Al-Baqara 2:65

Al-Baqara · from ayah 65

2:65

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِی السَّبْتِ فَقُلْنَا لَهُمْ كُوْنُوْا قِرَدَةً خٰسِـِٕیْنَ ۟ۚوَلَقَدۡ عَلِمۡتُمُ الَّذِيۡنَ اعۡتَدَوۡا مِنۡكُمۡ فِىۡ السَّبۡتِ فَقُلۡنَا لَهُمۡ كُوۡنُوۡا قِرَدَةً خَاسِئِـيۡنَ ‌ۚ‏

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

— Fateh Muhammad Jalandhari

And you had already known about those who transgressed among you concerning the sabbath, and We said to them, "Be apes, despised."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:65

پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سبت کا قانون توڑا تھا ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندر بن جاؤ اور اس حال میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور تم ان لوگوں کو خوب جانتے ہوں، جو تم میں سے ہفتے کے دن (مچھلی کا شکار کرنے) میں حد سے تجاوز کر گئے تھے، تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل وخوار بندر ہو جاؤ

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور یقیناً تمہیں ان لوگوں کا علم بھی ہے جو تم میں سے ہفتہ کے بارے میں حد سے بڑھ گئے اور ہم نے بھی کہہ دیا کہ تم ذلیل بندر بن جاؤ

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور تم اپنے لوگوں کو اچھی طرح جانتے ہو جو سنیچر (سبت) کے معاملے میں حد سے گزر گئے تھے چنانچہ ہم نے ان سے کہا تھا کہ تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور بیشک ضرور تمہیں معلوم ہے تم میں کے وہ جنہوں نے ہفتہ میں سرکشی کی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ ہوجاؤ بندر دھتکارے ہوئے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (اے یہود!) تم یقیناً ان لوگوں سے خوب واقف ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن (کے احکام کے بارے میں) سرکشی کی تھی تو ہم نے ان سے فرمایا کہ تم دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور بلاشبہ یقینا تم ان لوگوں کو جان چکے ہو جو تم میں سے ہفتے (کے دن) میں حد سے گزر گئے تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر بن جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور تم اپنے ان لوگوں کو بھی خوب جانتے ہو جنہوں نے سبت (ہفتہ کے دن چھٹی منانے کے قانون) کے بارے میں زیادتی کی تھی۔ لہذا ہم نے ان سے کہا کہ بندر بن جاؤ کہ تم پر دھتکار پڑتی رہے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور ان لوگوں کا علم تو تمہیں ہے ہی جنہوں نے سبت کے معاملے میں حدود الٰہی کی بےحرمتی کی تو ہم نے ان کو دھتکارا کہ بن جاؤ، ذلیل بندر بن جاؤ،

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور تم اپنی قوم کے ان لوگوں (کے حال و مال) کو بھی اچھی طرح جانتے ہو، جنہوں نے (قانون) سبت کے بارے میں تجاوز کیا تو ہم نے ان سے کہا (اپنے حکم قہری اور تکوینی طور پر) کہ ہوجاؤ تم بندر ذلیل (و خوار)

— مولانا اسحاق مدنی

اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنہوں نے تم میں سے سبقت کے بارے میں تجاوز کیا تھا۔ تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندر ہوجاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور تم انہیں خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے زیادتی کی تھی ہفتہ کے دن میں تو ہم نے کہہ دیا ان سے کہ ہوجاؤ ذلیل بندر۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور تم ان لوگوں کو خوب جان چکے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی تھی تو ہم نے ان سے کہا ذلیل بندر ہوجاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

And you know well the story of those among you who broke Sabbath. We said to them, "Be apes despised and hated by all.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Certainly you have knowledge of those among you who transgressed in (the matter of) the Sabbath. We said to them, :Become apes, abased.

— Muhammad Taqi Usmani

Certainly you have knowledge of those among you who transgressed in (the matter of) the Sabbath. We said to them, :Become apes, abased.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And indeed you knew those amongst you who transgressed in the matter of the Sabbath (i.e. Saturday). We said to them: "Be you monkeys, despised and rejected."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And ye know of those of you who broke the Sabbath, how We said unto them: Be ye apes, despised and hated!

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And you had already known about those who transgressed among you concerning the sabbath, and We said to them, "Be apes, despised."

— Saheeh International

You certainly knew about those among you who were transgressors on the Sabbath. We commanded them, "Become detested apes,"

— Muhammad Sarwar

And certainly you have known those among you who exceeded the limits of the Sabbath, so We said to them: Be (as) apes, despised and hated.

— Muhammad Habib Shakir

And assuredly ye know of those of you who trespassed in the matter of the Sabbath, wherefore We said unto them: be ye apes despised.

— Abdul Majid Daryabadi

And well ye knew those amongst you who transgressed in the matter of the Sabbath: We said to them: "Be ye apes, despised and rejected."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:65

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 65–66

صورتیں مسخ کردی گئیں اس واقعہ کا بیان تفصیل کے ساتھ سورة اعراف میں ہے جہاں فرمایا آیت (وَسْــــَٔـلْهُمْ عَنِ الْقَرْيَةِ الَّتِيْ كَانَتْ حَاضِرَةَ الْبَحْرِ) 7۔ الاعراف :163) وہیں اس کی تفسیر بھی پوری بیان ہوگی۔ انشاء اللہ تعالیٰ یہ ایلہ بستی کے باشندے تھے ان پر ہفتہ کے دن تعظیم ضروری کی گئی تھی اس دن کا شکار منع کیا گیا تھا۔ اور حکم باری تعالیٰ سے مچھلیاں اسی دن بکثرت آیا کرتی تھیں تو انہوں نے مکاری کی۔ گڑھے کھود لئے۔ رسیاں اور کانٹے ڈال دئیے۔ ہفتہ والے دن وہ آگئیں۔ یہاں پھنس گئیں۔ اتوار کی رات کو جا کر پکڑ لیا۔ اس جرم پر اللہ نے ان کی شکلیں بدل دیں۔ حضرت مجاہد فرماتے ہیں صورتیں نہیں بدلی…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 65–70

