Explained with ayahs 72–73
بلاوجہ تجسس موجب عتاب ہے
صحیح بخاری شریف میں " ادارءتم " کے معنی تم نے اختلاف کیا کے ہیں۔ " حضرت مجاہد وغیرہ سے بھی یہی مروی ہے مسیب بن رافع کہتے ہیں کہ جو شخص سات گھروں میں چھپ کر بھی کوئی نیک عمل کرے گا اللہ اس کی نیکی کو ظاہر کر دے گا اسی طرح اگر کوئی سات گھروں میں گھس کر بھی کوئی برائی کرے گا اللہ تعالیٰ اسے بھی ظاہر کر دے گا پھر یہ آیت تلاوت کی آیت (وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ) 2۔ البقرۃ :72) یہاں وہی واقعہ چچا بھتیجے کا بیان ہو رہا ہے جس کے باعث انہیں ذبیحہ گاؤ کا حکم ہوا تھا اور کہا جاتا ہے کہ اس کا کوئی ٹکڑا لے کر مقتول کے جسم پر لگاؤ وہ ٹکڑا کونسا تھا ؟ اس کا بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة الْبَقَرَة 84
چونکہ ان لوگوں کو اپنی ہمسایہ قوموں سے گائے کی عظمت و تقدیس اور گاؤ پرستی کے مرض کی چھوت لگ گئی تھی اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ گائے ذبح کریں۔ ان کے ایمان کا امتحان ہی اسی طرح ہوسکتا تھا کہ اگر وہ واقعی اب خدا کے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے، تو یہ عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے جس بت کو معبود سمجھتے رہے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے توڑ دیں۔ یہ امتحان بہت کڑا امتحان تھا۔ دلوں میں پوری طرح ایمان اترا ہوا نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ٹالنے کی کوشش کی اور تفصیلات پوچھنے لگے۔ مگر جتنی جتنی تفصیلات وہ پوچھتے گئے اتنے ہی گھِرتے چلے گئے یہاں تک کہ آخر کار اسی خاص قسم کی سنہری گائے پر، جسے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں (میں سے کسی) نے ایک آدمی کا خون کردیا پھر (اپنی برات کے لئے ایک دوسرے پر ڈالنے لگے اور اللہ تعالیٰ کو اس امر کا ظاہر کرنا منظور تھا جس کو تم (میں کے مجرم ومشتبہ لوگ) مخفی رکھنا چاہتے تھے، اس لئے (ذبح بقرہ کے بعد) ہم نے حکم دیا کہ اس (مقتول کی لاش) کو اس (بقرہ) کے کوئی سے ٹکڑے سے چھوا دو (چنانچہ چھوانے سے وہ زندہ ہوگیا) آگے اللہ تعالیٰ بمقابلہ منکرین قیامت کے اس قصہ سے استدلال اور اپنے نظیر کے طور پر فرماتے ہیں کہ اسی طرح حق تعالیٰ (قیامت میں) مردوں کو زندہ کردیں گے اور اللہ تعالیٰ اپنے نظائر (قدرت) تم کو دکھلاتے ہیں اس توقع پر کہ تم عقل سے کام…
Read the full tafseer →دَرَءٌ کے معنی دفع کرنے اور پھینکنے کے ہیں۔ اسی سے تدارأ تم ہے جو ادغام کے قاعدے سے اِدَّارَءۡ تُمۡ ہو گیا ہے۔ اس کے معنی آپس میں ایک دوسرے پر الزام لگانے کے ہیں۔
وَٱللهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنۡتُمْ تَكْتُمُوۡنَ: اور اللہ ظاہر کرنے والا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو۔ یہاں بطور جملہ معترضہ کے ہے۔ اس کے بعد کا ٹکڑا فَقُلْنَا اضْرِبُوۡهُ بِبَعْضِهَا (پس ہم نے کہا کہ اس کو اس کے بعض سے مارو) فادرء تم فیھا سے لگتا ہوا ہے۔ اس جملہ معترضہ کا مطلب یہ ہے کہ کسی کو قتل کر کے تم دنیا میں ایک دوسرے پر الزام بازی کر کے اس کو چھپانے کی کوشش کر سکتے ہو لیکن یاد رکھو کہ اگر کوئی چیز تم نے دنیا میں چھپا لی تو وہ ہمیشہ…
Read the full tafseer →72۔ 1 یہ قتل کا وہی واقعہ ہے جن کی بنا پر بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا تھا اور اس طرح اللہ تعالیٰ نے اس قتل کا راز فاش کردیا حالانکہ وہ قتل رات کی تاریکی میں لوگوں سے چھپ کر کیا گیا تھا مطلب یہ نیکی یا بدی تم کتنی بھی چھپ کر کرو اللہ کے علم میں ہے اور اللہ تعالیٰ اسے لوگوں پر ظاہر کرنے کی قدرت رکھتا ہے۔ اس لئے خلوت یا جلوت ہر وقت اور ہر جگہ اچھے کام ہی کرو تاکہ وہ کسی وقت ظاہر ہوجائیں اور لوگوں کے علم میں بھی آجائیں تو شرمندگی نہ ہو بلکہ اس کے احترام و وقار میں اضافہ ہی ہو اور بدی کتنی بھی چھپ کر کیوں نہ کی جائے اس کے فاش ہونے کا امکان ہے جس سے انسان کی بدنامی اور ذلت اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
