پتھر دل لوگ
اس آیت میں بنی اسرائیل کو زجر و توبیخ کی گئی ہے کہ اس قدر زبردست معجزے اور قدرت کی نشانیاں دیکھ کر پھر بھی بہت جلد تمہارے دل سخت پتھر بن گئے۔ اسی لئے ایمان والوں کو اس طرح کی سختی سے روکا گیا اور کہا گیا آیت (اَلَمْ يَاْنِ لِلَّذِيْنَ اٰمَنُوْٓا اَنْ تَخْشَعَ قُلُوْبُهُمْ لِذِكْرِ اللّٰهِ وَمَا نَزَلَ مِنَ الْحَقِّ ۙ وَلَا يَكُوْنُوْا كَالَّذِيْنَ اُوْتُوا الْكِتٰبَ مِنْ قَبْلُ فَطَالَ عَلَيْهِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوْبُهُمْ ۭ وَكَثِيْرٌ مِّنْهُمْ فٰسِقُوْنَ) 57۔ الحدید :16) یعنی کیا اب تک وہ وقت نہیں آیا کہ ایمان والوں کے دل اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اللہ کے نازل کردہ حق سے کانپ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة الْبَقَرَة 85
اس مقام پر یہ بات تو بالکل صریح معلوم ہوتی ہے کہ مقتول کے اندر دوبارہ اتنی دیر کے لیے جان ڈالی گئی کہ وہ قاتل کا پتہ بتادے۔ لیکن اس غرض کے لیے جو تدبیر بتائی گئی تھی، یعنی ”لاش کو اس کے ایک حصّے سے ضرب لگاؤ ،“ اس کے الفاظ میں کچھ ابہام محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کا قریب ترین مفہُوم وہی ہے جو قدیم مفسرین نے بیان کیا ہے، یعنی یہ کہ اوپر جس گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اسی کے گوشت سے مقتول کی لاش پر ضرب لگانے کا حکم ہوا۔ اس طرح گویا بیک کرشمہ دوکار ہوئے۔ ایک یہ کہ اللہ کی قدرت کا ایک نشان انہیں دکھایا گیا۔ دوسرے یہ کہ گائے کی عظمت و تقدیس اور اس کی معبودیّت پر بھی ایک کاری…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
(گذشتہ واقعات سے متاثر نہ ہونے پر شکایت کے طور پر ارشاد ہوتا ہے) ایسے ایسے واقعات کے بعد (چاہئے تھا کہ تم لوگوں کے دل بالکل نرم اور حق تعالیٰ کی عظمت سے پر ہوجاتے لیکن) تمہارے دل پھر بھی سخت ہی رہے تو (یوں کہنا چاہئے کہ) ان کی مثال پتھر کی سی ہے یا (یوں کہئے کہ وہ) سختی میں ان سے (بھی) زیادہ (ہیں) اور زیادہ سخت اس وجہ سے کہا جاتا ہے کہ بعضے پتھر تو ایسے ہیں جن سے (بڑی بڑی) نہریں پھوٹ کر چلتی ہیں اور انہی پتھروں میں بعض ایسے ہیں کہ جو شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے (اگر زیادہ نہیں تو تھوڑا ہی) پانی نکل آتا ہے اور ان ہی پتھروں میں بعضے ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کے خوف سے اوپر سے نیچے لڑھک آتے…
Read the full tafseer →“پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے”۔ یہاں ثُمَّ کے استعمال سے یہ بات نکلتی ہے کہ دین کے معاملہ میں تمہاری اس قسم کی کٹھ حجتیوں اور فرار پسندیوں کا یہ نتیجہ نکلا کہ تمہارے دل سخت ہو گئے۔ یہاں اگرچہ تصریح نہیں ہے لیکن سیاق کلام دلیل ہے کہ بنی اسرائیل نے جس طرح گائے کے ذبح کے حکم کی تعمیل میں بہت سی حجتیں پیدا کیں اسی طرح اس کے ذبح کے بعد بھی اس قربانی کا صحیح احترام ملحوظ نہیں رکھا بلکہ جھوٹی قسمیں کھا کر قاتل کو چھپانے کی کوشش کی۔ کسی جرم کے ساتھ جب حیلہ بازی اور کٹھ حجتی اور پھر مزید براں ڈھٹائی اور جسارت بھی شامل ہو جائے تو ایسے مجرموں کے دل خدا کے قانون کے مطابق پتھر کے مانند سخت ہو جایا…
Read the full tafseer →74۔ 1 یعنی گزشتہ معجزات اور یہ تازہ واقعہ کہ مقتول دوبارہ زندہ ہوگیا دیکھ کر بھی تمہارے دلوں کے اندر توبہ اور استغفار کا جذبہ۔ بلکہ اس کے برعکس تمہارے دل پتھر کی طرح سخت بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے اس کے بعد اس کی اصلاح کی توقع کم اور مکمل تباہی کا اندیشہ زیادہ ہوجاتا ہے اس لئے اہل ایمان کو خاص طور پر تاکید کی گئی ہے کہ اہل ایمان ان لوگوں کی طرح نہ ہوجائیں جن کو ان سے قبل کتاب دی گئی لیکن مدت گزرنے پر ان کے دل سخت ہوگئے۔
74۔ 2 پتھروں کی سنگینی کے باوجود ان سے جو فوائد حاصل ہوتے ہیں اور جو کیفیت ان پر گزرتی ہے اس کا بیان ہے۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ پتھروں کے اندر بھی ایک قسم کا ادراک اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
