Al-Baqara 2:68

Al-Baqara · from ayah 68

2:68

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا هِیَ ؕ— قَالَ اِنَّهٗ یَقُوْلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكْرٌ ؕ— عَوَانٌ بَیْنَ ذٰلِكَ ؕ— فَافْعَلُوْا مَا تُؤْمَرُوْنَ ۟قَالُوا ادۡعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنۡ لَّنَا مَا هِىَ‌ؕ قَالَ اِنَّهٗ يَقُوۡلُ اِنَّهَا بَقَرَةٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكۡرٌؕ عَوَانٌۢ بَيۡنَ ذٰلِكَ‌ؕ فَافۡعَلُوۡا مَا تُؤۡمَرُوۡنَ

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is." [Moses] said, "[Allah] says, 'It is a cow which is neither old nor virgin, but median between that,' so do what you are commanded."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:68

بولے اچھا، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں گائے کی کچھ تفصیل بتائے موسیٰؑ نے کہا، اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

انہوں نے کہا کہ اپنے پروردگار سے التجا کیجئے کہ وہ ہمیں یہ بتائے کہ وہ بیل کس طرح کا ہو۔ (موسیٰ نے) کہا کہ پروردگار فرماتا ہے کہ وہ بیل نہ تو بوڑھا ہو اور نہ بچھڑا، بلکہ ان کے درمیان (یعنی جوان) ہو۔ جیسا تم کو حکم دیا گیا ہے، ویسا کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

انہوں نے کہا اے موسیٰ! دعا کیجیئے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے لئے اس کی ماہیت بیان کردے، آپ نے فرمایا سنو! وه گائے نہ تو بالکل بڑھیا ہو، نہ بچہ، بلکہ درمیانی عمر کی نوجوان ہو، اب جو تمہیں حکم دیا گیا ہے بجا لاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

انہوں نے کہا کہ آپ ہماری خاطر اپنے رب سے درخواست کیجئے کہ ہمیں صاف صاف بتائے کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ اس نے کہا : اللہ فرماتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہو کہ نہ بہت بوڑھی ہو نہ بالکل بچی (بلکہ) ان دونوں کے بیچ بیچ میں ہو۔ بس اب جو حکم تمہیں دیا گیا ہے اس پر عمل کرلو۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتادے گائے کیسی کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اَدسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے،

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(تب) انہوں نے کہا: آپ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کریں کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ (وہ) گائے کیسی ہو؟ (موسیٰ علیہ السلام نے) کہا: بیشک وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بالکل کم عمر (اَوسَر)، بلکہ درمیانی عمر کی (راس) ہو، پس اب تعمیل کرو جس کا تمہیں حکم دیا گیا ہے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

انھوں نے کہا ہمارے لیے اپنے رب سے دعا کر، وہ ہمارے لیے واضح کرے وہ (گائے) کیا ہے ؟ کہا بیشک وہ فرماتا ہے بیشک وہ ایسی گائے ہے جو نہ بوڑھی ہے اور نہ بچھڑی، اس کے درمیان جوان عمر کی ہے، تو کرو جو تمہیں حکم دیا جاتا ہے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

وہ کہنے لگے : موسیٰ ! اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہم پر یہ واضح کر دے کہ وہ گائے کیسی ہونی چاہیے ؟ موسیٰ نے انہیں جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جو نہ تو بوڑھی ہو اور نہ بچھیا، بلکہ درمیانی عمر کی جوان ہو۔ لہذا تمہیں جو حکم دیا جا رہا ہے اس پر عمل کرو۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

انہوں نے کہا اپنے رب سے دعا کرو کہ وہ واضح کرے کہ گائے کیسی ہو ؟ اس نے کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو، نہ بچھیا، بیچ کی راس ہو، تو کرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

تو انہوں نے کہا کہ " اچھا تو پھر آپ اپنے رب سے یہ درخواست کرو، کہ وہ ہمارے لئے بیان کرے کہ گائے کیسی ہو "؟ تو موسیٰ نے کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ تو (بہت) بوڑھی ہو، اور نہ (بالکل) بچھیا، (بلکہ) اس کے درمیان اوسط عمر کی ہو، پس تم لوگ کر گزرو وہ کام جس کا حکم تمہیں دیا جارہا ہے

