Al-Baqara 2:3

Al-Baqara · from ayah 3

2:3

الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ وَیُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَمِمَّا رَزَقْنٰهُمْ یُنْفِقُوْنَ ۟ۙالَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who believe in the unseen, establish prayer, and spend out of what We have provided for them,

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 1 of surah · Ruku 1 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:3

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

جو غیب پر ایمان لاتے اور آداب کے ساتھ نماز پڑھتے اور جو کچھ ہم نے ان کو عطا فرمایا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو لوگ غیب پر ایمان ﻻتے ہیں اور نماز کو قائم رکھتے ہیں اور ہمارے دیئے ہوئے (مال) میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو بےدیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا اس میں سے (اللہ کی خوشنودی کے کاموں میں) خرچ کرتے ہیں۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

وہ جو بے دیکھے ایمان لائیں اور نماز قائم رکھیں اور ہماری دی ہوئی روزی میں سے ہماری میں اٹھائیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز کو (تمام حقوق کے ساتھ) قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں عطا کیا ہے اس میں سے (ہماری راہ) میں خرچ کرتے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے اور اس میں سے، جو ہم نے انھیں دیا ہے، خرچ کرتے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دے رکھا ہے، اس میں سے (اللہ کی راہ میں) خرچ کرتے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

ان لوگوں کے لیے جو غیب میں رہتے ایمان لاتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو بن دیکھے (سچا پکا) ایمان رکھتے ہیں (غیبی حقائق پر) اور وہ قائم کرتے ہیں نماز کو اور خرچ کرتے ہیں (ہماری رضا کے لئے) اس میں سے جو کہ ہم نے ان کو دیا (بخشا) ہوتا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں۔ اور نماز کی پابندی کرتے ہیں۔ اور جو کچھ ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے رہتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جو ایمان رکھتے ہیں غیب پر اور نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو غیب پر ایمان لاتے ہیں، اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو رزق ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں

— محترمہ رفعت اعجاز

who believe in the unseen, establish the Salats and expend (in Our way) out of what We have bestowed on them;

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who believe in the Unseen, and are steadfast in Salah (prayer) , and spend out of what We have provided them;

— Muhammad Taqi Usmani

who believe in the Unseen, and are steadfast in Salah (prayer) , and spend out of what We have provided them;

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Those Who have faith in the Ghayb and perform Salah, and spend out of what we have provided for them.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who believe in the Unseen, and establish worship, and spend of that We have bestowed upon them;

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who believe in the unseen, establish prayer, and spend out of what We have provided for them,

— Saheeh International

the pious who believe in the unseen, attend to prayer, give in charity part of what We have granted them;

— Muhammad Sarwar

Those who believe in the unseen and keep up prayer and spend out of what We have given them.

— Muhammad Habib Shakir

Who believe in the Unseen, and establish prayer, and out of that wherewith We have provided them expend.

— Abdul Majid Daryabadi

Who believe in the Unseen, are steadfast in prayer, and spend out of what We have provided for them;

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:3

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

ایمان کی تعریف حضرت عبداللہ فرماتے ہیں۔ ایمان کسی چیز کی تصدیق کرنے کا نام ہے۔ حضرت ابن عباس بھی یہی فرماتے ہیں۔ حضرت زہری فرماتے ہیں " ایمان کہتے ہیں عمل کو " ربیع بن انس کہتے ہیں۔ یہاں ایمان لانے سے مراد ڈرنا ہے۔ ابن جریر فرماتے ہیں۔ یہ سب اقوال مل جائیں تو مطلب یہ ہوگا کہ زبان سے، دل سے، عمل سے، غیب پر ایمان لانا اور اللہ سے ڈرنا۔ ایمان کے مفہوم میں اللہ تعالیٰ پر، اس کی کتابوں پر، اس کے اصولوں پر، ایمان لانا شامل ہے اور اس اقرار کی تصدیق عمل کے ساتھ بھی کرنا لازم ہے۔ میں کہتا ہوں لغت میں ایمان کہتے ہیں صرف سچا مان لینے کو، قرآن میں بھی ایمان اس معنی میں استعمال ہوا ہے۔ جیسے فرمایا حدیث…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 4 یہ قرآن سے فائدہ اٹھانے کے لیے دوسری شرط ہے۔ ”غیب“ سے مراد وہ حقیقتیں ہیں جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہیں اور کبھی براہ راست عام انسانوں کے تجربہ و مشاہدہ میں نہیں آتیں۔ مثلاً خدا کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنّت، دوزخ وغیرہ۔ ان حقیقتوں کو بغیر دیکھے ماننا اور اس اعتماد پر ماننا کہ نبی ان کی خبر دے رہا ہے، ایمان بالغیب ہے۔ آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص ان غیر محسوس حقیقتوں کو ماننے کے لیے تیار ہو صرف وہی قرآن کی رہنمائی سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔ رہا وہ شخص جو ماننے کے لیے دیکھنے اور چکھنے اور سونگھنے کی شرط لگائے، اور جو کہے کہ میں کسی ایسی چیز کو نہیں مان سکتا جو ناپی اور تولی نہ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

(آیت) الَّذِيْنَ يُؤ ْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ وَ يُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوةَ وَ مِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ یعنی خدا سے ڈرنے والے لوگ ایسے ہیں کہ یقین کرتے ہیں بےدیکھی چیزوں کا اور قائم رکھتے ہیں نماز کو، اور جو ہم نے روزی دی ہے اس سے کچھ خرچ کرتے ہیں، اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیںایمان بالغیب، اقامت صلوٰۃ، اللہ کی راہ میں خرچ کرنا، اس کے ضمن میں بہت سے اہم مسائل آگئے ہیں ان کو کسی قدر تفصیل سے لکھا جاتا ہے، پہلا مسئلہ ایمان کی تعریف ایمان کی تعریف کو قرآن کریم نے يُؤ ْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ کے صرف دو لفظوں میں پورا بیان کردیا ہے لفظ ایمان اور غیب کے معنی سمجھ لئے جاویں تو ایمان کی…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

