Al-Baqara 2:4

Al-Baqara · from ayah 4

2:4

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ وَمَاۤ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ— وَبِالْاٰخِرَةِ هُمْ یُوْقِنُوْنَ ۟ؕوَ الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ ۚ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ

اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

And who believe in what has been revealed to you, [O Muhammad], and what was revealed before you, and of the Hereafter they are certain [in faith].

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:4

جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو کتاب (اے محمدﷺ) تم پر نازل ہوئی اور جو کتابیں تم سے پہلے (پیغمبروں پر) نازل ہوئیں سب پر ایمان لاتے اور آخرت کا یقین رکھتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ایمان ﻻتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا اور جو آپ سے پہلے اتارا گیا، اور وه آخرت پر بھی یقین رکھتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو اس (وحی) پر بھی ایمان لاتے ہیں جو آپ پر اتاری گئی اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری گئی اور آخرت پر وہ مکمل یقین رکھتے ہیں

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور وہ کہ ایمان لائیں اس پر جو اے محبوب تمہاری طرف اترا اور جو تم سے پہلے اترا اور آخرت پر یقین رکھیں،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور وہ لوگ جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا (سب) پر ایمان لاتے ہیں، اور وہ آخرت پر بھی (کامل) یقین رکھتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور وہ جو اس پر ایمان لاتے ہیں جو تیری طرف اتارا گیا اور جو تجھ سے پہلے اتارا گیا اور آخرت پر وہی یقین رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

نیز وہ آپ کی طرف نازل شدہ (وحی) پر ایمان لاتے ہیں اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے (نبیوں پر) اتاری گئی تھی، اور وہ آخرت (کے دن) پر یقین رکھتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان کے لیے جو ایمان لاتے ہیں اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے اور آخرت پر یہی لوگ یقین رکھتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور جو ایمان رکھتے ہیں اس (کتاب) پر جو اتاری گئی آپ کی طرف (اے پیغمبر) اور ان (سب کتابوں) پر بھی جن کو اتارا گیا آپ سے پہلے اور وہ (سچے دل) سے یقین رکھتے ہیں آخرت پر،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان رکھتے ہیں اس پر جو آپ پر اتارا گیا ہے ۔ اور (اس پر) جو آپ سے قبل اتارا گیا ہے۔ اور آخرت پر بھی (وہ) پورا یقین رکھتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور جو ایمان رکھتے ہیں اس پر بھی جو (اے نبی) آپ کی طرف نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر وہ یقین رکھتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

) اور جو کتاب (قرآن) تم پر نازل کی گئی ہے اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

who believe in the Book We have sent down to you (i.e. the Qur'an) and in the Books sent down before you, and firmly believe in the Hereafter.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

and who believe in what has been revealed to you and what has been revealed before you; and they have faith in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani

and who believe in what has been revealed to you and what has been revealed before you; and they have faith in the Hereafter.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And who have faith in what is revealed to you and in what was revealed before you, and in the Hereafter they are certain.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And who believe in that which is revealed unto thee (Muhammad) and that which was revealed before thee, and are certain of the Hereafter.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And who believe in what has been revealed to you, [O Muhammad], and what was revealed before you, and of the Hereafter they are certain [in faith].

— Saheeh International

who have faith in what has been revealed to you and others before you and have strong faith in the life hereafter.

— Muhammad Sarwar

And who believe in that which has been revealed to you and that which was revealed before you and they are sure of the hereafter.

— Muhammad Habib Shakir

And who believe in that which hath been sent down unto thee and that which hath been sent down before thee and of the Hereafter they are convinced.

— Abdul Majid Daryabadi

And who believe in the Revelation sent to thee, and sent before thy time, and (in their hearts) have the assurance of the Hereafter.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:4

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

اعمال مومن حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مطلب یہ ہے کہ جو کچھ اللہ کی طرف سے تم پر نازل ہوا اور تجھ سے پہلے کے انبیاء پر نازل ہوا وہ ان سب کی تصدیق کرتے ہیں ایسا نہیں کہ وہ کسی کو مانیں اور کسی سے انکار کریں بلکہ اپنے رب کی سب باتوں کو مانتے ہیں اور آخرت پر بھی ایمان رکھتے ہیں یعنی بعث و قیامت، جنت و دوزخ، حساب و میزان سب کو مانتے ہیں۔ قیامت چونکہ دنیا کے فنا ہونے کے بعد آئے گی اس لئے اسے آخرت کہتے ہیں۔ بعض مفسرین نے کہا ہے کہ جن کی پہلے ایمان بالغیب وغیرہ کے ساتھ صفت بیان کی گئی تھی انہی کی دوبارہ یہ صفتیں بیان کی گئی ہیں۔ یعنی ایماندار خواہ عرب مومن ہوں خواہ اہل کتاب وغیرہ۔ مجاہد ابو العالیہ،…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 4–5

سورة الْبَقَرَة 7 یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے جو وحی کے ذریعے سے خدا نے محمد ﷺ اور ان سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زمانوں اور ملکوں میں نازل کیں۔ اس شرط کی بنا پر قرآن کی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لیے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں اور خود کچھ نظریات قائم کر کے انہی کو خدائی ہدایت قرار دے بیٹھیں، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں، مگر صرف اس کتاب یا ان کتابوں پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے چلے آئے ہیں، رہی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

