Explained with ayahs 72–73
بلاوجہ تجسس موجب عتاب ہے
صحیح بخاری شریف میں " ادارءتم " کے معنی تم نے اختلاف کیا کے ہیں۔ " حضرت مجاہد وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے مسیب بن رافع کہتے ہیں کہ جو شخص سات گھروں میں چھپ کر بھی کوئی نیک عمل کرے گا اللہ اس کی نیکی کو ظاہر کر دے گا اسی طرح اگر کوئی سات گھروں میں گھس کر بھی کوئی برائی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی ظاہر کر دے گا پھر یہ آیت تلاوت کی آیت (وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :72) یہاں وہی واقعہ چچا بھتیجے کا بیان ہو رہا ہے جس کے باعث انہیں ذبیحہ گاؤ کا حکم ہوا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر لگاؤ وہ ٹکڑا کونسا تھا ؟ اس کا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
سورة الْبَقَرَة 85
اس مقام پر یہ بات تو بالکل صریح معلوم ہوتی ہے کہ مقتول کے اندر دوبارہ اتنی دیر کے لیے جان ڈالی گئی کہ وہ قاتل کا پتہ بتادے۔ لیکن اس غرض کے لیے جو تدبیر بتائی گئی تھی، یعنی ”لاش کو اس کے ایک حصّے سے ضرب لگاؤ ،“ اس کے الفاظ میں کچھ ابہام محسوس ہوتا ہے۔ تاہم اس کا قریب ترین مفہُوم وہی ہے جو قدیم مفسرین نے بیان کیا ہے، یعنی یہ کہ اوپر جس گائے کے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا، اسی کے گوشت سے مقتول کی لاش پر ضرب لگانے کا حکم ہوا۔ اس طرح گویا بیک کرشمہ دوکار ہوئے۔ ایک یہ کہ اللہ کی قدرت کا ایک نشان انہیں دکھایا گیا۔ دوسرے یہ کہ گائے کی عظمت و تقدیس اور اس کی معبودیّت پر بھی ایک کاری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر (اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم (میں کے مجرم ومشتبہ لوگ) مخفی رکھنا چاہتے تھے، اس لئے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا) آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت) تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام…
Read the full tafseer →“اس کو اس کے بعض سے مارو”عام طور پر اہل تاویل نے اس کا یہ مطلب لیا ہے کہ مقتول کو گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا چھوا دو جس سے وہ زندہ ہو جائے گا اور اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ اگرچہ یہ مطلب لینے میں کوئی قباحت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کی قدرت کاملہ سے کوئی بات بھی بعید نہیں ہے لیکن قسامہ کے تعلق سے کبھی کبھی مجھے یہ خیال ہوتا ہے کہ ممکن ہے یہ قسم لینے کی طرف اشارہ ہو یعنی مقتول پر قربان کی ہوئی گائے کا خون چھڑکو اور آس پاس والوں سے قسم لو۔ واقعہ کی تفصیل کے بجائے اس کی طرف صرف اشارہ اس لئے کافی سمجھا گیا ہو کہ یہاں مقصود واقعہ کو بیان کرنا نہیں بلکہ بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کے ایک واقعہ کو صرف جتا…
Read the full tafseer →73۔ 1 مقتول کے دوبارہ جی اٹھنے سے ثابت کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ روز قیامت تمام انسانوں کو دوبارہ زندہ کرنے کی قدرت کا اعلان فرما رہا ہے۔ قیامت والے دن دوبارہ مردوں کو زندہ ہونا منکرین قیامت کے لئے ہمیشہ حیرت کا باعث رہا ہے اس لئے اللہ تعالیٰ نے اس مسئلے کو بھی قرآن کریم میں جگہ جگہ مختلف پیرائے میں بیان فرمایا ہے۔ سورة بقرہ میں ہی اللہ تعالیٰ نے اس کی پانچ مثالیں بیان فرمائی ہیں۔ ایک مثال (ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ) 2:64 البقرہ 56 میں گزر چکی ہے۔ دوسری مثال یہی قصہ ہے۔ تیسری مثال دوسرے پارے کی آیت نمبر 243 آیت (مُوْتُوْا ۣ ثُمَّ اَحْيَاھُمْ) 2:243 چوتھی…
