Explained with ayahs 75–77
یہودی کردار کا تجزیہ
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو ؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً) 5۔ المائدہ :13) یعنی ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
سورة الْبَقَرَة 88
یعنی وہ آپس میں ایک دوسرے سے کہتے تھے کہ تورات اور دیگر کتب آسمانی میں جو پیشین گوئیاں اس نبی کے متعلق موجود ہیں، یا جو آیات اور تعلیمات ہماری مقدّس کتابوں میں ایسی ملتی ہیں جن سے ہماری موجودہ روش پر گرفت ہو سکتی ہو، انہیں مسلمانوں کے سامنے بیان نہ کرو، ورنہ یہ تمہارے رب کے سامنے ان کو تمہارے خلاف حُجّت کے طور پر پیش کریں گے۔ یہ تھا اللہ کے متعلق ان ظالموں کے فساد عقیدہ کا حال۔ گویا وہ اپنے نزدیک یہ سمجھتے تھے کہ اگر دنیا میں وہ اپنی تحریفات اور اپنی حق پوشی کو چھپالے گئے، تو آخرت میں ان پر مقدّمہ نہ چل سکے گا۔ اسی لیے بعد کے جملہء معترضہ میں ان کو تنبیہ کی گئی ہے کہ کیا تم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
خلاصہ تفسیر
کیا ان کو اس کا علم نہیں ہے کہ حق تعالیٰ کو سب خبر ہے ان چیزوں کی بھی جن کو وہ مخفی رکھتے ہیں اور ان کی بھی جن کا وہ اظہار کرتے ہیں (تو اگر منافقین نے مؤمنین سے اپنا کفر چھپایا تو کیا اور ان ملامت گروں نے حضور ﷺ کی بشارت وغیرہ کے مضامین چھپائے تو کیا، اللہ تعالیٰ کو سب خبر ہے چناچہ اللہ تعالیٰ نے ان دونوں مضامین سے مسلمانوں کو جابجا مطلع فرما دیا ہے)
اس آیت میں تو یہودیوں کے خواندہ لوگوں کا ذکر تھا آگے ان کے ناخواندہ لوگوں کا ذکر اس طرح فرماتے ہیں کہ،
اور ان (یہودیوں) میں بہت سے ناخواندہ (بھی) ہیں جو کتابی علم نہیں رکھتے لیکن (بلاسند) دل خوش کن باتیں (بہت یاد ہیں) اور وہ لوگ کچھ…
Read the full tafseer →یوں تو یہ جملہ عام ہے۔ اللہ تعالیٰ ہر ظاہر اور باطن کو جانتا ہے لیکن یہاں موقع کلام اس بات کی طرف نہایت لطیف اشارہ کر رہا ہے کہ یہ لوگ مسلمانوں کے ساتھ دھوکا بازی کرتے ہوئے اس بات پر غور نہیں کرتے کہ خدا ان کے اس آمنّا کی حقیقت سے بھی اچھی طرح واقف ہے جس کو وہ ظاہر کرتے ہیں اور ان کی خاص مجلسوں میں آپس میں ایک دوسرے کو مسلمانوں کے سامنے افشائے راز پر جو سرزنشیں اور ملامتیں ہوتی ہیں ان کو بھی وہ خوب اچھی طرح جانتا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہ احمق لوگ مسلمانوں کے سامنے تو اپنے آپ کو ظاہر داری کے اس لبادہ میں چھپا سکتے ہیں لیکن اس خدا سے انہوں نے اپنے آپ کو چھپانے کی کیا تدبیر سوچی ہے جو ان کی خلوت و…
Read the full tafseer →77۔ 1 اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تم بتلاؤ کہ اللہ کو تو ہر بات کا علم ہے اور سب باتوں کو تمہارے بتلائے بغیر بھی مسلمانوں پر ظاہر فرما سکتا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
55: تورات میں آخر زمانے میں آنے والے نبی کی جو پیشینگوئیاں موجود تھیں وہ تمام تر نبی کریم ﷺ پر صادق آتی تھیں، بعض منافق یہودی جو مسلمانوں کے سامنے اپنے آپ کو مسلمان ظاہر کرتے تھے یہ پیشینگوئیاں مسلمانوں کو سنادیتے تھے اس پر دوسرے یہودی تنہائی میں ان کو ملامت کرتے تھے کہ مسلمان ان پیشینگوئیاں کو جان لیں گے تو قیامت میں ہمارے خلاف استعمال کریں گے اور ہمارے پاس ان کا کوئی جواب نہ ہوگا، ظاہر ہے کہ یہ انتہائی بےوقوفی کی بات تھی ؛ کیونکہ اگر مسلمانوں سے یہ پیشینگوئیاں چھپا بھی لی جائیں تو اللہ سے تو نہیں چھپ سکتیں۔
