Explained with ayahs 81–82
جہنمی کون ؟
مطلب یہ ہے کہ جس کے اعمال سراسر بد ہیں جو نیکیوں سے خالی ہے وہ جہنمی ہے اور جو شخص اللہ رسول ﷺ پر ایمان لائے اور سنت کے مطابق عمل کرے وہ جنتی ہے۔ جیسے ایک جگہ فرمایا آیت (لَيْسَ بِاَمَانِيِّكُمْ وَلَآ اَمَانِيِّ اَھْلِ الْكِتٰبِ) 4۔ النسآء :123) یعنی نہ تو تمہارے منصوبے چل سکیں گے اور نہ اہل کتاب کے ہر برائی کرنے والا اپنی برائی کا بدلہ دیا جائے گا اور ہر بھلائی کرنے والا ثواب پائے گا اپنی نیکو کاری کا اجر پائے گا مگر برے کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ کسی مرد کا، عورت کا، بھلے آدمی کا کوئی عمل برباد نہ ہوگا۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں برائی سے مطلب کفر ہے اور ایک روایت میں ہے کہ مراد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
سورة الْبَقَرَة 91
یہ یہودیوں کی عام غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ کریں، بہرحال چونکہ ہم یہودی ہیں، لہٰذا جہنّم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی، تو بس چند روز کے لیے وہاں بھیجے جائیں گے اور پھر سیدھے جنّت کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
خلاصہ تفسیر
خلود فی النار کا ضابطہ
(بجز چند روز کے تم کو آتش دوزخ) کیوں نہیں (لگے گی بلکہ ابد الآباد تک اس میں رہنا ضرور ہے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ کہ) جو شخص قصد ابری باتیں کرتا رہے اور اس کو اس کی خطا (و قصور اس طرح) احاطہ کرلے (کہ کہیں نیکی کا اثر تک نہ رہے) سو ایسے لوگ اہل دوزخ ہوتے ہیں اور وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے اور جو لوگ (اللہ و رسول پر) ایمان لاویں اور نیک کام کریں ایسے لوگ اہل بہشت ہوتے ہیں (اور) وہ اس میں ہمیشہ (ہمیشہ) رہیں گے۔
فائدہخطاؤں کے احاطہ کے جو معنی اور ذکر کئے گئے ہیں اس قسم کا احاطہ اس معنی کے ساتھ کفار کے ساتھ مخصوص ہے کیونکہ کفر کی وجہ سے کوئی بھی عمل صالح مقبول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
یہ یہود کے اس واہمہ کی تردید ہے جس کا اوپر ذکر گزرا ہے۔ یعنی جنت اور دوزخ کا تعلق خاندانی اور گروہی نسبتوں سے نہیں بلکہ تمام تر عمل سے ہے۔ جو شخص کسی برائی کا ارتکاب کرے اور وہ برائی اس کو اپنے گھیرے میں لے لے تو اس کے لئے خلود فی النار ہے خواہ اس کا تعلق کسی گروہ سے ہو۔ برعکس اس کے جو شخص ایمان اور عمل صالح کی روش پر قائم ہے اس کے لئے خلود فی الجنۃ ہے خواہ اس کا تعلق کسی خاندان سے ہو۔
جس طرح اس سورہ کے پہلے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا الآیۃ والی آیت وارد ہوئی تھی اسی طرح اس دوسرے سلسلہ بیان کے خاتمہ پر یہ بَلٰی مَنۡ کَسَبَ الآیہ والی آیت وارد ہوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ 1 یہود کہتے تھے کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے اور ہزار سال کے بدلے ایک دن جہنم میں رہیں گے اس حساب سے صرف سات دن جہنم میں رہیں گے۔ کچھ کہتے تھے کہ ہم نے چالیس دن بچھڑے کی عبادت کی تھی، چالیس دن جہنم میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے اللہ سے عہد لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس طرح کا کوئی عہد نہیں ہے۔
80۔ 2 یعنی تمہارا یہ دعویٰ ہے ہم اگر جہنم گئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے، تمہاری اپنی طرف سے ہے اور اس طرح تم اللہ کے ذمے ایسی باتیں لگاتے ہو، جن کا تمہیں خود بھی علم نہیں ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنا وہ اصول بیان فرما رہا ہے۔ جس کی رو سے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نیک و بد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
