فرماں برداروں کے لئے بشارت
اوپر چونکہ نافرمانوں کے عذاب کا ذکر تھا تو یہاں ان میں جو لوگ نیک تھے ان کے ثواب کا بیان ہو رہا ہے نبی کی تابعداری کرنے والوں کے لئے یہ بشارت تاقیامت ہے کہ نہ مستقبل کا ڈر نہ یہاں حاصل نہ ہونے والی اشیاء کا افسوس و حسرت۔ آیت (اَلَآ اِنَّ اَوْلِيَاۗءَ اللّٰهِ لَا خَوْفٌ عَلَيْهِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ) 10۔ یونس :62) یعنی اللہ کے دوستوں پر کوئی خوف و غم نہیں اور وہ فرشتے جو مسلمان کی روح نکلنے کے وقت آتے ہیں یہی کہتے ہیں آیت (اَلَّا تَخَافُوْا وَلَا تَحْزَنُوْا وَاَبْشِرُوْا بالْجَنَّةِ الَّتِيْ كُنْتُمْ تُوْعَدُوْنَ) 41۔ فصلت :30) تم ڈرو نہیں تم اداس نہ ہو تمہیں…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 80
سلسلہء عبارت کو پیش نظر رکھنے سے یہ بات خود بخود واضح ہوجاتی ہے کہ یہاں ایمان اور اعمال صالحہ کی تفصیلات بیان کرنا مقصود نہیں ہے کہ کن کن باتوں کو آدمی مانے اور کیا کیا اعمال کرے تو خدا کے ہاں اجر کا مستحق ہو۔ یہ چیزیں اپنے اپنے موقع پر تفصیل کے ساتھ آئیں گی۔ یہاں تو یہودیوں کے اس زعم باطل کی تردید مقصود ہے کہ وہ صرف یہودی گروہ کو نجات کا اجارہ دار سمجھتے تھے۔ وہ اس خیال خام میں مبتلا تھے کہ ان کے گروہ سے اللہ کا کوئی خاص رشتہ ہے جو دوسرے انسانوں سے نہیں ہے، لہٰذا جو ان کے گروہ سے تعلق رکھتا ہے وہ خواہ اعمال اور عقائد کے لحاظ سے کیسا ہی ہو، بہر حال نجات اس کے لیے مقدّر ہے،…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اس مقام پر یہودیوں کی شرارت کا حال معلوم کرکے سامعین کو یا خود یہود کو یہ خیال گذر سکتا ہے کہ ان حالات میں اگر عذر پیش کرکے ایمان لانا بھی چاہئیں تو غالبا وہ اللہ کے نزدیک قبول نہ ہو اس خیال کو دفع کرنے کے لئے اس آیت میں ایک قانون اور ضابطہ ذکر فرمایا کہ یہ تحقیقی بات ہے کہ مسلمان یہودی اور نصارٰی اور فرقہ صابئین (ان سب میں) جو شخص یقین رکھتا ہو اللہ تعالیٰ (کی ذات وصفات) پر اور قیامت پر اور کارگزاری اچھی کرے (موافق قانون شریعت کے) ایسوں کے لئے ان کا حق الخدمت بھی ہے ان کے پروردگار کے پاس (پہنچ کر) اور (وہاں جاکر) کسی طرح کا اندیشہ بھی نہیں ان پر اور نہ وہ مغموم ہوں گے،
فائدہقانون…
Read the full tafseer →ھاد، یھود، ھوداً کے معنی رجوع کرنے اور توبہ کرنے کے ہیں۔ قرآن مجید میں حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا ان الفاظ میں نقل ہوئی ہے۔
وَاکْتُبْ لَنَا فِیْ ھٰذِہِ الدُّنْیَا حَسَنَۃً وَّفِی الْاٰخِرَۃِ اِنَّا ہُدْنَا اِلَیْْکَ- (اعراف: ۱۵۶)
اور ہمارے لئے اس دنیا میں اور آخرت میں بھلائی لکھ دے۔ ہم نے تیری طرف رجوع کیا۔
پھر ہَادَ اور تَہَوَّدَ یہودی ہونے کے معنی میں استعمال ہوئے اور یہ استعمال عربی زبان کے عام قاعدے کے مطابق نہیں ہے جس طرح تَنَصَّرَ نصرانی ہونے کے معنی میں استعمال ہوتا ہے۔
اس لفظ کی اصل حقیقت یہی ہے لیکن بعض مخالفین اسلام نے یہ اعتراض اٹھایا ہے کہ قرآن نے یہ لفظ غلط استعمال کیا ہے۔ ان…
Read the full tafseer →62۔ 1 یھود ھوادۃ (بمعنی محبت) سے یا تھود (بمعنی توبہ) سے بنا ہے گویا ان کا یہ نام اصل میں توبہ کرنے یا ایک دوسرے کے ساتھ محبت رکھنے کی وجہ سے پڑا۔ تاہم موسیٰ ؑ کے ماننے والوں کو یہود کہا جاتا ہے
62۔ 2 نصاری۔ نصران کی جمع ہے جیسے سکاری سکران کی جمع ہے اس کا مادہ نصرت ہے آپس میں ایک دوسرے کی مدد کرنے کی وجہ سے ان کا یہ نام پڑا، ان کو انصار بھی کہا جاتا ہے جیسا کہ انہوں نے حضرت عیسیٰ ؑ کو کہا تھا آیت (نَحْنُ اَنْصَار اللّٰهِ) 61:14 حضرت عیسیٰ ؑ کے پیروکاروں کا نصاری کہا جاتا ہے جن کو عیسائی بھی کہتے ہیں۔
62۔ 3 صابئین۔ صابی کی جمع ہے۔ یہ لوگ وہ ہیں جو یقینا ابتداء کسی دین حق کے پیرو رہے ہوں گے…
Read the full tafseer →48: بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کے انعامات اور ان کی نافرمانیوں کے تذکرے کے بیچ میں یہ آیت کریمہ بنی اسرائیل کے ایک باطل گھمنڈ کی تردید کے لئے آئی ہے، ان کا عقیدہ یہ تھا کہ صرف انہی کی نسل اللہ کے منتخب اور لاڈلے بندوں پر مشتمل ہے، ان کے خاندان سے باہر کا کوئی آدمی اللہ کے انعامات کا مستحق نہیں ہے، (آج بھی یہودیوں کا یہی عقیدہ ہے، اسی لئے یہودی مذہب ایک نسل پرست مذہب ہے اور اس نسل کے باہر کا کوئی شخص یہودی مذہب اختیار کرنا بھی چاہے تو اختیار کر ہی نہیں سکتا، یا ان کے حقوق کا مستحق نہیں ہوسکتا جو ایک نسلی یہودی کو حاصل ہیں) اس آیت میں واضح فرمایا کہ حق کسی ایک نسل میں محدود نہیں ہے، اصل اہمیت…