— مولانا اسحاق مدنی

وہ بولے ہماری طرف سے اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ وہ ہمیں بتائے کہ وہ کیسی ہو کہا کہ وہ فرماتا ہے کہ وہ گائے نہ بوڑھی ہو نہ بن بیائی (بلکہ) دونوں عمروں کے درمیان ہو سو (اب) کرڈالوجو کچھ تمہیں حکم ملا ہے

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

انہوں نے کہا (اچھا ایسی ہی بات ہے تو) ہمارے لیے ذرا اپنے رب سے دعا کیجیے کہ وہ ہم پر واضح کر دے کہ وہ کیسی ہو۔ حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک ایسی گائے ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بالکل بچھیا بڑھاپے اور نوجوانی کے بین بین ہو۔ تو اب کر گزرو جو تمہیں حکم دیا جا رہا ہے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

وہ بولے کہ اچھا اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ موسیٰ ؑ نے کہا ! اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ گائے ایسی ہونی چاہیے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو، لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Then they said, "Please make a request to your Lord to give us some details of the cow." Moses answered, "Allah says that the cow should neither be old nor immature but of middle age. Do, therefore, as you are bidden."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

They said, :Pray for us to your Lord that He makes it clear to us what sort (of cow) should she be. He said, :He says she should be a cow neither too old, nor too young - of some middle age in between. Now, do what you are being asked to do.

— Muhammad Taqi Usmani

They said, :Pray for us to your Lord that He makes it clear to us what sort (of cow) should she be. He said, :He says she should be a cow neither too old, nor too young - of some middle age in between. Now, do what you are being asked to do.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

They said, "Call upon your Lord for us that He may make plain to us what it is!" He said, "He says, `Verily, it is a cow neither too old nor too young, but (it is) between the two conditions', so do what you are commanded."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

They said: Pray for us unto thy Lord that He make clear to us what (cow) she is. (Moses) answered: Lo! He saith, Verily she is a cow neither with calf nor immature; (she is) between the two conditions; so do that which ye are commanded.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

They said, "Call upon your Lord to make clear to us what it is." [Moses] said, "[Allah] says, 'It is a cow which is neither old nor virgin, but median between that,' so do what you are commanded."

— Saheeh International

They demanded, "Ask your Lord to describe the kind of cow He wants us to slaughter." Moses explained, "It must be neither too old nor too young, thus do whatever you are commanded to do." Moses then told them to do as they were ordered.

— Muhammad Sarwar

They said: Call on your Lord for our sake to make it plain to us what she is. Musa said: He says, Surely she is a cow neither advanced in age nor too young, of middle age between that (and this); do therefore what you are commanded.

— Muhammad Habib Shakir

They said: supplicate for us unto thy Lord that He make manifest unto us whatever she should be. He said: verily He saith, she should be a cow neither old nor young, but middle-aged betwixt that; do then as ye are commanded.

— Abdul Majid Daryabadi

They said: "Beseech on our behalf Thy Lord to make plain to us what (heifer) it is!" He said; "He says: The heifer should be neither too old nor too young, but of middling age. Now do what ye are commanded!"

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:68

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 68–71

حجت بازی کا انجام بنی اسرائیل کی سرکشی سرتابی اور حکم اللہ امر الٰہی وضاحت کے ساتھ کا یہاں بیان ہو رہا ہے کہ حکم پاتے ہیں اس پر عمل نہ کر ڈالا بلکہ شقیں نکالنے اور بار بار سوال کرنے لگے ابن جریج فرماتے ہیں رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے کہ حکم ملتے ہی وہ اگر کسی گائے کو بھی ذبح کر ڈالتے تو کافی تھا لیکن انہوں نے پے درپے سوالات شروع کئے اور کام میں سختی بڑھتی گئی یہاں تک کہ آخر میں وہ انشاء اللہ نہ کہتے تو کبھی بھی سختی نہ ٹلتی اور مطلوبہ گائے ملنا اور مشکل ہوجاتی پہلے سوال کے جواب میں کہا گیا کہ نہ تو وہ بڑھیا ہے نہ بالکل کم عمر ہے۔ بلکہ درمیانی عمر کی ہے پھر دوسرے سوال کے جواب میں اس کا رنگ بیان…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–70

سورة الْبَقَرَة 82 سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔ سورة الْبَقَرَة 83 اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 68–71