سورة الْبَقَرَة 82 سَبْت، یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لیے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لیے مخصوص رکھیں۔ اس روز کسی قسم کا دنیوی کام، حتّٰی کہ کھانا پکانے کا کام بھی نہ خود کریں، نہ اپنے خادموں سے لیں۔ اس باب میں یہاں تک تاکیدی احکام تھے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے، وہ واجب القتل ہے (ملاحظہ ہو خروج، باب 31، آیت 17-12)۔ لیکن جب بنی اسرائیل پر اخلاقی و دینی انحطاط کا دور آیا تو وہ علی الا علان سَبْت کی بےحرمتی کرنے لگے حتّٰی کہ ان کے شہروں میں کھلے بندوں سَبْت کے روز تجارت ہونے لگی۔ سورة الْبَقَرَة 83 اس واقعے کی تفصیل آگے سورة اعراف رکوع 21 میں آتی ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

خلاصہ تفسیر اور تم جانتے ہی ہو ان لوگوں کا حال جنہوں نے تم میں سے (حد شرع سے) تجاوز کیا تھا دوبارہ (اس حکم کے جو) ہفتہ کے دن کے (متعلق تھا کہ اس روز مچھلی کا شکار نہ کریں) سو ہم نے ان کو (اپنے حکم قہری تکوینی سے مسخ کرنے کے لئے) کہہ دیا کہ تم بندر ذلیل بن جاؤ (چنانچہ وہ بندروں کے قالب میں مسخ ہوگئے) پھر ہم نے اس کو ایک (واقعہ) عبرت (انگیز) بنادیا ان لوگوں کے لئے بھی جو قوم کے معاصر تھے اور ان لوگوں کے لئے بھی جو مابعد کے زمانے میں آتے رہے اور (نیز اس واقعہ کو) موجب نصیحت (بنایا، خدا سے) ڈرنیوالوں کے لئے، فائدہیہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کا حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں ہوا بنی اسرائیل کے لئے ہفتہ کا…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یہ اس نقض عہد کی ایک مثال ہے جس کا اجمالی ذکر اوپر والی آیت میں ہوا ہے۔ بنی اسرائیل کے لئے سبت (ہفتہ) کا دن عبادت کے لئے مخصوص کیا گیا تھا۔ اس دن ان کو کام کاج اور سیروشکار کی ممانعت تھی۔ لیکن انہوں نے اپنے آپ کو شریعت الہٰی کی ان پابندیوں سے آزاد کرنے کے لئے بہت سے شرعی حیلے ایجاد کر لئے۔ یہاں تک کہ سیروشکار وغیرہ کی بھی بہت سی راہیں کھول لیں۔ اس آیت میں ان کی اسی قسم کی حرکتوں کی طرف اشارہ ہے اور چونکہ یہ باتیں ان کے درمیان شہرت رکھتی تھیں اس وجہ سے قرآن نے اس کی طرف ایک معلوم ومعروف حقیقت کی طرح اشارہ کر دیا ہے۔ فَقُلْنَا لَهُمْ كُونُوۡا قِرَدَةً خَاسِئِيۡنَ، لعنت اور پھٹکار کا جملہ ہے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 65–66

65۔ 1 سبت (ہفتہ) کے دن یہودیوں کو مچھلی کا شکار بلکہ کوئی بھی دنیاوی کام کرنے سے منع کیا گیا تھا لیکن انہوں نے ایک حیلہ اختیار کر کے حکم الٰہی سے تجاوز کیا۔ ہفتے کے دن (بطور امتحان) مچھلیاں زیادہ آتیں انہوں نے گڑھے کھود لئے، تاکہ مچھلیاں اس میں پھنسی رہیں اور پھر اتوار کے دن ان کو پکڑ لیتے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 65–66

50 : سنیچر (ہفتہ) کو عربی اور عبرانی زبان میں سبت کہتے ہیں، یہودیوں کے لئے اسے ایک مقدس دن قرار دیا گیا تھا، جس میں ان کے لئے معاشی سرگرمیاں ممنوع تھیں، جن یہودیوں کا یہاں ذکر ہے وہ (غالباً حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں) کسی سمندر کے کنارے رہتے تھے اور مچھلیاں پکڑا کرتے تھے، سنیچر کے دن مچھلیاں پکڑنا ان کے لئے ناجائز تھا مگر شروع میں انہوں نے کچھ حیلے کرکے اس حکم کی خلاف ورزی کرنی چاہی اور پھر کھلم کھلا مچھلیاں پکڑنی شروع کردیں، کچھ نیک لوگوں نے انہیں سمجھایا مگر باز نہ آئے، بالآخر ان پر عذاب آیا اور ان کی صورتیں مسخ کرکے انہیں بندر بنادیا گیا۔ (اس واقعہ کی تفصیل : اعراف، 7: 163 تا 166)۔ میں آنے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