يُؤْمِنُونَ بِٱلْغَيْبِ: ایمان، امن سے ہے۔ ایمان کے اصل معنی امن دینے کے ہیں۔ اگر اس کا صلہ لام کے ساتھ آئے تو اس کے معنی تصدیق کرنے اور رب کے ساتھ آئے تو یقین اور اعتماد کرنے کے ہوجاتے ہیں۔ اس لفظ کی حقیقی روح یقین، اعتماد اور اعتقاد ہے۔ جو یقین، خشیت، توکل اور اعتقاد کی خصوصیات کے ساتھ پایا جائے اس کو ایمان کہتے ہیں۔ جو شخص اللہ تعالیٰ پر، اس کی آیات پر، اس کے احکام پر ایمان لائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر کے اس کے فیصلوں پر پوری طرح راضی اور مطمئن ہو جائے وہ مومن ہے۔ یہ لفظ جب اپنے مفعول کے ساتھ استعمال ہوتا ہے تو اس سے خاص اسی چیز پر ایمان لانا مراد ہوتا ہے جس کا اس کے مفعول کی حیثیت…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 اَمُوْر غَیْبُۃ سے مراد وہ چیزیں ہیں جنکا ادراک عقل و حواس سے ممکن نہیں۔ جیسے ذات باری تعالیٰ ، وحی، جنت دوزخ، ملائکہ، عذاب قبر اور حشر وغیرہ۔ اس سے معلوم ہوا کہ اللہ اور رسول ﷺ کی بتلائی ہوئی ماورائے عقل و احساس باتوں پر یقین رکھنا، جزو ایمان ہے اور ان کا انکار کفر و ضلالت ہے۔ 2 اقامت صلٰوۃ سے مراد پابندی سے اور سنت نبوی کے مطابق نماز کا اہتمام کرنا، ورنہ نماز تو منافقین بھی پڑھتے تھے۔ 3 اَنْفَاقْ کا لفظ عام ہے جو صدقات واجبہ اور نافلہ دونوں کو شامل ہے۔ اہل ایمان حسب اطاعت دونوں میں کوتاہی نہیں کرتے بلکہ ماں باپ اور اہل و عیال پر صحیح طریقے سے خرچ کرنا بھی اس میں داخل ہے اور باعث اجر وثواب…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

(4) جو لوگ قرآن کریم کی ہدایت سے فائدہ اٹھاتے ہیں یہاں ان کی صفات بیان فرمائی گئ ہیں ان میں سے سب سے پہلی صفت تو یہ ہے کہ وہ ”غیب“ یا ان دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں۔ جس کی تفصیل پیچھے گزر چکی۔ اس میں تمام ایمانیات داخل ہوگئے جس کا خلاصہ یہ ہے کہ جو کچھ اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں بیان فرمایا، یا جو کچھ حضور نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا اس سب پر ایمان لاتے ہیں۔ دوسری چیز نماز قائم کرنا بیان کی گئی ہے جو بدنی عبادتوں میں سب سے اہم ہے اور تیسری چیز اپنے مال میں سے اللہ تعالیٰ کے راستے میں خرچ کرنا جس میں زکوٰۃ و صدقات آجاتے ہیں جو مالی عبادت ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 1–5

تفسیر آیت 1 تا 5 مومنین کی یہ صفات بیان کرنے کے بعد سیاق کلام میں متصلاً کفار کی صفات کا بیان آجاتا ہے ۔ اگرچہ علی العموم ان صفات کا تعلق بھی تمام کفار سے ہے لیکن ان کا سب سے پہلامصداق وہ کفار بنے جو اس وقت دعوت اسلامی کی راہ روکے کھڑے تھے ۔ خواہ وہ مکی کفار ہوں یا ان کا تعلق مدینہ اور اس کے ماحول سے ہو۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے :•إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ ءَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لا يُؤْمِنُونَ (6) خَتَمَ اللَّهُ عَلَى قُلُوبِهِمْ وَعَلَى سَمْعِهِمْ وَعَلَى أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ (7) ” جن لوگوں نے ان باتوں کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا ،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

5 یعنی جو چیزیں ان کے عقل و حواس سے مخفی ہیں (جیسے دوزخ، جنت، ملائکہ وغیرہ) ان سب کو اللہ اور رسول کے ارشاد کی وجہ سے حق اور یقینی سمجھتے ہیں۔ اس سے معلوم ہوا کہ ان امور غائبہ کا منکر ہدایت سے محروم ہے۔ 6 اقامت صلوٰۃ کا مطلب ہے کہ ہمیشہ رعایت حقوق کے ساتھ وقت پر ادا کرتے ہیں۔ 7 سب طاعتوں کی اصل تین ہیں۔ اول جو باتیں دل سے تعلق رکھتی ہیں، دوسری بدن سے، تیسری مال سے سو اس آیت میں ہر سہ اصول کو ترتیب وار لے لیا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 3 الَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ ” یہ متقین کے اوصاف میں سے پہلا وصف ہے۔ وہ یہ نہیں سمجھتے کہ بس جو کچھ ہماری آنکھوں سے نظر آ رہا ہے ‘ حواس خمسہ کی زد میں ہے بس وہی کل حقیقت ہے۔ نہیں ! اصل حقیقت تو ہمارے حواس کی سرحدوں سے بہت پرے واقع ہوئی ہے۔ ہدایت قرآنی کا نقطۂ آغاز یہ ہے کہ انسان یہ سمجھ لے کہ جو اصل حقیقت ہے وہ اس کی نگاہوں سے مستور ہے۔ انگلستان کے بہت بڑے فلسفی بریڈلے Bradley کی کتاب کا عنوان ہے : ”Appearance and Reality“۔ اس نے لکھا ہے کہ جو کچھ نظر آ رہا ہے یہ حقیقت نہیں ہے ‘ حقیقت اس کے پیچھے ہے ‘ کنفیوشس 551 تا 479 ق م چین کا بہت بڑا حکیم اور فلسفی تھا ‘ اس کی تعلیمات میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