Read the full tafseer →چناچہ قرآن کریم آگے بڑھنے سے پہلے ان کی اس طرز فکر اور طرز عمل پر تعجب کا اظہار کئے بغیر نہیں رہتا ۔
أَوَلا يَعْلَمُونَ أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّونَ وَمَا يُعْلِنُونَ ” اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ وہ کچھ وہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ۔ اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے۔ “
اب قرآن کریم ایک دوسرے پہلو سے مسلمانوں کے سامنے بنی اسرائیل کے حالات پیش کرتا ہے ۔ بتایا جاتا ہے کہ ان میں دو قسم کے لوگ پائے جاتے ہیں ۔ ایک طبقہ تو ان جاہلوں اور ان پڑھ لوگوں کا ہے جو ان پر نازل ہونے والی کتاب الٰہی کا کوئی علم نہیں رکھتا۔ اس دماغ میں صرف اوہام و خرافات اور ظن وتخمین اور خوش آئند آرزوئیں ہی بسی…
Read the full tafseer →3 یعنی اللہ کو تو ان کے سب امور ظاہر ہوں یا مخفی بالکل معلوم ہیں ان کی کتاب کی سب حجتوں کی خبر مسلمانوں کو دے سکتا ہے اور جا بجا مطلع فرما بھی دیا۔ آیت رجم کو انہوں نے چھپایا مگر اللہ نے ظاہر فرما کر ان کو فضیحت کیا ' یہ تو ان کے علماء کا حال ہوا جو عقلمندی اور کتاب دانی کے مدعی تھے۔
Read the full tafseer →آیت 77 اَوَلاَ یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ “
تم چاہے یہ باتیں مسلمانوں کو بتاؤ یا نہ بتاؤ ‘ اللہ کی طرف سے تو تمہارا محاسبہ ہو کر رہنا ہے۔ لہٰذا یہ بھی ان کی ناسمجھی کی دلیل ہے۔
Read the full tafseer →91 بالفاظ دیگر ان یہود علماء کا یہ خیال تھا کہ بس مسلمانوں کے بتانے سے ہی اللہ تعالیٰ کو قیامت کے دن اس حقیقت کا پتہ چلے گا ورنہ نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے متعلق ان کی معرفت اتنی کمزور ہے کہ انہیں یہ بھی یقین نہیں کہ اللہ تعالیٰ ان کی کھلی اور چھپی سب باتوں کو خوب جاننے والا ہے اور ان باتوں کو بھی جو یہ اب اپنے ساتھی یہودیوں سے کر رہے ہیں۔
Read the full tafseer →268 ۔ اور وہی اللہ جب چاہے رسول ﷺ اور مومنین کو اطلاع دے سکتا ہے۔ ) موٹی سی بات ہے کہ اللہ کے لیے ایسے امور کی اطلاع اپنے پیغمبر کو دے دینا مشکل ہی کیا تھا، لیکن بےمغز یہود اس امکان ہی کی طرف اپنا ذہن نہیں لے جاتے تھے کہ شاید اس مدعی نبوت کا تعلق خدائے تعالیٰ کے ساتھ واقعی کچھ ہو ! ٹھیک اسی طرح جیسے آج بےمغز فرنگی اس امکان ہی کی طرف ذہن نہیں لے جاتے کہ کہیں قرآن انسانی تصنیف کے بجائے واقعی خدا ہی کی کتاب نہ ہو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
آیت نمبر 78 تا 82
ترجمہ : اور ان یہود میں بعض ناخواندہ بھی ہیں جو کتاب یعنی تورات کا علم نہیں رکھتے، مگر دل خوش کن باتوں کا جو انہوں نے اپنے سرداروں سے سنی ہیں، ان ہی پر اعتماد کرلیا اور وہ آپ کی نبوت سے انکار کے بارے میں جن کو وہ گھڑ لیتے ہیں، محض وہم و گمان پر قائم ہیں اور ان کے پاس (اس کی) کوئی سند نہیں، لہٰذا ان کے لئے ہلاکت، شدید عذاب ہے، (اس لئے) کہ وہ اپنی طرف سے تصنیف کرتے ہیں (یعنی) ازخود ایجاد کرلیتے ہیں اور پھر کہتے ہیں کہ یہ (نوشتہ) اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے، تاکہ اس کے معاوضہ میں (دنیا کا) قلیل فائدہ حاصل کریں اور یہ یہود ہیں جنہوں نے آپ ﷺ کی تورات میں مذکور صفات کو بدل ڈالا اور…
