Al-Baqara 2:64

Al-Baqara · from ayah 64

2:64

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ— فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَیْكُمْ وَرَحْمَتُهٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۟ثُمَّ تَوَلَّيۡتُمۡ مِّنۡۢ بَعۡدِ ذٰلِكَ‌‌ۚ فَلَوۡلَا فَضۡلُ اللّٰهِ عَلَيۡكُمۡ وَرَحۡمَتُهٗ لَـكُنۡتُمۡ مِّنَ الۡخٰسِرِيۡنَ‏

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

— Fateh Muhammad Jalandhari

Then you turned away after that. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, you would have been among the losers.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:64

مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھِر گئے اس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو تم اس کے بعد (عہد سے) پھر گئے اور اگر تم پر خدا کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم خسارے میں پڑے گئے ہوتے

— مولانا فتح محمد جالندہری

لیکن تم اس کے بعد بھی پھر گئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم نقصان والے ہوجاتے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اس سب کے باوجود تم دوبارہ (راہ راست سے) پھرگئے چنانچہ اگر اللہ کا فضل اور رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ضرور سخت نقصان اٹھانے والوں میں شامل ہوجاتے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس کے بعد تم پھر گئے تو اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم ٹوٹے والوں میں ہو جاتے -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر اس (عہد اور تنبیہ) کے بعد بھی تم نے روگردانی کی، پس اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم یقینا تباہ ہو جاتے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر تم اس کے بعد پھرگئے تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو یقینا تم خسارہ اٹھانے والوں میں سے ہوتے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر بعد ازاں تم اس عہد سے بھی پھرگئے۔ اور اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو تم خسارہ اٹھانے والوں سے ہوجاتے

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

پھر تم نے اس سب کے بعد اعراض کیا، تو اگر تم پر اللہ کی عنایت اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

پھر اس کے بعد بھی تم لوگ پھرگئے (اپنے اس پختہ قول وقرار سے) سو اگر نہ ہوتی تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور اس کی رحمت (و عنایت) تو یقینا تم لوگ ہوجاتے خسارہ اٹھانے والوں میں سے،

— مولانا اسحاق مدنی

پھر تم اس (عہد) سے اس کے بعد (بھی پھرگئے۔ سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہونے والوں میں ہوتے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر تم نے روگردانی کی اس کے بعد پھر اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم (اُسی وقت) خسارہ پانے والے ہوجاتے۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

پھر تم اس کے بعد پھرگئے سو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی تو تم ضرور تباہ ہوجاتے

— محترمہ رفعت اعجاز

But even after that you forsook the Covenant: nevertheless Allah did not withhold His grace and mercy from you; otherwise you would have been utterly ruined long before this.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then even after that, you turned away. So, had it not been for the grace of Allah upon you, and His mercy, you would have been among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani

Then even after that, you turned away. So, had it not been for the grace of Allah upon you, and His mercy, you would have been among the losers.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

Then after that you turned away. Had it not been for the grace and mercy of Allah upon you, indeed you would have been among the losers.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Then, even after that, ye turned away, and if it had not been for the grace of Allah and His mercy ye had been among the losers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Then you turned away after that. And if not for the favor of Allah upon you and His mercy, you would have been among the losers.

— Saheeh International

Again you turned away. Had God's Grace and His Mercy not existed in your favor, you would certainly have been lost.

— Muhammad Sarwar

Then you turned back after that; so were it not for the grace of Allah and His mercy on you, you would certainly have been among the losers.

— Muhammad Habib Shakir

Then ye turned away there after; so had not the grace of Allah been unto you and His mercy, ye had surely become of the losers.

— Abdul Majid Daryabadi

But ye turned back thereafter: Had it not been for the Grace and Mercy of Allah to you, ye had surely been among the lost.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:64

