Al-Baqara 2:70

Al-Baqara · from ayah 70

2:70

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ۙ— اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَیْنَا ؕ— وَاِنَّاۤ اِنْ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْنَ ۟قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَۙ اِنَّ الۡبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيۡنَا ؕ وَاِنَّـآ اِنۡ شَآءَ اللّٰهُ لَمُهۡتَدُوۡنَ

انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is. Indeed, [all] cows look alike to us. And indeed we, if Allah wills, will be guided."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:70

پھر بولے اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعین میں اشتباہ ہو گیا ہے اللہ نے چاہا، تو ہم اس کا پتہ پالیں گے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ (اب کے) پروردگار سے پھر درخواست کیجئے کہ ہم کو بتا دے کہ وہ اور کس کس طرح کا ہو، کیونکہ بہت سے بیل ہمیں ایک دوسرے کے مشابہ معلوم ہوتے ہیں، (پھر) خدا نے چاہا تو ہمیں ٹھیک بات معلوم ہو جائے گی

— مولانا فتح محمد جالندہری

وه کہنے لگے کہ اپنے رب سے اور دعا کیجیئے کہ ہمیں اس کی مزید ماہیت بتلائے، اس قسم کی گائے تو بہت ہیں پتہ نہیں چلتا، اگر اللہ نے چاہا تو ہم ہدایت والے ہوجائیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے (پھر) کہا کہ آپ ہماری خاطر اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ ہمیں صاف صاف بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ اس گائے نے تو ہمیں شبہ میں ڈال دیا ہے اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور اس کا پتہ لگالیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لیے صاف بیان کردے وہ گائے کیسی ہے بیشک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑگیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پا جائیں گے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(اب) انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ وہ ہم پر واضح فرما دے کہ وہ کون سی گائے ہے؟ (کیونکہ) ہم پر گائے مشتبہ ہو گئی ہے، اور یقیناً اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور ہدایت یافتہ ہو جائیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، وہ ہمارے لیے واضح کرے وہ (گائے) کیا ہے ؟ بیشک گائیں ہم پر ایک دوسری کے مشابہ ہوگئی ہیں اور یقینا ہم اگر اللہ نے چاہا تو مقصد کو پہنچنے ہی والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : موسیٰ ہمارے لیے اس گائے کی مزید وضاحت کی درخواست کیجئے کیونکہ (ایسی گائیں تو بہت ہیں اور مطلوبہ) گائے ہم پر مشتبہ ہوگئی ہے۔ اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور اس کا پتا لگا لیں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

بولے اپنے رب سے دعا کرو کہ اچھی طرح واضح کردے کہ وہ کیسی ہو، اس لیے کہ گایوں کے امتیاز میں گھپلا ہوہا ہے۔ اور انشا اللہ اب ہم پتہ لگا لیں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

انہوں نے پھر کہا کہ " آپ اپنے رب سے پھر درخواست کریں، کہ وہ گائے کس طرح کی ہو، کیونکہ گایوں کا معاملہ ہم پر سخت مشتبہ ہو رہا ہے، اور ہم اگر اللہ نے چاہا تو ضرور (حقیقت کی) راہ پالیں گے "

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے اپنے پروردگار سے ہماری طرف سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ (اور) کیسی ہو ؟ اس لیے کہ گائے میں ہمیں اشتباہ پڑگیا ہے۔ اور اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پاجائیں گے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا (ذرا پھر) اللہ سے ہمارے لیے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہو کیونکہ گائے کا معاملہ یقیناً ہم پر کچھ مشتبہ ہوگیا ہے۔ اور اگر اللہ نے چاہا تو ہم ضرور راہ پالیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر بولے کہ اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ کہ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اس کی تعیین میں اشتباہ ہوگیا ہے اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Again they said, "Pray your Lord to specify for us the kind of cow that is required; for cows (of this type) look alike to us. We shall then find her, if God so wills."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Pray for us to your Lord that He makes it clear to us of what sort should she be, for this cow has made us confused and, if Allah wills, We shall certainly take the right course.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Pray for us to your Lord that He makes it clear to us of what sort should she be, for this cow has made us confused and, if Allah wills, We shall certainly take the right course.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said, "Call upon your Lord for us to make plain to us what it is. Verily, to us all cows are alike. And surely, if Allah wills, we will be guided."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Pray for us unto thy Lord that He make clear to us what (cow) she is. Lo! cows are much alike to us; and Lo! if Allah wills, we may be led aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is. Indeed, [all] cows look alike to us. And indeed we, if Allah wills, will be guided."

