Al-Baqara 2:63

Al-Baqara · from ayah 63

2:63

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ؕ— خُذُوْا مَاۤ اٰتَیْنٰكُمْ بِقُوَّةٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِیْهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ ۟وَاِذۡ اَخَذۡنَا مِيۡثَاقَكُمۡ وَرَفَعۡنَا فَوۡقَكُمُ الطُّوۡرَؕ خُذُوۡا مَآ اٰتَيۡنٰكُمۡ بِقُوَّةٍ وَّ اذۡكُرُوۡا مَا فِيۡهِ لَعَلَّكُمۡ تَتَّقُوۡنَ

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [recall] when We took your covenant, [O Children of Israel, to abide by the Torah] and We raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that perhaps you may become righteous."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 8 of surah · Ruku 8 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:63

یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طُور کو تم پر اٹھا کر تم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا تھا کہ "جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامنا اور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا اسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی روش پر چل سکو گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہم نے تم سے عہد (کر) لیا اور کوہِ طُور کو تم پر اٹھا کھڑا کیا (اور حکم دیا) کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے، اس کو زور سے پکڑے رہو، اور جو اس میں (لکھا) ہے، اسے یاد رکھو، تاکہ (عذاب سے) محفوظ رہو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ہم نے تم سے وعده لیا اور تم پر طور پہاڑ ﻻکھڑا کردیا (اور کہا) جو ہم نے تمہیں دیا ہے، اسے مضبوطی سے تھام لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو تاکہ تم بچ سکو

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے (تورات پر عمل کرنے کا) عہد لیا تھا، اور کوہ طور کو تمہارے اوپر اٹھا کھڑا کیا تھا۔ (کہ) جو (کتاب) ہم نے تمہیں دی ہے اس کو مضبوطی سے تھامو اور اس میں جو کچھ (لکھا) ہے اس کو یاد رکھو، تاکہ تمہیں تقویٰ حاصل ہو

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ہم نے تم سے عہد لیا اور تم پر طور کو اونچا کیا لو جو کچھ ہم تم کو دیتے ہیں زور سے اور اس کے مضمون یاد کرو اس امید پر کہ تمہیں پرہیزگاری ملے-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یاد کرو) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر طور کو اٹھا کھڑا کیا، کہ جو کچھ ہم نے تمہیں دیا ہے اسے مضبوطی سے پکڑے رہو اور جو کچھ اس (کتاب تورات) میں (لکھا) ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم پرہیزگار بن جاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہم نے تمہارا پختہ عہد لیا اور تمہارے اوپر پہاڑ کو بلند کیا۔ پکڑو قوت کے ساتھ جو ہم نے تمہیں دیا ہے اور جو اس میں ہے اسے یاد کرو، تاکہ تم بچ جاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اے بنی اسرائیل ! وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے تم پر طور پہاڑ کو بلند کر کے تم سے پختہ عہد لیا تھا (اور کہا تھا کہ :) جو کتاب ہم نے تمہیں دی ہے اس پر مضبوطی سے عمل پیرا ہونا اور جو احکام اس میں درج ہیں انہیں خوب یاد رکھنا۔ اس طرح شاید تم پرہیزگار بن جاؤ

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم سے تمہارا عہد لیا اور اٹھایا تمہارے اوپر طور کو۔ پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے اس کو یاد رکھو تاکہ تم خدا کے غضب سے محفوظ رہو۔

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرلیا کرو کہ) جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا تھا، اور تم پر اٹھا دیا تھا کوہ طور کو، (اور تم سے کہا تھا) کہ مضبوطی سے تھام لو تم اس چیز کو جو ہم نے تمہیں دی ہے، (یعنی توراۃ) اور یاد کرو تم ان (احکام و ہدایات) کو جو کے اس کے اندر (موجود و مندرج) ہیں تاکہ تم بچ سکو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہدلیا۔ اور ہم نے تمہارے اوپر (کوہ) طور کو بلند کیا۔ مضبوطی کے ساتھ اس (کتاب) کو پکڑ رکھو جو ہم نے تم کو دی ہے۔ اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد رکھو تاکہ تم متقی بن جاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ذرا یاد کرو جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا اور تمہارے اوپر اٹھا دیا کوہ طور کو۔ پکڑو اس کو مضبوطی کے ساتھ جو ہم نے تم کو دیا ہے۔ اور یاد رکھو اسے جو کچھ کہ اس میں ہے تاکہ تم بچ سکو۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہم نے تم سے اقرارلیا اور تم پر کوہ طور بلند کیا کہ ہم نے جو کتاب تمہیں دی ہے اسے مضبوطی سے پکڑو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد رکھو تاکہ متقی بن جاؤ

— محترمہ رفعت اعجاز

Call to mind the time when We raised above you the Tur and made a covenant with you, saying, "Hold fast to the Book which We are giving you and bear in mind the commands and precepts contained therein. It is expected that this will lead you on to the paths of virtue and piety."

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

And when We took the pledge from you, and raised high above you the (Mount of) Tur: :Hold fast to what We have given to you, and remember what is in it, so that you may become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani

And when We took the pledge from you, and raised high above you the (Mount of) Tur: :Hold fast to what We have given to you, and remember what is in it, so that you may become God-fearing.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (O Children of Isra'il, remember) when We took your covenant and We raised above you the Mount (saying): "Hold fast to that which We have given you, and remember that which is therein so that you may acquire Taqwa.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remember, O Children of Israel) when We made a covenant with you and caused the mount to tower above you, (saying): Hold fast that which We have given you, and remember that which is therein, that ye may ward off (evil).

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [recall] when We took your covenant, [O Children of Israel, to abide by the Torah] and We raised over you the mount, [saying], "Take what We have given you with determination and remember what is in it that perhaps you may become righteous."

— Saheeh International

Children of Israel, recall when We made a covenant with you, raised Mount Tur (Sinai) above you and told you to receive earnestly what We had given to you and bear it in mind so that you would protect yourselves against evil.