4 متقین کے اوصاف :۔ پہلی شرط یہ ہے کہ وہ بن دیکھی چیزوں پر ایمان لاتے ہیں اور وہ چھ چیزیں ہیں جن پر بن دیکھے ایمان لانا ضروری ہے : اللہ پر، اللہ کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، اخروی زندگی پر اور اس بات پر کہ ہر طرح کی بھلائی اور برائی اللہ ہی کی طرف سے مقدر ہوتی ہے۔ ان میں سے کسی چیز پر بھی ایمان نہ ہونے سے انسان کافر ہوجاتا ہے۔ 5 اس کی کم از کم حد دن بھر میں پانچ فرض نمازوں کی بروقت اور باجماعت ادائیگی ہے۔ الا یہ کہ جماعت میں شامل نہ ہونے کے لیے کوئی شرعی عذر موجود ہو۔ یہ دوسری شرط ہوئی۔ 6 رزق سے مراد صرف مال و دولت ہی نہیں بلکہ ہر وہ نعمت ہے جو جسم یا روح کی پرورش میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

8 (رسول ﷺ کی تعلیمات و تصریحات کے مطابق نہ کہ اپنے ظن وتخمین، وہم و گمان سے) یؤمنون۔ ایمانیات کے دائرہ کے اندر کی جتنی چیزیں بھی ہیں سب کو تصریحات نبوی کے مطابق وماتحت ہونا ضروری ہے۔ کسی اور راہ سے آیا ہو اعلم اس دائرہ میں نامقبول ہے۔ ایمان کی کیفیت نفسی شک، ریب ترددوتذبذب کی بالکل ضد ہے۔ ایمان سے اس کے برعکس دماغ کو سکون، دل کو اطمینان، روح کو تسلی نصیب ہوتی ہے۔ دنیا کی تاریخ میں آج تک کسی صاحب ایمان کو خود کشی کرتے نہیں پایا گیا۔ ایمان کے بغیر دل میں بےکلی اور بےچینی ہی رہا کرتی ہے۔ لیکن ایمان والے کو سخت سے سخت مصیبت کے وقت بھی ڈھارس بندھی رہتی ہے کہ وہ بڑا سہارا اور مضبوط آسرارکھتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ : قرآن سے مستفید ہونے کی یہ دوسری شرط ہے اس آیت میں متقین کی تین صفات بیان کی گئی ہیں (1) ایمان بالغیب (2) اقامت صلوٰۃ (3) اللہ کی راہ میں خرچ کرنا۔ پہلی صفت۔ ایمان اور اس کی تعریف : ایمان کی تعریف کو قرآن کریم نے یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ کے صرف دو لفظوں میں پوری طرح بیان کردیا گیا ہے، اگر ایمان اور غیب کے معنی سمجھ لئے جائیں تو ایمان کی پوری حقیقت اور تعریف سمجھ میں آجاتی ہے۔ قرآن سے فائدہ اٹھانے کی یہ دوسری شرط ہے، غیب سے مراد وہ حقیقتیں ہیں، جو انسان کے حواس سے پوشیدہ ہوں ان کا ادراک نہ عقل سے ہوسکتا ہے اور نہ حواس خمسہ ظاہرہ سے، مثلاً خدا کی ذات وصفات،…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَّذِیْنَ یُؤْمِنُوْنَ بالْغَیْبِ یہ المتقین کی صفت ہے پھر اگر تقویٰ کی تفسیر شرک سے بچنے کے ساتھ کی جائے گی تو صفت احترازیہ ہوگی ورنہ کاشفہ یعنی تمام اصول اعمال کو جو ایمان اور نماز اور زکوٰۃ میں شامل ہوگی ان چیزوں کو اصول اعمال کہنے کی یہ وجہ ہے کہ ایمان ہر عمل کا سر ہے اور نماز دین کا ستون اور زکوٰۃ اسلام کا پل اور ممکن ہے کہ صفت مادحہ ہو پھر اس صورت میں الَّذِیْنَ ۔۔ مبتدا ہوگا اور اُوْلٰءِکَ عَلَی ھُدًی خبر۔ ابو جعفر 3 ؂ اور ابو عمر و 4 ؂ اور ورش 5 ؂ نے یُؤْمِنُوْنَ کو واؤ سے پڑھا ہے جو ہمزہ سے بدلا ہوا ہے اسی طرح ابو جعفر ہر ساکن ہمزہ کو حذف کرتے اور ضمہ کے بعد واقعہ ہو تو واؤ سے اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(3) وہ لوگ جو کہ ان چیزوں پر ایمان رکھتے ہیں جو ان کی نگاہوں سے چھپی ہوئی ہیں، جیسا کہ جنت و دوزخ، پل صراط، میزان اعمال، بعث بعد الموت، حساب کتاب وغیرہ۔ ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ وہ لوگ جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی ان امور میں سے جو قرآن پاک میں نازل کیے گئے ہیں یا وہ جو قرآن کریم میں نازل نہیں ہوئے، ایک قول یہ بھی ہے کہ غیب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات ہے اور نماز کو اس کے وضو، رکوع و سجود اور جو امور اس میں واجب ہیں اس کے وقت پر ادا کرتے ہیں اور جو مال ہم نے ان کو دیا ہے اس میں سے وہ اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں۔ ایک قول یہ بھی ہے کہ اپنے اموال کی زکوٰۃ ادا کرتے ہیں اور یہ حضرات جناب…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ) ’ الغیب“ سے مراد وہ حقائق ہیں جو انسان کے حواس اور عقل کی رسائی سے باہر ہیں۔ حدیث جبریل، جس کے راوی امیر المومنین عمر ؓ ہیں، اس میں رسول اللہ ﷺ نے ایمان کی تعریف یہ بیان فرمائی کہ آدمی اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت اور اچھی یا بری تقدیر پر ایمان لائے۔ [ مسلم : 8 ] یہ سب چیزیں غیب میں شامل ہیں، کیونکہ انھیں دیکھے بغیر ان پر ایمان رکھا جاتا ہے۔ قرآن کی ہدایت سے فیض یاب ہونے والے وہی متقی لوگ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے بیان پر اعتبار کرتے ہوئے غیب پر ایمان رکھتے ہیں، اپنے مشاہدے یا اپنی عقل سے معلوم ہونے کا مطالبہ نہیں…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 3 مسئلہ نمبر 1: الذین یہ متقین کی صفت ہونے کے اعتبار سے حالت جری میں ہے اور قطع کے اعتبار سے رفع بھی جائز ہے۔ یعنی اس سے پہلے ھم ضمیر مبتدا محذوف ہوگی اور مدح کے اعتبار سے نصب بھی جائز ہے۔ یؤمنون کا معنی یصدقون ہے یعنی وہ تصدیق کرتے ہیں۔ الایمان کا لغوی معنی تصدیق کرنا ہے قرآن حکیم میں ہے : وما انت بمؤمن لنا (یوسف :17) (تو ہماری تصدیق کرنے والا نہیں) ایمان کا لفظ باء اور لام کے ساتھ متعدی ہوتا ہے جیسا کہ ارشاد ہے : ولا تؤمنوا الا لمن تبع دینکم (آل عمران : 73) (ایک دوسرے کو تاکید کرتے ہیں کہ مت مانو کسی کی بات، سوائے ان لوگوں کے جو پیروی کرتے ہیں تمہارے دین کی) اور فرمایا : فما امن…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے حضرت قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” ھدی للمتقین “ سے (اللہ تعالیٰ ) نے ان لوگوں کی تعریف اور ان کی صفات بیان کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ “ (یعنی جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) (2) ابن اسحاق اور ابن جریر نے حضرت عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ “ سے مراد وہ لوگ ہیں جو غیب کی باتوں کی تصدیق کرتے ہٰ جو کچھ اللہ تعالیٰ کی طرف سے آیا۔ (3) امام ابن جریر نے حضرت ابن مسعود ؓ سے روایت کی کہ لفظ آیت ” الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بالْغَيْبِ “ سے مراد عرب کے مؤمنین ہیں پھر فرمایا اور ایمان سے مراد تصدیق ہے اور غیب سے مراد جو…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ الَّذِیْنَ : وہ لوگ جو ] [ یُؤْمِنُوْنَ : ایمان لاتے ہیں ] [ بِالْغَیْبِ : غیب پر ] [ وَیُـقِیْمُوْنَ : اور جو لوگ قائم رکھتے ہیں ] [ الصَّلٰوۃَ : نماز کو ] [ وَمِمَّا : اور اس میں سے جو ] [ رَزَقْنٰــھُمْ : ہم نے عطا کیا ان کو ] [ یُنْفِقُوْنَ : وہ لوگ انفاق کرتے ہیں ] ء م ن اَمِنَ یَاْمَنُ (س) اَمْنًا ۔ اَمَنًا : (1) مطمئن ہونا۔ امن میں ہونا۔ { فَاِذَا اَمِنْتُمْ فَمَنْ تَمَتَّعَ بِالْعُمْرَۃِ اِلَی الْحَجِّ فَمَا اسْتَیْسَرَ مِنَ الْھَدْیِ } (البقرۃ :96) ” پس جب تم لوگ اطمینان سے ہو تو جس نے فائدہ اٹھایا عمرہ کا حج تک تو (اس پر واجب ہے) جو میسر ہو قربانی کے جانور میں سے۔ “ (2) کسی…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