(آیت) وَ الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ یعنی متقین ایسے ہیں کہ ایمان رکھتے ہیں اس کتاب پر بھی جو آپ کی طرف اتاری گئی اور ان کتابوں پر بھی جو آپ سے پہلے اتاری جا چکی ہیں اور آخرت پر بھی وہی لوگ یقین رکھتے ہیں، اس آیت میں متقین کی باقی صفات کا بیان ہے جس میں ایمان بالغیب کی کچھ تفصیل اور ایمان بالآخرت کا ذکر ہے حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عبداللہ بن عباس نے اس کی تفسیر میں فرمایا ہے کہ عہد رسالت میں مؤمنین متقین دو طرح کے حضرات تھے ایک وہ جو پہلے مشرکین میں سے تھے پھر مشرف باسلام ہوئے دوسرے وہ جو پہلے اہل کتاب…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

وَبِٱلْاٰخِرَةِ هُمْ يُوقِنُونَ: آخرت سے مراد دار آخرت یا حیات آخرت ہے۔ آخرت کے لئے یہاں ایمان کے بجائے ایقان کا لفظ استعمال کیا گیا ہے۔ ایمان اور ایقان کے درمیان تھوڑا سا فرق ہے جس کو سمجھ لینا چاہئے۔ ایمان کے معنی تصدیق کرنے اور مان لینے کے ہیں۔ اس کا ضد کفر و انکار اور تکذیب ہے۔ ایقان کے معنی یقین کرنے کے ہیں۔ اس کا ضد گمان اور شک ہے جس طرح کسی شے پر یقین رکھنے کے لئے یہ ضروری نہیں ہے کہ آدمی اس پر ایمان بھی رکھتا ہو، اسی طرح کسی چیز پر ایمان رکھنے کے لئے اس پر یقین کرنا شرط نہیں ہے۔ ہوسکتا ہے کہ آدمی کا ایمان محض گمان غالب پر مبنی ہو اور وہ آہستہ آہستہ گمان کی منزل سے نکل کر یقین کی منزل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 پچھلی کتابوں پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ کتابیں انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہوئیں وہ سب سچی ہیں وہ اب اپنی اصل شکل میں دنیا میں نہیں پائی جاتیں نیز ان پر عمل بھی نہیں کیا جاسکتا۔ اب عمل صرف قرآن اور اس کی تشریح نبوی۔ حدیث۔ پر ہی کیا جائے گا۔ اس سے بھی معلوم ہوا کہ وحی و رسالت کا سلسلہ آنحضرت ﷺ پر ختم کردیا گیا ہے، ورنہ اس پر بھی ایمان کا ذکر اللہ تعالیٰ ضرور فرماتا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 4–5

(5) یعنی اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ جو وحی حضور اکرم ﷺ پر اتاری گئی وہ بھی بالکل سچی ہے اور جو آپ سے پہلے انبیائے کرام (علیہم السلام) مثلاً حضرت موسیٰ حضرت عیسیٰ (علیہما السلام) وغیرہ پر نازل کی گئی تھی وہ بھی بالکل سچی تھی اگرچہ بعد میں لوگوں نے اسے ٹھیک ٹھیک محفوظ نہ رکھا بلکہ اس میں تحریف کردی۔ اس آیت میں اس طرف بھی اشارہ کردیا گیا کہ وحی کا سلسلہ حضور اکرم ﷺ پر ختم ہوگیا، آپ ﷺ کے بعد کوئی ایسا شخص پیدا نہیں ہوگا جس پر وحی آئے یا اسے پیغمبر بنایا جائے، کیونکہ یہاں اللہ تعالیٰ نے صرف آنحضرت ﷺ پر نازل ہونے والی وحی اور آپ سے پہلے کے انبیاء (علیہم السلام) پر نازل ہونے والی وحی کا ذکر فرمایا…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

8 اس سے پہلی آیت میں ان لوگوں کا بیان تھا جن مشرکین نے ایمان قبول کیا (یعنی اہل مکہ) اور اس آیت میں ان کا بیان ہے جو اہل کتاب (یعنی یہود و نصاریٰ ) مشرف با اسلام ہوئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 4 وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج ”اور اس پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو آپ ﷺ سے پہلے نازل کیا گیا۔“ یہ بہت اہم الفاظ ہیں۔ عام طور پر آج کل ہمارے ہاں یہ خیال پھیلا ہوا ہے کہ سابقہ آسمانی کتب تورات اور انجیل وغیرہ کے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں ‘ اس کی کوئی ضرورت نہیں۔ ”کوئی ضرورت نہیں“ کی حد تک تو شاید بات صحیح ہو ‘ لیکن ”کوئی فائدہ نہیں“ والی بات بالکل غلط ہے۔ دیکھئے قرآن کے آغاز ہی میں کس قدر اہتمام کے ساتھ کہا جا رہا ہے کہ ایمان صرف قرآن پر ہی نہیں ‘ اس پر بھی ضروری ہے جو اس سے پہلے نازل کیا گیا۔ سورة النساء کوئی چھ ہجری میں جا کر نازل ہوئی ہے ‘…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

