Explained with ayahs 75–77
یہودی کردار کا تجزیہ
اس گمراہ قوم یہود کے ایمان سے اللہ تعالیٰ اپنے نبی ﷺ اور آپ کے صحابہ کو ناامید کر رہے ہیں جب ان لوگوں نے اتنی بڑی نشانیاں دیکھ کر بھی اپنے دل سخت پتھر جیسے بنا لئے اللہ تعالیٰ کے کلام کو سن کر سمجھ کر پھر بھی اس کی تحریف اور تبدیلی کر ڈالی تو ان سے تم کیا امید رکھتے ہو ؟ ٹھیک اس آیت کی طرح اور جگہ فرمایا (فَبِمَا نَقْضِهِمْ مِّيْثَاقَهُمْ لَعَنّٰهُمْ وَجَعَلْنَا قُلُوْبَهُمْ قٰسِـيَةً) 5۔ المائدہ :13) یعنی ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت کی اور ان کے دل سخت کر دئے یہ اللہ کے کلام کو رد و بدل کر ڈالا کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں یہاں اللہ تعالیٰ نے کلام…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 86
یہ خطاب مدینے کے ان نَو مسلموں سے ہے جو قریب کے زمانے ہی میں نبی عربی ﷺ پر ایمان لائے تھے۔ ان لوگوں کے کان میں پہلے سے نبوّت، کتاب، ملائکہ، آخرت، شریعت وغیرہ کی جو باتیں پڑی ہوئی تھیں، وہ سب انہوں نے اپنے ہمسایہ یہودیوں ہی سے سنی تھیں۔ اور یہ بھی انہوں نے یہودیوں ہی سے سنا تھا کہ دنیا میں ایک پیغمبر اور آنے والے ہیں، اور یہ کہ جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ یہی معلومات تھیں جن کی بنا پر اہل مدینہ نبی ﷺ کی نبوت کا چرچا سن کر آپ ﷺ کی طرف خود متوجہ ہوئے اور جوق در جوق ایمان لائے۔ اب وہ متوقع تھے کہ جو لوگ پہلے ہی سے انبیا اور کتب آسمانی کے پیرو ہیں اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(مسلمان یہودیوں کو مومن بنانے کی جو کوشش کر رہے تھے اور اس میں کلفت اٹھاتے تھے تو یہود کے حالات و واقعات بتا اور سنا کر مسلمانوں کو امید کا انقطاع کرکے ان کی کلفت اس آیت کے ذریعہ فرماتے ہیں)
(اے مسلمانو !) کیا (یہ سارے قصے سن کر) اب بھی تم توقع رکھتے ہو کہ یہ (یہودی) تمہارے کہنے سے ایمان لے آویں گے حالانکہ (ان سب مذکورہ قصوں سے بڑھ کر ایک اور بات بھی ان سے ہوچکی ہے کہ) ان میں کچھ لوگ ایسے گذرے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے اور اس کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے (اور) اس کو سمجھنے کے بعد (ایسا کرتے) اور لطف یہ کہ یہ بھی) جانتے تھے (کہ ہم برا کر رہے ہیں محض اغراض نفسانیہ اس کاروائی…
Read the full tafseer →یہود سے خطاب کے بیچ میں یہ مسلمانوں کی طرف اسی طرح کا التفات ہے جس طرح کا التفات آیات ۶-۷ میں آنحضرت ﷺ کی طرف اور آیات ۲۱-۲۹ میں بنی اسمٰعیل کی طرف گزرا ہے۔ اس التفات کے دو مقصد ہیں۔ ایک تو مسلمانوں کو یہ اطمینان دلانا کہ وہ بنی اسرائیل کی مخالفت سے نہ بددل ہوں اور نہ اس پر متعجب کہ یہ پڑھے لکھے اور دین وشریعت کے عالم لوگ اس دعوت کی مخالفت کر رہے ہیں۔ جن لوگوں کے ذہن ایسے ٹیڑھے واقع ہوئے ہیں کہ ایک بات کو اپنے نبی کی زبان سے سننے اور اس کا مدعا واضح طور پر سمجھ چکنے کے بعد بھی اس میں ٹیڑھ پیدا کرتے رہے اور اس کو اس کے منشا کے بالکل خلاف سمت میں موڑتے رہے ہیں، جیسا کہ گائے کی قربانی کے حکم کے…
Read the full tafseer →75۔ 1 اہل ایمان کو خطاب کر کے یہودیوں کے بارے کہا جا رہا ہے کیا تمہیں ان کے ایمان لانے کی امید ہے حالانکہ ان کے پچھلے لوگوں میں ایک فرق ایسا بھی تھا جو کلام الٰہی جانتے بوجھتے تحریف کرتا تھا۔ یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی قطعا امید نہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ جو لوگ دنیوی مفادات یا حزبی تعصبات کی وجہ سے کلام الٰہی میں تحریف تک کرنے سے گریز نہیں کرتے وہ گمراہی کی ایسی دلدل میں پھنس جاتے ہیں کہ اس سے نکل نہیں پاتے۔ امت محمدیہ کے بہت سے علماء و مشائخ بھی بدقسمتی سے قرآن اور حدیث میں تحریف کے مرتکب ہیں۔ اللہ تعالیٰ اس جرم سے محفوظ رکھے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