متقین کی صفات : اس کے بعد متقین کی صفات بیان فرمائیں، اول یہ کہ وہ غیب پر ایمان رکھتے ہیں یعنی اللہ تعالیٰ نے اپنی کتاب میں جن باتوں کی خبر دی ہے اور رسول اللہ ﷺ نے جو باتیں بتائی ہیں، ماضی سے متعلق ہوں یا مستقبل سے ان سب کو مانتے ہیں اور ان پر ایمان لاتے ہیں، بغیر دیکھے صرف خبر پر ایمان لے آنا یہ ایمان بالغیب ہے اور ایمان بالغیب ہی معتبر ہے۔ جب قیامت کا دِن ہوگا تو وہاں کے حالات سب ہی دیکھ لیں گے اور مان لیں گے لیکن دیکھنے کے بعد مان لینا اور ایمان لانا معتبر نہیں۔ متقیوں کی دوسری صفت یہ بیان فرمائی (وَ یُقِیْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ ) یعنی وہ نماز قائم کرتے ہیں، یُصَلُّوْنَ نہیں فرمایا بلکہ (وَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

الذین یؤمنون بالغیب۔ یعنی متقی وہ لوگ ہیں جو غیب پر ایمان رکھتے ہیں ایمان بالغیب متقیوں کا خاص شعار ہے یہ کلمہ المتقین کی صفت ہے یا یوں کہو کہ پرہیزگاروں کی تعریف بیان فرماتے ہیں کہ پرہیزگار وہ ہیں جو خدا پر اور خدا کی نازل کردہ تمام کتابوں پر ایمان رکھتے ہیں اور عبادت گزار ہیں اور خدا کی راہ میں خرچ کرتے ہیں المتقین میں تمام بری باتوں کے ترک کی طرف اشارہ تھا۔ اب امور خیر کا ذکر فرماتے ہیں چونکہ اجزاء انسانی میں سب سے اعظم اور اشرف جزء قلب ہے۔ اس لیے سب سے پہلے فعل قلب یعنی ایمان کا ذکر فرمایا جو درستی اعتقاد کا نشان ہے اور آئندہ آیت ویقیمون الصلوۃ الخ میں اعمال بدنیہ کا ذکر فرمایا جو درستی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 4 ۔ متقین کی پہلی صفت، یومنون، ایمان سے ماخوذ ہے اور ایمان کے معنی دل سے ماننے اور تصدیق کرنے کے ہیں (قرطبی ص 162 ج 1) اور غیب ہر اس چیز کو کہتے ہیں جو حس و عقل کی رسائی اور دسترس سے ماورا ہو۔ ما لا یقع تحت الشعور ولا تقضیہ بداھۃ العقل (روح المعانی ص 114 ج 1) وھو قول جمہور المفسرین ان الغیب ھو الذی یکون غائباً عن الحاسۃ (تفسیر کبیر ص 250 ج 1) اور یہاں غیب سے مراد وہ تمام چیزیں ہیں جن کا ادراک عقل وحس سے ناممکن ہے اور ان کے متعلق جو کچھ بھی معلوم ہے وہ پیغمبر خدا ﷺ کی اطلاع واخبار ہی سے معلوم ہے۔ مثلاً ذات باری تعالی، فرشتے، کتب سماویہ، انبیائے متقدمین علیہم السلام، احوالِ برزخ، علامات…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 2–5

