معبودان باطل سے بچو
بنی اسرائیل کو جو حکم احکام دیئے گئے اور ان سے جن چیزوں پر عہد لیا گیا ان کا ذکر ہو رہا ہے ان کی عہد شکنی کا ذکر ہو رہا ہے انہیں حکم دیا گیا تھا کہ وہ توحید کو تسلیم کریں اللہ تعالیٰ کے سوا کسی دوسرے کی عبادت نہ کریں، یہ حکم نہ صرف بنو اسرائیل کو ہی دیا گیا بلکہ تمام مخلوق کو دیا گیا ہے فرمان ہے آیت (وَمَآ اَرْسَلْنَا مِنْ قَبْلِكَ مِنْ رَّسُوْلٍ اِلَّا نُوْحِيْٓ اِلَيْهِ اَنَّهٗ لَآ اِلٰهَ اِلَّآ اَنَا فَاعْبُدُوْنِ) 21۔ الانبیآء :25) یعنی تمام رسولوں کو ہم نے یہی حکم دیا کہ وہ اعلان کردیں کہ قابل عبادت میرے سوا اور کوئی نہیں سب لوگ میری ہی عبادت کریں اور فرمایا آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
سورة الْبَقَرَة 92
نبی ﷺ کی آمد سے پہلے مدینے کے اطراف کے یہودی قبائل نے اپنے ہمسایہ عرب قبیلوں (اَوْس اور خَزْرَج) سے حلیفانہ تعلقات قائم کر رکھے تھے۔ جب ایک عرب قبیلہ دوسرے قبیلے سے برسر جنگ ہوتا، تو دونوں کے حلیف یہودی قبیلے بھی اپنے اپنے حلیف کا ساتھ دیتے اور ایک دوسرے کے مقابلے میں نبرد آزما ہوجاتے تھے۔ یہ فعل صریح طور پر کتاب اللہ کے خلاف تھا اور وہ جانتے بوجھتے کتاب اللہ کی خلاف ورزی کر رہے تھے۔ مگر لڑائی کے بعد جب ایک یہودی قبیلے کے اسیران جنگ دوسرے یہودی قبیلے کے ہاتھ آتے تھے، تو غالب قبیلہ فدیہ لے کر انہیں چھوڑتا اور مغلوب قبیلہ فدیہ دے کر انہیں چھڑاتا تھا، اور اس فدیے کے لیے دین کو…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب لیا ہم نے (تورات میں) قول وقرار بنی اسرائیل سے کہ عبادت مت کرنا (کسی کی) بجز اللہ کے اور ماں باپ کی اچھی طرح خدمت گذاری کرنا اور اہل قرابت کی بھی اور بےباپ کے بچوں کی بھی اور غریب محتاجوں کی بھی اور عام لوگوں سے (جب کوئی) بات کہنا ہو تو اچھی طرح (خوش خلقی سے) کہنا اور پابندی رکھنا نماز کی اور ادا کرتے رہنا زکوٰۃ پھر تم (قول وقرار کرکے) اس سے پھرگئے بجز معدودے چند کے اور تمہاری تو معمولی عادت ہے اقرار کر کے ہٹ جانا،
فائدہیہ معدودے چند وہ لوگ ہیں جو تورات کے پورے پابند رہے تورات کے منسوخ ہونے سے قبل شریعت موسویہ کے پابند رہے جب تورات منسوخ ہوگئی تو شریعت…
Read the full tafseer →یہ اس ابتدائی عہد کی طرف اشارہ ہے جو بنی اسرائیل سے شرک سے اجتناب، والدین کے ساتھ حسن سلوک اعزا و اقربا اور یتامیٰ و مساکین کے حقوق کی ادائیگی اور نماز و زکوٰۃ کے قیام سے متعلق لیا گیا۔ اس میں سب سے پہلے لَا تَعْبُدُوۡنَ اِلَّا اللهَ کا ذکر ہے یعنی اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کی بندگی نہ کرو گے۔ یہ جملہ اگرچہ ہے تو بظاہر خبر کے قالب میں لیکن معنی میں ہے نہی کے۔ اس وجہ سے بعد کے انشائیہ جملوں کا عطف اس کے اوپر موزوں ہوا۔
وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا: اللہ تعالیٰ کے حق کے بیان کے بعد یہ معًا والدین کے حق کا ذکر اس بات کی دلیل ہے کہ خدا کے بعد سب سے بڑا حق انسان پر اگر کوئی ہے تو ماں باپ ہی کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
82۔ 1 یہ یہود کے دعوے کی تردید کرتے ہوئے جنت یا جہنم کا اصول بیان کیا جا رہا ہے، جس کے نامہء اعمال میں برائیاں ہی برائیاں ہونگی، یعنی کفر اور شرک، اور جو مومن گنہگار ہونگے ان کا معاملہ اللہ کے سپرد ہوگا وہ چاہے گا تو اپنے فضل و کرم سے ان کے گناہ معاف فرما کر بطور سزا کچھ عرصہ جہنم میں رکھنے کے بعد یا نبی کی شفاعت سے ان کو جنت میں داخل فرما دے گا جیسا کہ یہ باتیں صحیح احادیث سے ثابت ہیں اور اہل سنت کا عقیدہ ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–84
57: بدی کے گھیرے میں لینے کا مطلب یہ ہے کہ وہ کسی ایسے گناہ کا ارتکاب کریں جس کے بعد کوئی نیک عمل آخرت میں کار آمد نہ ہو، اور وہ گناہ کفر اور شرک ہے۔
Read the full tafseer →گزشتہ سبق میں جہاں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافیوں کا ذکر کیا گیا تھا ، اس میثاق کی طرف اشارہ بھی کیا گیا تھا ۔ یہاں اس معاہدہ کی بعض شقوں کی طرف تفصیلی اشارہ کیا جاتا ہے ،