54: یعنی بعض مرتبہ تو پتھروں سے چشمے نکل آتے ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل خود دیکھ چکے تھے کہ کس طرح ایک سنگلاخ چٹان سے پانی کے چشمے بہہ پڑے تھے (دیکھئے پیچھے آیت نمبر 60) اور بعض اوقات بھاری مقدار میں تو پانی نہیں نکلتا مگر پتھر شق ہو کر تھوڑا بہت پانی نکال دیتا ہے اور کچھ پتھر اللہ کے خوف سے لڑھک بھی پڑتے ہیں مگر ان کے دل ایسے سخت ہیں کہ ذرا نہیں پسیجتے۔ کسی زمانے میں یہ بات کچھ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ پتھر جیسی بےجان چیز میں خوف کا کیا تصور ہوسکتا ہے ؟ لیکن قرآن کریم نے کئی جگہوں پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ جن چیزوں کو ہم بظاہر بےجان یا بےشعور سمجھتے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ شعور…
Read the full tafseer →گزشتہ درس کے آخر میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے قلوب کی حالت کا جو نقشہ کھینچا تھا۔ اس سے ہمیں معلوم ہوا تھا کہ وہ نہایت سنگدل ، خشک اور ناقابل تغیر دل و دماغ کے مالک ہیں ۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کو ایسے پتھروں سے تشبیہ دی تھی جو نہایت ہی ٹھوس تھے اور جن میں پانی کا کوئی قطرہ برآمد نہ ہوتا تھا ۔ اس قدر کھردرے تھے کہ انسان ان پر سہولت سے ہاتھ نہیں پھیر سکتا تھا ۔ ان کے اندر کسی چیز کا اگنا یا ان کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونا تو یہ سرے سے ممکن ہی نہ تھا۔
یہ ایک ایسی تصویر ہے جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ اپنے اس جامد دماغ ایسی پست فطرت اور ایسی بےلچک متعصبانہ ذہنیت کی وجہ سے اس قابل ہی نہیں…
Read the full tafseer →1 فریق سے مراد وہ لوگ ہیں جو کوہ طور پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کلام الٰہی سننے کے لیے گئے تھے " انہوں نے وہاں سے آکر یہ تحریف کی کہ بنی اسرائیل سے کہہ دیا کہ تمام کلام کے آخر میں ہم نے یہ بھی سنا کہ (کر سکو تو ان احکام کو کرلینا ورنہ ان کے ترک کا بھی تم کو اختیار ہے) اور بعض نے فرمایا کہ کلام الٰہی سے مراد تورات ہے اور تحریف سے مراد یہ ہے کہ (اس کی آیات میں تحریف لفظی و معنوی کرتے تھے) کبھی آپ کی نعت کو بدلا ' کبھی آیت رجم کو اڑا دیا وغیرہ۔
Read the full tafseer →اب تک ہم نے سورة البقرۃ کے آٹھ رکوع اور ان پر مستزاد تین آیات کا مطالعہ مکمل کیا ہے۔َ سابقہ امت مسلمہ یعنی بنی اسرائیل کے ساتھ خطاب کا سلسلہ سورة البقرۃ کے دس رکوعوں پر محیط ہے۔ یہ سلسلہ پانچویں رکوع سے شروع ہوا تھا اور پندرہویں رکوع کے آغاز تک چلے گا۔ اس سلسلۂ خطاب کے بارے میں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ اس میں سے پہلا رکوع دعوت پر مشتمل ہے اور وہ بہت فیصلہ کن ہے ‘ جبکہ اگلے رکوع سے اسلوب کلام تبدیل ہوگیا ہے اور تہدید اور دھمکی کا انداز اختیار کیا گیا ہے۔ میں نے عرض کیا تھا کہ پانچواں رکوع اس پورے سلسلۂ خطاب میں بمنزلۂ فاتحہ بہت اہم ہے اور جو بقیہ نو 9 رکوع ہیں ان کے آغاز و اختتام…
Read the full tafseer →89 نبی آخر الزمان ﷺ سے متعلقہ آیات کو چھپانا اور ان میں تحریف :۔ یہ خطاب دراصل مدینہ کے سادہ دل نو مسلموں سے ہے جو یہود سے کئی بار یہ سن چکے تھے کہ ایک نبی آخر الزمان ﷺ آنے والا ہے اور جو لوگ ان کا ساتھ دیں گے وہ ساری دنیا پر چھا جائیں گے۔ اب یہ لوگ تو ایمان لے آئے مگر یہود نے یہ کام کیا کہ تورات میں جو حلیہ نبی آخر الزمان ﷺ کا مذکور تھا۔ اس میں تحریف کر ڈالی اور ایمان نہ لانے کی وجہ یہ بتائی کہ اس کا حلیہ تورات میں مذکور حلیہ سے مختلف ہے۔
Read the full tafseer →260 ۔ (اے مسلمانو ! اسرائیلیوں کی ان ساری بدکرداریوں کی روداد سننے کے بعد بھی) خطاب اس آیت میں اسرائیلیوں سے نہیں مسلمانوں سے ہے۔ حسن بصری (رح) تابعی کا قول ہے کہ اس کے مخاطب رسول اللہ ﷺ اور مومنین ہیں (کبیر) قال القاضی وھذا التی بالظاہر (کبیر) یرید محمد و اصحابہ (معالم) (آیت) ” افتطمعون “ میں جو ہمزۂ استفہامی ہے، اس کا مقصود استبعاد ہے یعنی بھلا ایسا بھی کہیں ہوسکتا ہے ؟ الھمزۃ لانکار الواقع استبعادہ (ابو سعود) الاسفتھام لاستبعاد اوللانکار التوبیخی (روحی) تطمعون۔ طمع کے عام معنی لالچ کرنے، حرص رکھنے کے ہیں، لیکن دوسرے معنی امید و توقع کے بھی ہیں۔ اور وہی یہاں مراد ہیں۔ طمع فیہ وبہ اے حرص…