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–64

عہد شکن یہود ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے عہد و پیمان یاد دلا رہا ہے کہ میری عبادت اور میرے نبی کی اطاعت کا وعدہ میں تم سے لے چکا ہوں اور اس وعدے کو پورا کرانے اور منوانے کے لئے میں نے طور پہاڑ کو تمہارے سروں پر لا کر کھڑا کردیا تھا جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ) 7۔ الاعراف :171) جب ہم نے ان کے سروں پر سائبان کی طرح پہاڑ لا کر کھڑا کیا اور وہ یقین کرچکے کہ اب پہاڑ ان پر گر کر انہیں کچل ڈالے گا اس وقت ہم نے کہا ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد کرو تو بچ جاؤ گے "…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْبَقَرَة 81 اس واقعے کو قرآن میں مختلف مقامات پر جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس وقت بنی اسرائیل میں یہ ایک مشہور و معرُوف واقعہ تھا۔ لیکن اب اس کی تفصیلی کیفیت معلوم کرنا مشکل ہے۔ بس مجملاً یوں سمجھنا چاہیے کہ پہاڑ کے دامن میں میثاق لیتے وقت ایسی خوفناک صورت حال پیدا کردی گئی تھی کہ ان کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا پہاڑ ان پر آپڑے گا۔ ایسا ہی کچھ نقشہ سورة ٴ اعراف آیت 171 میں کھینچا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة ٴ اعراف، 132)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر پھر تم اس قول وقرار کے بعد بھی (اس سے) پھرگئے سو اگر تم لوگوں پر خدا تعالیٰ کا فضل اور رحم نہ ہوتا (تو اس عہد شکنی کا مقتضا تو یہ تھا کہ) ضرور تم (فورا) تباہ (اور ہلاک) ہوجاتے (مگر ہماری عنایت و رحمت عامہ ہے کہ حیات مستعار کے ختم ہونے تک مہلت دے رکھی ہے لیکن کب تک ؟ آخر بعد از مرگ وبال اعمال میں مبتلا ہوگے) فائدہحق تعالیٰ کی رحمت عامہ دنیا میں مومن کافر سب پر ہے جس کا اثر عافیت اور دنیوی راحت ہے رحمت خاصہ کا ظہور آخرت میں ہوگا جس کا اثر نجات اور قرب خداوندی ہے، بظاہر اس آیت کے جزو آخر کے مخاطب وہ یہودی ہیں جو آنحضرت ﷺ کے زمانہ میں موجود تھے چونکہ حضور ﷺ پر ایمان نہ لانا بھی عہد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

پھر تم اس سب کے بعد پھر گئے۔ یہ خطاب ظاہر ہے کہ زمانہ نزول قرآن کے بنی اسرائیل سے ہے درآنحالیکہ یہ فعل اعراض ان کے پہلوں سے صادر ہوا تھا اور یہ لوگ اس راہ میں موجد نہیں بلکہ اپنے اگلوں کے مقلد تھے۔ یہ طرز خطاب اس حقیقت کی طرف نہایت بلیغ اشارہ کر رہا ہے کہ اگر اخلاف گمراہی یا ہدایت کے معاملہ میں ٹھیک ٹھیک اپنے اسلاف کے نقش قدم ہی پر چل رہے ہوں تو ان کی تاریخ اور ان کے اسلاف کی تاریخ گویا ایک ہی ہے۔ اسلاف کے افعال بے تکلف اخلاف کی طرف بھی منسوب ہوں گے اور اخلاف کی گمراہیوں کی تاریخ اسی وقت سے شروع ہو گی جب سے ان کے اسلاف نے اس برائی کی اپنے معاشرے میں طرح ڈالی۔ مِنْ بَعْدِ ذٰلِكَ کا ترجمہ ہم نے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

63۔ 1 جب تورات کے احکام کے متعلق یہود نے ازراہ شرارت کہا ہم سے تو احکام پر عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو سائبان کی طرح ان کے اوپر کردیا جس سے ڈر کر انہوں نے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–64

49: جب حضرت موسیٰ ؑ تورات لے کر آئے تو بنی اسرائیل نے دیکھا کہ اس کے بعض احکام بہت سخت ہیں، اس لئے اس سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کردئے، پہلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خود کہے کہ تورات پر عمل کرنا ضروری ہے، مطالبہ اگرچہ نامعقول تھا مگر ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ کوہ طور پر بھیجے گئے (اعراف، 7: 155) جن کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست تورات پر عمل کا حکم دیا، مگر جب یہ واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے تصدیق تو کی کہ اللہ تعالیٰ نے تورات پر عمل کا حکم دیا ہے ؛ لیکن ایک بات اپنی طرف سے بڑھادی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اب دیکھئے ان کی گا داری ، عہد شکنی اور حیلہ سازی کا ایک نیا منظر ، جس میں وہ یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ کسی عہد کی پابندی کرنے کے سرے سے اہل ہی نہیں ۔ وہ اس عہدو پیمان کی ذمہ داریاں ادا کر ہی نہیں سکتے ، خواہشات نفس اور وقتی مفادات کو دیکھ کر وہ بےبس ہوجاتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی عہد و میثاق کر کے پھر پھرگئے۔ سو اگر اللہ کا فضل نہ ہوتا تو بالکل تباہ ہوجاتے یعنی اسی وقت ہلاک کردیے جاتے یا یہ کہ توبہ و استغفار بھی کرتے اور نبی آخر الزمان کی متابعت بھی کرتے تو بھی تمہاری تقصیرات معاف نہ کی جاتیں۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ج ”“ یعنی جو میثاق شریعت تم سے لیا گیا تھا اس کو توڑ ڈالا۔ فَلَوْلاَ فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ “ اگر اللہ تعالیٰ کا فضل تمہارے شامل حال نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہاری دستگیری نہ کرتی رہتی ‘ تمہیں بار بار معاف نہ کیا جاتا اور تمہیں بار بار مہلت نہ دی جاتی تو تم اسی وقت تباہ ہوجاتے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