پہلی آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے ساتھ جس معاہدہ کا ذکر کیا ہے وہ وہی معاہدہ ہے جو ان کے ساتھ کوہ طور کو ان کے سروں پر لٹکانے کے بعد طے پایا تھا ۔ اور جس کے بارے میں انہیں تاکید کی گئی تھی کہ وہ اسے مضبوطی سے پکڑیں اور اس کے اندر جو ہدایات انہیں دی گئی ہیں انہیں یاد رکھیں ۔ غالبًا اس کے اندر دین کے اساسی امور کا بیان تھا اور یہ اساسی امور وہی ہیں جواب اسلام نے ان کے سامنے پیش کئے ہیں اور جنہیں وہ کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
2 یعنی احکام الٰہی سے اعراض کرنا تو تمہاری عادت بلکہ طبیعت ہوگئی ہے۔
Read the full tafseer →آیت 83 وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآءِ یْلَ لاَ تَعْبُدُوْنَ الاَّ اللّٰہَقف۔“
وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا“
اللہ کے حق کے فوراً بعد والدین کے حق کا ذکر قرآن مجید میں چار مقامات پر آیا ہے۔ ان میں سے ایک مقام یہ ہے۔
وَّذِی الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی ”وَالْمَسٰکِیْنِ “ وَقُوْلُوْا للنَّاسِ حُسْنًا“ امر بالمعروف کرتے رہو۔ نیکی کی دعوت دیتے رہو۔
وَّاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ ط یہ بنی اسرائیل سے معاہدہ ہو رہا ہے۔ ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ الاَّ قَلِیْلاً مِّنْکُمْ “ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ ۔“
تمہاری یہ عادت گویا طبیعت ثانیہ ہے۔
اللہ تعالیٰ نے ان سے اس کے علاوہ ایک اور عہد بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–84
96 گو بظاہر یہ خطاب یہود مدینہ سے ہے۔ تاہم یہ ایسے احکام ہیں جو ہر شریعت میں غیر متبدل رہے ہیں اور ہماری شریعت میں بھی بعینہ موجود ہیں۔ رہا عہد کرنے کے بعد بنی اسرائیل کی عہد شکنی کا قصہ تو یہ ان کی عادت ثانیہ بن چکی تھی اور ان کی تاریخ ایسی عہد شکنیوں سے بھری پڑی ہے۔
Read the full tafseer →279 ۔ (ان کے پیغمبروں کے واسطہ سے) عہد، جب اس کا تعلق خدائے تعالیٰ سے ہوتا ہے، محاورۂ توریت میں حکم کے معنی میں آتا ہے۔ مثلا ” اور اس نے اپنا عہد تمہارے آگے بیان کیا جس پر عمل کرنے کا حکم بھی اس نے تمہیں دیا۔ یعنی دس احکام “۔ (استثناء 4: 13) بعض شارحین قرآن نے بھی یہاں ’ عہد لینے “ کو ” حکم دینے “ کے معنی میں لیا ہے۔ اے امرنا بذلک (ابن قتیبہ)
280 ۔ توریت اثبات توحید وممانعت شرک سے بھری پڑی ہے۔ صرف دو ایک مقام بہ طور نمونہ ملاحظہ ہوں :۔ ” میرے حضور تیرے لیے دوسرا خدا نہ ہو وے۔ تو اپنے لیے کوئی مورت یا کسی چیز کی صورت جو اوپر آسمان پر یا نیچے زمین پر یا پانی میں زمین کے نیچے ہے مت بنا۔ تو ان کے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83 تا 84
ترجمہ : اور یاد کرو (اس وقت کو) جب ہم نے تورات میں بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا تھا، اور کہا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرنا (تعبدون) میں یاء اور تاء دونوں ہیں اور (لا تَعْبُدوْنَ ) خبر بمعنی نہی ہے، اور لَاتَعْبُدُوا، بھی پڑھا گیا ہے اور والدین کے ساتھ اور رشتہ داروں کے ساتھ القربیٰ بمعنی قرابت ہے اور ذی القربیٰ کا عطف وَالدَیْن، پر ہے اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرنا اور لوگوں سے بھلی بات کہنا، یعنی امر بالمعروف اور نہی عند المنکر (کرنا) اور محمد ﷺ کی شان میں (بیان صفات کے بارے میں) سچ بولنا اور لوگوں کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا اور ایک قراءت میں…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ (اور ( وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے بنی اسرائیل سے اقرار لیا کہ خدا کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا) یہ عہد تورات کے اندر ہوا ہے۔ میثاق کے معنی مستحکم عہد کے ہیں۔ ابن کثیر ‘ حمزہ اور کسائی نے لاتعبدون کو لا یعبدونیا کے ساتھ صیغہ غائب سے پڑھا ہے اور باقی قراء نے تا سے پڑھا ہے اور لا تعبدون خبر بمعنی نہی ہے۔ جیسے آیتلا یضار کاتب و لا شہید ( یعنی نہ نقصان پہنچایا جائے لکھنے والا اور نہ گواہ) میں لَا یضاربمعنی نہی ہے اور اسی بنا پر احسنوا اور قولوا کا عطفلا تَعْبُدُوْنَ پر مستحسن ہوگیا اور علامہ بغوی نے کہا ہے کہ اصل کلام…