Read the full tafseer →اَفَقَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا، (الآیہ) مومنین کو خطاب کرکے بنی اسرائیل کی بابت کہا جا رہا ہے کہ کیا تمہیں ان کے ایمان لانے کی امید ہے ؟ حالانکہ ان کے پچھلے بزرگوں میں ایک فریق ایسا بھی تھا کہ جو کلام الہٰی (تورات) میں دیدہ دانستہ تحریف کرتا تھا، یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسے لوگوں کے ایمان لانے کی قطعاً امید نہیں، فریق سے مراد وہ ستراکابر بنی اسرائیل بھی ہوسکتے ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر کلام الہٰی سننے کے لئے گئے تھے اور واپس آکر شہادت دیتے وقت یہ بھی اضافہ کرکے کہہ دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرما دیا ہے کہ جتنا ہوسکے عمل کرنا اور نہ ہوسکے تو معاف ہے۔…
Read the full tafseer →اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ ( مسلمانو ! ) کیا تم توقع رکھتے ہو کہ ( یہود) تمہاری بات مان لیں گے اَفَتَطْمَعُوْنَ یہ خطاب ہے تمام مؤمنین اور رسول اکرم ﷺ کو یُوْمِنُوْا کی ضمیر یہود کی طرف راجع ہے لَکُمْ یعنی تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے یا یہ مطلب کہ تمہاری تصدیق کریں گے۔
وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللّٰهِ ( حالانکہ ان ہی میں ایسے لوگ بھی تھے جو اللہ کا کلام سنتے) کلام اللہ سے مراد تورات ہے۔
ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْهُ ( پھر اسے سمجھے پیچھے بدل ڈالتے) یعنی وہ اسے بلاشک وہ شبہ سمجھ گئے اور پھر تحریف کردی جیسا کہ ہمارے حضرت محمد ﷺ…
Read the full tafseer →(75) اب یہود میں سے جو لوگ منافقین ہیں یا نچلے طبقہ کے لوگ ہیں، اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب یہ لوگ حضرت ابوبکر صدیق ؓ اور جماعت صحابہ ؓ سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم تمہارے نبی پر ایمان لائے اور ان کی جو نشانیاں ہماری کتابوں میں درج ہیں اس کی ہم تصدیق کرتے ہیں اور جب یہ نچلے طبقہ کے لوگ اپنے سرداروں کے پاس جاتے ہیں تو ان کے سردار جب ان سے پوچھتے ہیں کہ کیا تم حضور ﷺ اور آپ کے صحابہ کرام ؓ کے پاس وہ باتیں بیان کرتے ہو جو اللہ تعالیٰ نے تمہاری کتاب میں رسول اللہ ﷺ کے متعلق اور آپ کے اوصاف کے متعلق بیان فرمائی ہیں تاکہ وہ تمہارے پروردگار کے سامنے تم سے جھگڑیں کیا تم سمجھ داری سے بالکل…
Read the full tafseer →یہ خطاب مسلمانوں سے ہے کہ یہود سے ایمان کی توقع بےسود ہے، ان کے پہلے بزرگ یہ ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ اللہ کے کلام یعنی تورات میں تحریف کر ڈالتے تھے۔ اس جگہ لفظ تحریف لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف کو شامل ہے۔ انھوں نے تورات کے الفاظ بھی بدل ڈالے تھے، مگر زیادہ تر غلط تاویلوں سے معانی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے۔ موجودہ یہود نے تورات کی ان آیات کو بدل ڈالا جن میں رسول اللہ ﷺ کے اوصاف کا ذکر تھا اور اپنے دل سے حرام کو حلال اور حلال کو حرام ٹھہرا لیا۔ (ابن کثیر۔ قرطبی) آج کل کے باطل پرست علماء بھی اپنے خود ساختہ مسائل کو درست ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حوالہ جات قرآن و حدیث سے تراش رہے ہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 75
