چالیس دن کا جہنم
حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہودی لوگ کہا کرتے تھے کہ دنیا کل مدت سات ہزار سال ہے۔ ہر سال کے بدلے ایک دن ہمیں عذاب ہوگا تو صرف سات دن ہمیں جہنم میں رہنا پڑے گا اس قول کی تردید میں یہ آیتیں نازل ہوئیں، بعض کہتے ہیں یہ لوگ چالیس دن تک آگ میں رہنا مانتے تھے کیونکہ ان کے بڑوں نے چالیس دن تک بچھڑے کی پوجا کی تھی بعض کا قول ہے کہ یہ دھوکہ انہیں اس سے لگا تھا کہ وہ کہتے تھے کہ توراۃ میں ہے کہ جہنم کے دونوں طرف زقوم کے درخت تک چالیس سال کا راستہ ہے تو وہ کہتے تھے کہ اس مدت کے بعد عذاب اٹھ جائیں گے ایک روایت میں ہے کہ انہوں نے حضور ﷺ کے سامنے آ کر کہا کہ چالیس دن تک تو ہم جہنم میں رہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
سورة الْبَقَرَة 91
یہ یہودیوں کی عام غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے۔ وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ کریں، بہرحال چونکہ ہم یہودی ہیں، لہٰذا جہنّم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی، تو بس چند روز کے لیے وہاں بھیجے جائیں گے اور پھر سیدھے جنّت کی طرف پلٹا دیے جائیں گے۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور یہودیوں نے (یہ بھی) کہا کہ ہرگز ہم کو آتش (دوزخ) چھوئے گی (بھی تو) نہیں (ہاں) مگر (بہت) تھوڑے روز جو (انگلیوں پر) شمار کرلئے جاسکیں (اے محمد ﷺ آپ ان سے یوں فرما دیجئے کیا تم لوگوں نے حق تعالیٰ سے (اس کے متعلق) کوئی معاہدہ لے لیا ہے جس میں اللہ تعالیٰ اپنے معاہدہ کے خلاف نہ کریں گے یا (معاہدہ نہیں لیا) بلکہ ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگا رہے ہو جس کی کوئی علمی سند اپنے پاس نہیں رکھتے،
فائدہیہود کے اس قول کی مفسرین نے مختلف تقریریں کی ہیں منجملہ اس کے یہ کہ یہ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گو بقدر گناہ دوزخ کے عذاب میں داخل ہو لیکن ایمان کی وجہ سے دائمی عذاب جہنم…
Read the full tafseer →“اور وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں چند دنوں سے زیادہ نہیں چھوئے گی”۔ یہ ان جھوٹی آرزوؤں کی ایک مثال بیان ہوئی ہے جن کا حوالہ اوپر دیا گیا ہے۔ یہود اپنے لئے کسی صورت میں ابدی عذاب دوزخ کے قائل نہ تھے۔ انہوں نے جنت و دوزخ کو اعمال کا نتیجہ اور اعمال پر مبنی سمجھنے کے بجائے یہ سمجھ لیا کہ وہ خدا کی برگزیدہ امت ہیں اس وجہ سے خواہ ان کے اعمال کچھ بھی ہوں اول تو وہ دوزخ میں بھیجے ہی نہیں جائیں گے اور اگر بھیجے بھی گئے تو معمولی طور پر کچھ سزا بھگت کر جنت کو واپس کر دیے جائیں گے۔ ان کے اس واہمہ نے ان کے عوام اور خواص سب کو شریعت کی ذمہ داریوں سے بالکل بے پروا کر دیا۔ نجات کے معاملہ میں ان کا سارا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
80۔ 1 یہود کہتے تھے کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے اور ہزار سال کے بدلے ایک دن جہنم میں رہیں گے اس حساب سے صرف سات دن جہنم میں رہیں گے۔ کچھ کہتے تھے کہ ہم نے چالیس دن بچھڑے کی عبادت کی تھی، چالیس دن جہنم میں رہیں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ تم نے اللہ سے عہد لیا ہے۔ اللہ تعالیٰ کے ساتھ اس طرح کا کوئی عہد نہیں ہے۔
80۔ 2 یعنی تمہارا یہ دعویٰ ہے ہم اگر جہنم گئے بھی تو صرف چند دن ہی کے لئے جائیں گے، تمہاری اپنی طرف سے ہے اور اس طرح تم اللہ کے ذمے ایسی باتیں لگاتے ہو، جن کا تمہیں خود بھی علم نہیں ہے۔ آگے اللہ تعالیٰ اپنا وہ اصول بیان فرما رہا ہے۔ جس کی رو سے قیامت والے دن اللہ تعالیٰ نیک و بد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
