Explained with ayahs 68–71
حجت بازی کا انجام
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ کا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہیں اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور بار بار سوال کرنے لگے ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے پے درپے سوالات شروع کئے اور کام میں سختی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آخر میں وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی سختی نہ ٹلتی اور مطلوبہ گائے ملنا اور مشکل ہوجاتی پہلے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نہ تو وہ بڑھیا ہے نہ بالکل کم عمر ہے۔ بلکہ درمیانی عمر کی ہے پھر دوسرے سوال کے جواب میں اس کا رنگ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
سورة الْبَقَرَة 84
چونکہ ان لوگوں کو اپنی ہمسایہ قوموں سے گائے کی عظمت و تقدیس اور گاؤ پرستی کے مرض کی چھوت لگ گئی تھی اس لیے ان کو حکم دیا گیا کہ گائے ذبح کریں۔ ان کے ایمان کا امتحان ہی اسی طرح ہوسکتا تھا کہ اگر وہ واقعی اب خدا کے سوا کسی کو معبود نہیں سمجھتے، تو یہ عقیدہ اختیار کرنے سے پہلے جس بت کو معبود سمجھتے رہے ہیں اسے اپنے ہاتھ سے توڑ دیں۔ یہ امتحان بہت کڑا امتحان تھا۔ دلوں میں پوری طرح ایمان اترا ہوا نہیں تھا، اس لیے انہوں نے ٹالنے کی کوشش کی اور تفصیلات پوچھنے لگے۔ مگر جتنی جتنی تفصیلات وہ پوچھتے گئے اتنے ہی گھِرتے چلے گئے یہاں تک کہ آخر کار اسی خاص قسم کی سنہری گائے پر، جسے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
خلاصہ تفسیر
وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ (میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے…
Read the full tafseer →رنگ کی وضاحت کے بعد بھی سوال کرنے والوں کی تشفی نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید وضاحت چاہی تو ہدایت ہوئی کہ گائے کمیری نہ ہو، اس سے کھیتوں میں ہل چلانے اور پانی دینے کی خدمت نہ لی گئی ہو۔ مزید یہ ہدایت ہوئی کہ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔
اس طرح اپنے لئے گوناگوں قیدیں اور پابندیاں بڑھوا چکنے کے بعد بولے کہ ہاں اب بات اچھی طرح واضح ہوئی۔
حق کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
وہ چیز جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔ قیامت کو اسی معنی کے لحاظ سے حق کہا گیا ہے۔
وہ چیز جو اخلاقی حیثیت سے واجب ہو۔ عدل کو اسی اعتبار سے حق کہا گیا ہے۔
وہ چیز جو جھگڑے اور اختلاف کے درمیان قول فیصل…
Read the full tafseer →71۔ 1 انہیں حکم تو یہ دیا گیا تھا ایک گائے ذبح کرو۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو حکم الٰہی پر عمل ہوجاتا لیکن انہوں نے حکم الٰہی پر سیدھے طریقے سے عمل کرنے کی بجائے میخ نکالنا شروع کردی اور طرح طرح کے سوال کرنے شروع کردیئے، جس پر اللہ تعالیٰ بھی ان پر سختی کرتا چلا گیا۔ اس لئے دین میں سختی کرنے سے منع کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
52: مطلب یہ ہے کہ شروع میں جب انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا تو کسی خاص قسم کی گائے نہیں بتائی گئی تھی چنانچہ وہ کوئی بھی گائے ذبح کردیتے تو حکم پورا ہوجاتا لیکن انہوں نے خواہ مخواہ کھود کرید شروع کردی جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ نے بھی نت نئی شرطیں عائد فرمالیں اور ایسی گائے تلاش کرنا مشکل ہوگیا جو ان شرطوں کو پورا کرتی ہو۔ یہاں تک کہ ایک مرحلے میں ایسا محسوس ہونے لگا کہ شاید وہ ایسی گائے تلاش کرکے ذبح کرنے کے قابل نہ ہوں۔ اس واقعے میں سبق یہ دیا گیا ہے کہ بلاوجہ غیر ضروری کھوج میں پڑنا ٹھیک نہیں جو بات جتنی سادہ ہو اس پر اتنی ہی سادگی سے عمل کرلینا چاہیے۔