52: مطلب یہ ہے کہ شروع میں جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا تو کسی خاص قسم کی گائے نہیں بتائی گئی تھی چنانچہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو حکم پورا ہوجاتا لیکن انہوں نے خواہ مخواہ کھود کرید شروع کردی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بھی نت نئی شرطیں عائد فرمالیں اور ایسی گائے تلاش کرنا مشکل ہوگیا جو ان شرطوں کو پورا کرتی ہو۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ ایسی گائے تلاش کرکے ذبح کرنے کے قابل نہ ہوں۔ اس واقعے میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر ضروری کھوج میں پڑنا ٹھیک نہیں جو بات جتنی سادہ ہو اس پر اتنی ہی سادگی سے عمل کرلینا چاہیے۔
Read the full tafseer →یہاں آکرہم قصہ بقرۃ کے ایک دوسرے پہلو تک آپہنچتے ہیں۔ یہ پہلو اللہ تعالیٰ کی قدرت بےپایاں کا اظہارکررہا ہے ۔ اس سے موت وحیات کی حقیقت اور موت کے بعد دوبارہ اٹھائے جانے کی کیفیت معلوم ہوتی ہے اور یہاں اسلوب کلام ، کہانی کے انداز کے بجائے خطاب کی شکل اختیار کرجاتا ہے۔
اللہ تعالیٰ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم کے لئے گائے کو ذبح کرنے کا حکم کی حکمت کھول دیتے ہیں ۔ واقعہ یہ تھا کہ انہوں نے ایک شخص کو قتل کیا تھا ، اور ہر آدمی اپنے آپ کو اس قتل کے الزام سے بری قرار دے کر دوسرے پر الزام لگاتا تھا اور کوئی گواہ نہ تھا ۔ اللہ تعالیٰ کی مشیئت نے چاہا کہ مقتول خود صداقت کو ظاہر کردے اور اس شہادت حق…
Read the full tafseer →4 یعنی تمہارے اگلے بزرگوں نے عامیل کو مار ڈالا تھا۔ پھر ایک دوسرے پر دھرنے لگا اور تم جس چیز کو چھپاتے تھے (یعنی اپنی ضعف ایمانی یا قاتل کے حال کو) اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر فرمانا چاہتا ہے۔
Read the full tafseer →آیت 72 وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْ تُمْ فِیْہَا ط
چنانچہ پتا نہیں چل رہا تھا کہ قاتل کون ہے۔
وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّا کُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ
اللہ تعالیٰ فیصلہ کرچکا تھا کہ جو کچھ تم چھپا رہے ہو اسے نکال کر رہے گا اور واضح کردے گا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا :۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بےداغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھا۔ اب ایک تو انہیں اپنے معبود کشی کی ذہنی کوفت تھی۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کی یہ گائے تھی وہ ایک نیک بخت آدمی تھا جو اپنی ماں کی بہت خدمت کرتا تھا۔ جب اسے اس کی اہمیت معلوم ہوئی تو اس نے منہ بھر کر اس گائے کے دام مانگے، اس کی قیمت یہ ٹھہری کہ گائے کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں جتنا سونا آئے وہ اس کی قیمت ہوگی۔ چناچہ ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →247 ۔ (اپنے ہی میں سے) ” تم نے “ یعنی تم میں سے کچھ لوگوں نے۔ ذکر بنی اسرائیل ہی کا بدستور چل رہا ہے، یہاں بھی اشارہ انکی قومی تاریخ ہی کے کسی واقعہ کی طرف ہے لیکن اس خاص واقعہ کی تعیین کے لیے یہود کے ذخیرۂ تاریخ وروایات میں بہت زیادہ گھسنے اور کرید کرنے کی ضرورت ہے۔ انشاء اللہ کوئی آئندہ مفسر ہمت کرکے اس فرض کو ادا کرے گا۔