Read the full tafseer →اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ (کیا یہ لوگ اتنا بھی نہیں جانتے کہ اللہ کو معلوم ہے جو کچھ یہ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں) اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ (میں ضمیر ان کفار کی طرف ہے جن کا ذکر اول گذر چکا ہے جو اوروں کو ملامت کرتے تھے حاصل یہ ہے کہ حق تعالیٰ فرماتا ہے یہ لوگ جو انہیں ملامت کرتے ہیں اتنا ہی نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو ان کے ظاہر اور پوشیدہ سب امور کی خبر ہے پس ان کا محمد ﷺ کی نعت کو چھپانا کیا کام آسکتا ہے اور کیا ان سے احتجاج کو دفع کرسکتا ہے اور یہ بھی ممکن ہے کہ منافقین کی طرف ضمیر راجع ہو کیونکہ ان کے نفاق کی خبر اگرچہ جناب رسول…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(78۔ 77) اور ان یہودیوں میں سے بعض ایسے ہیں کہ جو نہ تو رات کو اچھی طرح پڑھ سکتے ہیں اور نہ لکھ سکتے ہیں، وہ بےاصل باتیں بناتے ہیں اور اپنے سرداروں کے سمجھانے پر خیالات کے گھوڑے دوڑاتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
3 بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف طبقوں کا بیان ہو رہا ہے، اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی گئی ہے۔ (رازی) اُمیّ وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور ”امانی“ ”اُمْنِیَّۃٌ“ کی جمع ہے، جس کے معنی آرزؤوں یا من گھڑت روایات کے ہیں، یعنی یہود میں ایک طبقہ جو عوام کا ہے اور ان پڑھ ہے، انھیں ”الکتاب“ یعنی تورات کا تو کچھ علم نہیں، مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بےبنیاد قسم کی آرزوئیں پالے ہوئے ہیں، مثلاً یہ کہ ان کے بزرگوں کی وجہ سے اللہ انھیں ضرور بخش دے گا، یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ، مختلف قسم کی خرافات کا عقیدہ اختیار کیے ہوئے ہیں۔ یہ ان کی غلط…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنایہ منافقین کے بارے میں ہے۔ لقوا کی اصل لقیوا ہے پہلے یہ گزر چکا ہے۔ واذا خلا بعضھم الی بعضٍ یہ آیت یہود کے بارے میں ہے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے اسلام قبول کیا تھا پھر منافقت کی تھی وہ مومنین کو بیان کرتے تھے جس کی وجہ سے ان کے آباء و اجداد کو عذاب دیا گیا تھا۔ یہود نے انہیں کہا : اتحدثونھم بما فتح اللہ علیکم یعنی تم پر اللہ تعالیٰ نے جو عذاب کا فیصلہ فرمایا تاکہ وہ کہیں کہ ہم تم سے اللہ تعالیٰ کے نزدیک زیادہ معزز ہیں۔ یہ حضرت ابن عباس اور سدی سے مروی ہے (1) ۔ بعض علماء نے فرمایا : حضرت علی ؓ خیبر کی جنگ کے موقع پر قریظہ کے پاس گئے تو آپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
منافقین کی حالت
