Al-Baqara 2:82

Al-Baqara · from ayah 82

2:82

وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ— هُمْ فِیْهَا خٰلِدُوْنَ ۟۠وَالَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓئِكَ اَصۡحٰبُ الۡجَـنَّةِ ‌‌ۚ هُمۡ فِيۡهَا خٰلِدُوۡنَ

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But they who believe and do righteous deeds - those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:82

اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو ایمان لائیں اور نیک کام کریں، وہ جنت کے مالک ہوں گے (اور) ہمیشہ اس میں (عیش کرتے) رہیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جو لوگ ایمان ﻻئیں اور نیک کام کریں وه جنتی ہیں جو جنت میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جو لوگ ایمان لاتے ہیں اور نیک عمل کرتے ہیں تو وہ جنت کے باسی ہیں۔ وہ ہمیشہ اسی میں رہیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جو ایمان لائے اور اچھے کام کیے وہ جنت والے ہیں انہیں ہمیشہ اس میں رہنا -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جو لوگ ایمان لائے اور (انہوں نے) نیک عمل کیے تو وہی لوگ جنّتی ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک اعمال کیے وہی جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور جو لوگ ایمان لائے اور اچھے کام کئے تو یہی لوگ جنت کے مستحق ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جو ایمان لائے اور جنہوں نے بھلے کام کیے تو وہی لوگ جنت میں والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (اس کے برعکس) جو لاگ ایمان لائے، اور انہوں نے کام بھی نیک کئے، وہ جنتی ہوں گے جہاں انہیں ہمیشہ رہنا نصیب ہوگا،

— مولانا اسحاق مدنی

اور جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں تو یہی لوگ اہل جنت ہیں اس میں ہمیشہ رہنے والے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (اس کے برعکس) جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں یہی ہیں جنت والے وہ اسی میں ہمیشہ ہمیش رہیں گے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جو ایمان لائے اور انہوں نے اچھے عمل کئے۔ وہی جنت کے رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Only those people who believe and do good deeds, will be the dwellers of the Garden and live there for ever.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

As for those who believe, and do good deeds, they are the people of Paradise - there they will live forever.

— Muhammad Taqi Usmani

As for those who believe, and do good deeds, they are the people of Paradise - there they will live forever.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And those who believe and do righteous good deeds, they are dwellers of Paradise, they will dwell therein forever.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And those who believe and do good works: such are rightful owners of the Garden. They will abide therein.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But they who believe and do righteous deeds - those are the companions of Paradise; they will abide therein eternally.

— Saheeh International

As for the righteously striving believers, they will be among the people of Paradise wherein they will live forever.

— Muhammad Sarwar

And (as for) those who believe and do good deeds, these are the dwellers of the garden; in it they shall abide.

— Muhammad Habib Shakir

And those who believe and do righteous works, --those shall be the fellows of the Garden, as abiders therein.

— Abdul Majid Daryabadi

But those who have faith and work righteousness, they are companions of the Garden: Therein shall they abide (For ever).

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:82

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 81–82

جہنمی کون ؟ مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال سراسر بد ہیں جو نیکیوں سے خالی ہے وہ جہنمی ہے اور جو شخص اللہ رسول ﷺ پر ایمان لائے اور سنت کے مطابق عمل کرے وہ جنتی ہے۔ جیسے ایک جگہ فرمایا آیت (لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ) 4۔ النسآء :123) یعنی نہ تو تمہارے منصوبے چل سکیں گے اور نہ اہل کتاب کے ہر برائی کرنے والا اپنی برائی کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر بھلائی کرنے والا ثواب پائے گا اپنی نیکو کاری کا اجر پائے گا مگر برے کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ کسی مرد کا، عورت کا، بھلے آدمی کا کوئی عمل برباد نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں برائی سے مطلب کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مراد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 80–82

سورة الْبَقَرَة 91 یہ یہودیوں کی عام غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ کریں، بہرحال چونکہ ہم یہودی ہیں، لہٰذا جہنّم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی، تو بس چند روز کے لیے وہاں بھیجے جائیں گے اور پھر سیدھے جنّت کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 81–82