56: یہاں قرآن کریم نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلے ان یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے جو تورات میں جان بوجھ کر رد وبدل کرتے تھے پھر ان ان پڑھ یہودیوں کا جنہیں تورات کا علم تو تھا نہیں مگر انہیں مذکورہ بالا علماء نے ان جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر رکھا تھا کہ سارے یہودی اللہ کے لاڈلے ہیں اور وہ بہر صورت جنت میں جائیں گے، ان کا ساراعلم اسی قسم کے گمانوں پر مشتمل تھا ؛ چونکہ ان کے اس گمان کی بنیادی وجہ علماء کی تحریفات تھیں اس لئے آٰت نمبر 96 میں ان کی تباہی کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →یہاں اللہ تعالیٰ مسلمانوں کو ایک ایسی دلیل اور حجت کی تلقین کرتے ہیں جو باطل کا سر کچل دیتی ہیں۔” کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ “ اگر کوئی ایسا عہد تم نے لے رکھا ہے تو بتاؤ وہ کہاں ہے ؟” یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہوتا۔ “ یہ سوالیہ انداز بات کو اور مضبوط بنانے کے لئے اختیار کیا گیا ہے ۔ کیونکہ یہ ایک حقیقت ہے کہ ان کے پاس اللہ کا کوئی عہد نہیں ہے ۔ سوالیہ انداز میں ناپسندیدگی اور زجر وتوبیخ کے معانی بھی مضمر ہوتے ہیں ۔
یہاں اب اس سلسلے میں ، انہیں ایک فیصلہ کن بات بتادی جاتی ہے کہ ان کے اس…
Read the full tafseer →6 بعض نے کہا سات دن اور بعض نے چالیس دن (جتنے روز بچھڑے کی پوجا کی تھی) اور بعض نے چالیس سال (جتنی مدت تیہ میں سرگرداں رہے تھے) اور بعض نے کہا ہر ایک جتنی مدت دنیا میں زندہ رہا۔
Read the full tafseer →آیت 80 وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّار الاَّ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃ ً ط ”۔“
گویاصرف دوسروں کی آنکھوں میں دھول جھونکنے کے لیے ہمیں چند دن کی سزا دے دی جائے گی کہ کوئی اعتراض نہ کردے کہ ”اے اللہ ! ہمیں آگ میں پھینکا جا رہا ہے اور انہیں نہیں پھینکا جا رہا ‘ جبکہ یہ کردار میں ہم سے بھی بدتر تھے“۔ چناچہ ان کا منہ بند کرنے کے لیے شاید ہمیں چند دن کے لیے آگ میں ڈال دیا جائے ‘ پھر فوراً نکال لیا جائے گا۔
قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَہْدًا ‘ کیا تمہارا اللہ سے کوئی قول وقرار ہوگیا ہے ؟
فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَہْدَہٗ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لاَ تَعْلَمُوْنَ “
حقیقت یہی ہے کہ تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–81
94 یہود کی عذاب اخروی کے متعلق غلط فہمی اور اس کا جواب :۔ یہودیوں کا عقیدہ یہ تھا کہ ہم چونکہ انبیاء کی اولاد اور اللہ کے محبوب ہیں لہذا ماسوائے چند دن کے انہیں دوزخ کی آگ نہیں چھوئے گی۔ ان کے اس باطل عقیدہ کا جواب اللہ تعالیٰ نے کئی طرح سے دیا ہے جن میں سے ایک یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ سے فرمایا کہ ان سے پوچھو کہ اس عقیدہ کی اصل کیا ہے ؟ کیا اللہ نے تم سے کوئی ایسا وعدہ لے رکھا ہے۔ اگر ایسی بات ہے تو دکھاؤ تو سہی۔ یا بس تم اللہ پر ایسی ہی جھوٹی باتیں جڑ دیتے ہو ؟ اور دوسرا جواب یہ ہے کہ اے یہود ! اگر تم فی الواقع اس دعوے میں سچے ہو کہ تم اللہ کے چہیتے ہو اور ماسوائے چند دن کے تمہیں…
Read the full tafseer →274 ۔ اور یہ چند دن وہی ہیں، جیسا کہ پادری راڈول نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے حاشیہ میں اکابر یہود کے حوالہ سے لکھا ہے، جن میں قوم اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا رہی تھی، یعنی کوئی 40 دن۔ اور یہی بات ہمارے بعض ائمہ تفسیر نے بھی نقل کی ہے :۔ قد راربعین یوما التی عبد فیھا اباؤنا العجل (ابن عباس ؓ اور ایک دوسرے مسیحی مترجم قرآن، سیل ‘ یہ مدت گیارہ مہینہ یا ایک سال نقل کی ہے۔ اسی طرح ایک میعاد سات دن کی بھی نقل ہوئی ہے۔ بہرحال وہ تھی کوئی محدود و متعین مختصر ہی سی مدت۔ بلکہ بعض یہودی ماخذوں سے تو ایسا معلوم ہوتا ہے کہ گویا اسرائیل اپنے کو آتش دوزخ کی زد سے بالکل ہی باہر اور محفوظ سمجھ رہے تھے،…