(1) ابن اسحاق ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا لقوا الذین امنوا قالوا امنا “ یعنی جب تمہارے ساتھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ سے اور خاص کر تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں ہم ایمان لائے باہم تنہائی میں ملتے ہیں تو کہنے لگتے ہیں کہ یہ بات عرب لوگوں کو بیان نہ کرو اس لئے کہ تم اس سے پہلے ان مسلمانوں کے ساتھ ملی عربوں پر فتح کو طلب کیا کرتے تھے جو ان میں سے تھے (یعنی قریش میں سے تھے) لفظ آیت ” لیحاجوکم بہ عند ربکم “ (تاکہ وہ مسلمان اپنے رب سے بطور حجت تمہارے بارے میں جھگڑا کریں) یعنی وہ اس بات کا اقرار کرتے تھے کہ یہ (سچے) نبی ہیں اور تحقیق تم نے یہ بھی جان لیا…
Read the full tafseer →[ اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ : تو کیا وہ لوگ جانتے نہیں ] [ اَنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَعْلَمُ : جانتا ہے ] [ مَا : اس کو ] [ يُسِرُّوْنَ : وہ چھپاتے ہیں ] [ وَمَا يُعْلِنُوْنَ : اور اس کو جو وہ آشکارا کرتے ہیں ]
[ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ ] اس عبارت میں دو دفعہ تو فعل ” علِمَ یَعْلم “ (جاننا، جان لینا) کے مضارع کے صیغے (یَعْلمون اور یَعْلَمُ ) آئے ہیں جن کے مادہ (ع ل م) اور باب و معنی وغیرہ پر الفاتحہ :2 [ 1:2:1 (4)] میں البقرہ :13 [ 2:10:1 (3)] میں بات ہوچکی ہے۔ اسی طرح ” أَنَّ “ (حرف مشبہ بالفعل بمعنی ” بیشک “ ) پر البقرہ :6 [ 2:5:1] میں اور اسم جلالت (اللہ) کی لغوی بحث ”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
یہودیوں کی منافقت
عام منافقین کا طریقہ تھا کہ مسلمانوں کے سامنے کہتے تھے کہ ہم مسلمان ہیں اور تنہائیوں میں اپنے سرغنوں سے کہتے تھے کہ ہم تو تمہارے ساتھ ہیں۔ اسی طرح یہودی منافق بھی مسلمانوں کے سامنے یہ ظاہر کردیتے تھے کہ ہم ایمان لے آئے اور اسی ظاہر کرنے میں یہ بھی کہہ جاتے تھے کہ تورات شریف میں ایسا ایسا لکھا ہے اور اس میں حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی بعثت کی بشارت اور آپ کی علامات اور صفات موجود ہیں اور ان علامات اور صفات سے صاف ظاہر ہے کہ آپ واقعی اللہ کے سچے نبی اور رسول ہیں۔ بعض مفسرین نے یہ بھی لکھا ہے کہ جب اہل مدینہ (اوس اور خزرج) نے یہود مدینہ سے مشورہ کیا کہ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ سے…
Read the full tafseer →تحمیق یہود بےبہبود
قال تعالیٰ اولا یعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون۔۔۔ الی۔۔۔ وما یعلنون
یعنی کیا ان کو یہ گمان ہے کہ اس چھپانے سے اللہ کے نزدیک ان پر کوئی حجت قائم نہ ہوگی اور کیا ان کی یہ ہاتھ کی لکھی ہوئی دستاویزیں (یعنی توریت اور زبور کی وہ آئتیں جس میں نبی کریم علیہ الصلوۃ والتسلیم کی صریح صریح بشارتیں مذکور ہیں) خداوند ذوالجلال کو قیامت کے دن بہم نہ پہنچ سکیں گی۔ کیا ان کو معلوم نہیں کہ تحقیق اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں کو خوب جانتا ہے جن کو وہ چھپاتے ہیں اور جن کو وہ ظاہر کرتے ہیں جو جلوت میں آپ کی نبوت و رسالت کا اقرار کرتے ہیں ان کو بھی جانتا ہے اور جو خلوت میں اعتراف کرتے ہیں ان کو بھی…