خلاصہ تفسیر خلود فی النار کا ضابطہ (بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ) کیوں نہیں (لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ) جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا (و قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور جو لوگ (اللہ و رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔ فائدہخطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

Explained with ayahs 81–82

یہ یہود کے اس واہمہ کی تردید ہے جس کا اوپر ذکر گزرا ہے۔ یعنی جنت اور دوزخ کا تعلق خاندانی اور گروہی نسبتوں سے نہیں بلکہ تمام تر عمل سے ہے۔ جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور وہ برائی اس کو اپنے گھیرے میں لے لے تو اس کے لئے خلود فی النار ہے خواہ اس کا تعلق کسی گروہ سے ہو۔ برعکس اس کے جو شخص ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہے اس کے لئے خلود فی الجنۃ ہے خواہ اس کا تعلق کسی خاندان سے ہو۔ جس طرح اس سورہ کے پہلے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا الآیۃ والی آیت وارد ہوئی تھی اسی طرح اس دوسرے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر یہ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ الآیہ والی آیت وارد ہوئی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 82–83

82۔ 1 یہ یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے جنت یا جہنم کا اصول بیان کیا جا رہا ہے، جس کے نامہء اعمال میں برائیاں ہی برائیاں ہونگی، یعنی کفر اور شرک، اور جو مومن گنہگار ہونگے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما کر بطور سزا کچھ عرصہ جہنم میں رکھنے کے بعد یا نبی کی شفاعت سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا جیسا کہ یہ باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور اہل سنت کا عقیدہ ہے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 81–84

57: بدی کے گھیرے میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کریں جس کے بعد کوئی نیک عمل آخرت میں کار آمد نہ ہو، اور وہ گناہ کفر اور شرک ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس فیصلے اور نتیجے کے بعد دوسرا اور مقابل صورت کا حکم بھی یہاں بیان کیا جاتا ہے ۔ وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أُولَئِكَ أَصْحَابُ الْجَنَّةِ هُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ” اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔ اور نیک عمل کریں گے۔ “ یعنی ایمان کا لازمی تقاضا یہ ہے کہ وہ دل سے عمل صالح کی شکل میں پھوٹ کر باہر نکل آئے ۔ جو لوگ ایمان کے دعوے دار ہیں ، انہیں چاہئے کہ اس حقیقت پر ذرا غور کرلیں نیز وہ تمام مسلمان بھی جو اپنے آپ کو مسلمان کہلاتے ہیں ، اور ہم بھی ان میں شامل ہیں ، اس بات کی اشد ضرورت ہے کہ ہم اس حقیقت کے بارے میں اچھی طرح…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

Explained with ayahs 82–83

2 یعنی احکام الٰہی سے اعراض کرنا تو تمہاری عادت بلکہ طبیعت ہوگئی ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 82 وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اب نیک عمل کے بارے میں ہر شخص نے اپنا ایک تصور اور نظریہ بنا رکھا ہے۔ جبکہ نیک عمل سے قرآن مجید کی مراد دین کے سارے تقاضوں کو پورا کرنا ہے۔ محض کوئی خیراتی ادارہ یا کوئی یتیم خانہ کھول دینا یا بیواؤں کی فلاح و بہبود کا انتظام کردینا اور خود سودی لین دین اور دھوکہ فریب پر مبنی کاروبار ترک نہ کرنا نیکی کا مسخ شدہ تصور ہے۔ جبکہ نیکی کا جامع تصور یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے عائد کردہ تمام فرائض کی بجاآوری ہو ‘ دین کے تمام تقاضے پورے کیے جائیں ‘ اپنے مال اور جان کے ساتھ اللہ کے راستے میں جہاد اور مجاہدہ کیا جائے اور اس کے دین کو قائم اور…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

95 یہاں اہل ایمان کا اور جنت کا ذکر محض اس لیے کیا گیا ہے کہ قرآن کا انداز ہی یہ ہے کہ دوزخ کے ساتھ جنت کا بھی ذکر کردیا جاتا ہے۔ جیسا کہ پہلے لکھا جا چکا ہے کہ اس کے بعد پھر بنی اسرائیل کا ذکر شروع ہو رہا ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