دوسری جگہ قرآن کریم نے سبت کے احکام کی خلاف ورزی کی تفصیلات بیان کی ہیں ۔ “ اور ذرا ان سے اس بستی کا حال بھی پوچھئے ، جو سمندر کے کنارے واقع تھی ۔ انہیں یاد دلاؤ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن ابھر ابھر کر سطح پر ان کے سامنے آتی تھیں اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں۔ “ (7۔ 213) بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ سے درخواست کی تھی کہ ان کے آرام کے لئے ایک دن کو مقدس قرار دیا جائے ۔ چناچہ اللہ تعالیٰ نے سبت کے دن کو مقدس قرار دیا اور اس دن دنیاوی معاش کے لئے کوئی کام کرنا حرام قرار دیا۔ اس کے بعد انہیں اس آزمائش میں ڈالا کہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

4 بنی اسرائیل کو تورات میں حکم ہوا تھا کہ " شنبہ کا دن خالص عبادت کے لیے مقرر ہے اس دن مچھلی کا شکار مت کرو " وہ لوگ فریب اور حیلہ سے ہفتہ کے دن شکار کرنے لگے تو اللہ نے ان کو مسخ کر کے ان کی صورت بندر کی سی کردی۔ فہم و شعور انسانی موجود تھا۔ ایک دوسرے کو دیکھتا تھا اور روتا تھا۔ مگر کلام نہیں کرسکتا تھا تین دن کے بعد سب مرگئے اور یہ واقعہ حضرت داؤد کے عہد میں ہوا۔ مفصل سورة اعراف میں آئے گا۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

Explained with ayahs 65–66

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ تمہیں خوب معلوم ہے کہ تم میں سے وہ کون لوگ تھے جنہوں نے سبت کے قانون کو توڑا تھا اور حد سے تجاوز کیا تھا۔ یہود کی شریعت میں ہفتہ کا روز عبادت کے لیے معینّ کردیا گیا تھا اور اس روز دنیاوی کام کاج کی اجازت نہیں تھی۔ آج بھی جو مذہبی یہودی Practicing Jews ہیں وہ اس کی پابندی بڑی شدت سے کرتے ہیں۔ لیکن ایک زمانے میں ان کے ایک خاص قبیلے نے ایک شرعی حیلہ ایجاد کر کے اس قانون کی دھجیاں بکھیر دی تھیں۔ اس واقعہ کی تفصیل سورة الاعراف میں آئے گی۔ فَقُلْنَا لَہُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِءِیْنَ “ ان کی شکلیں مسخ کر کے انہیں بندروں کی صورت میں…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 65–66

81 اصحاب سبت کا انجام :۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم دیا گیا تھا کہ وہ ہفتہ کے دن کاروبار نہیں کریں گے بلکہ چھٹی کریں گے اور اس دن آرام اور اللہ کی عبادت کیا کریں گے اور تورات میں یہ بھی وضاحت ہے کہ جو شخص اس مقدس دن کی حرمت کو توڑے گا، وہ واجب القتل ہے۔ لیکن یہود پر اخلاقی انحطاط کا دور آیا تو یہود اس دن کھلے بندوں اپنا کاروبار جاری رکھتے اور تجارت وغیرہ کیا کرتے۔ اس سلسلہ میں سورة اعراف میں ایک مخصوص بستی کا ذکر بھی آیا ہے جو سمندر کے کنارے آباد تھی اور ان لوگوں کا پیشہ ماہی گیری تھا۔ لیکن اتفاق کی بات کہ چھ دن تو مچھلیاں پانی میں چھپی رہتیں اور ہفتہ کے دن پانی کی سطح پر سینہ تان کر تیرتی پھرتیں۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

229 ۔ (آیت) ” لقد علمتم “۔ علم کا لفظ خود ہی تحقیق کے معنی میں قرآن مجید میں بار ہا استعمال ہوا ہے۔ پھر ل حرف تاکید۔ قد حرف تاکید۔ (آیت) ” لقد “ جس فعل پر داخل ہوتا ہے، اس میں معنی شدت تاکید کے پیدا کرتا ہے۔ گویا قرآن بنی اسرائیل کو ان کی تاریخ کا کوئی واقعہ ان کے لیے خوب اچھی طرح سے جانا بوجھا ہوا یا دلا رہا ہے۔ اور ان سے کہہ رہا ہے کہ اے بنی اسرائیل جس واقعہ کا ذکر آگے آرہا ہے، وہ تمہاری تاریخ کا ایک مسلم و متعارف واقعہ ہے اور تم اس سے بلاشک و اشتباہ خوب واقفیت رکھتے ہو۔ (آیت) ” منکم “ یعنی تمہارے اسلاف و اجداد میں سے۔ (آیت) ” فی السبت “۔ یعنی احکام سبت کے بارہ میں۔ سبت کے لفظی معنی ہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 65–66