Read the full tafseer →ف 151 یعنی اللہ تعالیٰ ان کی ہر پوشیدہ اور ظاہر بات کو جانتا ہے اگر ان کے منافقین مسلمانوں کو نہیں بتائیں گے تو اللہ تعالیٰ بذریعہ وحی مسلمانوں کو بتا دیگا۔ فحینئذ یظھر اللہ تعالیٰ للمومنین ما ارادوا اخفائہ بواسطۃ الوحی الی النبی ﷺ فیحصل المحاجۃ (ابو السعود ص 585 ج) تو مسلمانوں کو پھر بھی احتجاج کا موقع مل جائے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا تذکرہ ہوچکا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ فرمایا بعض پتھر بھی مفید ہوتے ہیں۔ مگر یہ قوم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ان کے سب کام اس کے علم میں ہیں۔ آیات زیر درس میں بھی یہودیوں کی بعض دوسری خرابیوں کا ذکر ہے۔ مگر یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔
یہود کی طرف سے نا امیدی : ارشاد ہوتا ہے “ افتطمعون ان یؤمنوا لکم ” یعنی اے اہل ایمان ! کیا تم توقع کرتے ہو کہ…
Read the full tafseer →اَوَلَا يَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللہَ يَعْلَمُ مَا يُسِرُّوْنَ وَمَا يُعْلِنُوْنَ 77
علم
العِلْمُ : إدراک الشیء بحقیقته،
( ع ل م ) العلم
کسی چیز کی حقیقت کا ادراک کرنا
سرر
الْإِسْرَارُ : خلاف الإعلان، قال تعالی: سِرًّا وَعَلانِيَةً [إبراهيم/ 31] ، وقال تعالی:
وَيَعْلَمُ ما تُسِرُّونَ وَما تُعْلِنُونَ [ التغابن/ 4] ، وقال تعالی: وَأَسِرُّوا قَوْلَكُمْ أَوِ اجْهَرُوا بِهِ
[ الملک/ 13] ، ويستعمل في الأعيان والمعاني، والسِّرُّ هو الحدیث المکتم في النّفس . قال تعالی: يَعْلَمُ السِّرَّ وَأَخْفى [ طه/ 7] ، وقال تعالی: أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْواهُمْ [ التوبة/ 78] ، وسَارَّهُ : إذا أوصاه…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ترکیب : ان یؤمنوا میں حرف جر محذوف ہے تقدیرہ فی ان یومنوا وقد کان جملہ حالیہ ہے تقدیرہ افتطمعون فی ایمانھم و شانھم الکذب و التحریف منھم موضع رفع میں ہے صفت ہے فریق کی اور یسمعون الخ جملہ کان کی خبر اور فریق اسم ہے اذا حرف شرط لقوا الخ شرط قالوا آمنا جواب شرط اور اسی طرح اذا خلا بعضہم الخ شرط قالو الخ جواب شرط بما فتح اللہ میں ماموصولہ ہے اور ممکن ہے کہ موصوفہ اور مصدریہ ہو۔
تفسیر : خدا تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دیتا ہے کہ تم ان یہودیوں سے کیا امید رکھتے ہو کہ وہ دین اسلام قبول کریں گے ان سے یہ امید نہ رکھو کس لیے کہ وہ شریر قوم ہے کہ جس میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جو کلام خدا سن کر اور خوب سمجھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَاعَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاِذَا لَقُوْ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لَیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔
تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے، دراں حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
فہم القرآن
ربط کلام : جس طرح یہودی بہانہ ساز اور متلوّن مزاج ہیں، منافقوں کی بھی یہی عادات ہیں۔
منافقوں کی عادات کا ذکر کرتے ہوئے آیت 13 میں یہ بتلایا گیا تھا کہ یہ لوگ ایمان والوں کو ملتے ہیں تو ان کی ہاں میں ہاں ملاتے ہوئے ایمان کے دعویدار بنتے ہیں اور جب اپنے مذہبی پیشواؤں اور لیڈروں کے پاس جاتے ہیں تو انہیں یقین دہانیاں کرواتے ہیں کہ ہم تمہارے ہی ساتھی ہیں۔ یہاں اہل کتاب کے اندرون خانہ کا انکشاف کرتے ہوئے بتلایا جارہا ہے کہ ان کے مذہبی رہنما ان سے کہتے ہیں کہ تورات و انجیل میں بیان ہونے والے حقائق جن میں نبی آخر الزماں ﷺ اور قرآن مجید کی تصدیق پائی جاتی ہے۔ ان کا مسلمانوں کے سامنے ذکر…