— Muhammad Sarwar

And when We took a promise from you and lifted the mountain over you: Take hold of the law (Tavrat) We have given you with firmness and bear in mind what is in it, so that you may guard (against evil).

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time We took your bond, and raised over you the Tur saying: hold fast to that which We have vouchsafed unto you, and remember that which is therein, that haply ye may become God-fearing.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember We took your covenant and We raised above you (The towering height) of Mount (Sinai): (Saying): "Hold firmly to what We have given you and bring (ever) to remembrance what is therein: Perchance ye may fear Allah."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:63

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 63–64

عہد شکن یہود ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ بنی اسرائیل کو ان کے عہد و پیمان یاد دلا رہا ہے کہ میری عبادت اور میرے نبی کی اطاعت کا وعدہ میں تم سے لے چکا ہوں اور اس وعدے کو پورا کرانے اور منوانے کے لئے میں نے طور پہاڑ کو تمہارے سروں پر لا کر کھڑا کردیا تھا جیسے اور جگہ ہے آیت (وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ فَوْقَهُمْ كَاَنَّهٗ ظُلَّـةٌ وَّظَنُّوْٓا اَنَّهٗ وَاقِعٌۢ بِهِمْ) 7۔ الاعراف :171) جب ہم نے ان کے سروں پر سائبان کی طرح پہاڑ لا کر کھڑا کیا اور وہ یقین کرچکے کہ اب پہاڑ ان پر گر کر انہیں کچل ڈالے گا اس وقت ہم نے کہا ہماری دی ہوئی چیز کو مضبوط تھامو اور اس میں جو کچھ ہے اسے یاد کرو تو بچ جاؤ گے "…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 63–64

سورة الْبَقَرَة 81 اس واقعے کو قرآن میں مختلف مقامات پر جس انداز سے بیان کیا گیا ہے اس سے یہ بات صاف ظاہر ہوتی ہے کہ اس وقت بنی اسرائیل میں یہ ایک مشہور و معرُوف واقعہ تھا۔ لیکن اب اس کی تفصیلی کیفیت معلوم کرنا مشکل ہے۔ بس مجملاً یوں سمجھنا چاہیے کہ پہاڑ کے دامن میں میثاق لیتے وقت ایسی خوفناک صورت حال پیدا کردی گئی تھی کہ ان کو ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا پہاڑ ان پر آپڑے گا۔ ایسا ہی کچھ نقشہ سورة ٴ اعراف آیت 171 میں کھینچا گیا ہے۔ (ملاحظہ ہو سورة ٴ اعراف، 132)

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے تم سے قول وقرار لیا (کہ توراۃ پر عمل کریں گے) اور (اس قول وقرار لینے کے لئے) ہم نے طور پہاڑ کو اٹھا کر تمہارے اوپر (محاذات میں) معلق کردیا (اور اس وقت کہا) کہ (جلدی) قبول کرو جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے (یعنی توراۃ) مضبوطی کے ساتھ اور یاد رکھو جو احکام اس (کتاب) میں ہیں جس سے توقع ہے کہ تم متقی بن جاؤ ، فائدہجب موسیٰ ؑ کو طور پر تورات عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو وہ دکھائی اور سنائی تو اس میں احکام ذرا سخت تھے مگر ان لوگوں کی حالت کے مطابق ایسے ہی احکام مناسب تھے تو اول تو انہوں نے یہی کہا تھا کہ جب ہم سے اللہ تعالیٰ خود کہہ دیں گے کہ یہ…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

مَوثِق اور میثاق کے معنی عہدوپیمان کے ہیں۔ اس لفظ کی روح وثوق اور استحکام ہے اس وجہ سے یہ خاص طور پر اس عہدوپیمان کے لئے استعمال ہوتا ہے جو کسی اہم معاملہ کے لئے پورے شعور اور پورے احساس ذمہ داری کے ساتھ باندھا گیا ہو اور جس کی وفاداری کا تاکید کے ساتھ اظہار و اقرار کیا گیا ہو۔ یہاں اس سے مراد وہ عہد ہے جو بنی اسرائیل سے تورات کی پابندی کا لیا گیا۔ شریعت الہٰی خدا اور بندوں کے درمیان ایک معاہدہ ہوتی ہے اس وجہ سے اس کو میثاق سے تعبیر کیا جاسکتا ہے۔ سورہ اعراف میں اس میثاق کا حوالہ اس طرح آیا ہے: اَلَمْ يُؤْخَذْ عَلَيْهِمۡ مِّيثَاقُ الْكِتَابِ اَن لَّا يَقُوۡلُوۡا عَلَى اللهِ اِلَّا الْحَقَّ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 63–64

63۔ 1 جب تورات کے احکام کے متعلق یہود نے ازراہ شرارت کہا ہم سے تو احکام پر عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے طور پہاڑ کو سائبان کی طرح ان کے اوپر کردیا جس سے ڈر کر انہوں نے عمل کرنے کا وعدہ کیا۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 63–64

49: جب حضرت موسیٰ ؑ تورات لے کر آئے تو بنی اسرائیل نے دیکھا کہ اس کے بعض احکام بہت سخت ہیں، اس لئے اس سے بچنے کے بہانے تلاش کرنے شروع کردئے، پہلے تو انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ ہم سے خود کہے کہ تورات پر عمل کرنا ضروری ہے، مطالبہ اگرچہ نامعقول تھا مگر ان پر حجت تمام کرنے کے لئے ان میں سے ستر آدمی منتخب کرکے حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ کوہ طور پر بھیجے گئے (اعراف، 7: 155) جن کو اللہ تعالیٰ نے براہ راست تورات پر عمل کا حکم دیا، مگر جب یہ واپس لوٹے تو انہوں نے اپنی قوم کے سامنے تصدیق تو کی کہ اللہ تعالیٰ نے تورات پر عمل کا حکم دیا ہے ؛ لیکن ایک بات اپنی طرف سے بڑھادی کہ اللہ تعالیٰ نے یہ بھی فرمایا ہے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