Read the full tafseer →53 : اس واقعہ کی تفصیل تاریخی روایات میں یہ آئی ہے کہ بنی اسرائیل کے ایک شخص نے اپنے ایک بھائی کو اس کی میراث حاصل کرنے کی خاطر قتل کیا اور اس کی لاش سڑک پر ڈال دی، پھر خود ہی حضرت موسیٰ ؑ کے پاس شکایت لے کر پہنچ گیا کہ قاتل کو پکڑ کر سزا دی جائے، اس موقع پر حضرت موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے انہیں گائے ذبح کرنے کو کہا، جس کا واقعہ اوپر گذرا۔ جب گائے ذبح ہوگئی تو آپ نے فرمایا کہ گائے کا کوئی عضو اٹھا کر مقتول کی لاش پر مارو تو وہ زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادے گا ؛ چنانچہ ایسا ہی ہوا اور اس طرح قاتل کا پول کھل گیا اور وہ پکڑا گیا، قاتل کی دریافت کے لئے یہ طریقہ اختیار کرنے کا ایک فائدہ یہ…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی عادت کے مطابق ، ان کے ہاں بطور قربانی اور تقرب الی اللہ گائے ذبح ہوا کرتی تھی ، رہا یہ منظر کہ ایک بےجان قطعہ لحم ایک بےجان مقتول کے اندر بظاہر زندگی کے آثا رپیدا کردیتا ہے ، تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ گوشت کا ٹکڑا محض ظاہری سبب ہے جو اللہ تعالیٰ کی قدرت ماہرہ کا اظہار کررہا ہے ، جس کی حقیقت تک پہنچنا انسان کے لئے ممکن ہی نہیں ہے ۔ لوگ اس کا اثر اور نتیجہ تو اپنی آنکھوں کے ساتھ دیکھ رہے ہیں ۔ لیکن مردے کو جلانے کا یہ طریق کاران کے فہم سے باہر ہے ۔ كَذَلِكَ يُحْيِي اللَّهُ الْمَوْتَى ” وہ مردوں کو کیوں کر زندہ کرتا ہے ؟ یوں جیسا کہ تم بچشم سر دیکھ رہے ہو ، لیکن اسکے باوجود اس کی…
Read the full tafseer →5 یعنی جب ایک ٹکڑا اس گائے کا اس کو مارا تو وہ بحکم الٰہی زندہ ہوگیا اور لہو زخم سے بہنے لگا اور اپنے قاتل کا نام بتادیا جو اسی مقتول کے بھتیجے تھے۔ بطمع مال چچا کو جنگل میں لے جا کر مار ڈالا تھا۔ پھر وہ ان کا نام بتا کر گرپڑا اور مرگیا۔
6 یعنی اسی طرح زندہ کرے گا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن مردوں کو اپنی قدرت کاملہ سے اور اپنی قدرت کی نشانیاں تم کو دکھلاتا ہے کہ شاید تم غور کرو اور سمجھ لو کہ خدائے تعالیٰ مردوں کو زندہ کرسکتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 73 فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِہَا ط
اس طرح وہ مردہ شخص بحکم الٰہی تھوڑی دیر کے لیے زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتل کا نام بتادیا۔
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی لا
وَیُرِیْکُمْ اٰیٰتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ “
اب جو الفاظ آگے آ رہے ہیں بہت سخت ہیں۔ لیکن ان کو پڑھتے ہوئے دروں بینی ضرور کیجیے گا ‘ اپنے اندر ضرور جھانکئے گا۔
Read the full tafseer →86 لاش کا زندہ ہو کر قاتل کا پتہ بتانا :۔ قاتلوں کا جرم صرف یہی نہیں تھا کہ انہوں نے مال و دولت کے لالچ میں آ کر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا تھا۔ بلکہ ان کا دوسرا جرم یہ تھا کہ لاش کو کسی دوسرے شخص کے دروازے پر پھینک دیا تھا تاکہ ان پر شبہ نہ ہو سکے اور تیسرے یہ کہ خود شبہ سے بچنے کی خاطر اس قتل کا الزام دوسروں پر تھوپ رہے تھے۔ گائے ذبح ہونے کے بعد اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا لے کر اس مقتول کی میت پر مارا گیا تو اس کے زخم سے خون بہنے لگا۔ جسم میں زندگی کے آثار پیدا ہوگئے اور اس لاش نے بول کر قاتل یا قاتلوں کا نام اور پتا بتادیا۔ اس کے بعد پھر سے اس پر موت طاری ہوگئی۔ اس طرح جن جرائم کو یہ قوم چھپائے…