278 ۔ دونوں آیتوں میں نجات کا پورا قانون ایجازواختصار کے ساتھ آگیا کہ نجات کونسل وقوم سے کوئی تعلق نہیں، جو کوئی اپنے قصد واختیار سے بدعقیدگی وبدکرداری کی راہ پر چلے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور جو کوئی اپنے قصد واختیار سے ایمان وعمل صالح کی روش کا انتخاب کرے گا ، ، اس کی منزل جنت ہے۔ (آیت) ” اولئک۔ فاولئک “ اوپر کی آیت کے الفاظ تھے (آیت) ” فاولئک اصحب النار “ اور اس آیت میں ہیں (آیت) ” اولئک اصحب الجنۃ “ گویا ایک ہی قسم کا حکم لگانے میں ایک جگہ (آیت) ” اولئک۔کے ساتھ ہے اور ایک جگہ بغیرکے، یہ فرق گوخفیف سا ہے اور لفظی بھی نہیں محض حرفی ہے، لیکن اتنا فرق بھی آخرکیوں ؟ اہل تحقیق نے جواب میں کہا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 81–82

نجات اور عدم نجات کا قانون : ” بَلٰی مَنْ کَسَبَ سِیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ “ (الآیۃ) ۔ نجات یا عدم نجات کا نسل و قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا مدار ایمان اور عدم ایمان پر ہے، اَح۔ اطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ ، تمام اکابر اہل سنت کے نزدیک یہاں کفر ہی مراد ہے، گناہ کے احاطہ کرنے کا مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلے کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتی کہ دل میں ایمان و تصدیق بھی باقی نہ رہے، اس لئے کہ اگر دل میں ایمان و تصدیق باقی ہوگی تو بھی احاطہ مذکورہ محقق نہ ہوگا لہٰذا کافر پر ہی یہ صورت صادق آتی ہے، مومن کتنا ہی بدعمل ہو بہر حال اس آیت کا مصداق نہ ہوگا۔ بعض اہل باطل نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ (اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک کام کئے وہ جنتی ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(82) اب اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل ایمان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو لوگ حضور اکرم ﷺ اور قرآن حکیم پر ایمان لائے اللہ تعالیٰ کی فرمانبرداری بجائے ایسے لوگ جنت میں ہمیشہ رہیں گے نہ وہاں ان کو موت آئے گی اور نہ ہی وہ وہاں سے باہر نکالے جا ہیں گے ،

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

(وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ) کفر پر وعید کے بعد ایمان اور عمل صالح پر بشارت ہے اور یہ قرآن کا عام اسلوب ہے کہ بشارت و نذارت دونوں اکٹھی ذکر ہوتی ہیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 81–82

آیت نمبر 81 تا 82 اس میں تین مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلیٰ یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا تم نے ذکر کیا ہے۔ سیبویہ نے کہا بلیٰ اور نعم اسم نہیں ہیں۔ یہ بل وغیرہ کی طرح دونوں حرف ہیں۔ یہ ان کے قول لن تمسنا النار کا رد ہے۔ کو فیوں نے کہا : اس کی اصل بل ہے جس کا معنی پہلی کلام سے اضراب ہوتا ہے۔ اس پر یا کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وقف عمدہ ہوجائے یا ایجاب اور انعام کا معنی اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے (1) ۔ پس بل انکار کے رد پر دلالت کرتا ہے اور یا ما بعد کے ایجاب پر دلالت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : اگر کوئی کہے : الم تاخذ دینار ًا ؟ (کیا تو نے دینار نہیں لیا ؟ ) تو کہے گا : نعم تو…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 81–82

(1) حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسب “ سے مراد شرک ہے۔ (2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ کا مطلب یہ ہے کہ شرک نے اس کو گھیر لیا۔ (3) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسبت سیءۃ “ سے مراد ہے کہ جس شخص نے تمہارے برے اعمال کی طرف عمل کیا اور اس چیز کا انکار کیا جس کا تم نے انکار کیا یہاں تک کہ اس کے کفر نے اس کو گھیر لیا۔ (یعنی کفر کی وجہ سے اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی) ۔ لفظ آیت ” والذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک اصحب الجنۃ ھم فیہا خلدون “ یعنی وہ شخص جو اس چیز پر ایمان…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَالَّذِيْنَ : اور جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ : اور عمل کیے بھلے ] [ اُولٰۗىِٕكَ : وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ۚ : جنت والے ہیں ] [ ھُمْ فِيْهَا : وہ لوگ اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 81–82

