Explained with ayahs 65–66
صورتیں مسخ کردی گئیں
اس واقعہ کا بیان تفصیل کے ساتھ سورة اعراف میں ہے جہاں فرمایا آیت (وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ) 7۔ الاعراف :163) وہیں اس کی تفسیر بھی پوری بیان ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ ایلہ بستی کے باشندے تھے ان پر ہفتہ کے دن تعظیم ضروری کی گئی تھی اس دن کا شکار منع کیا گیا تھا۔ اور حکم باری تعالیٰ سے مچھلیاں اسی دن بکثرت آیا کرتی تھیں تو انہوں نے مکاری کی۔ گڑھے کھود لئے۔ رسیاں اور کانٹے ڈال دئیے۔ ہفتہ والے دن وہ آگئیں۔ یہاں پھنس گئیں۔ اتوار کی رات کو جا کر پکڑ لیا۔ اس جرم پر اللہ نے ان کی شکلیں بدل دیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں صورتیں نہیں بدلی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
سورة الْبَقَرَة 82
سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔
سورة الْبَقَرَة 83
اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
خلاصہ تفسیر
اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے (حد شرع سے) تجاوز کیا تھا دوبارہ (اس حکم کے جو) ہفتہ کے دن کے (متعلق تھا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کریں) سو ہم نے ان کو (اپنے حکم قہری تکوینی سے مسخ کرنے کے لئے) کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ (چنانچہ وہ بندروں کے قالب میں مسخ ہوگئے) پھر ہم نے اس کو ایک (واقعہ) عبرت (انگیز) بنادیا ان لوگوں کے لئے بھی جو قوم کے معاصر تھے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مابعد کے زمانے میں آتے رہے اور (نیز اس واقعہ کو) موجب نصیحت (بنایا، خدا سے) ڈرنیوالوں کے لئے،
فائدہیہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کا حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں ہوا بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا…
Read the full tafseer →نَکَال کے معنی نمونہ عبرت کے ہیں۔ یہاں اشارہ اس بستی کی طرف ہے جس بستی کے لوگوں نے سبت کی حرمت برباد کرنے کے لئے وہ ناروا جسارتیں کی تھیں جن کی طرف اوپر کی آیت میں اشارہ کیا گیا ہے۔ بستیوں اور مقامات کے لئے قرآن مجید میں اس طرح ایک سے زیادہ مقامات میں ضمیریں استعمال ہوئی ہیں۔ مقصود یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی اس لعنت کے نتیجہ میں یہ بستی اپنے آگے پیچھے اور گردوپیش کی بستیوں کے لئے نمونہ عبرت بنا دی گئی جس کو دیکھ کر عقل اور خوف خدا رکھنے والے نصیحت حاصل کرسکتے تھے۔
قرآن سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ بستی سمندر کے کنارے تھی۔ اس سے قیاس ہوتا ہے کہ اس بستی کے لوگ تجارت اور تمدن میں بہت ترقی کر چکے تھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
65۔ 1 سبت (ہفتہ) کے دن یہودیوں کو مچھلی کا شکار بلکہ کوئی بھی دنیاوی کام کرنے سے منع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایک حیلہ اختیار کر کے حکم الٰہی سے تجاوز کیا۔ ہفتے کے دن (بطور امتحان) مچھلیاں زیادہ آتیں انہوں نے گڑھے کھود لئے، تاکہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور پھر اتوار کے دن ان کو پکڑ لیتے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
50 : سنیچر (ہفتہ) کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ان کے لئے ناجائز تھا مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر باز نہ آئے، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندر بنادیا گیا۔ (اس واقعہ کی تفصیل : اعراف، 7: 163 تا 166)۔ میں آنے…