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : افتطمعون ان یؤمنوا لکم یہ استفہام ہے اس میں انکار کا معنی ہے۔ گویا مومنوں کو یہود کے اس ٹولہ کے ایمان سے مایوس کرنا ہے یعنی اگر انہوں نے کفر کیا ہے تو ان کے لئے اس میں پہلے مثال موجود ہے۔ خطاب نبی کریم ﷺ کے اصحاب کو ہے۔ یہ واقعہ اس طرح ہے کہ انصار یہود کے اسلام قبول کرنے کے حریص تھے کیونکہ ان کے درمیان حلف اور معاہدہ تھا (3) ۔ بعض نے فرمایا : خطاب صرف نبی کریم ﷺ کو ہے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے، یعنی آپ پریشان نہ ہوں اس پر کہ وہ آپ کو جھٹلا رہے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو بتا دیا کہ یہ ان برے لوگوں میں سے ہیں جو…
Read the full tafseer →(1) امام ابن اسحاق اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو اور اس کے ساتھ جو ایمان والے تھے ان کو (کافروں سے) ناامید کرتے ہوئے فرمایا لفظ آیت ” افتطمعون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلم اللہ “ (کیا تم اس بات پر امید رکھتے ہو کہ تمہارے لئے ایمان لائیں گے) ۔ یعنی انہوں نے تورات کو سنا تھا لیکن پھر بھی انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے اپنے رب کی روایت کے بارے میں سوال کیا پس اس گستاخی پر ان کو سخت کڑک نے پکڑ لیا۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” افتطمعون ان یؤمنوا لکم ......“ (الآیہ) یعنی جو لوگ تورات میں تحریف…
Read the full tafseer →[ اَفَتَطْمَعُوْنَ : تو کیا تم لوگ آرزو کرتے ہو ] [ اَنْ يُّؤْمِنُوْا : کہ وہ لوگ مان لیں ] [ لَكُمْ : تمہاری بات ] [ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ: درآں حالیکہ ایک ایسا فریق ہے ] [ مِّنْھُمْ : ان میں ] [ يَسْمَعُوْنَ : جو سنتے ہیں ] [ كَلٰمَ اللّٰهِ : اللہ کے کلام کو ] [ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ : پھر وہ جھکاتے (بدلتے ) ہیں اس کو ] [ مِنْۢ بَعْدِ : اس کے بعد ] [ مَا : کہ جو ] [ عَقَلُوْهُ : انہوں نے سمجھا اس کو ] [ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ : اس حال میں کہ وہ جانتے ہیں ]
Read the full tafseer →یہودیوں میں عناد ہے ان سے ایمان قبول کرنے کی امید نہ رکھی جائے
اس آیت کریمہ میں مسلمانوں کی یہ امید اور آرزو ختم فرمادی کہ یہودی ایمان لائیں گے اور فرمایا کہ ان کے اسلاف کا یہ حال تھا کہ اللہ کا کلام سنتے تھے۔ پر جانتے بوجھتے اور سمجھتے ہوئے اس میں تحریف کردیتے تھے اور یہ لوگ ان پر اب تک کوئی نکیر نہیں کرتے اور طریقہ کار کو غلط نہیں بتاتے بلکہ ان سے محبت اور تعلق میں بہت آگے ہیں۔ اور جس طرح ان لوگوں نے اپنے اپنے زمانہ میں آیات بینات کا کھلا مشاہدہ کیا پھر بھی اپنے نبیوں کی تکذیب کی اور اللہ کے کلام کی تکذیب کی اسی طرح یہ لوگ بھی معجزات اور دلائل اور شواہد دیکھتے ہیں لیکن ٹس سے مس نہیں ہوتے…
Read the full tafseer →شناعت ششم
متضمن بدفع کلفت ناصحین مشففقین از انتظار وطمع ایمان معاندین
قال تعالی۔ افتطمعون ان یؤمنوا لکم۔۔۔ الی۔۔۔ وھم یعلمون
گزشتہ آیات میں یہود کی قساوت کو بیان فرمایا۔ اب ان مسلمانوں کو خطاب فرماتے ہیں جو ازراہ شفقت ان کو وعظ ونصیحت کرتے رہتے تھے اور ہر وقت اس فکر میں رہتے تھے کہ یہ کسی طرح ایمان لے آئیں مسلمانوں کو گمان یہ تھا کہ یہود توحید اور انبیاء کرام کی نبوت کے قائل ہیں شاید یہ لوگ ایمان لے آئیں اللہ تعالیٰ نے ان کی امید قطع کرنے کے لیے فرمایا کہ ان کی قساوت انتہاء کو پہنچ چکی ان سے ایمان کی طمع مت رکھو۔ افتطعمون ان یؤمنوا لکم وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یعرفونہ من بعد ما…
Read the full tafseer →ف 149 ۔ یہاں ہمزہ استفہام انکار وتوبیخ کے لیے اور خطاب حضرت محمد رسول اللہ ﷺ اور مسلمانوں کو ہے مطلب یہ کہ آپ ان یہود سے یہ توقع نہ رکھیں کہ یہ ایمان لے آئیں گے کیونکہ ان کے اس وقت یہ پانچ گروہ ہیں اور ان سب کی خباثت اس حد تک پہنچ چکی ہے کہ ان سے ایمان کی توقع بیکار ہے۔ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ ۔ اس فریق سے یہود کے وہ علمائ مراد ہیں جوحضور ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے۔ المراد بالفریق من کان فی زمن محمد (علیہ الصلوۃ والسلام) (کبیر ص 575 ج 1) قال مجاھد الذین یحرفونہ والذین یکتمونہ ھم العلمائ منھم (ابن کثیر ص 115 ج 1) اور کلام اللہ سے مراد توراۃ ہے ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَهٗ ۔ یہود کے علمائ اچھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