54: یعنی بعض مرتبہ تو پتھروں سے چشمے نکل آتے ہیں جیسا کہ بنی اسرائیل خود دیکھ چکے تھے کہ کس طرح ایک سنگلاخ چٹان سے پانی کے چشمے بہہ پڑے تھے (دیکھئے پیچھے آیت نمبر 60) اور بعض اوقات بھاری مقدار میں تو پانی نہیں نکلتا مگر پتھر شق ہو کر تھوڑا بہت پانی نکال دیتا ہے اور کچھ پتھر اللہ کے خوف سے لڑھک بھی پڑتے ہیں مگر ان کے دل ایسے سخت ہیں کہ ذرا نہیں پسیجتے۔ کسی زمانے میں یہ بات کچھ لوگوں کی سمجھ میں نہیں آتی تھی کہ پتھر جیسی بےجان چیز میں خوف کا کیا تصور ہوسکتا ہے ؟ لیکن قرآن کریم نے کئی جگہوں پر یہ حقیقت واضح فرمائی ہے کہ جن چیزوں کو ہم بظاہر بےجان یا بےشعور سمجھتے ہیں ان میں بھی کچھ نہ کچھ شعور…
Read the full tafseer →یہاں ان کے دلوں کو پتھروں سے تشبیہ دی جاتی ہے اور جب ان کا مقابلہ پتھروں کے ساتھ کیا جاتا ہے تو وہ ان سے بھی سخت اور خشک تر نکلتے ہیں ۔ جیسے پتھروں سے یہاں انہیں تشبیہ دی جارہی ہے ۔ وہ بنی اسرائیل کے علم میں ہے ۔ اس سے قبل وہ یہ منظر دیکھ چکے تھے کہ ایک پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے تھے ........ وہ یہ بھی دیکھ چکے تھے کہ جب تجلیات الٰہی کا ایک پرتو پہاڑ پر پڑا تو ہو ریزہ ریزہ ہوگیا تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بیہوش ہوکر گر پڑے تھے ۔ لیکن ان کے دل اس قدر سخت ہیں کہ ان کے اندر کسی قسم کی کوئی نرمی یا تروتازگی پیدا نہیں ہوتی ۔ ان میں خوف خدا سے دھڑکن نہیں پیدا ہوتی بلکہ وہ نہایت سخت ، خشک ،…
Read the full tafseer →7 یعنی عامیل کے جی اٹھنے کے بعد مطلب یہ کہ ایسی نشانی قدرت دیکھ کر بھی تمہارے دل نرم نہ ہوئے۔
8 یعنی بعض پتھروں سے بڑا نفع پہنچتا ہے کہ انہار اور پانی بکثرت ان سے جاری ہوتا ہے اور بعض پتھروں سے پانی کم نکلتا ہے اور اول قسم کی نسبت نفع کم ہوتا ہے اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہ پہنچے مگر خود ان میں ایک اثر اور تأثر تو موجود ہے مگر ان کے قلوب ان تینوں قسموں کے پتھر سے سخت تر ہیں نہ ان سے کسی کو نفع اور نہ ان میں کوئی مضمون خیر موجود۔ اور اللہ اے یہودیو تمہارے اعمال سے بیخبر ہرگز نہیں۔
Read the full tafseer →آیت 74 ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ
جب دین میں حیلے بہانے نکالے جانے لگیں اور حیلوں بہانوں سے شریعت کے احکام سے بچنے اور اللہ کو دھوکہ دینے کی کوشش کی جائے تو اس کا جو نتیجہ نکلتا ہے وہ دل کی سختی ہے۔
فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً ط ”“
یہ فصاحت و بلاغت کے اعتبار سے بھی قرآن حکیم کا ایک بڑا عمدہ مقام ہے۔
وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآءُ ط ”“ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِ ط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ”“
قساوت قلبی کی یہ کیفیت اس…
Read the full tafseer →88 یعنی یہ معجزہ اور کئی سابقہ معجزات دیکھنے کے بعد تمہارے دل میں اللہ کا خوف پیدا نہ ہوا۔ بلکہ تمہارے دل سخت سے سخت تر ہوتے چلے گئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ سخت۔ کیونکہ کچھ پتھر (پہاڑ) ایسے ہیں جن سے نہریں پھوٹتی ہیں اور وہ عام لوگوں کے لیے نفع کا سبب بنتے ہیں اور کچھ ایسے ہیں جن سے کوئی چشمہ ہی جاری ہوجاتا ہے یہ پہلے کی نسبت گو کم نفع بخش ہیں تاہم نفع بخش ضرور ہیں، اور گرنے والے پتھروں میں اللہ کا خوف اور تاثر موجود ہوتا ہے مگر تم جیسے نافرمان لوگوں سے دوسروں کو کچھ فائدہ پہنچنے کی کیا توقع ہوسکتی ہے۔ جن کے دلوں میں اللہ کا ڈر قطعاً مفقود ہے۔
Read the full tafseer →254 ۔ یعنی قبول کی طرف ذرانہ مائل ہوئے۔ ثم۔ یہاں استبعاد کے لیے ہے، یعنی جو نتیجہ نہ نکلنا چاہیے تھا وہ نکلا۔ ثم لاستبعاد القسوۃ بعد مشاھدۃ مایزیلھا (ابوسعود) (آیت) ” من بعد ذلک “ اس تصریح نے اس استبعاد کو اور زیادہ قوی وشدید کردیا۔ مؤکد للاستبعاد اشد تاکیدا (جمل)