Read the full tafseer →یہود کی غلط فہمی : وَقَاکُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَنَّمَّا مَّعْدُوْدَۃً ، یہ یہود کی غلط فہمی کا بیان ہے، جس میں ان کے عامی اور عالم سب مبتلا تھے، وہ سمجھتے تھے کہ ہم خواہ کچھ بھی کریں بہرحال چونکہ ہم یہود ہیں لہٰذا جہنم کی آگ ہم پر حرام ہے اور بالفرض اگر ہم کو سزا دی بھی گئی تو بس چند روز جہنم میں بھیجے جائیں گے اور بعد ازاں سیدھے جنت میں بھیج دیئے جائیں گے، جیسا کہ پادری راڈول نے اپنے انگریزی ترجمہ قرآن کے حاشیے میں اکابر یہود کے حوالہ سے لکھا ہے، کہ جہنم میں داخلے کی مدت چالیس روز ہوگی جن میں بنی اسرائیل گوسالہ پرستی میں مبتلا رہے تھے اور بعض دیگر مفسرین یہود نے یہ مدت گیارہ…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً ( اور کہتے ہیں ہم کو آگ چھوئے گی بھی نہیں مگر گنتی کے چند روز) جلد کو کوئی شے ایسی طرح پر لگے جو محسوس ہو اسے مس کہتے ہیں ابن عباس فرماتے ہیں کہ یہود یہ کہا کرتے تھے کہ دنیا کی ساری عمر ساتھ ہزار برس کی ہے ہر ہزار برس کے عوض ایک دن ہم کو عذاب ہوگا اور قتادہ و عطا فرماتے ہیں کہ یہود کی مراد وہ چالیس دن ہیں جن میں ان کے آباو اجداد نے گو سالہ کی عبادت کی تھی۔ حسن اور ابو العالیہ نے فرمایا کہ یہود کہتے تھے کہ اللہ تعالیٰ نے ہم پر ایک امر کے بارے میں عتاب فرمایا تھا اور یہ قسم کھائی تھی کہ چالیس دن ان کو عذاب کروں گا۔ اس لیے ہم کو…
Read the full tafseer →(80) یہودی یہ بھی کہتے تھے کہ چالیس دن کے برابر ہمیں جہنم کی آگ چھوئے گی جن چالیس دنوں میں اے ہمارے آباؤ اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی ہے، محمد ﷺ آپ ﷺ فرما دیجیے کہ کیا تم نے اپنے دعوے پر اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے اگر اللہ تعالیٰ سے وعدہ لے لیا ہے تو اللہ تعالیٰ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرے گا یا اپنی کتاب میں سے خود ویسے ہی بیان کرتے ہو۔
شان نزول : (آیت) ”لن تمسسنا النار“۔ (الخ)
اس آیت کے بارے میں طبرانی ؒ نے کبیر میں اور ابن جریر ؒ اور ابن اور ابن ابی حاتم ؒ نے ابن اسحاق ؒ ، محمد بن ابی بکر ؒ عکرمہ، سعید بن جبیر ؓ کے حوالے سے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ…
Read the full tafseer →اس آیت میں یہود کی ہمہ گیر گمراہی کا بیان ہے، جس میں عوام اور علماء سبھی مبتلا تھے، یعنی ہم اللہ کے محبوب اور پیارے ہیں، ہم چاہے کتنے بھی گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے اور اگر ڈالے بھی گئے تو چند دن وہاں رکھ کر نکال لیے جائیں گے۔ ابوہریرہ ؓ بیان کرتے ہیں کہ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ نے خیبر کے یہودیوں سے کئی سوال کیے، ان میں سے ایک یہ تھا : (مَنْ أَہْلُ النَّارِ ؟) ”آگ میں جانے والے کون لوگ ہیں ؟“ انھوں نے کہا : ”ہم اس میں تھوڑی دیر رہیں گے، پھر اس میں تم ہماری جگہ لے لو گے۔“ تو آپ ﷺ نے فرمایا : (إِخْسَءُوْا فِیْہَا، لاَ نَخْلُفُکُمْ فِیْہَا أَبَدًا)”تمھی اس میں دفع دوررہو ہم اس میں کبھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 80
اس میں تین مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وقالوا یعنی یہود نے کہا : لن تمسنا النار الا ایاماً معدودۃً اس کے نزول کے سبب میں اختلاف ہے۔ بعض علماء نے کہا : نبی کریم ﷺ نے یہود سے پوچھا : دوزخی کون ہیں ؟ انہوں نے کہا : ہم۔ پھر تم ہمارے پیچھے آؤ گے۔ نبی کریم ﷺ نے فرمایا : تو نے جھوٹ بولا تم جانتے ہو کہ ہم تمہارے پیچھے نہیں آئیں گے۔ پس اس موقع پر یہ آیت نازل ہوئی (1) ۔ یہ ابن زید کا قول ہے۔ عکرمہ نے حضرت ابن عباس سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ طیبہ آئے تو یہود کہتے تھے : یہ دنیا سات ہزار (سال) ہے۔ لوگوں کو دنیا کے ہر ہزار سال کے لئے آخرت کے دنوں میں سے ایک دن…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم، طبرانی اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہود کہا کرتے تھے کہ اس دنیا کی مدت سات ہزار سال ہے۔ اور ہم ہر ہزار سال بدلہ میں ایک دن آگ میں عذاب دئیے جائیں گے اس طرح یہ سات دن بنتے ہیں۔ پھر عذاب ختم ہوجائے گا تو اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی لفظ آیت ” وقالوا لن تمسنا النار “ سے لے کر ” ہم فیہا خلدون “ تک۔