ربط آیات : گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا تذکرہ ہوچکا ہے حتیٰ کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ بہت سی نشانیاں دیکھنے کے بعد بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوگئے۔ فرمایا بعض پتھر بھی مفید ہوتے ہیں۔ مگر یہ قوم تو ان پتھروں سے بھی بدتر ہے یہ اللہ تعالیٰ کے احکام سے غافل ہیں۔ مگر اللہ تعالیٰ ان کے اعمال سے غافل نہیں ہے۔ ان کے سب کام اس کے علم میں ہیں۔ آیات زیر درس میں بھی یہودیوں کی بعض دوسری خرابیوں کا ذکر ہے۔ مگر یہاں روئے سخن مسلمانوں کی طرف ہے۔
یہود کی طرف سے نا امیدی : ارشاد ہوتا ہے “ افتطمعون ان یؤمنوا لکم ” یعنی اے اہل ایمان ! کیا تم توقع کرتے ہو کہ…
Read the full tafseer →اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ يُّؤْمِنُوْا لَكُمْ وَقَدْ كَانَ فَرِيْقٌ مِّنْھُمْ يَسْمَعُوْنَ كَلٰمَ اللہِ ثُمَّ يُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْۢ بَعْدِ مَا عَقَلُوْہُ وَھُمْ يَعْلَمُوْنَ 75
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
ترکیب : ان یؤمنوا میں حرف جر محذوف ہے تقدیرہ فی ان یومنوا وقد کان جملہ حالیہ ہے تقدیرہ افتطمعون فی ایمانھم و شانھم الکذب و التحریف منھم موضع رفع میں ہے صفت ہے فریق کی اور یسمعون الخ جملہ کان کی خبر اور فریق اسم ہے اذا حرف شرط لقوا الخ شرط قالوا آمنا جواب شرط اور اسی طرح اذا خلا بعضہم الخ شرط قالو الخ جواب شرط بما فتح اللہ میں ماموصولہ ہے اور ممکن ہے کہ موصوفہ اور مصدریہ ہو۔
تفسیر : خدا تعالیٰ مسلمانوں کو تسلی دیتا ہے کہ تم ان یہودیوں سے کیا امید رکھتے ہو کہ وہ دین اسلام قبول کریں گے ان سے یہ امید نہ رکھو کس لیے کہ وہ شریر قوم ہے کہ جس میں ایسے لوگ بھی تھے کہ جو کلام خدا سن کر اور خوب سمجھ کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
اَفَتَطْمَعُوْنَ اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ مِنْم بَعْدِ مَاعَقَلُوْہُ وَھُمْ یَعْلَمُوْنَ ۔ وَاِذَا لَقُوْ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا قَالُوْٓا اٰمَنَّاج وَاِذَا خَلَا بَعْضُھُمْ اِلٰی بَعْضٍ قَالُوْٓا اَتُحَدِّثُوْنَہُمْ بِمَا فَتَحَ اللّٰہُ عَلَیْکُمْ لَیُحَآجُّوْکُمْ بِہٖ عِنْدَ رَبِّکُمْ ط اَفَلاَ تَعْقِلُوْنَ ۔ اَوَلَا یَعْلَمُوْنَ اَنَّ اللّٰہَ یَعْلَمُ مَایُسِرُّوْنَ وَمَا یُعْلِنُوْنَ ۔
تو کیا تم اس کی توقع رکھتے ہو کہ وہ لوگ تمہارے (کہنے سے) ایمان لے آئیں گے، دراں حالانکہ ان میں ایسے لوگ بھی ہیں کہ اللہ کا…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : جن کے دلوں پر مہر قساوت لگ چکی ہو ان سے ایمان لانے کی توقع کرنا عبث ہے۔
اے امت محمدیہ کے لوگو ! کیا تم اب بھی بہانہ باز، پتھر دل اور کلام اللہ کی تحریف کرنے والے لوگوں سے ایمان لانے کی امید باندھے ہوئے ہو ؟ حالانکہ ان کے جرائم اور عادات کا تفصیلی ریکارڈ تمہارے سامنے رکھ دیا گیا ہے۔ ایسے لوگوں سے ایمان اور خیر کی توقع رکھنا فضول ہے جو جان بوجھ کر قرآن مجید کا مفہوم ہی نہیں بدلتے بلکہ انہوں نے تورات و انجیل کے الفاظ تک بدل ڈالے ہیں۔ جس سے تورات و انجیل کے نزول کا مقصد فوت ہوگیا۔ یہودیوں نے تورات میں قطع و بریدکر کے بیت اللہ کے ساتھ اس کے بانی حضرت ابراہیم (علیہ السلام) کا…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 75:
اَفَتَطْمَعُوْنَ : (کیا تم توقع رکھتے ہو) یہ خطاب رسول اللہ ﷺ اور مؤمنین کو فرمایا۔
