قاتل کون ؟
اس کا پورا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بہت مالدار اور تونگر تھا اس کی کوئی نرینہ اولاد نہ تھی صرف ایک لڑکی تھی اور ایک بھیتجا تھا بھتیجے نے جب دیکھا کہ بڈھا مرتا ہی نہیں تو ورثہ کے لالچ میں اسے خیال آیا کہ میں ہی اسے کیوں نہ مار ڈالوں ؟ اور اس کی لڑکی سے نکاح بھی کرلوں قتل کی تہمت دوسروں پر رکھ کر دیت بھی وصول کروں اور مقتول کے مال کا مالک بھی بن جاؤں اس شیطانی خیال میں وہ پختہ ہوگیا اور ایک دن موقع پا کر اپنے چچا کو قتل کر ڈالا۔ بنی اسرائیل کے بھلے لوگ ان کے جھگڑوں بکھیڑوں سے تنگ آ کر یکسو ہو کر ان سے الگ ایک اور شہر میں رہتے تھے شام کو اپنے قلعہ کا پھاٹک بند کردیا کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
سورة الْبَقَرَة 82
سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔
سورة الْبَقَرَة 83
اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ حق تعالیٰ تم کو حکم دیتے ہیں کہ (اگر اس لاش کے قاتل کا پتہ لگانا چاہتے ہو تو) تم ایک بیل ذبح کرو وہ کہنے لگے کہ آیا آپ ہم کو مسخرہ بناتے ہیں (کہاں قاتل کی تحقیق کہاں جانور کا ذبح کرنا) موسیٰ ؑ نے فرمایا نعوذ باللہ جو میں ایسی جہالت والوں کا سا کام کروں (کہ احکام خداوندی میں تمسخر کرنے لگوں)
فائدہیہ قصہ اس طرح ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا جس کی وجہ مرقاۃ شرح مشکوٰۃ میں یہ لکھی ہے کہ کسی شخص نے مقتول کی کسی لڑکی سے شادی کی درخواست کی تھی مگر اس نے انکار کردیا اور اس شخص نے اس کو قتل کردیا قاتل لاپتہ تھا اس…
Read the full tafseer →یہ یہود کے نقض عہد کی دوسری مثال بیان ہو رہی ہے اور اس مثال کو بیان کرنے کے لئے قرآن نے یہ طریقہ اختیار کیا ہے کہ ایک ہی بات کو دو حصوں میں اس نے تقسیم کر دیا ہے۔ ایک حصہ اس امر کو واضح کرتا ہے کہ بنی اسرائیل کی ذہنیت شروع ہی سے شریعت الہٰی کے قبول کرنے کے معاملہ میں کیسی حیلہ جویانہ اور فرارپسندانہ رہی ہے اور اس کے دوسرے حصے سے یہ حقیقت واضح ہوتی ہے کہ ہزار حیلہ وحجت کے بعد جب وہ کسی بات کو قبول بھی کر لیتے رہے ہیں تو اس کی تعمیل بھی صحیح طریقہ پر نہیں کرتے تھے بلکہ اس حکم سے گریز کی راہیں تلاش کرتے تھے۔
اس چیز کو واضح کرنے کے لئے قرآن نے بنی اسرائیل کی تاریخ سے قَسَّامہ کے ایک واقعہ کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
67۔ 1 بنی اسرائیل میں ایک لا ولد مالدار آدمی تھا جسکا وارث صرف ایک بھتیجا تھا ایک رات اس بھتیجے نے اپنے چچا کو قتل کر کے لاش کسی آدمی کے دروازے پر ڈال دی، صبح قاتل کی تلاش میں ایک دوسرے کو قاتل ٹھہرانے لگے بالآخر بات موسیٰ علیہ تک پہنچی تو انہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا گائے کا ٹکڑا مقتول کو مارا گیا جس سے وہ زندہ ہوگیا اور قاتل کی نشان دہی کر کے مرگیا (فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
51: جیسا کہ نیچے آیت 72 میں آرہا ہے، یہ حکم ایک مقتول کا قاتل دریافت کرنے کےئے دیا گیا تھا اس لئے بنی اسرائیل نے اس کو مذاق سمجھا کہ گائے ذبح کرنے سے قاتل کیسے معلوم ہوگا ؟
Read the full tafseer →اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی۔ پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا ، اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگاؤ۔ دیکھو اس طرح اللہ مردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تاکہ تم سمجھو۔ “
قرآن کریم نے یہ قصہ اس انداز میں بیان کیا ہے ، اس کے کئی پہلو غور وفکر ہیں ۔ اس کا ایک پہلو تو یہ ہے کہ یہ بنی اسرائیل کے قومی مزاج اور ان کی موروثی جبلت کو اچھی طرح اجاگر کردیتا ہے ۔ نیز اس سے موت وحیات کی حقیقت ، موت کے بعد اٹھائے جانے…
Read the full tafseer →6 یعنی یاد کرو اس وقت کو کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص عامیل نامی مارا گیا تھا اور اس کا قاتل معلوم نہ ہوتا تھا تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا " اللہ کا یہ حکم ہے کہ ایک گائے ذبح کر کے اس کا ایک ٹکڑا مردے پر مارو تو وہ جی اٹھے اور آپ اپنے قاتل کو بتادے " اللہ تعالیٰ نے اس طرح اس مردے کو جلایا اور اس نے قاتل کو بتادیا کہ اس کے وارثوں نے ہی بطمع مال قتل کیا تھا۔