255 (عدم قبول حق کے باب میں) اسرائیلی صحیفوں میں بھی یہ مضمون بار بار آیا ہے۔ مثلا ” وہ تربیت پزیر نہ ہوئے۔ انہوں نے اپنے چہرہ کو چٹان سے سخت تربنایا، انہوں نے پھر نے سے انکار کیا ہے “ بمعنی بل (جمل) یہ بھی کہا گیا ہے کہ او یہاں بطور کلمہ اباحت آیا ہے۔ یعنی خواہ انہیں پتھر سمجھو یا پتھر سے بھی بڑھ کر سخت دونوں باتیں صحیح ہیں، سب سے…
Read the full tafseer →قولہ : ثُمَّ قسَتْ قُلُوْبُکُمْ ۔
سوال : ثُمَّ تراخی زمان پر دلالت کرتا ہے اور یہاں تراخی فی الزمان نہیں ہے اس لئے کہ یہود کی شقاوت قلبی اسی وقت موجود تھی، نہ یہ کہ بعد میں پیدا ہوئی۔ لہٰذا ثُمَّ کا استعمال برمحل معلوم نہیں ہوتا۔
جواب : یہاں ثُمَّ کا استعمال مجازاً استبعاد کے معنی میں ہے یعنی اتنے سارے دلائل دیکھنے، سننے کے بعد ایک عاقل بالغ سے شقاوت قلبی بعید ہے۔
قولہ : مِنْ بَعْدَ ذٰلِکَ ، یہ استبعاد کی مزید تاکید ہے جو مفہوم ثُمَّ کا ہے وہی مِنْ بَعْد ذٰلِکَ کا ہے۔
قولہ : اَوْاَشَدُّ قَسْوَۃً ، اَوْ ، بمعنی بَلْ ہے، مگر ابوحیان نے اَوْ ، کو توزیع کے لئے لیا ہے، یعنی قلوب کی اقسام کو بیان…
Read the full tafseer →ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم ( پھر سخت ہوگئے تمہارے دل) قَساوَۃ اصل میں اس مٹائی کو کہتے ہیں جو سختی و کرختگی لیے ہوئے ہو اور یہاں رحمت و نرمی اور خیر کا دلوں سے نکل جانا مراد ہے اور ایسے ہی قساوۃ پر طول آرزو ذکر سے نسیان اور شہوات نفسانیہ کے اتباع کے پھل پھول لگتے ہیں اور کلمہ ثم ( پھر) یہاں بعد مکانی کے لیے نہیں بلکہ اس لیے ہے تاکہ معلوم ہوجائے کہ اتنی رقت اور نرمی کے اسباب دیکھنے پر یہ قساوہ ہے جو نہایت بعید ہے ( جیسے کوئی کہے کہ میاں زیدکو ہم نے ہرچند سمجھایا اس نے پھر بھی نہ مانا) تو یہاں لفظ ثم استبعاد کے لیے ہے نہ بعد مکانی کے لیے۔
مِنْ بَعدِ ذٰلِکَ ( اس کے بعد) یعنی مقتول کے زندہ کرنے اور…
Read the full tafseer →(74) اے نبی ﷺ کیا آپ اس بات کی امید لگا کر بیٹھے ہیں کہ یہ یہودی آپ ﷺ پر ایمان لے آئیں گے، ان کی تو حالت یہ ہے کہ ستر آدمیوں کی جماعت جو موسیٰ ؑ کے ساتھ تھی اور وہ حضرت موسیٰ ؑ کے کلام الہی پڑھنے کو سن بھی رہے تھے مگر اس کے جاننے اور سمجھنے کے بعد یہ سمجھتے ہوئے کہ ہم اللہ تعالیٰ کے کلام کو بدل رہے ہیں اس کے باوجود اس کلام میں تبدیلی اور تحریف کرڈالی۔
Read the full tafseer →قَسَتْ ”قَسَا یَقْسُوْ“ (ن) ناقص واوی سے واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے، جب ایک شے میں دوسری شے سے متاثر ہونے کی صلاحیت ہو اور پھر کسی عارضے کے سبب وہ صلاحیت باقی نہ رہے تو عربی زبان میں اس پر ”اَلْقَاسِیْ“ کا لفظ بولا جاتا ہے۔ یہی حال انسان کے دل کا ہے کہ اس میں دلائل و آیات سے متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے، مگر جب مختلف اسباب کی بنا پر وہ صلاحیت باقی نہیں رہتی تو اثر قبول نہ کرنے میں اسے پتھر سے تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی سرزنش فرمائی کہ عجیب کم بخت قوم ہو کہ مردے کا جی اٹھنا تک تو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا، مگر پھر بھی تم اپنے کفر اور سرکشی پر ڈٹے رہے اور…
Read the full tafseer →آیت نمبر 74
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم قست قلوبکم من بعدذلک، القسوہ کا معنی صلابت، شدت اور خشکی ہے۔ اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی آیات کا یقین اور ان کی طرف لوٹنے سے محروم ہونا ہے (1) ۔ ابو العالیہ اور قتادہ وغیرہ نے کہا : اس سے مراد تمام بنی اسرائیل کے دل ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مقتول کے ورثاء کے دل مراد ہیں کیونکہ جب وہ زندہ ہوا اور اس نے اپنے قاتل کی خبر دی اور پھر فوت ہوگیا تو انہوں نے اس کے قتل کا انکار کردیا اور کہا کہ اس نے جھوٹ بولا ہے اس کے بعد کہ وہ اتنی بڑی نشانی دیکھ چکے تھے، پہلے کبھی ان کے دل اتنے اندھے نہ تھے اور کبھی اپنے نبی کی سخت تکذیب نہیں کی تھی لیکن اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →1: امام عبدبن حمید اور ابن جریر نے قتا دہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم قست قلوبکم من بعد ذلک “ یعنی بعد اس کے کہ جب اللہ تعالیٰ نے مردوں کو زندہ کرکے ان کو دکھا دیا اور بعد اس کے کہ جب (اللہ تعالیٰ ) ان کو مقتول کے معاملہ میں (اس کو زندہ کرکے دکھایا لفظ آیت ” فہی کالحجارۃ او اشد قسوۃ “ (تو ان کے دل پتھر یا اس سے بھی زیادہ سخت ہوگئے) پھر اللہ تعالیٰ نے پتھر کی برأت کا اظہار فرمایا لیکن بدبخت شقی القلب انسان کی برأت کا اظہار نہیں فرمایا اور فرمایا لفظ آیت ” وان من الحجارۃ لما یتفجر منہ الانھر، وان منھا لما یشقق فیخرج منہ الماء، وان منھا لما یھبط من خشیۃ اللہ “ (یعنی پتھر تو پھر بھی نرم ہو…
Read the full tafseer →[ ثُمَّ قَسَتْ : پھر سخت ہوئے ] [ قُلُوْبُكُمْ : تمہارے دل ] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد سے ] [ فَهِىَ : پس یہ ] [ كَالْحِجَارَةِ : پتھروں کی مانند ہیں ] [ اَوْ اَشَدُّ : یا زیادہ ہیں ] [ قَسْوَةً ۭ : سختی میں ] [ وَاِنَّ : اور یقینا ] [ مِنَ الْحِجَارَةِ : پتھروں میں سے یہں ] [ لَمَا : وہ جو ] [ يَتَفَجَّرُ : پھوٹ بہتی ہیں ] [ مِنْهُ الْاَنْهٰرُ ۭ : جن سے نہریں ] [ وَاِنَّ مِنْهَا : اور یقینا ان میں ہیں ] [ لَمَا : وہ جو ] [ يَشَّقَّقُ : چٹخ اٹھتے ہیں ] [ فَيَخْرُجُ : تو رستا ہے ] [ مِنْهُ : ان سے ] [ الْمَاۗءُ : پانی ] [ ۭ وَاِنَّ مِنْهَا : اور یقینا ان میں ہیں ] [ لَمَا يَهْبِطُ :…
Read the full tafseer →یہودیوں کی قلبی قساوت کا تذکرہ
اس آیت کریمہ میں یہودیوں کے قلوب کی قساوت اور سختی بیان فرمائی ہے اور فرمایا ہے کہ تمہارے دل پتھروں کی طرح سخت ہوگئے بلکہ پتھروں سے بھی زیادہ ان میں سختی آگئی۔ دلائل قدرت بھی دیکھتے ہیں اور حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کے دلائل نبوت بھی دیکھتے ہیں ان کے دلوں میں ذرا خدا کا خوف نہیں ہے اور حق قبول کرنے کے لیے ذرا بھی آمادہ نہیں۔ پتھروں میں تو یہ بات ہے کہ ان میں سے بعض ایسے ہیں جن سے نہریں جاری ہوتی ہیں اور بعض پھٹ پڑتے ہیں تو ان میں پانی نکل آتا ہے۔ اور بعض ان میں ایسے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں۔
پہلے ان کے دلوں کو سختی میں پتھروں سے تشبیہ دی جو اس اعتبار سے لوہے…
Read the full tafseer →استعجاب بر قساوت بعد مشاہدۂ عجائب قدرت
قال تعالیٰ ثم قست قلوبکم من بعد ذلک۔۔۔ الی۔۔ وما اللہ بغافل عما تعملون
پھر تمہارے دل خدا کی ان عجیب نشانیوں کے دیکھنے بعد بھی سخت ہوگئے حالانکہ ہر ایک نشانی رقت قلب کے لیے ایک نسخۂ جامعہ تھی خصوصاً مقتول کا زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلانا ایک عجیب و غریب کرشمہ تھا۔ یہ نشانی دلیل قدرت بھی تھی اور دلیل نبوت و رسالت بھی تھی اور دلیل قیامت بھی تھی مگر پھر بھی دل نرم نہ ہوئے۔ پس وہ مثل پتھروں کے سخت ہیں یا سختی میں پتھروں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ تشبیہ اور تمثیل میں لوہے اور تانبے کا اس لیے ذکر نہیں فرمایا کہ لوہا اور تانبا آگ پر رکھنے سے پگھل جاتا ہے مگر ان…
Read the full tafseer →146 ۔ ذالک سے تمام گذشتہ واقعات، انعامات، آیات اور معجزات کی طرف اشارہ ہے۔ ما سبق من الایات التی علموھا (روح ص 295 ج 1) یعنی چاہئے تو یہ تھا کہ ان تمام آیات ومعجزات اور تخویفات وتبشیرات کے بعد تمہارے دل نرم ہوجاتے ہیں۔ ان میں خوف پیدا ہوجاتا ہے اور پورے اخلاص کے ساتھ اللہ کے حکام کی پیروی کرتے اور سچی نیت سے اس کی اطاعت کرتے مگر اس کے باوجود تمہارے دل سخت ہوگئے اور تم نے بڑھ چڑھ کر حدود اللہ کو توڑا اور اس کے پیغمبروں کی مخالفت کی۔ ثُمَّ یہاں تراخی بیان کے لیے نہیں بلکہ استبعاد کے لیے ہے۔ ثم لاستبعاد القسوۃ بعد مشاھدۃ مایزیلہا (ابو السعود ص 537 ج 1) یعنی قبول حق کی طرف ان کے دل ذرا مائل نہ…