Read the full tafseer →(83) اب دوبارہ بنی اسرائیل سے عہد و پیمان لینے کا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ جب یہ وعدہ کرلیا کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کسی کی وحدنیت نہیں بیان کروگے اور نہ اس کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہراؤ گے اور والدین کیساتھ نیکی اور رشتہ داروں کے ساتھ صلہ رحمی اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حسن سلوک کرو گے اور لوگوں سے رسول اکرم ﷺ کی شان میں حق اور صحیح بات کہوگے اور پانچ وقت کی نمازوں کو ادا کرو گے، اموال کی زکوٰۃ ادا کیا کروگے مگر پھر تم اس بات سے پھرگئے (مگر کچھ تمہارے آباؤاجداد حضرت عبداللہ بن سلام اور ان کے دوست اور اس عہدوپیمان کو چھوڑ کر اس کو جھٹلانا شروع کردیا۔
Read the full tafseer →گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخی احسانات یاد دلائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کیے گئے اور انھوں نے شکر گزاری کے بجائے کفر کیا، جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا۔ اب یہاں ان کو وہ عہد یاد دلایا جا رہا ہے جو بنیادی احکام (عبادات و معاملات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جا رہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کی اور اس سے سراسر بےپروائی اختیار کی۔ اسی قسم کا حکم سورة نساء (36) میں امت مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ (ابن کثیر)
لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰهَ : عبادت کی چار قسمیں ہیں : 1 بدنی عبادت، جیسے طواف، رکوع، سجدہ وغیرہ۔ 2 مالی عبادت، جیسے…
Read the full tafseer →آیت نمبر 83
اس میں دس مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل ان الفاظ کے بیان میں کلام گزر چکی ہے، یہاں جس میثاق کا ذکر ہے اس کے بارے میں اختلاف ہے۔ مکی نے کہا : یہ وہ میثاق ہے جو اس وقت لیا گیا جب لوگوں کو چیونٹیوں کی طرح حضرت آدم (علیہ السلام) کی پیٹھ سے نکالا گیا۔ بعض نے فرمایا : یہ وہ میثاق ہے جو ان سے لیا گیا جبکہ وہ زندگی میں عقلاء تھے۔ انبیاء کرام کی زبانوں کے ذریعے۔ وہ یہ ارشاد ہے : لا تعبدون الا اللہ (1) (تم عبادت نہیں کرنا مگر اللہ کی) اللہ تعالیٰ کی عبادت اس کی توحید کا اثبات ہے اور اس کے رسولوں کی تصدیق ہے اور جو کچھ اس نے اپنی کتب میں نازل…
Read the full tafseer →(1) ابن اسحاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ سے مراد ہے ” میثاقکم “ یعنی تمہارا وعدہ۔
(2) امام ابن جریر نے ابو العالیہ سے روایت کیا ہے فرماتے ہیں کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ان سے پکا وعدہ لیا تھا کہ وہ خالص اسی کی عبادت کریں گے اور اس کے علاوہ کسی کی عبادت نہیں کریں گے۔
(3) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ لفظ آیت ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “ یعنی جو وعدہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیا سو تم سنو جو قوم سے وعدہ لیا گیا تھا کہ لفظ آیت ”…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ اَخَذْنَا : اور جب ہم نے لیا ] [ مِيْثَاقَ : پختہ عہد ] [ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ : بنواسرائیل ] [ لَا تَعْبُدُوْنَ : تم لوگ بندگی نہیں کرو گے ] [ اِلَّا اللّٰهَ ۣ: مگر اللہ کی ] [ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا : اور والدین سے حسن سلوک کرو جیسا احساسن کا حق ہے ] [ وَّذِي الْقُرْبٰى: اور قرابت داروں سے ] [ وَالْيَتٰمٰى: اور یتیموں سے ] [ وَالْمَسٰكِيْنِ : اور مسکینوں سے ] [ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ : اور تم لوگ بات کرو لوگوں سے ] [ حُسْـنًا : بھلائی کی ] [ وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ : اور قائم کرو نماز کو ] [ وَاٰتُوا الزَّكٰوةَ ۭ: اور پہنچاؤ زکات کو ] [ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ : پھر تم لوگوں…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل سے عہد و پیمان اور ان کا انحراف