Read the full tafseer →غرض اس نہ ختم ہونے والی لجاجت اور مباحثے کے نتیجے میں اس کے سوا کوئی چارہ کار ہی نہ تھا کہ اس حکم کو مزید پیچیدہ اور سخت کردیا جائے اور انتخاب واختیار کا وسیع دائرہ انہیں فراہم کیا گیا تھا ، اسے مزید تنگ اور محصور کردیا جائے اور مطلوبہ گائے کے اندر چند مزید اوصاف کا اضافہ کردیاجائے ، جبکہ پہلے ان اوصاف کی ضرورت نہ تھی اور حکم کی تعمیل کا دائرہ وسیع تر رکھا گیا تھا۔ قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الأرْضَ وَلا تَسْقِي الْحَرْثَ مُسَلَّمَةٌ لا شِيَةَ فِيهَا ” موسیٰ نے کہا ! اللہ کہتا ہے وہ ایسی گائے ہو جس سے خدمت نہیں لی جاتی ہو ، نہ زمین جوتتی ہے ، نہ پانی کھینچتی ہے…
Read the full tafseer →2 یعنی اس کے اعضا میں کوئی نقصان نہیں اور اس کے رنگ میں دوسرے رنگ کا داغ و نشان نہیں بلکہ ساری زرد ہے۔
3 وہ گائے ایک شخص کی تھی جو اپنی ماں کی خدمت بہت کرتا تھا اور نیک بخت تھا۔ اس شخص سے وہ گائے مول لی اتنے مال کو جتنا اس گائے کی کھال میں سونا بھر سکیں پھر اس کو ذبح کیا۔ اور ایسے لگتے نہ تھے کہ اتنی بڑی قیمت کو لے کر ذبح کریں گے۔
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لاَّ ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلاَ تَسْقِی الْحَرْثَ ج مُسَلَّمَۃٌ لاَّ شِیَۃَ فِیْہَا ط اس میں کسی دوسرے رنگ کا کوئی داغ تک نہ ہو۔“
قَالُوا الْءٰنَ جِءْتَ بالْحَقِّ ط۔“
اب تو آپ علیہ السلام نے بات پوری طرح واضح کردی ہے۔
فَذَبَحُوْہَا وَمَا کَادُوْا یَفْعَلُوْنَ “
اب وہ کیا کرتے ‘ پے بہ پے سوالات کرتے کرتے وہ گھیراؤ میں آ چکے تھے ‘ لہٰذا بادل نخواستہ وہ اپنی مقدس سنہری گائے کو ذبح کرنے پر مجبور ہوگئے۔
یہاں واقعہ کی ترتیب تورات سے مختلف ہے اور ذبح بقرہ کا جو سبب تھا وہ بعد میں بیان ہو رہا ہے ‘ جبکہ تورات میں ترتیب دوسری ہے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
گائے ذبح کرنے میں کٹ حجتیوں کی سزا :۔ غرض یہ کہ یہ قوم جتنے سوال کرتی گئی، پابندیاں بڑھتی ہی گئیں۔ ان ساری پابندیوں کے بعد بس اب ان کے ہاں صرف ایک ہی گائے رہ گئی جو تقریباً سنہری رنگ کی بےداغ اور جواں تھی اور ایسی ہی گائے ہوتی تھی جسے پوجا پاٹ کے لیے انتخاب کیا جاتا تھا۔ اب ایک تو انہیں اپنے معبود کشی کی ذہنی کوفت تھی۔ دوسرے یہ کہ جس شخص کی یہ گائے تھی وہ ایک نیک بخت آدمی تھا جو اپنی ماں کی بہت خدمت کرتا تھا۔ جب اسے اس کی اہمیت معلوم ہوئی تو اس نے منہ بھر کر اس گائے کے دام مانگے، اس کی قیمت یہ ٹھہری کہ گائے کو ذبح کرنے کے بعد اس کی کھال میں جتنا سونا آئے وہ اس کی قیمت ہوگی۔ چناچہ ان لوگوں کو…
Read the full tafseer →243 ۔ ہندوستان میں عام رواج صرف بیل سے کاشتکاری کا کام لینے کا ہے، گائے سے نہیں۔ لیکن دوسرے ملکوں میں یہ کام گائے سے بھی لیا جاتا ہے۔
244 ۔ ملاحظہ ہو حاشیہ نمبر 238 ۔
245 ۔ یعنی مفصل وپورا پتہ تو اب بتایا ہے ،
246 ۔ یعنی ان کی مسلسل موشگافیوں سے تعمیل حکم بعید ہی معلوم ہوتی تھی ،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
آیت نمبر 67 تا 71