82 اتنے پختہ اقرار کرنے کے باوجود اے یہود ! تم نے پھر عہد شکنی کی۔ اس کے باوجود اللہ نے تم پر رحم کیا جو تمہیں زندہ رہنے دیا، ورنہ تمہارے جرائم کی فہرست اتنی طویل ہے جو تمہاری تباہی کی مقتضی تھی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

227 ۔ (اور حسب سابق پھر نافرمانی کرنے لگے) (آیت) ” من بعد ذلک “۔ یعنی اس قول واقرار کے بعد، کتاب ہدایت و احکام مل جانے کے بعد۔ اے من بعد البرھان (قرطبی) 228 ۔ یعنی فی الفور ہلاک کردیئے گئے ہوتے، اور ساری قوم کی قوم دنیا سے اسی طرح بےنشان ہوگئی ہوتی، جیسے اور پرانی متعدد قومیں ہوچکی ہیں، فضل و رحمت خداوندی بنی اسرائیل کے حق میں یہی تھی کہ ان کی خطاؤں اور جرائم سے مزید چشم پوشی کی گئی۔ اور انہیں اور مہلت سنبھلنے اور اپنے کو درست کرنے کی دی گئی۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ ، آیت کے اس آخری جز کے مخاطب آنحضرت ﷺ کے زمانہ کے یہود معلوم ہوتے ہیں، اس لئے کہ آپ ﷺ پر ایمان نہ لانا بھی عہد شکنی میں داخل ہے، اس لئے ان کو بھی عہد شکنوں میں شامل کرکے بطور امتنان فرمایا کہ اس پر بھی ہم نے تم پر دنیا میں کوئی عذاب ایسا نازل نہیں کیا جیسا کہ پہلے عہد شکنوں پر ہوتا رہا، یہ محض خدا کی رحمت ہے۔ اور اب چونکہ ازروئے احادیث ایسے عذابوں کا نہ آنا حضور ﷺ کی برکت ہے، اس لئے بعض مفسرین نے فضل و رحمت کی تفسیر بعثت محمدیہ سے کی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ فَلَولَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَ رَحْمَتُہٗ ( پھر تم اس کے بعد پھرگئے (یعنی عہد کے پورا کرنے سے تم نے منہ پھیرا) تو اگر تم پر اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی نہ ہوتی) فضل سے مہلت دینا اور عذاب کو مؤخر کرنا مراد ہے اور یہ معنی بھی ہوسکتے ہیں کہ اے نبی اسرائیل اگر محمد ﷺ کے وجود با جود کا فضل تم پر نہ ہوتا تو تم پر ضرور عذاب الٰہی نازل ہوتا کیونکہ حق تعالیٰ نے حضور سرور عالم ﷺ کو رحمت للعالمین بنایا ہے اس لیے حضور کے وجود سراپا جود سے عذاب مؤخر کردیا گیا اور دھنس جانے اور صورتیں بدل جانے کا عذاب اٹھا لیا گیا۔ لَکُنْتُمْ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ( تو بیشک تم…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(64) مگر تم نے اس عہد و پیمان کی ممانعت کی اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے عذاب کے اترنے میں دیر نہ ہوتی اور حضور ﷺ کو تمہاری طرف نہ بھیجا جاتا تو تم اللہ کے عذاب اور عقوبت کی وجہ سے بہت ہی گھاٹے میں ہوتے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس سارے عہد و پیمان کے بعد انھوں نے بہت سی باتوں میں تورات سے کنارہ کشی اختیار کی، چناچہ انھوں نے تورات میں تحریف کی، اس کی آیات کو چھپایا، انبیاء کے احکام کی نافرمانی کی، بعض کو جھٹلایا، بعض کو قتل کیا، میدان تیہ میں عجیب و غریب نعمتوں کے مشاہدے کے باوجود موسیٰ ؑ پر بار بار اعتراض کیے، ان کی حکم عدولی کی، انھیں سخت ایذا پہنچائی۔ ارض مقدس میں داخلے کا حکم ہوا تو صاف انکار کردیا، حتیٰ کہ موسیٰ ؑ نے خود کو ان نافرمانوں سے الگ کردینے کی دعا کی۔ یہ تو پہلوں کا حال تھا، بعد والوں نے رسول اللہ ﷺ کو پہچاننے کے باوجود آپ پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ) یعنی ان تمام…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–64

