Explained with ayahs 68–71
حجت بازی کا انجام
بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ کا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہیں اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور بار بار سوال کرنے لگے ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے پے درپے سوالات شروع کئے اور کام میں سختی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آخر میں وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی سختی نہ ٹلتی اور مطلوبہ گائے ملنا اور مشکل ہوجاتی پہلے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نہ تو وہ بڑھیا ہے نہ بالکل کم عمر ہے۔ بلکہ درمیانی عمر کی ہے پھر دوسرے سوال کے جواب میں اس کا رنگ بیان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
سورة الْبَقَرَة 82
سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔
سورة الْبَقَرَة 83
اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
خلاصہ تفسیر
وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ (میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے…
Read the full tafseer →گائے کے رنگوں میں سنہرا اور زرد رنگ سب سے زیادہ دل پسند رنگ ہے۔ عرب شعرا اسی پسندیدگی کے سبب سے محبوبہ کے لئے بھی یہ صفت لاتے ہیں۔“فاقع”کا لفظ اسی رنگ کی گہرائی اور شوخی کے لئے آتا ہے۔
اوپر کا سوال بھی اگرچہ غیر ضروری تھا لیکن عمر کی ایک حد معین ہوجانے کے بعد تو گائے سے متعلق کسی سوال کی کوئی گنجائش سرے سے باقی ہی نہیں رہ گئی تھی لیکن اس کے بعد انہوں نے رنگ سے متعلق سوال کر دیا جس کے جواب میں اللہ تعالیٰ نے اس رنگ کی گائے متعین فرمائی جس رنگ کی گائے سب سے زیادہ خوش رنگ اور پسندیدہ سمجھی جاتی تھی۔ ظاہر ہے کہ سوال کے جواب میں سب سے زیادہ پسندیدہ رنگ ہی کی ہدایت ہونی تھی لیکن اسی طرح کے سوالات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 1 بنی اسرائیل میں ایک لا ولد مالدار آدمی تھا جسکا وارث صرف ایک بھتیجا تھا ایک رات اس بھتیجے نے اپنے چچا کو قتل کر کے لاش کسی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح قاتل کی تلاش میں ایک دوسرے کو قاتل ٹھہرانے لگے بالآخر بات موسیٰ علیہ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا گائے کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا جس سے وہ زندہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کر کے مرگیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
51: جیسا کہ نیچے آیت 72 میں آرہا ہے، یہ حکم ایک مقتول کا قاتل دریافت کرنے کےئے دیا گیا تھا اس لئے بنی اسرائیل نے اس کو مذاق سمجھا کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کیسے معلوم ہوگا ؟
Read the full tafseer →قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا لَوْنُهَا ” پھر کہنے لگے ، اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ “ یوں سہ بارہ وہ کہتے ہیں ۔” اپنے رب سے یہ اور پوچھ دو “ اس لئے ان کے اصرار و تکرار کے نتیجے میں یہ ضروری ہوگیا کہ بالتفصیل انہیں جواب دیا جائے ۔ چناچہ جواب آیا قَالَ إِنَّهُ يَقُولُ إِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاءُ فَاقِعٌ لَوْنُهَا تَسُرُّ النَّاظِرِينَ ” موسیٰ نے کہا ” وہ فرماتے ہیں زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہوجائے۔ “
یوں ان بدبختوں نے اپنا وسیع دائرہ اختیار کم کردیا۔ اس سے پہلے اس حکم میں بڑی وسعت اور گنجائش تھی لیکن اب وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
1 یعنی واضح کر کے بتادے کہ وہ گائے کس قسم اور کس کام کی ہے۔
Read the full tafseer →قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُہَا ط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآءُلا فاقِعٌ لَّوْنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ”
یہ خوبیاں اس گائے کی تھیں جو ان کے ہاں زیادہ سے زیادہ مقدس سمجھی جاتی تھی۔ اگر پہلے ہی حکم پر وہ عمل پیرا ہوجاتے تو کسی بھی گائے کو ذبح کرسکتے تھے۔ لیکن یکے بعد دیگرے سوالات کے باعث رفتہ رفتہ ان کا گھیراؤ ہوتا گیا کہ جس گائے کے تقدس کا تأثر ان کے ذہن میں زیادہ سے زیادہ تھا اسی کو focus کردیا گیا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
84 گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتادے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے ؟
گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر…