خلاصہ تفسیر وہ لوگ کہنے لگے کہ آپ درخواست کیجئے ہمارے اپنے رب سے ہم سے بیان کردیں کہ اس (بیل) کے کیا اوصاف ہیں آپ نے فرمایا کہ وہ (میری درخواست کے جواب میں) یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایسا بیل ہو کہ نہ بوڑھا ہو نہ بہت بچہ ہو (بلکہ) پٹھا ہو دونوں عمروں کے اوسط میں سو اب (زیادہ حجت مت کیجیو بلکہ کرڈالو جو کچھ تم کو ملا ہے کہنے لگے کہ (اچھا یہ بھی) درخواست کردیجئے ہمارے لئے اپنے رب سے ہم سے یہ (بھی) بیان کردیں کہ اس کا رنگ کیسا ہو ؟ آپ نے فرمایا کہ (اس کے متعلق) حق تعالیٰ یہ فرماتے ہیں کہ وہ ایک زرد رنگ کا بیل ہو جس کا رنگ تیز زرد ہو کہ ناظرین کو فرحت بخش ہو کہنے لگے کہ (اب کی بار اور) ہماری خاطر اپنے…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

گائے کی قربانی کے حکم کے بعد یہ سوال جو بنی اسرائیل نے کیا یہ محض ان کے فساد مزاج کا پیدا کردہ تھا۔ فی الواقع یہ سوال پیدا نہیں ہوتا تھا۔ اگر ان کے مزاج میں سلامت روی ہوتی تو وہ متوسط درجہ کی کوئی سی گائے ذبح کر کے اللہ تعالیٰ کے حکم کی تعمیل کر سکتے تھے۔ اللہ تعالیٰ چونکہ اس ذہنیت سے واقف تھا جو اس سوال کے پس پردہ چھپی ہوئی تھی اس وجہ سے سوال کا وہ جواب تو اس نے دے دیا جو ان کے اشتباہ کے دور کرنے کے لئے کافی تھا، یعنی یہ کہ گائے اپنی عمر کے لحاظ سے اوسط درجہ کی ہو لیکن ساتھ ہی یہ بھی فرما دیا کہ جو حکم دیا جا رہا ہے اس کی بے چون وچرا تعمیل کرو، اس قسم کے سوال کر کے نہ شریعت سے گریز کی راہیں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 67–70

67۔ 1 بنی اسرائیل میں ایک لا ولد مالدار آدمی تھا جسکا وارث صرف ایک بھتیجا تھا ایک رات اس بھتیجے نے اپنے چچا کو قتل کر کے لاش کسی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح قاتل کی تلاش میں ایک دوسرے کو قاتل ٹھہرانے لگے بالآخر بات موسیٰ علیہ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا گائے کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا جس سے وہ زندہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کر کے مرگیا (فتح القدیر)

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 67–70

51: جیسا کہ نیچے آیت 72 میں آرہا ہے، یہ حکم ایک مقتول کا قاتل دریافت کرنے کےئے دیا گیا تھا اس لئے بنی اسرائیل نے اس کو مذاق سمجھا کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کیسے معلوم ہوگا ؟

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

ان کے لئے یہ ممکن تھا ، جب کہ حکم بالکل آسان تھا ، کہ وہ کسی گائے کو پکڑتے اور ذبح کر ڈالتے ، اور اس طرح بسہولت وہ اللہ کے حکم پر عمل پیرا ہوجاتے اور اپنے لیڈر اور اپنے نبی کا اشارہ ملتے ہی اسے نافذ کردیتے ۔ لیکن اس وقت ان کی فطرت حیلہ ساز جاگ اٹھتی ہے ، اور اپنے موروثی مزاج سے مغلوب ہوکر وہ پوچھنے لگتے ہیں قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَنَا مَا هِيَ ” بولے ! اچھا ، اپنے رب سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ “ انہوں نے اپنا سوال جن الفاظ میں بیان کیا ، وہ الفاظ ہی یہ ظاہر کررہے ہیں کہ انہیں اب بھی اس بارے میں شک ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) مذاق کررہے ہیں ۔ یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 یعنی اس کی عمر کتنی ہے اور اس کے حالات کیا ہیں نو عمر ہے یا بوڑھی۔ 10 یعنی اس گائے کو ذبح کر ڈالو۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 67–68

ان آیات کے مطالعے سے قبل ان کا پس منظر جان لیجیے۔ بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک شخص قتل ہوگیا تھا اور قاتل کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مردہ شخص کے جسم پر مارو تو وہ جی اٹھے گا اور بتادے گا کہ میرا قاتل کون ہے۔ بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہمیں معجزات کا عمل دخل بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہ بھی انہی معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ گائے کو ذبح کرانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے قلوب و اذہان میں گائے کا جو تقدس راسخ ہوچکا تھا اس پر تلوار چلائی جائے۔ اور پھر انہیں یہ بھی دکھا دیا گیا کہ ایک مردہ…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 67–70