Read the full tafseer →یہ واقعہ اس دور میں اور اس کے متصلاً مابعد کے ادوار میں مخالفین حق کے لئے ایک نہایت ہی عبرت آموز واقعہ تھا اور مومنین کے لئے ہر دور میں یہ ایک بہترین نصیحت ہے فَجَعَلْنَاهَا نَكَالا لِمَا بَيْنَ يَدَيْهَا وَمَا خَلْفَهَا وَمَوْعِظَةً لِلْمُتَّقِينَ ” اس طرح ہم نے ان کے انجام کو ، اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بناکر چھوڑا “
اس سبق کے آخر میں اب گائے ذبح کرنے کا مشہور قصہ بیان کیا جاتا ہے ۔ یہ قصہ ایک کہانی کی شکل میں بڑی تفصیل سے بیان کیا جاتا ہے ۔ اور اس سے قبل سورت میں بنی اسرائیل کے جو تاریخی واقعات بیان ہوئے ہیں ، ان میں اجمال واختصار…
Read the full tafseer →5 یعنی اس واقعہ اور اس عقوبت کو ہم نے باعث خوف و عبرت بنادیا اگلے اور پچھلے لوگوں کے واسطے یعنی جنہوں نے اس عذاب کا مشاہدہ کیا اور جو آئندہ پیدا ہوں گے " یا جو بستیاں شہر کے آگے اور اس کے پیچھے آباد تھیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ
تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم میں سے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سبت کے قانون کو توڑا تھا اور حد سے تجاوز کیا تھا۔ یہود کی شریعت میں ہفتہ کا روز عبادت کے لیے معینّ کردیا گیا تھا اور اس روز دنیاوی کام کاج کی اجازت نہیں تھی۔ آج بھی جو مذہبی یہودی Practicing Jews ہیں وہ اس کی پابندی بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ لیکن ایک زمانے میں ان کے ایک خاص قبیلے نے ایک شرعی حیلہ ایجاد کر کے اس قانون کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة الاعراف میں آئے گی۔
فَقُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ “
ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندروں کی صورت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
81 اصحاب سبت کا انجام :۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ہفتہ کے دن کاروبار نہیں کریں گے بلکہ چھٹی کریں گے اور اس دن آرام اور اللہ کی عبادت کیا کریں گے اور تورات میں یہ بھی وضاحت ہے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے گا، وہ واجب القتل ہے۔ لیکن یہود پر اخلاقی انحطاط کا دور آیا تو یہود اس دن کھلے بندوں اپنا کاروبار جاری رکھتے اور تجارت وغیرہ کیا کرتے۔ اس سلسلہ میں سورة اعراف میں ایک مخصوص بستی کا ذکر بھی آیا ہے جو سمندر کے کنارے آباد تھی اور ان لوگوں کا پیشہ ماہی گیری تھا۔ لیکن اتفاق کی بات کہ چھ دن تو مچھلیاں پانی میں چھپی رہتیں اور ہفتہ کے دن پانی کی سطح پر سینہ تان کر تیرتی پھرتیں۔…
Read the full tafseer →231 ۔ سزا کی تفصیلی نوعیت کچھ بھی ہو، بہرحال تھی وہ کوئی بہت سخت اور عبرتناک سزا۔ قرآن مجید کا مقصود اس سزا کی تفصیل بیان کرنا نہیں، بلکہ اس کی عبرت انگیزی اور موعظۃ آموزی کے پہلوکو واضح کرنا ہے۔ واقعہ جو کچھ بھی ہو، یہود کا جانا بوجھا ہوا تھا، قرآن اسے صرف یاد دلا رہا ہے۔ جعلنھا میں ھا کی ضمیر عقوبت کی طرف بھی ہوسکتی ہے، اور اس مسخ شدہد امت کی طرف بھی۔ ماحصل دونوں صورتوں کا ایک ہی ہے۔ اے جعلنا تلک العقوبۃ (ابن جریر، عن ابن عباس ؓ یعنی بہ فجعلنا الامۃ التی اعتدت فی السبت (ابن جریر) (آیت) ” نکالا۔ نکال وہ سخت سزا ہے جو دوسروں کے لیے باعث عبرت ہو۔ اے عبرۃ تنکل المعتبربھا (بیضاوی) عبرۃ تنکل من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ، (الآیۃ) اور تم ان لوگوں کا حال تو اچھی طرف جانتے ہی ہو جنہوں نے روز شنبہ کے بارے میں حد شرع سے تجاوز کیا تھا۔