57: بدی کے گھیرے میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کریں جس کے بعد کوئی نیک عمل آخرت میں کار آمد نہ ہو، اور وہ گناہ کفر اور شرک ہے۔
Read the full tafseer →یہاں یہ بات دلچسپی سے خالی نہ ہوگی کہ اس مخصوص اصول جزاء وسزا اور اس ذہنی مفہوم کو قرآن نے جس معجزانہ اور فنکارانہ انداز میں بیان کیا ہے اور جس طرح اس کی تصویر کھینچ کر رکھ دی ہے ، ہم قدرے توقف کرکے اس پر غور کریں اور اللہ کے اٹل حکم اور ابدی اصول کے اسباب و اسرار معلوم کرنے کی کوشش کریں۔
” ہاں جو بھی بدی کمائے اور خطاکاری کے چکر میں پڑا رہے گا گویا بدی ایک قسم کی کمائی ہے ۔ یہاں معنی مطلوب صرف غلطی کا ارتکاب ہے لیکن جن الفاظ سے اس کی تعبیر کی گئی ہے وہ معروف نفسیاتی حالت کی عکاسی کرتے ہیں ۔ جو لوگ مصیبت میں مبتلاہوتے ہیں ، وہ اس کے عادی ہوجاتے ہیں اور اس کے ارتکاب میں انہیں مزا آتا ہے ۔ اور…
Read the full tafseer →7 یعنی یہ بات غلط ہے کہ یہودی ہمیشہ کے لیے دوزخ میں نہ رہیں گے کیونکہ خلود فی النار اور خلود فی الجنۃ کا جو قاعدہ کلیہ آگے بیان فرمایا ہے اسی کے مطابق سب سے معاملہ ہوگا یہودی اس سے نکل نہیں سکتے۔
1 گناہ کسی کا احاطہ کرلیں۔ اس کا یہ مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتیٰ کہ دل میں ایمان و تصدیق باقی ہوگی تو بھی احاطہ مذکور محقق نہ ہوگا۔ تو اب کافر ہی پر یہ صورت صادق آسکتی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 81 بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّءَۃً ‘
لیکن اس سے مراد کبیرہ گناہ ہے ‘ صغیرہ نہیں۔ سَیِّءَۃً کی تنکیر ”تفخیم“ کا فائدہ بھی دے رہی ہے۔
وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِٓیْءَتُہٗ “
مثلاً ایک شخص سود خوری سے باز نہیں آرہا ‘ باقی وہ نماز کا بھی پابند ہے اورّ تہجد کا بھی التزام کر رہا ہے تو اس ایک گناہ کی برائی اس کے گرد اس طرح چھا جائے گی کہ پھر اس کی یہ ساری نیکیاں ختم ہو کر رہ جائیں گی۔ ہمارے مفسرین نے لکھا ہے کہ گناہ کے احاطہ کرلینے سے مراد یہ ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلیں کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو ‘ حتیٰ کہ دل سے ایمان و تصدیق رخصت ہوجائے۔ علماء کے ہاں یہ اصول مانا جاتا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
94 یہود کی عذاب اخروی کے متعلق غلط فہمی اور اس کا جواب :۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب ہیں لہذا ماسوائے چند دن کے انہیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ان کے اس باطل عقیدہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے دیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اس عقیدہ کی اصل کیا ہے ؟ کیا اللہ نے تم سے کوئی ایسا وعدہ لے رکھا ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو دکھاؤ تو سہی۔ یا بس تم اللہ پر ایسی ہی جھوٹی باتیں جڑ دیتے ہو ؟ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اے یہود ! اگر تم فی الواقع اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور ماسوائے چند دن کے تمہیں…
Read the full tafseer →276 ۔ نجات وعدم نجات کا اصل قانون اب بیان ہورہا ہے کہ اسے نسل وقوم سے کوئی واسطہ ہی نہیں (آیت) ” احاطت بہ خطیتہ۔ “ قصدا بدی کی راہ اختیار کرنا اور معصیت سے پوری طرح گھر جانا کہ خود ایمان کے لیے گنجائش ہی باقی نہ رہ جائے، صرف انہیں کے لیے ممکن ہے جو سرے سے اہل باطل ہوں ، ، اور ان کی موت کفر اور بےدینی ہی پر آئے۔ مومن کیسا ہی بدعمل ہو بہرحال اس آیت کا مصداق تو نہ ہوگا۔ کم ازکم زبان سے اقرار اور قلب سے تصدیق کا درجہ تو اسے حاصل ہی ہوگا۔ تمام اکابر اہل سنت نے یہاں مراد کفر ہی سے لی ہے۔ اے اشرک باللہ ومات علیہ (ابن عباس ؓ السیءۃ الکفر والشرک قال ابن عباس ؓ ومجاہد “ (بحر) المومنون لایدخلون فی حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