84 گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتادے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے ؟ گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

236 ۔ (بہ لحاظ عمر) ماھی سے مراد بیان حقیقت نہیں۔ مقصود توضیح مزید ہے۔ 237 ۔ یعنی نہ ایسی بوڑھی ہو نہ بالکل بچہ۔ (آیت) ” فارض “ وہ ہے جس کے بچہ جننے کا سلسلہ منقطع ہوچکا ہو۔ (آیت) ” بکر “ وہ ہے جس نے ابھی بچہ جناہی نہ ہو۔ الفارض المسنۃ التی لا تلد والبکر الفتیۃ التی لم تلد قط (معالم) یہیں سے خیال ہوتا ہے کہ بقرۃ سے مراد بیل نہیں گائے ہی ہے۔ عوان کے معنی درمیانی سن رکھنے والی۔ العوان المتوسط بین السنین (راغب)

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 67–71

آیت نمبر 67 تا 71 ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

قَالُوْا دْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا ھِیَ ( کہنے لگے پوچھ ہمارے رب سے بیان فرما دے ہمیں کہ وہ کیسی (گائے) ہے) لفظ ما سے اکثرجنس سے سوال ہوتا ہے اور یہاں جنس معلوم تھی جانتے تھے کہ گائے ہے لیکن یہاں اس کی حالت دریافت کرنی منظور ہے اور بظاہر یہ مناسب معلوم ہوتا ہے کہ لفظ ای بقرۃ ( وہ کونسی گائے) کَیْفَ ھِیَ ( وہ کیسی ہے) استعمال فرماتے لیکن ان الفاظ کے ترک کرنے اور مَا ھِیَ کے اختیار کرنے میں یہی وجہ ہے جو پہلے گذر چکی کہ بنی اسرائیل اسے بہت عجیب سمجھتے تھے کہیں ایسا بھی ہوا ہے کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کا پتہ لگ جائے وہ اپنے جی میں یہ سمجھے ہوئے تھے کہ کوئی عجیب گائے ہوگی جس کی تمام…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 67–71

(67۔ 71) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ ؑ کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے…

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 67–71

مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ ؑ تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 68 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : قالوا ادع النا ربک یہ بنی اسرائیل کی ہٹ دھرمی اور اطاعت کی کمی کا اظہار ہے۔ اگر وہ حکم کی پیروی کرتے اور کوئی گائے ذبح کردیتے تو مقصود حاصل ہوجاتا لیکن انہوں نے اپنے اوپر سختی کی تو اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی کی۔ حضرت ابن عباس اور ابو العالیہ وغیرہما کا یہ قول ہے (1) ۔ اسی طرح حضرت حسن بصری نے نبی کریم ﷺ سے روایت کیا ہے۔ بنی عامر کی لغت ادع ہے (2) ۔ یہ پہلے گزر چکا ہے۔ یبین، جواب امر کی وجہ سے مجزوم ہے۔ ما ھی یہ مبتدا خبر ہیں۔ ما ھیۃ الشی، شے کی حقیقت اور اس کی ذات جس پر وہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ارشاد ہے : قال انہ یقول انھا بقرۃٌ لا فارضٌ ولا بکر عوانٌ بین…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 68–71

(1) امام البزار نے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل کوئی معمولی گائے بھی لے لیتے تو ان کو کافی ہوجاتی یا (فرمایا) کہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی۔ (2) حضرت ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ نے ارشاد فرمایا اگر بنی اسرائیل یوں نہ کہتے ” وانا انشاء اللہ لمھتدون “ (اور ہم انشاء اللہ ٹھیک پتہ لگالیں گے) تو کبھی ان کو گائے نہ ملتی۔ اگر وہ کوئی گائے بھی لے کر ذبح کرلیتے تو وہ ان کی طرف سے کافی ہوجاتی لیکن انہوں نے سختی اختیار کرلی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر سختی ڈال دی۔ (3) عکرمہ (رح) سے روایت کیا کہ وہ نبی اکرم ﷺ سے روایت کرتے ہیں کہ آپ نے ارشاد…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ قَالُوا : ان لوگوں نے کہا ] [ ادْعُ : آپ پکاریے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ رَبَّكَ : اپنے رب کو ] [ يُبَيِّنْ : کہ وہ واضح کردے ] [ لَّنَا : ہمارے لیے ] [ مَا هِىَ ۭ : وہ کیا ہے ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اِنَّهٗ : کہ وہ ] [ يَقُوْلُ : کہتا ہے ] [ اِنَّهَا : کہ وہ ] [ بَقَرَةٌ: ایک ایسی گائے ہے ] [ لَّا فَارِضٌ: نہ بوڑھی ہے ] [ وَّلَا بِكْرٌ ۭ : اور نہ کنواری ہے ] [ عَوَانٌۢ : بیچ میں ہے ] [ بَيْنَ ذٰلِكَ ۭ : اس کے مابین ] [ فَافْعَلُوْا : پس تم لوگ کرو ] [ مَا : وہ جو ] [ تُـؤْمَرُوْنَ : تم کو حکم دیا جاتا ہے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 67–71

ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔ یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

آئندہ آیات میں بنی اسرائیل کے تعنت آمیز سوالات کا ذکر ہے۔ قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی۔ قال انہ یقول انھا بقرۃ لا فارض ولا بکر۔ عوان بین ذلک فافعلوا ما تؤمرون۔ کہا انہوں نے کہ آپ اپنے پروردگار سے درخواست کیجئے کہ بیان کرے کہ وہ گائے کیا چیز ہے اور اس کی حقیقت کیا ہے کیونکہ یہ خاصیت نہ تو متعارف گائے کی ہے نہ نیل گائے کی۔ معلوم ہوا کہ جس گائے کی یہ خاصیت ہے اس کی حقیقت ہی کچھ اور ہوگی اگرچہ نام اس کا گائے ہوگا مگر ماہیت نوعیہ اس کی بالکل جدا ہوگی۔ کہا موسیٰ (علیہ السلام) نے کہ تحقیق اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے یعنی اسی جنس کی ہے کسی دوسری جنس کی گائے نہیں اور نہ اس کی کوئی نئی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف140 اب یہاں سے اسرائیلیوں کے تعنت اور حکم خداوندی کے امتثال میں لیت ولعل کا سلسلہ شروع ہوتا ہے یہاں مَا ھِیَ کے ذریعے گائے کی حقیقت مختصہ سے سوال نہیں ہے بلکہ یہ سوال محض ایضاح حال کیلئے ہے لَا فَارِضٌ وَلَا بِکْرٌ یعنی وہ نہ بوڑھی ہو اور نہ بچی الفارض اسم للمسنۃ التی انقطعت ولاد تھا من الکبر والبکر اسم للصغیرۃ التی لم تلد من الصغر (روح ص 7-286 ج 1) عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ ۔ یہ ماقبل کی تاکید ہے، عوان اسے کہتے ہیں جو مذکورہ دونوں عمروں کے درمیان ہو وسط بین السنین (معالم ص 60 ج 1) ای لاھی صغیرۃ ولاھی مسنۃ (قرطبی ص 449 ج 1) فَافْعَلُوْا مَا تُـؤْمَرُوْن۔ یعنی حکم کی تعمیل کرو اور زیادہ سوال و…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 68–73

ربط آیات : گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا ذکر ہوچکا ہے۔ انہوں نے احکام الٰہی حیلے بہانے سے ٹالنے کی کو کی۔ جب اللہ تعالیٰ نے انہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا تو انہوں نے تعمق اختیار کیا۔ اور طرح طرح کے سوالات کرنے لگے۔ پھر جوں جوں سوالات کرتے گئے۔ توں توں ان کی سختیاں بڑھتی گئیں آخر انہوں نے مجبور ہو کر گائے کو ذبح کیا۔ اور اس کا ایک ٹکڑا مردہ کے جسم کے ساتھ لگایا۔ تو وہ زندہ ہوگیا۔ پھر اس نے بتایا کہ اسے اس کے بھتیجوں نے دولت پر قبضہ کرنے کے لئے قتل کیا ہے۔ اس طرح اللہ تعالیٰ نے ان کی مخفی بات کو ظاہر کردیا۔ قاتل کا یہ بھی ارادہ تھا کہ وہ مقتول چچا کی لڑکی کو حاصل کرلے گا۔ کیونکہ اس…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُبَيِّنْ لَّنَا مَا ہِىَ۝ 0 ۭ قَالَ اِنَّہٗ يَقُوْلُ اِنَّہَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِكْرٌ۝ 0 ۭ عَوَانٌۢ بَيْنَ ذٰلِكَ۝ 0 ۭ فَافْعَلُوْا مَا تُـؤْمَرُوْنَ۝ 68 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ دعا الدُّعَاء کالنّداء، إلّا أنّ النّداء قد يقال بيا، أو أيا، ونحو ذلک من غير أن يضمّ إليه الاسم، والدُّعَاء لا يكاد يقال إلّا إذا کان معه الاسم، نحو :…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 67–71