اس آیت شریفہ میں توریت شریف کے چند احکام مذکور ہیں بنی اسرائیل سے اللہ تعالیٰ نے پختہ عہد لیا تھا کہ تم ان سب کاموں کو کرنا انہوں نے عہد کرلیا۔ لیکن ان میں سے تھوڑے سے آدمیوں کے علاوہ اس عہد سے پھرگئے اور عہد کی خلاف ورزی کرتے رہے۔ ان کے عہد سے پھرجانے کا ذکر فرمانے کے بعد یہ بھی فرمایا کہ و أنتم معرضون کہ اے یہودیو ! تمہاری عادت اور مزاج ہی یہ ہے کہ حق سے اور قول وقرار سے اور اطاعت سے اعراض کیا کرتے ہو۔ اور خاص طور سے زمانہ نزول قرآن کے یہودیوں کو مخاطب فرمایا کہ تم بھی اپنے آباؤ اجداد کے طریقے پر ہو اور قبول حق سے اعراض کئے ہوئے ہو۔ آیت شریفہ میں…
Read the full tafseer →شناعت یاز دہم (11)
قال تعالیٰ واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل۔۔۔ الی۔۔۔ وانتم معرضون
(ربط): گزشتہ آیات میں یہود کے اس زعم فاسد کا کہ ہم کو سوائے چند گنتی کے دنوں کے دوزخ کی آگ چھوئے گی بھی نہیں اور فرمایا کہ یہ خیال خام ہے۔ نجات کا دارومدار ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ خاندان نبوت سے تعلق پر نہیں جو ایمان لائے اور عمل صالح کرے خواہ وہ کسی خاندان اور کسی قوم کا ہو اس کی نجات ہوگی اور جو کفر کرے گا وہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائے گا۔ جیسے نوح (علیہ السلام) کا بیٹا۔ یہ آخرت کا معاملہ ہے۔
(مصرع) کہ دریں راہ فلاں ابن فلاں چیزے نیست
علاوہ ازیں تمہاری عہد شکنیوں کا مقتضی بھی اس کے خلاف ہے کہ تم کو صرف چند…
Read the full tafseer →158 یہ موجودہ بنی اسرائیل کی پہلی خباثت ہے۔ بنی اسرائیل سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وساطت سے تورات میں ان احکام کی پابندی کا عہد لیا گیا تھا۔ سب سے پہلا عہد جو ان سے لیا گیا تھا وہ یہ تھا کہ وہ صرف ایک اللہ کی عبادت کریں، اسی کو کارساز اور مالک ومختار سمجھیں اور اسے ہی حاجات میں پکاریں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنائیں۔ توحید چونکہ حق اللہ ہے اور تمام اعمال کی روح وجان ہے۔ اس لیے سب سے پہلے اس کا ذکر کیا۔ لَا تَعْبُدُونَ بظاہر خبر ہے لیکن معنی کے لحاظ سے امر ہے اور یہ تعبیر اس لیے اختیار کی کہ امر بصورت خبر زیادہ موکد ہوتا ہے۔ قال الزمخشری خبر بمعنی الطلب وھو اکد (ابن کثیر ص 119 ج 1)…
Read the full tafseer →ربط آیات : ان آیات میں بنی اسرائیل کی مختلف خرابیاں بیان ہو رہی ہیں۔ پچھلے درس میں ان کے ان غلط عقائد کا رد تھا کہ یہودیوں اور نصاریٰ کے علاوہ کوئی دوسرا شخص جنت میں نہیں جاسکتا یہ اللہ تعالیٰ پر افتراء ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان سے ایسا کوئی عہد نہیں کیا۔ البتہ خود اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں جو عہد بنی اسرائیل سے لیا تھا۔ اس کا ذکر ہے اور وہ ایسا عہد تھا۔ جو کہ نہ صرف توراۃ میں تھا۔ بلکہ تمام سابقہ انبیاء (علیہم السلام) کی شریعتوں میں بھی موجود تھا اور اس کی تمام باتیں حضور نبی کریم ﷺ کی شریعت میں بھی آگئی ہیں ۔
توحید کے دو پہلو : اس آیت میں جس عہد کا ذکر آرہا ہے ۔ وہ عہد توحید ہے۔ ارشاد ہوتا ہے “…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 10
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللہَ 0 ۣ وَبِالْوَالِدَيْنِ اِحْسَانًا وَّذِي الْقُرْبٰى وَالْيَتٰمٰى وَالْمَسٰكِيْنِ وَقُوْلُوْا لِلنَّاسِ حُسْـنًا وَّاَقِيْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّكٰوۃَ 0 ۭ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ اِلَّا قَلِيْلًا مِّنْكُمْ وَاَنْتُمْ مُّعْرِضُوْنَ 83