نجات اور عدم نجات کا قانون : ” بَلٰی مَنْ کَسَبَ سِیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ “ (الآیۃ) ۔ نجات یا عدم نجات کا نسل و قوم سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ اس کا مدار ایمان اور عدم ایمان پر ہے، اَح۔ اطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ ، تمام اکابر اہل سنت کے نزدیک یہاں کفر ہی مراد ہے، گناہ کے احاطہ کرنے کا مطلب ہے کہ گناہ اس پر ایسا غلبہ کرلے کہ کوئی جانب ایسی نہ ہو کہ گناہ کا غلبہ نہ ہو حتی کہ دل میں ایمان و تصدیق بھی باقی نہ رہے، اس لئے کہ اگر دل میں ایمان و تصدیق باقی ہوگی تو بھی احاطہ مذکورہ محقق نہ ہوگا لہٰذا کافر پر ہی یہ صورت صادق آتی ہے، مومن کتنا ہی بدعمل ہو بہر حال اس آیت کا مصداق نہ ہوگا۔
بعض اہل باطل نے…
Read the full tafseer →بَلٰى ( سچ تو یہ ہے) یہود نے جو لاف زنی کی تھی کہ ہم کو جہنم کی آگ صرف چند دنوں لگے گی اس آیت سے اللہ تعالیٰ نے اس کا رَد فرمایا ہے۔
مَنْ كَسَبَ سَيِّئَةً ( کہ جس نے برائی کی) کسب کے معنی لغت میں نفع حاصل کرنے کے ہیں اور سیءۃ ( گناہ) کے ساتھ اس کا تعلق بطور استہزاء کے ہے کیونکہ گناہ تو سراسر نقصان کی شے ہے نفع کی اس میں کونسی بات ہے (جیسے کہتے ہیں کہ میاں آگ کھا رہے ہو مطلب یہ ہوتا ہے کہ کیوں ایسے کام کرتے ہو جس سے آگ میں جاؤ) جیسے آیت : فَبَشِّرْھُمْ بِعَذَاب اَلَیْم ( پس خوشخبری دیجئے ان کو سخت عذاب کی) میں بشارت کا لفظ استہزاء کے طور پر ہے۔
وَّاَحَاطَتْ بِهٖ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ (اور گھیر…
Read the full tafseer →(81) ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا جو بھی اللہ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائے یا اس کے شرک نے اسے ہلاک کرڈالا ہو اور وہ اسی حالت پر مرا ہے تو ایسے لوگ جہنم میں ہمیشہ کے لئے رہیں گے وہاں ان کو موت بھی نہیں آئے گی اور نہ وہ اس سے کبھی باہر نکالے جائیں گے،
Read the full tafseer →سَيِّئَةً : تنوین تنکیر کے لیے نہیں، بلکہ تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی برائی“ کیا گیا ہے، مراد اس سے کفر و شرک ہے۔ اس سے ملتا جلتا وہ واقعہ ہے کہ جب یہ آیت اتری : (اَلَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَلَمْ يَلْبِسُوْٓا اِيْمَانَهُمْ بِظُلْمٍ) [ الأنعام : 82 ] تو صحابہ کرام ؓ نے : (بِظُلْمٍ) کی تنوین کو تنکیر کے لیے سمجھ کر کہا : ”ہم میں سے کون ہے جس نے اپنے ایمان میں کسی ظلم کی آمیزش نہیں کی ؟“ تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”آیت میں ظلم سے یہ مراد نہیں ہے، کیا تم نے لقمان کی وہ نصیحت نہیں سنی جو انھوں نے اپنے بیٹے کو کی تھی : (ڼ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ) [ لقمان : 13 ] ”بیشک شرک یقیناً بہت بڑا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
آیت نمبر 81 تا 82
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : بلیٰ یعنی معاملہ ایسا نہیں ہے جیسا تم نے ذکر کیا ہے۔
سیبویہ نے کہا بلیٰ اور نعم اسم نہیں ہیں۔ یہ بل وغیرہ کی طرح دونوں حرف ہیں۔ یہ ان کے قول لن تمسنا النار کا رد ہے۔ کو فیوں نے کہا : اس کی اصل بل ہے جس کا معنی پہلی کلام سے اضراب ہوتا ہے۔ اس پر یا کا اضافہ کیا گیا ہے تاکہ وقف عمدہ ہوجائے یا ایجاب اور انعام کا معنی اپنے ضمن میں لئے ہوئے ہے (1) ۔ پس بل انکار کے رد پر دلالت کرتا ہے اور یا ما بعد کے ایجاب پر دلالت کرتی ہے۔ وہ کہتے ہیں : اگر کوئی کہے : الم تاخذ دینار ًا ؟ (کیا تو نے دینار نہیں لیا ؟ ) تو کہے گا : نعم تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(1) حضرت ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسب “ سے مراد شرک ہے۔