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذاخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور یہ آیت واذنتقنا الجبل فوقھم کا نہ ظلۃ ٌ کے معنی کی تفسیر ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہم نے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلایا اور ہم نے اسے اپنی جگہ سے نکالا (1) ۔ فرمایا : ہر وہ چیز جسے تو اکھیڑے اور اسے پھینکے تو اس کے لئے نتقتہ کا لفظ استعمال کرے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : نتقناہ کا معنی ہے : رفعناہ۔ ابن اعرابی نے کہا : الناتق کا معنی الرافع ہے۔ الناتق الباسط، الناتق الفاتق، امرءۃ ناتق ومنتاق ایسی عورت جس کی اولاد ہو۔ قتبی نے کہا یہ نتق السقاء سے مشتق کیا گیا ہے جس کا معنی ہے : مشکیزہ کو ہلانا حتیٰ کہ اس سے مکھن علیحدہ ہوجائے اور واذ نتقنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–64

(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور “ طور ایک پہاڑ ہے جس کے قریب یہود اترتے تھے اور وہ ان کے اوپر اٹھایا گیا اور فرمایا میرے حکم پر چلو ورنہ میں تمہارے اوپر اس پہاڑ کو گرا دوں گا۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر تورات شریف اتاری گئی اور بنی اسرائیل اس کے نیچے تھے۔ (3) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو پہاڑوں میں سے اگایا گیا اور جو نہیں اگایا گیا وہ طور نہیں۔ (4) الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ : پھر منہ موڑا تم لوگوں نے ] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ ۚ : اس کے بعد سے ] [ فَلَوْلَا : تو اگر نہ ہوتا ] [ فَضْلُ اللّٰهِ : اللہ کا فضل ] [ عَلَيْكُمْ : تم لوگوں پر ] [ وَرَحْمَتُهٗ : اور اس کی رحمت ] [ لَكُنْتُمْ : تو تم لوگ ہوتے ] [ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ : خسارہ پانے والوں میں سے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–64

بنی اسرائیل سے پختہ عہد لینا پھر ان کا منحرف ہوجانا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر آئے اور مستقل شریعت بنی اسرائیل کو دی گئی تو بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی کتاب پر ایمان لائیں گے اور اس کے رسول کا اتباع کریں گے اور اس کی شریعت پر عمل کریں گے۔ جب انہوں نے سخت احکام دیکھے تو عمل کرنے سے انکاری ہوگئے۔ لہٰذا للہ تعالیٰ نے پہاڑ طور کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے اوپر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اسے قوت کے ساتھ لے لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ سورة اعراف میں اور زیادہ واضح طریقے سے اس کو یوں بیان فرمایا : (وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–64

شناعت دوم قال تعالیٰ واذ اخذنا میثاقکم۔۔۔ الی۔۔ ورحمتہ لکنتم من الخسرین (ربط) گزشتہ آیات میں ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے اجر کا وعدہ فرمایا اب یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رغبت اور خوشی سے احکام خداوندی پر عمل کرنا محبین اور مخلصین کا کام ہے۔ بنی اسرائیل کا حال تو یہ ہے کہ جب تک ان پر تشدد اور سختی نہ کیا جائے اس وقت تک وہ عمل نہیں کرتے۔ نیز گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے جس استبدال کا ذکر تھا وہ نافرمانی کا آغاز تھا اب ان آیات میں ان کی اس نافرمانی کا ذکر ہے جو ان سے علانیہ طور پر ظاہر ہوئی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ ہم کو کوئی کتاب عطاء کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 133 ۔ یہ اشارہ مذکورہ عہد و پیمان کی طرف ہے یعنی پختہ عہد و پیمان کے بعد پھر تم نے حسب عادت قدیمہ اس سے اعراض کیا۔ اور اسے پس پشت ڈال دیا من بعد اخذ ذلک المیثاق المؤکد (ابو السعود ص 55 ج 1) ای اعرضتم عن الوفاء بالمیثاق بعد اخذہ وخالفتم (روح ص 280 ج 1)134 ۔ لیکن اس عہد شکنی کے باوجود اللہ نے اپنی خاص نوازش ومہربانی سے تمہیں موقع پر فوراً ہلاک نہ کیا اور سنبھلنے کے لیے تمہیں مزید مہلت دیدی اگر وہ ایسا نہ کرتا تو دنیا سے کب کا تمہارا نام ونشان مٹ چکا ہوتا۔ ولو لا فضل اللہ تعالیٰ علیکم بالامہال وتاخیر العذاب لکنتم من الہا لیکن (ابو السعود ص 555 ج 1) ۔