248 ۔ (اور ایک دوسرے پر الزام رکھنے لگی) یعنی اصل قاتل کا پتہ نہیں لگ رہا تھا۔ کوئی کہتا تھا کہ قاتل فلاں ہے اور کوئی کہتا کہ فلاں۔ ایک دوسرے پر الزام لگا رہے تھے۔ (آیت) ” فادرئتم “۔ درء کے معنی جھگڑنے کے بھی ہیں اور دفع کرنے کے بھی، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر دفع کرنے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
آیت نمبر 72 تا 77
ترجمہ : اور اس واقعہ کو یاد کرو، جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر تم اس (معاملہ) میں لڑنے جھگڑنے لگے تھے، (اِدَّارَئتُمْ ) اصل (یعنی تَدَارَئتم) میں تا، کا دال میں ادغام ہے، یعنی جھگڑ رہے تھے، اور ایک دوسرے پر الزام ڈال رہے تھے، اور جس بات کو تم چھپانا چاہتے تھے، اللہ اس کو ظاہر کرنے والا تھا، یہ جملہ معترضہ ہے، یہ قصہ کا ابتدائی حصہ ہے۔ (اگرچہ تلاوت میں مؤخر ہے) تو ہم نے حکم دیا کہ اس مقتول سے (مذبوحہ) گائے کا کوئی حصہ لگاؤ، چناچہ گائے کی زبان، یا دم کی جڑ مقتول سے لگائی گئی تو وہ (مقتول) زندہ ہو اٹھا اور بتادیا کہ میرے چچا زاد بھائیوں میں سے فلاں اور فلاں نے قتل کیا…
Read the full tafseer →وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا ( اور وہ وقت یاد کرو) جب تم نے ایک شخص کو مار ڈالا تھا یہ اس قصہ کا شروع ہے اور اس سے پہلے جو بیان ہوا وہ اس کے بعد کا واقعہ ہے۔
فَادَّارَءْتُمْ فِیْھَا ( پھر لگے تم ایک دوسرے پر دھرنے) یعنی اس قصہ کو تم میں سے ایک دوسرے کے سر دھرتا تھا اور خود اپنے کو بری کرتا تھا۔
وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ ( اور اللہ کو اس کا فاش کرنا تھا) صیغہ اسم فاعل بمعنی مستقبل ہے کیونکہ کلام کرنے کے وقت زمانہ آئندہ کی حکایت ہے اسی واسطے اسے عمل دیا گیا ہے جیسے باسِطٌ ذِرَاعَیْہِ میں باسط کو عمل دیا گیا ہے کیونکہ وہ حال ماضیہ کی حکایت ہے۔
مَّا کُنْتُمْ تَکْتُموُْن ( جو تم چھپاتے تھے) یعنی قاتل قتل…
Read the full tafseer →(72) اب اللہ تعالیٰ مقتول کا قصہ بیان فرماتے ہیں کہ جب تم لوگوں نے ”عامیل“ نامی آدمی کو قتل کیا پھر اس کے قتل کے حوالے سے تم میں اختلاف پڑگیا اور اس کے قتل سے متعلق جس چیز کو تم خفیہ رکھ رہے تھے اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والے تھے۔ چناچہ ہم نے حکم دیا کہ اس قتل شدہ شخص کے جسم کے ساتھ گائے کا کوئی عضو لگاؤ، وہ زندہ ہو کر قاتل کا نام بتادے گا اور حکم یہ تھا کہ اس کی پونچھ یا زبان کا عضو لگاؤ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے ”عامیل“ کو زندہ کیا اسی طرح مرنے کے بعد وہ مردہ لوگوں کو زندہ کرے گا اور تمہیں وہ زندہ کرنا دکھا رہا ہے تاکہ تم مرنے کے بعد اٹھنے پر ایمان لاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
فَادّٰرَءْتُمْ اصل میں ”فَتَدَرَأْتُمْ“ تھا، باب تفاعل کی تاء کو دال میں بدل کر دال میں ادغام کردیا ادغام کرنے سے شروع والا حرف مدغم ساکن ہوا تو ساکن کو پڑھنے کے لیے شروع میں ہمزہ لائے، پھر شروع میں فاء آنے سے ہمزہ تلفظ سے ساقط ہوگیا، لکھنے میں موجود ہے۔ بنی اسرائیل کے کسی شخص نے دوسرے کو قتل کردیا اور جو لوگ قاتل کو جانتے تھے انھوں نے اس پر پردہ ڈال دیا۔ اب وہ ایک دوسرے پر الزام دھرنے لگے اور جھگڑا شروع ہوگیا، تو اللہ تعالیٰ نے ذبح شدہ گائے کا کوئی حصہ مقتول پر مارنے کا حکم دیا، جس سے اس نے زندہ ہو کر قاتل کی نشان دہی کردی۔ اتنی بات ان آیات سے صاف ظاہر ہے۔ تفاسیر میں اس کی تفصیل اس طرح ہے کہ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 72