Read the full tafseer →250 ۔ تفصیلات کا علم تو عالم الغیب کو ہے۔ البتہ اتنا پتہ تو یہود کے قانون شریعت (توریت) کے مطالعہ سے بہرحال چلتا ہے کہ قتل کے موقع پر جب قاتل کی تحقیق ہورہی ہو، چند خاص شرائط کی پابندی کے ساتھ ایک جوان گائے کو جس سے کوئی خدمت نہ لی گئی ہو، ذبح کیا جاتا تھا اور اس کے لاشہ پر بزرگان قوم ایک خاص طریق پر دعا کرکے خون کے گناہ سے اپنی بخشائش چاہتے تھے، کتاب استثناء کے باب 2 1 میں آیات 1 ۔ 9 میں تفصیلات درج ہیں۔ یہاں صرف چند سطریں نقل کی جاتی ہیں :۔ ” اگر اس سرزمین میں جس کا خدا وند تیرا خدا تجھے ارشاد کرتا ہے، کسی کی لاش کھیت میں پڑی ہوئی ملے اور معلوم نہ ہو کہ اس کا قاتل کون ہے، تب تیرے بزرگ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
آیت نمبر 72 تا 77
ترجمہ : اور اس واقعہ کو یاد کرو، جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر تم اس (معاملہ) میں لڑنے جھگڑنے لگے تھے، (اِدَّارَئتُمْ ) اصل (یعنی تَدَارَئتم) میں تا، کا دال میں ادغام ہے، یعنی جھگڑ رہے تھے، اور ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے تھے، اور جس بات کو تم چھپانا چاہتے تھے، اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا، یہ جملہ معترضہ ہے، یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ (اگرچہ تلاوت میں مؤخر ہے) تو ہم نے حکم دیا کہ اس مقتول سے (مذبوحہ) گائے کا کوئی حصہ لگاؤ، چناچہ گائے کی زبان، یا دم کی جڑ مقتول سے لگائی گئی تو وہ (مقتول) زندہ ہو اٹھا اور بتادیا کہ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے فلاں اور فلاں نے قتل کیا…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ ( تو ہم نے کہا مارو اس ( مردے) کو) ادّٰرَئتم پر عطف ہے اور ان دونوں کے درمیان کلام جملہ معترضہ ہے اور اضربوہ میں ضمیر ہ بتاویل شخص نفس کی طرف راجع ہے۔
بِبَعْضِھَا ( اس گائے) کے ایک ٹکڑے سے) مطلب یہ ہے کہ مردے کو گائے کے ٹکڑے پارچہ سے خواہ کوئی ٹکڑا پارچہ ہو مس کردو ( یعنی گائے کا پارچہ لے کر اس مردے سے چھوا دو ) اور بیان کلام میں اختصار ہے تقدیر عبارت یہ ہے : فضرب فحیی یعنی مردے کو ارشاد کے موافق گائے کے ٹکڑے سے لگایا تو وہ زندہ ہوگیا۔ ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ انہوں نے اس ہڈی کو لگایا تھا جو غضروف کے متصل ہے اور وہ ایسا مقام ہے کہ وہاں کی چوٹ لگنے سے جاندار بےجان ہوجاتا…
Read the full tafseer →(73) لیکن ”عامیل“ کے زندہ ہونے اور اس کے قتل کے معلوم ہونے کے بعد تمہارے دل پتھر سے بھی زیادہ سخت ہوگئے، اب اللہ تعالیٰ پتھروں کے فوائد، منافع اور سختی کا ذکر کر کے ان کے دلوں کو اس سے بھی زیادہ سخت قرار دیتے ہیں کہ بعض پتھروں سے نہریں جاری ہوجاتی ہیں اور بعض پتھر پھٹ جاتے ہیں اور ان میں سے پانی بہنا شروع ہوجاتا ہے اور بعض اللہ تعالیٰ کے خوف سے پہاڑ کی بلندی سے نیچے آ پڑتے ہیں اور تمہارے دل ایسے سخت ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے ڈر سے ان میں ذرا بھر بھی حرکت نہیں ہوتی اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ ان معاصی پر جن کو تم چھپاتے ہو اللہ تعالیٰ سزا کو چھوڑنے والا نہیں ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
فَادّٰرَءْتُمْ اصل میں ”فَتَدَرَأْتُمْ“ تھا، باب تفاعل کی تاء کو دال میں بدل کر دال میں ادغام کردیا ادغام کرنے سے شروع والا حرف مدغم ساکن ہوا تو ساکن کو پڑھنے کے لیے شروع میں ہمزہ لائے، پھر شروع میں فاء آنے سے ہمزہ تلفظ سے ساقط ہوگیا، لکھنے میں موجود ہے۔ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے دوسرے کو قتل کردیا اور جو لوگ قاتل کو جانتے تھے انھوں نے اس پر پردہ ڈال دیا۔ اب وہ ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے اور جھگڑا شروع ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ذبح شدہ گائے کا کوئی حصہ مقتول پر مارنے کا حکم دیا، جس سے اس نے زندہ ہو کر قاتل کی نشان دہی کردی۔ اتنی بات ان آیات سے صاف ظاہر ہے۔ تفاسیر میں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 73