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–64

بنی اسرائیل کا عہد : ان آیات میں بھی بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ہی ذکر ہے اس سے پچھلی آیت میں قانون نجات کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ کہ نجات کسی خاص فرقہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دارومدار ایمان باللہ ، ایمان بالآخرۃ اور اعمال صالحہ پر ہے۔ آیات زیر درس میں بنی اسرائیل کی توجہ اس واقعہ کی طرف دلائی جا رہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جو کتاب میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے احکام کی پابندی کروگے۔ مگر وہ کہنے لگے کہ یہ احکام تو بڑے مشکل ہیں ہم سے عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈرانے کے لیے ان کے سروں پر کوہ طور کو کھڑا کردیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے “ واذا اخذنا میثاقکم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

ثُمَّ تَوَلَّيْتُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ۝ 0 ۚ فَلَوْ لَا فَضْلُ اللہِ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَكُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِيْنَ۝ 64 ولي وإذا عدّي ب ( عن) لفظا أو تقدیرا اقتضی معنی الإعراض وترک قربه . فمن الأوّل قوله : وَمَنْ يَتَوَلَّهُمْ مِنْكُمْ فَإِنَّهُ مِنْهُمْ [ المائدة/ 51] ، وَمَنْ يَتَوَلَّ اللَّهَ وَرَسُولَهُ [ المائدة/ 56] . ومن الثاني قوله : فَإِنْ تَوَلَّوْا فَإِنَّ اللَّهَ عَلِيمٌ بِالْمُفْسِدِينَ [ آل عمران/ 63] ، ( و ل ی ) الولاء والتوالی اور جب بذریعہ عن کے متعدی ہو تو خواہ وہ عن لفظوں میں مذکورہ ہو ایا مقدرو اس کے معنی اعراض اور دور ہونا کے ہوتے ہیں ۔ چناچہ تعد یہ بذاتہ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–64

ترکیب : اخذنا فعل نحن فاعل میثاقکم مفعول و حالیہ رفعنا فعل نحن فاعل الطور مفعول فوقکم ظرف متعلق ہے فعل سے قلنا محذوف خذواما اتیناکم الخ مقولہ بقوۃ حال ہے ضمیر خذوا سے۔ ای خذوا عازمین فضل اللہ الخ مبتداء خبر محذوف۔ ای لولافضل اللہ حاضر کو فیوں کے نزدیک لولا کے بعد اس کا اسم ہے۔ تفسیر : گیا رہواں انعام : یہ گیا رہواں انعام ہے جس کا کسی قدر ذکر قانون ہدایت میں بیان فرمانے کے بعد یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ ہم نے اے بنی اسرائیل تم پر یہاں تک عنایت کی تھی کہ جس طرح احمق مریض کو شفیق حکیم زبردستی دوا پلاتا ہے اسی طرح ہم نے تم سے کیا تم میں از خود تو اس قانون ہدایت لینے کی تو صلاحیت تھی نہیں ہم نے تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَج فَلَوْلَافَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ لَـکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ ۔ (پھر تم نے اس کے بعداعراض کیا تو اگر تم پر اللہ کا فضل نہ ہوتا اور اس کی رحمت نہ ہوتی تو تم نامرادوں میں سے ہوچکے ہوتے) (البقرۃ : 64) یعنی تورات کو اس تاکید اور اہتمام کے ساتھ ان کے حوالے کرنا اور پھر یہ بات پوری وضاحت کے ساتھ انھیں کہنا کہ اس تورات کی تعلیمات پر عمل کے نتیجے ہی میں تم اپنی دنیا اور آخرت بنا سکتے ہو اور اگر تم نے اس کے احکام سے روگردانی کی اور اس کتاب کا حق ادا نہ کیا تو تم اللہ کے عذاب کا شکار بھی ہوسکتے ہو اور پھر مسلسل ان احکام کی یاددہانی کے لیے وہ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–64