جہنم کا عذاب دائمی ہے
(2) امام ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے اور الواحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ اہل کتاب نے اپنی کتابوں میں جہنم کے دونوں کناروں کے درمیان چالیس کا فاصلہ پایا تو…
Read the full tafseer →[ وَقَالُوْا : اور ان لوگوں نے کہا ] [ لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ : ہرگز نہیں چھوئے گی ہم کو آگ ] [ اِلَّآ : مگر ] [ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَةً : گنے ہوئے چند دن ] [ ۭ قُلْ : آپ کہیے ] [ اَتَّخَذْتُمْ : کیا تم لوگوں نے لیا ] [ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا : اللہ کے پاس کوئی وعدہ ] [ فَلَنْ يُّخْلِفَ اللّٰهُ : تو اللہ خلاف نہیں کرے گا ] [ عَهْدَهٗٓ: اپنے وعدہ کے ] [ اَمْ تَقُوْلُوْنَ : یا تم لوگ کہتے ہو ] [ عَلَي اللّٰهِ مَا : اللہ پر وہ جو ] [ لَا تَعْلَمُوْنَ : تم لوگ نہیں جانتے ]
Read the full tafseer →یہود کی جھوٹی خوش گمانی کہ دوزخ میں صرف چند دن کے لیے جائیں گے
اس آیت شریفہ میں یہودیوں کا ایک اور دعوی اور اس کی تردید مذکور ہے۔ یہودیوں کا یہ جھوٹا دعوی تھا کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی شریعت منسوخ نہیں ہوگی اور اپنے بارے میں سمجھتے تھے کہ ہم اسی شریعت پر قائم رہیں گے لہٰذا ہمیں عذاب کیوں ہونے لگا۔ اور عذاب ہوگا تو صرف چالیس دن عذاب ہوگا یعنی جتنے دن ہمارے آبا و اجداد نے بچھڑے کی عبادت کی ہے اتنے ہی دن عذاب میں گرفتار ہوں گے اس کے بعد دوزخ سے نکل جائیں گے۔ اور حضرت ابن عباس سے یوں منقول ہے کہ یہودیوں نے کہا کہ دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اور ہر ہزار سال کے بدلہ ہم کو ایک دن دوزخ میں عذاب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
شناعت دہم
وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ۔۔۔ الی۔۔۔ ھم فیھا خلدون
اور یہود یہ بھی کہتے ہیں کہ دوزخ ہم کو ہرگز نہ لگے گی ، ، مگر چند روز گنے چنے۔ آپ کہدیجئے کہ کیا تم نے اللہ سے اس بارے میں کوئی عہد لیا ہے، کہ تم کو فقط اس قدرت مدت عذاب ہوگا۔ اس لیے کہ عذاب کی مدت دلیل عقلی سے معلوم نہیں ہوسکتی اس کے لیے دلیل سمعی چاہئے ایسا عقیدہ بغیر عہد خداوندی کے نہیں ہوسکتا تو بتلاؤ کہ کیا خدا نے تم سے کوئی ایسا عہد کیا ہے کہ اللہ اپنے اس عہد کے ہرگز خلاف نہ کریگا یا اللہ پر افتراء کرتے ہو، بےسند باتیں جن کی سند تم کو معلوم نہیں اور خود اپنی طرف سے ایسی من گھڑت باتیں کرتے ہو بتلاؤ کس کتاب میں اللہ…
Read the full tafseer →ف 155 یہ پانچواں گروہ صاحب زادگان کا ہے۔ جنہوں نے مکروفریب سے عوام کو یقین دلا رکھا تھا کہ وہ چونکہ اللہ کے پیغمبروں کی اولاد ہیں اور ان کی نسل پاک پشتوں سے نکلی ہوئی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ ان پر کوئی مواخذہ نہیں کرے گا اور بڑے بڑوں کی طفیل انہیں معاف کردے گا۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان کا یہ دعوی نقل فرمایا ہے۔ نَحْنُ اَبْنَائُ اللہِ وَاَحِبَّائُہ (مائدہ ع 3) اور اگر ہمیں سزا دی بھی گئی تو وہ محض معمولی سی اور چند دنوں کیلئے ہوگی۔ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللّٰهِ عَهْدًا۔ یہ یہودیوں کے مذکورہ دعویٰ کی تردید ہے۔ یعنی جہنم سے محفوظ رہنے کیلئے تم نے اللہ سے کوئی عہد لیا ہوا ہے جس کی بنا پر وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