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ، (الآیۃ) اور تم ان لوگوں کا حال تو اچھی طرف جانتے ہی ہو جنہوں نے روز شنبہ کے بارے میں حد شرع سے تجاوز کیا تھا۔ فائدہ : مچھلی پکڑنے کا واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں پیش آیا تھا، ہفتہ (شنبہ) کا دن بنی اسرائیل کے لئے عبادت کے واسطے مقرر تھا، اس روز مچھلی کا شکار ممنوع تھا، یہ لوگ سمندر کے کنارے آباد تھے، مچھلی کے شوقین تھے، ان لوگوں نے حکم کو نہ مانا اور شکار کیا اس پر اللہ نے ان پر مسخ صورت کا عذاب نازل فرمایا، یہ مسخ شدہ لوگ تین دن میں مرگئے۔ دینی معاملات میں حیلے کی حقیقت : اس آیت میں یہودیوں کے جس اعتدا کا ذکر ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِی السَّبْتِ ( اور تم جان چکے ہو جنہوں نے ہفتہ کے دن میں زیادتی کی) لفظ سبت کے معنی اصل میں قطع کے ہیں اور ہفتہ کو سبت یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے مخلوق کو قطع کیا یعنی پیدا کیا یا اس لیے کہ یہود کو اس دن عبادت کے سوا اور کل کاموں سے قطع تعلق کرنے کا حکم ہوا تھا۔ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ حضرت داؤد ( علیہ السلام) کے زمانہ میں دریا کے کنارے ایک شہر آباد تھا اس میں ستّرہزار بنی اسرائیل تھے ان پر اللہ تعالیٰ نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار حرام فرمایا تھا ان کی آزمائش کے لیے کل مچھلیاں دریا کے اوپر جمع ہوجاتیں اور اس کثرت سے جمع ہو…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(65) اور تمہیں اچھی طرح پتہ ہے اور تم نے ان لوگوں کا انجام بھی سنا ہے جنہوں نے حضرت داؤد ؑ کے زمانے میں عہد و پیمان کے بعد بھی ہفتہ کے دن اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی، ہم نے ان لوگوں کو ذلیل و خوار بندر بنادیا تاکہ یہ بندر بنادینا پچھلے گناہوں کی سزا ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس آیت سے ظاہر ہے کہ ہفتے کے دن میں زیادتی کا یہ واقعہ بنی اسرائیل میں معروف تھا۔ اس کی تفصیل الاعراف (163 تا 166) کے حواشی میں ملاحظہ فرمائیں۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 65 اس میں سات مسائل ہیں (٭) ۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت، علمتم اس کا معنی ہے : تم نے ان کے اعیان (اشخاص) کو پہچان لیا۔ بعض علماء نے فرمایا : تم ان کے احکام جان چکے ہو، ان دونوں (علم اور معرفت) میں فرق یہ ہے کہ معرفت ذات مسمیٰ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور علم مسمیٰ کے احوال کی طرف متوجہ ہوتا ہے۔ جب تو کہتا ہے کہ عرفت زیداً اس سے مراد ہے میں نے زید کی شخصیت کو پہچان لیا۔ جب تو کہتا ہے : علمت زیداً اس سے مراد اس کے احوال (فضل یا نقص) وغیرہ کو جان لیا۔ پہلی صورت میں ایک فعل کی طرف متعدی ہوتا ہے۔ یہ سیبویہ کا قول ہے اور علمتم بمعنی عرفتم ہے…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 65–66

(1) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ولقد علمتم “ سے مراد ہے عرفتم یعنی تم نے پہچان لیا اور یہ ان کو گناہ سے ڈرانے کے لیے تھا فرمایا کہ ڈرو تم اس بات سے کہ تم کو بھی وہ عذاب پہنچ جائے جو ہفتہ والوں کو پہنچا تھا جب انہوں نے میری نافرمانی کی اور حد سے بڑھ گئے تو فرمایا کہ (جب) انہوں نے ہفتہ کے دن مچھلی کا شکار کرنے پر جرأت کی تو ہم نے ان سے کہا لفظ آیت ” کونوا فردۃ خاسئین “ دھتکارے ہوئے بندر بن جاؤ یعنی اللہ تعالیٰ نے ان کی نافرمانی کے سبب ان کو بندر (کی صورت) میں مسخ فرما دیا۔ اور مسخ شدہ کبھی تین دنوں سے زیادہ زندہ نہیں رہا (مسخ ہوجانے کے بعد) نہ اس نے کھایا نہ پیا اور نہ ان کی…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : اور جان لیا ہے تم لوگوں نے ] [ الَّذِيْنَ : ان لوگوں نے جنہوں نے ] [ اعْتَدَوْا : حد سے تجاوز کیا ] [ مِنْكُمْ : تم میں سے ] [ فِى السَّبْتِ : ہفتے کے دن میں ] [ فَقُلْنَا لَھُمْ : تو ہم نے کہا ان سے ] [ كُوْنُوْا : تم لوگ ہوجاؤ ] [ قِرَدَةً خٰسِـــِٕيْنَ : دھتکارے جانے والے بندر ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 65–66

یہودیوں کا سنیچر کے دن میں زیادتی کرنا اور بندر بنا دیا جانا جیسے مسلمانوں کے لیے جمعہ کا دن معظم قرار دیا گیا ہے اسی طرح سے یہود کے لیے سنیچر کے دن کو معظم قرار دیا گیا تھا۔ اور اس کی تعظیم کے لیے یہ حکم بھی تھا کہ اس دن مچھلی کا شکار نہ کریں ایک طرف تو یہ حکم تھا اور دوسری طرف ان کا امتحان تھا اور وہ امتحان اس طرح تھا کہ دوسرے دنوں میں مچھلیاں عام حالات کے مطابق پانی میں اندر ہی رہتی تھیں اور سنیچر کے دن خوب ابھر ابھر کر پانی پر آجاتی تھیں جس کا تذکرہ سورة اعراف کی آیت (وَسْءَلْھُمْ عَنِ الْقَرْیَۃِ الَّتِیْ کَانَتْ حَاضِرَۃَ الْبَحْرِ ) میں فرمایا ہے چونکہ سنیچر کے دن مچھلیاں خوب ابھر کر…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 65–66