7 کیونکہ یہ تو دیکھا نہ سنا کہ گائے کے ٹکڑا مارنے سے مردہ زندہ ہوجائے۔
8 یعنی ٹھٹھا کرنا احمق جاہل کا کام ہے اور وہ بھی احکام شرعیہ میں پیغمبر سے یہ ہرگز ممکن نہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
ان آیات کے مطالعے سے قبل ان کا پس منظر جان لیجیے۔ بنی اسرائیل میں عامیل نامی ایک شخص قتل ہوگیا تھا اور قاتل کا پتا نہیں چل رہا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعے سے حکم دیا کہ ایک گائے ذبح کرو اور اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مردہ شخص کے جسم پر مارو تو وہ جی اٹھے گا اور بتادے گا کہ میرا قاتل کون ہے۔
بنی اسرائیل کی تاریخ میں ہمیں معجزات کا عمل دخل بہت زیادہ ملتا ہے۔ یہ بھی انہی معجزات میں سے ایک معجزہ تھا۔ گائے کو ذبح کرانے کا ایک مقصدیہ بھی تھا کہ بنی اسرائیل کے قلوب و اذہان میں گائے کا جو تقدس راسخ ہوچکا تھا اس پر تلوار چلائی جائے۔ اور پھر انہیں یہ بھی دکھا دیا گیا کہ ایک مردہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–70
84 گائے کو ذبح کرنے کے حکم پر بنی اسرائیل کی کٹ حجتیاں :۔ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص مارا گیا جسے اس کے بھتیجوں نے جنگل میں موقعہ پا کر قتل کیا اور رات کے اندھیرے میں کسی دوسرے شخص کے مکان کے سامنے پھینک دیا۔ اس کے قاتل کا کچھ پتہ نہیں چلتا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو وحی کی کہ اس قوم کو حکم دو کہ وہ ایک گائے ذبح کریں۔ پھر اس کے گوشت کا ایک ٹکڑا مقتول کی لاش پر ماریں تو مقتول خود بول کر اپنے قاتل کا نام اور پتہ بتادے گا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے جب اپنی قوم کو اللہ کا حکم سنایا تو وہ کہنے لگے کیا ہم سے دل لگی کرتا ہے ؟
گائے کو ذبح کرنے کا حکم دراصل بنی اسرائیل کی دکھتی رگ پر…
Read the full tafseer →233 ۔ اسرائیلیوں میں ایک واقعہ قتل کا ہوگیا تھا اور قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا۔ ذبح گاؤ کا حکم اسی سلسلہ میں ملا۔ اس کی کچھ تصریح اگلے رکوع میں آرہی ہے۔ یہ زمانہ وہ ہے کہ صدیوں تک مصر میں اور مصر والوں کے درمیان رہتے رہتے بہت سے مشرکانہ رسوم توحید کے علمبردار اسرائیلیوں میں پھیل چکے ہیں۔ اور گائے کی عظمت بلکہ تقدیس ان کے دلوں میں رچ چکی ہے۔ ہندوستان کی طرح مصر میں بھی گائے کی تقدیس مشرکانہ مذہب کا ایک جزوتھی۔ توریت میں اسرائیلیوں کو ذبح گا ؤکا حکم خاص خاص قیدوں اور شرطوں کے ساتھ بار بار ملا ہے۔ مثلا ” بنی اسرائیل کو کہو کہ ایک لال گائے جو بےداغ اور بےعیب ہو اور جس پر کبھی جوا نہ رکھا گیا ہو،…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
آیت نمبر 67 تا 71
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے فرمایا اور ان کا کوئی شخص مقتول ہوگیا تھا اور اس کے قاتل کا پتہ نہیں چل رہا تھا، اور ان لوگوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی کہ آپ اللہ سے دعاء فرمائیں کہ وہ قاتل کو ظاہر کر دے، چناچہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے دعاء فرمائی (اور کہا) کہ اللہ تعالیٰ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے تو وہ کہنے لگے کہ آپ ہم سے مذاق کرتے ہو، یعنی ہمارا مذاق بناتے ہو، جو اس قسم کا جواب دیتے ہو ؟ (حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے) کہا کہ میں خدا کی پناہ چاہتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں (یعنی) استہزا کرنے والوں میں…