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فقلنا اضربوہ ببعضھا بعض علماء نے فرمایا : بعض سے مراد زبان ہے کیونکہ وہ کلام کا آلہ ہے۔ بعض نے کہا : ریڑھ کی ہڈی، کیونکہ اس سے انسان کی تخلیق مرکب کی جاتی ہے۔ بعض نے فرمایا : ران ہے، بعض نے فرمایا : کوئی ہڈی ہے، کوئی کاٹا ہوا عضو ہے، جب اسے گائے کا کوئی ٹکڑا لگایا گیا تو وہ زندہ ہوگیا اور اس نے اپنے قاتل کے متعلق خبر دی پھر مردہ ہوگیا جس طرح پہلے تھا۔
مسئلہ : امام مالک (رح) نے قسامت کے قول کی صحت پر مقتول کے قول کا (میرا خون فلاں پر ہے یا مجھے فلاں نے قتل کیا ہے) ابن وہب اور ابن قاسم کی روایت سے استدلال کیا ہے۔ امام شافعی اور جمہور علماء نے مقتول کے قول…
Read the full tafseer →(1) وکیع، الفریابی، عبد بن حمید، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” فقلنا اضربوہ ببعضھا “ سے مراد ہے کہ انہوں نے میت کو اس ہڈی سے مارا جو مونڈے کی کر کری ہڈی سے ملی ہوتی ہے۔
(2) عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ ہم کو یہ بات ذکر کی گئی کہ انہوں نے اس میت کو اس (گائے) کی ران کا گوشت مارا جب انہوں نے ایسا کہ تو اللہ تعالیٰ نے اس کو زندہ کردیا یہاں تک کہ اس نے ان کو اپنے قاتل کی خبر دی جس نے اس کو قتل کیا تھا۔ یہ بات کرنے کے بعد وہ (پھر) مرگیا۔
(3) امام وکیع اور ابن جریر نے عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ انہوں نے اس میت کو اس (گائے) کی ران کے ساتھ مارا تو…
Read the full tafseer →[ فَقُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [ اضْرِبُوْهُ : تم لوگ مارو اس کو ] [ بِبَعْضِهَا ۭ : اس کے حصہ سے ] [ كَذٰلِكَ : اس طرح ] [ يُـحْىِ اللّٰهُ : اللہ زندہ کرتا ہے ] [ الْمَوْتٰى ۙ : مردہ کو ] [ وَيُرِيْكُمْ : اور وہ دکھاتا ہے تم کو ] [ اٰيٰتِهٖ : اپنی نشانیاں ] [ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ : شاید تم لوگ عقل کرو ]
[ فَقُلْنَا اضْرِبُوْ بِبَعْضِھَا ] ابتدائی ” فَ “ = پس : پھر ہے اور ” قُلْنَا “ (ہم نے کہا) اس سے پہلے اسی سورت (البقرہ) میں سات دفعہ آچکا ہے۔ پہلی دفعہ یہ لفظ (قلنا) البقرہ :34 [ 3:25:1 (1)] (واذ قلنا للملئکۃ) میں آیا ہے، اور اس کے مادہ ’ باب ‘ تعلیل اور معنی وغیرہ پر وہاں بھی اور البقرہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردہ زندہ ہونے کا ایک واقعہ اور قصہ سابقہ کا تکملہ
ان آیات میں سابقہ قصہ کا تتمہ بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کیوں ہوا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ تم نے ایک خون کردیا تھا اور اس خون کو ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ قاتل اقراری نہیں تھا اور ہمیں منظور تھا کہ اس کے قاتل کا لوگوں کو علم ہوجائے لہٰذا ہم نے یہ طریقہ بتایا کہ جو بیل ذبح کیا ہے اس کا ٹکڑا مقتول کی لاش سے لگا دو ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے اس بیل کا ایک ٹکڑا لیکر مقتول کے مونڈھوں کے درمیان لگا دیا چناچہ وہ زندہ ہوگیا اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے بیٹے نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
شناعت پنجم
قال تعالیٰ واذ قتلتم نفسا فادٰرء تم فیھا۔۔۔ الی۔۔ ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون
اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تم نے ایک محترم نفس کو قتل کر ڈالا پھر اس قتل کو ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا۔ اور جن چیزوں کو تم دلوں میں چھپاتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو اندر سے باہر نکالنے والا ہے۔ جس سے تمہارے اندرونی خطرات اور دلی خیالات اس طرح عیاں اور آشکارا ہوجائیں جیسے کسی محسوس شئی کو کسی بند صندوق سے نکال کر مجمع میں لا کر سب کے سامنے رکھ دیا جائے کہ سب اس کو اچھی طرح دیکھ لیں۔