(2) ابن ابی حاتم نے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واحاطت بہ خطیئتہ “ کا مطلب یہ ہے کہ شرک نے اس کو گھیر لیا۔
(3) ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” بلی من کسبت سیءۃ “ سے مراد ہے کہ جس شخص نے تمہارے برے اعمال کی طرف عمل کیا اور اس چیز کا انکار کیا جس کا تم نے انکار کیا یہاں تک کہ اس کے کفر نے اس کو گھیر لیا۔ (یعنی کفر کی وجہ سے اس کی کوئی نیکی باقی نہیں رہی) ۔ لفظ آیت ” والذین امنوا وعملوا الصلحت اولئک اصحب الجنۃ ھم فیہا خلدون “ یعنی وہ شخص جو اس چیز پر ایمان…
Read the full tafseer →[ بَلٰى: کیوں نہیں ] [ مَنْ كَسَبَ : جس نے کمائی ] [ سَيِّئَةً : کوئی برائی ] [ وَّاَحَاطَتْ : اور احاطہ کیا ] [ بِهٖ : اس کا ] [ خَطِيْۗــــَٔــتُهٗ : اس کی خطا نے ] [ فَاُولٰۗىِٕكَ : تو وہ لوگ ] [ اَصْحٰبُ النَّارِ ۚ : آگ والے ہیں ] [ ھُمْ : وہ لوگ ] [ فِيْهَا : اس میں ] [ خٰلِدُوْنَ : ہمیشہ رہنے والے ہیں ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
اصحاب الجنتہ کون ہیں اور اصحاب النار کون ہیں ؟
ان دو آیتوں میں جنتی اور دوزخی ہونے کا ضابطہ بتایا ہے اور ساتھ ہی ایک دوسرے طریقہ سے یہودیوں کے اس دعوے کی تردید بھی ہے جو اوپر کی آیت میں مذکور تھا۔ پہلی آیت میں یوں فرمایا کہ تمہارے پاس اپنے دعوے کی کوئی دلیل نہیں اور اللہ کی طرف سے تمہارے پاس کوئی سند نہیں ہے، اور ان دو آیتوں میں جو ضابطہ جنت اور دوزخ کے داخلے کا ذکر فرمایا ہے اس میں یہ بتادیا کہ تم لوگ ضابطہ کے مطابق ان لوگوں کے زمرہ میں آتے ہو جن کو ہمیشہ دائمی عذاب ہوگا۔
ارشاد فرمایا کہ تم یہ جو کہتے ہو کہ دوزخ میں ہمیشہ نہ رہیں گے صرف چند دن عذاب ہوگا تمہاری بات غلط ہے۔ تم ہمیشہ دوزخ میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
شناعت دہم
وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
اور یہود یہ بھی کہتے ہیں کہ دوزخ ہم کو ہرگز نہ لگے گی ، ، مگر چند روز گنے چنے۔ آپ کہدیجئے کہ کیا تم نے اللہ سے اس بارے میں کوئی عہد لیا ہے، کہ تم کو فقط اس قدرت مدت عذاب ہوگا۔ اس لیے کہ عذاب کی مدت دلیل عقلی سے معلوم نہیں ہوسکتی اس کے لیے دلیل سمعی چاہئے ایسا عقیدہ بغیر عہد خداوندی کے نہیں ہوسکتا تو بتلاؤ کہ کیا خدا نے تم سے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ اللہ اپنے اس عہد کے ہرگز خلاف نہ کریگا یا اللہ پر افتراء کرتے ہو، بےسند باتیں جن کی سند تم کو معلوم نہیں اور خود اپنی طرف سے ایسی من گھڑت باتیں کرتے ہو بتلاؤ کس کتاب میں اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
156 بلیٰ حرف استدراک ہے ماقبل کی نفی اور مابعد کا اثبات کرتا ہے۔ وبلی وبل حرفا استدراک ومعناہھی نفی الخبر الماضی و اثبات الخبر المستقبل (معالم ص 66 ج 1) یہ بھی یہودیوں کے غلط دعو وں اور ان کی جھوٹی آرزوؤں کی تردید ہے۔ یعنی جیسا تم نے سمجھ رکھا ہے اور دل میں کئی امیدیں اور آرزوئیں پال رکھی ہیں ایسا نہیں بلکہ ہر بد کردار کو خواہ وہ کوئی ہو اس کے بد اعمال کی ضرور سزا ملے گی۔ یقول اللہ تعالیٰ لیس الامر کما تمنیتم ولا کما تشتھون بل الامر من عمل سیئۃ واحاطت بہ خطیئتہ۔۔۔ فہذا من اھل النار (ابن کثیر ص 119 ج 1) اور سیئہ سے یہاں کفر وشرک مراد ہے۔ وذھب کثیر من السلف الی انھا ھھنا الکفر (روح ص 306 ج 1)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
