Al-Baqara 2:76

Al-Baqara · from ayah 76

2:76

وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْۤا اٰمَنَّا ۖۚ— وَاِذَا خَلَا بَعْضُهُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْۤا اَتُحَدِّثُوْنَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَیْكُمْ لِیُحَآجُّوْكُمْ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ ؕ— اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۟وَاِذَا لَـقُوۡا الَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا قَالُوۡآ اٰمَنَّا  ۖۚ وَاِذَا خَلَا بَعۡضُهُمۡ اِلٰى بَعۡضٍ قَالُوۡآ اَ تُحَدِّثُوۡنَهُمۡ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ عَلَيۡكُمۡ لِيُحَآجُّوۡكُمۡ بِهٖ عِنۡدَ رَبِّكُمۡ‌ؕ اَفَلَا تَعۡقِلُوۡنَ

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

— Fateh Muhammad Jalandhari

And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allah has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 9 of surah · Ruku 9 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:76

(محمد رسول اللہﷺ پر) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بے وقوف ہوگئے ہو؟ اِن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حُجتّ؟ میں پیش کریں

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور یہ لوگ جب مومنوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، ہم ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، جو بات خدا نے تم پر ظاہر فرمائی ہے، وہ تم ان کو اس لیے بتائے دیتے ہو کہ (قیامت کے دن) اسی کے حوالے سے تمہارے پروردگار کے سامنے تم کو الزام دیں۔ کیا تم سمجھتے نہیں؟

— مولانا فتح محمد جالندہری

جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو اپنی ایمانداری ﻇاہر کرتے ہیں اور جب آپس میں ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ مسلمانوں کو کیوں وه باتیں پہنچاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں سکھائی ہیں، کیا جانتے نہیں کہ یہ تو اللہ تعالیٰ کے پاس تم پر ان کی حجت ہوجائے گی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور جب یہ لوگ ان (مسلمانوں) سے ملتے ہیں جو پہلے ایمان لاچکے ہیں تو (زبان سے) کہہ دیتے ہیں کہ ہم (بھی) ایمان لے آئے ہیں، اور جب یہ ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں جاتے ہیں تو (آپس میں ایک دوسرے سے) کہتے ہیں کہ : کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ یہ (مسلمان) تمہارے پروردگار کے پاس جاکر انہیں تمہارے خلاف دلیل کے طور پر پیش کریں ؟ کیا تمہیں اتنی بھی عقل نہیں ؟

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب مسلمانوں سے ملیں تو کہیں ہم ایمان لائے اور جب آپس میں اکیلے ہوں تو کہیں وہ علم جو اللہ نے تم پر کھولا مسلمانوں سے بیان کیے دیتے ہو کہ اس سے تمہارے رب کے یہاں تمہیں پر حجت لائیں کیا تمہیں عقل نہیں -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (ان کا حال تو یہ ہو چکا ہے کہ) جب اہلِ ایمان سے ملتے ہیں (تو) کہتے ہیں: ہم (بھی تمہاری طرح حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم پر) ایمان لے آئے ہیں، اور جب آپس میں ایک دوسرے کے ساتھ تنہائی میں ہوتے ہیں (تو) کہتے ہیں: کیا تم ان (مسلمانوں) سے (نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی رسالت اور شان کے بارے میں) وہ باتیں بیان کر دیتے ہو جو اللہ نے تم پر (تورات کے ذریعے) ظاہر کی ہیں تاکہ اس سے وہ تمہارے رب کے حضور تمہیں پر حجت قائم کریں، کیا تم (اتنی) عقل (بھی) نہیں رکھتے؟،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب وہ ان لوگوں سے ملتے ہیں جو ایمان لائے تو کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب ان میں سے بعض بعض کی طرف اکیلا ہوتا ہے تو کہتے ہیں کیا تم انھیں وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، تاکہ وہ ان کے ساتھ تمہارے رب کے پاس تم سے جھگڑا کریں، تو کیا تم نہیں سمجھتے ؟

— مولانا عبد السلام بھٹوی

یہ لوگ جب ایمان والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی (محمد ﷺ پر ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب خلوت میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کیا تم مسلمانوں کو وہ (راز کی) باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ اپنے پروردگار کے ہاں ان باتوں کو تمہارے خلاف بطور حجت پیش کردیں ؟ تمہیں کچھ بھی عقل نہیں رہی ؟

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور جب آپس میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں، کیا تم ان کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں کہ وہ تمہارے رب کے پاس تم سے حجت کریں۔ کیا تم سمجھتے نہیں ؟

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ان کا حال یہ ہے کہ) جب یہ ملتے ہیں ایمان والوں سے، تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے، مگر جب یہ تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں، تو کہتے ہیں کہ کیا تم ان (مسلمانوں) کو وہ باتیں بتاتے ہو، جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں، تاکہ اس طرح وہ تمہارے خلاف حجت قائم کریں، تمہارے رب کے یہاں ؟ کیا تم لوگ سمجھتے نہیں ہو ؟