7 نازل شدہ سے مراد صرف قرآن ہی نہیں بلکہ قرآن کا بیان (توضیح و تشریح) بھی ہے جو قرآن میں موجود نہیں مثلاً نماز ادا کرنے کی ترکیب، محل زکوٰۃ اشیاء، نصاب زکوٰۃ اور شرح زکوٰۃ کی تعین وغیرہ لاتعداد ایسے احکام و ہدایات جو قرآنی احکام پر عمل پیرا ہونے کے لیے ضروری تھے۔ نیز وہ سابقہ انبیاء پر نازل شدہ وحی پر بھی ایمان لاتے ہیں۔ ان دونوں میں فرق صرف یہ ہے کہ آپ پر نازل شدہ وحی پر بالتفصیل ایمان لانا ضروری ہے اور سابقہ انبیاء کی وحی پر اجمالاً کیونکہ قرآنی تصریحات کی رو سے ان کی کتابوں میں تحریف و تبدل ہوچکا ہے۔ یہ چوتھی شرط ہے۔ 8 آخرت کا مفہوم اور عقیدہ آخرت کی اہمیت :۔ آخرت کا لفظ ایک جامع اصطلاح ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

1 1 (اے ہمارے رسول) یعنی ان متقین کا چوتھا وصف یہ ہے کہ وہ ایمان رکھتے ہیں رسول کے لائے ہوئے ہر پیغام پر، خواہ قرآن ہو یا اس کے علاوہ۔ آیت کی عبارت سے یہ مسئلہ صاف ہوجاتا ہے کہ تین چیزیں الگ الگ ہیں۔ ( 1) ایک کلام کا نازل کرنے والا۔ یعنی اللہ تعالیٰ ۔ (2) دوسرے وہ شخص جس پر کلام نازل ہوا ہے۔ یعنی اللہ تعالیٰ کا رسول برحق۔ (3) تیسرے، خود کلام۔ بروز تمثل، حلول اور وحدت والوجود (اپنے عوامی مفہوم میں) ان سب مشرکانہ ونیم مشرکانہ عقائد کی جڑ اس آیت سے کٹ جاتی ہے۔ نہ کلام متمثل ہوا ہے، اور نہ رسول (نعوذ باللہ) اللہ کے اوتار، انسانی قالب میں خدا ہیں۔ بلکہ ایک مستقل انسانی شخصیت رکھتے ہیں۔ 12 (دوسرے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اَنْزِلَ اِلَیْکَ (الآیۃ) یہ پانچویں شرط ہے کہ آدمی ان تمام کتابوں کو برحق تسلیم کرے، جو بذریعہ وحی اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ سے پہلے کے انبیاء پر مختلف زبانوں اور ملکوں میں نازل کیں، اس شرط کی بناء پر قرآنی ہدایت کا دروازہ ان سب لوگوں پر بند ہے، جو سرے سے اس ضرورت ہی کے قائل نہ ہوں کہ انسان کو خدا کی طرف سے ہدایت ملنی چاہیے، یا اس ضرورت کے تو قائل ہوں مگر اس کے لئے وحی و رسالت کی طرف رجوع کرنا غیر ضروری سمجھتے ہوں، اور خود کچھ نظریات قائم کرکے انہی کو خدائی ہدایت قرار دیں، یا آسمانی کتابوں کے بھی قائل ہوں، مگر صرف اس کتاب پر ایمان لائیں جنہیں ان کے باپ دادا مانتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَالَّذِیْنَ یُوْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ (یعنی قرآن) وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ اور اے پیغمبرمتقی وہ ہیں کہ جو (قرآن) تم پر اترا ہے اس پر اور جو کتابیں یعنی) تورات و انجیل اور وہ تمام صحیفے جو انبیاء (علیہم السلام) پر تم سے پیشتر اترے ہیں سب پر ایمان لاتے ہیں ان سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں جیسے کہ ابن جریر نے حضرت عبد اللہ بن مسعود اور حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کی ہے اس تقدیر پر دونوں آیتیں متقین کی تفصیل واقع ہونگی یا ان سے وہی پہلے لوگ مراد ہیں جیسا کہ شاعر کے اس شعر میں اِلَی الْمَلِکِ الْقَرْمِ وَ ابْنِ الھُمَامِ 228 وَ لَیْثِ الْکَتِیْبَۃِ فِی الْمُزْدَحَمِ مطلب یہ ہے کہ ان لوگوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 4–5

(4۔ 5) اور جو قرآن کریم اور تمام انبیائے کرام پر جو کتابیں نازل ہوئی ہیں ان کی اور مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے کی اور جنت کے جملہ انعامات کی تصدیق کرتے ہیں، یہ حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے ساتھ ہیں۔ ایسی اچھائیوں کے مالک اپنے پروردگار کی جانب سے رحمت و کرامت اور بزرگی کے مالک ہیں اور یہ اللہ تعالیٰ کے غضب اور عذاب سے رہائی پانے والے ہیں۔ یہ تفسیر بھی ہے کہ جن حضرات نے حضور ﷺ کے زمانہ مبارک کو پایا اور جن چیزوں کا ان حضرات نے مطالبہ کیا تھا اس کو حاصل کرلیا اور جن برائیوں سے بھاگ کر آئے تھے، اس سے نجات حاصل کرلی (یعنی محبت نبوی کی برکت سے تزکیہ نفوس کے مرحلے سے بخوبی گزر گئے) یہ حضرات رسول…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ) خواہ قرآن ہو یا سنت، فرمایا : (وَاَنْزَلَ اللّٰهُ عَلَيْكَ الْكِتٰبَ وَالْحِكْمَةَ) [ النساء : 113 ] ”اور اللہ نے تجھ پر کتاب اور حکمت نازل فرمائی۔“ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ) یعنی وہ وحی الٰہی پر ایمان رکھتے ہیں، خواہ کسی پیغمبر پر اتری ہو۔ جو لوگ کسی پیغمبر پر وحی کا اترنا ہی نہیں مانتے ان کے لیے قرآن میں کوئی رہنمائی نہیں۔ البتہ اب عمل اسی پر ہوگا جو آخری نبی ﷺ لے کر آئے، کیونکہ اس کی حفاظت کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ [ الحجر : 9 ] جبکہ پہلی کتابیں اصل حالت میں موجود ہی نہیں۔ وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ : آخرت کا لفظ ”اول“ کے مقابلہ میں ”آخر“ کے…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

