Explained with ayahs 78–79
امی کا مفہوم اور ویل کے معنی
امی کے معنی وہ شخص جو اچھی طرح لکھنا نہ جانتا ہو امیون اس کی جمع ہے آنحضرت ﷺ کی صفتوں میں ایک صفت " امی " بھی آئی ہے اس لئے کہ آپ بھی لکھنا نہیں جانتے تھے۔ قرآن کہتا ہے آیت (وَمَا كُنْتَ تَتْلُوْا مِنْ قَبْلِهٖ مِنْ كِتٰبٍ وَّلَا تَخُــطُّهٗ بِيَمِيْنِكَ اِذًا لَّارْتَابَ الْمُبْطِلُوْنَ) 29۔ العنکبوت :48) یعنی تو اے نبی اس سے پہلے نہ تو پڑھ سکتا نہ لکھ سکتا تھا اگر ایسا ہوتا تو شاید ان باطل پرستوں کے شبہ کی گنجائش ہوجاتی۔ آنحضرت ﷺ فرماتے ہیں ہم امی اور ان پڑھ لوگ ہیں نہ لکھنا جانیں نہ حساب، مہینہ کبھی اتنا ہوتا ہے اور کبھی اتنا پہلی بار تو آپ نے دونوں ہاتھوں کی…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 90
یہ ان کے علما کے متعلق ارشاد ہو رہا ہے۔ ان لوگوں نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ کلام الہٰی کے معانی کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلا ہو، بلکہ یہ بھی کیا کہ بائیبل میں اپنی تفسیروں کو، اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو، اپنے خیالی فلسفوں کو، اور اپنے اجتہاد سے وضع کیے ہوئے فقہی قوانین کو کلام الہٰی کے ساتھ خلط ملط کردیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب اللہ ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہیں۔ ہر تاریخی افسانہ، ہر مُفَسِّر کی تاویل، ہر مُتَکلِّم کا الہٰیاتی عقیدہ، اور ہر فقیہ کا قانونی اجتہاد، جس نے مجمُوعہٴ کتب مقدّسہ (بائیبل) میں جگہ پالی، اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
خلاصہ تفسیر
کیا ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کو سب خبر ہے ان چیزوں کی بھی جن کو وہ مخفی رکھتے ہیں اور ان کی بھی جن کا وہ اظہار کرتے ہیں (تو اگر منافقین نے مؤمنین سے اپنا کفر چھپایا تو کیا اور ان ملامت گروں نے حضور ﷺ کی بشارت وغیرہ کے مضامین چھپائے تو کیا، اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مضامین سے مسلمانوں کو جابجا مطلع فرما دیا ہے)
اس آیت میں تو یہودیوں کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا آگے ان کے ناخواندہ لوگوں کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ،
اور ان (یہودیوں) میں بہت سے ناخواندہ (بھی) ہیں جو کتابی علم نہیں رکھتے لیکن (بلاسند) دل خوش کن باتیں (بہت یاد ہیں) اور وہ لوگ کچھ…
Read the full tafseer →اس سورہ کے شروع میں لفظ کتاب کی تشریح کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں کہ یہ لفظ قرآن میں دوسرے معانی کے ساتھ شریعت کے احکام و قوانین کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔ یہاں اس سے مراد وہ فتوے اور احکام ہیں جو علمائے یہود بغیر کسی شرعی سند کے محض اپنے دنیوی اغراض اور عوام کو خوش رکھنے کے لئے جاری کرتے تھے اور دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہی اللہ اور اس کے رسول کا حکم ہے۔
“اپنے ہاتھوں لکھنے”کا مطلب یہ ہے کہ ان فتووں کے لئے کتاب الٰہی کے اندر کوئی بنیاد اور سند نہیں ہوتی تھی محض ان کے طبع آزاد اور من گھڑت فتوے ہوتے تھے لیکن وہ ان کو منسوب خدا اور اس کی شریعت کی طرف کرتے تھے۔ اسی طرح کے فتوے تھے جن سے ان کے عوام…
Read the full tafseer →79۔ 2 یہ یہود کے علماء کی جسارت اور خوف الہی سے بےنیازی کی وضاحت ہے کہ اپنے ہاتھوں سے مسئلے گھڑتے ہیں اور بہ بانگ دہل یہ باور کراتے ہیں کہ یہ اللہ کی کی طرف سے ہیں۔ حدیث کی رو سے ویل جہنم کی ایک وادی بھی ہے جس کی گہرائی اتنی ہے کہ ایک کافر کو اس کی تہ تک گرنے میں چالیس سال لگیں گے۔ (احمد، ترمذی، ابن حبان والحاکم بحوالہ فتح القدیر) بعض علماء نے اس آیت سے قرآن مجید کی فروخت کو ناجائز قرار دیا ہے لیکن یہ استدلال صحیح نہیں۔ آیت کا مصداق صرف وہی لوگ ہیں جو دنیا کمانے کے لئے کلام الٰہی میں تحریف کرتے اور لوگوں کو مذہب کے نام پر دھوکہ دیتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