— مولانا اسحاق مدنی

اور جب وہ ان سے ملتے ہیں جو ایمان لاچکے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں۔ اور جب آپس میں تنہا ہوتے ہیں۔ تو کہتے ہیں کہ ارے کیا تم انہیں وہ بتا دیتے ہو جو خدا نے تم پر منکشف کیا ہے۔ جس سے وہ تمہیں تمہارے پروردگار کے حضور میں قائل کردیں گے سو کیا تم نہیں سمجھتے ؟۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور (ان میں سے کچھ لوگ ہیں کہ) جب ملتے ہیں اہل ایمان سے تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لے آئے۔ اور جب وہ خلوت میں ہوتے ہیں ایک دوسرے کے ساتھ تو کہتے ہیں کیا تم بتا رہے ہو ان کو وہ باتیں جو اللہ نے کھولی ہیں تم پر ؟ تاکہ وہ ان کے ذریعے تم پر حجت قائم کریں تمہارے رب کے پاس ! کیا تمہیں عقل نہیں ہے ؟

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب وہ ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان والے ہیں اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تنہائی میں بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو ؟ ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تم سے اس کے ذریعہ تمہارے رب کے آگے جھگڑا کریں کیا تم نہیں سمجھتے

— محترمہ رفعت اعجاز

When they meet those who believe in Muhammad, they say, "We also believe in him." But when they meet one another in private, they say, "Have you got no sense that you disclose to them those things which Allah has revealed to you so that they might bring them as a proof against you before your Lord?

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When they meet those who believe, they say, :We believe. But when some of them meet others in private, they say, :Do you tell them (the Muslims) what Allah has disclosed to you so that they may thereby argue against you before your Lord? Will you, then, not use reason?

— Muhammad Taqi Usmani

When they meet those who believe, they say, :We believe. But when some of them meet others in private, they say, :Do you tell them (the Muslims) what Allah has disclosed to you so that they may thereby argue against you before your Lord? Will you, then, not use reason?

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And when they (Jews) meet those who believe (Muslims), they say, "We believe," but when they meet one another in private, they say, "Shall you (Jews) tell them (Muslims) what Allah has revealed to you that they (Muslims) may argue with you (Jews) about it before your Lord" Have you (Jews) then no understanding

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when they fall in with those who believe, they say: We believe. But when they go apart one with another they say: Prate ye to them of that which Allah hath disclosed to you that they may contend with you before your Lord concerning it? Have ye then no sense?

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And when they meet those who believe, they say, "We have believed"; but when they are alone with one another, they say, "Do you talk to them about what Allah has revealed to you so they can argue with you about it before your Lord?" Then will you not reason?

— Saheeh International

On meeting the believers, they would declare belief but to each other they would say, "How would you (against your own interests) tell them (believers) about what God has revealed to you (in the Bible of the truthfulness of the Prophet Muhammad)? They will present it as evidence to prove you wrong before your Lord. Do you not realize it?"

— Muhammad Sarwar

And when they meet those who believe they say: We believe, and when they are alone one with another they say: Do you talk to them of what Allah has disclosed to you that they may contend with you by this before your Lord? Do you not then understand?

— Muhammad Habib Shakir

And when they meet those who believe they say: we believe; and when some of them are alone with some others they say speak ye unto them of that which God hath opened unto you so that they may argue therewith against you before your Lord? understand then ye not?

— Abdul Majid Daryabadi

Behold! when they meet the men of Faith, they say: "We believe": But when they meet each other in private, they say: "Shall you tell them what Allah hath revealed to you, that they may engage you in argument about it before your Lord?"- Do ye not understand (their aim)?

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:76

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 75–77

یہودی کردار کا تجزیہ اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو ؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً) 5۔ المائدہ :13) یعنی ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 76–77

سورة الْبَقَرَة 88 یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ تورات اور دیگر کتب آسمانی میں جو پیشین گوئیاں اس نبی کے متعلق موجود ہیں، یا جو آیات اور تعلیمات ہماری مقدّس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہو سکتی ہو، انہیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو، ورنہ یہ تمہارے رب کے سامنے ان کو تمہارے خلاف حُجّت کے طور پر پیش کریں گے۔ یہ تھا اللہ کے متعلق ان ظالموں کے فساد عقیدہ کا حال۔ گویا وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ اگر دنیا میں وہ اپنی تحریفات اور اپنی حق پوشی کو چھپالے گئے، تو آخرت میں ان پر مقدّمہ نہ چل سکے گا۔ اسی لیے بعد کے جملہء معترضہ میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کیا تم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور جب ملتے ہیں (منافقین یہود) مسلمانوں سے تو (ان سے تو) کہتے ہیں کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور جب تنہائی میں جاتے ہیں یہ بعضے (منافق یہودی) دوسرے بعضے (علانیہ) یہودیوں کے پاس (تو ان سے ان کو معیت و ہم مشربی کے مدعی ہوتے ہیں اس وقت) وہ (دوسرے یہودی) ان سے کہتے ہیں کہ تم (یہ) کیا (غضب کرتے ہو کہ) مسلمانوں کو (خوشامد میں) وہ باتیں بتلا دیتے ہو جو (ان کے مفید مذہب) اللہ تعالیٰ نے (تورات میں) تم پر منکشف کردی ہیں (مگر ہم بمصلحت پوشیدہ رکھتے ہیں) نتیجہ یہ ہوگا کہ وہ لوگ تم کو حجت میں مغلوب کردیں گے کہ (دیکھو) یہ مضمون اللہ کے پاس (سے تمہاری کتاب میں آیا) ہے کیا تم (اتنی موٹی سی بات)…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