Read the full tafseer →قساوت قلبی : بنی اسرائیل کی بہت سی برائیوں کا ذکر گزشتہ آیات میں آچکا ہے۔ اور بعض کا ذکر آگے بھی آئے گا۔ آیت زیر درس میں اللہ تعالیٰ نے ان تمام تر برائیوں کا نتیجہ بیان فرمایا ہے۔ بنی اسرائیل کی طرف سے کتمان حق ، بچھڑے کی پرستش ، قانون کی خلاف ورزی ، قتل انبیاء (علیہم السلام) وغیرہ یہ تمام ایسی بیماریاں تھیں جن کا نتیجہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل کے دل سخت ہوگئے۔ سورة مائدہ میں بنی اسرائیل کی قساوت قلبی کو ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے “ فبما نقضھم میثاقھم لعنھم وجعلنا قلوبھم قسیۃ ” یعنی بنی اسرائیل کے عہد و پیمان توڑنے کی وجہ سے ہم نے ان پر لعنت بھیجی اور ان کے دلوں کو سخت کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے…
Read the full tafseer →ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ فَہِىَ كَالْحِجَارَۃِ اَوْ اَشَدُّ قَسْوَۃً 0 ۭ وَاِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا يَتَفَجَّرُ مِنْہُ الْاَنْہٰرُ 0 ۭ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا يَشَّقَّقُ فَيَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاۗءُ 0 ۭ وَاِنَّ مِنْہَا لَمَا يَہْبِطُ مِنْ خَشْـيَۃِ اللہِ 0 ۭ وَمَا اللہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ 74
قسو
القَسْوَةُ : غلظ القلب، وأصله من : حجر قَاسٍ ، والْمُقَاسَاةُ : معالجة ذلك . قال تعالی:
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ [ البقرة/ 74] ، فَوَيْلٌ لِلْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ مِنْ ذِكْرِ اللَّهِ
[ الزمر/ 22] ، وقال : وَالْقاسِيَةِ قُلُوبُهُمْ [ الحج/ 53] ، وَجَعَلْنا…
Read the full tafseer →ترکیب : ثم استبعاد قسوۃ کے لیے نہ کہ تراخی کے لیے قست فعل قلوبکم فاعل من بعد ذلک متعلق ہے فعل سے ھی مبتدا کالحجارۃ مستقر کے متعلق ہو کر خبر۔ اور ممکن کہ کاف اسمیہ بمعنی مثل ہو اور متعلق نہ ہو اور بمنزلہ اس او کے ہو کہ جو کصیب میں۔ اشد معطوف ہے کاف پر تقدیرہ اوہی اشد قسوۃ تمیز ہے لما میں ل تاکید اور ماموصولہ موضع نسب میں ہے کیونکہ اسم ان ہے اور یتفجرمنہ الانہار جملہ فعلیہ اس کا صلہ اور من الحجارۃ خبر ان ہے اور اسی پر وان منہا لما یشقق کو قیاس کرنا چاہیے۔ من خشیۃ اللہ موضع نسب میں ہے یہبط سے کما تقول یہبط خشیۃ اللّٰہ باقی صاف ہے۔
تفسیر : خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کو فرماتا ہے کہ ان واقعات اور…
Read the full tafseer →ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِ اَوْاَشَدُّ قَسْوَۃًط وَ اِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُمِنْہُ الْاَنْھٰرُط وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَآئُط وَاِنَّ مِنْھَا لَمَا یَھْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّٰہِط وَمَا اللّٰہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُوْنَ ۔ (البقرۃ : 74)
(پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہوگئے، پس وہ پتھر کی مانند ہوگئے یا ان سے بھی زیادہ سخت، پتھروں میں بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جن سے نہریں پھوٹ نکلتی ہیں اور بعض پھٹ جاتے ہیں اور ان سے پانی جاری ہوجاتا ہے اور ان میں سے بعض ایسے بھی ہوتے ہیں جو اللہ کے خوف سے گرپڑتے ہیں اور اللہ…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : احکام الٰہی کے مقابلہ میں حیلے بہانے کرنے سے دل پتھروں سے بھی زیادہ سخت ہوجاتے ہیں۔
انسان جب اللہ کے احکام سے سر تابی، مسلسل نافرمانیوں کا ارتکاب اور مسائل کی کھال اتارنے کی عادت اختیار کرلیتا ہے تو اس کا دل سخت سے سخت ہوجاتا ہے بالآخر مستقل طور پر گمراہی کے راستے پر چل نکلتا ہے۔