Read the full tafseer →اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ : (کیا وہ لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ کو معلوم ہے) تمام باتیں۔
مَا یُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ : (جو وہ ظاہر کرتے ہیں اور جو وہ چھپاتے ہیں) ایک ان میں سے ان کا کفر چھپانا اور ایمان ظاہر کرنا بھی تھا۔
Read the full tafseer →(تفسیر) 77۔ :
(آیت)” اولایعلمون ان اللہ یعلم ما یسرون “۔ چھپاتے ہیں ۔ ” وما یعلنون “ ظاہر کرتے ہیں یعنی یہود۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
(75 ۔ 77): اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کی اطراف میں جو یہود رہتے تھے ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کو یہ توقع ہوتی تھی کہ ملنے جلنے کا اثر شایدیہ ہو کہ رفتہ رفتہ حق بات ان کے دل میں گھر کر جاوے اور راہ راست پر آن کر یہ لوگ شرع محمدی کے تابع ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان یہود لوگوں سے شرع محمدی کے تابع ہوجانے کی توقع بالکل بےسود ہے۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
آیت 75 تا 78
یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کردیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لئے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لئے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–80
قول باری ہے : وقالوا لن تمسنا النار الا ایا ما معدودۃ (وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگز چھونے والی نہیں الآیہ کہ چند روز کی سزا مل جائے تو مل جائے) معدودۃ کا ایک معنی یہ بیان کیا گیا ہے کہ یہ تھوڑے ہوں گے جس طرح یہ قول باری ہے : وشروہ بثمن بحسن درا ھم معدودۃ (آخر کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا)
(قتادہ نے : ایا ما معدودۃ کی تفسیر میں کہا ہے کہ یہ چالیس دن ہوں گے یعنی اتنے دن جتنے دن انہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ حسن بصری اور مجاہد نے کہا ہے کہ یہ سات دن ہوں گے۔ قول باری ہے : (کتب علیکم الصیام کما کتب علی الذین من قبلکم لعلکم تتقون ایاماً معدودات) (اے ایمان…
Read the full tafseer →222 اللہ تعالیٰ سے کسی بھی چیز کو چھپانا ممکن نہیں ۔ سبحانہ و تعالیٰ : ـ سو جب اس وحدہ لاشریک کی صفت اور شان یہ ہے کہ وہ نہاں وعیاں کو ایک برابر جانتا ہے تو پھر اس سے کسی بات کو چھپا دینا کس طرح ممکن ہوسکتا ہے ؟ پس یہ تم لوگوں کی اپنی حماقت اور سخت بھول ہے، جو تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اس طرح حق پوشی کر کے تم لوگ اس قادر مطلق کی گرفت و پکڑ اور اس کے غضب و عقاب سے بچ جاؤ گے، اور تمہاری اس کج فکری نے تمہارا زاویہ نگاہ ہی بدل دیا اور تم لوگوں کو بگاڑ کر کہیں کا کہیں پہنچا دیا ۔ والعیاذ باللہ ۔ بہرکیف اس ارشاد میں ان لوگوں کی تحمیق اور تجہیل پر تعریض ہے کہ کیا ان لوگوں کو اس قدر واضح اور اتنی بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
یہود کی منافقت