والذین یؤمنون بماانزل الیک وما انزل من قبلک وبالاخرۃ ھم یؤمنون۔ “ اور وہ جو ایمان لائے اس پر (اے حبیب ! ﷺ جو اتارا گیا ہے آپ پر اور جو اتارا گیا آپ سے پہلے اور آخرت پر بھی وہ یقین رکھتے ہیں ”۔ بعض علماء نے فرمایا : اس سے مراد اہل کتاب کے مؤمن ہیں جیسے حضرت عبد اللہ بن سلام۔ ان کے بارے یہ آیت نازل ہوئی اور پہلی آیت عرب کے مومنین کے بارے نازل ہوئی۔ بعض نے فرمایا : دونوں آیتیں مومنین کے بارے نازل ہوئیں۔ اسی بنا پر الذین کا اعراب عطف کی وجہ سے مجرور ہے اور استیناف کی بنا پر رفع ہونا بھی صحیح ہے یعنی اس سے پہلے ھم ضمیر مبتدا محذوف ہوگی اور جنہوں نے دونوں آیتوں سے دونوں علیحدہ علیحدہ قسمیں مراد لی…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 4–5

(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” والذین یؤمنون بما انزل الیک وما انزل من قبلک “ سے مراد ہے کہ جو چیز آپ اللہ تعالیٰ کی طرف سے لائے ہیں وہ لوگ اس چیز کی تصدیق کرتے ہیں۔ اور اس چیز کی بھی تصدیق کرتے ہیں جو آپ سے پہلے رسول اور ان کے درمیان کوئی فرق نہیں کرتے اور ان کے رب کی طرف سے جو کچھ آیا ہے اس کا انکار نہیں کرتے۔ اور لفظ آیت ” وبالاخرۃ ہم یوقنون “ کہ وہ لوگ یقین رکھتے ہیں۔ دوبارہ اٹھنے پر جنت پر، دوزخ پر، حساب پر اور میزان پر یعنی یہ وہ لوگ نہیں ہیں جو گمان کرتے ہیں کہ وہ ایمان لائے تو جو آپ سے پہلے نازل ہوا تھا۔ اس چیز کا انکار…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَالَّذِیْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِمَا : اس پر جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ اِلَـیْکَ : آپ ﷺ کی طرف ] [ وَمَا : اور جو ] [ اُنْزِلَ : اتارا گیا ] [ مِنْ قَبْلِکَ : آپ ﷺ سے پہلے ] [ وَبِالْاٰخِرَۃِ : اور آخری پر ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ یُوْقِنُوْنَ : یقین رکھتے ہیں ] ن ز ل نَزَلَ یَنْزُلُ (ن) نُزُوْلاً : اُترنا۔ { وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ } (الحدید :16) ” اور جو اترا حق میں سے “۔ { وَمَا یَنْزِلُ مِنَ السَّمَآئِ } (الحدید :4) ” اور جو اترتا ہے آسمانوں سے۔ “ مَنْزِلٌج مَنَازِلُ (اسم الظرف) : اترنے کی جگہ ‘ ٹھہرنے کی جگہ۔ { ھُوَ الَّذِیْ جَعَلَ الشَّمْسَ…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

پھر فرمایا (وَ الَّذِیْنَ یَؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ) (جو لوگ متقی ہیں وہ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ کی طرف نازل کیا گیا اور اس پر بھی جو آپ سے پہلے نازل کیا گیا) ایمان وہ معتبر ہے جس میں اللہ تعالیٰ پر اور اس کے تمام رسولوں پر اور اس کی تمام کتابوں پر ایمان ہو۔ اللہ کے کسی ایک نبی یا اس کی کسی ایک کتاب کا انکار کرنا بھی کفر ہے۔ (لَا نُفَرِّقُ بَیْنَ اَحَدٍ مِّنْ رُّسُلِہٖ ) میں اسی بات کا اعلان کیا گیا ہے۔ (وَ مَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ) کے عموم میں قرآن کریم سے پہلی تمام کتابوں اور صحیفوں کا علم ہے اور جن کا علم نہیں، ان سب پر ایمان لانا اور اللہ کی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 4–5