یہود یوں کے باطل عقائد : اس رکوع میں اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں سے امید قطع کرنے کا حکم دیا۔ کہ یہ بڑے متعصب لوگ ہیں۔ آپ ان سے ایمان لانے کی امید نہ رکھیں۔ اس کے بعد ان کے دو طبقوں یعنی اہل علم اور ان پڑھ لوگوں کا ذکر ہوا۔ کہ ان جاہل لوگوں کے پا س دین نہیں۔ بلکہ چند جھوٹی آرزوئیں ہیں مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی ایک جھوٹی آرزو یہ ہے کہ “ وقالوا لن تمسنا النار ” وہ کہتے ہیں کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے “ الا ایمان معدودۃ ” مگر چند دن کے لیے جنت تو ہمارے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ دوسری جگہ ان کی بات کو یوں بیان فرمایا “ لن یدخل الجنۃ الا من…
Read the full tafseer →بَلٰى مَنْ كَسَبَ سَيِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِيْۗــــــــَٔــتُہٗ فَاُولٰۗىِٕكَ اَصْحٰبُ النَّارِۚ ھُمْ فِيْہَا خٰلِدُوْنَ 81
كسب ( عمل رزق)
الكَسْبُ : ما يتحرّاه الإنسان مما فيه اجتلاب نفع، و تحصیل حظّ ، كَكَسْبِ المال، وقد يستعمل فيما يظنّ الإنسان أنه يجلب منفعة، ثم استجلب به مضرّة . والکَسْبُ يقال فيما أخذه لنفسه ولغیره، ولهذا قد يتعدّى إلى مفعولین، فيقال : كَسَبْتُ فلانا کذا، والِاكْتِسَابُ لا يقال إلّا فيما استفدته لنفسک، فكلّ اكْتِسَابٍ کسب، ولیس کلّ كَسْبٍ اکتسابا، وذلک نحو : خبز واختبز، وشوی واشتوی، وطبخ واطّبخ، وقوله تعالی:
أَنْفِقُوا مِنْ طَيِّباتِ ما كَسَبْتُمْ [ البقرة/ 267]…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ترکیب : امیون مبتدا موصوف لایعلمون الکتاب صفت منہم خبر مقدم الا امانی استثنا منقطع ہے بمعنی لاکن امانی امنیہ کی جمع ہے جس کے معنی دلی منصوبہ ہیں اور اس لیے اس کا اطلاق جھوٹ اور آرزو اور جو پڑھنے میں آتا ہے اس پر ہوتا ہے۔ ان بمعنی مابقرینہ الاو التقدیر ان ھم الاقوم یظنون فویل 2 ؎ للذین یکتبون مبتداء و خبر ہیں۔ الکتاب مفعول بہ ہے بمعنی مکتوب اور جس نے مصدر سمجھا ضعیف کو اختیار کیا بایدیہم اید کی جمع ہے جس کی اصل میں یدی کفلس ہے اور جمع قلت ہے باوجودیکہ ہاتھوں سے لکھتے ہیں نہ پائوں سے پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لیے جیسا کہ بولتے ہیں اپنی آنکھ سے دیکھا لیشتروا میں لام یقولون کے متعلق ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
بَلٰی مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْٓئَتُہٗ فَاُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ النَّارِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ وَالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَعَمِلُوْاالصّٰلِحٰتِ اُوْلٰٓئِکَ اَصْحٰبُ الْجَنَّۃ ِج ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 81 تا 82)
(البتہ ! جس نے کمائی کوئی بدی اور اس کے گناہ نے اس کو اپنے گھیرے میں لے لیاتو وہی لوگ دوزخ والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور جو ایمان لائے اور جنھوں نے بھلے کام کیے، تو وہی لوگ جنت والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے)
نجات اور عدم نجات کا قانون
یہود نے نجات کے لیے جس طرح صرف نسبی انتساب کو کافی سمجھ لیا تھا اور باقی اہل مذاہب بھی اسی طرح کی متنوع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
فہم القرآن
ربط کلام : من گھڑت تصورات اور بد اعمالیاں آدمی کو جہنم میں لے جائیں گی جبکہ جنت کے وارث تو صاحب ایمان اور صالح اعمال کرنے والے لوگ ہی ہوں گے۔
اہل کتاب اور ہر فرد کو یہ باور کروایا جا رہا ہے کہ بلند بانگ دعوے، دل کش نعرے، حسب ونسب کے امتیازات اور بزرگوں کے ساتھ نسبت اس شخص کو کچھ فائدہ نہیں دے سکتے جو ایمان سے عاری اور تادم مرگ شرک و بدعت میں ملوث رہا ہو اسے ہر حال میں جہنم کے دہکتے ہوئے انگاروں میں جانا ہے اور ان میں ہمیشہ رہنا ہوگا۔ اس کے برعکس کوئی شخص اعلیٰ حسب و نسب اور بڑے بڑے امتیازات و القابات سے محروم ‘ مگر صاحب ایمان و کردار ہو۔ ایسے لوگ جہاں کہیں کے رہنے والے اور جو بھی…