لفظ ذلک کی حکمت : عربی میں ذلک اشارہ بعید کے لئے اور ھذا اشارہ قریب کے لیے استعمال ہوتا ہے یہاں پر گفتگو اس کتاب یعنی قرآن پاک کے لیے ہو رہی ہے۔ لہٰذا سم اشارہ ھذا استعمال ہونا چاہئے تھا۔ یعنی یہ کتاب ، نہ کہ ذلک یعنی وہ کتاب ۔ اس اشکال کے متعلق مفسرین کرام فرماتے ہیں (1 ۔ تفسیر روح المعانی ج 1 ، ص 105 ۔ تفسیر عزیزی فارسی ص 79 پ 1) کہ یہاں پر اشارہ بعید استعمال کرنے کا مقصد اس کتاب کی عظمت اور شان کا اظہار ہے۔ لہٰذا ذلک الکتب کا معنی یہ ہوگا کہ یہ وہ کتاب ہے جو اپنے کمال حقائق ، دقائق ، اسرار اور درجے کی بلندی کی وجہ سے مخاطبین کے فہم سے غائب اور انسانی افکار کی جو لانکاہ سے بہت بلند ہے لہٰذا…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يُؤْمِنُوْنَ بِالْغَيْبِ وَيُـقِيْمُوْنَ الصَّلٰوۃَ وَمِمَّا رَزَقْنٰھُمْ يُنْفِقُوْنَ۝ 3 ۙ ایمان يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان النفس للحق علی سبیل التصدیق، وذلک باجتماع ثلاثة أشياء : تحقیق بالقلب، وإقرار باللسان، وعمل بحسب ذلک بالجوارح، وعلی هذا قوله تعالی: وَالَّذِينَ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : الَّذِیْنَ موصول یُؤْمِنُوْنَ بْالْغَیْبْ جملہ معطوف علیہ وَیُقِیُمْوَنَ الصَّلٰوۃَ فعل بافاعل و مفعول جملہ ہو کر معطوف اور یُنْفِقُوْنَ فعل بافاعل اور مِمَّا رَزَقْنٰـہُمْ اس کا مفعول مقدم فعل اپنے فاعل اور مفعول سے مل کر معطوف ہوا جملہ سابقہ پر۔ پس یہ تینوں جملہ کہ جو ایک دوسرے پر معطوف ہیں صلہ ہوئے۔ موصول اپنے صلہ سے مل کر صفت ہوئی متقین کی۔ تفسیر : تقویٰ کے دو جزو ہیں۔ ایک اچھی باتوں کا عمل میں لانا، دوسرا بری باتوں سے بچنا۔ پھر اچھی باتوں کی دو قسم ہیں ایک اعلیٰ ، دوسری ادنیٰ ۔ اعلیٰ قسم امور حقہ کی تصدیق ہے جو قلب کا کام ہے اور وہ بدن سے روح جدا ہونے کے بعد بھی روح کے ساتھ رہتی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

اَلَّذِ یْنَ یُؤْمِنُوْنَ بِالْغَیْبِ (یہ قرآن) ان لوگوں کے لیے (ہدایت ہے) جو غیب پر ایمان لاتے ہیں) ایمان بالغیب کا مفہوم ہماری محولہ بالا گزارشات سے یہ بات تو واضح ہوگئی ہے کہ قرآن کریم سے ہدایت حاصل کرنے کے لیے کم سے کم تقویٰ کی صفت ضروری ہے۔ یہ وہ صلاحیت ہے جو انسان کو اپنی زندگی اور اس کے انجام پر غور وفکر کی دعوت دیتی ہے۔ اس کے نتیجے میں انسان قرآن کریم سے استفادہ کے لیے آمادہ ہوجاتا ہے۔ پھر جب اللہ کی اس کتاب کو وہ پڑھنا شروع کرتا ہے اور اس کی رہنمائی میں قدم قدم آگے بڑھتا ہے تو تقویٰ بھی اس کے ساتھ ساتھ ترقی کرتا چلا جاتا ہے۔ چناچہ قرآن ِکریم کی رہنمائی میں تقویٰ کی جو پہلی کونپل…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

فہم القرآن ربط کلام : کتاب حق کے تعارف کے بعد اس کے پیغام کا بیان اور ہدایت پانے والوں کے چھ جامع اور مرکزی اوصاف کا تذکرہ۔ ایمان کا اولیّن تقاضا یہ ہے کہ انسان ان دیکھی حقیقتوں کا اقرار کرے۔ جس میں اللہ تعالیٰ کی ذات پر ایمان لانا اور اس کے حکم کے مطابق ہر بات کو ماننا شرط اول ہے۔ یہی انسانیت کا شرف اور اللہ تعالیٰ سے کیے ہوئے عہد کی پاسداری ہے۔ ان حقیقتوں پر ان دیکھے ایمان لانا اس لیے بھی ضروری ہے کہ آدمی میں یہ استعداد اور طاقت نہیں کہ وہ اپنی آنکھوں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی زیارت کرسکے اور نہ ہی اس میں ملائکہ اور قبر کے عذاب کو دیکھنے کی ہمت ہے حتی کہ انسان تو ان آنکھوں کے ساتھ جنت کے حسن و…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 1–3