یہود یوں کے باطل عقائد : اس رکوع میں اہل کتاب کی خرابیوں کا ذکر ہو رہا ہے۔ اس سے پہلے اللہ تعالیٰ نے کافروں سے امید قطع کرنے کا حکم دیا۔ کہ یہ بڑے متعصب لوگ ہیں۔ آپ ان سے ایمان لانے کی امید نہ رکھیں۔ اس کے بعد ان کے دو طبقوں یعنی اہل علم اور ان پڑھ لوگوں کا ذکر ہوا۔ کہ ان جاہل لوگوں کے پا س دین نہیں۔ بلکہ چند جھوٹی آرزوئیں ہیں مثال کے طور پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ ان کی ایک جھوٹی آرزو یہ ہے کہ “ وقالوا لن تمسنا النار ” وہ کہتے ہیں کہ ہم دوزخ میں نہیں جائیں گے “ الا ایمان معدودۃ ” مگر چند دن کے لیے جنت تو ہمارے لیے مقدر ہوچکی ہے۔ دوسری جگہ ان کی بات کو یوں بیان فرمایا “ لن یدخل الجنۃ الا من…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّـنَا النَّارُ اِلَّآ اَيَّامًا مَّعْدُوْدَۃً 0 ۭ قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللہِ عَہْدًا فَلَنْ يُّخْلِفَ اللہُ عَہْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَي اللہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ 80
مسس
المسّ کاللّمس لکن اللّمس قد يقال لطلب الشیء وإن لم يوجد
والمسّ يقال في كلّ ما ينال الإنسان من أذى. نحو قوله : وَقالُوا لَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ إِلَّا أَيَّاماً مَعْدُودَةً [ البقرة/ 80] ،
( م س س ) المس کے
معنی چھونا کے ہیں اور لمس کے ہم معنی ہیں لیکن گاہے لمس کیس چیز کی تلاش
کرنے کو بھی کہتے ہیں اور اس میں یہ ضروری نہیں کہ وہ چیز مل جل بھی جائے ۔
اور مس کا لفظ ہر اس تکلیف کے لئے بول دیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ترکیب : امیون مبتدا موصوف لایعلمون الکتاب صفت منہم خبر مقدم الا امانی استثنا منقطع ہے بمعنی لاکن امانی امنیہ کی جمع ہے جس کے معنی دلی منصوبہ ہیں اور اس لیے اس کا اطلاق جھوٹ اور آرزو اور جو پڑھنے میں آتا ہے اس پر ہوتا ہے۔ ان بمعنی مابقرینہ الاو التقدیر ان ھم الاقوم یظنون فویل 2 ؎ للذین یکتبون مبتداء و خبر ہیں۔ الکتاب مفعول بہ ہے بمعنی مکتوب اور جس نے مصدر سمجھا ضعیف کو اختیار کیا بایدیہم اید کی جمع ہے جس کی اصل میں یدی کفلس ہے اور جمع قلت ہے باوجودیکہ ہاتھوں سے لکھتے ہیں نہ پائوں سے پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لیے جیسا کہ بولتے ہیں اپنی آنکھ سے دیکھا لیشتروا میں لام یقولون کے متعلق ہے…
Read the full tafseer →وَقَالُوْا لَنْ تَمَسَّنَاالنَّارُ اِلَّآ اَیَّاماً مَّعْدُوْدَۃً ط قُلْ اَتَّخَذْتُمْ عِنْدَاللّٰہِ عَھْدًا فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَھْدَہٗٓ اَمْ تَقُوْلُوْنَ عَلَی اللّٰہِ مَا لَا تَعْلَمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 80)
(اور وہ کہتے ہیں کہ ہم کو تو دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں، بجز چند گنے چنے دنوں کے۔ آپ کہیئے ! کیا تم اللہ کے ہاں سے کوئی وعدہ لے چکے ہو ؟ تو اللہ ہرگز اپنے وعدہ کے خلاف نہیں کرے گایا تم اللہ پر ایک ایسی تہمت باندھ رہے ہو جس کے بارے میں تمہیں کچھ علم نہیں)
جھوٹی آرزئوں کی ایک مثال
اس آیت کریمہ میں ان کی جھوٹی آرزوئوں کی ایک اور مثال بیان ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بتایا گیا ہے کہ ان کے عوام…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : نبی اکرم ﷺ کے زمانے میں اہل کتاب خود ساختہ عقائد کی بنیاد پر یہ دعویٰ کرتے تھے اور آج ان کا دعوٰی ہے کہ ہم گنتی کے چند دن جہنم میں ڈالے جائیں گے۔ اس کے بعد جنت ہماری اور ہم جنت کے وارث ہیں۔
اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرک ‘ نبی آخر الزماں ﷺ کی نبوت کا انکار اور بھاری جرائم میں ملوث ہونے کے باوجود یہودیوں کی خوش فہمیوں کی انتہا یہ تھی اور ہے کہ وہ بڑی بےباکی کے ساتھ تورات کے حوالے سے دعویٰ کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی اولاد ہونے کے ناطے سے ہم جہنم میں نہیں جاسکتے۔ سوائے ان چند دنوں کے جن دنوں میں ہمارے بزرگوں نے بچھڑا پوجنے کی غلطی کی تھی۔ اس دعویٰ کی قلعی کھولنے کے لیے ان سے سوال…