— Saheeh International

They said, "We are confused about the cow, for to us all cows look alike. Ask your Lord to tell us exactly what the cow looks like, so that God willing, we shall have the right description."

— Muhammad Sarwar

They said: Call on your Lord for our sake to make it plain to us what she is, for surely to us the cows are all alike, and if Allah please we shall surely be guided aright.

— Muhammad Habib Shakir

They said supplicate for us unto thy Lord that He make manifest unto us whatever she should be, for verily the cow hath become dubious unto us and verily we, if God will, shall beguided.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Beseech on our behalf Thy Lord to make plain to us what she is: To us are all heifers alike: We wish indeed for guidance, if Allah wills."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:70

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–71

حجت بازی کا انجام بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ کا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہیں اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور بار بار سوال کرنے لگے ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے پے درپے سوالات شروع کئے اور کام میں سختی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آخر میں وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی سختی نہ ٹلتی اور مطلوبہ گائے ملنا اور مشکل ہوجاتی پہلے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نہ تو وہ بڑھیا ہے نہ بالکل کم عمر ہے۔ بلکہ درمیانی عمر کی ہے پھر دوسرے سوال کے جواب میں اس کا رنگ بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–70

سورة الْبَقَرَة 82 سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔ سورة الْبَقَرَة 83 اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–71

خلاصہ تفسیر وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ (میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

رنگ کی وضاحت کے بعد بھی سوال کرنے والوں کی تشفی نہ ہوئی۔ انہوں نے مزید وضاحت چاہی تو ہدایت ہوئی کہ گائے کمیری نہ ہو، اس سے کھیتوں میں ہل چلانے اور پانی دینے کی خدمت نہ لی گئی ہو۔ مزید یہ ہدایت ہوئی کہ بالکل یک رنگ ہو۔ اس میں کسی اور رنگ کی آمیزش نہ ہو۔ اس طرح اپنے لئے گوناگوں قیدیں اور پابندیاں بڑھوا چکنے کے بعد بولے کہ ہاں اب بات اچھی طرح واضح ہوئی۔ حق کا لفظ قرآن مجید میں کئی معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ وہ چیز جس کا واقع ہونا قطعی ہو۔ قیامت کو اسی معنی کے لحاظ سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو اخلاقی حیثیت سے واجب ہو۔ عدل کو اسی اعتبار سے حق کہا گیا ہے۔ وہ چیز جو جھگڑے اور اختلاف کے درمیان قول فیصل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–70

67۔ 1 بنی اسرائیل میں ایک لا ولد مالدار آدمی تھا جسکا وارث صرف ایک بھتیجا تھا ایک رات اس بھتیجے نے اپنے چچا کو قتل کر کے لاش کسی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح قاتل کی تلاش میں ایک دوسرے کو قاتل ٹھہرانے لگے بالآخر بات موسیٰ علیہ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا گائے کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا جس سے وہ زندہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کر کے مرگیا (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 67–70