1 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔ ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 68–71

قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا فَارِضٌ وَّلَا بِکْرٌطعَوَانٌم بَیْنَ ذٰلِکَط فَافْعَلُوْا مَاتُؤْمَرُوْنَ ۔ قَالُوْا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَا لَوْنُھَاط قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ صَفْرَآئُ لا فَاقِعٌ لَّوْنُھَا تَسُرُّ النّٰظِرِیْنَ ۔ قَالُوْاادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَلا اِنَّ الْبَقَرَ تَشٰبَہَ عَلَیْنَاط وَاِنَّآ اِنْ شَائَ اللّٰہُ لَمُھْتَدُوْنَ ۔ قَالَ اِنَّہٗ یَقُوْلُ اِنَّھَا بَقَرَۃٌ لَّا ذَلُوْلٌ تُثِیْرُ الْاَرْضَ وَلَا تَسْقِی الْحَرْثَج مُسَلَّمَۃٌ لَّاشِیَۃَ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 68–71

فہم القرآن ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ میں اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں کہ اللہ تعالیٰ کے نام پر آپ کے ساتھ غلط بیانی اور مذاق کروں۔ کیونکہ پریشانی کے وقت مذاق کرنا اور قتل جیسے مقدمے کو غیر سنجیدہ طور پر لینا سراسر جہالت ہے۔ پیغمبر کی شان تو انتہائی اعلیٰ اور ارفع ہوتی ہے۔ ایک ادنیٰ درجے کے معقول آدمی سے بھی توقع نہیں کی جاسکتی کہ وہ پریشانی کے موقعہ پر اس قسم کا مذاق کرے۔ لیکن حیلہ ساز اور مشرکانہ عقائد رکھنے والی قوم نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا کہ تم ہمارے ساتھ مذاق کر رہے ہو۔ مکمل حکم آنے کے باوجود اپنا جرم چھپانے کے لیے۔ وہ سوال پر سوال کرتے چلے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

قَالُوا ادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُبَیِّنْ لَّنَا مَاھِیَ : (انہوں نے کہا تو پوچھ ہمارے لیے اپنے رب سے کہ وہ بیان فرما دے کہ وہ کیسی ہو) اس میں گائے کی حالت اور صفت کے متعلق سوال ہے۔ ایک سوال و جواب : سوال : ما سے سوال تو جنس کے متعلق ہوتا ہے پھر اس سے وصف کے متعلق سوال کیونکر ؟ جواب : کبھی کبھی ماؔ کیف کی جگہ آتا ہے۔ اور وہ اس طرح کہ انہوں نے مردہ گائے کے بارے میں تعجب کیا کہ جس کا بعض حصہ مردہ کو لگانے سے مردہ زندہ ہوجائے گا۔ پس انہوں نے اس عجیب حالت والی گائے کے متعلق سوال کیا۔ گویا انہوں نے یہ سمجھا کہ وہ نام گائے کا ہوگا جنس کوئی اور ہوگی اس لیے ماھی سے سوال کیا۔ ترکیب : ھِیَ مبتداء ماؔ اس کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 68۔: (آیت)” قالوا ادع لنا ربک یبین لنا ماھی “ یعنی اس کی عمر کیا ہے ؟ (قال) موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا ” انہ یقول “ یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے سوال کیا پس فرمایا بیشک وہ یعنی بیشک اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” انھا بقرۃ لا فارض والا بکر “ یعنی نہ بڑی ہو نہ چھوٹی ، فارض اس عمر رسیدہ کو کہتے ہیں جو بچہ نہ جنے ، کہا جاتا ہے اسی سے ہے فرضت تفرض ، فروضا۔ بکر چھوٹی نوعمر جس نے ابھی بچہ نہ جنا ہو ، فارض اور بکر دونوں سے ھاء (تانیث) کو حذف کردیا گیا ، اس لیے کہ یہ دونوں مؤنث کے ساتھ خاص ہیں ، جیسے حائض مؤنث کے ساتھ خاص ہے ، (عوان) درمیانی برابر ” بین ذالک “ یعنی بیان…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 68–70