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قتلتم نفسًا فادرءتم یہ کلام قصہ کی ابتدا پر مقدم ہے۔ تقدیر کلام اس طرح ہے : واذ قتلتم نفساً فادرأتم فیھا، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا اللہ تعالیٰ تمہیں اس طرح کا حکم دیتا ہے، یہ اس ارشاد کی طرف ہے الحمد للہ الذی انزل علیٰ عبدہ الکتب ولم یجعل لہ عوجاً ۔ (الکہف) اس کی تقدیر اس طرح ہے : انزل علی عبدہ الکتاب قیماً ولم یجعل لہ عوجا۔ اس کی مثالیں بہت سی ہیں جو ہم نے قصہ کے آغاز میں بیان کردی ہیں۔
اس شخص کے قتل کے سبب کے متعلق دو قول ہیں : پہلا قول یہ ہے کہ اس شخص کی ایک خوبصورت بیٹی تھی۔ اس نے پسند کیا کہ اس کے چچا کا بیٹا اس سے نکاح کرے لیکن چچا نے اسے…
Read the full tafseer →(1) عبد بن حمید، ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ قلتم نفسا فادرء تم فیہا “ یعنی تم نے اس بارے میں اختلاف کیا ” واللہ مخرج ما کنتم تکتمون “ (اور اللہ تعالیٰ نکلانے والے یعنی ظاہر کرانے والے ہیں) جو کچھ تم چھپاتے تھے۔
واما قولہ تعالیٰ : واللہ مخرج ما کنتم تکتمون۔
(2) ابن ابی حاتم اور بیہقی نے الشعب میں مسیب بن رافع (رح) سے روایت کیا کہ کسی آدمی نے سات کمروں کے اندر (چھپ کر) کوئی نیک کام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو ظاہر کرنے والا ہے۔ اور کسی آدمی نے سات کمروں میں چھپ کر کوئی برا کام کیا تو اللہ تعالیٰ اس کو بھی ظاہر کرنے والا ہے اور اس کی تصدیق اللہ تعالیٰ کی کتاب میں ہے لفظ…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قَتَلْتُمْ : اور جب تم لوگوں نے قتل کیا [ نَفْسًا : ایک جان کو ] [ فَادّٰرَءْتُمْ : تو الزام اک دوسرے پر ڈالا ] [ فِيْهَا ۭ : اس میں ] [ وَاللّٰهُ : اور اللہ ] [ مُخْرِجٌ : نکالنے والا تھا ] [ مَّا : وہ جو ] [ كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ : تم لوگ چھپاتے تھے ]
اللغۃ
[ وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا ] جو ” وَ “ (اور) + ” اِذْ “ (جب) + ” قَتَلْتُمْ “ (تم نے قتل کیا) + ” نَفْسًا “ (ایک جان یعنی شخص کو) کا مرکب ہے اس جملے کے تمام اجزاء کے معنی اور استعمال پر اس سے پہلے بات ہوچکی ہے چاہیں تو تفصیل کے لیے دیکھ لیجئے : ” وَ “ کے لیے [ 1:4:1 (3)] ” اِذْ “ کے لیے [ 2:12:1 (1)] ” قتلتم “ (قتل یقتل) کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردہ زندہ ہونے کا ایک واقعہ اور قصہ سابقہ کا تکملہ
ان آیات میں سابقہ قصہ کا تتمہ بیان فرمایا ہے اور یہ بھی بیان فرمایا ہے کہ ذبح بقرہ کا حکم کیوں ہوا تھا۔ ارشاد فرمایا کہ تم نے ایک خون کردیا تھا اور اس خون کو ایک دوسرے پر ڈال رہے تھے۔ قاتل اقراری نہیں تھا اور ہمیں منظور تھا کہ اس کے قاتل کا لوگوں کو علم ہوجائے لہٰذا ہم نے یہ طریقہ بتایا کہ جو بیل ذبح کیا ہے اس کا ٹکڑا مقتول کی لاش سے لگا دو ۔ تفسیر کی کتابوں میں لکھا ہے کہ ان لوگوں نے اس بیل کا ایک ٹکڑا لیکر مقتول کے مونڈھوں کے درمیان لگا دیا چناچہ وہ زندہ ہوگیا اس سے پوچھا کہ تجھے کس نے قتل کیا ہے تو اس نے کہا کہ مجھے میرے بھائی کے بیٹے نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
شناعت پنجم
قال تعالیٰ واذ قتلتم نفسا فادٰرء تم فیھا۔۔۔ الی۔۔ ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون
اور یاد کرو اس وقت کو جب کہ تم نے ایک محترم نفس کو قتل کر ڈالا پھر اس قتل کو ایک دوسرے کے سر تھوپنے لگے وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا اور وہ کہتا ہے کہ اس نے مارا۔ اور جن چیزوں کو تم دلوں میں چھپاتے تھے اللہ تعالیٰ ان کو اندر سے باہر نکالنے والا ہے۔ جس سے تمہارے اندرونی خطرات اور دلی خیالات اس طرح عیاں اور آشکارا ہوجائیں جیسے کسی محسوس شئی کو کسی بند صندوق سے نکال کر مجمع میں لا کر سب کے سامنے رکھ دیا جائے کہ سب اس کو اچھی طرح دیکھ لیں۔
پس کہا ہم نے کہ لگاو اس مردہ پر اس گائے کا کوئی…