Read the full tafseer →وَقَالُوْالَنْ تَمَسَّنَا النَّارُ اِلَّآ اَیَّامًا مَّعْدُوْدَۃً : (وہ کہتے ہیں کہ ہم کو نہیں چھوئے گی آگ مگر گنتی کے دن) چالیس دن جتنے دنوں بچھڑے کی عبادت کی تھی۔
حضرت مجاہد (رح) کہتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ دنیا کی عمر کل چھ ہزار سال ہے اور ہمیں ایک ہزار سال کے بدلے ایک دن عذاب دیا جائے گا۔ (اس طرح گویا چھ دن عذاب ہو کر ساتویں دن چھٹی)
قُلْ اَتَّخَذْ تُمْ عِنْدَ اللّٰہِ عَھْدًا : (کہہ دیں کیا لے لیا تم نے کوئی وعدہ) یعنی اس نے تم سے عہد کیا کہ وہ تمہیں اتنی ہی مقدار میں عذاب دے گا۔
فَلَنْ یُّخْلِفَ اللّٰہُ عَھْدَہٗ : (کہ ہرگز اللہ تعالیٰ خلاف نہ کرے گا اپنے عہد کے) یہ محذوف سے تعلق رکھتا…
Read the full tafseer →(تفسیر) 80۔:
(آیت)” وقالوا : یعنی یہود (نے کہا) (آیت)” لن تمسنا النار “ ہمیں آگ نہیں پہنچے گی ۔ ” الا ایاما معدودۃ “ ایک مقرر انداز پھر ہم سے عذاب زائل ہوجائے گا ۔
انہوں نے ان دنوں کے بارے میں اختلاف کیا ، حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ یہود کہتے تھے کہ دنیا کی مدت سات ہزار سال ہے اور ہمیں صرف ایک ہزار کے بدلے ایک دن عذاب ہوگا ، پھر سات دنوں کے بعد عذاب ختم ہوجائے گا ، حضرت قتادہ (رح) اور حضرت عطا (رح) فرماتے ہیں کہ یہود ” ایاما معدودہ “ سے چالیس دن مراد لیتے تھے ، جن میں ان کے آباء و اجداد نے بچھڑے کی پوجا کی تھی ، حضرت حسن (رح) اور ابو عالیہ (رح) فرماتے ہیں کہ…
Read the full tafseer →علماء یہود میں دو باتیں زیادہ مشہور تھیں ایک تو یہ کہ دنیا کی عمر سات ہزار برس کی ہے۔ اگر ہم کو عذاب ہوا بھی تو ہزار ایک دن کا ہوگا۔ اور آٹھویں دن ہم سب جنت میں چلے جائیں گے۔ دوسری بات یہ ہے کہ اگر سات دن سے بڑھ کر ہم کو عذاب ہوا تو چالیس دن سے بڑھ کر کسی طرح نہ ہوگا۔ کیوں کہ یہ وہ مدت ہے جس میں ہماری بڑوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی۔ کم شہرت کی تیسری یہ بات بھی یہود کی زبان پر تھی کہ دوزخ کے منہ کی چوڑائی چالیس برس کے راستہ کی ہے۔ زیادہ عذاب ہم کو ہوا تو اسی مدت تک ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا کہ تم ان یہود کے جھوٹے علماء سے دریافت کرو کہ ان کے پاس ان جھوٹی باتوں کی کیا سند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
آیت 80 تا 82
اللہ تعالیٰ نے ان کے افعال بد کا ذکر کیا پھر اس کے ساتھ یہ بھی فرمایا کہ اس کے باوجود وہ اپنے آپ کو پاک (یعنی تزکیہ شدہ) قرار دیتے ہیں اور دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے نجات یافتہ اور اس کے ثواب کے مستحق ہوں گے اور یہ کہ وہ جہنم میں اگر گئے بھی تو جہنم کی آگ انہیں چند دن کے سوا ہرگز نہیں چھوئے گی، یعنی بہت ہی کم دنوں کے لئے جن کو انگلیوں پر گنا جاسکتا ہے۔ پس وہ بدی کا ارتکاب بھی کرتے ہیں اور اپنے آپ کو عذاب سے محفوظ بھی سمجھتے ہیں۔ چونکہ یہ ان کا محض دعویٰ ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے ان کی تردید کرتے ہوئے فرمایا : (قل) یعنی اے رسول ان سے کہہ دو ! (آیت) اَتَّخَذْتُمْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا)
(قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان…
Read the full tafseer →229 بنی اسرائیل کی خودساختہ آرزوؤں کا ذکر وبیان : سو اس سے بنی اسرائیل کی خود ساختہ آرزوؤں کا ذکر فرمایا گیا ہے۔ مثلا یہ کہ ہمیں دوزخ کی آگ چھوئے بھی نہیں مگر گنتی کے کچھ دن یعنی صرف چالیس دن کہ اتنے ہی دن ہم نے گو سالہ پرستی کے جرم کا ارتکاب کیا تھا۔ یا صرف سات دن۔ کیونکہ یہود بےبہبود کے نزدیک دنیا کی کل عمر صرف سات ہزار برس ہے، اور ان کا کہنا یہ ہے کہ ہمیں ہر ہزار برس کے جرائم کے عوض صرف ایک دن کی سزا ملے گی، اس طرح کل سات دن تک عذاب ہوگا اور بس۔ (جامع البیان، صفوۃ البیان، المراغی، الروح وغیرہ) ۔ سو یہ ان لوگوں کی اپنی خود ساختہ امیدوں اور من گھڑت آرزوؤں کا ایک نمونہ ہے۔ سو ایسے ہی محرومی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