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَ لَا تَسْتَمِیْ الْحَرَثَ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِیَۃَ فِیْھَا (موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا ( کہا ( خدا) فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ تو محنت والی اور نہ زمین جوتتی اور نہ کھیتی کو پانی دیتی صحیح وسالم بےداغ ( بےدھبّہ) لا تسقی الحرث میں لا زائد ہے۔ یہ دونوں فعل یعنی تثیر اور لا تسقی، ذلول کی صفت ہیں۔ مسلمۃ کے یا تو یہ معنی ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے اسے عیوب سے صحیح سالم رکھا ہو یا یہ مطلب کہ اسے گائے کے مالک نے کام لینے سے سلامت رکھا ہو۔ جو رنگ کھال مخالف ہو اسے شیۃ بولتے ہیں عدۃ کی وزن پر وشی یشی کا مصدر وشی اور شیۃ ہے جب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
(67۔ 71) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ ؑ کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ ؑ تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 71
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قال انہ یقول انھا بقرۃٌ لا ذلولٌ جمہور علماء نے لا ذلول کو بقرۃٌ کی صفت کی بنا پر مرفوع پڑھا ہے۔ اخفش نے کہا : لا ذلولٌ، بقرۃٌ کی صفت ہے اور اس پر نصب بھی جائز ہے۔ ابو عبد الرحمٰن السلمی نے لا ذلول کو نفی کی بنا پر منصوب پڑھا ہے اور خبر مضمر ہے اور یہ تقدیر بھی جائز ہے : لا ھی ذلولٌ لا ھی تسقی الحرث وھی مسلمۃ۔ لا ذلول کا مطلب ہے : اسے کام نے مطیع نہ بنایا ہو۔ کہا جاتا ہے : بقرۃ مذللۃ بینۃ الذل، انتہائی مطیع گائے۔ رجل ذلیل بین الذل (3) ، انتہائی مطیع شخص، یعنی وہ گائے سخت ہو اس کو کام پر نہ لگایا گیا ہو۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : تثیر الارض یہ بھی بقرہ کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
(1) امام البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی گائے بھی لے لیتے تو ان کو کافی ہوجاتی یا (فرمایا) کہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی۔
(2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل یوں نہ کہتے ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ (اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) تو کبھی ان کو گائے نہ ملتی۔ اگر وہ کوئی گائے بھی لے کر ذبح کرلیتے تو وہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی ڈال دی۔
(3) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد…
Read the full tafseer →[ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اِنَّهٗ : کہ وہ ] [ يَقُوْلُ : کہتا ہے ] [ اِنَّهَا : کہ وہ ] [ بَقَرَةٌ: ایک گائے ہے ] [ لَّا ذَلُوْلٌ: جو سدھائی نہیں گئی ] [ تُثِيْرُ : کہ وہ جوتتی ہے ] [ الْاَرْضَ : زمین کو ] [ وَلَا تَسْقِى: اور وہ پانی نہیں پلاتی ] [ الْحَرْثَ ۚ : کھیتی کو ] [ مُسَلَّمَةٌ: وہ بچائی گئی ہے ( ہر مشقت سے) ] [ لَّا شِيَةَ : کسی قسم کا کوئی نشان نہیں ہے ] [ فِيْهَا ۭ : اس میں ] [ قَالُوا : ان لوگوں نے کہا ] [ الْـــــٰٔنَ : اب ] [ جِئْتَ بِالْحَقِّ ۭ : تو لایا حق کو ] [ فَذَبَحُوْھَا : تو ان لوگوں نے ذبح کیا اس کو ] [ وَمَا كَادُوْا : اور لگتا نہیں تھا کہ ] [ يَفْعَلُوْنَ : وہ لوگ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی
ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے…
Read the full tafseer →قال انہ یقول انھا بقرۃ لا ذلول تثیر الارض ولا تسقی الحرث مسلمۃ لا شیۃ فیھا۔ قالوا الان جئت بالحق۔ فذبحوھا وما کادوا یفعلون۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ وہ ایک گائے ہے محنت والی نہیں کہ جوتتی ہو زمین کو اور نہ پانی دیتی ہو کھیتی کو یعنی نہ ہل جوتنے کی محنت اس سے لی گئی ہو اور نہ آب پاشی کی مشقت اس پر ڈالی گئی ہو۔ بےعیب ہو اور اس میں کوئی داغ نہ ہو۔ کہا انہوں نے کہ اب لائے آپ حق بات کو یعنی واضح اور مفصل بات اپ نے اب فرمائی جس سے ہمارا تردد رفع ہوا کہ ایسا حیوان تمام حیوانوں میں حیات کا مظہر اتم ہوگا۔ پس ممکن ہے کہ اس کی حیات کے اثر سے دوسرے میں بھی حیات کا اثر آجائے پس ایسی گائے کو خرید کر…