اصحاب الجنتہ کون ہیں اور اصحاب النار کون ہیں ؟ ان دو آیتوں میں جنتی اور دوزخی ہونے کا ضابطہ بتایا ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے طریقہ سے یہودیوں کے اس دعوے کی تردید بھی ہے جو اوپر کی آیت میں مذکور تھا۔ پہلی آیت میں یوں فرمایا کہ تمہارے پاس اپنے دعوے کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی سند نہیں ہے، اور ان دو آیتوں میں جو ضابطہ جنت اور دوزخ کے داخلے کا ذکر فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ تم لوگ ضابطہ کے مطابق ان لوگوں کے زمرہ میں آتے ہو جن کو ہمیشہ دائمی عذاب ہوگا۔ ارشاد فرمایا کہ تم یہ جو کہتے ہو کہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے صرف چند دن عذاب ہوگا تمہاری بات غلط ہے۔ تم ہمیشہ دوزخ میں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 80–82

شناعت دہم وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون اور یہود یہ بھی کہتے ہیں کہ دوزخ ہم کو ہرگز نہ لگے گی ، ، مگر چند روز گنے چنے۔ آپ کہدیجئے کہ کیا تم نے اللہ سے اس بارے میں کوئی عہد لیا ہے، کہ تم کو فقط اس قدرت مدت عذاب ہوگا۔ اس لیے کہ عذاب کی مدت دلیل عقلی سے معلوم نہیں ہوسکتی اس کے لیے دلیل سمعی چاہئے ایسا عقیدہ بغیر عہد خداوندی کے نہیں ہوسکتا تو بتلاؤ کہ کیا خدا نے تم سے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ اللہ اپنے اس عہد کے ہرگز خلاف نہ کریگا یا اللہ پر افتراء کرتے ہو، بےسند باتیں جن کی سند تم کو معلوم نہیں اور خود اپنی طرف سے ایسی من گھڑت باتیں کرتے ہو بتلاؤ کس کتاب میں اللہ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 81–82

156 بلیٰ حرف استدراک ہے ماقبل کی نفی اور مابعد کا اثبات کرتا ہے۔ وبلی وبل حرفا استدراک ومعناہھی نفی الخبر الماضی و اثبات الخبر المستقبل (معالم ص 66 ج 1) یہ بھی یہودیوں کے غلط دعو وں اور ان کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید ہے۔ یعنی جیسا تم نے سمجھ رکھا ہے اور دل میں کئی امیدیں اور آرزوئیں پال رکھی ہیں ایسا نہیں بلکہ ہر بد کردار کو خواہ وہ کوئی ہو اس کے بد اعمال کی ضرور سزا ملے گی۔ یقول اللہ تعالیٰ لیس الامر کما تمنیتم ولا کما تشتھون بل الامر من عمل سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ۔۔۔ فہذا من اھل النار (ابن کثیر ص 119 ج 1) اور سیئہ سے یہاں کفر وشرک مراد ہے۔ وذھب کثیر من السلف الی انھا ھھنا الکفر (روح ص 306 ج 1)…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 80–82