اس عہد کی تفصیل دوسری سورتوں اور خود اس سورة بقرہ میں بھی بعد میں مذکور ہے ۔ یہاں مقصد صرف یہ ہے کہ اس منظر کو دوبارہ ان کی نظروں کے سامنے اجاگر کردیا جائے ، اور یہ بتایا جائے کہ ان کے سروں پر کوہ طور کو معلق کرنا اور طاقت سے عہد لینا اور ان کو حکم دینا کہ وہ احکام تورات کو پوری قوت کے ساتھ تھام لیں ، ان امور کے درمیان ایک نفسیاتی اور تعبیری ہم آہنگی موجود ہے ۔ انہیں حکم دیا جاتا ہے کہ وہ عقائد کے سلسلے میں عزیمت اختیار کریں ۔ کیونکہ عقائد ونظریات میں کسی قسم کی نرمی اور مداہنت نہیں برداشت کی جاسکتی ۔ نظریات کے باب میں کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی اختیار نہیں کی جاسکتی ۔ نہ اس بارے میں غیر…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

2 کہتے ہیں کہ تورات نازل ہوئی تو بنی اسرائیل شرارت سے کہنے لگے کہ " توریت کے حکم تو مشکل اور بھاری ہیں ہم سے نہیں ہوسکتے " تب خدائے تعالیٰ نے ایک پہاڑ کو حکم کیا جو ان سب کے سروں پر آن کر اترنے لگا اور سامنے آگ پیدا ہوئی۔ گنجائش سرتابی اصلا نہ رہی مجبوراً احکام تورات کو قبول کیا۔ باقی یہ شبہ کہ " پہاڑ سروں پر معلق کر کے تسلیم کرانا تورات کا یہ صریح اجبار واکراہ ہے جو آیۃ لا اکراہ فی الدین اور نیز قاعدہ تکلیف کے بالکل خلاف ہے کیونکہ بنائے تکلیف تو اختیار پر ہے اور اکراہ مناقض اختیار ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ اکراہ دربارہ قبول دین ہرگز نہیں۔ دین تو بنی اسرائیل پہلے سے قبول کیے ہوئے تھے اور…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ ط“ بنی اسرائیل کو جب تورات دی گئی تو اس وقت ان کے دلوں میں اللہ اور اس کی کتاب کی ہیبت ڈالنے اور خشیت پیدا کرنے کے لیے معجزانہ طور پر ایک ایسی کیفیت پیدا کی گئی کہ ان کے اوپر کوہ طور اٹھا کر معلق کردیا گیا۔ اس وقت ان سے کہا گیا : ّ خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰکُمْ بِقُوَّۃٍ “ اس کتاب تورات کو اور اس میں بیان کردہ احکام شریعت کو مضبوطی کے ساتھ تھام لو۔ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

81 میثاق بنی اسرائیل کی کیفیت :۔ یہ واقعہ بھی بنی اسرائیل کے اس دور سے تعلق رکھتا ہے۔ جب ان کے ستر منتخب افراد پر بجلی گرا کر انہیں ہلاک کیا گیا اور پھر دوبارہ زندہ کیا گیا تھا۔ ان کو بھی اور ان کے ساتھ بنی اسرائیل کے دوسرے لوگوں کو بھی طور کے دامن میں کھڑا کیا گیا اور طور پہاڑ کو ان پر اس طرح جھکا دیا گیا جیسے وہ ان کے اوپر ایک سائبان ہے۔ اب پیچھے سمندر تھا اور آگے سروں کے اوپر سائبان کی طرح طور پہاڑ، اس وقت ان سے پوچھا گیا بتاؤ تورات پر عمل کرتے ہو یا نہیں ؟ اور اقرار کرتے ہو تو پھر پوری مضبوطی سے عہد و پیمان کرو، ورنہ ابھی اس پہاڑ کو تمہارے اوپر گرا کر تمہیں کچل دیا جائے گا۔ اس وقت بنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