51: جیسا کہ نیچے آیت 72 میں آرہا ہے، یہ حکم ایک مقتول کا قاتل دریافت کرنے کےئے دیا گیا تھا اس لئے بنی اسرائیل نے اس کو مذاق سمجھا کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کیسے معلوم ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” پھر بولے ، اپنے رب سے صاف صاف پوچھ کر بتاؤ ، کیسی گائے مطلوب ہے ؟........“ اس سوال اور لیت ولعل کا عذر وہ یہ بیان کرتے ہیں کہ یہ معاملہ ان کے لئے موجب اشتباہ بن گیا اور گائے کے تعین میں بڑی مشکل پیش آرہی ہے ۔إِنَّ الْبَقَرَ تَشَابَهَ عَلَيْنَا ” ہمیں اس گائے کے تعین میں اشتباہ ہوگیا ہے “ اب آکر انہیں اپنی لجاجت اور جھگڑالو پنے کا قدرے احساس ہوجاتا ہے ۔ اور بادل نخواستہ ان کی زبان سے یہ الفاظ نکلتے ہیں۔ وَإِنَّا إِنْ شَاءَ اللَّهُ لَمُهْتَدُونَ ” اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔ “

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ہِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا ط“ ہمیں گائے کی تعیین میں اشتباہ ہوگیا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–70

84 گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتادے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے ؟ گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

241 ۔ یعنی ذرا اور متعین و محدود کیجئے، اور اس کی اور خصوصیات بیان کیجئے۔ اس حلیہ اور اس رنگ کی گائیں تو بہت سی ہیں۔ 242 ۔ (گائے تک اور اسے ضرور ذبح کرکے رہیں گے) اے الی عین البقرۃ المامور بذبحھا (بحر) ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–71

آیت نمبر 67 تا 71 ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالوُادْ عُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ( بولے اپنے رب سے ہمارے لیے پوچھ کہ ہمیں اچھی طرح سمجھادے کہ وہ کس قسم میں ہے) یہ پہلے ہی سوال کی تکرار ہے جو مزید انکشاف کی طلب کے لیے ہے۔ اِنَّ الْبََقَرَ تَشَابَہ عََلَیْنَا ( ہمیں گایوں میں شبہ پڑگیا) یہ مکرر سوال کرنے کا عذر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن صفات کی گائے ارشاد ہوئی ہے اس جیسی بہ کثرت پائی جاتی ہیں اس لیے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی گائے سے ہمارا مقصود حاصل ہوگا اور تشابھت مؤنث کا صیغہ اس لیے نہیں استعمال کیا کہ لفظ بقر مذکر ہے ( اگرچہ مراد مؤنث ہے) ۔ وَ اِنَّا اِنْشَآء اللّٰہُ لَمُھْتَدُْنَ ( خدا نے چاہا تو ہم ٹھیک پتہ لگا لیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–71

(67۔ 71) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ ؑ کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 67–71

مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ ؑ تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 70 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان البقر تشبہ علینا انہوں نے چوتھا سوال کیا اور بیان کے بعد بھی حکم کی پیروی نہیں کی۔ یہاں البقر مذکر ذکر کیا کیونکہ یہ جمع کے معنی میں ہے۔ اسی وجہ سے فرمایا ان البقر تشبہ علینا۔ البقر کے لفظ کی تذکیر کی وجہ سے فعل کا صیغہ بھی مذکر ذکر فرمایا۔ قطرب نے کہا : البقرۃ کی جمع باقر، باقور اور بقرہ۔ اصمعی نے کہا : البأقر، جمع ہے باقرۃ کی۔ اور کہا : باقورۃ بھی بقر کی جمع بنائی جاتی ہے۔ یہ نحاس نے حکایت کیا ہے۔ زجاج نے کہا : اس کا معنی بقر کی جنس ہے۔ حسن نے اس کے مطابق پڑھا جو نحاس نے ذکر کیا ہے (2) اور اعرج نے اس کے مطابق جو ثعلبی نے ذکر کیا ہے۔ ان البقر تشبہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–71