56: یہاں قرآن کریم نے ترتیب یہ رکھی ہے کہ پہلے ان یہودی علماء کا ذکر فرمایا ہے جو تورات میں جان بوجھ کر رد وبدل کرتے تھے پھر ان ان پڑھ یہودیوں کا جنہیں تورات کا علم تو تھا نہیں مگر انہیں مذکورہ بالا علماء نے ان جھوٹی آرزوؤں میں مبتلا کر رکھا تھا کہ سارے یہودی اللہ کے لاڈلے ہیں اور وہ بہر صورت جنت میں جائیں گے، ان کا ساراعلم اسی قسم کے گمانوں پر مشتمل تھا ؛ چونکہ ان کے اس گمان کی بنیادی وجہ علماء کی تحریفات تھیں اس لئے آٰت نمبر 96 میں ان کی تباہی کا خاص طور پر ذکر فرمایا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
اب ان دونوں گروہوں میں سے ہم کس سے توقع رکھ سکتے ہیں کہ وہ مشرف بایمان ہوگا۔ حق کی آواز پر لبیک کہے گا اور ہدایت پر قائم ہوجائے گا ۔ اور اپنے آپ کو نازل شدہ کتاب کی ان نصوص کی تحریف سے بچالے گا جو ان کی راہ میں رکاوٹ بنی ہوئی تھیں ۔ غرض ایسے لوگوں سے کوئی امید نہیں ہے کہ وہ ایمان لے آئیں گے ۔ مسلمانوں کی بات مان کردیں گے ۔ ان کی قسمت میں تو تباہی اور بربادی لکھی ہوئی ہے اور یہ تباہی اور بربادی جو ان کی نوشتہ تقدیر ہے اس لئے ان کے لئے مقرر کی ہوئی ہے کہ انہوں نے اپنے ہاتھ سے آیات لکھیں اور پھر انہیں اللہ کی طرف منسوب کرڈالا ۔ یہ تباہی اور بربادی خود ان کے ہاتھ کی کمائی ہے ۔ کیونکہ انہی ہاتھوں…
Read the full tafseer →5 یہ وہ لوگ ہیں جو ان عوام جاہلوں کے موافق باتیں اپنی طرف سے بنا کر لکھ دیتے تھے اور خدا کی طرف ان باتوں کو منسوب کرتے۔ مثلاً تورات میں لکھا تھا کہ پیغمبر آخرالزمان خوبصورت پیچواں بال ' سیاہ آنکھیں ' میانہ قد ' گندم رنگ پیدا ہوں گے ' انہوں نے پھیر کر یوں لکھا " لمبا قد ' نیلی آنکھیں ' سیدھے بال " تاکہ عوام آپ کی تصدیق نہ کرلیں اور ہمارے منافع دنیاوی میں خلل نہ آجائے۔
Read the full tafseer →آیت 79 فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْہِمْ ق۔“
”وَیْل“ کے بارے میں بعض روایات میں آتا ہے کہ یہ جہنم کا وہ طبقہ ہے جس سے خود جہنم پناہ مانگتی ‘ ہے۔
ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ہٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَناً قَلِیلاً ط
یعنی لوگ علماء یہود سے شرعی مسائل دریافت کرتے تو وہ اپنے پاس سے مسئلے گھڑ کر فتویٰ لکھ دیتے اور لوگوں کو باور کراتے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے ‘ یہی دین کا تقاضا ہے۔ اب اس فتویٰ نویسی میں کتنی کچھ واقعتا انہوں نے صحیح بات کہی ‘ کتنی ہٹ دھرمی سے کام لیا اور کس قدر کسی رشوت پر مبنی کوئی رائے دی ‘ اللہ ‘ کے حضور سب دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی الگ…
Read the full tafseer →93 غلط فتو وں کی کمائی :۔ علماء یہود کا یہ حال تھا کہ انہوں نے تورات کی شروح اور علماء کے فتاویٰ کو بھی تورات میں ہی خلط ملط کر ڈالا تھا۔ پھر عام لوگوں سے اسے یوں بیان کرتے تھے گویا یہ سب کچھ ہی منزل من اللہ ہے۔ اور اس سے غرض محض دنیوی مال و دولت کا حصول ہوتا تھا اور ان کے مفسروں کی تاویلات، مفکروں کے فلسفیانہ خیالات اور فقہاء کے قانونی اجتہادات اور اپنے قومی تاریخی واقعات، یہ سب چیزیں بائیبل میں شامل کردی تھیں اور اس سب کچھ پر ایمان لانا فرض قرار دیا گیا تھا۔ ایسے مجموعہ میں سے انہیں کسی بھی قسم کا فتویٰ دینے یا لکھنے میں کوئی دشواری پیش نہیں آتی تھی اور جرائم کی نوعیت کے لحاظ سے اپنے فتو وں…