أخذ
الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255]
( اخ ذ) الاخذ
۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل…
Read the full tafseer →ترکیب : اذ ظرف متعلق ہے اذکر کے اخذنا فعل بافاعل میثاق بمعنی عہد مفعول لا تعبدون الیٰ آخرہ جواب قسم ہے جو اخذنا سے مستفاد ہے۔ اے احلفنا ھم وقلنا لھم باللہ لاتعبدون دوم یہ کہ ان مراد ہو والتقدیر اخذ نا میثاق بنی اسرائیل علی ان لاتعبدوا الا اللّٰہ پس حرف جر حذف ہوا پھر ان حذف ہوگیا پھر مضارع مرفوع ہوگیا۔ جیسا کہ اس مصرعہ میں لا ایہذا الزاجری احضرالوغی۔ اور بعض قرأت میں ان لاتعبدو ابھی آیا ہے۔ پس اس تقدیر پر میثاق سے بدل ہوجاوے گا یابحذف جار اس کا معمول ہوجاوے گا۔ نافع اور ابن عامر اور ابو عمرو اور عاصم اور یعقوب نے لاتعبدون کے ساتھ پڑھا ہے اور باقی لوگوں نے ی کے ساتھ 1 ؎ اور بالوالدین احسانا…
Read the full tafseer →وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ لَا تَعْبُدُوْنَ اِلاَّاللّٰہَقف وَبِالْوَالِدَیْنِ اِحْسَانًا وَّذِیْ الْقُرْبٰی وَالْیَتٰمٰی وَالْمَسٰکِیْنَ وَقُوْلُوْالِلنَّاسِ حُسْنًا وَّاَقِیْمُوْاالصَّلٰوۃَ وَاَتُوا الزَّکٰوۃَ ط ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ اِلاَّ قَلِیْلًا مِّنْکُمْ وَاَنْتُمْ مُعْرِضُوْنَ ۔
(اور وہ وقت یاد کرو ! جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کروگے، والدین کے ساتھ حسن سلوک سے پیش آئو گے، قرابت داروں، یتیموں، مسکینوں کو ان کا حق دوگے اور لوگوں سے بھلی بات کہو، نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔ پھر تم پھرگئے مگر تم میں سے بہت تھوڑے لوگ اور تم ہو ہی…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : یہودی دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم نے اللہ تعالیٰ سے وعدہ لیا حالانکہ یہود نے اللہ تعالیٰ سے کوئی وعدہ نہیں لیا البتہ اللہ تعالیٰ نے ضرور ان سے ان باتوں کا وعدہ لیا ہوا ہے۔
ہر دور میں دین کے بنیادی ارکان اور احکام ایک ہیں اور ان کی ترتیب بھی ایک جیسی ہی رہی ہے۔ سب سے پہلے خالص اللہ تعالیٰ کی عبادت کرنا جسے حقوق اللہ کہا جاتا ہے۔ حقوق اللہ کے بعد والدین کی تابعداری اور ان کے ساتھ احسان کرنا ہے۔ اور ان کے ساتھ قریبی رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں کے ساتھ اچھا سلوک کرنا، لوگوں سے اچھی بات کہنا، نماز کا اہتمام کرنا اور زکوٰۃ ادا کرنا ہے۔ بیشک اللہ تعالیٰ رب اور خالق ہے لیکن اس نے اپنی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 83:
وَاِذْاَخَذْنَا مِیْثَاقَ بَنِیْٓ اِسْرَآئِ یْلَ : (اور جب ہم نے بنی اسرائیل سے پکا وعدہ لیا)
مِیْثَاقَ ۔ انتہائی پختہ ومؤکد عہد کو کہتے ہیں۔
خبر بصورت نہی :
لَا تَعْبُدُوْنَ اِلَّا اللّٰہَ : (تم اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا) یہ نہی کے انداز میں خبر ہے جیسا تم کہو۔ تذہب الٰی فَلان تقول لہٗ کذا سے مقصود حکم دینا ہے کہ فلاں کے پاس جا اور اس کو اس طرح کہہ۔ یہ صراحۃً امرونہی سے زیادہ بلیغ ہے کیونکہ یہ اسی طرح ہے گویا کہ بات ماننے اور انتہاء تک پہنچنے میں جلدی کی گئی اور وہ اس کے متعلق خبر دے رہا ہے۔ اور اس معنی کی معاونت حضرت ابی ؓ کی قراءت لا تعبدوا اور ان کا قول…
Read the full tafseer →83۔ (آیت)” واذا اخذنا میثاق بنی اسرائیل “۔ تورات میں اور میثاق سے مراد عہد شدید ہے ۔ (آیت)” الا تعبدون الا اللہ “ ابن کثیر (رح) اور حمزہ (رح) اور کسائی (رح) نے ” لایعبدون “ یاء کے ساتھ پڑھا اور باقیوں نے تاء کے ساتھ پڑھا ۔ (آیت)” لا تعبدون الا اللہ “ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرح ہے ۔ (آیت)” وقولوا للناس حسنا “ ” لاتعبدون کا معنی لاتعبدوا ہے جب (ان) کو حذف کیا گیا تو فعل مرفوع ہوگیا ، حضرت ابی بن کعب ؓ نے ” لاتعبدوا “ پڑھا ۔ ” نھی “ کے صیغہ پر (آیت)” وبالوالدین “ یعنی ہم نے ان کو حکم دیا ، والدین کے ساتھ (احسانا) دونوں کے ساتھ بھلائی کرنے کا اور ان کے ساتھ مہربانی کرنے کا اور والدین کے ہر اس…