223 ۔ (اے بنی اسرائیل تمہارے پیغمبر کے واسطہ سے اس مضمون کا کہ تم توریت پر عمل کروگے ، 224 ۔ (آیت) ” الطور “ طور مطلق پہاڑ کو بھی کہتے ہیں اور جزیرہ نمائے سینا کے ایک مخصوص و متعین پہاڑ کا بھی نام ہے، الطور اسم جبل مخصوص وقیل اسم لکل جبل (راغب) جدید جغرافیہ نویس کہتے ہیں کہ طور کا اطلاق جزیرہ نمائے سینا کے متعدد پہاڑوں پر ہوتا ہے، لیکن حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور بنی اسرائیل کے سلسلہ میں جبل طور سے مراد جبل سینا ہوتا ہے۔ لیکن جبل سینا کی کوئی ایک چوٹی نہیں، متعدد چوٹیاں ہیں، انہیں میں سے کسی کا نام طور ہوگا۔ قوم کے اوپر پہاڑ بلند کرنے سے کیا مراد ہے ؟ توریت میں اس کی کچھ مجمل سی کیفیت درج ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّوْرَ ، (الآیۃ) جب موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر توریت عطا ہوئی اور آپ نے واپس تشریف لاکر قوم کو تورات دکھائی اور سنائی تو چونکہ تورات میں احکام کچھ سخت تھے، مگر ان لوگوں کی حالت ایسے ہی احکام کے مطابق تھی، اول تو انہوں نے یہ کہا کہ جب ہم سے اللہ خود کہہ دیں گے کہ یہ میری کتاب ہے، تب مانیں گے (تفصیل اوپر گزر چکی ہے) غرض جو ستر آدمی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ کوہ طور پر گئے تھے واپس آکر انہوں نے گواہی دی مگر اس شہادت میں (اپنی طرف سے) اتنی آمیزش بھی کردی کہ اللہ تعالیٰ نے آخر میں یہ فرمایا تھا، کہ تم سے جس قدر عمل ہو سکے معاف…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ وَ رَفَعْنَا فَوْقَکُمْ الطُّوْر ( اور وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تم سے عہد لیا اور طور (پہاڑ) تم پر اٹھایا ( لٹکایا) یہ عہد حضرت موسیٰ کے اتباع اور تورات پر عمل کرنے کا تھا۔ طور سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں۔ علامہ بغوی کہتے ہیں کہ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ جب اللہ تعالیٰ نے تورات نازل فرمائی تو موسیٰ نے اپنی قوم کو اس کے قبول کرنے اور ماننے اور اس کے احکام پر عمل کرنے کا حکم فرمایا وہ صاف انکار کر بیٹھے کیونکہ اس میں طرح طرح کے احکام شاقہ تھے اور شریعت موسوی نہایت سخت تھی اس انکار پر حضرت جبرائیل ( علیہ السلام) نے حق تعالیٰ کے حکم سے بنی اسرائیل کے پھیلاؤ کے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(63) اب اللہ تعالیٰ لوگوں سے عہد لینے کا ذکر فرماتے ہیں کہ جب ہم نے تم سے وعدہ لیا اور عہد ومیثاق لینے کے لیے تمہارے سروں پر ”کوہ طور“ کو بلند کیا تاکہ جو ہم نے کتاب کے ذریعے تم پر احکام نازل کیے ہیں ان پر پوری کوششیں اور ہمیشگی کے ساتھ عمل پیرار ہو اور جو اس میں ثواب و عتاب کا ذکر ہے اس کو یاد کرتے رہو اور حلال و حرام کو اچھی طرح محفوظ کرلو تاکہ اللہ تعالیٰ کے عذاب اور ناراضگی سے بچو اور اللہ تعالیٰ کی اطاعت وفرمانبرداری کرتے رہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے تورات پر عمل کا عہد لیتے ہوئے ایک ہیبت ناک منظر پیدا فرما دیا، تاکہ وہ دل سے یہ عہد کریں۔ اس وقت وہ پہاڑ کے دامن میں تھے کہ زلزلے کے ساتھ پہاڑ اکھڑ کر (وَاِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ) ان پر جھک گیا اور سائبان کی طرح ان پر سایہ فگن ہوگیا، حتیٰ کہ انھیں یقین ہوگیا کہ وہ ان پر گرنے ہی والا ہے۔ مزید دیکھیے اعراف (171)۔ یہ دسویں نعمت ہے، کیونکہ یہ عہد و میثاق ان کے فائدے ہی کے لیے تھا۔ مَآ اٰتَيْنٰكُمْ) کی وضاحت یہاں اگرچہ نہیں آئی، مگر کئی مقامات پر مذکور ہے کہ اس سے مراد کتاب ہے، مثلاً : (وَلَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ يَهْتَدُوْنَ) [ المؤمنون : 49 ]…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

Explained with ayahs 63–64

اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذاخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور یہ آیت واذنتقنا الجبل فوقھم کا نہ ظلۃ ٌ کے معنی کی تفسیر ہے۔ ابو عبیدہ نے کہا : ہم نے پہاڑ کو اپنی جگہ سے ہلایا اور ہم نے اسے اپنی جگہ سے نکالا (1) ۔ فرمایا : ہر وہ چیز جسے تو اکھیڑے اور اسے پھینکے تو اس کے لئے نتقتہ کا لفظ استعمال کرے گا۔ بعض علماء نے فرمایا : نتقناہ کا معنی ہے : رفعناہ۔ ابن اعرابی نے کہا : الناتق کا معنی الرافع ہے۔ الناتق الباسط، الناتق الفاتق، امرءۃ ناتق ومنتاق ایسی عورت جس کی اولاد ہو۔ قتبی نے کہا یہ نتق السقاء سے مشتق کیا گیا ہے جس کا معنی ہے : مشکیزہ کو ہلانا حتیٰ کہ اس سے مکھن علیحدہ ہوجائے اور واذ نتقنا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

Explained with ayahs 63–64

(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے قتادہ ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ اخذنا میثاقکم ورفعنا فوقکم الطور “ طور ایک پہاڑ ہے جس کے قریب یہود اترتے تھے اور وہ ان کے اوپر اٹھایا گیا اور فرمایا میرے حکم پر چلو ورنہ میں تمہارے اوپر اس پہاڑ کو گرا دوں گا۔ (2) امام ابن جریر نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور وہ پہاڑ ہے جس پر تورات شریف اتاری گئی اور بنی اسرائیل اس کے نیچے تھے۔ (3) ابن جریر، ابن ابی حاتم اور ابن مردویہ نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ طور اس پہاڑ کو کہتے ہیں جو پہاڑوں میں سے اگایا گیا اور جو نہیں اگایا گیا وہ طور نہیں۔ (4) الفریابی، عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم نے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ اَخَذْنَا : اور جب لیا ہم نے ] [ مِيْثَاقَكُمْ : پختہ وعدہ تم لوگوں سے ] [ وَرَفَعْنَا : اور بلند کیا ہم نے ] [ فَوْقَكُمُ : تمہارے اوپر ] [ الطُّوْرَ ۭ : طور کو ] [ خُذُوْا : کہ تم لوگ پکڑو ] [ مَآ : اس کو جو ] [ اٰتَيْنٰكُمْ : ہم نے تیا تم کو ] [ بِقُوَّةٍ : عمل کی قدرت کے ساتھ ] [ وَّاذْكُرُوْا : اور تم لوگ یاد رکھو ] [ مَا : اس کو جو ] [ فِيْهِ : اس میں ہے ] [ لَعَلَّكُمْ : شاید کہ تم لوگ ] [ تَتَّقُوْنَ : اللہ کی ناراضگی سے بچو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 63–64