دل کی سختی اللہ تعالیٰ کی ناراضگی کی علامت ہے۔ دل سخت ہوجائے تو ایمان کا بیج جسے آگے چل کر اعمال کی صورت میں پھل پھول لانے ہوتے ہیں وہ ابتدا ہی میں مردہ ہوجاتا ہے۔ جس طرح پتھروں کی کئی اقسام ہیں اسی طرح انسانوں کے دلوں کا حال ہے۔ پتھروں سے نہریں نکلتی، چشمے پھوٹتے اور خوف خدا سے ٹنوں وزنی پہاڑ…
Read the full tafseer →تفسیر آیت 74:
ثُمَّ قَسَتْ قُلُوْبُکُمْ : (پھر سخت ہوگئے تمہارے دل) ثُمّ یہاں استبعاد قسوت کیلئے ہے یعنی نرمی کے اتنے اسباب دیکھنے پر تمہاری قساوت بڑی بعید ہے۔
مِّنْم بَعْدِ : (اس کے بعد) ان مذکورہ اسباب کے بعد جو دلوں میں نرمی ورقت پیدا کرنے والے ہیں اور دلوں کی صفت قسوت سے کرنا درحقیقت وعظ و عبرت سے ان کے انکار کی تمثیل ہے
ذٰلِکَ : (اس) اس احیاء مقتول کے بعد ذٰلک کا مشارالیہ احیاء مقتول ہے۔ یا وہ تمام مقررہ نشانیاں جو پہلے گزریں۔
نحوی لطائف :
فَھِیَ کَالْحِجَارَۃِ : (پس وہ پتھر کی طرح) وہ اپنی سختی میں پتھر کی طرح ہیں۔
اَوْ اَشدُّ قَسْوَۃً : (یا اس سے زیادہ سخت) یا اس سے سختی میں زیادہ بڑھ…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 74۔
(آیت)” ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُکُم مِّن بَعْدِ ذَلِکَ فَہِیَ کَالْحِجَارَۃِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَۃً وَإِنَّ مِنَ الْحِجَارَۃِ لَمَا یَتَفَجَّرُ مِنْہُ الأَنْہَارُ وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَشَّقَّقُ فَیَخْرُجُ مِنْہُ الْمَاء وَإِنَّ مِنْہَا لَمَا یَہْبِطُ مِنْ خَشْیَۃِ اللّہِ وَمَا اللّہُ بِغَافِلٍ عَمَّا تَعْمَلُونَ (74)
1۔ اگر کسی شخص کا دل سخت ہوگیا ہو اور وہ اپنے محب سے محبت نہ کرتا ہو تو خوشبودار مٹی کی پاک اور کو ری ٹھیکری لے بلکہ ایسی ہو جو ابھی ابھی آوی سے پک کر نکلی ہو اس پر ریحان کی لکڑی کی قلم سے اس شخص کا نام جس کا دل سخت ہوگیا ہے لکھے پھر شراب کے سرکہ اور شہد سے جس کو آگ…
Read the full tafseer →تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب اس شخص نے تھوڑی دیر کے لئے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلا دیا اور پھر وہ مرگیا تو اس کے قاتل اور اس کے ساتھیوں کے دل بالکل پتھر یا پتھر سے بھی زیادہ ایسے سخت ہوگئے ہیں کہ پتھر میں جو نرمی کی باتیں کچھ پائی جاتیں ہیں اس قدر نرمی بھی ان کے دلوں میں باقی نہیں رہی۔ ابن کثیر میں حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ جب تیرہ برس کا عرصہ قرآن شریف کو نازل ہوتے ہوئے ہوگیا اور مسلمانوں کے دل پر قرآن شریف کی نصیحتوں کا اثر کامل طور سے خدا تعالیٰ نے نہیں دیکھا تو سورة حدید کی آیت { وَلاَ تَکُوْنُوْا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–75
213 بنی اسرائیل کے دلوں کی سختی کا بیان : اور اپنی اسی قساوت قلبی کی بناء پر تم لوگوں نے ان نشانہائے قدرت سے کوئی سبق نہیں لیا، حالانکہ ان میں سے ایک ایک نشانی ایسی تھی کہ اس سے تمہارے دل گداز ہوجاتے، تم اپنے خالق ومالک کے حضور پگھل پگھل جاتے، ایمان و یقین کا نور تمہارے رگ و ریشہ میں سرایت کرجاتا، اور تم اپنے رب کے اوامرو ارشادات کے آگے صدق دل سے سرتسلیم خم ہوجاتے، خاص کر ذبح بقرہ اور احیائ مقتول کی اس صاف وصریح نشانی کے بعد، جس سے تم نے اپنے رب کی قدرت مطلقہ، اپنے پیغمبر کی صداقت و حقانیت اور بعث بعد الموت سے متعلق ایک صاف وصریح نمونہ اپنی آنکھوں سے خود دیکھ لیا، مگر تمہارے دل ہیں کہ اس سب…
Read the full tafseer →یہود