فائدہ : مچھلی پکڑنے کا واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں پیش آیا تھا، ہفتہ (شنبہ) کا دن بنی اسرائیل کے لئے عبادت کے واسطے مقرر تھا، اس روز مچھلی کا شکار ممنوع تھا، یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے، مچھلی کے شوقین تھے، ان لوگوں نے حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللہ نے ان پر مسخ صورت کا عذاب نازل فرمایا، یہ مسخ شدہ لوگ تین دن میں مرگئے۔
دینی معاملات میں حیلے کی حقیقت : اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتدا کا ذکر ہے…
Read the full tafseer →فَجَعَلْنٰھَا نَکَالاً ( پس بنا دیا ہم نے اس واقعہ کو عبرت) نَکل کے اصل معنی منع یعنی روکنے کے ہیں چونکہ عبرت۔ صاحب عبرت کے لیے گناہوں اور ناشائستہ افعال سے روکنے والی ہوا کرتی ہے اس لیے اسے بھی نکال بولنے لگے اور اسی وجہ سے قید کو بھی نکل بولتے ہیں کہ وہ اسیر کو فرار سے مانع ہے۔
لِّمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَ مَا خَلْفَھَا ( موجودہ اور گذشتہ لوگوں کے لیے) اس کے یا تو یہ معنی ہیں جو ہم نے ( آیت کے ترجمہ میں) اختیار کئے ہیں اور اس صورت میں ما دونوں جگہ بمعنی من ہوگا اور یا یہ معنی کہ ہم نے اس واقعہ کو ان کی گذشتہ اور آئندہ حرکات اور معاصی کی وجہ سے عبرت بنا دیا۔ اس صورت میں ما اپنے معنی پر رہے گا…
Read the full tafseer →(66) اور بعد میں آنے والوں کے لیے عبرت کا باعث ہو، تاکہ وہ لوگ ان کے راستے پر نہ چلیں اور حضور اکرم ﷺ کی جماعت اور نیک لوگوں کے لئے نصیحت کا ذریعہ ہو۔
Read the full tafseer →اللہ تعالیٰ نے یہ واقعہ اس وقت کے لوگوں کے لیے اور بعد میں آنے والوں کے لیے باعث عبرت بنادیا۔ ڈرنے والوں کے لیے نصیحت میں یہ بھی شامل ہے کہ امت محمد ﷺ بنی اسرائیل کی ان نافرمانیوں اور ان پر ملنے والی سزاؤں کو دیکھ کر نصیحت حاصل کرے۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 66
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : فجعلنھا نکالاً مفعول ثانی کی بنا پر نکالاً منصوب ہے اور عبرت بنانے میں کئی اقوال ہیں۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد سزا ہے۔ بعض نے فرمایا : اس سے مراد شہر ہے کیونکہ کلام کا معنی اس کا تقاضا کرتا ہے، بعض نے فرمایا : امت جو مسخ کی گئی، بعض نے فرمایا : مچھلیاں۔ اس قول میں بعد ہے۔ النکال کا معنی زجر اور عقاب ہے۔ النکل والانکال، اس سے مراد بیڑیاں ہیں (2) ۔ بیڑیوں کو انکال کہتے ہیں کیونکہ یہ آدمی کو روکتی ہیں۔ بھاری لگام کو نکل اور نکل کہا جاتا ہے کیونکہ وہ جانور کو روکتی ہے نکل عن الامر ینکل ونکل ینکل جب کوئی رک جائے۔ التنکیل، دشمن کو ایسی تکلیف پہنچانا کہ دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولقد علمتم “ سے مراد ہے عرفتم یعنی تم نے پہچان لیا اور یہ ان کو گناہ سے ڈرانے کے لیے تھا فرمایا کہ ڈرو تم اس بات سے کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچ جائے جو ہفتہ والوں کو پہنچا تھا جب انہوں نے میری نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے تو فرمایا کہ (جب) انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار کرنے پر جرأت کی تو ہم نے ان سے کہا لفظ آیت ” کونوا فردۃ خاسئین “ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی کے سبب ان کو بندر (کی صورت) میں مسخ فرما دیا۔ اور مسخ شدہ کبھی تین دنوں سے زیادہ زندہ نہیں رہا (مسخ ہوجانے کے بعد) نہ اس نے کھایا نہ پیا اور نہ ان کی…
Read the full tafseer →[ فَجَــعَلْنٰھَا : تو ہم نے بنایا اس کو ] [ نَكَالًا : نشان عبرت ] [ لِّمَا : اس کے لیے جو ] [ بَيْنَ يَدَيْهَا : اس کے سامنے ہے ] [ وَمَا : اور جو ] [ خَلْفَهَا : اس کے پیچھے ہے ] [ وَمَوْعِظَةً : اور نصیحت ] [ لِّلْمُتَّقِيْنَ : اللہ کی ناراضگی سے بچنے والوں کے لیے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