Read the full tafseer →یہ تو اوپر گذر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے سر پر پہاڑ کھڑا کر کے ان سے تورات کے مسئلوں پر عمل کرنے کا عہد لیا گیا ہے۔ یہود کے قائل کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے ان آیتوں میں تورات کے آٹھ مسئلے ذکر کر کے فرمایا ہے کہ باوجود ایسے سخت عہد کے سوا چند آدمیوں کے تم سب ان مسئلوں پر عمل نہیں کرتے اور اپنے عہد سے پھرگئے ہو۔ اور پھر آگے جاکر فرمایا کہ جو کوئی ایسے کام کرے اس کی یہی سزا ہے کہ دنیا میں وہ طرح طرح سے رسوا ہوگا اور عقبیٰ میں سخت عذاب بھگتے گا۔ مسئلوں میں پہلا مسئلہ توحید کا ہے کہ اللہ کو وحدہ لا شریک لہ جاننا اور اس کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کرتا یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ہر ایک رسول کی امت کو دیا…
Read the full tafseer →پس یہ احکام ان اصول دین میں سے ہیں، جن پر عمل کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ نے ہر شریعت میں دیا، کیونکہ یہ احکام ہر زمان ومکان میں مصالح عامہ پر مشتمل ہیں۔ دین میں ان کی حیثیت بنیاد کی سی ہے جو منسوخ نہیں ہوسکتی۔ بنابریں اللہ تعالیٰ نے ہمیں ان اصولوں پر عمل کرنے کا حکم اپنے اس فرمان میں دیا ہے۔ (آیت) واعبداللہ ولا تشرکو بہ شیئا ’۔ النساء 36’ اللہ ہی کی عبادت کرو اور اس کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو “۔
وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَ بَنِىْٓ اِسْرَاۗءِيْلَ ۔ اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد لیا۔ یہ ان کی سنگدلی ہی تھی کہ جب بھی انہیں کسی بات کا حکم دیا جاتا تو وہ نافرمانی کرتے۔ اس لئے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
قول باری ہے۔ ” واذ اخذنا میثاق بنی اسرائیل لاتعبدون الا اللہ وبالوالدین احساناً ) (یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا اور ماں باپ کے ساتھ نیک سلوک کرنا) یہ قول باری والدین کے حق کی تاکید اور ان کے ساتھ نیک سلوک کرنے کے وجوب پر دلالت کرتا ہے خواہ والدین کافر ہوں یا مومن کیونکہ اللہ تعالیٰ نے اس حکم کو اپنی عبادت کے حکم کے ساتھ مقرون کردیا ہے۔
قول باری ہے : وذی القربی رشتے داروں کے ساتھ، صلہ رحمی اور تیامی و مساکین کے ساتھ حسن سلوک کے وجوب پر دلالت کرتا ہے۔
قول باری ہے : وقولو ا للناس حسناً (اور لوگوں سے بھلی بات کہنا) ابو جعفر محمد بن علی سے…
Read the full tafseer →234 بنی اسرائیل سے عبادت و بندگی کا عہد : ۔ کہ عبادت و بندگی اللہ وحدہ لاشریک ہی کی کرنی ہے۔ سو وہ وقت یاد کرنے کے لائق ہے کہ جب بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ تم عبادت و بندگی اللہ وحدہ لا شریک ہی کی کرنی ہے کہ معبود برحق وہی اور صرف وہی وَحْدَہُ لا شَرِیْک ہے۔ پس عبادت کی ہر قسم اور اس کی ہر شکل اسی کیلئے مختص اور خاص اس کا حق ہے، خواہ وہ بدنی ہو یا مالی، یا دونوں سے مرکب، اور قلبی ہو یا لسانی، سب اسی وَحْدَہُ لا شَرِیْکَ کا حق ہے۔ ان میں سے کوئی قسم بھی اس کے سوا اور کسی کے لئے بجا لانا جائز نہیں، اور ایسا کرنا شرک ہوگا جو کہ ظلم عظیم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ بہرکیف اس ارشاد سے واضح فرما…
Read the full tafseer →میثاق بنی اسرائیل
ـتشریح : یہ عہد بنی اسرائیل سے لیا گیا تھا۔ اس عہد کا ذکر قرآن مجید میں کئی بار آیا ہے۔ اس عہد کا ذکر تورات اور انجیل میں بھی کیا گیا ہے۔ وہ عہد کیا تھا جو اللہ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا، عہد یہ تھا کہ بنی اسرائیل اللہ کے سوا کسی اور چیز کی پرستش نہ کریں گے یعنی توحید پر قائم رہیں گے اور پھر حقوق العباد کا ذکر فرمایا کہ والدین، عزیز و اقارب، یتیموں، بےکسوں، محتاجوں اور لاوارثوں کے ساتھ نیک سلوک کریں گے۔ ہر ایک کے ساتھ خوش خلقی، نیکی، خلوص اور محبت سے پیش آئیں گے۔ علاوہ ازیں نماز قائم کریں گے، زکوٰۃ دیتے رہیں گے، یہ لوگ اس عہد کو بھلا بیٹھے سوائے چند لوگوں کے سب لوگ اللہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