قال تعالیٰ والذین یؤمنون بما انزل الیک۔۔۔ الی۔۔۔ اولئک ھم المفلحون اور وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے اس کتاب پر جو تیری طرف نازل ہوئی اور ان کتابوں پر جو تجھ سے پہلے نازل ہوئیں اس سے مومنین اہل کتاب مراد ہیں۔ جیسے عبداللہ بن سلام وغیرہ ؓ اسی لیے اس جگہ والذین کو مکرر لائے کہ یہ متقین کا دوسرا گروہ ہے۔ اور پہلی آیت میں اہل عرب اور امیین کا ذکر تھا وابالاخرۃ ھم یوقنون اور متقین کے یہ دونوں گروہ آخرت پر یقین رکھتے ہیں آخرت کا تذکرہ اور استحضار متقین کا خاص شعا رہے بخلاف کافروں کے کہ وہ ہر وقت دنیا ہی کی فکر میں رہتے ہیں اور آخرت سے غافل ہیں۔ اور وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو ایمان لائے اس کتاب پر…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 7 ۔ یہ متقین کی چوتھی صفت ہے۔ اس آیت میں دو چیزوں کا ذکر ہے۔ ایک وہ وحی جو حضرت رسول اکرم ﷺ پر نازل ہوئی۔ دوسری وہ وحی جو پہلے پیغمبروں پر اتری۔ پہلے انبیاء (علیہم السلام) کی کتابوں پر ایمان لانے سے مراد صرف یہ ہے کہ انہیں اللہ کی طرف سے مانا جائے اور انہیں سچا سمجھا جائے ان پر عمل کرنا واجب نہیں۔ اور آنحضرت ﷺ کی وحی پر ایمان لانے کا مطلب یہ ہے کہ اسے حق اور من عنداللہ ماننے کے ساتھ ساتھ اس پر عمل بھی کیا جائے اور اپنی زندگی اس کی ہدایت کے مطابق بسر کی جائے۔ آپ کی وحی صرف قرآن مجید ہی میں منحصر نہیں بلکہ آپ کے تمام دینی ارشادات جو کتب احادیث میں موجود ہیں یہ سب وحی تھے تو جس طرح قرآن پر…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

لفظ ذلک کی حکمت : عربی میں ذلک اشارہ بعید کے لئے اور ھذا اشارہ قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے یہاں پر گفتگو اس کتاب یعنی قرآن پاک کے لیے ہو رہی ہے۔ لہٰذا سم اشارہ ھذا استعمال ہونا چاہئے تھا۔ یعنی یہ کتاب ، نہ کہ ذلک یعنی وہ کتاب ۔ اس اشکال کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر روح المعانی ج 1 ، ص 105 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 79 پ 1) کہ یہاں پر اشارہ بعید استعمال کرنے کا مقصد اس کتاب کی عظمت اور شان کا اظہار ہے۔ لہٰذا ذلک الکتب کا معنی یہ ہوگا کہ یہ وہ کتاب ہے جو اپنے کمال حقائق ، دقائق ، اسرار اور درجے کی بلندی کی وجہ سے مخاطبین کے فہم سے غائب اور انسانی افکار کی جو لانکاہ سے بہت بلند ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِمَآ اُنْزِلَ اِلَيْكَ وَمَآ اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِكَ۝ 0 ۚ وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ۝ 4 ۭ ما مَا في کلامهم عشرةٌ: خمسة أسماء، وخمسة حروف . فإذا کان اسما فيقال للواحد والجمع والمؤنَّث علی حدّ واحد، ويصحّ أن يعتبر في الضّمير لفظُه مفردا، وأن يعتبر معناه للجمع . فالأوّل من الأسماء بمعنی الذي نحو : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُمْ [يونس/ 18] ثمّ قال : هؤُلاءِ شُفَعاؤُنا عِنْدَ اللَّهِ [يونس/ 18] لمّا أراد الجمع، وقوله : وَيَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ ما لا يَمْلِكُ لَهُمْ رِزْقاً ... الآية [ النحل/ 73] ، فجمع أيضا، وقوله : بِئْسَما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الذین موصول ثانی اور مآانزل الیک معطوف علیہ اور انزل من قبلک معطوف ‘ یہ معطوف اور معطوف علیہ دونوں جملے مفعول ہوئے یؤمنون کے یؤمنون اپنے فاعل ضمیر اور مفعول سے مل کر جملہ فعلیہ خبر یہ ہو کر صلہ ہوا الذین کا الذین موصول اپنے صلہ کے ساتھ مل کر معطوف ہوا پہلے الذین پر یا متقین پر۔ تفسیر : چونکہ یؤمنون بالغیب سے متبادر اور قریب الفہم خدا تعالیٰ کی ذات وصفات اور ملائکہ تھے اور کتب الٰہیہ اور قیامت کے دن پر بھی ایمان لانا ضروری تھا تو اس لیے اس عام بات میں سے ان کو خاص کرکے ذکر کیا اور یہ فصاحت اور بلاغت کی عمدہ بات ہے کہ کسی مطلب ضروری کو (گو وہ پہلی عبارت سے سمجھا جاتا ہو) جداگانہ بعد…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِمَا اُنْزِلَ اِلَیْکَ وَمَا اُنْزِلَ مِنْ قَبْلِکَ ج (یہ کتاب ہدایت ہے) ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں، اس چیز پر جو تم پر اتاری گئی ہے اور جو تم سے پہلے اتاری گئی ہے ) قرآن کریم کی ہدایت کے نتیجے میں متقین میں جو صفات پید اہوتی ہیں۔ ان میں سے یہ چوتھی صفت ہے۔ پہلی صفت تھی، ” ایمان بالغیب “ ، دوسری صفت تھی،” اقامت صلوٰۃ “ یعنی عبادت اور تیسری صفت تھی ،” انفاق فی سبیل اللہ “ ، یعنی صدقات واجبہ اور صدقات نافلہ کا ادا کرنا۔ اب یہ چوتھی صفت بیان ہو رہی ہے کہ متقی وہ لوگ ہیں، جو ہر اس چیز پر ایمان لاتے ہیں، جو آپ ﷺ کی طرف نازل کی گئی ہے اور جو آپ سے پہلے نازل کی گئی…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : گذشتہ سے پیوستہ۔ ایمان کے مرکزی ارکان کا ذکر کرنے کے بعد لفظ ” ما “ استعمال فرما کر ایمان کی ان تمام مبادیات وشروعات کا احاطہ کیا گیا ہے جو ایمان کی تکمیل کے لیے ضروری ہیں۔ اس کی تفصیلات کے لیے رسول کریم ﷺ کا ارشاد ملاحظہ فرمائیں جس میں آپ نے یہی لفظ ” مَا “ استعمال فرما کر اس بات کا واضح اشارہ دیا ہے کہ ایمان کی تکمیل اس جامع تصور کے بغیر ممکن نہیں۔ ( لَا یُؤْمِنُ أَحَدُکُمْ حَتّٰی یَکُوْنَ ھَوَاہُ تَبَعًا لِّمَا جِءْتُ بِہٖ ) (مشکوٰۃ : کتاب العلم : فصل ثالث) ” تم میں سے کوئی مؤمن نہیں ہوسکتا جب تک وہ اپنی خواہشات کو میرے لائے ہوئے دین کے تابع نہ کر دے۔ “ اسلام کی وسعت…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَالَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ : اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے۔ جیسے عبد اللہ بن سلام اور ان کے احباب اور ان جیسے دوسرے لوگ جو ہر اس وحی پر جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے اتاری گئی ایمان لائے۔ اور آخرت پر ایسے یقین کا اظہار کیا جس سے یہ بات زائل ہوگئی کہ جنت میں یہودو نصاریٰ کے علاوہ کوئی داخل نہ ہوگا۔ اور ان کو دوزخ کی آگ چند گنتی کے دنوں کے علاوہ نہیں چھوئے گی۔ نمبر 1: پھر اگر تم اس کا عطف الذین یؤمنون بالغیب پر کرو تو یہ من جملہ متقین میں داخل ہوجائیں گے۔ نمبر 2: اور اگر اس کا عطف متقین پر کرو تو پھر داخل نہ ہونگے۔ پس کلام اس طرح بنے گا۔ ھدی للمتقین وھدی للذین یومنون بما انزل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) اس قرآن سے مراد ہے (آیت)” وما انزل من قبلک “ اس سے مراد تورات ، انجیل اور بقیہ وہ تمام کتب جو انبیاء کرام (علیہم السلام) پر نازل کی گئیں ۔ ابوجعفر اور ابن کثیر اور قالون اور اہل بصرہ اور یعقوب ہر اس مد کو چھوڑ دیتے ہیں اور جو دو کلموں کے درمیان واقع ہو اور باقی حضرات مد دیتے ہیں اور یہ آیت کریمہ ان مؤمنین کرام سے متعلق ہے جو اہل کتاب میں سے ایمان لائے ۔ ” وبالاخرۃ “ ای بالدار الاخرۃ (یعنی جو آخرت پر ایمان لائے) دنیا کو دنیا کا نام اس لیے دیا گیا کہ وہ بنسبت آخرت کے قریب ہے اور آخرت کو آخرت اس لیے کہا گیا کہ وہ متاخر اور دنیا کے بعد ہونے والی ہے ۔ ” ہم یوقنون “ وہ یقین رکھتے ہیں کہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–5