“اور جب مسلمانوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تو ایمان لائے ہوئے ہیں”۔ یعنی دین وایمان کے اجارہ دار تنہا مسلمان ہی نہیں ہیں ہم بھی ایمان رکھتے ہیں۔ اس قول سے ان کا مطلب جیسا کہ آیات ۸-۹ کی تفسیر کرتے ہوئے ہم بیان کر چکے ہیں محض مسلمانوں کو دھوکہ دینا ہوتا تھا۔ وہ اس قول کے ظاہر الفاظ سے مسلمانوں کو فریب دیتے تھے تاکہ مسلمان ان کے اوپر اعتماد کرنے لگیں خود اپنے ذہن میں وہ اس کا مطلب یہ لیتے تھے کہ وہ اپنے نبیوں اور اپنے صحیفوں پر تو ایمان رکھتے ہی ہیں ایمان اور کس چیز کو کہتے ہیں۔ قرآن نے یہاں مسلمانوں کو متنبہ کیا ہے کہ وہ ان لوگوں کے اس قسم کے پرفریب حملوں کے دام میں آ کر ان سے کچھ اچھی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

76۔ 1 یہ بعض یہودیوں کے منافقانہ کردار کی نقاب کشائی ہو رہی ہے کہ وہ مسلمانوں میں تو اپنے ایمان کا اظہار کرتے لیکن جب آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو اس بات پر ملامت کرتے کہ تم مسلمانوں کو اپنی کتاب کی ایسی باتیں کیوں بتاتے ہو جس سے رسول عربی کی صداقت واضح ہوتی ہے۔ اس طرح تم خود ہی ایک ایسی حجت ان کے ہاتھ میں دے رہے ہو جو وہ تمہارے خلاف بارگاہ الٰہی میں پیش کرینگے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 76–78

55: تورات میں آخر زمانے میں آنے والے نبی کی جو پیشینگوئیاں موجود تھیں وہ تمام تر نبی کریم ﷺ پر صادق آتی تھیں، بعض منافق یہودی جو مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے یہ پیشینگوئیاں مسلمانوں کو سنادیتے تھے اس پر دوسرے یہودی تنہائی میں ان کو ملامت کرتے تھے کہ مسلمان ان پیشینگوئیاں کو جان لیں گے تو قیامت میں ہمارے خلاف استعمال کریں گے اور ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہ ہوگا، ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات تھی ؛ کیونکہ اگر مسلمانوں سے یہ پیشینگوئیاں چھپا بھی لی جائیں تو اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

وَإِذَا لَقُوا الَّذِينَ آمَنُوا قَالُوا آمَنَّا وَإِذَا خَلا بَعْضُهُمْ إِلَى بَعْضٍ قَالُوا أَتُحَدِّثُونَهُمْ بِمَا فَتَحَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ لِيُحَاجُّوكُمْ بِهِ عِنْدَ رَبِّكُمْ أَفَلا تَعْقِلُونَ ” جب محمد رسول اللہ کے ماننے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انہیں مانتے ہیں اور جب آپس میں تخلئے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں ۔ بیوقوف ہو ! ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولیں ہیں تاکہ تمہارے رب کے پاس تمہارے مقابلے میں انہیں حجت میں پیش کریں۔ “ کیا تم ان سے توقع رکھتے ہو کہ وہ تمہاری بات مان جائیں گے ؟ حالانکہ وہ نہایت غیر ذمہ دار ، حق کو چھپانے والے اور کلام اللہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 یہود میں جو لوگ منافق تھے وہ بطور خوشامد اپنی کتاب میں سے پیغمبر آخر الزمان کی باتیں مسلمانوں سے بیان کرتے دوسرے لوگ ان میں سے ان کو اس بات پر ملامت کرتے کہ اپنی کتاب سند ان کے ہاتھ میں کیوں دیتے ہو کیا تم نہیں جانتے کہ مسلمان تمہارے پروردگار کے آگے تمہاری خبر دی ہوئی باتوں سے تم پر الزام قائم کریں گے کہ پیغمبر آخر الزمان ﷺ کو سچ جان کر بھی ایمان نہ لائے اور تم کو لاجواب ہونا پڑے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 76 وَاِذَا لَقُوا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا ج وَاِذَا خَلاَ بَعْضُہُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لِیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ”“ تم ذرا عقل سے کام لو اور یہ حقیقتیں جو تورات کے ذریعے سے ہمیں معلوم ہیں ‘ مسلمانوں کو مت بتاؤ۔ کیا تمہیں عقل نہیں ہے کہ ایسا بیوقوفی کا کام کر رہے ہو ؟ ان کے اس مکالمے پر اللہ تعالیٰ کا تبصرہ یہ ہے :