آیات 83- 86
اسرارو معارف
بنی اسرائیل ہی کی حالت بیان کرتے ہوئے مزید ارشاد ہوتا ہے کہ ذرا وہ منظر چشم تصور کے سامنے لائو ، جب ہم نے ان سے عہد لیا تھا کہ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو گے دوسرے والدین کے ساتھ سلوک کرو گے اور تیسرے یہ کہ یتیموں اور مساکین کے ساتھ احسان کرو گے اور چوتھے یہ کہ نوع انسانی تمہارے حسن کلام سے مستفید ہوگی اور پانچویں یہ کہ نماز ادا کرو گے اور جو صدقات فر ض ہیں ان کی ادائیگی میں کوتاہی نہ کرو گے۔ مگر سوائے معدودے چند لوگوں کے تم ان باتوں سے پھرگئے۔
یہود ونصاریٰ دعویٰ تو اللہ ہی کی عبادت کا کرتے تھے مگر عملاً اپنے علماء اور ہبان جو کہتے کر گزرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 82–83
ف 1 آیات سابقہ میں بنی اسرائیل کو وہ تاریخ احسانات یاد لائے گئے ہیں جو ان کے بزرگوں پر کئے گئے اور انہوں نے شکر گزاری کی بجائے کفر کیا جس کے نتیجہ میں ان پر اللہ تعالیٰ کی طرف سے کئی بار عتاب نازل ہوا اب یہاں ان کو وہ عہد یاد لایا جا رہا ہے جو اصل احکام (عبادات ومعامالات) دیتے وقت ان سے لیا گیا تھا اور بتایا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل نے اس عہد کی پابندی نہ کو او اعراض واہمال کو اپنا شعار بنا لیا اسی قسم کا حکم سورتہ نساء (آیت :26) میں امت مسلمہ کو بھی دیا گیا ہے۔ اب ن کثیر عبادت کی چار قسمیں ہیں (1) بدنی جیسے طواف۔ رکوع سجدہ وغیرہ (2) مالی جیسے صدقہ خیرات کرنا اور نذرانیاز ماننا، (3) لسانی جیسے…
Read the full tafseer →(2:83) اذ فعل محذوف۔ اذکر کے متعلق ہے اس ظرف زمان ہے۔ بطور اسم ظرف مکان یا حرف مفاجاۃ بھی آتا ہے۔
میثاق بروزن مفعال اسم آلہ ہے۔ پختگی اور مضبوطی پیدا کرنے کا ذریعہ ۔ وثاقۃ سے ۔ یا پختگی اور مضبوطی۔ (بمعنی مصدر) جیسے الذین منقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (2:27) وہ جو اللہ سے کئے ہوئے عہد کو توڑتے ہیں۔ میثاق اس عہد کو بھی کہتے ہیں جو قسموں کے ساتھ مؤکد کیا گیا ہو (نیز ملاحظہ ہو 2:27) میثاق بنی اسرائیل مضاف، مضاف الیہ۔ بنی اسرائیل سے لیا گیا عہد۔ اخذنا کا مفعول ہے۔
لا تعبدون سے لے کر واتو الزکوۃ تک میثاق کا مضمون ہے۔
لا تعبدون (مضارع منفی جمع مذکر حاضر) خبر بمعنی نہی ہے (تم پرستش نہیں کرو گے ،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
لغات القرآن : آیت نمبر 83 تا 86
لا تعبدون (تم عبادت نہ کرو گے) ۔ احسان (اچھابرتاؤ بہتر معاملہ) ۔ ذی القربیٰ (رشتہ دار) ۔ یتمی (یتیم، بےباپ کے بچے) حسن (اچھی بات، بھلائی کی بات) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ معرضون (منہ پھیرنے والے) ۔ لا تسفکون (تم نہ بہاؤ گے ) ۔ دماء کم (اپنوں کے خون) ۔ دیار (گھر) ۔ اقررتم (تم نے اقرار کیا) ۔ تشھدون (تم گواہ ہو) ۔ ھؤلاء (وہی (تم ہو) ۔ تظھرون (تم چڑھائی کرتے ہو، چڑھ کر جاتے ہو) ۔ الاثم (گناہ) ۔ العدوان (زیادتی، ظلم ) ۔ اسری (اسیر) قیدی) ۔ تفادوھم (تم ان کا فدیہ دیتے ہو، بدلہ دیتے ہو) ۔ محرم (حرام کردیا گیا) ۔ افتؤمنون (کیا پھر تم ایمان لائے ہو (ا، کیا، پھر، تومنون،…
Read the full tafseer →توحید اور حقوق والدین مسائل القرآن : توحید کا مسئلہ یہ ہے کہ اللہ کو وحدہ لا شریک جاننا اور اس کی عبادت میں کسی لو شریک نہ کرنا ۔ یہ حکم اللہ تعالیٰ نے ہر ایک رسول کی امت کو دیا ہے ۔ صحیحین میں حضرت معاذؓ سے روایت ہے کہ اللہ کا حق اس کے بندوں پر یہ ہے کہ وہ اللہ کی عبادت میں کسی کو شریک نہ کریں ، اور اللہ تعالیٰ کے اس حق کے ادا ہونے کے بعد بندوں کا حق اللہ پر یہ ہے کہ وہ قیامت کے دن اپنے ایسے بندوں کو دوزخ کے عذاب سے بچا وے ۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو پیدا کیا اور ماں باپ کے سبب سے ہر ایک انسان پرورش پاتا ہے ۔ اس لئے اللہ تعالیٰ نے اپنے حق کے ساتھ ماں باپ کے حق کا ذکر کیا ہے ۔ مسلم میں حضرت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 83–86