اَنْ یُّؤْمِنُوْا لَکُمْ : (کہ وہ تم پر اعتماد کریں) کہ تمہاری دعوت کی وجہ سے ایمان لے آئیں گے۔ اور تمہاری بات قبول کرلیں گے۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے سورة العنکبوت آیت نمبر 26 میں فرمایا فاٰمن لہٗ لوط (ان کی دعوت پر لوط ایمان لائے) یعنی یہ یہود۔
وَقَدْ کَانَ فَرِیْقٌ مِّنْھُمْ : (حالانکہ ان میں ایک جماعت ایسی ہے) یعنی ان میں سے جو گزرے ایک گروہ ہے
یَسْمَعُوْنَ کَلَامَ اللّٰہِ : (جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے ہیں) یعنی تورات
ثُمَّ یُحَرِّفُوْنَہٗ : (پھر اس کو بدل دیتے ہیں) جس طرح انہوں نے صفات رسول…
Read the full tafseer →(تفسیر) 75۔ـ:
(آیت)” افتطمعون “ کیا تم امید رکھتے ہو مراد حضور اقدس ﷺ اور حضور ﷺ کے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ عنہم اجمعین ہیں (آیت)” ان یومنوا لکم “ یہود تمہاری تصدیق کریں گے ، اس بات کی جو تم ان کو خبردیتے ہیں ؟ـ (آیت)” وقد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ “ یعنی تورات ” ثم یحرفونہ “ اس میں جو احکام ہوتے ان کو بدل ڈالتے ۔ (آیت)” من بعد ماعقلوہ “ اس کو جاننے (کے بعد) حضور ﷺ کی صفت کو انہوں نے بدلا اور آیت رجم میں تبدیلی کی (آیت)” وھم یعلمون “۔ کہ بیشک وہ جھوٹے ہیں ، یہ قول مجاہد ، (رح) قتادہ (رح) عکرمہ (رح) سدی (رح) اور ایک جماعت کا ہے اور حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ نے فرمایا اور مقاتل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
(75 ۔ 77): اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کی اطراف میں جو یہود رہتے تھے ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی قدرت کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کو یہ توقع ہوتی تھی کہ ملنے جلنے کا اثر شایدیہ ہو کہ رفتہ رفتہ حق بات ان کے دل میں گھر کر جاوے اور راہ راست پر آن کر یہ لوگ شرع محمدی کے تابع ہوجائیں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان یہود لوگوں سے شرع محمدی کے تابع ہوجانے کی توقع بالکل بےسود ہے۔ انہوں نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–78
آیت 75 تا 78
یہاں اہل کتاب کے ایمان لانے کے بارے میں اہل ایمان کی امیدوں کو ختم کردیا ہے کہ تم ان کے ایمان کی امید نہ رکھو۔ ان کے اخلاق ایسے ہیں جو ان کے ایمان کی امید کے متقاضی نہیں، کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے کلام کو سمجھ کر اور جان بوجھ کر اس کے معانی میں تحریف کرتے ہیں۔ پس وہ اس کے لئے ایسے معانی اور مفاہیم وضع کرتے ہیں جو اللہ تعالیٰ کی مراد نہیں ہیں تاکہ لوگ اس وہم میں مبتلا ہوں کہ یہ مفاہیم اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں۔ حالانکہ یہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہرگز نہیں۔ پس جب ان کی اس کتاب کے بارے میں یہ حالت ہے جسے وہ اپنے لئے باعث شرف اور اپنا دین قرار دیتے ہیں اور اس کتاب کے ذریعے سے وہ لوگوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
213 بنی اسرائیل کے دلوں کی سختی کا بیان : اور اپنی اسی قساوت قلبی کی بناء پر تم لوگوں نے ان نشانہائے قدرت سے کوئی سبق نہیں لیا، حالانکہ ان میں سے ایک ایک نشانی ایسی تھی کہ اس سے تمہارے دل گداز ہوجاتے، تم اپنے خالق ومالک کے حضور پگھل پگھل جاتے، ایمان و یقین کا نور تمہارے رگ و ریشہ میں سرایت کرجاتا، اور تم اپنے رب کے اوامرو ارشادات کے آگے صدق دل سے سرتسلیم خم ہوجاتے، خاص کر ذبح بقرہ اور احیائ مقتول کی اس صاف وصریح نشانی کے بعد، جس سے تم نے اپنے رب کی قدرت مطلقہ، اپنے پیغمبر کی صداقت و حقانیت اور بعث بعد الموت سے متعلق ایک صاف وصریح نمونہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا، مگر تمہارے دل ہیں کہ اس سب…
Read the full tafseer →کلام اللہ میں تحریف