فہم القرآن ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 64–66

ثُمَّ تَوَلَّیْتُمْ : (پھر تم نے منہ موڑا) یعنی پھر تم نے میثاق اور وفاداری سے منہ موڑا۔ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ : (اس کے بعد) قبول کرلینے کے بعد فضل و رحمت : فَلَوْلَا فَضْلُ اللّٰہِ عَلَیْکُمْ وَرَحْمَتُہٗ : (اگر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتی) نمبر 1۔ یعنی عذاب کو مؤخر کر کے نمبر 2: یا تمہیں توبہ کی توفیق دے کر اللہ تعالیٰ کا فضل و رحمت نہ ہوتا۔ لَکُنْتُمْ مِّنَ الْخٰسِرِیْنَ : (تو تم نقصان میں پڑجاتے) یعنی تم عذاب سے ہلاک ہوجاتے۔ وَلَقَدْ عَلِمْتُمُ : (تحقیق تم نے جانا) یعنی تم نے پہچانا۔ عَلِمَ ایک مفعول کی طرف متعدی ہے۔ الَّذِیْنَ اعْتَدَوْامِنْکُمْ فِی السَّبْتِ : (ان کو جنہوں نے ہفتے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 64۔: (آیت)” ثم تولیتم “ تم نے اعراض کیا ” من بعد ذالک “ قبول تورات کے بعد (آیت)” فلولا فضل اللہ علیکم ورحمتہ “ یعنی مہلت دینے اور تم سے تاخیر عذاب کرکے ” لکنتم “ البتہ تم ہوجاتے (آیت)” من الخاسرین “ سزا اور دنیا وآخرت کے چلے جانے (یعنی ان کے منافع) کے باعث نقصان میں پڑجاتے اور کہا گیا ہے خاسرین کا معنی ہے فی الحال عذاب یافتہ لوگوں میں سے ہوجاتے ، گویا کہ اللہ تعالیٰ نے ان کو مہلت دے کر رحم فرمایا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–64

یہ پورا قصہ تو سورة اعراف میں آئے گا حاصل اس کا یہ ہے کہ فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد پہلے تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکام اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریقے بتلانے کے ہم پر نازل ہوجائیں تو اپنے دشمن فرعون سے نجات پانے کے شکریہ میں ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان احکام الٰہی کے موافق خوب دل لگا کر کریں گے۔ جب تورات نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ احکام سخت ہیں۔ ان کے موافق تو ہم سے عمل نہیں ہوسکتا اس پر حضرت جبرئیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پہاڑ جڑ سے اکھیڑ کر بنی اسرائیل کے سروں پر اس کا سایہ ڈالا اور یہ کہا کہ اگر تم کتاب الٰہی کے موافق عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–64

آیت 63-64 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا (آیت) وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُم یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (میثاق) مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے مؤکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا : (آیت) خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ ۔ یعنی تو رات کو پکڑے رہو (آیت) بِقُوَّةٍ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ (آیت) وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ یعنی جو کچھ تمہایر کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ (آیت) لَعَلَّكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–67

تفسیر آیت 67 تا 73: قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

192 عہد سے پھرنا یہود کی موروثی خصلت : سو ارشاد فرمایا گیا کہ پھر تم لوگ پھرگئے اس کے بعد اپنے قول وقرار سے اور تم نے ان خداوندی احکام و ارشادات سے غفلت و لاپرواہی برتی، اور اللہ تعالیٰ کی کتاب کو ایسے پس پشت ڈال دیا کہ گویا تم اس کو جانتے ہی نہیں۔ سو اپنے قول وقرار سے پھرنا، اور عہد شکنی کرنا یہود بےبہبود کی موروثی خصلت اور پرانی عادت ہے، جو ان کے اندر آج بھی جوں کی توں موجود ہے، جسکے مظاہر اور نمونے آج ہم فلسطین میں بچشم خود دیکھتے ہیں، فلسطینیوں سے انہوں نے کتنے ہی عہد و پیماں کیے پھر ان کو توڑ دیا، اور آج تک توڑتے اور طرح طرح سے ان کی خلاف ورزی کرتے ہیں، اور قسما قسم کے مکر و فریب سے کام…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 63–64