جھوٹی آرزوئیں
تشریح : پچھلی آیات میں یہود کی منافقت کا ذکر ہوچکا ہے اور ان آیات میں یہودیوں کی جھوٹی آرزوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان پڑھ ہیں، انہوں نے کتاب نہیں پڑھی بلکہ اپنے بزرگوں سے سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے یہ آرزؤ کئے بیٹھے ہیں کہ ہم کو تو ہمارے بزرگ ضرور بخشوا لیں گے، نہ تو وہ کتاب کے قوانین سے واقف تھے اور نہ ہی فلاح و خسران کے بارے میں کوئی علم رکھتے تھے۔ بس اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم تو بس بخشے بخشائے ہیں اگلی آیت میں یہودی علماء کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →ف 3 اس آیت میں یہود کی قوم گیر گمراہی کا بیان ہے جس میں عوام اور علماے بھی مبتلا تھے یعنی ہم اللہ کے محبوب اور بیارے ہیں ہم چاہے کتنے گناہ کریں جہنم میں نہیں ڈالے جائیں گے حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت ہے کہ یہود خیبر نے آنحضرت ﷺ سے کہا ہم تھوڑے دن جہنم میں رہیں گے اور پھر ہماری جگہ تم لے لوگے اس پر آنحضرت ﷺ نے فرمایا اخساو لا نخللفکم فیھا ابدا۔ (نسائی) یعنی تم جھوٹے ہو ہم تمہاری جگہ کبھی نہیں لے گے حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کے یہودی کہا کرتے دنیا کی عمر سات ہزار سال ہے اس لیے ہم ہر ہزار سال کے بدلے صرف ایک دن جہنم میں رہیں گے کبھی کہتے کہ ہم نے صرف جالیس سن بچھڑے کی پوجا کی ہے اس لیے چالیس روز…
Read the full tafseer →لن تمسنا النار۔ لن تمس۔ فعل مضارع نفی تاکید بلن واحد مؤنث غائب کا صیغہ۔ مس (باب نصر ضرب) سے ۔ نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ وہ ہم کو ہرگز نہ چھوئے گی۔
ایاما معدودۃ۔ موصوف وصفت ایام ۔ یوم کی جمع ہے۔ اصل میں ایوام تھا۔ واؤ کو یا بنایا اور یا کو یاء میں مدغم کیا۔ ایام ہوگیا۔ ایاما بوجہ ظرف منصوب ہے اور معدودۃ اپنے موصوف کی نسبت سے منصوب ہے۔ معدودۃ۔ اسم مفعول واحد مؤنث ہے۔ اور اس کی جمع معدودات ہے۔ ایاما معدودۃ گنتی کے چند دن۔ عد (باب نصر) مصدر بمعنی شمار کرنا ۔ عدد۔ گنتی ۔ شمار۔
اتخذتم۔ اصل میں اَ اِتخذتم تھا۔ ہمزہ استفہام کے لئے ہے اور ہمزہ وصل محذوف ہے۔ اتخذتم ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
لغات القرآن : آیت نمبر 80 تا 82
لن تمسنا (ہمیں ہرگز نہ چھوئے گی) ۔ ایام معدودۃ (چند دن (یہودیوں کا خیال تھا کہ وہ گنے چند دن جہنم میں رہیں گے) ۔ اتخذتم (تم نے بنا لیا ہے ) ۔ لن یخلف (وہ ہرگز خلاف نہ کرے گا) ۔ ام تقولون (یا تم کہتے ہو ؟ ) ۔ بلیٰ (کیوں نہیں، جی ہاں) ۔ سیئۃ (گناہ، برائی) ۔ احاطت (اس نے گھیر لیا) ۔ اصحب النار (جہنم والے) ۔ خلدون (ہمیشہ رہنے والے) ۔ اصحب الجنۃ (جنت والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 80 تا 82
حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہود کا یہ خیال تھا کہ دنیا کی کل عمر سات ہزار سال ہے ۔ ہر ہزار سال کے بدلے ہم لوگ ایک دون دوزخ میں رہیں گے اور سات دن سے زیادہ ہمیں عذاب نہ ہوگا۔ یہ بھی کہا…
Read the full tafseer →شان نزول : علماء یہود میں دو باتیں زیادہ مشہور تھیں 1۔ ایک تو یہ کہ دنیا کی عمر سات ہزاربرس کی ہے اگر ہم کو عذاب ہوا تو فی ہزار ایک دن کا عذاب ہوگا 2۔ دوسری بات یہ کہ اگر سات دن سے زیادہ ہوا تو چالیس دن سے زیادہ کسی طرح نہ ہوگا ۔ کیونکہ ہمارے بڑوں نے اسی مدت میں بچھڑے کی بوجا کی تھی ۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں آنحضرت ﷺ سے فرمایا :” تم ان یہود کے جھوٹے علماء سے دریافت کرو ، ان کے پاس ان جھوٹی باتوں کی کیا سند ہے ۔ اللہ کے دین میں ایسی جھوٹی باتیں بنانے کا وبال ایک دن ان پر آنے والا ہے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