پس کہا ہم نے کہ لگاو اس مردہ پر اس گائے کا کوئی…
Read the full tafseer →ف 145 یہ جملہ معترضہ ہے جو اس واقعہ کی عبرت اور موعظت کے اظہار کیلئے لایا گیا ہے۔ اس واقعہ میں منکرین حشر ونشر کے لیے عبرت ہے یعنی جس طرح اللہ نے اس مردہ کو زندہ کردیا تھا اسی طرح وہ تمام مردوں کو زندہ کرے گا۔ وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِهٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْن اللہ تعالیٰ قدرت کے یہ نشانات اس لیے ظاہر فرماتا ہے تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ ہر چیز پر قادر ہے اور تاکہ تم عقل سے کام لے کر اس کی قدرت کاملہ پر استدلال کرسکو ویریکم ایتہ علی انہ قادر علی کل شیئ لعلکم تعقلون فتعملون علی قضیۃ عقولکم وھی ان من قدر علی احیائ نفس واحدۃ قدر علی احیائ جمیعھا (مدارک ص 44 ج 1) یعنی جو ذات ایک مردہ کو زندہ کرسکتی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔
قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِہَا 0 ۭ كَذٰلِكَ يُـحْىِ اللہُ الْمَوْتٰى 0 ۙ وَيُرِيْكُمْ اٰيٰتِہٖ لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُوْنَ 73
ضرب
الضَّرْبُ : إيقاعُ شيءٍ علی شيء، ولتصوّر اختلاف الضّرب خولف بين تفاسیرها، كَضَرْبِ الشیءِ بالید، والعصا، والسّيف ونحوها، قال : فَاضْرِبُوا فَوْقَ الْأَعْناقِ وَاضْرِبُوا مِنْهُمْ كُلَّ بَنانٍ
[ الأنفال/ 12] ، فَضَرْبَ الرِّقابِ [ محمد/ 4] ، فَقُلْنا اضْرِبُوهُ بِبَعْضِها[ البقرة/ 73] ، أَنِ اضْرِبْ بِعَصاكَ الْحَجَرَ [ الأعراف/ 160] ، فَراغَ عَلَيْهِمْ ضَرْباً بِالْيَمِينِ [ الصافات/ 93] ، يَضْرِبُونَ وُجُوهَهُمْ [ محمد/ 27] ، وضَرْبُ الأرضِ بالمطر، وضَرْبُ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ترکیب : وائو حرف عطف ایک جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہوتا چلا آتا ہے۔ اذکر محذوف عامل اللہ مبتدا مخرج الخ جملہ اس کی خبر ما موضع نصب میں ہے بسبب مخرج کے اور یہ الذی کے معنی میں ہے اور عائد محذوف ہے کذلک کاف موضع نصب میں ہے کس لیے کہ نعت سے مصدر محذوف کے تقدیرہ یحی اللہ الموتی احیاء مثل ذلک اور اتم کی اصل تدائرتم ہے بروزن تفاعلتم تخفیف کے لیے ت کود سے بدل کر دال کو دال میں ساکن کرکے ادغام کردیا۔ چونکہ ابتدا بسکون متعذر تھی ہمزہ وصل اول میں لائے اور أتم ہوگیا۔
1 ؎ مفسر نیچر نے بیل کے کسی ٹکڑے کو میت پر مارنے سے زندہ ہوجانے کو خلاف قانون قدرت سمجھ کر اس آیت کی تاویل کی اور اس پر جو عربی قاعدہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَاِذْ قَتَلْتُْمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَاط وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا ط کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰیلا وَیُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
(اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا، پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے تو ہم نے کہا : اس (میت) پر اس گائے کا کوئی ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو)
(البقرۃ : 72 تا 73)
اس آیت کریمہ میں ادّٰرَئْ تُمکا لفظ آیا ہے۔ یہ درء سے ہے۔ درء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی شریعت کے بارے میں عادات اور حیلہ سازیوں کے ذکر کے بعداصل واقعہ کا ذکر۔
چچاکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکیوں میں بھتیجوں نے چچا کو قتل کرکے اس کی لاش اپنے مخالفوں کے محلہ میں پھینک دی۔ جب صبح ہوئی تو خود ہی مدعی بن کر بےگناہوں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ قریب تھا کہ اس کے رد عمل میں مزید قتل و غارت شروع ہوجاتی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم رکھا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا جائے اس طرح مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کردے گا۔ متعدد سوالات…