Read the full tafseer →ف 144 یہ تیسری خباثت ہے۔ پہلی تفسیر کے مطابق یہ مذکورہ واقعہ کا پہلا حصہ ہے جسے بعد میں ذکر کیا گیا ہے۔ اور دوسری تفسیر کے مطابق یہ مستقل واقعہ ہے جو پہلے واقعہ کے بعد پیش آیا۔ ادّٰرَءْتُمْ ۔ درئ سے ماخوذ ہے جس کے معنی ہٹانے اور دفع کرنے کے ہیں اور یہ اصل میں تدارئتم تھا۔ تا کو قرب مخرج کی وجہ سے دال سے تبدیل کیا گیا اور پھر اسے ساکن کر کے دوسرے دال میں ادغام کردیا گیا اور ابتدائ میں ہمزہ وصل کا اضافہ کیا گیا۔ باب تفاعل کا خاصہ مشارکت ہے اس لیے مطلب یہ ہوا کہ تم میں سے ہر شخص قتل کا الزام دوسرے پر پھینکنے لگا۔ وَاللّٰهُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْن یعنی جس چیز کو تم مسلسل چھپانے کی کوشش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔
قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 9
وَاِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا فَادّٰرَءْتُمْ فِيْہَا 0 ۭ وَاللہُ مُخْرِجٌ مَّا كُنْتُمْ تَكْتُمُوْنَ 72 ۚ
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
نفس
الَّنْفُس : الرُّوحُ في قوله تعالی: أَخْرِجُوا أَنْفُسَكُمُ [ الأنعام/ 93] قال : وَاعْلَمُوا أَنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ ما فِي أَنْفُسِكُمْ فَاحْذَرُوهُ [ البقرة/ 235] ، وقوله : تَعْلَمُ ما فِي نَفْسِي وَلا أَعْلَمُ ما فِي نَفْسِكَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ترکیب : وائو حرف عطف ایک جملہ کا پہلے جملہ پر عطف ہوتا چلا آتا ہے۔ اذکر محذوف عامل اللہ مبتدا مخرج الخ جملہ اس کی خبر ما موضع نصب میں ہے بسبب مخرج کے اور یہ الذی کے معنی میں ہے اور عائد محذوف ہے کذلک کاف موضع نصب میں ہے کس لیے کہ نعت سے مصدر محذوف کے تقدیرہ یحی اللہ الموتی احیاء مثل ذلک اور اتم کی اصل تدائرتم ہے بروزن تفاعلتم تخفیف کے لیے ت کود سے بدل کر دال کو دال میں ساکن کرکے ادغام کردیا۔ چونکہ ابتدا بسکون متعذر تھی ہمزہ وصل اول میں لائے اور أتم ہوگیا۔
1 ؎ مفسر نیچر نے بیل کے کسی ٹکڑے کو میت پر مارنے سے زندہ ہوجانے کو خلاف قانون قدرت سمجھ کر اس آیت کی تاویل کی اور اس پر جو عربی قاعدہ سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
وَاِذْ قَتَلْتُْمْ نَفْسًا فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَاط وَاللّٰہُ مُخْرِجٌ مَّاکُنْتُمْ تَکْتُمُوْنَ ۔ فَقُلْنَا اضْرِبُوْہُ بِبَعْضِھَا ط کَذٰلِکَ یُحْیِ اللّٰہُ الْمَوْتٰیلا وَیُرِیْکُمْ اٰیٰـتِہٖ لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُوْنَ ۔
(اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب تم نے ایک شخص کو قتل کرڈالا تھا، پھر تم آپس میں اس باب میں جھگڑنے لگے اور اللہ ظاہر کرنے والا تھا جسے تم چھپا رہے تھے تو ہم نے کہا : اس (میت) پر اس گائے کا کوئی ٹکڑا مارو، اسی طرح اللہ مردوں کو زندہ کرے گا اور وہ تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم عقل سے کام لو)
(البقرۃ : 72 تا 73)
اس آیت کریمہ میں ادّٰرَئْ تُمکا لفظ آیا ہے۔ یہ درء سے ہے۔ درء کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کی شریعت کے بارے میں عادات اور حیلہ سازیوں کے ذکر کے بعداصل واقعہ کا ذکر۔
چچاکی دولت پر قبضہ کرنے کے لیے رات کی تاریکیوں میں بھتیجوں نے چچا کو قتل کرکے اس کی لاش اپنے مخالفوں کے محلہ میں پھینک دی۔ جب صبح ہوئی تو خود ہی مدعی بن کر بےگناہوں کو اس قتل کا ذمہ دار ٹھہرانے لگے۔ قریب تھا کہ اس کے رد عمل میں مزید قتل و غارت شروع ہوجاتی لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قاتلوں کا سراغ لگانے کے لیے ان کے سامنے اللہ تعالیٰ کا حکم رکھا کہ ایک گائے ذبح کرکے اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش کو لگایا جائے اس طرح مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتلوں کی نشاندہی کردے گا۔ متعدد سوالات…