حروفِ مقطعات کی بحث : الٓمّٓ: الٓمّٓ اور اسکے ہم مثل حروف مقطعات حقیقت میں ایسے اسماء ہیں جن کے مصداق وہ حروف تہجی ہیں جن سے مل کر کلمات بنتے ہیں۔ پس الف قال کے درمیان والے حرف پر دلالت کرتا ہے۔ اور لام اسکے آخری حرف پر دلالت کررہا ہے اور ان کے مشابہہ حروف کا یہی حال ہے۔ اسمیت کے دلائل : پہلی دلیل یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک اپنے ذاتی معنی پر دلالت کرتا ہے۔ دوسری دلیل یہ ہے کہ امالہ، تفخیم، تعریف وتنکیر (معرفہ ونکرہ ہونا) اسی طرح جمع اور تصغیر سے ان میں تبدیلی کی جاتی ہے۔ تیسری دلیل یہ ہے کہ نحوی حیثیت میں یہ معرب ہیں، البتہ ان میں سکون زَیْد وغیرہ اسماء کی طرح ہے۔ کہ اعراب کا مقتضی موجود نہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(آیت)” الذین یؤمنون “ الذین یومنون “ متقین کی صفت ہونے کی وجہ سے حالت جر میں واقع ہے، یؤمنون کا معنی ” یصدقون “ (یعنی تصدیق کرنے والے) ابو عمرو اور ورش ” یؤمنون “ میں ہمزہ کو ترک کرتے ہیں اور باقی اسے ہمزہ دیتے ہیں اسی طرح (مذکوۃ الصدر حضرات) دونوں ہر اس ہمزہ کو ترک فرماتے ہیں جو کہ ساکن ہو اور فعل کی فاء کے مقابلہ میں آیا ہو مگر چند گنے چنے حروف میں (ترک ہمزہ نہیں کرتے) ایمان درحقیقت تصدیق قلب کا نام ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں ” وما انت بمؤمن لنا “ یعنی تو ہماری تصدیق کرنے والے نہیں ہے ۔ ” الایمان “ ایمان شریعت میں نام ہے ، دل سے اعتقاد رکھنا زبان سے اقرار کرنا اور اعضاء وجوارح سے عمل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 3–5

(3 ۔ 5): ایمان کا لفظ قرآن شریف میں جہاں اعمال کے لفظ کے ساتھ آیا ہے وہاں اسکے معنی دلی یقین کے ہیں اور جہاں بغیر لفظ اعمال کے آیا ہے وہاں اکثر سلف کے نزدیک اس سے اعتقاد قلبی اور قول زبانی اور عمل مراد ہے۔ عذاب قبر۔ حشر۔ پل صراط۔ جنت و دوزخ یہ سب غیب کے معنوں میں ہیں نماز کے قائم رکھنے سے یہ مراد ہے کہ نماز کے ارکان رکوع سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جاوے { وَمِمَّا رَزَقْنَہُمْ یَنْفِقُوْنَ } سے فرض زکوٰۃ نفلی اور خیرات دونوں مراد ہیں۔ صحیح حدیث میں ہے کہ صلو کما رایتمونی اصل یعنی تم اس طرح نماز پڑھو جس طرح سے تم نے مجھ کو نماز پڑہتے ہوئے دیکھا ہے۔ اس لئے ہر مسلمان کو چاہتے کہ آنحضرت ﷺ کے نماز…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

فرمایا :’ الذین یومنون بالغیب) ” وہ لوگ جو غیب کی باتوں پر یقین رکھتے ہیں “ حقیقت ایمان ان امور کی کامل تصدیق کا نام ہے جن کی خبر انبیاء و رسل نے دی ہے یہ تصدیق جو ارح کی اطاعت کو متضمن ہے۔ اشیاء کے حسی مشاہدہ سے ایمان کا کوئی تعلق نہیں کیونکہ اس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز نہیں کیا جاسکتا۔ ایمان کا تعلق تو اس غیب سے ہے جسے ہم دیکھ سکتے ہیں نہ اس کا مشاہدہ ہی کرسکتے ہیں۔ محض اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے خبر دینے سے ہم اس پر ایمان لاتے ہیں۔ یہی وہ ایمان ہے جس کے ذریعے سے مسلمان اور کافر کے درمیان امتیاز کیا جاتا ہے کیونکہ یہ ایمان مجرد اللہ اور اس کے انبیاء ومرسلین کی تصدیق…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 1–3

اقامت صلوۃ اور انفاق فی سبیل اللہ قول باری ہے : (الذین یومنون بالغیب و یقیمون الصلوۃ و مما رزقنھم ینفقون) لوگ جو غیب پر ایمان لاتے اور نماز قائم کرتے ہیں اور ہم نے انہیں جو رزق دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں) یہ قول باری نماز پڑھنے اور زکوۃ دینے کے امر اور حکم کو متضمن ہے کیونکہ اللہ سبحانہ نے یہ دونوں باتیں متقین کی صفات اور تقویٰ کی شرائط قرار دی ہیں، سج طرح ایمان بالغیب کو تقویٰ کی شرط قرار دیا گیا ہے، ایمان بالغیب سے مراد اللہ اور بعث و نشور پر نیز ان تمام باتوں پر ایمان لانا ہے جن کا اعتقاد ہم پر بطریق استدلال لازم ہوگیا ہے۔ تقویٰ کی شرائط قرار پانا آیت میں مذکورہ صلوۃ و زکوۃ کے ایجاب کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

6 ایمان بالغیب ہی مدار صلاح و فلاح ہے : سو غیبی حقائق پر ایمان رکھنا، قرآن حکیم سے استفادہ کیلئے اولین تقاضا ہے۔ پس ہدایت وغوایت کے لئے یہی ایک بنیادی اور مرکزی نقطہ ہے کہ غیبی حقائق جیسے حضرت حق جل جلالہ کی ذات وصفات، جنت و دوزخ اور ملائکہ وغیرہ پر، دین حق کی تعلیمات مقدسہ کے مطابق بن دیکھے سچے دل سے ایمان لایا جائے، ورنہ کل قیامت کے دن جب پردہ ہٹ جانے کے بعد یہ حقائق منکشف ہو کر سب کے سامنے آجائیں گے، تو اس وقت سب ہی ان کو مانیں گے، اور خوب مانیں گے، مگر وہ ماننا نہ تو کسی درجے میں معتبر ہوگا اور نہ ہی اس سے آج کے ان منکرین کو کسی بھی درجہ میں کوئی فائدہ پہنچ سکے گا۔ کیونکہ دیکھنے کے بعد کا…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 3–5