Read the full tafseer →اضربوہ کی ضمیر :
فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ : (ہم نے کہا تم مارو اس کو) اضربوہ میں ضمیر نفس کی طرف لوٹتی ہے اور مذکر لائی گئی ہے بتاویل شخص و انسان یا مقتول کی طرف لوٹتی ہے اس لیے کہ آیت ماکنتم تکتمون اسی پر دلالت کرتی ہے۔
بِبَعْضِھَا : (اس کے کسی حصے کے ساتھ) گائے کے ایک ٹکڑے سے اور وہ اس کی زبان تھی یا دائیں ران یادم کی ہڈی اور مطلب یہ ہوا کہ انہوں نے لیکر لگایا تو وہ زندہ ہوگیا۔
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی : (اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کرتا ہے)
تفسیر آیت 73:
کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰی کی اس پر دلالت ہونے کی وجہ سے اس کو حذف کردیا گیا۔ روایت میں ہے کہ جب انہوں نے اس کا ٹکڑا…
Read the full tafseer →73۔ (آیت)” فقلنا اضربوہ “ تو ہم نے کہا کہ مارو اس مردے کو ” بعضھا “ بعض گائے کے ایک ٹکڑے کے ساتھ ۔ اس بعض میں انہوں (مفسرین) نے اختلاف کیا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور اکثر مفسرین فرماتے ہیں انہوں نے اس ہڈی کے ساتھ مارا جو غضروف (نرم ہڈی) کے قریب تھی جو کہ مقتل تھی (یعنی وہ جگہ جس پر مارنے سے جانور مرجاتا ہے) حضرت سعید بن جبیر (رح) اور حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ دم کے ابتدائی حصہ کو مارا کیونکہ پیدا ہونے میں یہی حصہ اول ہے اور اعضاء کے بوسیدہ ہونے میں یہ حصہ آخر ہے اور اسی پر دوسری دفعہ تخلیق کو مرکب کیا جائے گا جسے بعث کہتے ہیں ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں گائے کی زبان کے ساتھ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
(71 ۔ 73): شروع قصہ کا یہی ہے مگر جس تنبیہ کے لئے قصے کی ترتیب بدلی گئی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا۔ اس سورت میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جاوے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح سب مردے حشر کے دن زندہ کئے جائیں گے اور یہود لوگ اگر حشر کے منکر نہیں ہیں لیکن حشر کے ذکر سے ان کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ آخر حشر نیک وبد کے حساب و سزا و جزا کے لئے ہے۔ پھر حشر کی اصلی غرض کو بھول کر عقبیٰ کے مضر کام کرنا بڑی نادانی کی بات ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →210 مردہ زندہ ہو کر بول پڑا : ـ اور اپنے قاتل کی خبر دینے کے بعد وہ پھر مرگیا، جس سے قاتل پکڑا گیا، اس سے قصاص لیا گیا اور اس کو میراث سے محروم کردیا گیا۔ (معارف للکاندہلوی (رح) ) کیونکہ ضابطہ یہی ہے کہ " مَن اسْتَعْجَلَ بالشّیئ قَبْلَ الاَوَان عُوْقِبَ بالْخِزْی وَ الْحرْمَانِ " یعنی جو کوئی کسی چیز کے حصول کیلئے جلد بازی سے کام لیتا ہے، اور اس کو اپنے وقت مقرر سے پہلے حاصل کرنا چاہتا ہے، اس کو رسوائی اور محرومی سے دوچار ہونا پڑتا ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ اسی لئے شریعت مطہرہ میں یہ دائمی اور مستقل قانون قرار دیا گیا کہ قاتل مقتول کی میراث سے محروم ہوگا خواہ وہ اس سے کیسا ہی رشتہ و استحقاق…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردے کا زندہ ہونا