Read the full tafseer →270 ۔ پچھلی آیت میں ذکر عوام یہود کا تھا، اب ذکر خواص اکابر یہود کا ہے، توریت کی تحریف اب کوئی اختلافی یا نزاعی مسئلہ نہیں، دوست دشمن سب ہی کو اب تسلیم ہوچکا ہے کہ یہ کلام الہی نہیں اور اس کے دوست زیادہ سے زیادہ یہ کہتے ہیں کہ یہ خدا رسیدہ انسانوں کی تصنیف ہے۔ کسی جامد یہودی میں بھی اب یہ ہمت باقی نہیں کہ توریت کو قرآن مجید کی تنزیل لفظی قرار دے۔ اب زیادہ سے زیادہ جو کہا جاتا ہے وہ یہ کہ خاصان خدا نے الہام خداوندی سے مشرف ہو کر اسے اپنے طور پر اور اپنی عبارت میں ترتیب و تالیف دیا۔ اور خدائے تعالیٰ کی جانب اس کا انتساب صرف مجازا یا بالواسطہ ہے، حقیقی اور براہ راست کے مفہوم میں نہیں۔ پھر وقتا…
Read the full tafseer →فَوَیْلٌ لِلَّذِیْنَ یَکْتُبَوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ، (الآیۃ) اس آیت میں یہود کے علماء اور احبار اور اکابر کا ذکر ذکر ہے یہود کے علماء اور احبار نے صرف اتنا ہی نہیں کیا کہ کلام الہٰی کے معانی کو اپنی خواہشات کے مطابق بدلا ہو، بلکہ یہ بھی کیا کہ بائبل میں اپنی تفسیروں کو اپنی قومی تاریخ کو، اپنے اوہام اور قیاسات کو اور اپنے خیالی فلسفوں کو کلام الہٰی کے ساتھ خلط ملط کردیا اور یہ ساری چیزیں لوگوں کے سامنے اس حیثیت سے پیش کیں کہ گویا یہ سب چیزیں اللہ ہی کی طرف سے آئی ہوئی ہیں۔
توریت کی تحریف اب کوئی اختلافی یا نزاعی مسئلہ نہیں ہے دوست و دشمن سب کو ہی تسلیم ہے کہ موجود توریت کلام الہٰی…
Read the full tafseer →فَوَيْلٌ ( پس وائے ہے) لفظ ویل کے معنی حسرت اور ہلاکت کے ہیں۔
زجاج نے کہا ہے کہ ویل ایک کلمہ ہے جو ہلاکت میں پڑنے والا کہا کرتا ہے اور ابن عباس ؓ نے فرمایا ہے کہ ویل کے معنی شدت عذاب کے ہیں اور سعید بن المسیب (رح) فرماتے ہیں کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے اگر اس میں جہنم کے پہاڑ بھی جلائے جائیں تو وہ بھی ریت ہوجائیں اور یا شدت حرارت سے بالکل پگھل کر پانی کی طرح بہ جائیں۔ علامہ بغوی (رح) نے ابو سعید خدری ؓ سے روایت کی ہے کہ نبی ﷺ نے فرمایا ہے کہ ویل جہنم میں ایک وادی ہے کہ کافر اس میں چالیس برس تک اترتا چلا جائے گا تب بھی اسکی تہہ تک نہ پہنچے گا اور صعود جہنم کی آگ کا پہاڑ ہے کہ اس پر کافر ستر…
Read the full tafseer →(79) لہٰذا ان کے لیے سخت قسم کا عذاب ہے جو رسول اللہ ﷺ کے اوصاف اور آپ کی صفات کو اپنی کتاب میں بدل دیتے ہیں اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ”ویل“ دوزخ کے ایک خاص مقام کا نام ہے پھر اس تبدیلی اور تحریف کے بعدکہتے ہیں کہ یہ کتاب اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے تاکہ اس تحریف کے بدلے کھانے پینے کی حقیر سی چیز حاصل کریں اور ان لوگوں کے لیے بہت عذاب ہے جو اپنے ہاتھوں سے اللہ تعالیٰ کی کتاب میں تبدیلی کرتے ہیں اور ان لوگوں کے لیے بھی سخت عذاب ہے جو اسکے ذریعہ حرام اور رشوت کا مال کماتے ہیں۔
شان نزول : (آیت) ”فویل للذین“۔ (الخ)
اس آیت کے متعلق نسائی ؒ نے حضرت عبداللہ بن عباس ؓ سے روایت کیا ہے کہ یہ آیت شریفہ…
Read the full tafseer →یہ تعلیم یافتہ طبقے کی حالت ہے کہ وہ خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے غلط فتوے دیتے رہتے ہیں۔ وہ محض دنیا کمانے کے لیے عوام کو ان کی خواہشات کے مطابق باتیں جوڑ کر لکھ دیتے ہیں اور انھیں بڑی جرأت اور ڈھٹائی سے اللہ اور رسول کی طرف منسوب کردیتے ہیں، ان سے کوئی مسئلہ پوچھا جائے تو وہ اللہ اور اس کے رسول کا فرمان بتانے کے بجائے اپنا یا اپنے کسی بزرگ کا قول پیش کر کے باور یہ کرواتے ہیں کہ یہ عین شریعت ہے۔ افسوس اکثر مسلمانوں کا بھی یہی حال ہوگیا ہے کہ انھوں نے امیتوں کے اقوال کو شریعت قرار دے دیا اور قرآن و حدیث پر چلنے والوں کو لا مذہب قرار دے دیا۔
(وَيْلٌ) کا معنی ہلاکت اور تباہی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 79
اس میں پانچ مسائل ہیں :
مسئلہ نمبر 1: فویلٌ، ویل کے بارے میں اختلاف ہے کہ یہ کیا ہے۔ حضرت عثمان بن عفان نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے کہ یہ آگ کا پہاڑ ہے (1) ۔ حضرت ابو سعید خدری نے روایت کیا ہے کہ ویل دو پہاڑوں کے درمیان جہنم میں ایک وادی ہے جس میں گرنے والا چالیس سال گرتا جائے گا۔ (1)
