی کی تصدیق کرتے ہوئے آخرت کی جواب دہی پر یقین کامل رکھنے والوں کے بارے میں فرمایا جا رہا ہے کہ یہی وہ خوش نصیب ہیں جو اپنے رب کی…
Read the full tafseer →وَمَآ اُنـْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ : یعنی انبیاء ( علیہ السلام) پر اتاری جانے والی تمام کتابیں
وَبِالْاٰخِرَۃِ نحو : یہ آخر کی مؤنث ہے جو کہ الاوّل کی ضد ہے۔ یہ صفت ہے اس کا موصوف محذوف ہے اور وہ لفظ دار ہے اس کی دلیل قصص آیت نمبر 83 تلک الدار الاٰخرۃ ہے اور یہ صفت غالبہ ہے۔ اسی طرح دنیا کا لفظ بھی (کہ اس کا موصوف محذوف ہے اور یہ صفت غالبہ ہے کیونکہ قریب تر ہے)
قراءت :
حضرت نافع (رح) فرماتے ہیں کہ ہمزہ کو حذف کر کے اس میں تخفیف کردی۔ اور اس کی حرکت لام کو دے دی۔
ھُمْ یُوْقِنُوْنَ : ایقان اصل میں شک وشبہ دور ہو کر کسی چیز کے متعلق پختہ علم ہوجانے کو کہتے ہیں۔
اُولٰٓپکَ عَلٰی ھُدًی۔ (یہی لوگ اپنے…
Read the full tafseer →(تفسیر)
” اولئک “ یعنی ان صفات کے حامل حضرات اور اولاء کلمہ ہے اس کا معنی جماعت سے کنایہ ہے (یعنی اس سے مراد جماعت ہوتی ہے) جیسے کہ ” ھم “ اور کاف خطاب کا ہے جیسے کہ ذالک میں کاف خطاب کا ہے (علی ھدی) یعنی رشد وبیان اور بصیرت پر ہیں ، (یعنی ہدایت پر ہیں) ” من ربھم واولئک ھم المفلحون “ نجات پانے والے اور کامیاب جنت کے ساتھ کامیاب ہوئے اور آگ سے نجات پاگئے ۔
اور فلاح بمعنی بقاء بھی ہوتا ہے یعنی ہمیشہ کی نعمت میں پاقی رہنے والے فلاح کا اصل معنی قطع کرنا اور پھاڑنا ہے ، اسی معنی کے اعتبار سے کسان کو فلاح کا نام دیا گیا کیونکہ وہ زمین کو پھاڑتا ہے اور مثال میں ہے ” الحدید بالحدید یفلح “ یعنی لوہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
(3 ۔ 5): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز…
Read the full tafseer →(اولئک) یعنی وہ لوگ جو ان صفات حمیدہ سے متصف ہیں۔ (علی ھدیً من ربھم) اپنے رب کی طرف سے عظیم ہدایت پر ہیں، کیونکہ یہاں (ھدی) کا نکرہ استعمال ہونا اس کی تعظیم کی بنا پر ہے اور کون سی ہدایت ایسی ہے جو صفات مذکورہ سے عظیم تر ہو جو صحیح عقیدے اور درست اعمال کو متضمن ہیں ؟ ہدایت تو درحقیقت وہی ہے جس پر اہل ایمان عمل پیرا ہیں اس کے علاوہ دیگر تمام مخالف راستے گمراہی کے سوا کچھ نہیں۔ اس مقام پر (علی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جو بلندی اور غلبے پر دلالت کرتا ہے اور ” ضلالت “ کا ذکر کرتے ہوئے (فی) کا صلہ استعمال کیا گیا ہے جیسا کہ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد میں (وانا اوایاکم لعلی ھدی او فی ضلل مبین) (سبا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب…
Read the full tafseer →13 سیدھی راہ سے مراد ؟ اور اس کی عظمت شان : یعنی اس عظیم الشان شاہراہ پر جو حقیقی منزل تک لے جانے والی صحیح اور صاف راہ ہے، جس میں کسی کجی یا ناکامی کا کوئی خطرہ نہیں، کیونکہ یہ راہ رب رحمن کی طرف سے ہے ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ سو اس راہ حق و ہدایت سے سرفرازی دراصل دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفرازی ہے اور اس سے محرومی درحقیت دارین کی سعادت و سرخروئی سے محرومی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو ایمان و یقین کی راہ ہی صحت و سلامتی کی وہ راہ ہے، جس سے انسان کو اس دنیا میں حیات طیبہ کی سعادت نصیب ہوتی ہے، اور آخرت میں جنت کی نعیم مقیم سے سرفرازی نصیب ہوگی، وباللہ التوفیق۔ سو صراط مستقیم کے اپنانے پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
متقین کی صفات