قانون فطرت سے منہ موڑنے کی سزا تشریح : اس آیت میں بھی بنی اسرائیل کی ڈھٹائی کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار اصرار کیا کہ ہمیں مستند کتاب لاکر دیجئے، جس میں زندگی گزارنے کے بہترین احکامات درج ہوں۔ اللہ نے ان کو تورات عطا کی، مگر اس پر انہوں نے یہ اعتراض لگا دیا کہ یہ تو بہت مشکل ہے اس پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ اللہ نے ان کو سیدھا رکھنے کے لئے کوہ طور کو اس انداز سے ان کے اوپر کردیا کہ وہ خوف زدہ ہوگئے اور ڈر کے مارے تورات کے تمام احکامات کو ماننے لگے اور فرمانبردار بن گئے۔ بنی اسرائیل سے وعدہ لیا گیا کہ وہ تورات کے احکامات کو زندگی بسر کرنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–71

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 64–65

ف 1 بنی اسرائیل پر انعامات ذکر کرنے کے بعداب یہاں بعض تشدید کا بیان شروع ہو رہا ہے مفصل سورة عمران میں ہے کہ ہفتہ کے دن ان کو شکار کی ممانعت تھی مگر اس ممانعت کے باوجود انہوں نے فریب اور حیلہ سازی سے شکار کرنا شروع کردیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس جرم کی سزا میں ان کی شکلیں مسخ کر کے بندروں جیسی بنادیں۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ مسخ شدہ قوم تین دن کے بعد زندہ نہیں رہتی۔ (قرطبہ) ایک صحیح حدیث سے بھی اس کی تائید ہوتی ہے جو صحیح مسلم (کتاب القدر) میں حضرت عبد اللہ بن مسعود ؓ سے مروی ہے بخاری میں جو بندروں کے رجم کا واقعہ ہے اول تو یہ کہ عمرو بن میمون تابعی نے ایک جاہلی واقعہ بیان کیا ہے حدیث نہیں ہے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

ثم۔ پھر، ازاں بعد۔ حرف عطف ہے، ترخی فی الوقت کے لئے آیا ہے۔ تولیتم۔ ماضی جمع مذکر حاضر، تولی (تفعل) تم پھرگئے۔ تم نے منہ موڑا۔ لولا۔ امتناعیہ ہے۔ اور لو حرف شرط اور لا نافیہ سے مرکب ہے۔ فضل اللہ علیکم ورحمتہ۔ فضل اللہ مضاف مضاف الیہ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فضل ۔ فضل اپنے متعلق اور مضاف الیہ (اللہ) سے مل کر معطوف علیہ ہے اپنے معطوف ورحمتہ کا۔ معطوف علیہ اپنے معطوف سے مل کر مبتدا جس کی خبر حاضر محذوف ہے۔ مطلب یہ ہے کہ : اگر اللہ کا فضل اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی۔ لکنتم من الخسرین ۔ لام تاکید کا ہے جواب شرط میں آیا ہے۔ یہ جملہ، جملہ فعلیہ ہوکر جواب شرط ہے۔ تو تم ضرور خسارہ پانے…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 اخذنا (ہم نے لیا) ۔ میثاق (پکا وعدہ، پختہ عہد) ۔ رفعنا (ہم نے بلند کیا) ۔ فوق ( اوپر، بلند) ۔ الطور (طور پہاڑ) ۔ خذوا (پکڑو، تھام لو) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ فضل اللہ (اللہ کا رحم و کرم) ۔ الخسرین (نقصان اٹھانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافی اور عہد شکنی کا ایک اور واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کی ہدایت کے لئے توریت کا نسخہ لے کر آئے تو وہ قوم جو اس سے پہلے ایک کتاب اور شریعت کا مطالبہ کرتی رہی تھی اس نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ کہنے لگے اے موسیٰ ! اتنے سخت احکامات پر ہم عمل نہیں کرسکتے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 64–66

انسان کے بند ر ہوجانے کا ذکر ۔ بھتیجے کے چچاکو مار ڈالنے کا ذکر دریا کے کنارے ایک بستی ایلہ نام کی تھی جس میں کچھ یہود رہتے تھے ۔ ہفتہ کے دن یہود کو سوائے عبادت کے اور سب کام حرام تھے ۔ اس لئے ہفتہ کے دن مچھلیاں پکڑنا حرام تھیں ، لیکن انہوں نے طرح طرح کے حیلے نکال کر آخر ہفتے کے دن مچھلیاں پکڑیں اور اسی نافرمانی کی سزا میں ان پر یہ عذاب آیا کہ وہ آدمی سے بندر ہوگئے ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–64