Read the full tafseer →إِنَّ الَّذِينَ آمَنُوا ........ یعنی مسلمان
وَالَّذِينَ هَادُوا ............ یعنی وہ جو اللہ کی طرف راہ پاگئے وہ جو ” یہودا “ کی اولاد ہیں۔
وَالنَّصَارَى........ ........ یعنی عیسائی
وَالصَّابِئِينَ میرے نزدیک راحج یہ ہے کہ صابئین سے مراد مشرکین کے وہ لوگ ہیں ، جو بعثت سے قبل مشرکین کے موروثی شرکیہ دین سے برگشتہ ہوگئے تھے۔ انہیں بتوں کی پوجا کی معقولیت میں شک لاحق ہوگیا تھا ۔ اس لئے انہوں نے خود اپنے غور وفکر سے اپنے لئے خود کوئی عقیدہ تجویز کرنے کی کوشش کی اور اس آزادنہ غور وفکر کے نتیجے میں وہ عقیدہ توحید پر پہنچ گئے تھے ۔ ان لوگوں کا دعویٰ یہ تھا کہ وہ ابتدائی دین حنیف پر ہیں جو حضرت…
Read the full tafseer →1 یعنی کسی فرقہ خاص پر موقوف نہیں یقین لانا شرط ہے اور عمل نیک ' سو جس کو یہ نصیب ہوا ثواب پایا۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں ہم ہر طرح اللہ کے نزدیک بہتر ہیں "۔
فائدہ : یہود کہتے ہیں حضرت موسیٰ کی امت کو اور نصاریٰ حضرت عیسیٰ کی امت کو صائبین ایک فرقہ ہے جس نے ہر ایک دین میں سے اچھا سمجھ کر کچھ اختیار کرلیا ہے اور حضرت ابراہیم کو مانتے ہیں اور فرشتوں کی بھی پرستش کرتے ہیں اور زبور پڑھتے ہیں اور کعبہ کی طرف نماز پڑھتے ہیں۔
Read the full tafseer →اب وہ آیت آرہی ہے کہ جس سے بعض لوگوں نے یہ استدلال کیا ہے کہ نجات اخروی کے لیے ایمان بالرسالت ضروری نہیں ہے۔
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا“
اور اس سے مراد ہے جو ایمان لائےٌ محمد رسول اللہ ﷺ پر۔
وَالَّذِیْنَ ہَادُوْا وَالنَّصٰرٰی“ وَالصّٰبِءِیْنَ
صابی وہ لوگ تھے جو عراق کے علاقے میں رہتے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ ہم دین ابراہیمی پر ہیں۔ لیکن ان کے ہاں بھی بہت کچھ بگڑ گیا تھا۔ جیسے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی نسل بگاڑکا شکار ہوگئی تھی اسی طرح وہ بھی بگڑ گئے تھے اور ان کے ہاں زیادہ تر ستارہ پرستی رواج پاگئی تھی۔
مَنْ اٰمَنَ باللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ ”
وَعَمِلَ صَالِحاً
فَلَہُمْ اَجْرُہُمْ…
Read the full tafseer →80 اہل کتاب کے مزعومہ عقائد :۔ یہود و نصاریٰ دونوں کہا کرتے تھے کہ آیت (نَحْنُ اَبْنٰۗؤُا اللّٰهِ وَاَحِبَّاۗؤُهٗ 18) 5 ۔ المآئدہ :18) ہم اللہ تعالیٰ کے بیٹے اور چہیتے ہیں۔ یہود یہ بات اس لیے کہتے تھے کہ وہ پیغمبروں کی اولاد ہیں اور نصاریٰ اس لیے کہ وہ اللہ کے بیٹے (مسیح ابن مریم) کی امت ہیں جو ان کے عقیدہ کے مطابق امت کے گناہوں کے کفارہ میں سولی پر چڑھ گیا تھا۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کے اس مزعومہ عقیدہ پر کاری ضرب لگاتے ہوئے فرمایا : کہ کوئی شخص خواہ یہودی ہو یا عیسائی ہو یا صابی (اپنا دین بدلنے والا ہو) جو بھی اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے گا اور جواب دہی کے ڈر سے صالح عمل کرے گا۔…
Read the full tafseer →216 (آخری رسول اللہ ﷺ اور آخری کتاب پر، یعنی مسلمان ہوچکے ہیں) ایمان لانے کے معنی کل عقائد ضروری کے تسلیم کرلینے کے ہیں، توحید پر ایمان، رسالت پر ایمان، فرشتوں پر ایمان ، ، آسمانی کتابوں پر ایمان، سب کچھ اس میں شامل ہے اور (آیت) ” الذین امنوا “ مطلق صورت میں قرآن مجید میں جہاں جہاں میں آیا ہے مراد اس سے مسلمان ہی ہیں۔ یہاں بھی مراد مومینن ہی ہیں۔ اے من امن بمحمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) (بحر۔ عن عباس ؓ ھم المصدقون رسول اللہ ﷺ فی ما اتاھم من الحق من عند اللہ (ابن جریر) اور رازی (رح) نے بھی متکلمین سے یہی معنی نقل کیے ہیں کہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور پھر دین پر ثابت وقائم رہے۔ الذین امنوا فی…
Read the full tafseer →آیت نمبر 62 تا 66
اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا۔۔۔۔۔۔ الیٰ ۔۔۔۔۔۔ وَمَا خَلْفَھَا وَمَوْعِظَۃً لِّلْمُتَّقِیْنَ ۔
ترجمہ : بیشک وہ لوگ جو انبیا سابقین پر ایمان لائے، (یعنی مسلمان) اور یہود اور نصاریٰ اور صابی (اور صابی) یہود و نصاریٰ ہی کا ایک فرقہ ہے، ان میں سے جو بھی اللہ اور روز آخرت پر نبی کے زمانہ میں ایمان لائے گا، اور آپ کی شریعت کے مطابق نیک عمل کرے گا، تو ان کا اجر یعنی ان کے اعمال کا ثواب ان کے رب کے پاس ہے، اور ان کے لئے نہ کوئی خوف ہوگا اور نہ غم، آمَنَ اور عَمِلَ کی ضمیر میں مِنْ کے لفظ کی رعایت ہے اور اس کے مابعد میں مَنْ ، کے معنی کی رعایت ہے۔ اور وہ وقت یاد…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا ( جو ایمان لائے) ان سے مراد وہ لوگ ہیں جو رسول اللہ ﷺ پر زبانی ایمان لے آئے ہیں خواہ ایمان ان کے دلوں میں داخل ہوا ہو یا نہ ہوا ہو اس تقدیر پر اس میں منافقین بھی داخل ہوگئے۔ ( اب اس تفسیر پر آگے جو مَنْ اٰمَنَ مِنْھُمْ..... آتا ہے وہ مکرر نہ ہوگا کیونکہ اس سے مراد خالص مؤمن ہیں کما سیجء) ۔
وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا (اور جو یہودی ہوئے) بمعنی تَھَوَّدُوْا چناچہ ھاد اس وقت بولتے ہیں جبکہ کوئی دین یہودیت میں آجائے اور لفظ یہود یا تو عربی ہے ھاد بمعنی تاب ( توبہ کی) سے مشتق ہے۔ یہود کو یہود یا تو اس لیے کہتے ہیں کہ انہوں نے گو سالہ کی عبادت سے توبہ کی تھی۔ یا اس لیے کہ وہ…
Read the full tafseer →(62) ان یہودیوں میں سے جو لوگ اسلام لائے ہوئے ہیں اب اللہ تعالیٰ ان کا ذکر فرماتے ہیں کہ جو حضرات حضرت موسیٰ ؑ اور تمام انبیاء کرام پر ایمان لائے ہیں، ان کو جنت میں ان کے رب کی جانب سے ثواب ملے گا اور ہمیشہ کے لیے انہیں کسی قسم کا خوف اور کوئی غم نہیں ہوگا، ایک تفسیر یہ بھی کی گئی ہے کہ آئندہ پیش آنے والے عذاب سے ان کو کوئی خوف اور سابقہ اعمال پر انہوں کوئی غم نہ ہوگا اور یہ تفسیر بھی کی گئی ہے کہ جس وقت موت کو ذبح کیا جائے گا اور جب دوزخ کو بھرا جائے گا ان کو کوئی خوف اور غم نہ ہوگا اب اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا تذکرہ فرماتے ہیں، جو حضرت موسیٰ ؑ اور تمام انبیاء کرام پر ایمان نہیں لائے کہ جو لوگ…
Read the full tafseer →اس آیت سے پہلی آیات اور اس کے بعد والی آیات میں بنی اسرائیل پر انعامات اور ان کے مقابلے میں ان کے اعمال بد کا تذکرہ ہے۔ یہ آیت درمیان میں ایک خاص مناسبت کی بنا پر آئی ہے، وہ یہ کہ جب بات ان پر ذلت و مسکنت مسلط ہونے اور اللہ کے غضب کا نشانہ بننے تک پہنچی تو اللہ تعالیٰ نے اپنی عادت کے مطابق ان کے لیے اپنی رحمت کا تذکرہ ضروری سمجھا کہ بنی اسرائیل کا ہر فرد اس ذلت و مسکنت اور غضب الٰہی کا نشانہ نہیں، پہلے بھی اللہ تعالیٰ بیحد مہربان تھا اور توبہ کا دروازہ اب بھی کھلا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی ایمان اور عمل صالح سے متصف ہوگا، خواہ رسول اللہ ﷺ کی بعثت سے پہلے ہو، جیسے آپ سے پہلے اپنے اپنے انبیاء پر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 62
اس میں آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: ان الذین امنوا یعنی جنہوں نے محمد ﷺ کی تصدیق کی۔
سفیان نے کہا : اس سے مراد منافقین ہیں۔ گویا یوں فرمایا کہ جو ظاہراً ایمان لائے تھے اسی وجہ سے ان کا ذکر یہود، نصاریٰ اور صابیوں کے ساتھ کیا، پھر ان تمام کا حکم بیان فرمایا جو اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لائے تھے۔ (4)
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : والذین ھادوا اس کا معنی ہے : وہ یہودی ہوگئے وہ یہودا کی طرف منسوب ہیں جو حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا بڑا بیٹا تھا۔ پھر عربوں نے ذال کو دال سے بدل دیا، جب عجمی زبان، عربی بنائی جاتی ہے تو اس کے لفظ بدل جاتے ہیں۔ بعض علماء نے کہا : بچھڑے کی…
Read the full tafseer →سلمان نیشابوری کا واقعہ