تشریح : یہ خطاب مدینہ کے ان نو مسلموں سے ہے جو یہودیوں کے ہمسایہ میں رہتے تھے وہ یہودیوں سے نبوت، ملائکہ، آخرت، شریعت اور نبی ﷺ کی نبوت کے بارے میں سن چکے تھے یہی وجہ تھی کہ وہ یہودیوں سے اسلام قبول کرنے کی توقع رکھتے تھے تو اللہ تعالیٰ ان نو مسلموں کو سمجھاتے ہیں کہ جس قدر ان کے بارے میں بتایا جا چکا ہے اس سے ثابت ہوتا ہے کہ یہ پتھر دل اور ہٹ دھرم نافرمان قوم ہے، یہ کبھی بھی راہ راست پر آنے والے نہیں بلکہ ان میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو بڑے علماء اور فقہاء ہیں ان کا کام حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ میں اور بعد میں بھی یہی تھا کہ وہ اللہ کا کلام سننے کے بعد حاملین…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →ف 4 یہ خطاب مسلما نوں سے ہے کہ یہود سے ایمان کی تو قع بےسود ہے ان کے اسلاف یہ ہیں کہ وہ دیدہ و دانستہ کلام اللہ یعنی تورات میں تحریف کر ڈالتے تھے۔ اس جگہ لفظ تحریف لفظی اور معنوی دونوں قسم کی تحریف کی شامل ہے انہوں نے تورات کے الفاظ بھی بدل ڈالے تھے مگر زیادہ ترغلط تاویلوں سے معانی تبدیل کرنے کی کوشش کرتے تھے موجود یہود کے علماء نے ان آیات تورات کو بد ڈلا تھا جن میں آنحضرت ﷺ کے اوصاف مذکور اور اپنے دل سے حلال کو حرام اور حرام کو حلال ٹھہرا دیا ہے۔ ملخص ابن کثیر وقرطبی) آجکل کے باطل پرست علماء بھی اپنے مز عومہ مسائل کی صحت ثابت کرنے کے لیے ہر قسم کے حوالہ جات قرآن حدیث سے تراش رہے ہیں اور…
Read the full tafseer →(2:75) افتطمعون ، ہمزہ استفہامیہ ۔ فاء عاطفہ (ملاحظہ ہو۔ 2:44) تطمعون مضارع جمع مذکر حاضر طمع مصدر (باب فتح) تم توقع رکھتے ہو۔ تم طمع رکھتے ہو۔
ان یؤمنوا۔ اس سے قبل حرف جر محذوف ہے۔ تقدیر کلام یہ ہے فی ان یؤمنوا ۔ ان مصدر یہ ہے ۔ یؤمنوا۔ مضارع منصوب جمع مذکر حاضر، تقدیر کلام افتطمعون فی ایمانھم ۔ جملہ ان یؤمنوا ۔۔ وھم یعلمون ۔ اپنی تمام تراکیب نحوی کے ساتھ مفعول ہے تطمعون کا (تفصیل کے لئے ملاحظہ ہو اگلا صفحہ) آیت میں خطاب مسلمانوں سے ہے اور بیان یہودیوں کا ہے۔
کلام اللہ ای التوراۃ۔
یحرفونہ ۔ یحرفون مضارع جمع مذکر غائب۔ تحریف (تفعیل) مصدر سے۔ بگاڑ دیتے ہیں، بدل دیتے ہیں۔ یہ تحریف معنوی بھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–79
لغات القرآن : آیت نمبر 75 تا 79
افتطمعون (کیا پھر تم توقع رکھتے ہو۔ (1، کیا، ف، پھر تطمعون، تم توقع رکھتے ! ) ۔ ان یؤمنوا (یہ کہ وہ ایمان لائیں گے) ۔ فریق (ایک جماعت) ۔ یسمعون ( وہ سنتے ہیں) ۔ یحرفون (وہ بدل ڈالتے ہیں) ۔ عقلوہ (جس کو انہوں نے سمجھ لیا) ۔ اتحدثون (کیا تم ان کو بتا دیتے ہو۔ (ا، کیا، تحدثون، تم بتاتے ہو، ھم، ان کو) ۔ فتح اللہ (اللہ نے کھول دیا) ۔ لیحاجوکم (تا کہ وہ تم سے جھگڑیں۔ (ل، تا کہ یحاجون، وہ جھگڑیں، کم ، تم سے) ۔ یسرون (وہ چھپاتے ہیں) ۔ تعلنون (وہ اعلان کرتے ہیں، ظاہر کرتے ہیں) ۔ امیون (جاہل ، ان پڑھ، (امی، ان پڑھ) ۔ امانی (تمنائیں (امنیۃ کی جمع ہے) ۔ یظنون (وہ گمان کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–77
شان نزول : اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کی سخت دلی کا ذکر فرمایا تھا کہ مدینے کے اطراف میں جو یہود رہتے ہیں ان کے بڑوں سے یہ بات چلی آتی ہے کہ جوں جوں اللہ تعالیٰ کی نشانیاں یہ لوگ دیکھتے ہیں ان کے دل اور سخت ہوتے جاتے ہیں ۔ اب مدینہ کے اطراف کے یہود لوگ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اکثر ملتے جلتے رہتے تھے جس سے صحابہ کرام کو یہ توقع ہوتی تھی کہ راہ راست پر آکر یہ لوگ شرع محمدی ﷺ کے تابع ہوجاویں گے ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ آیتیں نازل فرمائیں اور فرمایا کہ ان لوگوں سے یہ توقع بالکل بےسود ہے ۔ انہوں نے تو شریعت موسوی کا بھی یہ کھو جڑا کھویا ہے (حشر کیا) کہ توریت کی اکثر آیتیں…
Read the full tafseer →[53] کچھ کا کچھ کردینے میں لفظوں کا ردوبدل اور معنوں کا ہیرپھیر دونوں باتیں شامل ہیں۔
Read the full tafseer →تحریف بائبل :