[94] اہل کتاب کا ایک فرقہ جو خود کو یحییٰ (علیہ السلام) کا پیرو کار کہتا تھا۔ [05] یعنی اعتقاد صحیح اور عمل صالح یہی دو شرائط نجات ہیں اور ان دو کی تصحیح کے بعد قوم، نسل وغیرہ کی ساری نسبتیں ہیچ ہیں۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اس لئے ہم ہر طرح سے اللہ کے نزدیک دوسروں سے بہتر ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال خواہ کیسے ہی ہوں نجات ہمارا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 64–65

بنی اسرائیل کی طبع حیلہ جو ۔ (ف 1) یہودیوں نے مذہب کے بارے میں سخت ٹھوکریں کھائی ہیں ، انہوں نے سمجھ لیا کہ خدا کا مقصد صرف الفاظ کے ظاہری مفہوم کو پورا کرتا ہے ، چاہے اصل منشاء کی مخالفت ہی ہو ۔ چناچہ جب سبت کے دن کام کاج سے ان کو روکا گیا تو وہ ایک اور حیلے تراشنے میں کامیاب ہوگئے ، یعنی دریا کے کنارے کنارے کچھ حوض کھود رکھے تاکہ مچھلیاں سبت کے دن بھی ہاتھ نہ جانے پائیں ، اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب موزوں دیا ، ان کو ان کی ظاہری صورت سے محروم کردیا اور ان کو باطنی معنویت سے بالکل الگ شکل میں تبدیل کردیا اور بتایا کہ اللہ کی آیات کو مسخ کرنے کا یہ نتیجہ ہے ، مذہب صرف الفاظ وظاہر کی پابندی کا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 63–64

ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول وقرار لیا اور تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو اٹھا کر معلق کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری قوت اور کوشش کے ساتھ فوراً قبول کرو اور جو احکام اس کتاب میں مذکور ہیں ان کو یاد رکھو اور پڑھتے رہو تاکہ تم متقی ہو جائو اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہو پھر تم اس قول وقرار کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی تم پر نہ ہوتی تو یقینا تم بڑا نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوجاتے (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب ان کو تورایت عطا ہوئی تو اس کے احکام ان کو سخت معلوم ہوئے اور ان کے حال کے مناسب بعض احکام تھے بھی سخت تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–65

ف 3۔ حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجاوے گا مستحق اجرونجات اخروی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

کیا بنی اسرائیل نے اس عہد کو پورا کیا ؟ 137: ان کے اس عہد کا ذکر ان کی اپنی کتاب تورات میں بھی موجود ہے او اس کے پورا کرنے کی تاکید بھی چناچہ لکھا ہے کہ : ” جو کوئی اس شریعت کی سب باتوں پر قائم نہ رہے کہ ان پر عمل کرے اس پر لعنت اور سب جماعت کہے آمین۔ “ (استثنا 27 : 26) ” اگر تو کوشش کرے کہ خداوند اپنے خدا کی آواز سنے تاکہ ان سب حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو فرماتا ہوں ، دھیان کر کے عمل کرے تو خداوند تیرا خدا زمین کی قوموں کی نسبت تجھے سرفراز کرے گا۔ “ (استثناء 28 : 1) ” لیکن اگر تو خداوند اپنے خدا کی آواز کا شنوا نہ ہوگا کہ اس کے سارے شرعوں اور حکموں پر جو آج کے دن میں تجھ کو بتاتا ہوں…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

The Israelites went against the Covenant they had made with Allah. The sin was so grave that one could have expected utter destruction and ruin to descend on them as a punishment. But Allah, in His mercy, spared them in so far as physical life is concerned, although they will have to pay for their treason in the other world. Allah's mercy is of two kinds. One is general and extends to believers and disbelievers alike -- its action is to be seen in the shape of worldly well-being and prosperity. The other is special, and pertains to believers alone -- it will manifest itself particularly in…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

81. From the manner in which this incident is described at various places in the Qur'an it is obvious that, at that time, it was quite well known to the Israelites. It is difficult, however, after the Passage of many centuries to be able to speak with certaintainty about the precise nature of the incident. All we can say is that while the Children of israeI were making their covenant in the shadow of Mount Sinai, they witnessed an aweseme phenomenon and felt as if the mountain was about to fall upon them. Verse 171 of Surah al-A'raf seems to portray this. (See also n. 132 in that surah.)

Read the full tafseer →