شناعت سوم قال تعالیٰ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم۔۔۔ الی۔۔۔ وموعظمۃ للمتقین۔ اور البتہ تحقیق تم خوب جان چکے ہو حال ان لوگوں کا کہ جنہوں نے ہفتہ کے دن حد سے تجاوز کیا پس کہا ہم نے ان سے کہ بن جاؤ بندر ذلیل یعنی دھتکارے ہوئے۔ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک شہر دریا کے کنارہ آباد تھا جس میں بنی اسرائیل کو ہفتہ کے دن مچھلی کے شکار کی ممانعت تھی۔ بنی اسرائیل کی آزمائش کے لیے ہفتہ کے روز مچھلیاں دریا کے کنارہ پر بکثرت جمع ہوجائیں اور ہفتہ گزرنے کے بعد یہ حالت ہوتی کہ ایک مچھلی بھی نظر نہ آتی، بنی اسرائیل نے جب یہ حالت دیکھی تو شکار کرنیکا ایک حیلہ نکالا کہ لب دریا چھوٹے چھوٹے حوض بنائے…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 135 ۔ سبت یعنی ہفتے کا دن دین یہود میں متبرک اور مقدس دن تھا جیسا کہ مسلمانوں کے لیے جمعہ اور عیسائیوں کے لیے اتوار ہے ہفتہ کے دن انہیں مچھلی کے شکار سے روکا گیا تھا مگر انہوں نے خدا کے اس حکم کی پرواہ نہ کی اور ہفتہ کے دن بھی شکار سے باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں عبرتناک سزا دی جس کا ذکر آگے آرہا ہے۔ یہ واقعہ حضرت داوٗد (علیہ السلام) کے زمانے میں پیش آیا اور جن اسرائیلیوں کا یہ واقعہ ہے وہ ساحل سمندر پر واقع ایلہ نامی گاؤں کے باشندے تھے (روح ص 282 ج 1، کبیر ص 553 ج 1)136 ہم نے ان کی شکلیں مسخ کردیں اور انہیں ذلیل بندر بنا دیا یہ مسخ حقیق اور حسی تھا مجازی اور معنوی نہیں تھا اور مسخ کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 65–66

یہود کا مقدس دن ہفتہ : گزشتہ آیات میں اس عہد و پیمان کا ذکر ہوا۔ جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے لیا تھا۔ کہ وہ توراۃ پر عمل پیرا ہوں گے۔ اب ان آیتوں میں خداوندی تعالیٰ نے بنی اسرائیل کا وہ واقعہ یاد دلایا ہے جس میں ان نافرمانوں کو سزا دی گئی اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے۔ “ ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت ” یعنی اے اسرائیلیو ! تم ان لوگوں کو جانتے ہو جنہوں نے ہفتے کے دن تعدی اور زیادتی کی تھی ہفتے کے دن کے متعلق اللہ تعالیٰ نے توراۃ میں حکم نازل فرمایا تھا۔ کہ اس دن کوئی شخص کوئی کام کاج نہ کرے۔ نہ تجارت کرے نہ زراعت کرے۔ نہ مزدوری کرے اور نہ کوئی دوسرا کام انجام دے ، حتیٰ کہ گھر میں کھانے…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ كُوْنُوْا قِرَدَۃً خٰسِـــِٕيْنَ۝ 65 ۚ ( قَدْ ) : حرف يختصّ بالفعل، والنّحويّون يقولون : هو للتّوقّع . وحقیقته أنه إذا دخل علی فعل ماض فإنما يدخل علی كلّ فعل متجدّد، نحو قوله : قَدْ مَنَّ اللَّهُ عَلَيْنا [يوسف/ 90] ، قَدْ كانَ لَكُمْ آيَةٌ فِي فِئَتَيْنِ [ آل عمران/ 13] ، قَدْ سَمِعَ اللَّهُ [ المجادلة/ 1] ، لَقَدْ رَضِيَ اللَّهُ عَنِ الْمُؤْمِنِينَ [ الفتح/ 18] ، لَقَدْ تابَ اللَّهُ عَلَى النَّبِيِّ [ التوبة/ 117] ، وغیر ذلك، ولما قلت لا يصحّ أن يستعمل في أوصاف اللہ تعالیٰ الذّاتيّة، فيقال : قد کان اللہ علیما…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 65–66

ترکیب : علمتم بمعنی عرفتم فعل انتم فاعل الذین اعتدوا الخ جملہ مفعول منکم حال ہے ضمیر اعتدوا سے ای المعتدین کائنین منکم فی السبت متعلق ہے اعتدوا سے خاسئین جو مشتق ہے خساء اذاذل سے صفت ہے قردۃ کی اور ممکن ہے کہ خبرثانی ہو یا کونوا کی فاعل سے حال ہو فجعلناھا ای العقوبہ نکالا مفعول ثانی ہے۔ تفسیر : جب خدا تعالیٰ بنی اسرائیل کو اپنے انعام یاد دلا چکا تو اس کے بعد جو کچھ نافرمانی اور انعام پر ناشکری کرنے سے برے نتیجے پیدا ہوتے ہیں وہ یاد دلاتا ہے تاکہ لوگوں کو عبرت و نصیحت ہو اور یہ بھی معلوم ہو کہ اس قسم کے واقعات پر سوائے اس شخص کے (کہ تورات کیا بلکہ مجموعہ عہد عتیق کا بڑا حاوی ہو) اور کوئی…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 65–66

وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْا مِنْکُمْ فِیْ السَّبْتِ فَقُلْنَا لَھُمْ کُوْنُوْا قِرَدَۃً خَاسِئِیْنَ ۔ فَجَعَلْنٰھَا نَکَالًا لِمَا بَیْنَ یَدَیْھَا وَمَا خَلْفَھَاوَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔ (البقرۃ : 65 تا 66) (اور تم خوب جان چکے ہو ان لوگوں کو جنھوں نے تم میں سے سبت کے بارے میں تجاوز کیا تھا تو ہم نے ان سے کہا کہ ذلیل بندرہوجاؤ۔ پھر ہم نے اسے عبرت بنادیا اس زمانہ کے اور اس کے بعد کے لوگوں کے لیے اور نصیحت بنادیا اللہ سے ڈرنے والوں کے لیے ) نقض عہد کی مثال گزشتہ آیات میں ہم پڑھ چکے ہیں کہ بنی اسرائیل کو اللہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ اور ترغیب اور ترہیب سے کام لیتے ہوئے تورات…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 65–66

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل کے انحراف کا مشہور واقعہ شکر گزاری کی بجائے بد عہدی کرتے ہوئے ہفتہ کے دن کی بےحرمتی کی اور اس کی سزا۔ بنی اسرائیل میں یہ واقعہ نسل در نسل زبان زدعام اور تورات و انجیل کے کئی صفحات پر پھیلا ہوا ہے۔ اس لیے اس کی یاد دہانی کے لیے تفصیلات ذکر کرنے کے بجائے ایک اشارہ ہی کافی سمجھا گیا ہے۔ تاہم سورة الاعراف میں اس کی کچھ تفصیل بیان ہوئی ہے کہ تم وہ لوگ ہو کہ جب تمہاری ہی خواہش کے مطابق تمہارے لیے عبادت کا دن ” ہفتہ “ مقرر کیا گیا کہ اس دن تمہیں عبادت کرنے کے سوا کچھ نہیں کرنا چاہیے۔ تم نے اس دن میں بھی سر کشی اور تمرّد کے کئی راستے نکال لیے۔ ہوا یہ کہ مچھلیاں دوسرے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 64–66

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ : (پھر تم نے منہ موڑا) یعنی پھر تم نے میثاق اور وفاداری سے منہ موڑا۔ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : (اس کے بعد) قبول کرلینے کے بعد فضل و رحمت : فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ : (اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) نمبر 1۔ یعنی عذاب کو مؤخر کر کے نمبر 2: یا تمہیں توبہ کی توفیق دے کر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتا۔ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ : (تو تم نقصان میں پڑجاتے) یعنی تم عذاب سے ہلاک ہوجاتے۔ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : (تحقیق تم نے جانا) یعنی تم نے پہچانا۔ عَلِمَ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے۔ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْامِنْکُمْ فِی السَّبْتِ : (ان کو جنہوں نے ہفتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

65۔ (آیت)” ولقد علمتم الذین اعتدوا منکم فی السبت “ یعنی جن لوگوں نے حد سے تجاوز کیا ، سبت کا اصل معنی قتل کرنا ہے، کہا گیا ہے کہ سبت کو سبت اس لیے کہا گیا کہ اس دن اللہ تعالیٰ نے عمل آفرینش (پیدا کرنے کا عمل) ختم فرما دیا کہا گیا ہے کہ ہفتہ کے دن کو سبت اس لیے کہا گیا کہ یہود کو حکم دیا گیا کہ اس دن اعمال ختم کردیں ، قصہ یہ ہوا کہ یہود حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ میں ایک ایسی جگہ تھے جسے ایلہ کہا جاتا ہے ۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر بروز ہفتہ مچھلی کا شکار حرام کردیا ۔ پس جب ہفتہ کا دن ہوتا سمندر کی ساری مچھلیاں وہاں (مقام ایلہ پر) جمع ہو کر بوجہ امن کے وہاں پانی سے منہ نکالتیں اور مچھلیوں کی…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 65–66

(65 ۔ 66) یہ ایک دوسرا قصہ ہے جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود کو یاد دلا یا گیا ہے۔ یہ قصہ بھی سارا تو سورة اعراف میں آئے گا۔ حاصل اس کا یہ ہے کہ دریا کے کنارے ایک بستی ایلہ نام کی تھی جس میں کچھ یہود رہتے تھے۔ ہفتہ کے دن یہود کو سوائے عبادت کے اور سب کام حرام ہیں۔ اس لئے ان یہود کو جو ایلہ میں دریا کے کنارے رہتے تھے ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑنی حرام تھیں لیکن انہوں نے طرح طرح کے حیلے نکال کر آخر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اسی نافرمانی کی سزا میں ان پر یہ عذاب آیا کہ وہ آدمی سے بندر ہوگئے تاکہ اس بستی کے آس پاس جو یہود رہتے تھے ان بندروں کا حال دیکھ کر ان کو عبرت اور اللہ سے ڈرنے والوں کو نصیحت…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 65–66

آیت 66- یعنی تمہارے نزدیک ان لوگوں کی حالت ثابت ہوگئی ہے۔ (آیت) الَّذِيْنَ اعْتَدَوْا مِنْكُمْ فِى السَّبْتِ ” جنہوں نے تم میں سے ہفتے کے روز زیادتی سے کام لیا تھا۔ “ یہ وہ لوگ تھے جن کا مبسوط اور مفصل قصہ اللہ تعالیٰ نے سورة اعراف میں بیان کیا ہے : (آیت) وسئلھم عن القریۃ۔۔۔۔ تا یفسقون۔ (الاعراف 163 تا 165) ” اور آپ ان لوگوں سے اس بستی والوں کا جو کہ دریائے (شور) کے قریب آباد تھے اس وقت کا حال پوچھئے ! جب کہ وہ ہفتہ کے بارے میں حد سے نکل رہے تھے جب کہ ان کے ہفتہ کے روز تو ان کی مچھلیاں ظاہر ہو کر ان کے سامنے آتی تھیں اور جب ہفتہ کا دن نہ ہوتا تو ان کے سامنے نہ آتی تھیں۔ ہم ان کی اس طرح پر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–67