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

90 اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ نبی آخر الزمان ﷺ کو پہچاننے کے لیے تورات وغیرہ میں خاصا مواد موجود تھا۔ جسے یہ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مدینہ آنے سے پہلے لوگوں میں مشہور کرچکے تھے اور ان میں کچھ لوگ نبی آخر الزمان ﷺ کے مدینہ تشریف لانے کے بعد بھی بیان کردیتے تھے اور ان سے کہہ دیتے کہ ہم بھی اس پیغمبر پر ایمان لاتے ہیں۔ مگر وہ جب اپنے گرو گھنٹالوں کے ہاں جاتے تو وہ انہیں یہ کہتے کہ تم مسلمانوں کو تورات کی ایسی باتیں کیوں بتاتے ہو جو تمہارے اپنے خلاف جاتی ہیں۔ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ اللہ کے حضور مسلمان تم پر حجت قائم کردیں کہ یہ لوگ پورا علم ہونے کے باوجود بھی ایمان نہ لائے تھے۔ مسلمانوں سے بات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

263 ۔ اب ذکر منافقین یہود کا شروع ہورہا ہے۔ یہود کی ایک تعداد تو مدینہ میں علانیہ دشمن اسلام تھی ہی۔ لیکن کچھ ان کے علاوہ اس قماش کے بھی تھے کہ مسلمانوں کے سامنے اپنا مسلمان ہونا ظاہر کرتے تھے یہ ذکر انہیں منافقین کا ہے۔ یعنی المنافقین من الیھود (ابن جریر۔ عن ابن عباس ؓ 264 ۔ یعنی یہ دیکھ لیتے ہیں کہ آس پاس کوئی مسلمان تو نہیں سن رہا ہے۔ 265 ۔ یعنی وہ اسرار وتعلیمات جو تمہاری مقدس کتابوں اور آسمانی صحیفوں میں محفوظ ہیں۔ مثلا آخری نبی کی بشارتیں اور علامتیں۔ یہود جب آپس میں ملتے، تو ایک دوسرے کو قائل کرتے کہ تم اپنے ہاں کی پیشگوئیاں اور خاص تعلیمات مسلمانوں پر کیوں ظاہر کرکے خواہ مخواہ ان کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

شان نزول : ” وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضِ قَالُوْ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَیْکُمْ “۔ یہود میں سے جو لوگ منافق تھے، وہ بطور خوش آمد اپنی کتاب تورات کی کچھ باتیں مسلمانوں سے بیان کردیتے تھے، مطلب یہ کہ وہ آپس میں کہتے تھے کہ : تورات اور دیگر آسمانی کتابوں میں جو پیش گوئیاں اس نبی سے متعلق موجود ہیں، یا جو آیات اور تعلیمات ہماری مقدس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہوسکتی ہے، انہیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو ورنہ یہ تمہارے رب کے سامنے ان کو تمہارے خلاف حجت کے طور پیش کریں گے گویا وہ اپنے دل میں یہ سمجھتے تھے کہ اگر دنیا میں وہ اپنی تحریفات…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَاِذَا لَقُوا ( اور جب ملتے ہیں) اس سے مراد وہ یہود ہیں جو لوگوں کو نیک بات بتاتے تھے اور اپنے آپ کو بھولے ہوئے تھے ان کا ذکر پہلے ہو بھی چکا ہے۔ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا ( مسلمانوں سے) اس سے اہل مدینہ کے مؤمن مراد ہیں۔ مطلب اس تقدیر پر یہ ہے کہ جب مؤمنین نے جناب رسول اللہ ﷺ کے اتباع کی بابت یہود سے مشورہ کیا تو قَالُوْٓا اٰمَنَّا ( انہوں نے کہا ہم اپنے جی میں تصدیق کرتے ہیں) کہ یہ تمہارے رسول وہی ہیں جن کی نسبت تورات میں خوشخبری دی گئی ہے تمہیں چاہئے کہ تم ان کا اتباع کرو اور ان پر ایمان لاؤ۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ منافقین یہود مراد ہیں اور حاصل آیت کا اس بناء پر یہ ہے کہ جب منافقین یہود…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(76) اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ کیا ان سرداروں کو یہ بات سمجھ نہیں آرہی کہ اللہ تعالیٰ ان تمام باتوں کو جن کو تم خفیہ رکھتے ہو اور ان باتوں کو جن کو تم رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ کرام ؓ کے سامنے بیان کرتے ہو اچھی طرح جانتا ہے۔ شان نزول : (آیت) ”واذا لقوالذین امنوا“۔ (الخ) جریر ؒ نے مجاہد ؒ سے روایت کیا کی ہے کہ رسول اللہ ﷺ قریظہ کے دن یہودیوں کے قلعوں کے نیچے کھڑے ہوئے اور فرمایا اے بندر اور خنزیروں کے بھائیو ! اور اے بتوں کے پجاریو ! یہ سن کر وہ آپس میں گفتگو کرنے لگے کہ محمد ﷺ کو ان باتوں کے متعلق کس نے بتایا ہے یہ باتیں تم لوگوں ہی نے بتلائی ہیں، کیا ان باتوں کو آگے بیان کرتے ہو جن کو…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہود کی اخلاقی پستی اور اللہ تعالیٰ سے بےخوفی کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے بعض لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنے ایمان کا دعویٰ کرتے اور ازراہ نفاق و خوشامد ان سے ان علامتوں اور پیشین گوئیوں کا تذکرہ بھی کرتے جو تورات اور ان کی دوسری کتابوں میں نبی آخر الزمان کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب وہ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے صرف تمھی کو بتائی ہیں ؟ کیا تم نہیں سمجھتے کہ یہ مسلمان آخرت میں اللہ کے پاس تمہاری اپنی دی ہوئی معلومات کی بنا پر تم پر حجت قائم کریں گے اور جھگڑیں گے کہ تم نبی آخر الزمان کو جاننے اور پہچان لینے کے باوجود ان پر…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 76–77