[57] یعنی ہماری امت اللہ کے نزدیک نجات یافتہ امت ہے اگر ہم آگ میں ڈالے بھی جائیں گے تو اس لئے نہیں کہ ہمیشہ آگ میں رہیں گے بلکہ صرف چند دنوں کے لئے تاکہ گناہ کے میل کچیل سے پاک ہو کر جنت میں داخل ہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
فریب خیال :
(ف 1) یہودی اس فریب خیال میں مبتلا تھے کہ چونکہ ہم انبیاء کی اولاد سے ہیں ، اس لئے اللہ کے زیادہ سے زیادہ مقرب ہیں ، (آیت) ” نحن ابناء اللہ واحباء ہ “۔ اور اس لئے ضروری ہے کہ ہماری نجات ہو ۔ اور ہم جو چند دن جہنم میں رہیں گے بھی تو وہ محض تزکیہ اور گناہوں کے کفارہ کے لئے ورنہ درحقیقت کوئی یہودی جہنم کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ، گویا وہ مذہب کی حقیقت صرف اس قدر سمجھتے تھے کہ یہ ایک قسم کا انتساب تھا اور بس ، عیسائی بھی اس نوع کے غرور نفس میں یہودیوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ، انجیل میں لکھا ہے کہ ” تو خداوند خدا پر ایمان لا تاکہ تو اور تیرا گھرانا نجات پائے “۔ گویا صرف مسیح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–82
ف 3 اور یہودیوں نے یہ بھی کہا کہ ہم کو گنتی کے چند ایام کے سوا دوزخ کی آگ چھوئیگی بھی نہیں آپ ان سے فرمائیے کیا تم نے اس بارے میں اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ لے لیا ہے کہ وہ اپنے وعدے کے خلاف نہیں کرے گا یا ویسے ہی اللہ تعالیٰ کے ذمہ ایسی بات لگاتے ہو جس کا تم علم نہیں رکھتے یوں نہیں بلکہ تم ہمیشہ آگ میں رہو گے کیونکہ ہمارا ضابطہ یہ ہے کہ جس نے قصداً گناہ کا ارتکاب کیا اور گناہ کرتا رہا اور اس کے گناہوں نے اس کو سب طرف سے گھیر لیا تو ایسے ہی لوگ اہل جہنم اور دوزخی ہیں اور وہ اس دوزخ میں ہمیشہ رہیں گے اور جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال کرتے رہے تو یہ لوگ اہل جنت ہیں وہ اس جنت میں ہمیشہ رہیں گے ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ف 2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →یہود کے خوش کن عقائد میں ایک عقیدہ نجات :
157: یہود کے خود تراشیدہ عقائد میں سے ایک عقیدہ یہ بھی تھا کہ یہودی کہلانے والا خواہ کتنا ہی گنہگار کیوں نہ ہو وہ کبھی جہنم میں داخل نہیں ہوگا۔ ہاں مجرموں کے لئے جو عذاب ہے وہ بھی چند روز کا عذاب ہے پھر چند روز کے متعلق بھی ان کے مختلف اقوال ملتے ہیں۔ بعض سات روز کہتے ہیں اور بعض کا عقیدہ چالیس روز کا ہے اور گیارہ ماہ یا ایک سال سے زیادہ تو کسی کے عقیدہ میں بھی نہیں ہے۔ یہود سے پوچھا جا رہا ہے کہ یہ عقیدہ جو تم نے بنا رکھا ہے کہ ” ہم کو دوزخ کا عذاب نہیں چھوئے گا “ اس کی کوئی دلیل بھی آپ کے پاس ہے یا خالی عقیدہ کے نام سے ایسے ہی تم نے مشہور کر رکھا…
Read the full tafseer →The claim of the Jews that they would not be sent to Hell for their sins, or, if at all, only for a few days, has been interpreted by the Commentators in different ways. One of them is as follows:-
The principle is common to all the Shari'ahs that if a believer commits sins, he will receive a punishment in Hell for some time and in accordance with the degree and nature of his sins, but as he possesses 'Iman ایمان (faith), he will not be assigned to Hell for ever, and will be released after having served his term. Now, the argument on which the assertion of the Jews was based was that since…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
91. This is a misconception entertained by all Jews, laymen as well as rabbis. They felt sure that no matter what they did, they would remain immune from hell-fire just by virtue of being Jews! The worst they could conceive of was the possibility of a transient punishment before they were transported to heaven.
Read the full tafseer →