یہودیوں کا سنیچر کے دن میں زیادتی کرنا اور بندر بنا دیا جانا
جیسے مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن معظم قرار دیا گیا ہے اسی طرح سے یہود کے لیے سنیچر کے دن کو معظم قرار دیا گیا تھا۔ اور اس کی تعظیم کے لیے یہ حکم بھی تھا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کریں ایک طرف تو یہ حکم تھا اور دوسری طرف ان کا امتحان تھا اور وہ امتحان اس طرح تھا کہ دوسرے دنوں میں مچھلیاں عام حالات کے مطابق پانی میں اندر ہی رہتی تھیں اور سنیچر کے دن خوب ابھر ابھر کر پانی پر آجاتی تھیں جس کا تذکرہ سورة اعراف کی آیت (وَسْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ) میں فرمایا ہے چونکہ سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر کر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
شناعت سوم
قال تعالیٰ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم۔۔۔ الی۔۔۔ وموعظمۃ للمتقین۔
اور البتہ تحقیق تم خوب جان چکے ہو حال ان لوگوں کا کہ جنہوں نے ہفتہ کے دن حد سے تجاوز کیا پس کہا ہم نے ان سے کہ بن جاؤ بندر ذلیل یعنی دھتکارے ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک شہر دریا کے کنارہ آباد تھا جس میں بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت تھی۔
بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے ہفتہ کے روز مچھلیاں دریا کے کنارہ پر بکثرت جمع ہوجائیں اور ہفتہ گزرنے کے بعد یہ حالت ہوتی کہ ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی، بنی اسرائیل نے جب یہ حالت دیکھی تو شکار کرنیکا ایک حیلہ نکالا کہ لب دریا چھوٹے چھوٹے حوض بنائے…
Read the full tafseer →ف 137 ھا کی ضمیر مذکورہ سزا کی طرف راجع ہے نکالا۔ نکال کے معنی عبرت کے ہیں نکالا عبرۃ تنکل المعتبر بھا ای تمنعہ وتروغہ (ابو السعود ص 557 ج 1 لما بین یدیہا۔ اس سے مراد وہ لوگ ہیں جو اس واقعہ کے ظہور کے وقت قرب و جوار میں موجد تھے۔ ای لمن قرب منھا (ص 247 ج 1) لما حولہا من القری (بحر ص 247 ج 1) وما خلفہا وہ لوگ جو اس زمانہ کے بعد ہوں گے۔ ای من جاء بعدھم (نہر) وما یحدچ بعدھا من القری التی لم تکن (بحر) یعنی ہم نے اس سزا کو موجودہ لوگوں اور آنے والی نسلوں کے لیے عبرت بنا دیا کہ وہ اسے یاد کر کے خدا سے ڈرتے رہیں اور اس کی حدود کی پابندی کرنے کی زیادہ سے زیادہ ترغیب دیتا ہے یا متقین سے عام پرہیزگار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
یہود کا مقدس دن ہفتہ : گزشتہ آیات میں اس عہد و پیمان کا ذکر ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا۔ کہ وہ توراۃ پر عمل پیرا ہوں گے۔ اب ان آیتوں میں خداوندی تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا وہ واقعہ یاد دلایا ہے جس میں ان نافرمانوں کو سزا دی گئی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ “ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت ” یعنی اے اسرائیلیو ! تم ان لوگوں کو جانتے ہو جنہوں نے ہفتے کے دن تعدی اور زیادتی کی تھی ہفتے کے دن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں حکم نازل فرمایا تھا۔ کہ اس دن کوئی شخص کوئی کام کاج نہ کرے۔ نہ تجارت کرے نہ زراعت کرے۔ نہ مزدوری کرے اور نہ کوئی دوسرا کام انجام دے ، حتیٰ کہ گھر میں کھانے…
Read the full tafseer →فَجَــعَلْنٰھَا نَكَالًا لِّمَا بَيْنَ يَدَيْہَا وَمَا خَلْفَہَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِيْنَ 66
جعل
جَعَلَ : لفظ عام في الأفعال کلها، وهو أعمّ من فعل وصنع وسائر أخواتها،
( ج ع ل ) جعل
یہ لفظ ہر کام کرنے کے لئے بولا جاسکتا ہے اور فعل وصنع وغیرہ افعال کی بنسبت عام ہے ۔
نكل