سفیان اور عطا بن یسار سے مروی ہے کہ اس آیت میں ویل سے مراد ایک وادی ہے جو جہنم کے فنا میں ہے اس میں دوزخیوں کی پیپ چلتی ہے (2) ۔ بعض نے فرمایا : جہنم میں ایک حوض ہے۔ الزہراوی نے دوسروں سے حکایت کیا ہے کہ یہ جہنم کے دروازوں میں سے ایک دروازہ ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے (3) ، الویل، عذاب کی تکلیف…
Read the full tafseer →(1) وکیع، ابن المنذر اور نسائی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم “ اہل کتاب کے بارے میں نازل ہوئی۔
(2) احمد، ہناد اور ابن سیرین نے الزہد میں عبد بن حمید ترمذی ابن ابی الدنیا فی صفۃ النار ابو یعلی، ابن جریر، ابن ابی حاتم طبرانی، ابن حبان حاکم، ابن مردویہ بیہقی نے البحث میں حضرت ابو سعید خدری ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا ” ویل “ جہنم میں ایک وادی ہے جس میں کافر چالیس سال تک اس کی تہہ تک پہنچنے سے پہلے گرتا رہے گا۔
(3) ابن جریر نے حضرت عثمان بن عفان ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا لفظ آیت ” فویل لہم مما کتبت ایدیہم “…
Read the full tafseer →[ فَوَيْلٌ: پس بربادی ہے ] [ لِّلَّذِيْنَ : ان لوگوں کے لیے جو ] [ يَكْتُبُوْنَ : لکھتے ہیں ] [ الْكِتٰبَ : کتاب کو ] [ بِاَيْدِيْهِمْ : اپنے ہاتھوں سے ] [ ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ : پھر وہ کہتے ہیں ] [ ھٰذَا : یہ ] [ مِنْ عِنْدِ اللّٰهِ : اللہ کے پاس سے ہے ] [ لِيَشْتَرُوْا : تاکہ وہ حاصل کریں ] [ بِهٖ : اس کے عوض ] [ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ۭ: کچھ تھوری سی قیمت ] [ فَوَيْلٌ: تو تباہی ہے ] [ لَّھُمْ مِّمَّا : ان کے لیے اس سے جو ] [ كَتَبَتْ : لکھا ] [ اَيْدِيْهِمْ : ان کے ہاتھوں نے ] [ وَوَيْلٌ: اور تباہی ہے ] [ لَّھُمْ : ان کے لیے ] [ مِّمَّا : اس سے جو ] [ يَكْسِبُوْنَ : وہ کمائی کرتے ہیں ]
[…
Read the full tafseer →علمائے یہود کا غلط مسائل بتانا اور رشوت لینا
اس آیت شریفہ میں یہودی علماء کی بد عملی اور دھاندلی اور حب دنیا کی وجہ سے ان کی بربادی کا تذکرہ فرمایا ہے عوام جب علماء کے پاس جاتے تھے اور ان سے مسائل معلوم کرتے تھے اور ساتھ ہی رشوت بھی دیتے تھے تو وہ لوگ سائل کی رضا جوئی کے لیے اس کی مرضی کے مطابق مسئلہ بتادیتے تھے، خود اپنے ہاتھ سے مسئلہ لکھ دیتے تھے اور عوام کو باور کراتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے اور توریت شریف میں یوں ہی نازل ہوا ہے جو شخص رشوت نہ لاتا اس کے لیے مسئلہ میں ادل بدل نہیں کرتے تھے۔ ان کے علماء تحریف کتاب اللہ کے مجرم بھی تھے اور رشوت خوری کے گناہ میں بھی مبتلا تھے۔ اللہ…
Read the full tafseer →شناعت نہم
قال تعالیٰ فویل للذین یکتبون الکتب بایدیھم۔۔۔ الی۔۔۔ وویل لھم مما یکسبون
اور بعض ان میں سے ناخواندہ اور ان پڑھ ہیں۔ جیسے ماں کے پیٹ سے پیدا ہوئے ویسے ہی ہیں۔ اسی وجہ سے ان پڑھ کو امی کہتے ہیں کہ اس کو صرف ام یعنی ماں سے نسبت ہے۔ باپ سے لکھنا اور پڑھنا کچھ نہیں سیکھا۔ کتاب کو جانتے ہی نہیں نہ الفاظ سے واقف نہ معنے سے آگاہ سوائے آرزؤں کے کچھ معلوم نہیں کہ جو تحریف کرنے والوں نے ان کی خواہش کے مطابق ان کے دلوں میں بٹھلا دی ہے مثلاً ۔ لن یدخل الجنۃ الا من کان ھودا او نصاریٰ کہ جنت میں سوائے یہود یا نصاری کے اور کوئی نہ جائیگا۔
اور اگر بالفرض جہنم میں گئے بھی تو لن تمسنا النار الا ایاما…