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنایہ منافقین کے بارے میں ہے۔ لقوا کی اصل لقیوا ہے پہلے یہ گزر چکا ہے۔ واذا خلا بعضھم الی بعضٍ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر منافقت کی تھی وہ مومنین کو بیان کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کو عذاب دیا گیا تھا۔ یہود نے انہیں کہا : اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم یعنی تم پر اللہ تعالیٰ نے جو عذاب کا فیصلہ فرمایا تاکہ وہ کہیں کہ ہم تم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس اور سدی سے مروی ہے (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت علی ؓ خیبر کی جنگ کے موقع پر قریظہ کے پاس گئے تو آپ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 76–77

منافقین کی حالت (1) ابن اسحاق ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا “ یعنی جب تمہارے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اور خاص کر تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے باہم تنہائی میں ملتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ بات عرب لوگوں کو بیان نہ کرو اس لئے کہ تم اس سے پہلے ان مسلمانوں کے ساتھ ملی عربوں پر فتح کو طلب کیا کرتے تھے جو ان میں سے تھے (یعنی قریش میں سے تھے) لفظ آیت ” لیحاجوکم بہ عند ربکم “ (تاکہ وہ مسلمان اپنے رب سے بطور حجت تمہارے بارے میں جھگڑا کریں) یعنی وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ یہ (سچے) نبی ہیں اور تحقیق تم نے یہ بھی جان لیا…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذَا لَقُوا : اور جب وہ لوگ ملتے ہیں ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں سے جو ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ قَالُوْٓا : و وہ کہتے ہیں ] [ اٰمَنَّا ښ : ہم ایمان لائے ] [ وَاِذَا خَلَا : اور جب تنہائی میں ملتے ہیں ] [ بَعْضُھُمْ : ان کے بعض ] [ اِلٰى بَعْضٍ : بعض سے ] [ قَالُوْٓا : تو وہ کہتے ہیں ] [ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ : کیا تم لوگ بیان کرتے ہو ان سے ] [ بِمَا فَتَحَ اللّٰهُ : اس کو جو کھولا اللہ نے ] [ عَلَيْكُمْ : تم پر ] [ لِيُحَاۗجُّوْكُمْ : تاکہ وہ لوگ بحث کریں تم سے ] [ بِهٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ : اس کے ذریعہ تمہارے رب کے پاس ] [ ۭ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ عقل نہیں کرتے ] اللغۃ […

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 76–77

یہودیوں کی منافقت عام منافقین کا طریقہ تھا کہ مسلمانوں کے سامنے کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور تنہائیوں میں اپنے سرغنوں سے کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ اسی طرح یہودی منافق بھی مسلمانوں کے سامنے یہ ظاہر کردیتے تھے کہ ہم ایمان لے آئے اور اسی ظاہر کرنے میں یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ تورات شریف میں ایسا ایسا لکھا ہے اور اس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی بشارت اور آپ کی علامات اور صفات موجود ہیں اور ان علامات اور صفات سے صاف ظاہر ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب اہل مدینہ (اوس اور خزرج) نے یہود مدینہ سے مشورہ کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