(3 ۔ 5): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

(والذین یومنون بمآ انزل الیک) ” اور وہ لوگ جو یقین رکھتے ہیں اس پر جو آپ کی طرف اتارا گیا “ اس سے مراد قرآن اور سنت ہے اللہ تعالیٰ نے ایک اور مقام پر فرمایا : (وانزل اللہ علیک الکتب والحکمۃ) (النساء :113/3) ” اور اللہ تعالیٰ نے آپ پر کتاب اور حکمت (یعنی سنت) نازل کی “ پس اصحاب تقویٰ ان تمام چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جنہیں رسول اللہ ﷺ لے کر مبعوث ہوئے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی میں تفریق نہیں کرتے کہ اس کے کسی حصے پر تو ایمان لے آئیں اور کسی حصے پر اپنے انکار یا ایسی تاویل کے ذریعے سے جو اللہ اور اس کے رسول کی مراد نہ ہو، ایمان نہ لائیں۔ جیسا کہ اہل بدعت کا وتیرہ ہے جو قرآن و سنت کی ان…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 4–8

اللہ تعالیٰ نے منافقین کی کیفیت بیان کرتے ہوئے ان کے متعلق خبر دی ہے کہ وہ مسلمانوں کے سامنے اپنے ایمان کا اظہار کرتے ہیں حالانکہ ان کا عقیدہ ایمان کا نہیں ہوتا اور اپنے بھائی بندوں یعنی شیاطین کے سامنے کفر کا اظہار کرتے ہیں، چناچہ ارشاد ہے : ومن الناس من یقول امنا باللہ والیوم الاخروما ھم بمئومنین (اور لوگوں میں سے ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں ہم اللہ اور یوم آخرت پر ایمان لائے حالانکہ وہ ایمان لانے والے نہیں ہیں) نیز : یخادعون اللہ والذین امنوا (وہ اللہ اور اہل ایمان کو دھوکا دیتے ہیں) تاقول باری : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا واذا خلوا الی شیاطینھم قالوا انا معکم انما نحن مستھزئون (اور جب…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