Read the full tafseer →ف 153 یہ چوتھا گروہ ہے اور یہ بھی ان کے خواص اور علمائ ہی کی ایک جماعت ہے۔ انہوں نے یہ کیا کہ اپنی طرف سے تورات کے چند نسخے تیار کیے اور تورات میں جہاں کہیں توحید کا بیان تھا یاحضور ﷺ کا ذکر اور آپ کی نعت تھی اسے اس طرح بدل ڈالا کہ اصل سے اسے کوئی نسبت ہی نہ رہی۔ پھر اصل تورات کے نسخے چھپا ڈالے اور اپنے ہاتھوں سے تیار کیے ہوئے محرف نسخے اپنے عوام اور مشرکین عرب میں تقسیم کردئیے اور کہتے یہ تھے کہ دیکھو یہ اللہ کی کتاب ہے اس میں تو اس نبی کا کہیں ذکر نہیں اور نہ ہی اس توحید کا بیان ہے جو وہ پیش کرتا ہے (روح ص 302 ج 1) اس جرم کی سنگینی اور ان بدکردار علمائ کی تحقیر وتذلیل کے پیش نظر ان کا ذکر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا تذکرہ ہوچکا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ فرمایا بعض پتھر بھی مفید ہوتے ہیں۔ مگر یہ قوم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ان کے سب کام اس کے علم میں ہیں۔ آیات زیر درس میں بھی یہودیوں کی بعض دوسری خرابیوں کا ذکر ہے۔ مگر یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔
یہود کی طرف سے نا امیدی : ارشاد ہوتا ہے “ افتطمعون ان یؤمنوا لکم ” یعنی اے اہل ایمان ! کیا تم توقع کرتے ہو کہ…
Read the full tafseer →فَوَيْلٌ لِّلَّذِيْنَ يَكْتُبُوْنَ الْكِتٰبَ بِاَيْدِيْہِمْ 0 ۤ ثُمَّ يَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللہِ لِــيَشْتَرُوْا بِہٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا 0 ۭ فَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا كَتَبَتْ اَيْدِيْہِمْ وَوَيْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا يَكْسِبُوْنَ 79
ويل
قال الأصمعيّ : وَيْلٌ قُبْحٌ ، وقد يستعمل علی التَّحَسُّر .
ووَيْسَ استصغارٌ. ووَيْحَ ترحُّمٌ. ومن قال : وَيْلٌ وادٍ في جهنّم، قال عز وجل : فَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا كَتَبَتْ أَيْدِيهِمْ وَوَيْلٌ لَهُمْ مِمَّا يَكْسِبُونَ [ البقرة/ 79] ، وَوَيْلٌ لِلْكافِرِينَ [إبراهيم/ 2] وَيْلٌ لِكُلِّ أَفَّاكٍ أَثِيمٍ [ الجاثية/ 7] ، فَوَيْلٌ لِلَّذِينَ كَفَرُوا […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–82
ترکیب : امیون مبتدا موصوف لایعلمون الکتاب صفت منہم خبر مقدم الا امانی استثنا منقطع ہے بمعنی لاکن امانی امنیہ کی جمع ہے جس کے معنی دلی منصوبہ ہیں اور اس لیے اس کا اطلاق جھوٹ اور آرزو اور جو پڑھنے میں آتا ہے اس پر ہوتا ہے۔ ان بمعنی مابقرینہ الاو التقدیر ان ھم الاقوم یظنون فویل 2 ؎ للذین یکتبون مبتداء و خبر ہیں۔ الکتاب مفعول بہ ہے بمعنی مکتوب اور جس نے مصدر سمجھا ضعیف کو اختیار کیا بایدیہم اید کی جمع ہے جس کی اصل میں یدی کفلس ہے اور جمع قلت ہے باوجودیکہ ہاتھوں سے لکھتے ہیں نہ پائوں سے پھر اس کو جو ذکر کیا تو تاکید کے لیے جیسا کہ بولتے ہیں اپنی آنکھ سے دیکھا لیشتروا میں لام یقولون کے متعلق ہے…
Read the full tafseer →فَوَیْلٌ لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ بِاَیْدِیْھِمْ ق ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَامِنْ عِنْدِاللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلًاط فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا کَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِمَّا یَکْسِبُوْنَ ۔
(البقرۃ : 79)
(سو خرابی ہے ان لوگوں کے لیے جو کتاب کو اپنے ہاتھوں سے لکھتے ہیں پھر کہہ دیتے ہیں کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے تھوڑی سی قیمت حاصل کرلیں۔ پس ان کے لیے خرابی ہے اس چیز کے سبب سے جو ان کے ہاتھوں نے لکھی اور ان کے لیے ہلاکی ہے اس چیز کے سبب سے جو وہ کماتے ہیں)
علماء یہود کے کرتوت
یہود کے تینوں گروہوں کی بد اعمالیوں اور فکری ژولیدگیوں کا ذکر…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : اہل کتاب کا حال یہ ہے کہ ایک طرف اپنے نیک اور جنتی ہونے کے بلند وبالا دعوے کرتے ہیں اور دوسری طرف خود ساختہ تصورات اور ذاتی خیالات کو تورات و انجیل کی زبان میں ڈھال بنا کر لوگوں کا مال بٹورتے اور سیاسی مفادات حاصل کرتے ہیں۔