تفسیر آیت 67 تا 73: قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

195 یہود کا قانون سبت سے تجاوز : جو کہ حضرت داؤد ۔ (علیہ السلام) ۔ کے زمانے میں گزرے ہیں اور جو سمندر کے کنارے پر رہا کرتے تھے۔ ان کی گزربسر کا زیادہ تر مدارو انحصار مچھلی کے شکار پر تھا۔ اور ہفتے کا دن جسے انہوں نے ازخود اپنی عبادت کیلئے مقرر کیا تھا۔ ان کی آزمائش کیلئے اس دن ان کے لئے مچھلی کے شکار کی ممانعت کردی گئی تھی، مگر انہوں نے طرح طرح کے حیلے بہانوں سے کام لیکر ہمارے ان احکام کی خلاف ورزی کی، اور وہ آزمائش میں ناکام ہوئے، تو اس کے نتیجے میں وہ ایک ہولناک اور رسواکن عذاب سے دوچار ہوگئے ۔ والعیاذ باللہ ۔ واضح رہے کہ اللہ پاک کی طرف سے عبادت اور اس کے اہتمام کیلئے ہفتے کے سات دنوں میں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 65–66

صورتیں مسخ ہونا تشریح : اس آیت میں ہفتہ کے دن کی حرمت اور حدود سے نکل جانے کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے۔ یہ واقعہ حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے آپ کا زمانہ مطابق 973 سے 1013 قبل مسیح تک رہا اور ساحل سمندر پر ایلہ مقام ہے اور موجودہ جغرافیہ میں اس کا نام خلیج عقبہ کی مشہور بندرگاہ عقبہ ہے۔ یہودیوں کی بہت بڑی تعداد ایلہ میں مقیم تھی۔ یہودیوں کے لئے ہفتہ کا دن مقدس قرار دیا گیا اور اس دن پابندی یہ لگائی گئی کہ کوئی کاروبار حتیٰ کہ کھانا پکانا بھی منع کردیا گیا اور یہ دن صرف عبادت کے لئے مخصوص کردیا گیا۔ خاص طور سے ہفتہ کے روز مچھلیاں پکڑنا بالکل ممنوع کردیا گیا تھا۔ اصل میں قوم کی یہ آزمائش…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–71

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

ف 1 بنی اسرائیل پر انعامات ذکر کرنے کے بعداب یہاں بعض تشدید کا بیان شروع ہو رہا ہے مفصل سورة عمران میں ہے کہ ہفتہ کے دن ان کو شکار کی ممانعت تھی مگر اس ممانعت کے باوجود انہوں نے فریب اور حیلہ سازی سے شکار کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان کی شکلیں مسخ کر کے بندروں جیسی بنادیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مسخ شدہ قوم تین دن کے بعد زندہ نہیں رہتی۔ (قرطبہ) ایک صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جو صحیح مسلم (کتاب القدر) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے بخاری میں جو بندروں کے رجم کا واقعہ ہے اول تو یہ کہ عمرو بن میمون تابعی نے ایک جاہلی واقعہ بیان کیا ہے حدیث نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:65) ولقد۔ واؤ۔ عاطفہ ہے لام تاکید کا قد ماضی پر داخل ہوکر تحقیق کے معنی دیتا ہے۔ سو لام تاکید اور قد فعل علمتم پر داخل ہونے پر معنی ہوں گے۔ تحقیق تم خوب جانتے ہو۔ تاکید بالائے تاکید۔ اتعدوا۔ انہوں نے زیادتی کی۔ وہ اللہ کی مقرر کردہ حدود سے گزرگئے۔ اعتداء (افتعال) مصدر سے ماضی کا صیغہ جمع مذکر غائب۔ حق سے تجاوز کرنے کو اعتداء کہتے ہیں۔ فی السبت۔ ہفتہ کے دن کے دوران سبت کے اصل معنی قطع کرنے کے ہیں۔ مثلاً کہتے ہیں سبت انفہ اس نے اس کی ناک کاٹ ڈالی۔ پھر اس کے معنی ہفتہ کا دن ہے۔ کیونکہ اہل یہود اس روز کاروبار چھوڑ دیتے تھے اس لئے اس روز کا دوسرے کاروباری ایام سے رشتہ کٹ گیا۔ اس طرح آیت وجعلنا…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 65–66

لغات القرآن : آیت نمبر 65 تا 66 لقد (البتہ یقیناً (قد ماضی کے صیغے پر آیا ہے) ۔ علمتم (تم نے جان لیا) ۔ اعتدوا (جنہوں نے زیادتی کی، حد سے بڑھ گئے) ۔ السبت (ہفتہ کا دن، سینچر) ۔ کونوا (تم ہوجاؤ) ۔ قردۃ (بندر) ۔ خسئین (ذلیل) ۔ جعلنا (ہم نے بنا دیا) ۔ نکال (عبرت) ۔ بین یدی (سامنے (بین، درمیان، یدی، یدین، دونوں ہاتھ) ۔ خلف (پیچھے ، آئندہ آنے والے) ۔ موعظۃ (نصیحت) ۔ تشریح : آیت نمبر 65 تا 66 حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے سیکڑوں سال کے بعد حضرت داؤد (علیہ السلام) کے زمانے میں، ملک شام میں سمندر کے کنارے کوئی شہر یا قصبہ جس کو بعضوں نے ایلہ بھی کہا ہے۔ وہاں یہ واقعہ پیش آیا ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام)…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–66