Read the full tafseer →وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ ( جب کہا موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم سے) اس قصہ کا شروع تو اللہ نے دوسرے رکوع وَ اِذْ قَتَلْتُمْ نَفْسًا سے بیان فرمایا ہے اور یہاں اس مقام پر بقیہ قصہ ار شاد ہوتا ہے اور اس تقدیم و تاخیر کی وجہ یہ ہے کہ اگر قصہ کو ترتیب سے بیان فرماتے تو من وجہ یہ سمجھا جاتا کہ قصہ مقصود ہے اس لیے آخر کو اوّل بیان فرمایا تاکہ یہ سمجھا جائے کہ اللہ تعالیٰ کو مستقل طور سے بنی اسرائیل کا کفران نعمت اور حکم الٰہی سے تمسخر کرنا اور اس میں کرید کرنا اور حکم پہنچنے پر تعمیل نہ کرنا بیان فرمانا مقصود ہے۔ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص عامیل نامی مالدار تھا اور اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
(67۔ 71) اب گائے کے ذبح کرنے کا قصہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت موسیٰ ؑ نے گائیوں میں سے کوئی بھی گائے ذبح کر دو تو ان کی قوم نے کہا، اے موسیٰ ؑ کیا آپ ہم سے مذاق کررہے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے فرمایا کہ کیا میں ایمان والوں کے ساتھ مذاق کروں گا ؟ اس بات سے اللہ تعالیٰ کی پناہ چاہتا ہوں، جب ان کی قوم پر حضرت موسیٰ ؑ کی سچائی ظاہر ہوئی تو کہنے لگے کہ ہمارے اپنے پروردگار سے یہ بات پتہ کرو اور بتاؤ کہ وہ گائے چھوٹی ہے یابڑی، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ وہ گائے نہ بڑی ہے اور نہ چھوٹی بلکہ ان دونوں کے درمیان میں ہے۔ اب دوبارہ تفتیش نہ کرو، پھر کہنے لگے کہ اپنے پروردگار سے ہمیں اس کے رنگ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
مصر میں غلامی کے زمانے میں غالب قوم کے اثر سے بنی اسرائیل میں گائے کی تقدیس کا عقیدہ سرایت کر گیا تھا، اس کا ظہور اس وقت بھی ہوا جب موسیٰ ؑ تورات لینے کے لیے طور پر گئے، تو انھوں نے بچھڑا بنا کر اس کی پرستش شروع کردی۔ اب موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اس عقیدے کو جڑ سے اکھاڑنے کے لیے کوئی گائے ذبح کرنے کا حکم دیا، اس پر انھوں نے مذاق سمجھا کہ بھلا گائے بھی ذبح کی جاسکتی ہے۔ کہنے لگے، کیا تو ہم سے مذاق کرتا ہے۔ یہ اسی طرح کی بات ہے جیسے ابراہیم ؑ نے اپنی قوم کو بتوں کی پرستش پر صاف کہا کہ یقیناً تم اور تمہارے آباء و اجداد کھلی گمراہی میں تھے، تو اس پر انھیں اعتبار نہ آیا کہ کوئی شخص بت پرستی کو بھی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 67
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یامرکم ابو عمرو سے حکایت کیا گیا ہے کہ انہوں نے یامرکم راء سے ضمہ کو اس کے ثقل کی وجہ سے حذف کر کے پڑھا ہے۔ ابو العباد المبرد نے کہا : یہ جائز نہیں ہے کیونکہ راحرف اعراب ہے اور ابو عمرو سے صحیح یہ مروی ہے کہ وہ حرکت میں اختلاس کرتے تھے۔ ان تذبحوا یہ یامرکم کی وجہ سے محل نصب میں ہے یعنی بان تذبحا۔ بقرۃً پر نصب تذبحوا کی وجہ سے ہے ذبح کا معنی پہلے گزر چکا ہے اعادہ کی ضرورت نہیں۔
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃً یہ تلاوت میں مقدم ہے اور قتلتم نفساً گائے کے متعلق جو کچھ پہلے ذکر…
Read the full tafseer →(1) ابن ابی الدنیا نے اپنی کتاب (من عاش بعد الموت) میں حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل کے دو شہر تھے ان میں سے ایک حصینہ تھا جس کے دروازے تھے اور دوسرا خربہ تھا حصینہ والے جب شام ہوتی تو اس کے دروازے بند کردیتے اور جب صبح ہوتی تو شہر کی دیواروں پر کھڑے ہو کر دیکھتے کیا اس شہر کے ارد گرد کوئی حادثہ تو پیش نہیں آیا ایک دن صبح کو دیکھا کہ ایک بوڑھا آدمی قتل کیا ہوا ان کے شہر کی دیوار کے ساتھ پڑا ہوا ہے خربہ شہر والے ان کی طرف متوجہ ہوئے اور کہنے لگے ہمارے آدمی کو قتل کیا ہے۔ اور ان کا نوجوان بھتیجا اس پر رونے لگا اور کہہ رہا تھا کہ تم نے میرے چچا کو قتل کردیا حصینہ والے کہنے لگے اللہ…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب کہا موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖٓ: اپنی قوم سے ] [ اِنَّ اللّٰهَ : کہ اللہ ] [ يَاْمُرُكُمْ : حکم دیتا ہے تم لوگوں کو ] [ اَنْ تَذْبَحُوْا : کہ تم لوگ ذبح کرو ] [ بَقَرَةً ۭ : ایک گائے کو ] [ قَالُوْٓا : ان لوگوں نے کہا ] [ اَتَتَّخِذُنَا : کیا آپ بناتے ہیں ہم کو ] [ ھُزُوًا ۭ : مذاق کا نشانہ ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اَعُوْذُ بِاللّٰهِ : میں اللہ کی پناہ میں آتا ہوں ] [ اَنْ اَكُوْنَ : کہ میں ہوں ] [ مِنَ الْجٰهِلِيْنَ : غلط خیالاتا والوں میں سے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