یہود یوں کے باطل عقائد : اس رکوع میں اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں سے امید قطع کرنے کا حکم دیا۔ کہ یہ بڑے متعصب لوگ ہیں۔ آپ ان سے ایمان لانے کی امید نہ رکھیں۔ اس کے بعد ان کے دو طبقوں یعنی اہل علم اور ان پڑھ لوگوں کا ذکر ہوا۔ کہ ان جاہل لوگوں کے پا س دین نہیں۔ بلکہ چند جھوٹی آرزوئیں ہیں مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی ایک جھوٹی آرزو یہ ہے کہ “ وقالوا لن تمسنا النار ” وہ کہتے ہیں کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے “ الا ایمان معدودۃ ” مگر چند دن کے لیے جنت تو ہمارے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ دوسری جگہ ان کی بات کو یوں بیان فرمایا “ لن یدخل الجنۃ الا من…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَالَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ۝ 0 ۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ۝ 82 ۧ عمل العَمَلُ : كلّ فعل يكون من الحیوان بقصد، فهو أخصّ من الفعل لأنّ الفعل قد ينسب إلى الحیوانات التي يقع منها فعل بغیر قصد، وقد ينسب إلى الجمادات، والعَمَلُ قلّما ينسب إلى ذلك، ولم يستعمل العَمَلُ في الحیوانات إلّا في قولهم : البقر العَوَامِلُ ، والعَمَلُ يستعمل في الأَعْمَالِ الصالحة والسّيّئة، قال : إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحاتِ [ البقرة/ 277] ( ع م ل ) العمل ہر اس فعل کو کہتے ہیں جو کسی جاندار سے ارادۃ صادر ہو یہ فعل سے اخص ہے کیونکہ فعل کا لفظ کبھی حیوانات کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 78–82

ترکیب : امیون مبتدا موصوف لایعلمون الکتاب صفت منہم خبر مقدم الا امانی استثنا منقطع ہے بمعنی لاکن امانی امنیہ کی جمع ہے جس کے معنی دلی منصوبہ ہیں اور اس لیے اس کا اطلاق جھوٹ اور آرزو اور جو پڑھنے میں آتا ہے اس پر ہوتا ہے۔ ان بمعنی مابقرینہ الاو التقدیر ان ھم الاقوم یظنون فویل 2 ؎ للذین یکتبون مبتداء و خبر ہیں۔ الکتاب مفعول بہ ہے بمعنی مکتوب اور جس نے مصدر سمجھا ضعیف کو اختیار کیا بایدیہم اید کی جمع ہے جس کی اصل میں یدی کفلس ہے اور جمع قلت ہے باوجودیکہ ہاتھوں سے لکھتے ہیں نہ پائوں سے پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لیے جیسا کہ بولتے ہیں اپنی آنکھ سے دیکھا لیشتروا میں لام یقولون کے متعلق ہے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 81–82

بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْٓئَتُہٗ فَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃ ِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 81 تا 82) (البتہ ! جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے، تو وہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے) نجات اور عدم نجات کا قانون یہود نے نجات کے لیے جس طرح صرف نسبی انتساب کو کافی سمجھ لیا تھا اور باقی اہل مذاہب بھی اسی طرح کی متنوع…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 81–82

فہم القرآن ربط کلام : من گھڑت تصورات اور بد اعمالیاں آدمی کو جہنم میں لے جائیں گی جبکہ جنت کے وارث تو صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والے لوگ ہی ہوں گے۔ اہل کتاب اور ہر فرد کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بلند بانگ دعوے، دل کش نعرے، حسب ونسب کے امتیازات اور بزرگوں کے ساتھ نسبت اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتے جو ایمان سے عاری اور تادم مرگ شرک و بدعت میں ملوث رہا ہو اسے ہر حال میں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جانا ہے اور ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس کوئی شخص اعلیٰ حسب و نسب اور بڑے بڑے امتیازات و القابات سے محروم ‘ مگر صاحب ایمان و کردار ہو۔ ایسے لوگ جہاں کہیں کے رہنے والے اور جو بھی…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت 82: وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ اُولٰٓپکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃِ ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ : ( اور وہ لوگ جو ایمان لائے اور نیک عمل کیے وہ جنت والے ہیں وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

Explained with ayahs 81–82

81۔ ” بلی “ بلی اور بل دونوں استدراک کے حرف ہیں اور دونوں کا معنی ماضی سے متعلق خبر کی نفی کرنا اور مستقبل سے متعلق خبر کی اثبات کرنا ہے۔ (آیت)” من کسب سیئۃ “ شرک ”(آیت)” واحاطت بہ خطیئتہ “ اہل مدینہ نے ” خطیئاتہ “ جمع کے ساتھ پڑھا اور احاطہ کا معنی کسی شیء کا ہر جانب سے گھیراؤ کرنا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ حضرت عطاء ؓ ضحاک ؓ ابو العالیہ ؓ ، اور ربیع ؓ اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ (آیت)” احاطت بہ خطیئتہ “ کا معنی وہ شرک جس پر موت واقع ہو اور کہا گیا ہے کہ ” خطیئۃ کا معنی بڑا گناہ اور احاطۃ بہ کا معنی اس (گناہ) پر اصرار کرنا کہ بغیر توبہ کے مرجائے یہ قول عکرمہ اور ربیع بن خثیم کا ہے ،…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 81–82