Read the full tafseer →بَلٰی : (کیوں نہیں) نفی کے بعد اثبات کے لیے ہے وہ نفی یہ ہے لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ ۔ یعنی کیوں نہیں تمہیں آگ ہمیشہ کے لیے چھوئے گی۔ اس کی دلیل یہ ارشاد الٰہی ہے ھُمْ فِیْھَا خٰلِدُوْنَکہ وہ اس میں ہمیشہ رہیں گے۔
مَنْ کَسَبَ سَیِّئَۃً : (جس نے برائی کی) سیّئۃ سے مراد شرک ہے۔
تفسیر ابن عباس۔ :
حضرت ابن عباس ؓ اور مجاہد (رح) کی یہی تفسیر ہے۔
وَّاَحَاطَتْ بِہٖ خَطِیْئَتُہٗ : (اور گھیر لیا اس کو اس کے گناہوں نے) یعنی اس پر نجات کے راستے بند ہوگئے اس طرح کہ اس کی موت اس پر واقع ہوئی۔ پھر اگر ایمان کی حالت میں موت آئی تو سب سے بڑی طاعت یعنی ایمان اس کے پاس ہے اس لیے گناہ اس کا احاطہ کر ہی نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
81۔ ” بلی “ بلی اور بل دونوں استدراک کے حرف ہیں اور دونوں کا معنی ماضی سے متعلق خبر کی نفی کرنا اور مستقبل سے متعلق خبر کی اثبات کرنا ہے۔ (آیت)” من کسب سیئۃ “ شرک ”(آیت)” واحاطت بہ خطیئتہ “ اہل مدینہ نے ” خطیئاتہ “ جمع کے ساتھ پڑھا اور احاطہ کا معنی کسی شیء کا ہر جانب سے گھیراؤ کرنا ہے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ حضرت عطاء ؓ ضحاک ؓ ابو العالیہ ؓ ، اور ربیع ؓ اور ایک جماعت کا کہنا ہے کہ (آیت)” احاطت بہ خطیئتہ “ کا معنی وہ شرک جس پر موت واقع ہو اور کہا گیا ہے کہ ” خطیئۃ کا معنی بڑا گناہ اور احاطۃ بہ کا معنی اس (گناہ) پر اصرار کرنا کہ بغیر توبہ کے مرجائے یہ قول عکرمہ اور ربیع بن خثیم کا ہے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
(81 ۔ 82): حضرت عبد اللہ بن عباس نے ان آیتوں میں گناہ کے معنی شرک کے لئے ہیں 1۔ اور آیت کی یہ تفسیر کی ہے کہ جو شخص یہود کی طرح کے شرک اور کفر اور گناہوں میں ہمیشہ مبتلا رہ کر بغیر توبہ کے مرجائے گا۔ تو وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا۔ یہ تفسیر بہت سی صحیح حدیثوں کے موافق ہے جن کا مطلب یہ ہے کہ جو مومن گنہگار بغیر توبہ کے مرجائے گا وہ اخیر کو جنت میں جائے گا۔ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا 2۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت 80 تا 82
اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انہیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی، یعنی بہت ہی کم دنوں کے لئے جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل) یعنی اے رسول ان سے کہہ دو ! (آیت) اَتَّخَذْتُمْ…
Read the full tafseer →قول باری ہے : بلی من کسب سیئۃ و احاطت بہ خطیئتہ فاولئک اصحب النار، ھم فیھا خلدون (جو بھی باری کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑا رہے گا وہ دوزخی ہے اور وہ دوزخ ہی میں ہمیشہ رہے گا) اس آیت سے یہ بات سمجھ میں آ جاتی ہے کہ دوزخ کا استحقاق دو شرطوں کی بنا پر ہوتا ہے۔ اول یہ کہ اس بدی کی بنا پر جو وہ کمات ا ہے اور دوم یہ کہ اپنی خطا کاری کے چکر میں پڑے رہنے کی بنا پر۔ اگر ان میں سے کسی ایک شرط کا وجود ہو تو وہ دوزخ کا مستحق نہیں ہوگا۔ یہ بات اس امر پر دلالت کرتی ہے کہ جو شخص طلاق یا عتاق یا کسی اور سلسلے میں دو شرطوں پر عقدیمین کرے تو ان میں سے کسی ایک شرط کے وجود کی صورت میں وہ حانث قرار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
231 خطا کاریوں کا احاطہ اور اس کا نتیجہ : سو بنی اسرائیل کے مذکورہ زعم فاسد کی تردید کے لیے ارشاد فرمایا گیا کہ تم لوگوں کو دوزخ کی آگ چھوئے گی کیوں نہیں جبکہ قانون عام یہ ہے کہ جس نے برائیوں کی کمائی کی اور یہاں تک کہ گھیر لیا اس کو اس کی خطاکاریوں نے تو ایسے لوگ یقینا دوزخی ہیں جہاں ان کو ہمیشہ رہنا ہوگا۔ سو جس کی خطا کاریوں نے اس کو گھیر لیا اور اس کی خطاکاریوں کی ظلمت اس کے قلب و باطن پر چھاگئی ہو، اور اس طرح کہ اس میں ایمان و یقین اور خوف و خشیت خداوندی کی کوئی گنجائش ہی باقی نہ رہ گئی ہو ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اور ظاہر ہے کہ یہ کیفیت اور یہ انجام کفر و شرک ہی کا ہوسکتا ہے ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