(1) حضرت ابن ابی عمر العدنی نے اپنی سند میں اور ابن ابی حاتم نے سلمان ؓ سے روایت کیا کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ان دین والوں کے بارے میں پوچھا اور جن کے ساتھ میرا تعلق تھا پھر ان کی نماز اور ان کی عبادت کا بھی ذکر کیا گیا اس پر یہ آیت نازل ہوئی۔ لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ (الآیہ)
(2) حضرت الدارمی نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ جب سلمان ؓ نے اپنے ساتھیوں کا قصہ رسول اللہ ﷺ کو بیان فرمایا تو آپ نے فرمایا وہ دوزخ میں ہیں۔ سلمان نے کہا مجھ پر زمین تاریک ہوگئی تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی لفظ آیت ” ان الذین امنوا والذین ھادوا “ الی قولہ ” یحزنون “ فرمایا اس آیت کے…
Read the full tafseer →[ اِنَّ الَّذِيْنَ : بیشک جو لوگ ] [ اٰمَنُوْا : ایمان لائے ] [ وَالَّذِيْنَ : اور وہ لوگ جو ] [ ھَادُوْا : یہودی ہوئے ] [ وَالنَّصٰرٰى: اور نصرانی ہوئے ] [ وَالصّٰبِـــِٕيْنَ : اور صابئی ہوئے ] [ مَنْ اٰمَنَ : ان میں سے جو ایمان لایا ] [ بِاللّٰهِ : اللہ پر ] [ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ : اور آخری دن پر ] [ وَعَمِلَ صَالِحًا : اور عمل کیے نیک ] [ فَلَھُمْ : تو ان کے لیے ہے ] [ اَجْرُھُمْ : ان کا اجر ] [ عِنْدَ رَبِّهِمْ ګ : ان کے رب کے پاس ] [ وَلَا خَوْفٌ: اور کچھ خوف نہیں ہے ] [ عَلَيْهِمْ : ان پر ] [ وَلَا ھُمْ : اور نہ ہی وہ لوگ ] [ يَحْزَنُوْنَ : پچھتائیں گے ]
Read the full tafseer →صرف ایمان اور عمل صالح ہی مدار نجات ہے
گزشتہ آیت میں ارشاد فرمایا تھا، کہ یہودیوں پر ذلت اور مسکنت لازم کردی گئی اور وہ غضب الہی کے مستحق ہوئے اور اس کا سبب یہ بتایا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی آیات کا انکار کرتے تھے اور حضرات انبیاء کرام (علیہ السلام) کو قتل کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کی نافرمانی میں لگتے اور حدود سے آگے بڑھتے تھے۔ جس طرح اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کی وجہ سے مطرود اور مردود ہونا کوئی یہودی قوم ہی کے ساتھ مخصوص نہیں ہے اسی طرح سے اللہ تعالیٰ کی بار گاہ میں مقبول ہونا اور مستحق اجر وثواب ہونا اور قیامت میں بےخوف اور بےغم ہونا کسی خاص قوم کے ساتھ مخصوص نہیں ہے۔ جو بھی شخص ایمان کی صفت سے…
Read the full tafseer →ذلت سے نکلنے اور عزت میں داخل ہونیکا طریقہ
قال تعالیٰ ان الذین امنوا والذین ھادو ا۔۔۔ الی۔۔۔ ولاھم یحزنون
تحقیق وہ لوگ کہ جو ایمان لائے پہلے انبیاء پر یا وہ لوگ جو محض زبان سے مسلمانوں کو دیکھہ دینے کے لیے ایمان کے مدعی بن اور دل سے اس دین کو سچا نہیں سمجھتے اور وہ لوگ کہ جو یہودی ہوئے جن کی قباحتیں حد سے گزر چکی ہیں یہاں تک کہ جسم حیوانی میں خداوند قدوس کے حلول کے قائل ہوئے۔ اور خدا کے بعض نبیوں کو قتل کیا اور زنا اور جادو کی تہمت ان پر لگائی اور نصاریٰ جنہوں نے حضرت مسیع بن مریم کو خدا بنایا اور فرقۂ صائبین بےدین لوگ جنہوں نے کواکب کی پرستش کی باوجود ان شنائع اور قبائح کے اور باوجود حق سے…
Read the full tafseer →ف 130 ۔ یہ آیت نوع اول کا تتمہ ہے۔ اور الذین امنوا سے مراد امت محمدیہ علی صاحبہا الصلوۃ والسلام ہے۔ ای من امن بمحمد ﷺ (بحر ص 240 ج 1) وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا۔ یہودیت کے پیرو یعنی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی امت۔ وَالنَّصٰرٰى۔ دین عیسوی کے متبعین وَالصّٰبِـــِٕيْنَ ۔ یہ لوگ بھی اہل کتاب ہی کا ایک گروہ ہیں۔ فرقۃ من اھل الکتاب (ابن کثیر ص 104 ج 1) مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰهِ ۔ ہر فرقہ اپنے اپنے لقب اور نام پر خوش ہے مگر اصل ذریعہ نجات یہ القاب اور انتسابات نہیں ہیں بلکہ نجات کا مدار تو ایمان اور عمل صالح پر ہے۔ یہاں یہ شبہ ظاہر کیا جاتا ہے کہ آیت میں صرف اللہ پر ایمان لانے کا ذکر کیا گیا ہے اس سے معلوم…