Read the full tafseer →143 یعنی اس سے محنت کا کام نہ لیا جاتا ہو۔ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ ۔ یہ ماقبل کی تفسیر ہے۔ مُسَلّمَۃٌ بےعیب ہو بریئۃ من العیوب (معالم ص 61 ج 1) لَّا شِيَةَ فِيْهَا۔ وہ یک رنگ ہو اور اس میں کسی دوسرے رنگ کا داغ دھبہ نہ ہو ای لیس فیھا لون یخالف معظم لونھاھی صفرا کلھا لابیاض فیھا و لاحمرۃ ولا سواد (قرطبی ص 454 ج 1) جِئْتَ بِالْحَقِّ ۔ یہاں حق بمعنی حقیقت ہے۔ یعنی اب تم نے مطلوبہ گائے کی ٹھیک ٹھیک حقیقت بیان کی ہے۔ ای اظھرت حقیقۃ ما امرنا بہ فالحق ھنا بمعنی الحقیقۃ (روح ص 291 ج 1) فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْن۔ یعنی ان کی طبیعت گائے کے ذبح کرنے پر آمادہ نہیں ہوتی تھی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔
قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّہٗ يَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِيْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِى الْحَرْثَ 0 ۚ مُسَلَّمَۃٌ لَّا شِيَۃَ فِيْہَا 0 ۭ قَالُوا الْـــٰٔنَ جِئْتَ بِالْحَقِّ 0 ۭ فَذَبَحُوْھَا وَمَا كَادُوْا يَفْعَلُوْنَ 71 ۧ
ذلت
يقال : الذُّلُّ والقُلُّ ، والذِّلَّةُ والقِلَّةُ ، قال تعالی: تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ [ المعارج/ 44] ، وقال : ضُرِبَتْ عَلَيْهِمُ الذِّلَّةُ وَالْمَسْكَنَةُ [ البقرة/ 61] ، وقال : سَيَنالُهُمْ غَضَبٌ مِنْ رَبِّهِمْ وَذِلَّةٌ [ الأعراف/ 152] ، وذَلَّتِ الدّابة بعد شماس، ذِلًّا، وهي ذَلُولٌ ، أي : ليست بصعبة، قال تعالی: لا ذَلُولٌ تُثِيرُ الْأَرْضَ [ البقرة/ 71]
بغیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔
ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌطعَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَط فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ ۔ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَاط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ لا فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔ قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَاط وَاِنَّآ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَج مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔
مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے…
Read the full tafseer →قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ : (کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں وہ ایک گائے ہے نہ محنت والی نہ زمین) ذلولیہ بقرہ کی صفت ہے مطلب یہ ہے کہ بقرہ غیر ذلول یعنی محنت اور زمین میں جو تنے کا اسے عادی نہ بنایا ہو۔
وَلاَ تَسْقِی الْحَرْثَ : (اور نہ کھیتی کو پانی دیتی ہو) اور نہ وہ ان پانی کھینچنے والیوں میں سے ہو۔ جن سے کھیتوں کو پانی پلانے کا کام لیا جاتا ہے۔
نحو : پہلا لَا نافیہ اور دوسرا پہلے کی تاکید کے لیے لایا گیا۔ اس کا مطلب یہ ہوگا۔ کہ نہ اس سے زراعت کا کام لیا جاتا ہو اور نہ کھیتی کو پانی پلایا جاتا ہو۔ اس طرح دونوں فعل ذلول کی صفت ہیں۔ پس مطلب یہ ہوا…