تشریح : سب سے پہلے ایمان بالغیب کو سمجھنا ہوگا۔ ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے اس کو اس کی صفات اور کاریگری سے پہچانتے ہیں۔ جیسے ہمارے رسول ﷺ نے بتایا کہ اللہ ایک ہے، خالق ہے، رازق ہے، وحدہ لاشریک ہے۔ اس بات پر مکمل ایمان لے آنا، اللہ کو خود ہم اپنی ہستی سے جو کہ چلتی پھرتی مکمل فیکٹری ہے۔ انسان کی پیدائش، زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کو پہچاننے ماننے اور یقین کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہے ؟ کیوں نہیں یہ سب نظام سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔
متقی شخص کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ ایمان بالغیب کا حامل ہوتا ہے، ایک متقی یعنی پرہیزگار شخص کے لئے ضروری ہے کہ…
Read the full tafseer →اولئک علی ھدی من ربھم واولئک ھم المفلحون ، یہ ایسے لوگ ہیں جو اپنے رب کی طرف سے بتائے ہوئے راستے گر گامزن ہیں جو اس نے اپنی شان ربوبیت سے بتایا ہے کہ اس کی شان ربوبیت کا تقاضا تھا جس طرح بدن کی ضرورتوں کا احساس اور تکمیل کا طریقے ہر ذی روح کو فرمائے اسی طرح روح انسانی کی زندگی اور آرام کے لئے بھی طرق ارشاد فرمادیئے جن لوگوں نے اسے اختیار فرمایا وہی لوگ ہیں جو حقیقی کامیابی سے ہمکنار ہوئے۔
دنیا کا ہر انسان ہر کام میں فلاح اور کامیابی کے لئے کوشاں ہے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ وہ کامیاب ہو مگر لوگوں نے کامیابی وناکامی کے معیار اپنی طرف سے مقرر کر رکھے ہیں۔ جو کسی طور درست قرار نہیں دیئے جاسکتے حقیقی…
Read the full tafseer →ف 1 یعنی اہل تقوی جو مذ کو رہ صفات سے متصف ہوتے ہیں وہی کامل فلا سے سرفراز ہوں گے ( قرطبی) ابن عمر ؓ سے مرفو عا مروی ہے کہ آلم سے المفلحون تک اہل جنت کا ذکر ہے۔ اور پھر عظیم تک اہل دوزخ کا۔ (سلفیہ )
Read the full tafseer →(2:5) اولئک اسم اشارہ بعید جمع مذکر۔ وہ سب، یعنی وہ مومن اور متقی لوگ جن کا ذکر اوپر کیا گیا ہے۔
علی ھدی من ربھم ۔ کلمہ علی متقی لوگوں کے ہدایت خدوندی پر متمکن و مستقر ہونے پر دلالت کرتا ہے ای تابتوں علی الھدی ہدایت پر ثابت قدم رہنے والے۔ ھدی کو نکرہ تعظیم کے لئے لایا گیا ہے اور اس ہدایت کا من ربھم ہونا تعظیم کی مزید تاکید ہے۔
والئک ھم المفلحون : واؤ عطف کی ہے۔ اولئک مبتداء ھم مبتداء المفلحون : خبر، دونوں مل کر اولئک کی خبر ہوئے۔ یہ مبتداء اپنی خبر سے مل کر جملہ اسمیہ ہوکر جملہ سابقہ کا معطوف ہوا۔
ھم ضمیر مقدم برائے حصر لائی گئیے۔ یعنی فلاح بھی انہی کا حصہ ہے جو مذکورہ بالا اوصاف سے متصف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
الذین یؤ منون بالغیب ۔ ۔۔ ۔ سے ھم المفلحون تک :
ترجمہ : وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جو کچھ آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اس بات کو نہایت تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں ہے اور یہ کتاب ان لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔ اب یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اہل تقویٰ کون لوگ ہیں ؟ اور ان کی کیا صفات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 3–5
عذاب قبر۔ حشر۔ پل صرا۔ جنت۔ دوزخ سب غیب کے معنوں میں ہیں، جن پر بےدیکھے ایمان لائیں۔
نماز کے قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان وضو، طہارت، رکوع، سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جائے وقت پر۔
راہ خدا میں خرچ کرنے سے مراد زکوۃ ہے یا صدقات نافلہ جیسے ایصال ثواب
وہ لوگ جو قرآن پر ایمان لائے۔ اور جو اس سے پہلے کلام اترا یعنی توریت۔ انجیل وغیرہ اس پر ایمان لائے۔