(68 ۔ 70) تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبد اللہ بن عباس سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی 1۔ اس گائے کی بیش قیمتی کی جو روایتیں ہیں وہ اہل کتاب سے لی گئی ہیں جن پر اعتماد نہیں کیا جاسکتا۔ عکرمہ سے بسند صحیح جو روایت ہے اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تین اشرفی کی گائے خریدی گئی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 67–74

آیت 67-74 ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 68–75

قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم و قد کان فریق منھم یسمعون کلام اللہ ثم یحرفونہ من بعدما عقلوہ وھم یعلمون (اے مسلمانو ! اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے حلان کہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی) یہ قول باری اس امر پر دلالت کرتا ہے کہ حق کا علم رکھنے کے باوجود اس سے معاندت برتنے والا شخص ایک جاہل انسان کی بہ نسبت رشد و ہدایت سے زیادہ دور ہتا ہے اور اس کے سدھر جانے کے امکانات جاہل کے مقابل ی میں کم ہوتے ہیں۔ اس لئے کہ قول باری ہے : افتطمعون ان یومنوا لکم ان کے رشد و ہدایت کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 68–69

202 حضرت موسیٰ سے سوال کہ وہ گائے کیسی ہو ؟ : سو جب ان کو یقین ہوگیا کہ حضرت موسیٰ ان سے مذاق نہیں کر رہے، بلکہ سچ اور حقیقت ارشاد فرما رہے ہیں، تو اب ان کو یہ یقین کرنا مشکل تھا کہ وہ گائے کوئی عام گائے بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ شاید وہ کوئی خاص قسم کی گائے ہوگی، جس کے ذریعے اس طرح کا معجزانہ فعل صادر ہوگا، تو اب لگے وہ ہندی کی چندی کرنے، کہ وہ گائے کیسی ہو ! بہرکیف انہوں نے حضرت موسیٰ سے پوچھا کہ وہ گائے کیسی اور کن صفات کی ہو ؟ حضرت ابن عباس ؓ سے مروی ہے کہ اگر وہ کوئی سی بھی گائے ذبح کرلیتے تو انکا کام بن جاتا لیکن انہوں نے سوالات کے ذریعے سختی سے کام لیا، تو ان کیلئے انکے معاملہ کو…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 67–71

گائے ذبح کرنے کا حکم تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–71

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 68–71

ف 3 اسرائیلی روایات میں یہ بھی ہے ہے کہ آخر کار انہیں ان تمام صفات کی گائے ایک ایسے شخص کے پاس ملی جس کے پاس کوئی دوسری گائے نہ تھی اس لیے وہ کہنے لگا میں اپنی گائے اس قیمت پر فروخت کروں گا کہ تم اس کی کھا مجھے سونے سے بھر دو ۔ نچا نچہ انہوں نے اسی قیمت پر ان سے یہ گائے خریدی ،۔ (ابن جریر) حدیث میں ہے کہ ابتداء میں اگر وہ کوئی گائے بھی ذبح کردیتے تو کافی ہوجاتی مگر انہوں نے تغنت اور بےجا سوالات کئے تو اللہ تعالیٰ نے تشدید برتا۔ (فتح القدیر ) 1 یعنی گراں قیمت اور فضیحت کے خطرے اور ان کے ت عنت کی وجہ سے ایسا معلوم ہوتا تھا کہ وہ اسے ذبح کرنا نہیں چاہتے۔ حدیث میں ہے کہ اگر انشاء اللہ کہتے و آخر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

Explained with ayahs 67–68

(2:67) ان تذبحوا۔ ان مصدر یہ ہے۔ تذبحوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ذبح (باب فتح) مصدر سے کہ تم ذبح کرو۔ اتتخذنا ھزوا ہمزہ استفہامہ تتخذ مضارع واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افعال) مصدر سے تو بناتا ہے۔ تو پکڑتا ہے نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ھزوا مفعول ثانی۔ مصدر باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ مسخرا۔ کیا تو ہمارا مذاق اڑاتا ہے۔ اعوذ۔ مضارع واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی دوسرے سے التجاء کرنا اور پناہ مانگنا ہے میں پناہ چاہتا ہوں باللہ اللہ کی۔ ان اکون ۔ ان مصدریہ اکون مضارع منصوب واحد متکلم ۔ کون (باب نصر) مصدر سے، کہ میں ہوجاؤں۔ الجاہلین۔ جاہل کی جمع…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 67–74

لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74 یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 68–71

تفسیر ابن جریر میں بسند صحیح حضرت عبداللہ ابن عباس رضی للہ عنہم اسے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل کے جھگڑوں سے اس گائے کے اوصاف سخت ہوگئے ۔ اگر وہ لوگ بغیر ان جھگڑوں کے ایک معمولی گائے ذبح کرلیتے تو یہ مشکل پیش نہ آتی ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–72

[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 66–68

اخفائے جرم : بنی اسرائیل کی قوم میں جہاں صدہا عیوب پیدا ہوگئے تھے وہاں سب سے بڑا عیب اخفائے جرم کا جذبہ تھا اور ظاہر ہے اس کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ قوم میں احساس گناہ نہیں رہا اور وہ بدمذہبی کے اس دور میں سے گزر رہی ہے جس کی اصلاح از بس دشوار ہے ۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص قتل ہوجاتا اور اس کے قاتل کا کوئی پتہ نہ چل سکتا تو پھر وہ ایک بیل ذبح کرتے اور اس کے خون سے ہاتھ دھوتے ، قاتل اگر اس جماعت میں ہوتا تو وہ اس سے انکار کردیتا ، خیال یہ تھا کہ قاتل اگر دھوئے گا تو وہ ضرور نقصان اٹھائے گا ، یہ کوئی شرعی بات نہ تھی ، محض ان کا وہم تھا جس پر ان کو یقین تھا جس طرح جاہل قوموں کے معتقدات…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 68–71

ف 2 انہوں نے کہا اے موسیٰ آپ اپنے رب سے ہمارے لئے درخاوست کیجیے کہ وہ اس بیل کا حال اور اس کا وصف بیان کرے کہ وہ کیسا ہو کتنا بڑا ہو۔ حضرت موسیٰ نے جواب دیا کہ اللہ تعالیٰ فرمتا ہے وہ بیل نہ تو بہت بوڑھا ہو اور نہ بالکل بچہ ہو بلکہ اس کی عمران دونوں حالتوں کے درمیان ہو اب جو کچھ تم کو حکم دیا گیا ہے اس کو کر ڈالو اپر انہوں نے کہا آپ اپنے رب سے ہمارے لئے یہ درخواست اور کردیجیے کہ وہ یہ بیان کرے کہ اس بیل کا رنگ کیسا ہو حضرت موسیٰ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وہ ایک ایسا بیل ہو جس کا رنگ زرد ہو اور زرد بھی بہت گہرا اور شوخ جو دیکھنے والوں کو فرحت بخش اور خوش آئند ہو یہ سن کر انہوں نے کہا اچھا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 68–72

ف 2۔ حدیث میں ہے کہ اگر وہ حجتیں نہ کرتے تو اتنی قیدیں ان کے زمہ نہ ہوتیں جو بقرہ ذبح کردینے کافی ہوجاتا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کی مزید موشگافیاں : 143: جب قانون یا حکم پر عمل کرنا منظور نہ ہو تو اس میں فلسفیانہ موشگافیوں سے کام لیا جاتا ہے ۔ بال کی کھال اتاری جاتی ہے۔ بات یہ بات نکالی جاتی ہے ۔ سوال پر سوال کیا جاتا ہے اور مقصد یہی ہوتا ہے کہ کسی نہ کسی طرح اس سے نجات مل جائے۔ باتیں بہت پوچھیں جاتی ہیں ۔ فرضی صورتیں پیش کی جاتی ہیں اور ان سب کا محاصل ترک قانون یا حکم کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ چناچہ بنی اسرائیل نے بھی بعینہٖ یہی صورت اختیار کی اگر وہ ان باریک بینیوں میں نہ جاتے۔ بلکہ کوئی ایک گائے لے کر ذبح کردیتے تو معاملہ ختم ہوجاتا لیکن ایسا جب کرتے کہ وہ کرنے کا ارادہ رکھتے ان کا ارادہ تو بات کو ٹالنے کا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 68–71

These Verses show how the Israelites were disposed to disobedience, and how this inclination expressed itself in different forms. The Hadith says that if these people had obeyed Allah's commandment without raising so many doubts and asking unnecessary questions, such strict condition would not have been imposed on them, and the sacrifice of any cow whatsoever would have been accepted.

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–70

82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…

Read the full tafseer →