10 " مَااُنْزِلَ اِلَیْکَ " سے مراد اور اس کی عظمت شان : اس سے مراد ہے قرآن حکیم، (محاسن، مدارک، وغیرہ) ۔ سو یہی کتاب حکیم ہے جو اپنی اصلی شکل میں موجود و محفوظ ہے، اور جو گزشتہ تمام آسمانی کتابوں کے اصل اور بنیادی مطالب و مضامین کی محافظ و امین ہے۔ اسی لئے اس کو دوسری جگہ " مُہَیْمِن " یعنی شرائع سابقہ کے اصول و مبادی کی پاسدار و نگہبان قرار دیا گیا ہے، اور صرف یہی وہ آسمانی کتاب ہے جو کہ اللہ تعالیٰ کی حفاظت و عنایت سے ہر طرح کی تحریف و تغییر سے اب تک محفوظ و مامون ہے، اور قیامت تک محفوظ و مامون رہے گی، اور اب سلامتی و نجات صرف اسی سے وابستگی میں محصور و منحصر ہے، اس کے بغیر سلامتی و نجات…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–5

متقین کی صفات تشریح : سب سے پہلے ایمان بالغیب کو سمجھنا ہوگا۔ ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے اس کو اس کی صفات اور کاریگری سے پہچانتے ہیں۔ جیسے ہمارے رسول ﷺ نے بتایا کہ اللہ ایک ہے، خالق ہے، رازق ہے، وحدہ لاشریک ہے۔ اس بات پر مکمل ایمان لے آنا، اللہ کو خود ہم اپنی ہستی سے جو کہ چلتی پھرتی مکمل فیکٹری ہے۔ انسان کی پیدائش، زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کو پہچاننے ماننے اور یقین کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہے ؟ کیوں نہیں یہ سب نظام سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ متقی شخص کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ ایمان بالغیب کا حامل ہوتا ہے، ایک متقی یعنی پرہیزگار شخص کے لئے ضروری ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

تصوف چھپا کر رکھنے کی چیز نہیں : اس میں تصوف کے لئے بھی ارشاد ملتا ہے کہ جس قدر بھی چیزیں اللہ کی طرف سے عطا ہوئی ہیں ان سب میں تصوف قیمتی دولت ہے اسے چھپا کر نہ رکھے بلکہ اللہ کی مخلوق تک پہنچائے ایک مسلمان جس طرح حصول رزق کے لئے حلال و حرام کا مکلف ہے اسی طرح خرچ کرنے کے معاملے میں بھی اس کی کوئی پائی مرضیات باری کے خلاف خرچ نہ ہو ۔ اور یہی وہ سنہری اصول ہے جسے سوائے اسلام کے کسی نے بیان نہیں کیا ، حالانکہ یہ سب سے موثر ہے کہ جب اخراجات محدود ومقرر ہوں گے تو بیحد آمدنی کی خواہش بھی نہ ابھرے گی اور یہ سب اس وقت ہوگا جب انسان کلی طور پر اطاعت رسول ﷺ اختیار کرے۔ والذین یومنون بما انزل الیک وما…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 8 پہلی کتابوں پر ایمان لانا صرف یہ ہے کہ ان کے منزل من اللہ ہون نے کی تصدیق کی جائے مگر عمل صرف قرآن و حدیث پر کیا جائے۔ (ابن کثیر ) 9 ۔ آخرت نشاۃ ثانیہ سے عبارت ہے (مفردات) ۔ اور بعث بعد الموت اور امور آخرت پر یقین رکھنا ایمان کا جزو ہے

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(6:4) والذین ۔ واؤ عاطفہ ہے۔ الذین موصول ثانی ۔ یؤمنون ب فعل بافاعل۔ ما انزل الیک۔ ما موصولہ۔ انزل ماضی مجہول واحد مذکر غائب۔ الیک جار مجرور مل کر متعلق فعل انزل۔ فعل اپنے نائب فاعل (مفعول مالم یسم فاعلہ) اور متعلق فعل سے مل کر جملہ فعلیہ ہو کر صلہ ہوا ما موصولہ کا۔ موصول وصلہ مل کر معطوف علیہ ہوا اگلے جملہ کا۔ وما انزل من قبلک : واؤ عاطفہ، ما موصولہ، انزل ماضی مجہول واحد مذکر غائب (ضمیر مالم یسم فاعلہ، یا نائب فاعل کی طرف راجع ہے) من حرف جار، قبلک مضاف، مضاف مضاف الیہ مل کر مجرور، جار اور مجرور مل کر متعلق فعل انزل فعل اپنے نائب فعل اور متعلق فعل سے مل کر ما موصولہ کا صلہ ہوا۔ موصول اپنے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 3–5

الذین یؤ منون بالغیب ۔ ۔۔ ۔ سے ھم المفلحون تک : ترجمہ : وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جو کچھ آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اس بات کو نہایت تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں ہے اور یہ کتاب ان لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔ اب یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اہل تقویٰ کون لوگ ہیں ؟ اور ان کی کیا صفات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–5

عذاب قبر۔ حشر۔ پل صرا۔ جنت۔ دوزخ سب غیب کے معنوں میں ہیں، جن پر بےدیکھے ایمان لائیں۔ نماز کے قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان وضو، طہارت، رکوع، سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جائے وقت پر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے مراد زکوۃ ہے یا صدقات نافلہ جیسے ایصال ثواب وہ لوگ جو قرآن پر ایمان لائے۔ اور جو اس سے پہلے کلام اترا یعنی توریت۔ انجیل وغیرہ اس پر ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[5] آخرت ایک جامع لفظ ہے جس کا اطلاق مندرجہ ذیل عقائد پر ہوتا ہے : (1) انسان اپنے تمام اعمال کے لئے اللہ تعالیٰ کے سامنے جواب دہ ہے۔ (2) یہ کہ دنیا کا موجودہ نظام ایک وقت پر جس کا علم صرف اللہ ہی کو ہے ختم ہوجائے گا۔ (3) اللہ اس عالم کے خاتمے کے بعد ایک دوسرا عالم بنائے گا۔ اس میں پوری نوع انسانی کو جو ابتدائے آفرینش سے قیامت تک زمین پر پیدا ہوئی تھی بیک وقت دوبارہ پیدا کرے گا اور سب کو جمع کر کے ان کے اعمال کا حساب لے گا اور ہر ایک کو اس کے کئے کا پورا پورا بدلہ دے گا۔ (4) اللہ کے اس فیصلے کی رو سے جو لوگ نیک قرار پائیں گے وہ جنت میں جائیں گے۔ اور جو لوگ نافرمان ٹھہریں گے وہ دوزخ میں ڈالے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 4–8