(1) امام البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی گائے بھی لے لیتے تو ان کو کافی ہوجاتی یا (فرمایا) کہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی۔ (2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل یوں نہ کہتے ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ (اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) تو کبھی ان کو گائے نہ ملتی۔ اگر وہ کوئی گائے بھی لے کر ذبح کرلیتے تو وہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی ڈال دی۔ (3) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ : انہوں نے کہا آپ پکاریے ہمارے لیے اپنے رب کو ] [ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا هِىَ ۙ : کہ وہ واضح کردے ہمارے لیے کہ وہ کیا ہے ] [ اِنَّ الْبَقَرَ : بیشک تمام گائے بیل ] [ تَشٰبَهَ : باہم ملتے جلتے ہوئے ] [ عَلَيْنَا ۭ : ہم پر ] [ وَاِنَّآ : اور یقینا ہم ] [ اِنْ شَاۗءَ : اگر چاہا ] [ اللّٰهُ : اللہ نے ] [ لَمُهْتَدُوْنَ : تو ہدایت پانے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–71

ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 69–70

قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا۔ قال انہ یقول انھا بقرۃ صفراء فاقع لونھا تسر النظرین۔ کہا انہوں نے کہ آپ اپنے پروردگار سے استعداء کیجئے کہ ہمارے لیے بیان فرمائے کہ اس کا رنگ کیا ہے۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ تحقیق اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک گائے زرد رنگ والی ہے رنگ اس کا تیز اور کھلا ہوا ہے۔ دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کو اس پر بھی تشفی نہیں اور پھر سوال کیا۔ قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ان البقر تشابہ علینا وانا انشاء اللہ لمھتدون۔۔ کہا انہوں نے کہ آپ دعا کیجئے اپنے رب سے کہ بیان فرمائے ہمارے لیے کہ اس گائے کی حقیقت شخصیہ کیا ہے جس کی یہ خاصیت ہے۔ اگرچہ اس کا سن…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

142 یہ اسرائیلیوں کی سرکشی اور ان کے خبث باطن کی انتہا ہے کہ حکم خداوندی کی تعمیل میں کیسی چالاکی سے پس وپیش کر رہے ہیں اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَهَ عَلَيْنَا یعنی مذکورہ بالا اوصاف تو بہت سی گائیوں میں پائے جاتے ہیں ان سے گائے کی تعیین نہیں ہوتی اس لیے مزید وضاحت فرمائی جائے۔ وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللّٰهُ لَمُهْتَدُوْن بار بار سوال کی وجہ سے گائے کے حصول میں دشواری بڑھ رہی تھی اس لیے اب انہوں نے اپنی غلطی محسوس کی اور اس پر نادم ہوئے اور آخری سوال میں اپنی کامیابی کو مشیت ایزدی سے معلق کیا گویا وہ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ ہم مطلوبہ گائے حاصل کر کے ہی دم لیں گے۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ انشائ اللہ نہ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–73

ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔ قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا ہِىَ۝ 0 ۙ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَيْنَا۝ 0 ۭ وَاِنَّآ اِنْ شَاۗءَ اللہُ لَمُہْتَدُوْنَ۝ 70 شبه الشِّبْهُ والشَّبَهُ والشَّبِيهُ : حقیقتها في المماثلة من جهة الكيفيّة، کاللّون والطّعم، وکالعدالة والظّلم، والشُّبْهَةُ : هو أن لا يتميّز أحد الشّيئين من الآخر لما بينهما من التّشابه، عينا کان أو معنی، قال : وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، أي : يشبه بعضه بعضا لونا لا طعما وحقیقة، ( ش ب ہ ) الشیبۃ والشبۃ کے اصل معنی مماثلت بلحاظ کیف کے ہیں مثلا لون اور طعم میں باہم مماثل ہونا یا عدل ظلم میں اور دو چیزوں کا معنوی لحاظ سے اس قدر مماثل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–71

1 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔ ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–71

قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌطعَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَط فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ ۔ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَاط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ لا فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔ قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَاط وَاِنَّآ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَج مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–71