متقین کی صفات تشریح : سب سے پہلے ایمان بالغیب کو سمجھنا ہوگا۔ ہم خدا کو دیکھ نہیں سکتے اس کو اس کی صفات اور کاریگری سے پہچانتے ہیں۔ جیسے ہمارے رسول ﷺ نے بتایا کہ اللہ ایک ہے، خالق ہے، رازق ہے، وحدہ لاشریک ہے۔ اس بات پر مکمل ایمان لے آنا، اللہ کو خود ہم اپنی ہستی سے جو کہ چلتی پھرتی مکمل فیکٹری ہے۔ انسان کی پیدائش، زمین و آسمان اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے۔ یہ سب کچھ اللہ کو پہچاننے ماننے اور یقین کرنے کیلئے کیا کافی نہیں ہے ؟ کیوں نہیں یہ سب نظام سوائے اللہ کے اور کوئی نہیں کرسکتا۔ متقی شخص کی پہلی صفت یہ ہے کہ وہ ایمان بالغیب کا حامل ہوتا ہے، ایک متقی یعنی پرہیزگار شخص کے لئے ضروری ہے کہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

الدین یومنون بالغیب ، سب سے پہلے بات ایمان بالغیب ہے کہ ایسے لوگ ان تمام باتوں پر جو اس انسانی کی رسائی سے باہر ہیں۔ رسول پاک ﷺ کے بتانے سے ایمان لاتے اور تصدیق کرتے ہیں سب سے بڑا غیب خود ذات باری ہے جس کی قدرت اس کی تخلیق سے تو ہویدا ہے مگر جو نہ نظر آتا ہے نہ جس کی کوئی مثال بیان کی جاسکتی ہے پھر تمام حقائق اخرویہ دوزخ وجنت عذاب وثواب ، قبر ، سوال و جواب قبر حشرونشر ، فرشتے ، لوح محفوظ ، غرض ہر وہ شے جس کی خبر رسول اللہ ﷺ نے دی ہے مگر حواس انسانی مادی کے ادراک سے بالا تر ہے اسے صدق دل سے مانتے ہیں اور یہ ماننا صرف اعتماد علی الرسول ﷺ نے دی ہے مگر حواس انسانی مادی کے ادراک سے بالاتر ہے اسے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 ایمان تصدیق کے معنی میں استعمال ہوتا ہے اور اصلاح شریعت میں قول وفعل اور اقرار کے مجموعہ کو ایمان کہا جاتا ہے ابن ماجہ) اور یہاں الغیب سے وہ حقائق مراد ہیں جو عقل و حواس کی رسائی سے ماورا ہیں۔ مثلا ذات باری تعالیٰ و حی الہی عذاب قبر اور جملہ امور آخرت (قرطبی) پس اہل تقوی کی صفت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کے بیان پر اعتبار کرتے ہوئے ان حقائق پر ایمان رکھتے ہیں اور عقل و حواس سے ادراک و احساس کا مطالبہ نہیں کرتے۔6 یعنی اس کو صحیح اوقات میں ارکان وسنن کی حفاظت اور خشوع کے ساتھ ادا کرتے ہیں اور نماز باجماعت میں صفیں سیدھی باندھتے ہیں کندھے سے کندھا پیر سے پیر اور ٹخنے سے ٹخنہ ملا کر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2-3) الذین ۔۔ اسم موصول جمع مذکر۔ یؤمنون بالغیب : امن یؤمن ایمانا۔ (افعال) سے مضارع کا صیغہ جمع مزکر غائب ۔ وہ ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان لاتے ہیں۔ امن متعدی اور لازم دونوں طرح استعمال ہوتا ہے ب اور ل ‘ کے صلہ کے ساتھ بھی متعدی مستعمل ہے ب کے صلہ کے ساتھ بمعنی ماننا اور قبول کرنا جیسے امنت باللہ ۔ میں نے اللہ کو مانا۔ قبول کیا ۔ اللہ پر ایمان لایا۔ اور امن لہ۔ تابعدار اور مطیع ہونا۔ شرع کی اصطلاح میں ایمان کے معنی ہیں اقرار باللسان و تصدیق بالقلب زبان سے اقرار اور دل سے تصدیق کرنا۔ الغیب : یہ غاب یغیب (باب ضرب یضرب) کا مصدر ہے غیاب وغیبۃ وغیوب، دیگر مصادر ہیں۔ اس کے معنی کسی چیز کے نگاہوں سے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 3–5

الذین یؤ منون بالغیب ۔ ۔۔ ۔ سے ھم المفلحون تک : ترجمہ : وہ لوگ غیب پر ایمان لاتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔ اور ہم نے انہیں جو کچھ دیا ہے وہ خرچ کرتے ہیں اور جو لوگ اس پر ایمان لاتے ہیں جو آپ ﷺ پر نازل کیا گیا ہے جو کچھ آپ سے پہلے نازل کیا گیا ہے اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں یہی لوگ اپنے رب کی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔ اس بات کو نہایت تفصیل سے عرض کردیا گیا ہے کہ اللہ نے جو کتاب نازل کی ہے اس کی بنیاد یقین پر ہے شک پر نہیں ہے اور یہ کتاب ان لوگوں کے لئے راہ ہدایت ہے جو تقویٰ کی صفت رکھتے ہیں۔ اب یہ ارشاد فرمایا جا رہا ہے کہ وہ اہل تقویٰ کون لوگ ہیں ؟ اور ان کی کیا صفات…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 3–5