ناقابل اصلاح گروہ : آفتاب نبوت جب چمکتا ہے تو چند آنکھیں بینائی کھو بیٹھتی ہیں اور ایسے شپرہ چشم لوگ پیدا ہوجاتے ہیں جنہیں نصف النہار کے وقت بھی حق سوجھائی نہیں دیتا ، جب اللہ کی عنایت وکرم کے بادل گھر کے آتے ہیں تو ایسی زمین بھی ہوتی ہے جو شور اور سنگلاح ہو ، وہاں روئیدگی کی قطعا امید نہیں ہوتی ، کفر وعناد کا زقوم تو وہاں اگتا ہے ، مگر ایمان کا گل وریحان نہیں اگتا ، یہاں اسی چیز کا ذکر ہے ۔ ایک ناقابل اصلاح گروہ جس کا تمرد حد سے بڑھ گیا ہے تو تیئیس سال تک چشمہ فیض سے سیراب ہوتا ہے لیکن انکار وناشکری سے باز نہیں آتا جو خود کہتا ہے (آیت) ” قلوبنا غلف “ کہ ہمارے دلوں میں حق کے لئے کوئی جگہ نہیں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 3–4

ف 2۔ وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو پوشیدہ اور چھپی ہوئی باتوں پر یقین لاتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ نیک کاموں میں خرچ کیا کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اس قرآن پر جو آپکی طرف نازل کیا گیا ہے یقین رکھتے ہیں اور ان کتابوں کو بھی مانتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی جا چکی ہیں اور وہ لوگ آخرت پر بھی پورا پورایقین رکھتے ہیں۔ ( تیسیر) غیب کی باتوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ہماری نظروں سے غائب ہیں ، مثلاً عالم برزخ کے احوال قیامت ، جنت ، دوزخ ، مرنے کے بعد جی اٹھنا وغیرہ۔ نبی کریم ﷺ سے پہلے جو کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی خدا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 7۔ یعنی قرآن پر بھی ایمان رکھتے ہیں اور پہلی آسمانی کتابوں پر بھی۔ ایمان سچا سمجھنے کو کہتے ہیں عمل کرنا دوسری بات ہے پس حق تعالیٰ نے جتنی کتابیں انبیائے سلف علھیم السلام پر نازل کی ہیں سب کو سچا سمجھنا فرج اور شرط ایمان ہے رہ گیا عمل سو وہ صرف قرآن پر ہوگا پہلی کتابیں منسوخ ہوگئی ہیں اس لیے ان پر عمل جائز نہیں۔ 8۔ آخرت سے قیامت کا دن مراد ہے چونکہ وہ دن دنیا کے بعد آئے گا اس لیے اس کو آخرت کہتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان بالقرآن : 8: متقیوں کی چوتھی صفت میں ارشاد ہوا ہے : یُؤْمِنُوْنَ بِمَاۤ اُنْزِلَ اِلَیْكَ : یعنی اے پیغمبر اسلام ! یہ وہ لوگ ہیں جو سچائی تم پر نازل ہوئی ہے ، اس پر ایمان رکھتے ہیں اس لئے کہ قرآن کریم کے طریق استدلال کا اولین مبداء تعقل و تفکر کی دعوت ہے وہ جابجا اس بات پر زور دیتا ہے کہ انسان کے لئے حقیقت شناسی کی راہ یہی ہے کہ وہ اللہ کی دی ہوئی عقل و بصیرت سے کام لے اور جہاں تک ہو سکتا ہے اپنے وجود کے اندر اور اپنے وجود کے باہر جو کچھ بھی محسوس کرسکتا ہے اس میں تدبر و تفکر کرے ۔ آپ دیکھیں گے کہ قرآن کریم کی کوئی سورت اور سورت کا کوئی حصہ ایسا نہیں جو تدبر و تفکر کی دعوت سے خالی ہو ۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

This verse speaks of some other attributes of the God-fearing, giving certain details about faith in the unseen with a special mention of faith in hereafter. Commenting on this verse, the blessed Companions ` Abdullah ibn Masud and ` Abdullah ibn ` Abbs ؓ have said that in the days of the Holy Prophet ﷺ God-fearing Muslims were of two kinds, - those who used to be associators and disbelievers but accepted Islam, and those who used to be among the people of the Book (that is, Jews and Christians) but embraced Islam later on; the preceding verse refers to the first group, and this verse to the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 4–5

7. The fifth requirement is that one should believe in the Books revealed by God to His Prophets in the various ages and regions of the world, in the Book revealed to Muhammad (peace be on him) as well as in those revealed to the other Prophets who preceded him. The door of the Qur'an is closed to all those who do not consider it necessary for man to receive guidance from God. It is also closed to those who, even if they believe in the need for such guidance, do not consider it necessary to seek it through the channel of revelation and prophethood, but would rather weave their own set of…

Read the full tafseer →