یہودونصاریٰ کے علماء اور ان کے حکام نے اپنی کتابوں کی صرف تاویلات و تحریفات اور ان کے الفاظ میں تغیر و تبدل ہی نہیں کیا بلکہ اس سے آگے بڑھ کر اپنی تاویلات اور نظریات کو وحی الٰہی کا رنگ دے کر تورات و انجیل میں اس کا اندراج کردیا تھا۔ قرآن مجید کی حفاظت کا اللہ تعالیٰ نے ذمہ لیا ہے جس کی وجہ سے امت محمدیہ کے پیشہ ورعلماء اور مفاد پرست حکمران قرآن مجید…
Read the full tafseer →فَوَیْلٌ : (ہلاکت ہے) حدیث میں ہے کہ ویل جہنم کی ایک وادی کا نام ہے۔ ( رواہ ابن المبارک فی الزوائد عن ابی سعید الخدری)
لِّلَّذِیْنَ یَکْتُبُوْنَ الْکِتٰبَ : (ان پر جو لکھتے ہیں کتاب) تحریف شدہ
بِاَیْدِیْھِمْ : (اپنے ہاتھوں سے) اپنی طرف سے بغیر اس کے کہ ان پر اتاری گئی۔ یہاں ہاتھوں کا تذکرہ تاکید کے لیے ہے۔ اور یہ مجازی تاکید ہے۔
ثُمَّ یَقُوْلُوْنَ ھٰذَا مِنْ عِنْدِ اللّٰہِ لِیَشْتَرُوْا بِہٖ ثَمَنًا قَلِیْلاً : (پھر کہتے ہیں کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے کہ اس کے ذریعے سے تھوڑا سامال لیں) ثمنا قلیلا کا معنی معمولی عوض
فَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّاکَتَبَتْ اَیْدِیْھِمْ وَوَیْلٌ لَّھُمْ مِّمَّا…
Read the full tafseer →79۔ ” فویل “ زجاج فرماتے ہیں ویل وہ کلمہ ہے جس کا استعمال اہل عرب ہر اس پر کرتے ہیں جو ہلاکت میں واقع ہو اور کہا گیا ہے وہ کفار کی دعا ہے جو وہ اپنے آپ پر ویل اور ثبور کا لفظ لفظ بول کر کرتے ۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں ، ویل کا معنی شدت عذاب کے ہیں ، حضرت سعید بن المسیب ؓ فرماتے ہیں ۔ ویل جہنم میں ایک وادی کا نام ہے ۔
اگر اس وادی میں دنیا کے پہاڑوں کو چلایا جائے تو اس کی سخت حرارت کے باعث پہاڑ پگھل جائیں ، ابو سعید خدری ؓ حضور ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ حضور اقدس ﷺ نے فرمایا : ویل جہنم میں وادی ہے جس میں کافر گہرائی تک پہنچنے سے پہلے چالیس سال لڑھکتا چلا جائے گا اور صعود آگ کا پہاڑ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
(78-79): ان آیتوں میں یہود کے ان پڑھ اور علماء دونوں کا فرقوں کا حال ہے۔ ان پڑھ فرقہ تو یہ کہ انہوں نے اپنے گروہ کے علماء سے جو کچھ گھڑی گھڑائی باتیں سن لی ہییں وہی ان کا دین و ایمان ہے سو ان باتوں کے ان کو کچھ معلوم نہیں کہ تورات کیا ہے اور اس میں کیا احکام الٰہی ہیں۔ دوسرافرقہ ان کے علماء کا ہے جنہوں نے اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے کچھ جھوٹ مصنوعی باتیں جعل سازی سے کتاب الٰہی میں لکھ دی ہیں اور ان باتوں کو اللہ تعالیٰ کا حکم بتاتے ہیں اور جاہل لوگوں کو بہکا کر اس ذریعہ سے کچھ کما کھاتے ہیں۔ لیکن ان کا یہ جھوٹ اور یہ لقمہ حرام ایک دن ان کو خرابی میں ڈال دے گا۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کو سخت وعید سنائی ہے جو کتاب اللہ میں تحریف کرتے ہیں، اپنی تحریف اور جو کچھ وہ لکھتے ہیں اس کے بارے میں کہتے ہیں (ہذامن عنداللہ) کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے۔ یہ اظہار باطل اور کتمان حق ہے۔ اور انہوں نے علم رکھنے کے باوجود یہ کیا۔ (آیت) لِيَشْتَرُوْا بِهٖ ثَــمَنًا قَلِيْلًا ” تاکہ اس کے ذریعے سے تھوڑی قیمت حاصل کریں “ اور تمام دنیا اول سے لے کر آخر تک کتاب اللہ کے مقابلے میں بہت کم قیمت ہے۔ پس انہوں نے اپنے باطل کو ایک جال بنا رکھا ہے جس میں لوگوں کو پھانس کر ان کا مال ہتھیاتے ہیں۔ پس وہ لوگوں پر دو پہلوؤں سے ظلم کرتے ہیں۔ (1) ایک پہلویہ ہے کہ وہ لوگوں پر ان کے دین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا)
(قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان…