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَ : (وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے پوچھو کہ ہمیں اچھی طرح سمجھا دے کہ وہ کس قسم میں ہے) یہ پہلے سوال کا تکرار ہے جو گائے کی حالت اور صفت کے متعلق مزید انکشاف کیلئے کیا گیا تاکہ اچھی طرح وضاحت ہوجائے۔ نبی اکرم ﷺ سے مروی ہے کہ اگر وہ کسی بھی گائے کو لے کر ذبح کردیتے تو وہ ان کے لیے کافی ہوجاتی۔ لیکن انہوں نے سختی کی پس اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کردی۔ (رواہ البزار، وابن ابی حاتم) اور کسی چیز کے پیچھے پڑجانا نحوست ہے۔ اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَا : (بےشک گائے ہم پر مل جل گئی ہے) بلا شبہ درمیانی عمر اور زرد رنگ گائیں تو بہت ہیں پس…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

خاصیت آیت 70 (آیت)” إِنَّ البَقَرَ تَشَابَہَ عَلَیْْنَا وَإِنَّا إِن شَاء اللَّہُ لَمُہْتَدُونَ (70) جو آدمی کوئی چیز خریدنا چاہتا ہو تو خریدتے وقت پہلے یہ پڑھے ۔ یا مخر یا مختار یا من الخیر منہ یامن الخیر بیدہ یا دلیل الخیر یا مرشد یا ھادی ۔ پھر جب اس چیز کو دیکھ بھال رہا ہو تو مذکورہ بالا آیت پڑھے ، جب تک خرید نہ لے پڑھتا رہے ، یا بعض نے کہا یہ آیت دیکھ بھال سے پہلے بار پڑھ لے ان شاء اللہ اس سودے میں نقصان نہ ہوگا ۔ 70۔ (آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی “ کیا وہ چرنے والی ہے یا کام کرنے والی ؟ (آیت)” ان البقر تشابہ علینا “ (تشابہ علینا “ کہا یعنی مذکر کا صیغہ لائے) ” تشابھت علینا “ نہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

(68 ۔ 70) تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی 1۔ اس گائے کی بیش قیمتی کی جو روایتیں ہیں وہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ عکرمہ سے بسند صحیح جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین اشرفی کی گائے خریدی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–74

آیت 67-74 ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–75

قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

205 " ان شائَ اللہ " کہنے کی برکت : سو " انشاء اللہ " کہنے کی برکت سے ان لوگوں کو اس حکم پر عمل پیرا ہونے کی توفیق مل گئی۔ چناچہ روایات میں وارد ہے کہ اگر یہ لوگ " انشاء اللہ " نہ کہتے تو کبھی بھی راہ نہ پاتے، بیشک اللہ کا نام بہت بڑا ہے، یہاں پر " ماھیَ " سے سوال گائے کی صفات کے بارے میں ہے، جبکہ پہلے " مَا ھِیَ " سے سوال اس کی نوعیت کے بارے میں تھا۔ بہرکیف یہاں سے " انشاء اللہ " کہنے کی برکت ظاہر ہوگئی اور امر واقعہ یہی ہے کہ سب کچھ اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ کی مشیئت ہی کے تابع ہے، اسی لئے اللہ پاک سبحانہ و تعالیٰ نے اپنے پیغمبر کو خطاب کرکے ارشاد فرمایا ہے کہ " کسی بھی کام کے بارے میں یہ مت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 67–71

گائے ذبح کرنے کا حکم تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–71

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–71

ف 3 اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے ہے کہ آخر کار انہیں ان تمام صفات کی گائے ایک ایسے شخص کے پاس ملی جس کے پاس کوئی دوسری گائے نہ تھی اس لیے وہ کہنے لگا میں اپنی گائے اس قیمت پر فروخت کروں گا کہ تم اس کی کھا مجھے سونے سے بھر دو ۔ نچا نچہ انہوں نے اسی قیمت پر ان سے یہ گائے خریدی ،۔ (ابن جریر) حدیث میں ہے کہ ابتداء میں اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتی مگر انہوں نے تغنت اور بےجا سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے تشدید برتا۔ (فتح القدیر ) 1 یعنی گراں قیمت اور فضیحت کے خطرے اور ان کے ت عنت کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے ذبح کرنا نہیں چاہتے۔ حدیث میں ہے کہ اگر انشاء اللہ کہتے و آخر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