Read the full tafseer →[6] قبولیت حق کے لحاظ سے یہ انسانوں کی پہلی قسم ہوئی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–8
ناقابل اصلاح گروہ :
آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔
ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں…
Read the full tafseer →ف 1۔ یہی مذکورہ حضرات وہ لوگ ہیں جو اس ہدایت پر قائم ہیں جو ان کے رب کی جانب سے ان کو عطاہوئی ہے اور یہی وہ لوگ ہیں جو حقیقی مراد اور فلاح پانے والے ہیں۔ ( تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جن لوگوں کا اوپر ذکر ہوا ہے خواہ وہ کفار مکہ میں سے ایمان لائے ہوئے یا اہل کتاب میں سے مسلمان ہوئے ہوں بہر حال وہ صفات مذکورہ سے متصف ہوں تو ان کو یہ بشارت ہے کہ وہ دنیا میں بھی ہر قسم کی ہدایت سے بہرہ مند ہیں اور آخرت میں بھی وہ پورے پورے کامیاب ہونیوالے ہیں ۔ فلاح کے معنی کسی چیز کو پھاڑنا یا توڑنا ، اور کھولنا وغیرہ ہے۔ یہاں مراد یہ ہے کہ ایسے لوگوں پر کامیابی کے دروازے کھل جاتے ہیں اور یہ لوگ اپنے مقصد میں کامیاب…
Read the full tafseer →ف۔ 1۔ یعنی ایسے لوگوں کو دنیا میں نعمت ملی، کہ راہ حق نصیب ہوتی اور آخرت میں یہ دولت نصیب ہوگی کہ ہر طرح کی کامیابی ان کے لیے ہے۔
Read the full tafseer →یہی گروہ کامیاب گروہ ہے :
11: ان سارے اوصاف کا جن کا ذکر متقیوں کے ضمن میں کیا گیا ہے ماحصل یہ ہوا کہ وہ لوگ ہیں جن کا ضمیر زندہ ہے اور ان کے دل خوف الٰہی سے سرشار ہوتے ہیں۔ ان کا اعتقاد اس مادی دنیا سے بہت پرے یعنی عالم غیب ہوتا ہے جس کی اصل اور بنیاد حقیقی اللہ کی ذات ہے ان کے تعلق مع اللہ کا عملاً اظہار اس طرح ہوتا ہے کہ یہ لوگ نمازوں کو ادا کرتے ہیں جس طرح کہ ان کے ادا کرنے کا حق ہے۔ اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی نعمتوں کو یہ اللہ کی رضا کے لئے اللہ ہی کی مخلوق پر صرف کرتے رہتے ہیں۔ یہ لوگ رسول اللہ ﷺ کے برحق ہونے اور اللہ تعالیٰ کی طرف سے آخری معلم و ہادی ہونے اور قرآن کریم کے آخری کلام الٰہی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
This verse speaks of some other attributes of the God-fearing, giving certain details about faith in the unseen with a special mention of faith in hereafter. Commenting on this verse, the blessed Companions ` Abdullah ibn Masud and ` Abdullah ibn ` Abbs ؓ have said that in the days of the Holy Prophet ﷺ God-fearing Muslims were of two kinds, - those who used to be associators and disbelievers but accepted Islam, and those who used to be among the people of the Book (that is, Jews and Christians) but embraced Islam later on; the preceding verse refers to the first group, and this verse to the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 4–5
7. The fifth requirement is that one should believe in the Books revealed by God to His Prophets in the various ages and regions of the world, in the Book revealed to Muhammad (peace be on him) as well as in those revealed to the other Prophets who preceded him. The door of the Qur'an is closed to all those who do not consider it necessary for man to receive guidance from God. It is also closed to those who, even if they believe in the need for such guidance, do not consider it necessary to seek it through the channel of revelation and prophethood, but would rather weave their own set of…
Read the full tafseer →