Read the full tafseer →225 تحریف کرنے والوں کیلئے بڑی سخت خرابی : ـ یعنی " ویل " کی تنوین تعظیم و تفخیم کیلئے ہے، اور " ویل " مصدر ہے " ویح " کی طرح، لیکن اس سے نہ کوئی فعل آتا ہے اور نہ ہی جمع (صفوۃ البیان وغیرہ) ۔ اور اس کے معنی خرابی، ہلاکت اور تباہی وغیرہ کے آتے ہیں، اور ظاہر ہے کہ عذاب دوزخ میں مبتلا ہونے سے بڑھ کر ہلاکت و خرابی اور کیا ہوسکتی ہے ؟ اور سنن ترمذی وغیرہ کی بعض روایات میں وارد ہے کہ ویل سے مراد دوزخ کی ایک وادی ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے حضرات سلف میں سے اکثر نے اس کا مصداق اسی کو قرار دیا ہے (صفوۃ البیان، روح المعانی، ابن کثیر، وغیرہ وغیرہ) ۔ سو کلام الہٰی میں تحریف اور اللہ کے ذمے ایسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–80
جھوٹی آرزوئیں
تشریح : پچھلی آیات میں یہود کی منافقت کا ذکر ہوچکا ہے اور ان آیات میں یہودیوں کی جھوٹی آرزوؤں کا ذکر کیا گیا ہے۔ ان لوگوں کے بارے میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ یہودیوں میں کچھ ایسے لوگ بھی موجود ہیں جو ان پڑھ ہیں، انہوں نے کتاب نہیں پڑھی بلکہ اپنے بزرگوں سے سنی سنائی باتوں پر یقین کرکے یہ آرزؤ کئے بیٹھے ہیں کہ ہم کو تو ہمارے بزرگ ضرور بخشوا لیں گے، نہ تو وہ کتاب کے قوانین سے واقف تھے اور نہ ہی فلاح و خسران کے بارے میں کوئی علم رکھتے تھے۔ بس اپنی خواہشات اور توقعات کے مطابق اپنی زندگیاں گزار رہے تھے اور سمجھتے تھے کہ ہم تو بس بخشے بخشائے ہیں اگلی آیت میں یہودی علماء کے بارے میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →ف 2 یہ تعلم یافتہ طبقہ کی حالت ہے جو خود گمراہ ہیں اور دوسروں کو گمراہ کرنے کے لیے فتوے دیتے رہتے ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ عوام کو محض دنیا کمانے کے لیے ان کی خواہشات مطابق پاتیں جوڑ کر لکھ دیتے ہیں اور انہیں بڑی ڈھٹائی اور جرات سے خدا اور رسول کی طرف منسوب کردیتے ہیں۔ ( فتح البیان) ایسے لوگوں کے لیے ویل ہے ترمذی میں مرفوعا روایت ہے کہ دیل جہنم میں یاک وادی کا نام ہے کافر ستر سال کی مسافت تک اس کی گہرائی میں چلا جائے گا مگر اس کی گہرائی تک نہ پہنچے گا۔ اور دیل کے معنی ہلاکت اور تبا ہی ہلاکت کے بھی آتے ہیں۔ (ابن کثیر) حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں مسلمانوں ! جب اللہ نے تمہیں بتادیا ہے کہ اہل کتاب نے…
Read the full tafseer →(2:79) ویل۔ اسم مرفوع۔ ہلاکت، عذاب، دوزخ کی ایک وادی کا نام ، عذاب کی شدت، رسوائی ، کلمہ حسرت و ندامت، اگر ویل : ویلہ کی اضافت ضمیر کی جانب ہو تو غیبت، خطاب اور تکلم کی علامات بدلتی رہتی ہیں۔ مثلاً ویلتنا مضاف مضاف الیہ (ہائے ہماری ہلاکت) (18:49) ویلک۔ مضاف مجاف الیہ ، تو مرے ویلنا (21:14) ہائے ہماری موت (کلمہ حسرت) ۔
تفسیر حقانی میں ہے ویل زبان عرب میں ناراضگی کے موقع پر استعمال ہوتا ہے جیسا کہ ہماری زبان میں تف اور پھٹے منہ بولتے ہیں پس وہ جو امام احمد اور ترمذی اور ابو یعلیٰ وغیرہ نے روایت کیا ہے کہ ویل جہنم میں ایک کنواں ہے اور ابن جریر (رح) نے روایت کیا ہے کہ وہ جہنم میں پہاڑ ہے ۔ سو اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79
افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ان آیتوں میں یہود کے ان پڑھ علماء کا حال ہے۔ علماء اپنی طرف سے اپنے ہاتھوں سے کچھ جھوٹ، مصنوعی باتیں جعلسازی سے کتاب الہیٰ میں لکھ کر اللہ کا حکم بتاتے ہیں اور جاہل لوگوں کو بہکا کر اس ذریعہ سے کچھ کما کھاتے۔ لیکن ان کا یہ جھوٹ اور یہ لقمہ حرام ایک دن ان کو خرابی میں ڈالے گا ۔
Read the full tafseer →[56] یعنی دنیوی فائدے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 79–80
فریب خیال :