Read the full tafseer →238 ۔ اہل مصربیل کی تقدیس کے باوجود اسے قربانی میں بھی چڑھایا کرتے تھے۔ مگر قربانی کے بیل میں بڑی بال کی کھال نکالا کرتے تھے۔ اس کا رنگ یکسر سفید ہو، اس کے جسم بھر پر بال ایک بھی سیاہ نہ ہو، دم بالکل صحیح اور طبعی حالت میں ہو، کوئی داغ دھبہ نہ ہو۔ غرض طرح طرح کی قیدیں اور شرطیں تھیں، یہ سب پوری ہولیتیں جب کہیں جاکر قربانی کی نوبت آتی۔ اسرائیلیوں نے جو اتنی موشگافیاں کیں، عجب نہیں کہ مصریوں ہی کی صحبت کا اثر ہو ،
239 ۔ یعنی رنگ خوب شوخ کھلتا ہو اہو، فلسطین وسینا کی بعض گائیں یقیناً اس رنگ کی ہوتی ہوں گی، مرشد تھانوی (رح) نے فرمایا کہ اہل کشف خود نفس کو بھی زرد ہی رنگ کا بتاتے ہیں۔ اور صوفیہ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
آیت نمبر 67 تا 71
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں…
Read the full tafseer →قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُهَا ۭ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا ( وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ ہمیں اچھی طرح سمجھا دے کہ اس کا کیا رنگ ہے ( موسیٰ نے) کہا : (خدا) فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے زرد ہے اور اس کا رنگ خوب گہرا ہے) لفظ فاقع۔ صفراء کی تاکید ہے اور لونھا فاعلیت کی وجہ سے مرفوع ہے۔ ابن عباس ؓ نے فرمایا کہ فاقع کے معنی گہری زردی کے ہیں اور حسن نے کہا زردی سیاہی مائل۔
میں کہتا ہوں کہ فاقع کے معنی زردی سیاہی مائل کے نہیں ہیں کیونکہ فقوع خالص زردی کو بولتے ہیں اور اسی لیے فاقع کو اس کی تاکید کہا گیا جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
(67۔ 71) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ ؑ کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ ؑ تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 69
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ما لونھا، ما استفہام مبتدا ہے لونھا خبر ہے۔ لونھا کو یبین کے ساتھ نصب دینا بھی جائز ہے اور اس صورت میں ما زائدہ ہوگا۔ لون کی جمع الالوان ہے یہ ایک ہیئت ہے جیسے کالا، سفید، سرخ۔ اللون کا معنی نوع بھی ہے۔ فلان متلون، رنگین مزاج شخص جو ایک عادت پر اور ایک حال پر نہ رہتا ہو۔
شاعر نے کہا :
کل یوم تتلون غیر ھذا بک اجمل
ہر روز تو بدلتا رہتا ہے مگر پھر بھی یہ عمل تجھ سے خوبصورت لگتا ہے۔
لون البسر تلویناً جب کھجور میں پکنے کے اثر کا آغاز ہو۔ اللون، کھجور کی ایک قسم ہے۔
اخفش نے کہا : یہ جمع ہے اور اس کا واحد لینۃ ٌ ہے۔
اللہ تعالیٰ کا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
(1) امام البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی گائے بھی لے لیتے تو ان کو کافی ہوجاتی یا (فرمایا) کہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی۔
(2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل یوں نہ کہتے ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ (اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) تو کبھی ان کو گائے نہ ملتی۔ اگر وہ کوئی گائے بھی لے کر ذبح کرلیتے تو وہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی ڈال دی۔
(3) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد…
Read the full tafseer →[ قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ : انہوں نے کہا آپ پکاریے ہمارے لیے اپنے رب کو ] [ يُبَيِّنْ لَّنَا : کہ وہ واضح کردے ہمارے لیے ] [ مَا : کیا ہے ] [ لَوْنُهَا ۭ : اس کا رنگ ] [ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوْلُ : انہوں نے کہا کہ وہ کہتا ہے ] [ اِنَّهَا : کہ وہ ] [ بَقَرَةٌ صَفْرَاۗءُ : ایک پیلی گائے ہے ] [ فَاقِعٌ: شوخ ہے ] [ لَّوْنُهَا : اس کا رنگ ] [ تَسُرُّ : وہ خوش کرتا ہے ] [ النّٰظِرِيْنَ : دیکھنے والوں کو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی
ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 69–70
قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا۔ قال انہ یقول انھا بقرۃ صفراء فاقع لونھا تسر النظرین۔ کہا انہوں نے کہ آپ اپنے پروردگار سے استعداء کیجئے کہ ہمارے لیے بیان فرمائے کہ اس کا رنگ کیا ہے۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ تحقیق اللہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک گائے زرد رنگ والی ہے رنگ اس کا تیز اور کھلا ہوا ہے۔ دیکھنے والوں کو اچھی معلوم ہوتی ہے۔ بنی اسرائیل کو اس پر بھی تشفی نہیں اور پھر سوال کیا۔
قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی ان البقر تشابہ علینا وانا انشاء اللہ لمھتدون۔۔ کہا انہوں نے کہ آپ دعا کیجئے اپنے رب سے کہ بیان فرمائے ہمارے لیے کہ اس گائے کی حقیقت شخصیہ کیا ہے جس کی یہ خاصیت ہے۔ اگرچہ اس کا سن…
Read the full tafseer →141 جب عمر کے متعلق اطمینان ہوگیا تو اب رنگ کے متعلق سوال کردیا صَفْرَاۗءُ فَاقِعٌ لَّوْنُهَا۔ فاقع کے معنی تیز زرد رنگ والے کے ہیں شدید الصفرۃ تکاد من صفر تھا تبیض (ابن کثیر ص 111 ج 1) تَسُرُّ النّٰظِرِيْنَ یعنی اس کا تیز اور گہرا زرد رنگ بد نما نہ ہو بلکہ ایسا خوشمنا ہو کہ دیکھنے والے اسے دیکھ کر راحت اور سرور محسوس کریں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–73
ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔
قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…
Read the full tafseer →قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُہَا 0 ۭ قَالَ اِنَّہٗ يَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ صَفْرَاۗءُ 0 ۙ فَاقِعٌ لَّوْنُہَا تَسُرُّ النّٰظِرِيْنَ 69
لون
اللَّوْنُ معروف، وينطوي علی الأبيض والأسود وما يركّب منهما، ويقال : تَلَوَّنَ : إذا اکتسی لونا غير اللّون الذي کان له . قال تعالی: وَمِنَ الْجِبالِ جُدَدٌ بِيضٌ وَحُمْرٌ مُخْتَلِفٌ أَلْوانُها
[ فاطر/ 27] ، وقوله : وَاخْتِلافُ أَلْسِنَتِكُمْ وَأَلْوانِكُمْ [ الروم/ 22] فإشارة إلى أنواع الألوان واختلاف الصّور التي يختصّ كلّ واحد بهيئة غير هيئة صاحبه، وسحناء غير سحنائه مع کثرة عددهم، وذلک تنبيه علی سعة قدرته . ويعبّر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔
ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌطعَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَط فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ ۔ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَاط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ لا فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔ قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَاط وَاِنَّآ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَج مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔
موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔
مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے…
Read the full tafseer →قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّـنَا مَالَوْنُھَا : (وہ کہنے لگے ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ وہ اچھی طرح سمجھا دے اس کا رنگ)
استفہام و نحو :
ماؔ مرفوع ہے کیونکہ اس کا معنی استفہام کا ہے۔ تقدیر عبارت یہ ہے ادع لناربک یبین لنا ای شیٔ لونھا تو ہمارے لیے اپنے رب سے دریافت کرو کہ وہ اچھی طرح بتادے کہ کیا حقیقت ہے اس کے رنگ کی۔
قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ فَاقِعٌ لَّوْنُھَا : (حضرت موسیٰ نے فرمایا وہ فرماتے ہیں بیشک وہ گہرے زرد رنگ کی ہو) الفقوع۔ انتہائی زرد۔ فاقع کا لفظ صفراء کی تاکید ہے یہ لونھا کی خبر نہیں۔ مگر اس میں رنگ اتنا ہی بلند ہوا جتنا فاعل بلند…
Read the full tafseer →69۔ (آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا مالونھا قال انہ یقول انھا بقرۃ صفراء فاقع لونھا “۔ (فاقع کا معنی) حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں سخت زرد رنگ والی حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں صاف (رنگ والی) حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں ” الصفراء السودا “ (یعنی صفراء فاقع کا معنی ہے سیاہ رنگ) پہلا قول زیادہ صحیح ہے کیونکہ اسود فاقع نہیں کہا جاتا بلکہ اصفر فاقع کہا جاتا ہے اور اسود حالک کہا جاتا ہے ، (یعنی اسود (سیاہ) میں مبالغہ کرنے کے لیے ساتھ لفظ حالک لگتا ہے) اسی طرح احمرقانی بہت سرخ اخضر ناضر بہت سبز اور ابیض بقق بہت سفید (یہ الفاظ مختلف رنگوں میں مبالغہ کے لیے آتے ہیں) (آیت)” تسرالناظرین “…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–70
(68 ۔ 70) تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی 1۔ اس گائے کی بیش قیمتی کی جو روایتیں ہیں وہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ عکرمہ سے بسند صحیح جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین اشرفی کی گائے خریدی گئی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–75
قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–69
202 حضرت موسیٰ سے سوال کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ : سو جب ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ ان سے مذاق نہیں کر رہے، بلکہ سچ اور حقیقت ارشاد فرما رہے ہیں، تو اب ان کو یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ گائے کوئی عام گائے بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید وہ کوئی خاص قسم کی گائے ہوگی، جس کے ذریعے اس طرح کا معجزانہ فعل صادر ہوگا، تو اب لگے وہ ہندی کی چندی کرنے، کہ وہ گائے کیسی ہو ! بہرکیف انہوں نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ وہ گائے کیسی اور کن صفات کی ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر وہ کوئی سی بھی گائے ذبح کرلیتے تو انکا کام بن جاتا لیکن انہوں نے سوالات کے ذریعے سختی سے کام لیا، تو ان کیلئے انکے معاملہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
گائے ذبح کرنے کا حکم
تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
آیات 62- 71
اسرارو معارف
اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
ف 3 اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے ہے کہ آخر کار انہیں ان تمام صفات کی گائے ایک ایسے شخص کے پاس ملی جس کے پاس کوئی دوسری گائے نہ تھی اس لیے وہ کہنے لگا میں اپنی گائے اس قیمت پر فروخت کروں گا کہ تم اس کی کھا مجھے سونے سے بھر دو ۔ نچا نچہ انہوں نے اسی قیمت پر ان سے یہ گائے خریدی ،۔ (ابن جریر) حدیث میں ہے کہ ابتداء میں اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتی مگر انہوں نے تغنت اور بےجا سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے تشدید برتا۔ (فتح القدیر )
1 یعنی گراں قیمت اور فضیحت کے خطرے اور ان کے ت عنت کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے ذبح کرنا نہیں چاہتے۔ حدیث میں ہے کہ اگر انشاء اللہ کہتے و آخر…
Read the full tafseer →بقوۃ صفرائ۔ موصوف صفت ، زردرنگ کی گائے۔ صفراء صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے اس کی جمع بروزن فعلائ۔ فعل، صفر ہے۔ صفراء صفت اول ہے بقرۃ کی۔
فاقع لونھا۔ فاقع اسم فاعل کا صیغہ واحد مذکر۔ لونھا مضاف مضاف الیہ مل کر فاقع کا فاعل ۔ اسم فاعل اپنے فاعل سے مل کر بقرہ کی صفت ثانی ہے۔ فاقع شوخ زرد رنگ۔
تسر۔ مضارع واحد مذکر غائب، سرور (باب نصر) وہ بھاتی ہے۔ خوش آتی ہے۔ تسر الناظرین دیکھنے والوں کو بھاتی ہے، بھلی لگتی ہے۔ یہ صفت سوم ہے بقرۃ کی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی للہ عنہم اسے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے ۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →حل لغات : لون ۔ رنگ ۔ صفرآء : زرد ، فاقع : گہرا ، واضح صاف ۔ ذلول : ہل میں جتا ہوا ۔ تثیرالارض : مادہ الشارۃ ۔ زمین درست کرنا ۔ شیۃ : داغ ، دھبا ، عیب ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–72
ف 2۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے زمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کردینے کافی ہوجاتا۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل نے مزید سوال اٹھا دیا کہ بتائو اس کا رنگ کیسا ہے ؟
144: اگر وہ لوگ موسیٰ (علیہ السلام) کا حکم سنتے ہی کوئی ایک گائے ذبح کردیتے تو انہیں اتنی تکلیف برداشت کرنے کی نوبت ہی نہ آتی ۔ حقیقت تو یہ ہے کہ ان کی نیت صحیح نہ تھی وہ چاہتے تھے کہ یہ بات ہمارے سر سے ٹل جائے اس لئے کثرت سوال سے موسیٰ (علیہ السلام) کو خوب تنگ کیا لیکن نتیجہ میں وہ خود تنگی میں مبتلا ہوگئے۔ قاعدہ ہے کہ قانون اپنی ابتدائی شکل میں بہت سادہ اور سہل ہوتا ہے مگر جوں جوں آپ سوال کرتے جائیں گے قیود اور پابندیاں بڑھتی جائیں گی اور اس کا دائرہ تنگ ہوتا جائے گا۔
اہل مصر کا ایک فرقہ گائے کی تقدیس کے باوجود اسے قربان بھی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 68–71
These Verses show how the Israelites were disposed to disobedience, and how this inclination expressed itself in different forms. The Hadith says that if these people had obeyed Allah's commandment without raising so many doubts and asking unnecessary questions, such strict condition would not have been imposed on them, and the sacrifice of any cow whatsoever would have been accepted.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…
Read the full tafseer →