تشریح : یہاں سے ان یہودیوں کے بارے میں بتایا جارہا ہے کہ جو منافق تھے۔ یہ لوگ جب بھی مسلمانوں سے ملتے تو ان کو خوش کرنے کے لئے کہتے کہ ہم بھی ایمان لے آئے ہیں اور وہ تمام نشانیاں بیان کرتے جو ان کی آسمانی کتابوں میں آنحضرت ﷺ کے متعلق موجود تھیں، لیکن جب یہ لوگ آپس میں ملتے تو ایک دوسرے کو ملامت کرتے کہ تم کیوں ان کو وہ تمام دلائل بتا رہے ہو جو ہماری کتابوں میں محمد ﷺ کے بارے میں آچکے ہیں، کل کو جب ہم اللہ کے سامنے حاضر ہونگے تو یہ مسلمان ہمارے خلاف اللہ کو بتائیں گے کہ ہم سب کچھ جان کر بھی حضرت محمد ﷺ پر ایمان نہ لائے اور ہم سب کچھ جانتے بوجھتے ہوئے دین اسلام کی طرف نہ گئے اللہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
ف 1 بنی اسرائیل کے عناد اور سرکشی کو بیان کرنے کے بعد اب ان کے مختلف فرقوں کا بیان ہو رہا ہے اس آیت میں عوام کی حالت بیان کی ہے۔ (کبیر) امی وہ ہے جو لکھنا پڑھنا نہ جانتا ہو اور امانی جمع ہے امنیتہ کی جس کے معنی آرزوؤں یا من گھڑت روایات کے ہیں یعنی یہود میں ایک طبقہ جو انپڑھ اور عوام کا ہے جنہیں الکتاب یعنی توریت کا تو کچھ علم نہیں ہے مگر وہ اپنے سینوں میں بعض بےبنیاد قسم کی آرزوئیں پائے ہوئے ہیں۔ مثلا یہ کہ ان بزرگوں کو وجہ سے اللہ انہیں ضرور بخش دے گا یا یہ کہ جنت میں یہود کے سوا کوئی نہیں جائے گا وغیرہ قسم کی خرافات کا عقیدہ باندھے ہوئے ہیں یہ ان کی غلط آرزوئیں ہیں من گھڑت قصے ہیں جو انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–78
(2:77) اولا یعلمون ۔ الف استفہامیہ واؤ عاطفہ (ملاحظہ ہو 2:44) یعلمون میں ضمیر فاعل جمع مذکر غائب اہل یہود کے لئے ہے۔
ما یسرون وما یعلنون۔ ما موصولہ۔ یسترون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اسرار (افعال) مصدر (صلہ اپنے موصول کا) جو کچھ وہ چھپاتے ہیں۔
یعلنون۔ مضارع جمع مذکر غائب ۔ اعلان (افعال) جو وہ ظاہر کرتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79
افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کے اطراف میں جو یہود رہتے ہیں ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں ۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کرام کو یہ توقع ہوتی تھی کہ راہ راست پر آکر یہ لوگ شرع محمدی ﷺ کے تابع ہوجاویں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ توقع بالکل بےسود ہے ۔ انہوں نے تو شریعت موسوی کا بھی یہ کھو جڑا کھویا ہے (حشر کیا) کہ توریت کی اکثر آیتیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
[54] یعنی تمہارے پروردگار کے کلام سے تمہارے خلاف استدلال کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–78
(ف 2) جاہل یہودی صرف عقائد پر قانع تھے ، ہر قسم کی بےعملی کے باوجود انہیں اپنی نجات کا یقین تھا ، فرمایا یہ محض ایک خوش کن امید ہے جو کبھی شرمندہ عمل نہ ہوگی ، نجات کے لئے عمل کی ضرورت ہے ، بتائے ہوئے قوانین پر چلنا ضروری ہے ، صرف خوش اعتقادی کافی نہیں ۔
حل لغات :
یحرفون : تحریف سے نکلا ہے جس کے معنی ہیں بدلنے کے ، ایک بات کی جگہ دوسری بات کہنے کے ،
فتح ، مصدر فتح کھولنا ، مگر فتح اللہ علیہ کے معنی ہوتے ہیں ، خدا نے اسے بتایا ۔
امیون : جمع امی ، ان پڑھ یعنی ابتدائی حالت میں ، جس حالت میں کہ اس کی ماں نے اسے پیدا کیا ۔
امانی : جمع امنیۃ ، بمعنی خواہش ، اندازہ اور پڑھنا ۔