Read the full tafseer →قانون نجات : اس سے پہلی آیات میں بنی اسرائیل کی نافرمانیوں ، فساد فی الارض ، اس کے نتیجے میں ان پر مسلط کی جانے والی ذلے اور مسکنت کا ذکر تھا۔ آیت زیر درس کے بعد بنی اسرائیل کی یکے بعد دیگرے خرابیوں کا ذکر ہوگا۔ اس درمیانی آیت میں اللہ تعالیٰ نے وہ قانون بتلا دیا ہے جس کی پابندی اختیار کرکے اور جس پر عمل پیرا ہو کر انسان کو نجات حاصل ہوسکتی ہے۔ تہ قانون کسی خاص فرقے یا گروہ کے لیے نجات مختص نہیں کرتا ۔ بلکہ جو بھی شخص اس میں دیے گئے اصول کی پابندی کرے گا۔ وہ نجات پا جائے گا ۔ خواہ وہ کسی خاندان کسی نسل یا کسی فرقے سے تعلق رکھتا ہو۔ یہ دراصل بنی اسرائیل کے نسبی تفاخر اور مذہبی فوقیت کی تردید…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 8
اِنَّ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِيْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰى وَالصّٰبِـــِٕيْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللہِ وَالْيَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّہِمْ 0 ۚ ۠ وَلَا خَوْفٌ عَلَيْہِمْ وَلَا ھُمْ يَحْزَنُوْنَ 62
أیمان
يستعمل اسما للشریعة التي جاء بها محمّد عليه الصلاة والسلام، وعلی ذلك : الَّذِينَ آمَنُوا وَالَّذِينَ هادُوا وَالصَّابِئُونَ [ المائدة/ 69] ، ويوصف به كلّ من دخل في شریعته مقرّا بالله وبنبوته . قيل : وعلی هذا قال تعالی: وَما يُؤْمِنُ أَكْثَرُهُمْ بِاللَّهِ إِلَّا وَهُمْ مُشْرِكُونَ [يوسف/ 106] . وتارة يستعمل علی سبیل المدح، ويراد به إذعان…
Read the full tafseer →ترکیب : ان مشبہ بفعل الذین آمنوا الخ صلہ موصول اس کا اسم من شرطیہ فی موضع ابتدا اٰمن باللہ الخ اس کی خبر فلہم اجرھم الخ جملہ جواب۔ پھر یہ تمام خبر ہوا ان کی اور عائد محذوف ہے تقدیرہ من آمن منہم لفظ من مفرد ہے مگر معنی جمع کے دیتا ہے۔ پس آمن میں لفظ کی رعایت کرکے صیغہ واحد لایا گیا اور معنی کی رعایت کرکے فلہم اجرھم الخ میں ضمیر جمع لائی گئی۔ اجرھم مبتدا فلہم خبر اور اخفش کے نزدیک اجرہم جار کی وجہ سے مرفوع ہے اور عند ظرف ہے اور عامل اس میں معنی استقرار ہے۔
تفسیر : گزشتہ آیت میں یہود کی ذلت اور ان پر قہر الٰہی کا نازل ہونا بیان ہوا تھا جس سے یہود کو مایوسی ہوسکتی تھی، اس لیے خدا تعالیٰ نے اس آیت…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا وَالنَّصٰرٰی وَالصَّابِئِیْنَ مَنْ اٰمَنَ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْاٰخِرِ وَعَمِلَ صَالِحًا فَلَھُمْ اَجْرُھُمْ عِنْدَ رَبِّھِمْ ج وَلاَخَوْفٌ عَلَیْھِم وَلَاھُمْ یَحْزَنُوْنَ ۔ (البقرۃ : 62)
(اور جو لوگ ایمان لاچکے ہیں اور جو لوگ یہودی ہوئے اور نصاریٰ اور صابی۔ (غرض) جو کوئی بھی اللہ اور آخرت پر ایمان لے آئے اور نیک عمل کرے، سو ان سب کے لیے ان کے پروردگار کے پاس ان کا اجر ہے اور نہ کوئی اندیشہ ان کے لیے ہے اور نہ وہ کوئی غم کریں گے)
اَلَّذِیْنَ ھَادُوْا سے مراد
اس آیت کریمہ میں چار گروہوں کا ذکر کرنے کے بعد ایک اصولی بات ارشاد فرمائی ہے۔ ہم اس…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : انعام و احسان کا ادراک اور ذلت و رسوائی کا احساس دلانے کے بعد حقیقی ایمان اور عمل صالح کا صلہ بتلایا گیا ہے۔
اس فرمان میں اس بات کی دو ٹوک انداز میں وضاحت کی گئی ہے کہ خالی خولی ایمان ‘ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کی اولاد ہونے کے حوالے سے یہودی کہلوانا ‘ حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ نسبت جوڑنا یا اپنے آپ کو صابی کہلوانے سے نجات نہیں ہوگی۔ نجات اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے اور صالح اعمال سے ہوگی۔
مفسرین نے صابی کے دو معنیٰ کیے ہیں۔ آتش پرست یا بےدین یعنی سیکولر۔ بعض لوگوں نے زرتشت مراد لیے ہیں جو نبی ﷺ کی بعثت سے پہلے کا فرقہ ہے اور ایران میں پایا جاتا ہے۔ ان کا…
Read the full tafseer →اِنَّ الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا : (بےشک جو لوگ ایمان لائے) یعنی دلوں کی موافقت کے بغیر صرف زبانوں سے ایمان لائے اور وہ منافقین ہیں۔
وَالَّذِیْنَ ھَادُوْا : (اور وہ لوگ جو یہودی ہوئے) یعنی یہودیت اختیار کی۔ کہا جاتا ہے ھاد، یہود، تہود، ھائد جب کوئی یہودیت میں داخل ہوجائے۔ ھائد کی جمع ھود ہے۔
نصرانی کی وجہ :
وَالنَّصٰرٰی : (اور نصاریٰ ہوئے) نصاریٰ جمع نصران جیسے ندمان وندامیٰ کہا جاتا ہے رجل نصران وامراۃ نصرانۃ۔ نصرانی مرد، نصرانی عورت۔ نصرانی میں یامبالغہ کے لیے ہے۔ جیسے احمری میں ان کو نصاریٰ اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ انہوں نے مسیح ( علیہ السلام) کی مدد کی۔