Read the full tafseer →وَاِذْقَتَلْتُمْ نَفْسًا : (جب تم نے ایک نفس کو قتل کیا) یہاں بھی اذکروا مقدر ہے۔ جماعت کو مخاطب کیا۔ کیونکہ واقعہ قتل ان میں پیش آیا تھا۔
ٹالنا کیا ہے ؟
فَادّٰرَئْ تُمْ فِیْھَا : (پھر ایک دوسرے پر ٹالنے لگے) پس تم نے اختلاف کیا۔ اور اس کے معاملے میں ایک دوسرے سے جھگڑنے لگے۔ اس لیے کہ دونوں جھگڑنے والے اپنے سے بات کو ہٹا کر دوسرے پر دھرتے ہیں۔ یا تم نے اس کا قتل ایک دوسرے پر ڈالا پس جس پر ڈالا جاتا وہ ڈالنے والے پر ٹالتا یا پھینکنا بذات خود دھکیلنا ہے۔
صرف :
اور اس کا اصل تدارأ تم ہے پھر تخفیف کے لیے تاء کو دال سے بدل کر اس کی جنس سے کردیا۔ جو کہ فاء کلمہ ہے تاکہ ادغام ہوسکے۔ دال کو ساکن…
Read the full tafseer →(تفسیر) 72۔:
(آیت)” واذ قتلتم نفسا “ یہ قصہ کا ابتدائی ابتدائی حصہ ہے ، اگرچہ تلاوت کے اعتبار سے مؤخر ہے ، اس مقتول کا نام عامیل ہے (آیت)” فادراتم فیھا “ اس کا اصل ” تداراتم “ ہے۔ تاء کو دال میں ادغام کیا گیا اور اس پر الف لائی گئی ، اللہ تعالیٰ کے قول ” اثاقلتم “ کی طرح حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ اور مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس کا معنی ” فاختلفتم “ ہے (یعنی تم نے اختلاف کیا) حضرت ربیع بن انس ؓ فرماتے ہیں اس کا معنی ” تدافعتم “ ہے یعنی اس قتل کی ذمہ داری تمہارا بعض ، بعض پر ڈال رہا تھا ، یہ درا سے مشتق ہے اور وہ بمعنی دفع ہے پس ہر شخص اس (قتل کے الزام) کو اپنے آپ سے دفع کرتا تھا ۔ (آیت)”…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
(71 ۔ 73): شروع قصہ کا یہی ہے مگر جس تنبیہ کے لئے قصے کی ترتیب بدلی گئی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا۔ اس سورت میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جاوے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح سب مردے حشر کے دن زندہ کئے جائیں گے اور یہود لوگ اگر حشر کے منکر نہیں ہیں لیکن حشر کے ذکر سے ان کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ آخر حشر نیک وبد کے حساب و سزا و جزا کے لئے ہے۔ پھر حشر کی اصلی غرض کو بھول کر عقبیٰ کے مضر کام کرنا بڑی نادانی کی بات ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →208 آباؤ اجداد کے جرم کی نسبت ان کی اولاد و اَحفاد کی طرف اور اس کی وجہ ؟ ـ : یہ خطاب آنحضرت ﷺ کے زمانے کے یہود سے ہے جبکہ اس جرم کا ارتکاب انہوں نے نہیں، ان کے بڑوں نے کیا تھا۔ مگر چونکہ یہ لوگ انہی کی اولاد میں سے تھے، اور ان کی ایسی حرکتوں سے کسی براءت اور بیزاری کا اظہار و اعلان کرنے کی بجائے، الٹا یہ لوگ اپنے ان ہی بڑوں سے تعلق وانتساب پر فخر کرتے تھے، اس لئے یہ ان کی طرف سے اس پر رضا مندی کا ثبوت تھا۔ اس لئے ان سے اس طرح خطاب فرمایا گیا۔ نیز قتل کے اس جرم کا ارتکاب اگرچہ ان میں سے ایک شخص نے کیا تھا، مگر ان کی رضا کی بناء پر اس کو سب کی طرف منسوب کیا گیا کہ امت و جماعت مجموعی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردے کا زندہ ہونا
تشریح : بنی اسرائیل میں ایک شخص قتل ہوگیا تھا مگر اس کے قاتل کا سراغ ملنا مشکل ہوگیا تھا اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اس کا ایک ٹکڑا مقتول کے جسم پر مارو چناچہ ایسا کرنے سے مقتول زندہ ہوگیا اس نے قاتل کا نام پتہ بتایا اور پھر مرگیا۔ اس سے اللہ تعالیٰ کی قدرت ظاہر ہوتی ہے کہ مردہ کو زندہ کرنا اس کے لئے آسان ہے اور پھر یہ بھی ظاہر ہوتا ہے کہ مرنے کے بعد اللہ تعالیٰ دوبارہ زندہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے حیات بعد الممات کی تصدیق ہوتی ہے ایک حکم سے کئی نکتے سامنے آگئے۔ ایک تو قاتل و مقتول کا مسئلہ حل ہوگیا، دوسرے گائے کی عظمت و تقدیس کو ختم کیا گیا، تیسرے حکم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–82