تشریح : اس آیت مبارکہ میں یہود کی ہٹ دھرمی، نااہلی اور ڈھٹائی کا ذکر کیا گیا ہے کہ ان کو بار بار اللہ کی رحمت، برکت اور معافی کا سبق دیا گیا اور ہر طرح سے سمجھانے کی کوشش کی گئی کہ نیکی کی راہ اختیار کریں۔ گمراہی اور شرک و کفر سے بچیں مگر وہ ماننے کو تیار نہیں تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں کی سختی کے لئے پتھروں کی مثال دی ہے کہ ان میں بھی اتنا شعور اور خوف اللہ موجود ہے کہ وہ اپنی انتہائی سختی کے باوجود کبھی پانی کا ذریعہ بن جاتے ہیں۔ یعنی ان میں سے چشمے پھوٹ نکلتے ہیں، کبھی پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی کا اخراج شروع ہوجاتا ہے اور یوں بہت سے لوگ اس پانی سے فیض یاب ہوتے رہتے ہیں اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →ف 3 امام رازی لکھتے ہیں کہ جب ایک شی میں دوسری شی سے متا ثر ہونے کی صلاحیت ہو اور پھر کسی عارضہ کے سبب وہ صلاحیت سلب ہوجائے تو عربی زبان میں اس پر قاصی یا لفظ بولا جاتا ہے یہی حال انسان کے دل کا ہے کہ اس میں دلائل وآیات سے متاثر ہونے کی صلاحیت ہوتی ہے مگر جب عوارض کے سبب وہ صلاحیت سلب ہوجاتی ہے تو عدم تاثیر میں اسے پھتر کے ساتھ تشبیہ دی جاتی ہے۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو سرزنش فرمائی کہ عجب کمبخت قوم ہو کہ مردہ کا جی اٹھنا تک تو تم نے اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا۔ مگر پھر بھی تم اپنے کفر اور شرک پر ڈٹے رہے اور تمہارے دل نرم ہونے کی بجائے اور سخت ہوگئے جیسے پتھر بلکہ اس سے بھی زیادہ…
Read the full tafseer →ثم۔ پھر، تب ۔ (ملاحظہ ہو 2:28) یہاں ثم استبعاد قسوۃ کے لئے ہے۔ یعنی اتنی رقت اور نرمی کے اسباب دیکھنے پر یہ قساوت ہے جو نہایت بعید ہے۔ بہت بڑی قساوت ہے۔ قساوۃ اصل میں اس موٹائی کو کہتے ہیں جو سختی اور کرختگی لئے ہوئے ہو۔ اور یہاں رحمت اور نرمی اور خیر کا دلوں سے نکل جانا مراد ہے۔
بعض کے نزدیک یہ تراخی زمان کے لئے ہے روح المعانی میں ہے وقیل انھا للتراخی فی الزمان لانھم قست قلوبھم بعد مدۃ حین قالوا ان المیت کذب علیہم۔ یہ تراخی زمان کے لئے ہے کیونکہ ان کے دل کچھ مدت کے بعد سخت ہوگئے، جب وہ یہ کہنے لگے کہ میت نے ان کے خلاف جھوٹ کہا ہے۔
قست۔ ماضی ۔ واحد مؤنث غائب قسوۃ وقساوۃ (باب نصر) بمعنی دل کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →تفسیر ابن جریر میں حضرت عبداللہ ابن عباس ؓ سے روایت ہے کہ جب اس شخص نے تھوڑی دیر کے لئے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتلا دیا اور پھر وہ مر گیا تو اس کے قاتل اور اس کے ساتھیوں نے اس پر بھی اس کے قول کو جھٹلادیا اور اس کے قتل سے صاف انکار کردیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے یہ فرمایا کہ ان یہود لوگوں کے دل بالکل پتھر یا پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے ہیں ۔ پھتر میں جو نرمی کی باتیں کچھ پائی جاتی ہیں اس قدر بھی ان کے دلوں میں باقی نہیں رہی ۔ آخری آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو یہ تنبیہ کی ہے کہ اپنی سخت دلی کے سبب سے جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس سے اللہ غافل نہیں ہے ۔ اس کو سب کی خبر ہے وہ وقت آنے والا ہے کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
[52] یہودیوں میں ایک خون ہوگیا تھا اس کا پتہ نہ چلتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو ایک گائے ذبح کرنے کو کہا، اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے مطابق کٹ حجتیاں شروع کردیں۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو گائے کے بارے میں اتنی پابندیاں ان پر نہ لگائی جاتیں۔ آخر کار انہوں نے گائے ذبح کی اور اس کے ایک ٹکڑے سے مردے کی لاش کو ضرب لگانے کے لئے کہا گیا۔ ضرب لگتے
ہی مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتادیا اور پھر مرگیا۔
Read the full tafseer →قساوت قلبی کی آخری حد :
(ف 2) جب کسی قوم کی مذہبی حس مردہ ہوجائے تو پھر احساس وتاثر کی تمام قوتیں سلب کرلی جاتی ہیں ، بنی اسرائیل پہیم انکار وتمرد کی وجہ سے اس درجہ قاسی القلب ہوگئے کہ انہیں متاثر کرنا ناممکن ہوگیا ، ان آیات میں قدرت کے ایک ہمہ گیر قانون کی طرف غافل انسانوں کو متوجہ کیا گیا ہے ، بتایا گیا ہے کہ کائنات کا ذرہ ذرہ رب خاطر کی بنائے ہوئے قوانین میں بندھا ہوا ہے اور اپنے احساس کے لئے مجبور ہے کہ ان قوانین کی پیروی کرے ، پتھر ایسی ٹھس اور ٹھوس چیز بھی اس احساس اطاعت سے محروم نہیں ، دیکھو بعض پتھروں میں سے پانی رستا ہے بعض میں سے سوتے کے سوتے پھوٹتے ہیں اور دریائے ذخار کی شکل اختیار…