يقال : نَكَلَ عَنِ الشَّيْءِ : ضَعُفَ وعَجَزَ ونَكَلْتُهُ : قَيَّدْتُهُ ، والنِّكْلُ : قَيْدُ الدَّابَّةِ ، وحدیدةُ اللِّجَامِ ، لکونهما مانِعَيْنِ ، والجمْعُ : الأَنْكَالُ. قال تعالی: إِنَّ لَدَيْنا أَنْكالًا وَجَحِيماً [ المزمل/ 12] ونَكَّلْتُ به : إذا فَعَلْتُ به ما يُنَكَّلُ به غيرُه، واسم ذلک الفعل نَكَالٌ. قال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ترکیب : علمتم بمعنی عرفتم فعل انتم فاعل الذین اعتدوا الخ جملہ مفعول منکم حال ہے ضمیر اعتدوا سے ای المعتدین کائنین منکم فی السبت متعلق ہے اعتدوا سے خاسئین جو مشتق ہے خساء اذاذل سے صفت ہے قردۃ کی اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو یا کونوا کی فاعل سے حال ہو فجعلناھا ای العقوبہ نکالا مفعول ثانی ہے۔
تفسیر : جب خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنے انعام یاد دلا چکا تو اس کے بعد جو کچھ نافرمانی اور انعام پر ناشکری کرنے سے برے نتیجے پیدا ہوتے ہیں وہ یاد دلاتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت و نصیحت ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اس قسم کے واقعات پر سوائے اس شخص کے (کہ تورات کیا بلکہ مجموعہ عہد عتیق کا بڑا حاوی ہو) اور کوئی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِیْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰھَا نَکَالًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَاوَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ (البقرۃ : 65 تا 66)
(اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے سبت کے بارے میں تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندرہوجاؤ۔ پھر ہم نے اسے عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے اور نصیحت بنادیا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے )
نقض عہد کی مثال
گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اللہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ اور ترغیب اور ترہیب سے کام لیتے ہوئے تورات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے انحراف کا مشہور واقعہ شکر گزاری کی بجائے بد عہدی کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی بےحرمتی کی اور اس کی سزا۔
بنی اسرائیل میں یہ واقعہ نسل در نسل زبان زدعام اور تورات و انجیل کے کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اس کی یاد دہانی کے لیے تفصیلات ذکر کرنے کے بجائے ایک اشارہ ہی کافی سمجھا گیا ہے۔
تاہم سورة الاعراف میں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ جب تمہاری ہی خواہش کے مطابق تمہارے لیے عبادت کا دن ” ہفتہ “ مقرر کیا گیا کہ اس دن تمہیں عبادت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے اس دن میں بھی سر کشی اور تمرّد کے کئی راستے نکال لیے۔ ہوا یہ کہ مچھلیاں دوسرے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ : (پھر تم نے منہ موڑا) یعنی پھر تم نے میثاق اور وفاداری سے منہ موڑا۔
مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : (اس کے بعد) قبول کرلینے کے بعد
فضل و رحمت :
فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ : (اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) نمبر 1۔ یعنی عذاب کو مؤخر کر کے
نمبر 2: یا تمہیں توبہ کی توفیق دے کر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتا۔
لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ : (تو تم نقصان میں پڑجاتے) یعنی تم عذاب سے ہلاک ہوجاتے۔
وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : (تحقیق تم نے جانا) یعنی تم نے پہچانا۔ عَلِمَ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے۔