Read the full tafseer →71۔ (آیت)” قال انہ یقول انھا بقرۃ لاذلول “۔ کام کرنے کی عادی (کام پر سدھائی ہوئی) کہا جاتا ہے ، ” رجل ذلول “ واضح طور پر ذلیل (یعنی جس میں خودی اور خودداری نہ ہو ۔ ہر ایک کا مطیع اور حقیر) اسی طرح کہا جاتا ہے ” دابۃ ذلولۃ واضح الذل “ ہو (یعنی وہ جانور کام کا عادی ہو) ” تثیر الارض “ زمین کو زراعت کے لیے الٹ پلٹ کرتی ہو۔ (آیت)” ولاتسقی الحرث “ یعنی سانیہ نہ ہو (پانی نکالنے کا کام نہ کرتی ہو) ” مسلمۃ “ بری ہو۔
عیبوں سے ” لاشیۃ فیھا “ یعنی اس کے پورے چمڑے کے رنگ کے علاوہ کسی اور رنگ کا داغ نہ ہو۔ حضرت عطاء (رح) فرماتے ہیں (آیت)” لا شیۃ فیھا “ کا معنی ہے کہ اس میں کوئی عیب نہ ہو۔ حضرت مجاہد (رح)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–73
(71 ۔ 73): شروع قصہ کا یہی ہے مگر جس تنبیہ کے لئے قصے کی ترتیب بدلی گئی ہے اس کا ذکر اوپر گذر چکا۔ اس سورت میں مردہ کے زندہ ہونے کا ذکر پانچ آیتوں میں جگہ جگہ آیا ہے تاکہ منکرین حشر کے دل میں اچھی طرح یہ جم جاوے کہ جس طرح ان مردوں کو اللہ تعالیٰ نے زندہ کیا اسی طرح سب مردے حشر کے دن زندہ کئے جائیں گے اور یہود لوگ اگر حشر کے منکر نہیں ہیں لیکن حشر کے ذکر سے ان کے دل میں یہ بات جم جاوے کہ آخر حشر نیک وبد کے حساب و سزا و جزا کے لئے ہے۔ پھر حشر کی اصلی غرض کو بھول کر عقبیٰ کے مضر کام کرنا بڑی نادانی کی بات ہے۔ ترمذی اور ابن ماجہ میں حضرت شداد بن اوس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →206 مطلوبہ گائے کی مزید صفات : ہمارے یہاں چونکہ زمین جوتنے کا کام عام طور پر بیلوں ہی سے لیا جاتا ہے، اس لئے گائے کے زمین میں جوتنے کی بات عجیب سی لگتی ہے، مگر دوسرے مختلف ملکوں اور علاقوں میں یہ کام گائے سے بھی لیا گیا ہے اور آج بھی لیا جاتا ہے، اور بنی اسرائیل میں بھی اس کا رواج تھا، اور لفظ ’ بقرۃ “ کا اطلاق اصل لغت کے اعتبار سے گائے اور بیل دونوں پر یکساں ہوتا ہے۔ (المنجد وغیرہ) ۔ اس لئے بعض مترجمین حضرات نے یہاں پر " البقرۃ " کا ترجمہ بیل سے کیا ہے مگر عام اور مشہور اطلاق کے اعتبار سے " بقرۃ " کا لفظ چونکہ گائے کیلئے ہی مستعمل ہوتا ہے، اور بیل کیلئے " ثور " کا لفظ بولا جاتا ہے، (مفردات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
گائے ذبح کرنے کا حکم
تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
آیات 62- 71
اسرارو معارف
اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
ف 3 اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے ہے کہ آخر کار انہیں ان تمام صفات کی گائے ایک ایسے شخص کے پاس ملی جس کے پاس کوئی دوسری گائے نہ تھی اس لیے وہ کہنے لگا میں اپنی گائے اس قیمت پر فروخت کروں گا کہ تم اس کی کھا مجھے سونے سے بھر دو ۔ نچا نچہ انہوں نے اسی قیمت پر ان سے یہ گائے خریدی ،۔ (ابن جریر) حدیث میں ہے کہ ابتداء میں اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتی مگر انہوں نے تغنت اور بےجا سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے تشدید برتا۔ (فتح القدیر )
1 یعنی گراں قیمت اور فضیحت کے خطرے اور ان کے ت عنت کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے ذبح کرنا نہیں چاہتے۔ حدیث میں ہے کہ اگر انشاء اللہ کہتے و آخر…
Read the full tafseer →(2:71) ذلول۔ نرم ، مطیع۔ ہموار، پست، ذل اور ذل۔ سے، (باب ضرب) منہ زوری کے بعد سواری کا مطیع ہونا ۔ اس قسم کی مطیع اور منقاد سواری کو ذلول کہا جاتا ہے۔
تثیر : مضارع واحد مؤنث غائب اثارۃ (باب افعال) مصدر بمعنی برانگیختہ کرنا۔ ابھارنا۔ زمین میں جوتنے اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے میں چونکہ یہ معنی موجود ہیں اس لئے ان دونوں کے لئے بھی اس کا استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً جوتنے کے لئے آیت ہذا اور ہواؤں کے بادلوں کو لانے کے لئے اللہ الذی یرسل الریاح فتثر سحابا (30:48) خدا ہی تو ہے جو ہواؤں کو چلاتا ہے تو وہ بادل کو ابھارتی ہیں (اوپر اٹھاتی ہیں)