وَالصَّابِپیْنَ : (اور صابی ہوئے) جو کسی…
Read the full tafseer →(تفسیر) 62۔:
(آیت)” ان الذین امنوا والذین ھادو “ یعنی یہود ان کو ان نام سے موسوم اس لیے کیا گیا کہ انہوں نے ” انا ھدانا الیک “ کا بول بولا تھا یعنی ہم نے تیری طرف میلان کیا رجوع کیا ۔
اور کہا گیا ان کو یہود اس لیے کہا گیا) کیونکہ انہوں نے توبہ کی تھی یعنی بچھڑے کی عبادت سے توبہ کی تھی اور کہا گیا اس لیے کہ انہوں نے دین اسلام اور دین موسیٰ (علیہ السلام) سے اعراض کیا۔
فائدہ : (مایمیل کا صلہ جب عن آئے تو اس کا معنی اعراض کرنا ہوتا ہے) حضرت ابوعمرو بن العلاء ؓ فرماتے ہیں ” لانھم یتھودون “ یعنی وہ حرکت کرتے ہیں جب تورات پڑھتے ہیں اور کہتے ہیں کہ بیشک آسمانوں اور زمین نے بھی حرکت کی تھی جب اللہ…
Read the full tafseer →یہود اپنے آپ کو حق پر بتلاتے تھے اور نصاریٰ اپنے آپ کو اور صابی لوگ کسی رسول کے پیرو نہیں وہ اپنے آپ کو حق پر کہتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا حق پر وہی ہے اور اسی کو اللہ کے نزدیک اجر پانے کا حق ہے اور وہی قیامت کے دن اجر پاوے گا۔ جو اللہ تعالیٰ پر ایمان لاوے گا اور اللہ پر ایمان لانا اسی صورت میں ہوسکتا ہے کہ ہر وقت کے مناسب حال جو اللہ کی شریعت ہر ایک اللہ کے رسول لاتے ہیں اس شریعت کی پیروی کی جاوے۔ صحیحین میں حضرت جبرئیل کے قصہ کی جو حدیث ہے اس میں حضرت جبرئیل نے آنحضرت ﷺ سے سائل بن کر پوچھا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے جو جواب دیا ہے اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے…
Read the full tafseer →پھر اہل کتاب کے مختلف گروہوں کے درمیان محاکمہ کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے فرمایا :
آیت 62
یہ حکم خاص طور پر اہل کتاب کے لئے ہے، کیونکہ صائنین کے بارے میں صحیح ترین رائے یہ ہے کہ یہ نصاریٰ ہی کا ایک فرقہ ہے۔ پس اللہ تعالیٰ نے خبر دی ہے کہ اس امت کے اہل ایمان، یہود و نصاریٰ اور صائبین میں سے جو کوئی اللہ تعالیٰ اور یوم آخرت پر ایمان لایا اور اپنے رسولوں کی تصدیق کی ان کے لئے اجر عظیم اور امن ہے۔ ان پر کسی قسم کا خوف ہوگا نہ وہ غمزہ ہوں گے۔ ان میں سے جس کسی نے اللہ تعالیٰ ، اس کے انبیاء و رسل اور یوم آخرت کا انکار کیا تو ان کا حال مذکورہ بالا لوگوں کے حال کے برعکس ہوگا، پس وہ خوف اور غم سے دوچار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
تفسیر آیت 67 تا 73:
قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…
Read the full tafseer →186 " اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا " کے اسلوب کی بلاغت کا بیان : عام ترجموں میں اس کا ترجمہ لفظ یہود سے کیا جاتا ہے، حالانکہ آیت کریمہ میں " یہود " یا " الیہود " کا لفظ نہیں فرمایا گیا، حالانکہ یہ مختصر تھا۔ بلکہ " اَلَّذِیْنَ ہَادُوْا " فرمایا گیا ہے۔ سو اگر اس سے مراد " یہود " یا " الیہود " کا مفہوم ہی ہوتا تو پھر اس مختصر لفظ کو چھوڑ کر " الَّذِیْنَ ہَادُوْا " کا جملہ کیوں ارشاد فرمایا جاتا، جبکہ لفظ " یہود " خود قرآن پاک میں دوسرے کئی مقامات پر ذکر بھی فرمایا گیا ہے۔ سو اسی فرق کو واضح کرنے کیلئے ہم نے اپنے ترجمے میں اس کا ترجمہ اس طرح کیا ہے " جو یہودی بن گئے " جس، سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ…
Read the full tafseer →ایمان اور عمل صالح کا اجر
تشریح : اس آیت ِ مبارکہ میں بنی اسرائیل کی اس غلط فہمی کو دور کردیا گیا ہے جو وہ سمجھتے تھے کہ ہم تو اللہ تعالیٰ کی مقبول ترین قوم ہیں۔ ہمارے سوا تمام لوگ جہنم میں جائیں گے اور ہم تو بخشے ہوئے ہیں ہم تو اللہ کے بڑے قریبی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں اعلان کیا ہے کہ اس کے نزدیک نام، خاندان، لقب، نسل اور کسی خاص قوم کو کوئی خاص امتیاز حاصل نہیں ہے۔ صرف ان لوگوں کی نجات ہوگی جن میں دو چیزیں موجود ہوں۔ اول یہ کہ وہ اللہ اور آخرت کو دل سے مانیں دوسرے یہ کہ نیک کام کریں ایسے لوگ چاہے یہودی ہوں نصاریٰ یعنی مسیح کی امت سے ہوں یا صابی ہوں۔ صابی ایک فرقہ تھا جو فرشتوں کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–71