الَّذِیْنَ اعْتَدَوْامِنْکُمْ فِی السَّبْتِ : (ان کو جنہوں نے ہفتے…
Read the full tafseer →66۔ (آیت)” فجعلناھا “ یعنی ہم نے بنادیا مسخ والی سزا دینے کو (نکالا) یعنی سزا اور عبرت نکال ہر اس سزا کا نام ہے جس کو دیکھنے واولا اس فعل سے رک جائے جس فعل کی سزا وہ دی گئی ہے اور اسی سے ہے ” نکول عن الیمین “ اور وہ رک جانا ہے ، اس کی اصل نکل ہے اور وہ قید (بیڑی ، ہتھکڑی) ہے۔
اور اس کی جمع انکال ہے (آیت)” لمابین یدیھا “ حضرت قتادہ ؓ فرماتے ہیں ” مابین یدیھا “ سے مراد سابقہ گناہ ہیں ، یعنی ہم نے اس سزا کو جزا بنادیا ، ان گناہوں کی جو شکار سے منع کرنے سے بھی پہلے واقع ہوئے ” وما خلفھا “ جو گناہ اب موجود ہیں جن کے باعث ان کا مواخذہ کیا گیا اور یہ گناہ مچھلیاں پکڑنے کا ہے حضرت ابو العالیہ ؓ اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
(65 ۔ 66) یہ ایک دوسرا قصہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود کو یاد دلا یا گیا ہے۔ یہ قصہ بھی سارا تو سورة اعراف میں آئے گا۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ دریا کے کنارے ایک بستی ایلہ نام کی تھی جس میں کچھ یہود رہتے تھے۔ ہفتہ کے دن یہود کو سوائے عبادت کے اور سب کام حرام ہیں۔ اس لئے ان یہود کو جو ایلہ میں دریا کے کنارے رہتے تھے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنی حرام تھیں لیکن انہوں نے طرح طرح کے حیلے نکال کر آخر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اسی نافرمانی کی سزا میں ان پر یہ عذاب آیا کہ وہ آدمی سے بندر ہوگئے تاکہ اس بستی کے آس پاس جو یہود رہتے تھے ان بندروں کا حال دیکھ کر ان کو عبرت اور اللہ سے ڈرنے والوں کو نصیحت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
آیت 66-
یعنی تمہارے نزدیک ان لوگوں کی حالت ثابت ہوگئی ہے۔ (آیت) الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ ” جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے روز زیادتی سے کام لیا تھا۔ “ یہ وہ لوگ تھے جن کا مبسوط اور مفصل قصہ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں بیان کیا ہے :
(آیت) وسئلھم عن القریۃ۔۔۔۔ تا یفسقون۔ (الاعراف 163 تا 165)
” اور آپ ان لوگوں سے اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے ! جب کہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں۔ ہم ان کی اس طرح پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
تفسیر آیت 67 تا 73:
قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…
Read the full tafseer →197 یہود کا انجام دوسروں کیلئے نمونہ عبرت : تاکہ وہ دیکھ لیں کہ اللہ پاک ۔ سبحانہ و تعالیٰ ۔ کے احکام و ارشادات سے سرتابی کرنا اور حیلے حوالوں اور خود ساختہ مشکلات اور حیلے بہانوں سے کام لیکر ان سے منہ موڑنے اور گلوخلاصی کی کوشش کرنے کا انجام کس قدر ہولناک اور کتنا خطرناک ہوتا ہے ۔ وَالْعِیَاذُ بَاللّٰہِ ۔ سو اللہ تعالیٰ کے یہاں سچائی ہی کام آسکتی ہے نہ کہ بناوٹ اور ظاہر داری کہ اس کی صفت اور شان یہ ہے کہ اس سے کوئی بھی چیز مخفی اور پوشیدہ نہیں رہ سکتی اور وہ آنکھوں کی چوری اور دلوں کے بھیدوں کو جانتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیشہ اور ہر حال میں اپنی رضا کی راہوں پر چلنا نصیب فرمائے اور نفس و شیطان…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
صورتیں مسخ ہونا