جنت اور دوزخ
تشریح : ان آیات میں اللہ تعالیٰ جنت اور دوزخ کا ذکر فرماتا ہے اور یہود کی غلط فہمی دور کرتے ہوئے برملا اعلان کرتا ہے کہ یہاں بنی اسرائیل کی کوئی خاصیت نہیں، بلکہ ہر وہ شخص جو گناہ کرتا ہے۔ بنی پر ایمان نہیں لاتا اعمال بد میں گھر چکا ہے۔ اس کو جہنم میں ضرور ڈالا جائے گا اور وہ اس میں ہمیشہ ہمیشہ رہے گا اور نجات صرف ان لوگوں کی ہوگی جو اللہ پر ایمان لائیں گے، صدق دل سے اس کے احکام کو مانیں گے اس کے بتائے ہوئے راستوں پر چلیں گے نیک عمل کریں گے اور شیطان کی راہوں پر نہ چلیں گے تو ایسے نیک اور صالح لوگوں کے لئے جنت کا داخلہ یقینی ہوگا۔ وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے جنت میں رہیں گے نہ کہ صرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →ف 5 اس آیت میں سیئہ اور خطیعتہ سے مراد بعض مفسرین نے شرک، بعض نے گناہ کبیرہ اور بعض نے ایسے صغائر مراد لیے ہیں جو کبا ئر کا موجب بن سکتے ہیں ابن کثیر فرماتے ہیں کہ تمام اقوال تقریبا ہم معنی ہیں اور حدیث میں ہے : کہ چھوٹے چھوٹے گناہوں سے بچتے رہوں اس لیے کہ یہ جمع ہو کر انسان کو ہلاک کر ڈالتے ہیں ان آیات میں یہود کے نظریہ کی تردید کی ہے کہ آخرت میں فلاح ونجات اور عذاب تمہاری خواہش کے مطابق نہیں ہوگا بلکہ اعمال سیئہ اور حسنہ کے مطابق فیصلہ ہوگا واحاطت بہ خطیئتہ کے معنی یہ ہیں کہ جس کے پاس قیامت کے دن کوئی نیکی بھی نہ ہوگی لہذا اس سے مراد کافر یا مشرک ہیں ورنہ گنہگار مومن جنہوں نے شرک نہ کیا…
Read the full tafseer →(2:81) بلی۔ ہاں حرف ایجاب ہے اور کلام مخاطف کی نفی اور اس کے ابطال کے واسطے استعمال ہوتا ہے (تفصیل کیلئے ملاحظہ ہو 3:76)
من کسب سیئۃ ۔۔ خلدون۔
من موصولہ ہے۔ کسب سیئۃ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف علیہ واحاطت بہ خطیئتہ جملہ فعلیہ ہوکر معطوف اور معطوف علیہ ومعطوف مل کر صلہ (من موصولہ کا) صلہ اور موصول مل کر مبتدا ۔ متضمن بمعنی شرط۔ فؔ جزائیہ۔ اولئک ، مبتداء اصحب النار مضاف مضاف الیہ مل کر خبر اول۔
ھم فیہا خالدون۔ ہم مبتدا فیہا متعلق خالدون۔ جو خبر ہے مبتداء کی ۔ جملہ اسمیہ خبر یہ ہو کر خبر ثانی ہے مبتداء اولئک کی۔ یہ مبتداء اپنی دونوں خبروں کے ساتھ مل کر جملہ اسمیہ ہوکر خبر ہے مبتداء متذکرہ بالا کی۔ اب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 82
لن تمسنا (ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی) ۔ ایام معدودۃ (چند دن (یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ گنے چند دن جہنم میں رہیں گے) ۔ اتخذتم (تم نے بنا لیا ہے ) ۔ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا) ۔ ام تقولون (یا تم کہتے ہو ؟ ) ۔ بلیٰ (کیوں نہیں، جی ہاں) ۔ سیئۃ (گناہ، برائی) ۔ احاطت (اس نے گھیر لیا) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ خلدون (ہمیشہ رہنے والے) ۔ اصحب الجنۃ (جنت والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 80 تا 82
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے ۔ ہر ہزار سال کے بدلے ہم لوگ ایک دون دوزخ میں رہیں گے اور سات دن سے زیادہ ہمیں عذاب نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
حضرت عبد اللہ بن عباس ؓ نے فرمایا : ان آیتوں میں گناہ کے معنی :” شرک “ کے لئے ہیں ۔ جو شخص یہود کی طرح شرک وگناہوں میں رہ کر بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ ہمیشہ دوزخ میں رہے گا اور جو مومن گناہ گار بغیر توبہ کے مر جاوے گا وہ آخیر کو جنت میں جاوے گا ۔ ہمیشہ دوزخ میں نہیں رہے گا ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