ذبح بقرہ کا قصہ، یہود کی کج بحثی
ان آیات میں ذبح بقرہ کا واقعہ ذکر فرمایا ہے۔ بقرہ عربی زبان میں گائے اور بیل دونوں کے لیے مستعمل ہوتا ہے یعنی حضرات نے اس کا ترجمہ بیل کیا ہے اور ان کا فرمانا ہے کہ قصہ کے آخر میں یہ فرمایا ہے کہ وہ بقرہ ایسا ہو جو ہل جوتنے میں استعمال نہ کیا ہو اور کھیتی کی آبپاشی میں اس کو نہ لگایا گیا ہو۔ یہ کام چونکہ بیل ہی سے ہوتا ہے اس لیے بقرہ سے بیل مراد ہے دوسرے حضرات نے اس کا ترجمہ گائے سے کیا ہے۔ چونکہ بقرہ اسم جنس ہے اس لیے گائے کا ترجمہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ لیکن پہلا قول زیادہ وزن دار ہے کیونکہ قرآن کے الفاظ سے اسی کی تائید ہوتی ہے۔
یہ واقعہ کیوں پیش آیا ؟ اس کے…
Read the full tafseer →شناعت چہارم معاندانہ سوالات
قال تعالیٰ واذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یامرکم۔۔۔ الی۔۔۔ وماکادوا یفعلون
اور یاد کرو اس وقت کو کہ بنی اسرائیل میں ایک متمول اور مالدار شخص جس کا نام عامیل کہا جاتا ہے سوائے بھتیجے کے اور کوئی اسکا وارث نہ تھا ایک مدت تک اس کے مرنے کا منتظر رہا۔ جب دیکھا کہ وہ مرتا ہی نہیں تو ایک روز موقعہ پا کر قتل کر ڈالا اور شب میں اس کی نعش کو محلہ میں لا ڈالا جب صبح ہوئی تو اہل محلہ پر خون کا دعویٰ کیا۔ تاکہ رت کہ کے علاوہ اہل محلہ سے مقتل چچا کی دیت اور خون بہا بھی وصول کرے۔ جیسا کہ ہماری شریعت میں قسامت کا حکم ہے۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اہل محلہ سے دریافت کیا تو اہل محلہ…
Read the full tafseer →ف 138 ۔ یہ دوسری خباثت ہے۔ اللہ نے بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا مگر وہ خبث باطن کی وجہ سے اس حکم کو مذاق سمجھنے لگے اور اس معاملہ کو چالیس سال تک ٹالتے رہے۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ گائے ذبح کرنے کا حکم اس لیے دیا گیا تھا کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص کو اس کے عم زادوں نے اس کی دولت حاصل کرنے کے لیے رات کی تاریکی میں قتل کردیا۔ صبح ہوئی تو شوروغل بپا کردیا اور معاملہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سامنے پیش کیا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ سے ہدایات حاصل کر کے انہیں گائے ذبح کر کے اس کا کوئی حصہ مقول کے جسم سے لگانے کا حکم دیا تاکہ وہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتا دے۔ اس واقعہ کا پہلا حصہ بعد میں…
Read the full tafseer →ربط آیات : گزشتہ آیات میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی حیلہ سازی کا تذکرہ بیان فرمایا تھا۔ کہ وہ اللہ تعالیٰ کے قانون کو کس طرح توڑتے تھے۔ اس جرم کی پاداش میں ان کی شکلوں کو تبدیل کردیا گیا۔ اور بالآخر وہ ہلاک ہوگئے۔ آیت زیر درس میں بنی اسرائیل کے ایک اور واقعہ کی طرف اشارہ ہے جس میں اس قوم کو گائے ذبح کرنے کا حکم دیا گیا۔ مگر انہوں نے اس حکم کو ٹالنا چاہا۔ اور اس ضمن میں طرح طرح کے سوال کئے۔ گویا بال کی کھال اتار رہے ہیں۔ من حیث القوم یہ خرابی بھی بنی اسرائیل میں موجود تھی اس آیت میں اسی بات کا ذکر کیا گیا ہے۔
واقعاتی ربط : دراصل گائے ذبح کرنے کا حکم ایک خاص مقصد کے تحت دیا گیا تھا۔ جس کا…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللہَ يَاْمُرُكُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃً 0 ۭ قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًا 0 ۭ قَالَ اَعُوْذُ بِاللہِ اَنْ اَكُوْنَ مِنَ الْجٰہِلِيْنَ 67
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
موسی
مُوسَى من جعله عربيّا فمنقول عن مُوسَى الحدید، يقال : أَوْسَيْتُ رأسه : حلقته .