بنی اسرائیل سے پختہ عہد لینا پھر ان کا منحرف ہوجانا جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر آئے اور مستقل شریعت بنی اسرائیل کو دی گئی تو بنی اسرائیل سے عہد لیا گیا کہ اللہ وحدہ لا شریک لہ کی کتاب پر ایمان لائیں گے اور اس کے رسول کا اتباع کریں گے اور اس کی شریعت پر عمل کریں گے۔ جب انہوں نے سخت احکام دیکھے تو عمل کرنے سے انکاری ہوگئے۔ لہٰذا للہ تعالیٰ نے پہاڑ طور کو اس کی جگہ سے اکھاڑ کر ان کے اوپر کھڑا کردیا اور فرمایا کہ ہم نے جو کچھ دیا ہے اسے قوت کے ساتھ لے لو اور جو کچھ اس میں ہے اسے یاد کرو۔ سورة اعراف میں اور زیادہ واضح طریقے سے اس کو یوں بیان فرمایا : (وَ اِذْ نَتَقْنَا الْجَبَلَ…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 63–64

شناعت دوم قال تعالیٰ واذ اخذنا میثاقکم۔۔۔ الی۔۔ ورحمتہ لکنتم من الخسرین (ربط) گزشتہ آیات میں ایمان اور عمل صالح کرنے والوں کے لیے اجر کا وعدہ فرمایا اب یہ ارشاد فرماتے ہیں کہ رغبت اور خوشی سے احکام خداوندی پر عمل کرنا محبین اور مخلصین کا کام ہے۔ بنی اسرائیل کا حال تو یہ ہے کہ جب تک ان پر تشدد اور سختی نہ کیا جائے اس وقت تک وہ عمل نہیں کرتے۔ نیز گزشتہ آیات میں بنی اسرائیل کے جس استبدال کا ذکر تھا وہ نافرمانی کا آغاز تھا اب ان آیات میں ان کی اس نافرمانی کا ذکر ہے جو ان سے علانیہ طور پر ظاہر ہوئی۔ چناچہ فرماتے ہیں اور یاد کرو اس وقت کو کہ جب ہم نے تم سے پختہ عہد لیا کہ ہم کو کوئی کتاب عطاء کی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 131 ۔ یہ پہلی خباثت ہے۔ یہاں میثاق سے مراد تورات پر عمل کرنے کا عہد میثاق ہے۔ بقول مافی التورۃ (مدارک ص 72 ج 1) بالمحافظۃ علی ما فی التورۃ (ابو السعود ص 554 ج 1) وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ ۔ جب موسیٰ (علیہ السلام) تورات لے کر آئے اور بنی اسرائیل سے کہا کہ یہ اللہ کی کتاب ہے اس پر عمل کرو تو انہوں نے کہا کہ یہ احکام سخت ہیں جب تک اللہ خود ہم سے ہمکلام نہ ہو اور اسے ہم اپنی آنکھوں سے نہ دیکھ لیں ہم نہیں مانیں گے جس طرح آج کل مغرب زدہ لوگ کہتے ہیں کہ اسلام کے احکام سخت ہیں جو موجودہ زمانے کے لیے غیر مفید ہیں اس لیے ان میں ترمیم ہونی چاہیے۔ اس پر انہیں صاعقہ بھیج کر ہلاک کردیا۔ حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 63–64

بنی اسرائیل کا عہد : ان آیات میں بھی بنی اسرائیل کی خرابیوں کا ہی ذکر ہے اس سے پچھلی آیت میں قانون نجات کی تفصیل بیان کی گئی تھی۔ کہ نجات کسی خاص فرقہ کے لیے مخصوص نہیں ہے۔ بلکہ اس کا دارومدار ایمان باللہ ، ایمان بالآخرۃ اور اعمال صالحہ پر ہے۔ آیات زیر درس میں بنی اسرائیل کی توجہ اس واقعہ کی طرف دلائی جا رہی ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ان سے وعدہ کیا تھا کہ جو کتاب میں تمہیں دے رہا ہوں اس کے احکام کی پابندی کروگے۔ مگر وہ کہنے لگے کہ یہ احکام تو بڑے مشکل ہیں ہم سے عمل نہیں ہو سکے گا تو اللہ تعالیٰ نے انہیں ڈرانے کے لیے ان کے سروں پر کوہ طور کو کھڑا کردیا۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے “ واذا اخذنا میثاقکم…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَكُمُ الطُّوْرَ۝ 0 ۭ خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْہِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُوْنَ۝ 63 أخذ الأَخْذُ : حوز الشیء وتحصیله، وذلک تارةً بالتناول نحو : مَعاذَ اللَّهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنا مَتاعَنا عِنْدَهُ [يوسف/ 79] ، وتارةً بالقهر نحو قوله تعالی: لا تَأْخُذُهُ سِنَةٌ وَلا نَوْمٌ [ البقرة/ 255] ( اخ ذ) الاخذ ۔ کے معنی ہیں کسی چیز کو حاصل کرلینا جمع کرلینا اور احاطہ میں لے لینا اور یہ حصول کبھی کسی چیز کو پکڑلینے کی صورت میں ہوتا ہے ۔ جیسے فرمایا : ۔ { مَعَاذَ اللهِ أَنْ نَأْخُذَ إِلَّا مَنْ وَجَدْنَا مَتَاعَنَا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 63–64