آیات 72- 80
اسرارو معارف
پھر اس بات کو یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اجداد نے ایک قتل کردیا اور ایک دوسرے کو الزام دینے لگے مگر جس شئے کو تم چھپانا چاہتے تھے اللہ اسے ظاہر کرنا چاہتا تھا۔
یہاں تقدیم وتاخیرواقع نہیں ہے کہ قتل تو پہلے ہوا اور پھر گائے کے ذبح کا حکم اور واقعہ ہوا مگر اللہ کریم نے پہلے گائے کا واقعہ ارشاد فرمایا اور بعد میں قتل کا۔ اس کا باعث یہ ہے کہ یہاں بنی اسرائیل پر احسان ارشاد ہو رہے ہیں تاریخ دہرانا مقصود نہیں ۔ تو گائے کا واقعہ اس لحاظ سے پہلے بیان ہونا چاہیے کہ دیکھ لو کس بےدلی سے اوپر طرح طرح کی باتیں کرکے تم نے گائے ذبح کی مگر ہماری عنایات اور ہمارے کرم کو دیکھو کہ اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 2 گائے کے کس عضو کو انہوں نے مقتول پر ما را اس کی کسی صحیح اثر یا حدیث سے تعیین ثابت نہیں ہے لہذا اسے مہہم ہی رہنے دیا جائے جیسا کہ قرآن نے اسے مہبم چھوڑا ہے۔ (ابن کثیر) کذالک یحییی اللہ الموتی کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح اس وقت ایک مردہ شخص کو کا ایک ٹکڑا مار کر زندہ کرے گا یہ خطاب ان لوگوں سے بھی ہوسکتا ہے جو اس واقع کے وقت موجود تھے اور ان لوگوں سے بھی جو نزول قرآن کے زمانہ میں موجود تھے۔ فتح القدیر) فائدہ۔ اس سورت میں اللہ رتعالی نے پانچ مواضع پر موتی کو زندہ کرنے کا ذکر فرمایا ہے (1) ثم بعثنا کم من بعد تکم۔ (2) ان لوگوں کا قصہ جو ہزاروں کی تعداد میں موت سے ڈر کر اپنے گھر سے نکل پڑتے تھے۔…
Read the full tafseer →(2:72) فادرء تم فیہا ۔ فاء عاطفہ ہے۔ ادارأتم اصل میں تدارء تم تھا تدارء (تفاعل) مصدر جس کے معنی لڑائی میں ایک دوسرے پر سے ہٹانا۔ متفق نہ ہونا۔ ایک دوسرے پر ذمہ داری ڈالنا ای تدافع۔ تدارء تم کی تاء کو دال میں بدل کر دال مابعد میں مدغم کردیا۔ پھر ابتداء بالسکون کی دشواری کی وجہ سے شروع میں ہمزہ وصل لائے۔ ادارؤتم ہوگیا۔ معنی یہ ہے کہ : تم ایک دوسرے پر (اس قتل کا) الزام لگانے لگے۔
فیہا ای فی قتل نفس ۔ ھا ضمیر واحد مؤنث کا مرجع نفسا ہے۔
مخرج۔ اسم فاعل واحد مذکر اخراج (افعال) مصدر سے۔ نکالنے والا۔ باہر نکالنے والا۔ ظاہر کرنے والا۔
ما کنتم تکتمون۔ ما موصولہ ، کنتم تکتمون اس کا صلہ ۔ جو تم چھپا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
مردہ کا زندہ ہوکر گواہی دینا اس سورة میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جائے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح شب مردے حشر کے دن زندہ کئے جاویں گے ۔ ترمذی وابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا :” عقلمند وہ شخص ہے جو اپنے نفس پر قادر رہ کر دنیا میں موت کے بعد کے کاموں میں لگا رہے اور نادان وہ ہے جو نفس کے تابع ہو کر دنیا میں موت کے مابعد کی باتوں کو بھول جاوے “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 1) اصل میں ایک ہی واقعہ ہے لیکن قرآن حمید نے کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید دو الگ الگ قصے ہیں ، اس طرز بیان کو اختیار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی دو بہت بری عادتوں پر بالتفصیل روشنی پڑ سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ ان میں یہ دونوں مرض بالاستقلال موجود ہیں ، ایک بلا وجہ بلاضرورت تفاصیل میں جانے کا ، دوسرے اخفاء جرم کا ، آیات کے پہلے حصے کو اس بات پر ختم کیا کہ (آیت) ” وما کادوا یفعلون “۔ کہ وہ کسی طرھ بھی عمل پر آمادہ نہ تھے ۔ دوسرے حصہ کے آخر میں فرمایا (آیت) ” ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون “۔ کہ خدا اپنے نشان تمہیں دکھاتا ہے تاکہ تم جان لو ، غرض یہ ہے کہ ایک طرف تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