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا يَسْخَرْ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
1 ؎ کیونکہ اس باب کے اول درس میں ہے۔ بعد اس کے خداوند کا غصہ اسرائیل پر بھڑکا الخ اور پھر اخیر میں وبا کی بھی تشریح ہے۔
ترکیب : قال فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے ان اللہ یامرکم کے الخ مقولہ ان تذبحوا بقرۃ نزع خافض کی وجہ سے محلاً منسوب ہے۔ قالوا فعل ھم فاعل استفہامیہ تتخذ فعل انت فاعل نا مفعول اول ھزوًا ای ھزوابہ مفعول ثانی اور جواب استفہام معنی اعوذ باللہ کے ہیں کس لیے کہ ٹھٹھا کرنا جاہلوں کا کام ہے مراد یہ کہ میں دل لگی نہیں کرتا۔ ما مبتدا خبر جملہ مفعول یبین کا قال فعل بافاعل انہ یقول الخ مقولہ انھا میں ھا اسم بقرہ خبر موصوف لافارض ولابکر عوان تینوں اس کی صفت ما موصولہ تؤمرون بہٖ صلہ جملہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖٓ اِنَّ اللّٰہَ یَامُرُکُمْ اَنْ تَذْبَحُوْا بَقَرَۃًط قَالُوْٓا اَتَتَّخِذُنَا ھُزُوًاط قَالَ اَعُوْذُ بِاللّٰہِ اَنْ اَکُوْنَ مِنَ الْجٰھِلِیْنَ ۔ (البقرۃ : 67)
(اور وہ وقت یاد کرو ! جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ ذبح کرو ایک گائے، وہ بولے کہ آپ ہمارا مذاق اڑا رہے ہیں، موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا میں اللہ کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں ہوجاؤں)
نقضِ عہد کی دوسری مثال
تاریخی روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ کسی امیر آدمی کا ایک بیٹا تھا۔ جو اس کا تنہا وارث تھا۔ اس کی زندگی میں کوئی دوسرا اس کا وارث نہیں ہوسکتا تھا۔ چناچہ اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے جرائم کی فہرست کا تسلسل جاری ہے۔ اللہ تعالیٰ کے احکام کو توڑنا اور تعمیل حکم سے روگردانی کرنے بنانے والوں نے حضرت موسیٰ کو غیر سنجیدہ ہونے کا الزام دیا۔
حضرت موسیٰ نے ایک اندھے قتل (Blind Murder) کا فیصلہ کرنے کے لیے قوم کے مشکوک افراد کو فرمایا کہ اللہ تعالیٰ کا تمہیں حکم ہے کہ کوئی ایک گائے ذبح کر کے اس کے گوشت کا کوئی ٹکڑا مقتول کی لاش کے ساتھ لگاؤ تو مردہ زندہ ہو کر اپنے قاتل کا پتہ بتلادے گا۔ لیکن موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم بڑی گستاخ اور بہانہ ساز تھی۔ انہوں نے قتل چھپانے اور قاتلوں کو بچانے کے لیے الٹا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کہا کہ آپ تو سراسر…
Read the full tafseer →ظروف کا حکم :
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا) یعنی تم یاد کرو جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو فرمایا۔ یہ نعمتی پر معطوف ہے۔ (اُذْکُرُوْانِعْمَتِیَ الَّتِیْٓ اَنْعَمْتُ عَلَیْکُمْ ) [ سورة البقرہ آیت : 40] گویا اس طرح ہوگا۔ ان ظروف میں جو گزرے۔ اذکرو انعمتی، اذکروا وقت انجینا ایاکم، اذکروا وقت فرقنا، اذکروا نعمتی، اذکروا وقت استسقاء موسٰی ربہ لقومہ اور یہی حکم ان ظروف کا بھی ہے جو یہاں سے لیکر اِذِابْتَلٰی اِبْرَاہِیْمَ رَبُّہٗ (البقرہ آیت نمبر 124) تک آئیں گے کہ ان تمام میں اذکروا محذوف ہوگا۔
اِنَّ اللّٰہَ یَأْمُرُکُمْ اَنْ : (بےشک اللہ…