ترکیب : اخذنا فعل نحن فاعل میثاقکم مفعول و حالیہ رفعنا فعل نحن فاعل الطور مفعول فوقکم ظرف متعلق ہے فعل سے قلنا محذوف خذواما اتیناکم الخ مقولہ بقوۃ حال ہے ضمیر خذوا سے۔ ای خذوا عازمین فضل اللہ الخ مبتداء خبر محذوف۔ ای لولافضل اللہ حاضر کو فیوں کے نزدیک لولا کے بعد اس کا اسم ہے۔ تفسیر : گیا رہواں انعام : یہ گیا رہواں انعام ہے جس کا کسی قدر ذکر قانون ہدایت میں بیان فرمانے کے بعد یہ بھی بیان فرماتا ہے کہ ہم نے اے بنی اسرائیل تم پر یہاں تک عنایت کی تھی کہ جس طرح احمق مریض کو شفیق حکیم زبردستی دوا پلاتا ہے اسی طرح ہم نے تم سے کیا تم میں از خود تو اس قانون ہدایت لینے کی تو صلاحیت تھی نہیں ہم نے تم…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَـکُمْ وَرَفَعْنَا فَوْقَـکُمُ الطُّوْرَط خُذُوْا مَآ اٰتَیْنٰـکُمْ بِقُوَّۃٍ وَّاذْکُرُوْا مَا فِیْہِ لَعَلَّـکُمْ تَتَّقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 63) (اور یاد کرو ! جب ہم نے تم سے عہد لیا اور ہم نے تمہارے اوپرکوہِ طور کو بلند کیا۔ (اور کہا) پکڑو اس چیز کو جو ہم نے تم کو دی ہے مضبوطی کے ساتھ اور جو کچھ اس میں ہے، اس کو یاد رکھوتا کہ تم متقی بن جاؤ ) قرآن کریم اور تورات کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے خود مطالبہ کیا کہ اب جب کہ ہم مصر کی غلامی سے آزادہوکر جزیرہ نمائے سینا میں ایک آزاد زندگی شروع کرچکے ہیں تو ہمارے پاس زندگی گزارنے کا ایک…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 63–64

فہم القرآن ربط کلام : گیا رھواں احسان۔ بار بار جرائم کرنے کے باوجود اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو معافی دی اور اللہ تعالیٰ کا انہیں اپنے فضل و کرم سے نوازنا۔ بعض لوگوں کا نقطۂ نگاہ ہے کہ اللہ تعالیٰ انسان کو جبراً ہدایت کیوں نہیں دیتا ؟ حالانکہ وہ جانتے ہیں کہ انسان کو عقل و شعور کی دولت سے اس لیے مالا مال کیا گیا ہے کہ وہ حیوانوں اور جانوروں کے مقابلے میں اپنے نفع و نقصان کا خود فیصلہ کرسکے۔ تاکہ انسان اور حیوان کا فرق نمایاں رہے۔ اس لیے جبراً ہدایت دینے کا طریقہ اللہ تعالیٰ نے پسند نہیں فرمایا۔ لیکن پھر بھی ربِّ کریم نے لوگوں کی غلط فہمی دور کرنے کے لیے بنی اسرائیل کا واقعہ پیش فرمایا ہے۔…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَاِذْ اَخَذْنَا مِیْثَاقَکُمْ : (جب ہم نے تم سے میثاق لیا) یعنی تورات کی تمام باتیں قبول کرنا۔ رفع طور : وَرَفَعْنَا فَوْقَکُمُ الطُّوْرَ : (اور طور کو تم پر بلند کیا) جبل طور۔ یہاں تک کہ تم نے قبول کر کے پختہ وعدہ دے دیا۔ واقعہ : اس کا واقعہ اس طرح ہے کہ موسیٰ ( علیہ السلام) الواح لیکر آئے تو اس میں بنی اسرائیل نے پابندیاں اور مشکل اعمال پائے۔ جو ان پر گراں گزرے۔ پس انہوں نے قبول کرنے سے انکار کردیا۔ جس پر اللہ تعالیٰ نے جبرائیل ( علیہ السلام) کو حکم دیا۔ انہوں نے طور کو جڑ سے اکھاڑا اور اٹھا کر ان کے او پر سائبان کی طرح کردیا۔ ان کو موسیٰ ( علیہ السلام) نے کہا۔ اگر تم قبول کرتے ہو (تو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

63۔ (آیت)” واذا اخذنا میثاقکم “ تمہارا عہد اے گروہ یہود (آیت)” ورفعنا فوقکم الطور “ یہ سریانی زبان میں پہاڑ کو کہتے ہیں بعض کے قول کے مطابق اور یہ قول مجاہد کا ہے اور کہا گیا ہے کہ دنیا میں کوئی لغت ایسی نہیں جو قرآن میں موجود نہ ہو ، اکثر حضرات کا کہنا ہے کہ قرآن کریم لغت عرب کے بغیر اور کوئی لغت نہیں ہے ۔ ان حضرات کی دلیل (آیت)” قرانا عربیا “ فرمان الہی ہے باقی رہی یہ بات کہ یہ لفظ سریانی یا اس کے مثل اور غیر عربی الفاظ جو قرآن پاک میں موجود ہیں تو ان کا جواب یہ ہے کہ یہ محض اتفاق ہے کہ یہ یا اس قسم کے اور الفاظ سریانی یا اور قسم کے غیر عربی بھی ہیں اور عربی بھی ، تو گویا یہ وفاق بین…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 63–64

یہ پورا قصہ تو سورة اعراف میں آئے گا حاصل اس کا یہ ہے کہ فرعون کے ہلاک ہوجانے کے بعد پہلے تو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے یہ خواہش ظاہر کی کہ اگر خدا تعالیٰ کی طرف سے کچھ احکام اللہ تعالیٰ کی عبادت کے طریقے بتلانے کے ہم پر نازل ہوجائیں تو اپنے دشمن فرعون سے نجات پانے کے شکریہ میں ہم لوگ اللہ تعالیٰ کی عبادت ان احکام الٰہی کے موافق خوب دل لگا کر کریں گے۔ جب تورات نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ یہ احکام سخت ہیں۔ ان کے موافق تو ہم سے عمل نہیں ہوسکتا اس پر حضرت جبرئیل نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پہاڑ جڑ سے اکھیڑ کر بنی اسرائیل کے سروں پر اس کا سایہ ڈالا اور یہ کہا کہ اگر تم کتاب الٰہی کے موافق عمل…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 63–64