[58] یعنی تمہارے بڑوں سے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 81–83
(ف 1) خدا کی عبادت کے بعد والدین کے ساتھ حسن سلوک اور سب اقرباء ومستحقین کے ساتھ مشفقانہ تعلقات کو اس لئے ضروری قرار دیا گیا کہ مذہب کی تکمیل بلا اس طرز کے ناممکن ہے ، وہ انسان جو خدا پرست ہے ، لازمی ہے کہ کائنات کے ساتھ اس کا نہایت گہرا اور محبانہ تعلق ہو ۔ بالخصوص والدین اور عزیز جو قریبی رشتہ ، الفت و شفقت رکھتے ہیں ضرور ہماری توجہ کے مستحق ہیں ، اور یاد رکھو جو اپنے عزیزوں اور بزرگوں کے حق میں بھی اچھا انسان نہیں وہ خدا کے حق میں بھی نیک انسان نہیں ہوسکتا ، گویا قرآن تقوی وصلاح کا معیار ظاہری رسوم دین نہیں قرار دیتا ، بلکہ اس کے نزدیک فلاح ونجات موقوف ہے حسن معاملت اور حقوق شناسی پر وہ…
Read the full tafseer →ف 4 اور وہ زمانہ یاد کرو جب ہم نے بنی اسرائیل سے عہد اور قول وقرار لیا کہ تم سوائے اللہ تعالیٰ کے کسی کی عبادت نہ کرنا اور اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرنا اور ان کی خوب خدمت کرنا اور قرابت داروں اور محتاجوں اور یتیموں کے ساتھ بھی بھلائی اور نیکی کرنا اور لوگوں سے جب کوئی بات کہنا تو نرمی اور خوش خلقی سے بھلی بات کہنا اور نماز کی پابندی رکھنا اور زکوۃ ادا کرتے رہنا، پھر تم میں سے سوائے تھوڑے آدمیوں کے اور سب اپنے قول وقرار اور عہد و پیماں سے پھرگئے اور تم تو اقرار کر کے پلٹ جانے اور پھرجانے کے عادی ہی ہو۔ (تیسیر)
یہ بہی یہود کے اسلاف کی عہد شکنیوں کا تذکرہ ہے اور یہ بھی ہوسکتا ہے کہ نبی کریم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
ف 2۔ امر محقق ہے کہ مومن اگر عاصی ہو تو گومعاصی سے دوزخ میں معذب ہو۔ لیکن ایمان کی وجہ سے خلود نہ ہوگا بعد چندے نجات ہوجاوے گی۔
Read the full tafseer →احکام الٰہی ہی عہد و پیمان ہیں :
160: اب تک اہل کتاب خصوصاً یہود کی غلط کاریاں ذکر کی گئیں اور علماء یہود کے امراض پر اصولی بحث کی ، انکے عقائد باطلہ کی تردید فرمائی۔ اب بتایا جارہا ہے کہ انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت رب قدوس سے جو عہد و پیمان کیا تھا اسکا کیا حشر ہوا اور بتایا کہ یہ عہدو پیمان اصل میں کیا ہے ؟ عہد جب اسکا تعلق اللہ تعالیٰ سے ہوتا ہے تو محاورہ توریت میں حکم کے معنوں میں آتا ہے چناچہ تورات میں ہے کہ ” اور اس نے اپنا عہد تمہارے آگے بیان کیا جس پر عمل کرنے کا حکم بھی اس نے تمہیں دیا یعنی دس احکام۔ “ (استثناء 4 : 13) جس سے یہ بات صاف ہوگئی کہ عہد لینے کا مطلب حکم دینے کا…
Read the full tafseer →This verse speaks of the pledge which Allah had made the Israelites take, and the few people it refers to as having been true to the pledge were those who acted upon the Shari'ah of Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses) as long as it was in force, and when it was abrogated, followed the Shari` ah of Sayyidna Muhammad ﷺ .
Injunctions and related considerations
(1) This verse brings out the basic elements common to Islam and all the earlier Shari` ah: Tauhid توحید (the doctrine of Unity or Oneness); service to one's parents, relations, orphans and the needy; being gentle in speaking to all human…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 80–84
91. This is a misconception entertained by all Jews, laymen as well as rabbis. They felt sure that no matter what they did, they would remain immune from hell-fire just by virtue of being Jews! The worst they could conceive of was the possibility of a transient punishment before they were transported to heaven.
Read the full tafseer →