Read the full tafseer →67۔ (آیت)” واذ قال موسیٰ لقومہ ان اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ “ بقرہ بقر (بیل) کی مؤنث ہے ، کہا جاتا ہے کہ بقرہ بقر سے مشتق ہے جس کے معنی پھاڑنا ہے ، بقر (بیل) کو بقر اس لیے کہتے ہیں کہ وہ زمین پھاڑتا ہے یعنی ہل چلاتا ہے ، قصہ یہ ہوا کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص تھا اور اس کا ایک چچا زاد فقیر تھا اور اس مالدار شخص کا اس فقیر چچا زاد کے سوا اور کوئی وارث نہ تھا جب مالدار کی موت کا معاملہ لمبا ہوا کہ وہ جلدی نہ مرا تو چچا زاد نے اس کو قتل کردیا اور اٹھا کر دوسری بستی کے علاقہ میں پھینک دیا اور صبح کو اس کے قصاص کا کرنے لگا اور لوگوں کو لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس ان پر قتل کا…
Read the full tafseer →سلف کی تفسیروں میں یہ قصہ مختلف لفظوں سے نقل کیا گیا ہے مگر تفسیر ابن جریر میں حضرت عبد اللہ بن عباس کی روایت سے اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص بڑا مال دار تھا۔ اس کے کوئی اولاد نہیں تھی فقط ایک اس کا بھتیجا تھا غریب سا تھا اس مالدار شخص کے مرنے کے بعد یہی اس کا بھتیجا وارث ٹھہرتا تھا۔ مال کے جلد سے ہاتھ آجانے کے لالچ سے ان کے اس بھتیجے نے موقع دیکھ کر چچا کو مار ڈالا۔ اور پاس کے ایک گاؤں کے دروازہ پر لاش ڈال دی۔ اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آ کر اپنے چچا کے خون کا دعویٰ کیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک گائے کے ذبح کرنے کا اور اس گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا اس مقتول شخص…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
آیت 67-74
ان واقعات کو یاد کرو جو تمہارے اور موسیٰ ( علیہ السلام) کے درمیان وقوع پذیر ہوئے۔ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا اور اس کے قاتل کے بارے میں آپس میں اختلاف کرنا اور قتل کو ایک دوسرے پر ڈالنا شروع کردیا حتیٰ کہ تم نے معاملے کو بہت بڑھا دیا اور اگر اللہ تعالیٰ کی توضیح نہ ہوتی تو قریب تھا کہ تم ایک بڑے شر اور فساد میں مبتلا ہوجاتے۔ حضرت موسیٰ نے قاتل کو تلاش کرنے کے لئے تمہیں گائے ذبح کرنے کا حکم دیا۔ تم پر فرض تھا کہ تم فوراً اس کے حکم کی تعمیل کرتے اور اس پر کسی قسم کا اعتراض نہ کرتے مگر ہوا یہ کہ تم نے حضرت موسیٰ کا حکم ماننے سے انکار کردیا اور اعتراض کرنے لگے اور کہنے لگے :…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
تفسیر آیت 67 تا 73:
قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…
Read the full tafseer →199 بنی اسرائیل کا ایک اور عبرت انگیز قصہ : یہ بنی اسرائیل کی عبرت بھری داستان میں سے ایک اور سبق آموز اور عبرت انگیز قصے کا ذکر ہے جس کی تفصیل تفسیری روایات کے مطابق اس طرح ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بڑا مالدار شخص تھا۔ اس کے وارثوں میں اس کی ایک بیٹی اور ایک بھتیجے کے سوا اور کوئی نہ تھا۔ اس کے اس بھتیجے کے دماغ میں یہ سودا سوار ہوا کہ اپنے اس چچا کو قتل کر دوں تاکہ اس کے مال پر بھی جلد قبضہ کرلوں اور اس کی بیٹی پر بھی۔ چناچہ اس نے ایسے ہی کیا۔ اور قتل کرنے کے بعد اپنے اس مقتول چچا کی لاش کو اس نے دوسروں کے در پر ڈال دیا، اور جھوٹ موٹ کا رونا رونے لگا کہ میرے چچا کو کسی نے قتل کردیا، جیسا کہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–71
گائے ذبح کرنے کا حکم
تشریح : ان پانچ آیات میں بنی اسرائیل اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے درمیان وہ بات چیت بیان کی گئی ہے۔ جس میں بنی اسرائیل کو اللہ نے ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیا اور انہوں نے اس معمولی حکم کو اپنی کٹ حجتی کی وجہ سے کافی مشکل بنا لیا ظاہر ہوا کہ اللہ کا حکم بلا چوں و چرا مان لینا انسان کا فرض ہے کیونکہ اللہ کے ہر حکم میں حکمت ہوتی ہے جو ضروری نہیں کہ انسان کی عقل میں آجائے بندے کی بندگی یہی ہے کہ اس کے ہر حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرے اور بخوشی اس کو مان لے۔ گزشتہ آیات میں واقعہ بیان کیا جارہا ہے کہ بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم ملا مگر انہوں نے مسلسل کٹ جہتی سے اس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