[57] یعنی ہماری امت اللہ کے نزدیک نجات یافتہ امت ہے اگر ہم آگ میں ڈالے بھی جائیں گے تو اس لئے نہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے بلکہ صرف چند دنوں کے لئے تاکہ گناہ کے میل کچیل سے پاک ہو کر جنت میں داخل ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(ف 1) خدا کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک اور سب اقرباء ومستحقین کے ساتھ مشفقانہ تعلقات کو اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ مذہب کی تکمیل بلا اس طرز کے ناممکن ہے ، وہ انسان جو خدا پرست ہے ، لازمی ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نہایت گہرا اور محبانہ تعلق ہو ۔ بالخصوص والدین اور عزیز جو قریبی رشتہ ، الفت و شفقت رکھتے ہیں ضرور ہماری توجہ کے مستحق ہیں ، اور یاد رکھو جو اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے حق میں بھی اچھا انسان نہیں وہ خدا کے حق میں بھی نیک انسان نہیں ہوسکتا ، گویا قرآن تقوی وصلاح کا معیار ظاہری رسوم دین نہیں قرار دیتا ، بلکہ اس کے نزدیک فلاح ونجات موقوف ہے حسن معاملت اور حقوق شناسی پر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
ف 3 اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو گنتی کے چند ایام کے سوا دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا یا ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے یوں نہیں بلکہ تم ہمیشہ آگ میں رہو گے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جس نے قصداً گناہ کا ارتکاب کیا اور گناہ کرتا رہا اور اس کے گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم اور دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ف 2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →برائی کا نتیجہ کبھی اچھا نہیں ہوتا :
158: اس آیت نے واضح کردیا کہ انسان جب ہمہ تن ہی بدی کے پیچھے لگ جاتا ہے تو چاروں طرف سے بدیاں اس کو گھیر لیتی ہیں پھر اس کے لئے نکلنے کا راستہ نہیں رہتا۔ اس طرح ہدایت و رشد کے تمام راستے اس پر بند ہوجاتے ہیں پھر یہ شخص بد اخلاقی کی آگ سے کبھی بھی محفوظ نہیں رہ سکتا اور بڑی سے بڑی طاقت بھی اس کی نجات کا ذمہ نہیں لے سکتی اس سے یہ بات واضح ہوگئی کہ جو شخص بدی کے مقابلہ میں کوشش کرتا ہے وہ بدیوں میں یوں گھرتا نہیں بلکہ انجام کار ایک روز بدی پر غالب آجاتا ہے۔ بدی کی کشش اگرچہ بہت سخت معلوم ہوتی ہے مگر دراصل وہ ایک کمزور چیز ہے اور اس کے مقابلہ میں نیکی کی قوت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–82
Having refuted the claim of the Jews as baseless, the Holy Qur'an lays down the divine law in this regard. Those who commit evil deeds knowingly and deliberately so that evil takes hold of them completely, leaving no trace of goodness - such men shall go to the Hell, and live there forever, without any intermission or release. But those who believe in Allah and the Holy Prophet ﷺ - whose Shari` ah has now abrogated all the earlier Shari'ahs and who do good deeds in conformity with the Islamic Shari'ah, - it is these men who shall go to Paradise, and will live there forever.
Let us explain…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
91. This is a misconception entertained by all Jews, laymen as well as rabbis. They felt sure that no matter what they did, they would remain immune from hell-fire just by virtue of being Jews! The worst they could conceive of was the possibility of a transient punishment before they were transported to heaven.
Read the full tafseer →