انسان کے بند ر ہوجانے کا ذکر ۔ بھتیجے کے چچاکو مار ڈالنے کا ذکر دریا کے کنارے ایک بستی ایلہ نام کی تھی جس میں کچھ یہود رہتے تھے ۔ ہفتہ کے دن یہود کو سوائے عبادت کے اور سب کام حرام تھے ۔ اس لئے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا حرام تھیں ، لیکن انہوں نے طرح طرح کے حیلے نکال کر آخر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اسی نافرمانی کی سزا میں ان پر یہ عذاب آیا کہ وہ آدمی سے بندر ہوگئے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 65–72

[51] سبت یعنی ہفتے کا دن۔ بنی اسرائیل کے لئے یہ قانون مقرر کیا گیا تھا کہ وہ ہفتے کو آرام اور عبادت کے لئے مخصوص رکھیں لیکن یہودی اس قانون کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مچھلی کا شکار ایک خاص حیلے کے ساتھ کرنے لگے جس سے اللہ کے حکم کی خلاف ورزی ہوتی تھی۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–65

بنی اسرائیل کی طبع حیلہ جو ۔ (ف 1) یہودیوں نے مذہب کے بارے میں سخت ٹھوکریں کھائی ہیں ، انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا کا مقصد صرف الفاظ کے ظاہری مفہوم کو پورا کرتا ہے ، چاہے اصل منشاء کی مخالفت ہی ہو ۔ چناچہ جب سبت کے دن کام کاج سے ان کو روکا گیا تو وہ ایک اور حیلے تراشنے میں کامیاب ہوگئے ، یعنی دریا کے کنارے کنارے کچھ حوض کھود رکھے تاکہ مچھلیاں سبت کے دن بھی ہاتھ نہ جانے پائیں ، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب موزوں دیا ، ان کو ان کی ظاہری صورت سے محروم کردیا اور ان کو باطنی معنویت سے بالکل الگ شکل میں تبدیل کردیا اور بتایا کہ اللہ کی آیات کو مسخ کرنے کا یہ نتیجہ ہے ، مذہب صرف الفاظ وظاہر کی پابندی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 65–66

ف 3 اور تم ان لوگوں کا حال تو خواب اچھی طرح جانتے ہو جنہوں نے تم میں سے ہفتہ کے بارے میں زیادتی کی تھی اور جو احکام ہفتہ کے دن کے لئے ان کو دیئے گئے تھے۔ ان احکام کی مخالفت میں حد سے تجاوز کر گئے تھے۔ پھر ہم نے ان کو حکم دیا کہ تم بندر ہو جائو۔ ذلیل و خوار اور پھٹکارے ہوئے پھر ہم نے اس واقعہ مسخ اور عقوبت کو ان لوگوں کے لئے جو وہاں موجود تھے اور جو پیچھے تھے ، ایک عبرت آموز واقعہ بنادیا اور جو لوگ خدا سے ڈرنے والے ہیں ان کے لئے اس واقعہ کو موجب نصیحت و موعظت بنایا۔ (تیسیر) منجملہ اور احاکم کے یہود کو یہ بھی حکم تھا کہ ہفتہ کے دن عبادت میں مشغول رہا کرو اور اس دن مچھلیاں نہ پکڑا کرو۔ لیکن کچھ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–65

ف 3۔ حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجاوے گا مستحق اجرونجات اخروی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

بنی اسرائیل کی حیلہ سازی : 138: بنی اسرائیل کے لئے شنبہ یعنی ہفتہ کا دن عبادت کے لئے مخصوص تھا لیکن شرط یہ تھی کہ اس دن کوئی کام مشغولیت کا نہ کیا جائے۔ جس طرح اب بھی مسلمانوں کو حکم ہے کہ جب جمعہ کی نماز کے لئے اذان سنیں تو تمام کاروبار دنیوی ترک کر کے فوراً مسجد میں آجائیں چناچہ ارشاد الٰہی ہے : اِذَا نُوْدِیَ لِلصَّلٰوةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمُعَةِ فَاسْعَوْا اِلٰى ذِكْرِ اللّٰهِ وَ ذَرُوا الْبَیْعَ 1ؕ (62 : 9) ” جب تمہیں نماز جمعہ کے لئے بلایا جائے تو اللہ کے ذکر یعنی خطبہ جمعہ سننے کی طرف مستعدی اور اہتمام سے جلدی جاؤ سستی نہ کرو اور خریدو فروخت بھی بند کردو۔ “ ان کے لئے حکم یہ تھا کہ یوم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–66

This episode belongs to the time of Sayyidna Dawud (David (علیہ السلام Allah had appointed Saturday as the Sabt سبت ، or the sacred day, for the Israelites; it was specially set apart for prayers and worship, and hence fishing was prohibited on this day. But these people lived on the sea-shore, and were very fond of fish. Al-Qurtubi says that the Israelites, at first, invented all sorts of clever pretences for catching fish on Saturday, and gradually started doing so openly. There now grew a division amongst them on this point. On the one hand were these transgressors, and, on the other, some…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 65–70

82. Sabbath, i.e., Saturday . Itwas laid down that the Israelite should consecrate that day for rest and worship. They were required to from abstain from all worldly acts, including cooking (which they mightneither do themselves, nor have their servants do for them) . The injunctions, in this connection wereso strict that violation of the Sabath was to be punished with death. (See Exodus 31:12-17.) When religious and moral decadence, however, spread among the Israelites they indulged in open desecration of the Sabbath, so much so that in jewish towns trade and commerce were carried out in…

Read the full tafseer →