(ف 1) یہودیوں میں ایک جماعت ایسی بھی تھی جن کا وظیفہ حیات احکام خدا وندی میں تحریف کرنا تھا ، ادھر وہ کلام الہی کو سنتے ، ادھر اپنی مرضی کے موافق ڈھال لیتے ، نتیجہ یہ ہوا کہ بائبل ایک غیر محفوظ کتاب ہو کر رہ گئی ، موجودہ بائبل ہر طرح مشکوک ہے ، صحائف کی تعداد میں اختلاف ہے یقین میں اختلاف ہے اور پھر خود توریت کے بعض حصوں سے معلوم ہوتا ہے کہ بعض صحیفے ضائع ہوگئے ہیں بخت نصر نے جب یروشلم میں آگ لگا دی ، بنی اسرائیل کی کثیر تعداد کو ما ڈالا اور بائبل کے تمام نسخوں کو جلا دیا تو عزرا نامی ایک شخص نے از سر نو بطور یاد دا اشت کے چند کتابیں لکھیں ، یہی موجودہ توریت ہے ، اس لئے یہ کسی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 75–76
ف 3 کیا اے مسلمانو ! تم اب بھی اس کی امید کرتے ہو کہ یہ یہودی تمہاری بات مان لیں گے اور تمہارے کہنے سے ایمان لے آئیں گے حلاان کہ ان میں تو کچھ لوگ ایسے بھی تھے جو اللہ تعالیٰ کا کلام سنتے تھے پھر اس کو سمجھنے کے بعد اس میں تحریف و تغیر کردیا کرتے تھے اور اس کلام کو کچھ کا کچھ کر ڈالتے تھے اور کمال یہ ہے کہ اس فعل کی برائی کو جانتے بھی تھے اور جب ان یہودیوں کے منافق لوگ اہل ایمان حضرات سے ملتے ہیں تو اپنے ایمان کا اقرار اور اظہار کرتے ہوئے کہتے ہیں ہم ایمان لے آئے اور جب یہ آپس میں ایک دوسرے کے پاس تنہا ہوتے ہیں اور تنہائی میں ایک دوسرے سے ملتے ہیں تو دوسرے کافر یہودی ان منافق یہودیوں سے کہتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
ف 4۔ اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کو بڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔
Read the full tafseer →جو کتاب اللہ میں تحریف کرنے سے باز نہیں آئے تم ان سے کیا توقع رکھتے ہو ؟ :
151: علماء کسی قوم سے تعلق رکھتے ہوں یعنی یہودیت ، عیسائیت یا اسلام سے ان کا اصل فرض تو یہ ہے کہ جس قدر صحیح تعلیم ان کے پاس ہے بغیر ردو بدل اور کمی و اضافہ لوگوں کے سامنے پیش کردیں ۔ یہود کے علماء اس بات سے واقف تھے کہ سر زمین حجاز میں نبی آخر الزمان کی بعثت ہوگی۔ انہیں اوس و خزرج کے مقابلہ میں جب کبھی شکست ہوتی تو ہمیشہ انہیں ڈراتے کہ وہ وقت بھی قریب ہے جب ہم اس نبی کے ساتھ مل کر تمہیں فنا کردیں گے چناچہ یہی تادیبی کلمات اوس و خزرج کے اسلام کا باعث بنے لیکن جس وقت آپ کی بعثت ہوئی تو چونکہ آپ ﷺ بنی اسرائیل میں نہیں…
Read the full tafseer →The Muslims used to take great pains in trying to make the Jews accept Islam. Having recounted so many stories of the perversity of the Jews, the Holy Qur'an points out to the Muslims that they cannot expect such a people to be sensible, and asks them not to worry much about them. For, some of the Jews have been committing an even more heinous sin - they used to change and distort the Word of Allah in spite of knowing the ignominy of such a deed. So, the Holy Qur'an wants the Muslims to realize that men who are so enslaved to their desires and so shameless in their pursuit of evil, cannot be…
Read the full tafseer →86. This is addressed to the converts of Madina, who had then lately embraced the faith of the Arabian Prophet. These people had some vague notions about Prophethood, Heavenly Scriptures, Angels, the After-life, Divine Law and so on, and for this they were indebted to their Jewish neighbours. It was from these same Jewish neighbours that they had heard that another Prophet was about to appear, and that his followers would prevail over the rest of the world.
It was partly because of this background that when the people of Madina heard about the Prophet, they readily turned towards him and…
Read the full tafseer →