تشریح : بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا تھا مگر اس کے قاتل کا سراغ ملنا مشکل ہوگیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مارو چناچہ ایسا کرنے سے مقتول زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام پتہ بتایا اور پھر مرگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے کہ مردہ کو زندہ کرنا اس کے لئے آسان ہے اور پھر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے حیات بعد الممات کی تصدیق ہوتی ہے ایک حکم سے کئی نکتے سامنے آگئے۔ ایک تو قاتل و مقتول کا مسئلہ حل ہوگیا، دوسرے گائے کی عظمت و تقدیس کو ختم کیا گیا، تیسرے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 2 گائے کے کس عضو کو انہوں نے مقتول پر ما را اس کی کسی صحیح اثر یا حدیث سے تعیین ثابت نہیں ہے لہذا اسے مہہم ہی رہنے دیا جائے جیسا کہ قرآن نے اسے مہبم چھوڑا ہے۔ (ابن کثیر) کذالک یحییی اللہ الموتی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس وقت ایک مردہ شخص کو کا ایک ٹکڑا مار کر زندہ کرے گا یہ خطاب ان لوگوں سے بھی ہوسکتا ہے جو اس واقع کے وقت موجود تھے اور ان لوگوں سے بھی جو نزول قرآن کے زمانہ میں موجود تھے۔ فتح القدیر) فائدہ۔ اس سورت میں اللہ رتعالی نے پانچ مواضع پر موتی کو زندہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے (1) ثم بعثنا کم من بعد تکم۔ (2) ان لوگوں کا قصہ جو ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر اپنے گھر سے نکل پڑتے تھے۔…
Read the full tafseer →(2:73) فقلنا اضربوہ ببعضھا۔ ہ ضمیر واحد مذکر کا مرجع نفس ہے، چونکہ مقتول ، شخص آدمی تھا اس لئے ضمیر مذکر لائی گئی ہے۔ ببعضھا میں ھا ضمیر واحد مؤنث غائب بقرۃ کے لئے ہے۔ پس ہم نے کہا کہ مقتول کی میت کو گائے کے کسی ٹکڑے سے مارو، یا اس کا کوئی پارچہ مقتول کی لاش پر رکھ دو ۔
فائدہ : ببعضھا۔ کے بعد عیارت مقدر ہے۔ ای فضربوہ فحیی۔ پس انہوں نے مقتول کو (گائے کے جسم کا ایک ٹکڑا لگایا ۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔
کذلک۔ کاف حرف تشبیہ ہے ذلک اسم اشارہ۔ اس طرح یعنی مقتول کے زندہ ہونے کی طرح۔ جس طرح یہ مقتول زندہ ہوگیا اسی طرح اللہ تعالیٰ مردوں کو زندہ کردیتا ہے۔
یریکم ایتہ۔ یری۔ مضارع واحد مذکر غائب۔ اراء ۃ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردہ کا زندہ ہوکر گواہی دینا اس سورة میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جائے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح شب مردے حشر کے دن زندہ کئے جاویں گے ۔ ترمذی وابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” عقلمند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر رہ کر دنیا میں موت کے بعد کے کاموں میں لگا رہے اور نادان وہ ہے جو نفس کے تابع ہو کر دنیا میں موت کے مابعد کی باتوں کو بھول جاوے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
[52] یہودیوں میں ایک خون ہوگیا تھا اس کا پتہ نہ چلتا تھا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ کے حکم سے ان کو ایک گائے ذبح کرنے کو کہا، اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے مطابق کٹ حجتیاں شروع کردیں۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو گائے کے بارے میں اتنی پابندیاں ان پر نہ لگائی جاتیں۔ آخر کار انہوں نے گائے ذبح کی اور اس کے ایک ٹکڑے سے مردے کی لاش کو ضرب لگانے کے لئے کہا گیا۔ ضرب لگتے
ہی مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتادیا اور پھر مرگیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 1) اصل میں ایک ہی واقعہ ہے لیکن قرآن حمید نے کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید دو الگ الگ قصے ہیں ، اس طرز بیان کو اختیار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی دو بہت بری عادتوں پر بالتفصیل روشنی پڑ سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ ان میں یہ دونوں مرض بالاستقلال موجود ہیں ، ایک بلا وجہ بلاضرورت تفاصیل میں جانے کا ، دوسرے اخفاء جرم کا ، آیات کے پہلے حصے کو اس بات پر ختم کیا کہ (آیت) ” وما کادوا یفعلون “۔ کہ وہ کسی طرھ بھی عمل پر آمادہ نہ تھے ۔ دوسرے حصہ کے آخر میں فرمایا (آیت) ” ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون “۔ کہ خدا اپنے نشان تمہیں دکھاتا ہے تاکہ تم جان لو ، غرض یہ ہے کہ ایک طرف تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 1 اور یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اسلاف میں سے کسی نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا پھر تم آپس میں جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر اس کا الزام لگانے لگے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا ظاہر کرنا مقصود تھا جس کو تم چھپانے اور مخفی رکھنے کے در پے تھے لہٰذا ہم نے حکم دیا کہ اس ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم سے لگا دو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں مردوں کو زندہ کر دے گا اور تم کو وہ اپنی قدرت کی نشانیاں اور دلائل دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو اور عقل سے کام لو۔
غرض ان لوگوں نے بڑی قیمت ادا کر کے اس بیل کو حاصل کیا اور امر خداوندی کے موافق اس کو ذبح کیا پھر اس کا ایک حصہ خواہ وہ زبان ہو یا دم کا کوئی…
Read the full tafseer →ف 3۔ اس مقتول نے زندہ ہو کر اپنے قاتل کا نام بتادیا اور فورا مرگیا۔
Read the full tafseer →حکمت الٰہی کی کرشمہ سازی :
148: ہاں : ” اضْرِبُوْهُ “ میں ضمیر مذکر کی ہے اور ” بِبَعْضِهَا 1ؕ “ میں ضمیر مونث کی ، اور دونوں کا مرجع ہم نے مقتول ٹھہرایا ہے یہ کیوں ہے ؟ سو جن لوگوں نے اس سے گائے کا کوئی حصہ مقتول کے کسی حصہ سے مارنے کا لکھا ہے ان کے لئے بھی یہ مشکل ایسی ہی ہے جو اس کا حل ہے وہی حل اس کا بھی ہوگا۔ کیونکہ ” نفس “ بھی مونث ہے اور گائے بھی مونث ہی بیان کی گئی ہے۔ حالانکہ قرآن مجید میں اس کی مثالیں بہت مل جاتی ہیں یہ صرف ایک ذہنی اختراع ہے اس کے سوا اس کی کوئی حقیقت نہیں ہے اور قرآن مجید کے قاری کو ان بحثوں میں جن کا کوئی سر پیر نہ ہو ، الجھنا ہی نہیں چاہئے۔ قرآن کریم میں بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
The murderer had his supporters who wanted to hide his crime, and hence began accusing different people. But Allah willed that the criminal should be brought to book, and appointed a miraculous way of identifying him -- that is, the dead body of the murdered man should be touched with a part of the flesh of the sacrificial cow. When this was done, the dead man came back to life, announced the name of his murderer, and died again.
This miraculous event is a manifestation of the omnipotence of Allah, and Holy Qur'an presents it as an argument against those who deny the Resurrection of the dead…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 73–74
85. At least one thing becomes clear from this statement: that the slain person was restored to life at least long enough to indicate his assassins. But the actual words in which the order 'smite the corpse with a part of it' is couche tend to create a measure of ambiguity. Nevertheless, the meaning inferred by the early Qur'anic commentators - that the order was to smite the slain man's body with some part of the slaughtered cow - seems to me plausible. Two birds were thus killed with one stone: first, they were made to behold a sign of God's power; and second, the notion that the cow…
Read the full tafseer →