Read the full tafseer →ف 1 کیا یہ یہود کے منافقین اور محرفین اتنی بات نہیں جانتے کہ وہ جو کچھ چھپاتے اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں اس سب کو اللہ تعالیٰ خوب جانتا ہے۔ (تیسیر)
خلاصہ یہ ہے کہ اس قسم کی تدبیروں سے کیا ہوتا ہے یہ تدابیر اور اسکی چیز کو چھپانا تو وہاں مفید ہوتا ہے جہاں مقابلہ کسی انسان سے پڑے اور جہاد اللہ تعالیٰ کی ذات کا معاملہ ہے وہاں کوئی تدبیر اور اخفا کیا مفید ہوسکتا ہے لوگ جو کام چھپاتے ہیں مثلاً نفاق اور توریت کی تحریف وغیرہ وہ اس کو بھی جانتا ہے اور جو کام یہ علانیہ کرتے ہیں وہ اس کو بھی جانتا ہے تو کیا یہ یہود اتنی بات بھی نہیں جانتے پھر اگر منافقین یہود کچھ باتیں توریت کی مسلمانوں کو بتا دیتے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
ف 4۔ اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کو بڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔
Read the full tafseer →علماء یہود کی مثال :
154: علمائے یہود کی مثال اس پرندہ کی سی ہے جس کو خورات حاصل کرنے کے لالچ نے ایک باریک دانہ تو دکھادیا لیکن وہ اتنے بڑے جال کو نہ دیکھ سکا پھر اس کا نتیجہ کیا نکلا ؟ کہ ایک دانہ کے لالچ میں جان سے ہاتھ دھونے پڑے۔ دیکھو کتنی موٹی سی بات ہے کہ اللہ کے لئے ایسے امور کی اطلاع اپنے رسول کو دے دینا مشکل ہی کیا تھا کور مغز یہود اس امکان ہی کی طرف اپنا ذہن نہیں لے جاتے تھے کہ اس مدعی نبوت یعنی محمد رسول اللہ ﷺ کا تعلق اللہ تعالیٰ کے ساتھ واقعی کچھ ہے یہ مرض صرف اس وقت کے یہود میں نہ تھا بلکہ آج بھی موجود ہے کہ غیر مسلم قومیں اس امکان کی طرف ذہن نہیں لے جاتیں کہ قرآن کریم انسانی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 77–79
Allah reminds the Jews that He is omniscient, and knows what they try to keep concealed as well as what they say or do openly. So, it would make no difference at all, if the hypocrites tried to conceal their infidelity from the Muslims, or the other group, not to disclose the verses of the Torah which speak of the Holy Prophet ﷺ . For, Allah Himself has, on different occasions, informed the Muslims in the Holy Qur'an as to the hypocrisy of certain Jews and as to the testimony of the Torah also.
Verse 77 deals with the educated ones among the Jews, while Verse 78 speaks of those who were…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 76–77
88. When the Jews talked among themselves they asked their co-religionists to disclose to the Muslims neither the prophesies about the Prophet, nor those verses of the Scriptures on the basis of which they could be reproached for their evil conduct; they thought that the Muslims would make use of scriptural arguments against them before God, and would thus have them pronounced guilty. These were the depths to which Jewish relivious decadence had sunk. They were convinced that if they could succeed in concealing their guilt in this world, they would be saved from censure in the Next. For this…
Read the full tafseer →