Read the full tafseer →ف 2 پھر اس قسم کے واقعات کے بعد بھی تمہارے قلوب سخت ہی رہے اور سخت بھی ایسے جیسے وہ پتھر ہیں یا یوں سمجھو کہ پتھر سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے اور پتھروں میں تو بعض پتھر ایسے بھی ہیں کہ ان سے نہریں اور ندیاں جاری ہوتی ہیں اور انہی پتھروں میں سے بعض ایسے پتھر بھی ہیں کہ وہ پھٹ جاتے ہیں اور شق ہوجاتے ہیں پھر ان سے پانی نکلنے لگتا ہے اور انہی پتھروں میں سے بعض پتھر ایسے ہیں جو خدا کے خوف اور ڈر سے نیچے گرپڑتے ہیں اور اوپر سے لڑھک آتے ہیں اور تم لوگ جو عمل کر رہے ہو اس سے اللہ تعالیٰ غافل اور بیخبر نہیں ہے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ اس قدر احسانات اور اس قدر معجزات و دلائل کے باوجود تمہارے قلب سخت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 74–79
ف 4۔ اس مقام پر ان پتھروں کے اقسام سہ گانہ میں ترتیب نہایت لطیف اور افادہ مقصود میں نہایت بلیغ ہے یعنی بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوتی ہیں جن سے مخلوق کو بڑا نفع پہنچا ہے ان کے قلوب ایسے بھی نہیں بعض پتھروں میں اس سے کم تاثر ہے جس سے کم نفع پہنچتا ہے لیکن ان کے دل ان سے بھی زیادہ سخت ہیں اور بعض پتھروں سے گو کسی کو نفع نہیں پہنچتا مگر خود تو ان میں ایک اثر ہے مگر ان کے قلوب میں یہ انفعال ضعف بھی نہیں۔
Read the full tafseer →راز افشا کرنے والے کے ساتھ دشمنی مزید بڑھ جاتی ہے :
149: بنی اسرائیل کے بعض لوگ جس چیز کو چھپا بیٹھے تھے وہ کب چاہتے تھے کہ ہمارا چھپا ہوا راز افشاء ہو لیکن وحی الٰہی نے اس کا جب پردہ چاک کردیا اور قاتل تدبیر الٰہی سے ظاہر ہوگیا تو اب قاتل اور قاتل کے تمام ساتھی موسیٰ (علیہ السلام) سے بگڑ گئے اور انہوں نے بجائے اس کے جب حق کھل کر سامنے آگیا تھا۔ اس کو دل سے قبول کر کے قاتل کو سزا دے کر اس قضیہ کے حل ہوجانے کے بعد اللہ کا شکر ادا کرتے وہ اندر ہی اندر موسیٰ (علیہ السلام) کے خلاف سازشیں کرنے لگے ان کی اس حالت کا بیان اللہ تعالیٰ نے اس طرح فرمایا کہ ” تم عجیب لوگ ہو کہ حق واضح ہوجانے کے بعد…
Read the full tafseer →The Surah has been relating a number of incidents which show that the Israelites were always prone to disobedience and rebellion and had to undergo punishment again and again. Such an experience should have taught them humility and obedience. On the contrary, their hearts became all the more hardened against divine guidance. This insensibility led them into further misdeeds and transgressions. The present verse describes their degeneracy, and warns them that Allah knows everything they have been doing, and will punish them for their evil deeds.
In contrasting the hearts of the Israelites…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
85. At least one thing becomes clear from this statement: that the slain person was restored to life at least long enough to indicate his assassins. But the actual words in which the order 'smite the corpse with a part of it' is couche tend to create a measure of ambiguity. Nevertheless, the meaning inferred by the early Qur'anic commentators - that the order was to smite the slain man's body with some part of the slaughtered cow - seems to me plausible. Two birds were thus killed with one stone: first, they were made to behold a sign of God's power; and second, the notion that the cow…
Read the full tafseer →