ولا تسقی الحرث۔ لاتسقی، مضارع منفی واحد مؤنث غائب۔ سقی (باب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی للہ عنہم اسے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے ۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 70–73
(ف 1) اصل میں ایک ہی واقعہ ہے لیکن قرآن حمید نے کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید دو الگ الگ قصے ہیں ، اس طرز بیان کو اختیار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی دو بہت بری عادتوں پر بالتفصیل روشنی پڑ سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ ان میں یہ دونوں مرض بالاستقلال موجود ہیں ، ایک بلا وجہ بلاضرورت تفاصیل میں جانے کا ، دوسرے اخفاء جرم کا ، آیات کے پہلے حصے کو اس بات پر ختم کیا کہ (آیت) ” وما کادوا یفعلون “۔ کہ وہ کسی طرھ بھی عمل پر آمادہ نہ تھے ۔ دوسرے حصہ کے آخر میں فرمایا (آیت) ” ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون “۔ کہ خدا اپنے نشان تمہیں دکھاتا ہے تاکہ تم جان لو ، غرض یہ ہے کہ ایک طرف تو ان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ف 2۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے زمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کردینے کافی ہوجاتا۔
Read the full tafseer →گائے کی آخری پہچان جس کے بعد وہ مزید کچھ نہ کہہ سکے :
146: موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تمہارے اس سوال کا جواب یہ دیا گیا ہے کہ وہ گائے نہ تو جوتی گئی ہو کہ زمین کو پھاڑنے والی ہو اور نہ کھیتی کو پانی وغیرہ دینے کے کام اس سے لئے گئے ہوں۔ ہند و پاک میں یہ کام بیل سے لیا جاتا ہے اور گائے سے کاشتکاری کا کام نہیں لیا جاتا ممکن ہے کہ ان کے علاقہ میں نر و مادہ کا یہ خیال نہ کیا جاتا ہو اور یہ بھی ممکن ہے کہ یہ گائے نہیں بلکہ بیل ہی ہو۔ لیکن پہلی بات زیادہ صحیح معلوم ہوتی ہے اگرچہ اس کا رواج ہمارے علاقہ میں نہیں۔ اور موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو مزید کہا کہ اس گائے میں کسی طرح کا کوئی داغ دھبہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
These Verses show how the Israelites were disposed to disobedience, and how this inclination expressed itself in different forms. The Hadith says that if these people had obeyed Allah's commandment without raising so many doubts and asking unnecessary questions, such strict condition would not have been imposed on them, and the sacrifice of any cow whatsoever would have been accepted.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 71–72
84. Through contact with neighbouring peoples, the Israelites had become infested with the attitude of sanctifying the cow, in fact they had even become accustomed to cow-worship. In order to disabuse the Jews of this, they were ordered to slaughter the cow. Their professed belief that God alone was worthy of worship could be tested only by making them slaughter with their own hands what they had formerly worshipped. This test was indeed a hard one since their hearts were not fully imbued with faith. Hence, they tried to shelve the issue by resorting to enquiries about the kind of animal they…
Read the full tafseer →