آیات 62- 71
اسرارو معارف
اگر یہ ہمیشہ کی ذلت گلے پڑ ہی گئی تو بات تو بہت بگڑ گئی فرمایا نہیں رحمت عالم کا ظہور عام ہے اور بعثت محمدی علیٰ صاحبھا الصلوٰۃ والسلام کا فیض عام ہے مسلمان کہلانے والے ہوں یہود ونصاریٰ یا بےدین۔ سب کے لئے ایک اصول ہے اور وہ یہ کہ من امان باللہ والیوم الاخر۔ کہ جو اللہ پر آخرت پر ایمان لائے یعنی ماجاء یہ محمد رسول اللہ ﷺ کو مانے صدق دل سے یقین رکھے اور پھر اعمال حسنہ اور سنت رسول ﷺ پر عمل پیرا ہو وہ ﷺ یعنی اعمال بھی صالحہ کرکے اور سارے صالح اعمال ہیں جو سنت کے مطابق ہیں یا کسی سنت سے متصادم نہیں ہیں جہاں کسی کام کو تصادم سنت سے ہوا وہاں وہ کام صالحیت کھوئے سوچ درست…
Read the full tafseer →ف 6 اس آیت میں یہود کی عصبیت گردہی کی تردید مقصود ہے، وہ سمجھتے تھے کہ بس اللہ تعالیٰ کو خوشنودی اور نجات ہمارے لیے مخصوص ہے۔ یہا ں پر قرآن نے نجات کا مدار ایمان باللہ عمل صالح اور ایمان بالا خرہ پر ہے۔ اللہ تعالیٰ پر ایمان وہی معتبر ہوسکتا ہے جو انبیاء کے ذریعہ ہو۔ اور عمل صالح کی تعین بھی انبیاء ہی کرسکتے ہیں اور آخرت پر ایمان کے لیے بھی انبیاء کی رہنمائی کی اشد ضرورت ہے۔ قرآن کا منشا یہ ہے کہ اپنے اپنے وقت کے انبیاء کی ہدا یت کے تحت جو بھی اللہ تعالیٰ اور آخرت پر ایمان لائے گا اور اس وقت کے نبی کی شریعت کے مطابق اس نے عمل صالح بھی کیے ہوں گے اسے آخرت میں فلاح حاصل ہوجائے گی اس میں مسلمان…
Read the full tafseer →الذین امنوا جو لوگ ایمان رکھتے ہیں۔ ایمان لاچکے ہیں ۔ اس سے مراد کون لوگ ہیں ؟ صاحب تفسیر ماجدی رقم طراز ہیں۔ جو آخری رسول اور آخری کتاب پر (ایمان لاچکے ہیں) یعنی مسلمان ہوچکے ہیں۔ ایمان لانے کے معنی۔ کل عقائد ضروریہ کے تسلیم کرلینے کے ہیں ۔ توحید پر ایمان۔ رسالت پر ایمان۔ فرشتوں پر ایمان۔ آسمانی کتابوں پر ایمان، سب کچھ اس میں شامل ہے اور الذین امنوا مطلق صورت میں قرآن مجید میں جہاں جہاں بھی آیا ہے مراد اس سے مسلمان ہی ہیں۔
الذین ھادوا۔ جو یہودی ہوئے۔ ھادوا ماضٰ کا صیغہ جمع مذکر غائب ہے ھود (باب نصر) مصدر سے النصرے جمع معرفہ۔ عیسائی لوگ ، یہ نصران کی جمع ہے جیسے ندامی جمع ہے ندمان کی۔
الصبئین…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 62
ھادو (جو یہودی بن گئے (یعنی وہ مسلم بننے کے بجائے یہودی بن گئے) ۔ النصری (ناصرہ وہ مقام ہے جہاں حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اس مناسبت سے حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے پیروکاروں کو نصاری کہا جانے لگا) ۔ الصبئین (ستاروں اور فرشتوں کو پوجنے والے، بےدین ) ۔ صالح (نیک اور بہتر کام ) ۔ اجر (بدلہ) ۔ لا یحزنون (وہ رنجیدہ نہ ہوگے) ۔
تشریح : آیت نمبر 62
اس آیت میں مومنوں ، یہودیوں ، نصاری اور صابئین کو خطاب کرتے ہوئے فرمایا گیا ہے کہ نجات کے لئے ہر شخص کو اللہ تعالیٰ اور، نبی کریم ﷺ پر ایمان لانا اور ان کی اتباع و پیروی کرنا لازمی ہے یہی صراط مستقیم ہے اور نجات حاصل کرنے…
Read the full tafseer →ایمان کیا چیز ہے ؟ صحیحین میں حضرت جبرائیل (علیہ السلام) کے قصہ کی جو حدیث ہے اس میں حضرت جبرئیل (علیہ السلام) نے آنحضرت ﷺ سے سائل بن کر پوچھا کہ ایمان کیا چیز ہے ؟ آپ نے جو جواب دیا اس کا حاصل یہ ہے کہ اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے سب رسولوں اور آسمانی کتابوں کے یقین کو ایمان کہتے ہیں ۔ اسی واسطے حضرت ابوہریرہ ؓ کی روایت جو مسلم میں ہے اس میں آپ نے صاف فرمایا ہے کہ کوئی شخص خواہ یہودی ہو یا نصرانی میرا حال سن کر مجھ پر ایمان نہ لاوے گا تو ایسے شخص کا ٹھکانادوزخ ہے ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–64
[94] اہل کتاب کا ایک فرقہ جو خود کو یحییٰ (علیہ السلام) کا پیرو کار کہتا تھا۔
[05] یعنی اعتقاد صحیح اور عمل صالح یہی دو شرائط نجات ہیں اور ان دو کی تصحیح کے بعد قوم، نسل وغیرہ کی ساری نسبتیں ہیچ ہیں۔ یہ اس واسطے فرمایا کہ بنی اسرائیل اس بات پر مغرور تھے کہ ہم پیغمبروں کی اولاد ہیں اور اس لئے ہم ہر طرح سے اللہ کے نزدیک دوسروں سے بہتر ہیں اور ہمارے عقائد و اعمال خواہ کیسے ہی ہوں نجات ہمارا مقدر ہے۔