شناعت ہفتم قال تعالیٰ واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا۔۔۔ الی۔۔ عند تربکم افلا تعقلون اور جب منافقین یہود مسلمانوں سے ملتے ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ہم تصدیق کرتے ہیں کہ محمد رسول اللہ ﷺ ہی رسول اور پیغمبر ہیں جن کی بشارتیں توریت میں مذکور ہیں اور جب تنہا ایک دوسرے کے پاس ہوتے ہیں تمام مجمع میں ان کے سوا مسلمانوں میں سے کوئی نہیں ہوتا تو ھر علماء یہود جو اعلانیہ طور پر کافر ہیں وہ ان منافقین سے یہ کہتے ہیں کہ کیا تم مسلمانوں سے خوشامد میں وہ چیز کہہ دالتے ہو جو کہ اللہ تعالیٰ نے تم پر کھولی ہیں اور وہ خزائن علمیہ جو توریت اور زبور اور دیگر صفح انبیاء میں مخزون ہیں کہ جن میں نبی کریم علیہ الصلوۃ…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 150 یہ منافقین یہود کا ذکر ہے جو مسلمانوں کے سامنے ایمان کا اظہار کرتے تھے۔ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ ۔ یعنی جب منافقین یہود ان یہودیوں سے ملتے جو منافق نہیں تھے۔ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ ۔ جب منافقین یہود مسلمانوں سے ملتے تو انہیں اپنے ایمان کا یقین دلاتے اور ان کی خوشامد کیلئے ان سے کہہ دیتے کہحضور ﷺ کی صفات ونعوت تورات میں مذکور ہیں اور وہ تمام صفات آپ پر منطبق ہوتی ہیں لیکن یہ منافق اپنے لیڈروں کے پاس جاتے تو وہ انہیں ڈانٹ پلاتے کہ تم وہ اسرار مسلمانوں کو کیوں بتاتے ہو جو اللہ نے تم کو تورات میں بتائے ہیں ای تخبرون المؤمنین بما بینہ اللہ تعالیٰ لکم خاصۃ من نعت نبیہ محمد…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 75–79

ربط آیات : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا تذکرہ ہوچکا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ فرمایا بعض پتھر بھی مفید ہوتے ہیں۔ مگر یہ قوم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ان کے سب کام اس کے علم میں ہیں۔ آیات زیر درس میں بھی یہودیوں کی بعض دوسری خرابیوں کا ذکر ہے۔ مگر یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔ یہود کی طرف سے نا امیدی : ارشاد ہوتا ہے “ افتطمعون ان یؤمنوا لکم ” یعنی اے اہل ایمان ! کیا تم توقع کرتے ہو کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذَا لَقُوا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّا۝ 0 ۚ ۖ وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰى بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ بِمَا فَتَحَ اللہُ عَلَيْكُمْ لِـيُحَاۗجُّوْكُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّكُمْ۝ 0 ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ۝ 76 إذا إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له ( اذ ا ) اذ ا ۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے اور یہ عام طور پر نظم میں آتا ہے اور اذ ( ظرف )…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 75–77

ترکیب : ان یؤمنوا میں حرف جر محذوف ہے تقدیرہ فی ان یومنوا وقد کان جملہ حالیہ ہے تقدیرہ افتطمعون فی ایمانھم و شانھم الکذب و التحریف منھم موضع رفع میں ہے صفت ہے فریق کی اور یسمعون الخ جملہ کان کی خبر اور فریق اسم ہے اذا حرف شرط لقوا الخ شرط قالوا آمنا جواب شرط اور اسی طرح اذا خلا بعضہم الخ شرط قالو الخ جواب شرط بما فتح اللہ میں ماموصولہ ہے اور ممکن ہے کہ موصوفہ اور مصدریہ ہو۔ تفسیر : خدا تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دیتا ہے کہ تم ان یہودیوں سے کیا امید رکھتے ہو کہ وہ دین اسلام قبول کریں گے ان سے یہ امید نہ رکھو کس لیے کہ وہ شریر قوم ہے کہ جس میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جو کلام خدا سن کر اور خوب سمجھ کر…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 75–77

اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَاعَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاِذَا لَقُوْ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لَیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔ تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے، دراں حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 76–77

فہم القرآن ربط کلام : جس طرح یہودی بہانہ ساز اور متلوّن مزاج ہیں، منافقوں کی بھی یہی عادات ہیں۔ منافقوں کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے آیت 13 میں یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں اور جب اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں یقین دہانیاں کرواتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھی ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے اندرون خانہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما ان سے کہتے ہیں کہ تورات و انجیل میں بیان ہونے والے حقائق جن میں نبی آخر الزماں ﷺ اور قرآن مجید کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ان کا مسلمانوں کے سامنے ذکر…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَاِذَالَقُوا : (جب وہ ملتے ہیں) یعنی منافقین یا یہود الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (ایمان والوں سے) یعنی اصحاب محمد ﷺ میں سے مخلص لوگوں سے۔ قَالُوْا : (کہتے ہیں) منافقین۔ اٰمَنَّا : (ہم ایمان لائے) کہ تم حق پر ہو اور محمد ﷺ وہی رسول ہیں جن کے متعلق بشارت دی گئی ہے۔ وَاِذَاخَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ : (جب وہ ایک دوسرے کے پاس اکیلے ہوتے ہیں) وہ لوگ جو منافق نہیں ان لوگوں کے پاس جو منافق ہیں۔ قَالُوْا : (وہ کہتے ہیں) ان کو عتاب کرتے ہوئے۔ اَتُحَدِّثُوْنَھُمْ : (کیا تم کہتے ہو ان کو) یعنی کیا تم اصحاب محمد ﷺ کو اطلاع دیتے ہو۔ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ : (جو اللہ تعالیٰ نے تم پر ظاہر کیا) جو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