(81 ۔ 82): حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان آیتوں میں گناہ کے معنی شرک کے لئے ہیں 1۔ اور آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ جو شخص یہود کی طرح کے شرک اور کفر اور گناہوں میں ہمیشہ مبتلا رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا۔ تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں کے موافق ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن گنہگار بغیر توبہ کے مرجائے گا وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا 2۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 80–82

آیت 80 تا 82 اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انہیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی، یعنی بہت ہی کم دنوں کے لئے جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل) یعنی اے رسول ان سے کہہ دو ! (آیت) اَتَّخَذْتُمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 82–83

قول باری ہے۔ ” واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احساناً ) (یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا) یہ قول باری والدین کے حق کی تاکید اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے خواہ والدین کافر ہوں یا مومن کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔ قول باری ہے : وذی القربی رشتے داروں کے ساتھ، صلہ رحمی اور تیامی و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔ قول باری ہے : وقولو ا للناس حسناً (اور لوگوں سے بھلی بات کہنا) ابو جعفر محمد بن علی سے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 81–82

231 خطا کاریوں کا احاطہ اور اس کا نتیجہ : سو بنی اسرائیل کے مذکورہ زعم فاسد کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو دوزخ کی آگ چھوئے گی کیوں نہیں جبکہ قانون عام یہ ہے کہ جس نے برائیوں کی کمائی کی اور یہاں تک کہ گھیر لیا اس کو اس کی خطاکاریوں نے تو ایسے لوگ یقینا دوزخی ہیں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سو جس کی خطا کاریوں نے اس کو گھیر لیا اور اس کی خطاکاریوں کی ظلمت اس کے قلب و باطن پر چھاگئی ہو، اور اس طرح کہ اس میں ایمان و یقین اور خوف و خشیت خداوندی کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہ گئی ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت اور یہ انجام کفر و شرک ہی کا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 81–82

جنت اور دوزخ تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے اور یہود کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے برملا اعلان کرتا ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کی کوئی خاصیت نہیں، بلکہ ہر وہ شخص جو گناہ کرتا ہے۔ بنی پر ایمان نہیں لاتا اعمال بد میں گھر چکا ہے۔ اس کو جہنم میں ضرور ڈالا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو اللہ پر ایمان لائیں گے، صدق دل سے اس کے احکام کو مانیں گے اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں گے نیک عمل کریں گے اور شیطان کی راہوں پر نہ چلیں گے تو ایسے نیک اور صالح لوگوں کے لئے جنت کا داخلہ یقینی ہوگا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے نہ کہ صرف…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 72–82

آیات 72- 80 اسرارو معارف پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 82–83

ف 1 آیات سابقہ میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخ احسانات یاد لائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کئے گئے اور انہوں نے شکر گزاری کی بجائے کفر کیا جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا اب یہاں ان کو وہ عہد یاد لایا جا رہا ہے جو اصل احکام (عبادات ومعامالات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کو او اعراض واہمال کو اپنا شعار بنا لیا اسی قسم کا حکم سورتہ نساء (آیت :26) میں امت مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ اب ن کثیر عبادت کی چار قسمیں ہیں (1) بدنی جیسے طواف۔ رکوع سجدہ وغیرہ (2) مالی جیسے صدقہ خیرات کرنا اور نذرانیاز ماننا، (3) لسانی جیسے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 80–82

لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 82 لن تمسنا (ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی) ۔ ایام معدودۃ (چند دن (یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ گنے چند دن جہنم میں رہیں گے) ۔ اتخذتم (تم نے بنا لیا ہے ) ۔ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا) ۔ ام تقولون (یا تم کہتے ہو ؟ ) ۔ بلیٰ (کیوں نہیں، جی ہاں) ۔ سیئۃ (گناہ، برائی) ۔ احاطت (اس نے گھیر لیا) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ خلدون (ہمیشہ رہنے والے) ۔ اصحب الجنۃ (جنت والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 80 تا 82 حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے ۔ ہر ہزار سال کے بدلے ہم لوگ ایک دون دوزخ میں رہیں گے اور سات دن سے زیادہ ہمیں عذاب نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 81–82

حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ان آیتوں میں گناہ کے معنی :” شرک “ کے لئے ہیں ۔ جو شخص یہود کی طرح شرک وگناہوں میں رہ کر بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور جو مومن گناہ گار بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ آخیر کو جنت میں جاوے گا ۔ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 80–82

[57] یعنی ہماری امت اللہ کے نزدیک نجات یافتہ امت ہے اگر ہم آگ میں ڈالے بھی جائیں گے تو اس لئے نہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے بلکہ صرف چند دنوں کے لئے تاکہ گناہ کے میل کچیل سے پاک ہو کر جنت میں داخل ہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 81–83

(ف 1) خدا کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک اور سب اقرباء ومستحقین کے ساتھ مشفقانہ تعلقات کو اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ مذہب کی تکمیل بلا اس طرز کے ناممکن ہے ، وہ انسان جو خدا پرست ہے ، لازمی ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نہایت گہرا اور محبانہ تعلق ہو ۔ بالخصوص والدین اور عزیز جو قریبی رشتہ ، الفت و شفقت رکھتے ہیں ضرور ہماری توجہ کے مستحق ہیں ، اور یاد رکھو جو اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے حق میں بھی اچھا انسان نہیں وہ خدا کے حق میں بھی نیک انسان نہیں ہوسکتا ، گویا قرآن تقوی وصلاح کا معیار ظاہری رسوم دین نہیں قرار دیتا ، بلکہ اس کے نزدیک فلاح ونجات موقوف ہے حسن معاملت اور حقوق شناسی پر وہ…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 80–82

ف 3 اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو گنتی کے چند ایام کے سوا دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا یا ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے یوں نہیں بلکہ تم ہمیشہ آگ میں رہو گے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جس نے قصداً گناہ کا ارتکاب کیا اور گناہ کرتا رہا اور اس کے گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم اور دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 80–84

ف 2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اچھائی کا نتیجہ کبھی بھی برا نہیں ہوسکتا : 159: جو چیزیں لازم و ملزوم ہوں۔ وہاں ایک کے وجود کا اقرار دوسرے کے وجود کا خود بخود اقرار ہوتا ہے۔ اسی طرح جہاں ایک کے وجود کا انکار ہوا تو دوسرے کے وجود کا خود بخود انکار ہوجاتا ہے۔ عمل و نتیجہ لازم و ملزوم ہیں اس لئے یہ اصول قرآن کریم نے بھی قائم رکھا ہے۔ اسی طرح ان دونوں آیتوں میں نجات کا پورا قانون بیان فرما دیا گیا کہ یاد رکھو نجات کا نسل و قوم سے کوئی تعلق نہیں جو کوئی اپنے مقصد و اختیار سے بد عقیدگی اور بدکرداری کی راہ پر چلے گا اس کا ٹھکانہ جہنم ہے اور جو کوئی اپنے قصد و اختیار سے ایمان و عمل صالح کی روش کا انتخاب کرے گا اس کی منزل جنت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 81–82

Having refuted the claim of the Jews as baseless, the Holy Qur'an lays down the divine law in this regard. Those who commit evil deeds knowingly and deliberately so that evil takes hold of them completely, leaving no trace of goodness - such men shall go to the Hell, and live there forever, without any intermission or release. But those who believe in Allah and the Holy Prophet ﷺ - whose Shari` ah has now abrogated all the earlier Shari'ahs and who do good deeds in conformity with the Islamic Shari'ah, - it is these men who shall go to Paradise, and will live there forever. Let us explain…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 80–84

91. This is a misconception entertained by all Jews, laymen as well as rabbis. They felt sure that no matter what they did, they would remain immune from hell-fire just by virtue of being Jews! The worst they could conceive of was the possibility of a transient punishment before they were transported to heaven.

Read the full tafseer →