تشریح : اس آیت میں ہفتہ کے دن کی حرمت اور حدود سے نکل جانے کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے آپ کا زمانہ مطابق 973 سے 1013 قبل مسیح تک رہا اور ساحل سمندر پر ایلہ مقام ہے اور موجودہ جغرافیہ میں اس کا نام خلیج عقبہ کی مشہور بندرگاہ عقبہ ہے۔ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد ایلہ میں مقیم تھی۔ یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن مقدس قرار دیا گیا اور اس دن پابندی یہ لگائی گئی کہ کوئی کاروبار حتیٰ کہ کھانا پکانا بھی منع کردیا گیا اور یہ دن صرف عبادت کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ خاص طور سے ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنا بالکل ممنوع کردیا گیا تھا۔ اصل میں قوم کی یہ آزمائش…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
آیات 62- 71
اسرارو معارف
اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–67
ف 2 جیسا کہ آیت :72 میں آرہا ہے نبی اسرائیل میں یاک شخص قتل ہوگیا اور وہ ایک دوسرے پر الزام دھر نے لگے اس آیت میں جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو کا گائے زبح کرنے کا حکم دیا ہے۔ اس کی وجہ قدیم مفسرین یہی بیان کی ہے کہ اس طرح قاتل کو نشانی دہی کی جائے حاصل قصہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک مالدار شخص کو اس کے بھتیجے نے قتل کردیا تاکہ اس کا وارث بن جائے، پھر رات کو لاش کو اٹھا کر دوسرے شخص کے دروازے پر ڈال دی اور صبح کے وقت ان پر خو نبہا کا دعوی کردیا۔ اس پر لوگ لڑائی کے لیے تیار ہوگئے بآلا خر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے حکم دیا حافظ ابن کثیر یہ واقعہ کی جملہ تفصیلات اسرائیلیات سے ما خوذ ہیں…
Read the full tafseer →نکالا۔ نکل جانور کی بیڑی اور لوہے کی لگام کو کہتے ہیں۔ اس کی جمع انکال ہے۔ قرآن مجید میں ہے ان لدینا انکالا وجحیما (73:12) بیشک ہمارے پاس بیڑیاں ہیں اور بھڑکتی ہوئی آگ۔ نکالا مفعول ثانی ہے جعلنا کا مابین یدیھا جو اس کے سامنے ہے وما خلفھا اور جو اس کے بعد میں ہے۔ ہر دو جملہ میں ما بمعنی من ہے اور مراد اس وقت کے موجود لوگ اور اس زمانہ کے بعد میں آنے والے لوگ ہیں ھا ضمیر کا مرجع وہی ہے جو جعلناھا میں اوپر بیان ہوا۔
وموعظۃ۔ ای وجعلناھا موعظۃ۔ اور ہم نے بنادیا یا اس واقعہ کو متقیوں پرہیزگاروں کے لئے نصیحت۔ موعظۃ اسم مصدر بمعنی نصیحت ہے۔ قاموس القرآن میں ہے موعظۃ اس نصیحت کو کہتے ہیں جس میں مخاطب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 66
لقد (البتہ یقیناً (قد ماضی کے صیغے پر آیا ہے) ۔ علمتم (تم نے جان لیا) ۔ اعتدوا (جنہوں نے زیادتی کی، حد سے بڑھ گئے) ۔ السبت (ہفتہ کا دن، سینچر) ۔ کونوا (تم ہوجاؤ) ۔ قردۃ (بندر) ۔ خسئین (ذلیل) ۔ جعلنا (ہم نے بنا دیا) ۔ نکال (عبرت) ۔ بین یدی (سامنے (بین، درمیان، یدی، یدین، دونوں ہاتھ) ۔ خلف (پیچھے ، آئندہ آنے والے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔
تشریح : آیت نمبر 65 تا 66
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سیکڑوں سال کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانے میں، ملک شام میں سمندر کے کنارے کوئی شہر یا قصبہ جس کو بعضوں نے ایلہ بھی کہا ہے۔ وہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 64–66
انسان کے بند ر ہوجانے کا ذکر ۔ بھتیجے کے چچاکو مار ڈالنے کا ذکر دریا کے کنارے ایک بستی ایلہ نام کی تھی جس میں کچھ یہود رہتے تھے ۔ ہفتہ کے دن یہود کو سوائے عبادت کے اور سب کام حرام تھے ۔ اس لئے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا حرام تھیں ، لیکن انہوں نے طرح طرح کے حیلے نکال کر آخر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اسی نافرمانی کی سزا میں ان پر یہ عذاب آیا کہ وہ آدمی سے بندر ہوگئے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–72