آیت 63-64 اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے اسلاف کے افعال کی وجہ سے ان پر زجر و توبیخ کا پھر اعادہ کیا ہے۔ فرمایا (آیت) وَاِذْ اَخَذْنَا مِيْثَاقَكُم یعنی وہ وقت یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا۔ (میثاق) مراد ایسا پکا عہد ہے جو طور کو ان کے اوپر معلق کر کے ڈر اور دباؤ کے ذریعے سے مؤکد کیا گیا تھا اور ان سے کہا گیا تھا : (آیت) خُذُوْا مَآ اٰتَيْنٰكُمْ ۔ یعنی تو رات کو پکڑے رہو (آیت) بِقُوَّةٍ یعنی تورات کو محنت، کوشش اور اللہ تعالیٰ کے اوامر پر صبر و استقامت کے ساتھ پکڑے رہو۔ (آیت) وَّاذْكُرُوْا مَا فِيْهِ یعنی جو کچھ تمہایر کتاب میں ہے اسے سیکھو اور اس کی تلاوت کرو۔ (آیت) لَعَلَّكُمْ…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 60–67

تفسیر آیت 67 تا 73: قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔ ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

190 اللہ کی کتاب کو مضبوطی سے پکڑنے کا حکم اور اسکا مطلب ؟ : کہ سچے دل سے اس پر ایمان لا کر، اس کے احکام پر پوری طرح عمل کرو کہ یہی صحت و سلامتی کی راہ ہے اور اسی میں تمہارے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان ہے، اور اسی کے نتیجے میں تم لوگوں کو نبی آخر الزمان پر ایمان لانے کی سعادت بھی نصیب ہوگی، کیونکہ تمہاری اس کتاب میں ان سے متعلق صریح پیشگوئیاں موجود ہیں۔ بہرکیف کتاب الہی کو مضبوطی سے تھامنے اور پکڑنے کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ اس پر سچے دل سے ایمان لایا جائے، اور اس کی ہدایات عالیہ اور تعلیمات مقدسہ کے مطابق عمل کیا جائے، جتنا کسی کا اس پر ایمان و یقین پکا اور پختہ ہوگا اتنا ہی وہ اپنے…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 63–64

قانون فطرت سے منہ موڑنے کی سزا تشریح : اس آیت میں بھی بنی اسرائیل کی ڈھٹائی کا ذکر اس انداز میں کیا گیا ہے کہ انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بار بار اصرار کیا کہ ہمیں مستند کتاب لاکر دیجئے، جس میں زندگی گزارنے کے بہترین احکامات درج ہوں۔ اللہ نے ان کو تورات عطا کی، مگر اس پر انہوں نے یہ اعتراض لگا دیا کہ یہ تو بہت مشکل ہے اس پر عمل کرنا ہمارے بس میں نہیں۔ اللہ نے ان کو سیدھا رکھنے کے لئے کوہ طور کو اس انداز سے ان کے اوپر کردیا کہ وہ خوف زدہ ہوگئے اور ڈر کے مارے تورات کے تمام احکامات کو ماننے لگے اور فرمانبردار بن گئے۔ بنی اسرائیل سے وعدہ لیا گیا کہ وہ تورات کے احکامات کو زندگی بسر کرنے…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 62–71

آیات 62- 71 اسرارو معارف اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 7 یہ دسویں نعمت کا ذکر ہے کیونکہ اخذ میثاق بھی ان لوگوں کی مصلحت کے لیے تھا ( کبیر) جب تو رات نازل ہوئی تو اسرائیل شرارت سے کہنے لگے کہ اتنے احکام کی پیروی ہم سے نہ ہو سکے گی۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ایک پہاڑ کو حکم دیا جو ان کے سروں پر چھتری کی طرح چھا گیا۔ آخر کار اسرائیل نے کوئی چارہ کار نہ دیکھ کر احکام کی پیروی کا اقرار کیا۔

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

واذ اخذنا۔ ای واذکروا اذا اخذنا اور یاد کرو وہ وقت (جب ہم نے تم سے عہد لیا تھا) میثاقکم مضاف، مضاف الیہ۔ میثاق پختہ عہد، قول و قرار ، جس پر قسم کھائی گئی ہو، یا پختگی اور مضبوطی پیدا کرنے کا ذریعہ (وثاقہ سے اسم آلہ) یا پختگی اور مضبوطی بمعنی مصدر جیسے الذین ینقضون عھد اللہ من بعد میثاقہ (2:27) وہ جو توڑتے رہتے ہیں عہد خداوندی کو اسے پختہ باندھنے کے بعد (نیز ملاحظہ ہو 2:27) یہ عہد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے اتباع اور تورات پر عمل کرنے کا تھا۔ ورفعنا فوقکم الطورواؤ عاطفہ ہے فوق اسم ظرف اوپر تحت کی ضد ہے الطور عربی زبان میں طور پہاڑ کو کہتے ہیں۔ لیکن قرآن مجید میں طور کا استعمال ایک مخصوص اور…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 63–64

لغات القرآن : آیت نمبر 63 تا 64 اخذنا (ہم نے لیا) ۔ میثاق (پکا وعدہ، پختہ عہد) ۔ رفعنا (ہم نے بلند کیا) ۔ فوق ( اوپر، بلند) ۔ الطور (طور پہاڑ) ۔ خذوا (پکڑو، تھام لو) ۔ تولیتم (تم پلٹ گئے) ۔ فضل اللہ (اللہ کا رحم و کرم) ۔ الخسرین (نقصان اٹھانے والے) ۔ تشریح : آیت نمبر 63 تا 64 ان آیتوں میں بنی اسرائیل کی وعدہ خلافی اور عہد شکنی کا ایک اور واقعہ بیان کیا جا رہا ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) ان کی ہدایت کے لئے توریت کا نسخہ لے کر آئے تو وہ قوم جو اس سے پہلے ایک کتاب اور شریعت کا مطالبہ کرتی رہی تھی اس نے اس پر عمل کرنے سے صاف انکار کردیا۔ کہنے لگے اے موسیٰ ! اتنے سخت احکامات پر ہم عمل نہیں کرسکتے۔…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