(ف 1) یہودی اس فریب خیال میں مبتلا تھے کہ چونکہ ہم انبیاء کی اولاد سے ہیں ، اس لئے اللہ کے زیادہ سے زیادہ مقرب ہیں ، (آیت) ” نحن ابناء اللہ واحباء ہ “۔ اور اس لئے ضروری ہے کہ ہماری نجات ہو ۔ اور ہم جو چند دن جہنم میں رہیں گے بھی تو وہ محض تزکیہ اور گناہوں کے کفارہ کے لئے ورنہ درحقیقت کوئی یہودی جہنم کے لئے پیدا نہیں کیا گیا ، گویا وہ مذہب کی حقیقت صرف اس قدر سمجھتے تھے کہ یہ ایک قسم کا انتساب تھا اور بس ، عیسائی بھی اس نوع کے غرور نفس میں یہودیوں سے کسی طرح پیچھے نہیں ، انجیل میں لکھا ہے کہ ” تو خداوند خدا پر ایمان لا تاکہ تو اور تیرا گھرانا نجات پائے “۔ گویا صرف مسیح (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 78–79
ف 2 اور انہی یہود میں کچھ ایسے امی اور ناخواندہ لوگ بھی ہیں جو توریت کے علم کی تو خبر نہیں رکھتے اور کتابی علم سے ناواقف ہیں مگر انہوں نے محض سنی سنائی اور بےسند باتوں پر آرزوئیں اور امیدیں باندھ رکھی ہیں اور وہ لوگ سوائے اس کے کچھ نہیں کہ محض بےبنیاد خیالات اور اندازے لگایا کرتے ہیں۔ پھر ان لوگوں کے لئے بڑی خرابی ہوگی جو اپنے ہاتھوں سے تحریف کر کے توریت لکھتے ہیں اور لوگوں کو یہ بتاتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے پاس سے یہی حکم نازل ہوا ہے اور اس تحریف اور کذب بیان سے ان کی غرض یہ ہوتی ہے کہ اس کے ذریعہ کچھ قلیل اور تھوڑی سی رقم وصول کرلیں۔ لہٰذا جو تحریف شدہ کتاب ان کے ہاتھوں نے لکھی ہے اس کی وجہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
ف 4۔ اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کو بڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔
Read the full tafseer →ہر تحریف اور ہر تصحیف موجب لعنت ہے :
156: قرآن کریم کے معیار صداقت و دیانت سے ہر تحریف و تصحیف موجب لعنت اور حد سے بڑھی ہوئی جسارت ہے لیکن جو لوگ صرف آرزوؤں اور خواہشوں کی پیروی کرنے والے ہوں وہ اسے کیونکر معیار تسلیم کرلیں گے وہ تو اس معیار ہی سے ناواقف و نا آشنا ہیں۔ بلکہ اکثر اہل کتاب کے ہاں تو بھلائی کے لئے ہر برائی درست ہے اور ” خدا کی سچائی “ اور ” خداوند کے جلال “ کے اظہار کے لئے ہر جھوٹ جائز ہے آج دنیا میں مسیحیت کے نام سے جو ” تثلیثی “ شرک پھیلا ہوا ہے اس کے بانی پولوس صاحب اسرائیلی ہی تھے ان کا یہ مقولہ آج تک انجیل میں لکھا ہوا چلا آرہا ہے کہ ” اگر میرے جھوٹ کے سبب سے خدا کی سچائی ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
Allah reminds the Jews that He is omniscient, and knows what they try to keep concealed as well as what they say or do openly. So, it would make no difference at all, if the hypocrites tried to conceal their infidelity from the Muslims, or the other group, not to disclose the verses of the Torah which speak of the Holy Prophet ﷺ . For, Allah Himself has, on different occasions, informed the Muslims in the Holy Qur'an as to the hypocrisy of certain Jews and as to the testimony of the Torah also.
Verse 77 deals with the educated ones among the Jews, while Verse 78 speaks of those who were…
Read the full tafseer →90. These observations relate to their rabbis. They were not content with misinterpreting the Word of God. They also interjected into it their readings of the Scriptures and their explanatory comments thereof, stories from their national history, superstitious ideas and fancies, philosophical doctrines and legal rules. The result was that the Divine and the human became inextricably mixed. They claimed, nevertheless, that the entire thing was divine! Every historical anecdote, the interpretation of every commentator, the doctrine of every theologian, and the legal deduction of every jurist…
Read the full tafseer →