Read the full tafseer →ہمہ گیر دعوت :
(ف 1) مذہب کا مقصد نوع انسانی میں وحدت ویگانگت کا عظیم الشان مظاہرہ ہے انبیاء (علیہم السلام) اس لئے تشریف لائے کہ ان تمام جماعتوں اور گروہوں کے خلاف جہاد کریں جنہوں نے ردائے انسانیت کے ٹکڑے ٹکڑے کردیئے ہیں خدا ایک ہے اور اس کا منشاء تخلیق یہی ہے کہ سب لوگ اس کے آستانہ عظمت پر جھکیں ، تفرق وتشثت کا کوئی نشانی نظر نہ آئے چناچہ خدا کے ہر محبوب فرستادہ نے لوگوں کے سامنے ایسا کامل واکمل پروگرام رکھا کہ اسے مان کر رنگ وقومیت کا کوئی اختلاف باقی نہیں رہتا ، وہ آتے ہیں تاکہ جو بکھر گئے ہیں انہیں ایک روحانی رشتے میں منسلک کردیں ، ان کے سامنے کوئی مادی رشتہ نہیں ہوتا ، وہ اخوت انسانی کی…
Read the full tafseer →ف 1 بلاشبہ جو لوگ مسلمان ہیں اور جو یہودی اور نصاریٰ ہیں اور فرقہ صائبین غرض کوئی بھی ہو ان میں سے جو کوئی بھی اللہ پر اور روز آخرت پر ایمان لائے اور نیک اعمال کا پابند رہے تو ایسے لوگوں کو ان کی خدمت کا صلہ ان کے رب کے ہاں ملنے والا ہے اور ان پر کسی طرح کا خوف اور اندیشہ نہیں ہے اور نہ وہ کبھی حزین و غمگین ہوں گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ خواہ کوئی منفق ہو یا کھلم کھلا یہودی اور نصرانی ہو یا فرقہ صائبین یعنی کواکب پرست موجود بھی دعوت اسلامیکو قبول کرلے گا اور سچے دل سے اپنے اعتقاد اور اعمال کو درست کرلے گا تو اس کو اس کی محنت اور خدمت کا اجر ملے گا۔ ہم نے ان الذین امنوا سے مراد منافقین لئے ہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 62–65
ف 3۔ حاصل قانون کا ظاہر ہے کہ جو شخص پوری اطاعت اعتقاد اور اعمال میں اختیار کرے گا خواہ وہ پہلے سے کیساہی ہو ہمارے یہاں مقبول اور اس کی خدمت مشکور رہے۔ مطلب یہ ہوا کہ جو مسلمان ہوجاوے گا مستحق اجرونجات اخروی ہوگا۔
Read the full tafseer →ایمان کا دعویٰ کرنے والے :
131: وہ لوگ جو محمد رسول اللہ ﷺ کو اللہ کا آخری رسول اور قرآن کریم کو اللہ کی آخری کتاب تسلیم کرتے ہیں اور توحید پر ایمان ، رسالت پر ایمان لانے کے ساتھ ساتھ فرشتوں پر ایمان ، کتابوں پر ایمان اور آخرت پر ایمان لانے والے ہیں۔ جو من حیث القوم ایک قوم ہیں لیکن ایک نسل ہونا ان کا ضروری نہیں ہے۔
گروہ یہود میں داخل لوگ :
132: یعنی وہ لوگ جو دین یہود کے پیروکار ہیں خواہ پہلے سے یہودی چلے آ رہے ہیں نسلاً یہودہوں یا پہلے مشرک وغیرہ یا کچھ اور ہوں اور اب یہود کا عقیدہ اختیار کرچکے ہوں۔ اب تک ذکربنی اسرائیل نام ایک خاص نسل و خاندان کا چلا آرہا تھا اور ان کی تاریخ کے اہم ترین…
Read the full tafseer →The previous verse spoke of how the Israelites drew upon themselves the wrath of Allah through their habitual insolence and disobedience. Now, this account may lead the listeners, or the Jews themselves, to suppose that, in view of such transgression, their Taubah (repentance), if they agree to offer it, would not be acceptable to Allah. In order to dispel such a misgiving, the present verse lays down a general principle: no matter how a man has been behaving earlier, so long as he submits himself fully to the commandments of Allah in his beliefs and in his deeds both, he is acceptable to…
Read the full tafseer →80. The context of the verse makes it clear that it is not attempting to enumerate in detail all the articles of faith in which one should believe, or all the principles of conduct which one should follow in order to merit reward from God. These matters are mentioned elsewhere, in their appropriate places. The aim of the verse is merely to repudiate the illusion cherished by the Jews that, by virtue of their being Jews, they have a monopoly of salvation. They had long entertained the notion that a special and exclusive relationship existed between them and God. They thought, therefore, that…
Read the full tafseer →