تشبہ۔ مضاعر واحد مذکر غائب۔ تشابہ (تفاعل) مصدر بمعنی باہم مشابہ و مماثل ہونا۔ تشبۃ وہ مشابہ ہوا۔ وہ مشبہ ہوا ان البقر تشبۃ علینا بیشک ہمیں گایوں میں شبہ پڑگیا۔ یہ مکرر سوال کرنے کا عذر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ جن صفات کی گائے ارشاد ہوئی اس جیسی بکثرت پائی جاتی ہیں۔ اس لئے ہمیں یہ معلوم نہیں ہوتا کہ کونسی گائے سے ہمارا مقصود حاصل ہوگا۔ یہاں تشابہت مؤنش کا صیغہ اس لئے استعمال نہیں کیا کہ لفظ البقر مذکر ہے (اگرچہ مراد مؤنث ہے) لمھتدون ۔ ای لمھتدون الی البقرۃ المراد بذبحھا۔ ہم ضرور راہ پالیں گے (یعنی تلاش کرلیں گے) وہ گائے جس کا ذبح کرنا مقصود ہے۔ لام تاکید کا ہے۔ مھتدون۔ اسم فاعل جمع مذکر۔ اھتداء…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–74

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74 یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–71

تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی للہ عنہم اسے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے ۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–72

[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 70–73

(ف 1) اصل میں ایک ہی واقعہ ہے لیکن قرآن حمید نے کچھ اس طرح ذکر فرمایا ہے کہ شبہ ہوتا ہے کہ شاید دو الگ الگ قصے ہیں ، اس طرز بیان کو اختیار کرنے کی حکمت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کی دو بہت بری عادتوں پر بالتفصیل روشنی پڑ سکے اور یہ معلوم ہو سکے کہ ان میں یہ دونوں مرض بالاستقلال موجود ہیں ، ایک بلا وجہ بلاضرورت تفاصیل میں جانے کا ، دوسرے اخفاء جرم کا ، آیات کے پہلے حصے کو اس بات پر ختم کیا کہ (آیت) ” وما کادوا یفعلون “۔ کہ وہ کسی طرھ بھی عمل پر آمادہ نہ تھے ۔ دوسرے حصہ کے آخر میں فرمایا (آیت) ” ویریکم ایتہ لعلکم تعقلون “۔ کہ خدا اپنے نشان تمہیں دکھاتا ہے تاکہ تم جان لو ، غرض یہ ہے کہ ایک طرف تو ان…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 68–71

ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–72

ف 2۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے زمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کردینے کافی ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل نے کہا کہ ہماری تسلی ابھی نہیں ہوئی کچھ مزید وضاحت کر ائو : 145: یہ کٹ حجتیاں کرنے والے کم ہوتے تو شاید نوبت یہاں تک نہ آتی لیکن یہاں تو پورا آوے کا آوا ہی خراب تھا۔ کوئی کسی کو کیا کہتا ۔ علماء تھے تو سوء اور سیاسی لیڈر تھے تو شرارتی۔ مذہبی پیشوا تھے تو چٹے اَن پڑھ اور ناخواندہ۔ جو ان کے جی میں آتا کہہ دیتے اور جو کہہ دیتے وہ ان کا حرف ِآخر ہوتا ۔ یہ نبوت کا کمال ہے کہ ان کو ہر سوال کا جواب دیا جا رہا ہے اور کوئی سرپھٹول نہیں ہوئی۔ صبر و استقلال کے ساتھ ان کی ساری واہیاتیوں کو برداشت کرتے ہوئے ایسے معمولی معمولی اور نہایت بودے سوالات کا جواب بھی کتنے تحمل سے دیا جارہا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–71

These Verses show how the Israelites were disposed to disobedience, and how this inclination expressed itself in different forms. The Hadith says that if these people had obeyed Allah's commandment without raising so many doubts and asking unnecessary questions, such strict condition would not have been imposed on them, and the sacrifice of any cow whatsoever would have been accepted.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–70

82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…

Read the full tafseer →