آیات 62- 71
اسرارو معارف
اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 2 جیسا کہ آیت :72 میں آرہا ہے نبی اسرائیل میں یاک شخص قتل ہوگیا اور وہ ایک دوسرے پر الزام دھر نے لگے اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کا گائے زبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ قدیم مفسرین یہی بیان کی ہے کہ اس طرح قاتل کو نشانی دہی کی جائے حاصل قصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے قتل کردیا تاکہ اس کا وارث بن جائے، پھر رات کو لاش کو اٹھا کر دوسرے شخص کے دروازے پر ڈال دی اور صبح کے وقت ان پر خو نبہا کا دعوی کردیا۔ اس پر لوگ لڑائی کے لیے تیار ہوگئے بآلا خر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا حافظ ابن کثیر یہ واقعہ کی جملہ تفصیلات اسرائیلیات سے ما خوذ ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–68
(2:67) ان تذبحوا۔ ان مصدر یہ ہے۔ تذبحوا مضارع منصوب بوجہ عمل ان صیغہ جمع مذکر حاضر۔ ذبح (باب فتح) مصدر سے کہ تم ذبح کرو۔
اتتخذنا ھزوا ہمزہ استفہامہ تتخذ مضارع واحد مذکر حاضر۔ اتخاذ (افعال) مصدر سے تو بناتا ہے۔ تو پکڑتا ہے نا ضمیر مفعول جمع متکلم ۔ ھزوا مفعول ثانی۔ مصدر باب فتح۔ بمعنی اسم مفعول ۔ جس کا مذاق اڑایا جائے۔ مسخرا۔ کیا تو ہمارا مذاق اڑاتا ہے۔
اعوذ۔ مضارع واحد متکلم عوذ (باب نصر) مصدر سے۔ جس کا معنی دوسرے سے التجاء کرنا اور پناہ مانگنا ہے میں پناہ چاہتا ہوں باللہ اللہ کی۔
ان اکون ۔ ان مصدریہ اکون مضارع منصوب واحد متکلم ۔ کون (باب نصر) مصدر سے، کہ میں ہوجاؤں۔
الجاہلین۔ جاہل کی جمع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 67–74
لغات القرآن : آیت نمبر 67 تا 74
یامر (وہ حکم دیتا ہے) ۔ تذبحوا (تم ذبح کرو) ۔ بقرۃ ( گائے ، بیل) ۔ اتتخذنا (کیا تو ہم کو بناتا ہے ، (تو ہم سے کرتا ہے) ۔ ھذو (مذاق) ۔ ان اکون (یہ کہ میں ہوجاؤں) ۔ یبین (بیان کر دے ، بات کھول کر کہہ دے) ۔ ماھی (وہ (بقرہ) کیسی ہو) ۔ فارض (بوڑھی) ۔ بکر (بچھیا، کمر عمر) ۔ عوان (درمیانی) ۔ فافعلوا (پھر تم کرو (ف۔ پھر، افعلوا تم کرو) ۔ تؤمرون (تمہیں حکم دیا گیا) ۔ مالونھا (اس کا رنگ کیسا ہو ؟ (ما، کیا، لون رنگ) ۔ صفراء (زرد) ۔ فاقع (گہرا) ۔ تسر (خوش کردیتی ہے) ۔ النظرین (دیکھنے والے) ۔ تشابہ (شبہ پڑگیا) ۔ لا ذلول (جس سے محنت نہ لی گئی ہو وہ ہل میں نہ جوتی گئی ہو) ۔…
Read the full tafseer →حضرت عبداللہ بن عباس ؓ کی روایت ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص عاسل (یاعامیل) بڑا مالدار تھا ۔ اس کے کوئی اولاد نہ تھی ۔ اس کے بھتیجے نے مال کے جلدی سے ہاتھ آجانے کے لالچ سے ، موقع دیکھ کر اپنے چچاکو مار ڈالا اور پاس کے ایک گاؤں کے دروازہ پر لاش ڈال دی اور پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے پاس آکر اپنے چچا کے خون کا دعویٰ کیا ۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک گائے ذبح کرنے کا اور گائے کے گوشت کا ایک ٹکڑا اس مقتول کے جسم پر مارنے کا حکم دیا تو انہوں نے بڑے جھگڑے اس گائے کی صفتیں دریافت کرنے میں نکالے ۔ جن سے وہ گائے خاص صفتوں کی ایک گائے ہوگئی پھر وہ ذبح کی گئی ۔ اس کا ٹکڑا اس مقتول کے جسم پر مارا جس سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اخفائے جرم :