ف 1 اور یاد کرو جب تم نے یعنی تمہارے اسلاف میں سے کسی نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا پھر تم آپس میں جھگڑنے لگے اور ایک دوسرے پر اس کا الزام لگانے لگے حالانکہ اللہ تعالیٰ کو اس کا ظاہر کرنا مقصود تھا جس کو تم چھپانے اور مخفی رکھنے کے در پے تھے لہٰذا ہم نے حکم دیا کہ اس ذبح شدہ بیل کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم سے لگا دو اللہ تعالیٰ اسی طرح قیامت میں مردوں کو زندہ کر دے گا اور تم کو وہ اپنی قدرت کی نشانیاں اور دلائل دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو اور عقل سے کام لو۔
غرض ان لوگوں نے بڑی قیمت ادا کر کے اس بیل کو حاصل کیا اور امر خداوندی کے موافق اس کو ذبح کیا پھر اس کا ایک حصہ خواہ وہ زبان ہو یا دم کا کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ف 2۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے زمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کردینے کافی ہوجاتا۔
Read the full tafseer →بقیہ تفسیر پچھلی آیت کی۔
اور میرے نیچے یہ نہریں جاری ہیں کیا تم کو نظر نہیں آتا ؟ بلکہ میں اس سے بہتر ہوں جو حقیر ہے اور وہ صاف طور پر کلام بھی نہیں کرسکتا کیونکہ نہ اس کی طرف سونے کے کنگن ڈالے گئے یا اس کے جلو میں فرشتے جمع ہو کر آئے۔ اور جب ان پر عذاب کی سختی واقع ہوئی تو کہنے لگے اے موسیٰ ! تیرے رب نے تجھ سے جو عہد کیا ہے تو اس کی بنا پر ہمارے لئے دعا کر ، اگر تیری دعا سے عذاب ٹل گیا تو ضرور ہم تیرے معتقد ہوجائیں گے اور بنی اسرائیل کو چھوڑ دیں گے کہ وہ تیرے ساتھ چلے جائیں لیکن پھر جب ایسا ہوا کہ ہم نے ایک خاص وقت تک کیلئے انہیں اس وقت تک پہنچنا تھا عذاب ٹال دیا تو دیکھو انہوں نے کیا کیا ؟…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 72–73
The murderer had his supporters who wanted to hide his crime, and hence began accusing different people. But Allah willed that the criminal should be brought to book, and appointed a miraculous way of identifying him -- that is, the dead body of the murdered man should be touched with a part of the flesh of the sacrificial cow. When this was done, the dead man came back to life, announced the name of his murderer, and died again.
This miraculous event is a manifestation of the omnipotence of Allah, and Holy Qur'an presents it as an argument against those who deny the Resurrection of the dead…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
84. Through contact with neighbouring peoples, the Israelites had become infested with the attitude of sanctifying the cow, in fact they had even become accustomed to cow-worship. In order to disabuse the Jews of this, they were ordered to slaughter the cow. Their professed belief that God alone was worthy of worship could be tested only by making them slaughter with their own hands what they had formerly worshipped. This test was indeed a hard one since their hearts were not fully imbued with faith. Hence, they tried to shelve the issue by resorting to enquiries about the kind of animal they…
Read the full tafseer →