شان نزول : جب توریت نازل ہوئی تو کہنے لگے کہ احکام سخت ہیں ان کے موافق تو ہم سے عمل نہیں ہوسکتا ۔ اس پر حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حکم سے ایک پہاڑ جڑ سے اکھیڑ کر بنی اسرائیل کے سروں پر اس کا سایہ ڈالا اور یہ کہا کہ اگر تم کتاب الٰہی کے موافق عمل نہٰں کرو گے تو یہ پہاڑتمہارے سروں پر گرا دیا جاوے گا اور تم کچلے جاؤگے ۔ حضرت جبرئیل (علیہ السلام) کے اس ڈرانے سے آخر بنی اسرائیل نے توریت پر عمل کرنے کا عہد کیا ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 62–64

[94] اہل کتاب کا ایک فرقہ جو خود کو یحییٰ (علیہ السلام) کا پیرو کار کہتا تھا۔ [05] یعنی اعتقاد صحیح اور عمل صالح یہی دو شرائط نجات ہیں اور ان دو کی تصحیح کے بعد قوم، نسل وغیرہ کی ساری نسبتیں ہیچ ہیں۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اس لئے ہم ہر طرح سے اللہ کے نزدیک دوسروں سے بہتر ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال خواہ کیسے ہی ہوں نجات ہمارا مقدر ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

میثاق بنی اسرائیل : (ف 2) اسی پارے میں اس میثاق کی تشریح فرما دی ہے کہ وہ کن باتوں پر مشتمل ہے ، (1) خدا کی عبادت (آیت) ” واذا اخذنا میثاق بنی اسرآء یل لا تعبدون الا اللہ “۔ (2) ماں باپ سے حسن سلوک ۔ (آیت) ” وبالوالدین احسانا “۔ (3) اقربا سے اور یتامی و مساکین سے اچھا برتاؤ ۔ (آیت) ” وقولوا للناس حسنا “۔ (5) صلوۃ وزکوۃ کا قیام وتنظیم ۔ (آیت) ” واقیموا الصلوۃ واتوا الزکوۃ “۔ یہ عہد تھا جو بنی اسرائیل سے لیا گیا ۔ وہ دامن کوہ میں رہتے تھے اس لئے پہاڑ کو اٹھا کر ان کے سامنے کیا اور کہا ، اگر ان باتوں پر عمل کرتے رہو گے تو پہاڑ کی طرف مضبوط وسربلند رہو گے اور اگر انکار کرو گے تو پھر مصائب و…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 63–64

ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب ہم نے تم سے عہد اور قول وقرار لیا اور تمہارے سروں پر طور پہاڑ کو اٹھا کر معلق کردیا اور حکم دیا کہ جو کتاب ہم نے تم کو دی ہے اس کو پوری قوت اور کوشش کے ساتھ فوراً قبول کرو اور جو احکام اس کتاب میں مذکور ہیں ان کو یاد رکھو اور پڑھتے رہو تاکہ تم متقی ہو جائو اور عذاب الٰہی سے محفوظ رہو پھر تم اس قول وقرار کے بعد اپنے عہد سے پھرگئے، پھر اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی مہربانی تم پر نہ ہوتی تو یقینا تم بڑا نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوجاتے (تیسیر) مطلب یہ ہے کہ جب ان کو تورایت عطا ہوئی تو اس کے احکام ان کو سخت معلوم ہوئے اور ان کے حال کے مناسب بعض احکام تھے بھی سخت تو…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 62–65

ف 3۔ حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجاوے گا مستحق اجرونجات اخروی ہوگا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

تورات کی تعلیم کی پابند رہنے کا عہد بنی اسرائیل سے : 136: کسی میشاق یا عہد کا لینا جب اللہ اپنی طرف منسوب فرماتا ہے تو اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ایک قوم کو بذریعہ اس کے نبی کے کچھ احکام دئیے جاتے ہیں اور وہ اس نبی پر ایمان لا کر گویا یہ اقرار کرتے ہیں کہ ہم ان احکام کی تعمیل کریں گے۔ پس موسیٰ (علیہ السلام) کی معرفت اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل سے عہد لیا کہ وہ تورات کے پابند رہیں گے ، وہ وقت تھا کہ وہ دامن کوہ میں کھڑے تھے اور اپنے اوپر پہاڑ کو دیکھ رہے تھے ، انہیں اس وقت یہ محسوس ہوا کہ گویا وہ ان پر گر رہا ہے اور اگر ایسا ہوا تو اسکے گرتے ہی سب لوگ فنا ہوجائیں گے اور ان کا نام و نشان بھی باقی…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Having received the Torah from Allah, Sayyidna Musa (Moses علیہ السلام) returned from Mount Tur طور (Sinai) and recited it to the Israelites. The injunctions contained in the Book were rather rigorous, but their conduct and habits of mind really called for such strict discipline. To begin with, they replied that they would not obey the injunctions until and unless Allah Himself told them that it was His book. Seventy men, as we have related above, were selected to go to Mount Tur and to hear Allah attest the authenticity of the Torah. On their re-turn, they bore witness to the Torah being a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 63–64

81. From the manner in which this incident is described at various places in the Qur'an it is obvious that, at that time, it was quite well known to the Israelites. It is difficult, however, after the Passage of many centuries to be able to speak with certaintainty about the precise nature of the incident. All we can say is that while the Children of israeI were making their covenant in the shadow of Mount Sinai, they witnessed an aweseme phenomenon and felt as if the mountain was about to fall upon them. Verse 171 of Surah al-A'raf seems to portray this. (See also n. 132 in that surah.)

Read the full tafseer →