[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 66–68
اخفائے جرم :
بنی اسرائیل کی قوم میں جہاں صدہا عیوب پیدا ہوگئے تھے وہاں سب سے بڑا عیب اخفائے جرم کا جذبہ تھا اور ظاہر ہے اس کا مطلب صاف صاف یہ ہے کہ قوم میں احساس گناہ نہیں رہا اور وہ بدمذہبی کے اس دور میں سے گزر رہی ہے جس کی اصلاح از بس دشوار ہے ۔ بائیبل میں لکھا ہے کہ جب کوئی شخص قتل ہوجاتا اور اس کے قاتل کا کوئی پتہ نہ چل سکتا تو پھر وہ ایک بیل ذبح کرتے اور اس کے خون سے ہاتھ دھوتے ، قاتل اگر اس جماعت میں ہوتا تو وہ اس سے انکار کردیتا ، خیال یہ تھا کہ قاتل اگر دھوئے گا تو وہ ضرور نقصان اٹھائے گا ، یہ کوئی شرعی بات نہ تھی ، محض ان کا وہم تھا جس پر ان کو یقین تھا جس طرح جاہل قوموں کے معتقدات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
ف 3 اور تم ان لوگوں کا حال تو خواب اچھی طرح جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے بارے میں زیادتی کی تھی اور جو احکام ہفتہ کے دن کے لئے ان کو دیئے گئے تھے۔ ان احکام کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ پھر ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم بندر ہو جائو۔ ذلیل و خوار اور پھٹکارے ہوئے پھر ہم نے اس واقعہ مسخ اور عقوبت کو ان لوگوں کے لئے جو وہاں موجود تھے اور جو پیچھے تھے ، ایک عبرت آموز واقعہ بنادیا اور جو لوگ خدا سے ڈرنے والے ہیں ان کے لئے اس واقعہ کو موجب نصیحت و موعظت بنایا۔ (تیسیر)
منجملہ اور احاکم کے یہود کو یہ بھی حکم تھا کہ ہفتہ کے دن عبادت میں مشغول رہا کرو اور اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کرو۔ لیکن کچھ…
Read the full tafseer →ف 4۔ بنی اسرائیل کے لیے ہفتہ کا دن معظم اور عبادت کے لیے مقرر تھا اور مچھلی کا شکار بھی اس روز ممنوع تھا یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے مچھلی کے شوقین ہزار جال ڈال کر شکار کرنا تھا سو کیا اس پر اللہ کا یہ عذاب شکل کے مسخ کرنے کا نازل ہوا اور تین دن پیچھے وہ سب مرگئے۔
Read the full tafseer →اس واقعہ میں عبرت بھی ہے اور نصیحت بھی :
141: یہود کو ان کے حیلے کی سزا مختلف گروہ بندیوں میں تقسیم ہوجانے کی صورت میں ملی۔ ہمارے اسلامی حیلوں کی سزا ہمیں مل رہی ہے یا نہیں ؟ اس کا فیصلہ قارئین ” عروۃ الوثقیٰ “ خود کرلیں۔ اس واقعہ کو دیکھنے اور سننے والے دو قسم کے لوگ تھے اور ہیں یعنی فرمانبردار اور نافرمان ۔ چونکہ نافرمانوں کے لئے تو یہ واقعہ نافرمانی سے توبہ کرانے والا تھا اور ہے اس لئے اس کو ” نکال “ فرمایا اور فرمانبرداروں کو یہ واقعہ فرمانبرداری پر قائم رکھنے والا تھا اور ہے اس لئے اس کو ” مَوْعِظَةً “ سے تعبیر کیا ہے اور یہ بات پہلے معلوم ہوچکی ہے کہ متقی وہی ہوتے ہیں جو نصحیت حاصل کرتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–66
This episode belongs to the time of Sayyidna Dawud (David (علیہ السلام Allah had appointed Saturday as the Sabt سبت ، or the sacred day, for the Israelites; it was specially set apart for prayers and worship, and hence fishing was prohibited on this day. But these people lived on the sea-shore, and were very fond of fish. Al-Qurtubi says that the Israelites, at first, invented all sorts of clever pretences for catching fish on Saturday, and gradually started doing so openly. There now grew a division amongst them on this point. On the one hand were these transgressors, and, on the other, some…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 65–70
82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…
Read the full tafseer →