عذاب قبر۔ حشر۔ پل صرا۔ جنت۔ دوزخ سب غیب کے معنوں میں ہیں، جن پر بےدیکھے ایمان لائیں۔ نماز کے قائم رکھنے سے مراد یہ ہے کہ نماز کے ارکان وضو، طہارت، رکوع، سجدہ اچھی طرح سے ادا کیا جائے وقت پر۔ راہ خدا میں خرچ کرنے سے مراد زکوۃ ہے یا صدقات نافلہ جیسے ایصال ثواب وہ لوگ جو قرآن پر ایمان لائے۔ اور جو اس سے پہلے کلام اترا یعنی توریت۔ انجیل وغیرہ اس پر ایمان لائے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[3] غیب سے مراد وہ چیزیں ہیں جو حواس اور عقل سے پوشیدہ ہیں۔ مثلاً اللہ کی ذات وصفات، ملائکہ، وحی، جنت، دوزخ وغیرہ۔ ہم ان کو صرف اللہ اور رسول ﷺ کے فرمانے سے صحیح مان لیتے ہیں۔ [4] نماز قائم کرنے کے معنی صرف یہ نہیں کہ آدمی پابندی سے نماز ادا کرے بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ فرض نماز جماعت کے ساتھ ادا کی جائے۔ اسلام میں نماز کا مزاج اور اس کی صحیح شکل یہی ہے۔ اگر کوئی شخص بلا عذر نماز کے لئے مسجد میں حاضر نہ ہو تو رسول اللہ ﷺ کے قول کے مطابق اس کی نماز مقبول ہی نہیں ہوتی۔ (ابوداؤد، ابن ماجہ، دارقطنی، حاکم، بروایت عبداللہ بن عباس ؓ یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ ﷺ اور آپ کے اصحاب اس پر اس طرح مداومت کرتے…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 3) : اللہ کا وہ انعام جسے وہ کلام کے لفظ سے تعبیر کرتا ہے ‘ یونہی نہیں مل جاتا ، اس کے لئے تمام مغیبات پر ایمان لانے کی ضرورت ہے اور پھر صحیح معنوں میں نماز پڑھنے کی حاجت ہے اور اس کے ساتھ ہی ساتھ اللہ کی راہ میں کچھ دینے کی بھی اور پھر یہ بھی خیال رہے کہ قرآن پر پورا پورا ایمان ہو ۔ سابقہ کتب کی بھی احترام کی نگاہ سے دیکھے اور نظام اخروی پر غیر متزلزل یقین رکھے یعنی ایمان وعمل دونوں تابحد کمال ہوں ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 3–4

ف 2۔ وہ متقی لوگ ایسے ہیں جو پوشیدہ اور چھپی ہوئی باتوں پر یقین لاتے ہیں اور نماز کی پابندی کرتے ہیں اور ہم نے جو ان کو دیا ہے اس میں سے کچھ نیک کاموں میں خرچ کیا کرتے ہیں ۔ اور وہ لوگ ایسے ہیں کہ وہ اس قرآن پر جو آپکی طرف نازل کیا گیا ہے یقین رکھتے ہیں اور ان کتابوں کو بھی مانتے ہیں جو آپ سے پہلے نازل کی جا چکی ہیں اور وہ لوگ آخرت پر بھی پورا پورایقین رکھتے ہیں۔ ( تیسیر) غیب کی باتوں سے مراد وہ چیزیں ہیں جو ہماری نظروں سے غائب ہیں ، مثلاً عالم برزخ کے احوال قیامت ، جنت ، دوزخ ، مرنے کے بعد جی اٹھنا وغیرہ۔ نبی کریم ﷺ سے پہلے جو کتابیں نازل ہوچکی ہیں ان کو ماننے کا مطلب یہ ہے کہ ان کو بھی خدا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 2–3

ف 2۔ یعنی قرآن کے منجانب اللہ ہونے میں کوئی شک نہیں یعنی یہ امر یقینی ہے کہ اگر کوئی نافہم اس میں شبہ رکھا ہو کیونکہ یقینی بات کسی کے شبہ کرنے سے بھی یقینی یہ رہتی ہے۔ 3۔ کیونکہ جس کا خوف خدا نہ ہو وہ قرآن کا بتلایا ہوا راستہ نہیں دیکھتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

ایمان بالغیب : 5: انسان کے علم و ادراک کا ذریعہ حواس خمسہ ہیں ، یعنی دیکھنے ، سننے ، سونگھنے ، چکھنے اور چھونے کی قوتیں۔ جو کچھ ان کے ذریعہ معلوم ہوسکتا ہے اس کے لئے محسوس ہے جو ان کے ذریعہ معلوم نہیں کرسکتا وہ غیر محسوس ہے ، قرآن کریم نے اس مطلب کے لئے غیب اور شہادت کے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ عالم غیب وہ ہے جو غیر محسوسات ہے۔ عالم شہادت یعنی محسوسات ہے۔ ارشاد ہوتا ہے کہ توحید الٰہی کی بنیاد یہ ہے کہ ان حقائق پر یقین رکھے جو اس کے لئے غیر محسوس ہیں لیکن وجدان ان کی شہادت دیتا ہے اور وحی الٰہی نے اس کی خبر دی ہے مثلاً اللہ کی ذات وصفات۔ ملائکہ کا وجود۔ وحی و نبوت ، مرنے کے بعد دوبارہ زندگی اور…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The next two verses delineate the characteristic qualities of the God-fearing, suggesting that these are the people who have received guidance, whose path is the straight path, and that he who seeks the straight path should join their company, adopt their beliefs and their way of life. It is perhaps in order to enforce this suggestion that the Holy Qur'an, immediately after pointing out the attributes peculiar to the God-fearing, proceeds to say: أُولَـٰئِكَ عَلَىٰ هُدًى مِّن رَّ‌بِّهِمْ ۖ وَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ It is these who are on guidance given by their Lord, and it is just…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

4. This is the second prerequisite for deriving benefit from the Qur'an. Ghayb signifies the verities which are hidden from man's senses and which are beyond the scope of man's ordinary observation and experience, for example the existence and attributes of God, the angels. the process of revelation, Paradise, Hell and so on. 'Belief in the ghaib' means having faith in such matters, based on an absolute confidence in the Messengers of God and despite the fact that it is impossible to experience them. According to this verse, Qur'anic guidance can prove helpful only to those prepared to affirm…

Read the full tafseer →