76۔ (آیت)” واذا لقوا الذین امنوا “ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ ، حضرت حسن ؓ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد منافقین یہود ہیں جو اپنی زبانوں سے ایمان لائے جب وہ مؤمنین مخلصین سے ملتے ہیں ” قالوا امنا “ (ہم ایمان لائے) تمہارے ایمان کی طرح ” واذا خلا “ لوٹا ” بعضھم الی بعض “ کعب بن اشرف ، کعب بن اسد ، وھب بن یہودا اور انکے علاؤہ رؤساء یہود۔ ان کے اس معاملہ پر (آیت)” قالوا اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم “ (ان کو بیان کرتے ہو) وہ کچھ جو اللہ تعالیٰ نے تم پر تمہاری کتاب میں واضح فرمایا ، یہ کہ حضرت محمد ﷺ حق ہیں اور ان کی بات سچی ہے اور فتاح بمعنی قاص ہوتا ہے یعنی بیان کرنے والا ۔ اور کسائی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 75–77

(75 ۔ 77): اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کی اطراف میں جو یہود رہتے تھے ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کو یہ توقع ہوتی تھی کہ ملنے جلنے کا اثر شایدیہ ہو کہ رفتہ رفتہ حق بات ان کے دل میں گھر کر جاوے اور راہ راست پر آن کر یہ لوگ شرع محمدی کے تابع ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان یہود لوگوں سے شرع محمدی کے تابع ہوجانے کی توقع بالکل بےسود ہے۔ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 75–78

آیت 75 تا 78 یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کردیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لئے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لئے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 76–80

قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا) (قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

221 یہودیوں کی مت ماری کا ایک نمونہ و مظہر : سو اسی طرح مت مار کر رکھ دی جاتی ہے ان لوگوں کی جو راہ ِحق و ہدایت سے سرتابی کرتے، اور جان بوجھ کر منہ موڑتے ہیں۔ بھلا ان لوگوں کو دیکھئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے کتاب ہدایت پانے والے، اہل کتاب ہونے کا شرف و امتیاز رکھنے والے اور انبیاء کرام ۔ عَلَیْہِمُ الصَّلٰٰٰوۃُ وَ السَّلاَمُ ۔ کی نسل سے تعلق رکھنے والے ہیں۔ لیکن حضرت خاتم الانبیاء پر اور آپ ﷺ کی لائی ہوئی آخری اور کامل و جامع کتاب قرآن مجید پر ایمان لانے سے انکار کر کے یہ لوگ منصہ شرف سے حضیض مذلت میں اس طرح اور اس حد تک گرگئے کہ یہ اپنے ان لوگوں سے اس طرح کہتے تھے جو کہ مسلمانوں میں سے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 76–77

یہود کی منافقت تشریح : یہاں سے ان یہودیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ جو منافق تھے۔ یہ لوگ جب بھی مسلمانوں سے ملتے تو ان کو خوش کرنے کے لئے کہتے کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور وہ تمام نشانیاں بیان کرتے جو ان کی آسمانی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب یہ لوگ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم کیوں ان کو وہ تمام دلائل بتا رہے ہو جو ہماری کتابوں میں محمد ﷺ کے بارے میں آچکے ہیں، کل کو جب ہم اللہ کے سامنے حاضر ہونگے تو یہ مسلمان ہمارے خلاف اللہ کو بتائیں گے کہ ہم سب کچھ جان کر بھی حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے دین اسلام کی طرف نہ گئے اللہ…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 72–82

آیات 72- 80 اسرارو معارف پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔ یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 5 یہود کی اخلاقی پستی اور خدا سے بخوفی کا یہ عالم تھا کہ ان میں سے بعض لوگ جب مسلمانوں سے ملتے تو اپنے ایمان کا دعوی کرتے اور راز راہ نفاق و خوشامد ان سے ان علامتوں اور پیشنیگو ئیوں کا تذ کرہ بھی کرتے جو تورات اور ان کی دوسری کتابوں میں نبی آخزالزمان کے متعلق موجود تھیں لیکن جب وہ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم ان مسلمانوں کو وہ باتیں کیوں بتاتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے صرف تم ہی بتائی ہیں ؟ کیا تم نہیں سمجھتے کہ یہ مسلمان آخرت میں اللہ کے سامنے تمہاری اپنی فراہم کردہ معلومات کی بنا پر تم پر حجت قائم کریں گے کہ تم نبی آخرالز مان کو جاننے اور پہچان لینے کے باوجود ان پر ایمان نہیں…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:76) لقوا۔ ماضی جمع مذکر غایب۔ لقی ولقاء (باب سمع) مصدر، وہ ملے۔ مطلب یہ کہ جب وہ ملتے ہیں ۔ جب وہ سامنے آتے ہیں ۔ لقوا اصل میں لقیوا تھا۔ ی پر ضمہ دشوار تھا ماقبل کو دیا۔ ی بسبب اجتماع ساکین گرگئی۔ لقی مادہ۔ خلا ماضی واحد مذکر غائب خلاء (باب نصر) مصدر، بمعنی خلوت میں ہونا ۔ اکیلے ہونا ۔ خلا۔ وہ تنہا ہوا ۔ وہ اکیلا ہوا۔ وہ خلوت میں ہوا۔ مطلب۔ جب ان میں سے بعض دوسرے کے پاس خلوت میں ہوتے ہیں۔ (3:75) افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلم اللہ ثم یحرفونہ من بعد ما عقلوہ وھم یعلمون ۔ ۔ أ ہمزہ استفہامیہ۔ ف۔ حرف عطف۔ تطمعون فعل بافاعل۔ ان مصدریہ۔ یؤمنوا فعل اس میں ھم ضمیر مستتر اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 75–79

لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79 افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 75–77

شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کے اطراف میں جو یہود رہتے ہیں ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں ۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کرام کو یہ توقع ہوتی تھی کہ راہ راست پر آکر یہ لوگ شرع محمدی ﷺ کے تابع ہوجاویں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ توقع بالکل بےسود ہے ۔ انہوں نے تو شریعت موسوی کا بھی یہ کھو جڑا کھویا ہے (حشر کیا) کہ توریت کی اکثر آیتیں…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 76–78

(ف 2) جاہل یہودی صرف عقائد پر قانع تھے ، ہر قسم کی بےعملی کے باوجود انہیں اپنی نجات کا یقین تھا ، فرمایا یہ محض ایک خوش کن امید ہے جو کبھی شرمندہ عمل نہ ہوگی ، نجات کے لئے عمل کی ضرورت ہے ، بتائے ہوئے قوانین پر چلنا ضروری ہے ، صرف خوش اعتقادی کافی نہیں ۔ حل لغات : یحرفون : تحریف سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بدلنے کے ، ایک بات کی جگہ دوسری بات کہنے کے ، فتح ، مصدر فتح کھولنا ، مگر فتح اللہ علیہ کے معنی ہوتے ہیں ، خدا نے اسے بتایا ۔ امیون : جمع امی ، ان پڑھ یعنی ابتدائی حالت میں ، جس حالت میں کہ اس کی ماں نے اسے پیدا کیا ۔ امانی : جمع امنیۃ ، بمعنی خواہش ، اندازہ اور پڑھنا ۔

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 75–76

ف 3 کیا اے مسلمانو ! تم اب بھی اس کی امید کرتے ہو کہ یہ یہودی تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حلاان کہ ان میں تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو سمجھنے کے بعد اس میں تحریف و تغیر کردیا کرتے تھے اور اس کلام کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور کمال یہ ہے کہ اس فعل کی برائی کو جانتے بھی تھے اور جب ان یہودیوں کے منافق لوگ اہل ایمان حضرات سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان کا اقرار اور اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے کے پاس تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دوسرے کافر یہودی ان منافق یہودیوں سے کہتے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 74–79

ف 4۔ اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کو بڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

حق چھپانے کے عادی ہوچکے ہیں : 152: نفاق کا مرض ایسا ہے کہ وہ جس گروہ میں بھی ہوگا وہ چکنی چپڑی باتیں کرنے کے عادی ضرور ہوں گے اور ظاہر ہے چکنی چپڑی باتیں وہی ہو سکتی ہیں جو اندر اور باہر سے ایک طرح کی نہ ہوں۔ اندر سے کچھ اور باہر سے کچھ ہی کو چکنی چپڑی کہا جاتا ہے۔ اس وصف کو بیان کرنے کے لئے محاورہ استعمال ہوتا ہے کہ ” ہاتھی کے دانت کھانے کے اور دکھانے کے اور “ منافقین یہود کی حالت بھی یہی تھی کہ وہ مسلمانوں پر اپنا اخلاص و ایمان ظاہر کرنے کے لئے کبھی کبھی ان پیش گوئیوں کو بیان کردیا کرتے تھے جن میں نبی ﷺ کا ذکر ہوتا۔ اس طرح کی باتیں کر کے وہ مسلمانوں کو اپنی ہمدردیاں جتلاتے تھے کہ ہم تمہارے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Some of the Jews, seeing the growing power of the Muslims in Madinah and around it, pretended to have accepted Islam. In order to assure the Muslims of their sincerity and to win their favour, these hypocrites would now and then disclose to them that the Torah itself had given out the good tidings of the coming of the Holy Prophet ﷺ and mentioned the Holy Qur'an. But when they met other Jews who openly declared their adherence to Judaism, they would admit that they were only trying to deceive the Muslims, and were otherwise quite loyal to their own faith. On such occasions, those of the other…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 76–77

88. When the Jews talked among themselves they asked their co-religionists to disclose to the Muslims neither the prophesies about the Prophet, nor those verses of the Scriptures on the basis of which they could be reproached for their evil conduct; they thought that the Muslims would make use of scriptural arguments against them before God, and would thus have them pronounced guilty. These were the depths to which Jewish relivious decadence had sunk. They were convinced that if they could succeed in concealing their guilt in this world, they would be saved from censure in the Next. For this…

Read the full tafseer →