بنی اسرائیل کی قوم میں جہاں صدہا عیوب پیدا ہوگئے تھے وہاں سب سے بڑا عیب اخفائے جرم کا جذبہ تھا اور ظاہر ہے اس کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ قوم میں احساس گناہ نہیں رہا اور وہ بدمذہبی کے اس دور میں سے گزر رہی ہے جس کی اصلاح از بس دشوار ہے ۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص قتل ہوجاتا اور اس کے قاتل کا کوئی پتہ نہ چل سکتا تو پھر وہ ایک بیل ذبح کرتے اور اس کے خون سے ہاتھ دھوتے ، قاتل اگر اس جماعت میں ہوتا تو وہ اس سے انکار کردیتا ، خیال یہ تھا کہ قاتل اگر دھوئے گا تو وہ ضرور نقصان اٹھائے گا ، یہ کوئی شرعی بات نہ تھی ، محض ان کا وہم تھا جس پر ان کو یقین تھا جس طرح جاہل قوموں کے معتقدات…
Read the full tafseer →ف 1 اور اے بنی اسرائیل تم اس واقعہ کو یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اللہ تم کو حکم دیتا ہے کہ تم ایک بیل ذبح کرو اس پر حضرت موسیٰ کی قوم نے کہا کیا آپ ہمارا مذاق بنانا چاہتے ہیں اور ہم سے ہنسی کرتے ہیں حضرت موسیٰ نے فرمایا میں اس بات سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ میں جاہلوں میں سے ہو جائوں۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ عامیل نامی ایک شخص تھا جو قتل ہوگیا تھا مرنے سے پہلے اس کا بیان قلم بند نہیں ہوسکا قاتلوں نے یہ ہوشیاری کی کہ مقتول کی لاش شارع عام پر یا کسی شخص کے دروازے کے آگے ڈال دی جب قاتل کا پتہ نہ چلا تو مقتول کے وارثوں نے حضرت موسیٰ سے عرض کی جناب ہمارے چچا کے قاتل کا پتہ نہیں…
Read the full tafseer →ف 1۔ بنی اسرائیل میں ایک خون ہوگیا تھا لیکن اس وقت قاتل کا پتہ نہ لگتا تھا بنی اسرائیل نے موسیٰ سے عرض کیا کہ ہم چاہتے ہیں کہ قاتل کا پتہ لگے آپ نے بحکم الہی ایک بیل کے ذبح کرنے کا حکم فرمایا اس پر انہوں نے اپنی جبلت کے موافق حجتیں نکالنا شروع کردیں۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کو ایک گائے کے ذبح کرنے کا حکم :
142: مثل ہے کہ خربوزہ خربوزے کو دیکھ کر رنگ پکڑتا ہے۔ بنی اسرائیل ایک مدت تک مصر میں رہتے تھے اور مصری گائے کی پر ستش میں ہندوستان کے آریوں کی طرح مشہور تھے بنی اسرائیل توحید کے علمبردار بھی تھے۔ اور مشرکانہ رسومات کے پابند بھی۔ گائے کی عظمت بلکہ تقدیس ان کے دلوں میں رچ چکی تھی۔ توریت میں بنی اسرائیل کو گائے ذبح کرنے کا حکم خاص خاص قیدوں اور شرطوں کے ساتھ بار بار ملا ہے۔ پیچھے آپ پڑھ چکے ہیں کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب طور پر گئے تو آپ کی عارضی غیر حاضری میں سامری نے جو شعبدہ کیا تھا وہ بھی بچھڑے ہی کی شکل و صورت میں تھا۔ بچھڑا کیا ہے ؟ وہی گائے کا…
Read the full tafseer →According to Mirqat, a commentary on Mishkat, a man among the Israelites wanted to marry a girl, but her father refused. The suitor was so incensed that he killed the father, and disappeared. It is mentioned in Ma` alim al-tanzil which says on the authority of Kalbi that Allah had not yet sent down any injunction with regard to man-slaughter. If it was so, this shows that the incident happened before the Torah was revealed. Anyhow, the Israelites requested Sayyidna Musa (علیہ السلام) to tell them how to trace the culprit. Under the commandment of Allah, he asked them to sacrifice a cow. As…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…
Read the full tafseer →