احسان فراموش یہود
یہاں بنی اسرائیل کی بےصبری اور نعمت اللہ کی ناقدری بیان کی جا رہی ہے کہ من وسلوی جیسے پاکیزہ کھانے پر ان سے صبر نہ ہوسکا اور ردی چیزیں مانگنے لگے ایک طعام سے مراد ایک قسم کا کھانا یعنی من وسلویٰ ہے۔ قوم کے معنی میں اختلاف ہے ابن مسعود کی قرأت میں ثوم ہے، مجاہد نے فوم کی تفسیر ثوم کے ساتھ کی ہے۔ یعنی لہسن، حضرت ابن عباس سے بھی یہ تفسیر مروی ہے اگلی لغت کی کتابوں میں فوموالنا کے معنی اختبروا یعنی ہماری روٹی پکاؤ کے ہیں امام ابن جریر فرماتے ہیں اگر یہ صحیح ہو تو یہ حروف مبدلہ میں سے ہیں جیسے عاثور شرعا فور شراثافی اثاثی مفافیر مغاثیر وغیرہ جن میںسے ت اور ث بدلا گیا کیونکہ یہ…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 76
وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے۔ سیّاح اسے جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ 12 چشموں میں یہ مصلحت تھی کہ بنی اسرائیل کے قبیلے بھی 12 ہی تھے۔ خدا نے ہر ایک قبیلے کے لیے الگ چشمہ نکال دیا تاکہ ان کے درمیان پانی پر جھگڑا نہ ہو۔
سورة الْبَقَرَة 77
یہ مطلب نہیں ہے کہ مَنّ وسلویٰ چھوڑ کر، جو بےمشقّت مِل رہا ہے، وہ چیزیں مانگ رہے ہو، جن کے لیے کھیتی باڑی کرنی پڑے گی، بلکہ مطلب یہ ہے کہ جس بڑے مقصد کے لیے یہ صحرا نوردی تم سے کرائی جارہی ہے، اس کے مقابلے میں کیا تم کو کام و دہن کی لذّت اتنی مرغوب ہے کہ اس مقصد کے چھوڑنے کے لیے تیار ہو اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب تم لوگوں نے (یوں) کہا کہ اے موسیٰ (روز کے روز) ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر بھی کبھی نہ رہیں گے (یعنی من وسلویٰ پر) آپ ہمارے واسطے اپنے پروردگار سے دعا کریں کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کریں جو زمین میں اگا کرتی ہیں ساگ (ہوا) ککڑی (ہوئی) گیھوں (ہوا) مسور (ہوئی) پیاز (ہوئی) آپ نے فرمایا کیا تم عوض میں لینا چاہتے ہو، ادنی درجہ کی چیزوں کو ایسی چیز کے مقابلہ میں جو اعلیٰ درجہ کی ہے (اچھا اگر نہیں مانتے تو) کسی شہر میں (جاکر) اترو (وہاں) البتہ تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کی تم درخواست کرتے ہو اور (ایسی ایسی گستاخیوں سے ایک زمانہ میں جاکر نقش کی طرح) جم گئی ان…
Read the full tafseer →بقل کا لفظ سبزیوں اور ترکاریوں کے تمام اقسام کے لئے عام ہے۔
قثاء کے معنی ککڑی اور کھیرے کے ہیں۔
فوم اور ثوم ایک ہی چیز ہے۔ اس کے معنی لہسن کے ہیں۔ اہل عرب ث کو کبھی کبھیسے بدل دیا کرتے ہیں مثلاً عاثور کو عافور اور اثافی کو اثاثی کر دیتے ہیں لہسن کے لئے یہ لفظ اس قدر مشہور ہے کہ اس سے روٹی یا گندم یا غلہ وغیرہ مراد لینے کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قرآن مجید کی تاویل ہمیشہ الفاظ کے مشہور معانی کے لحاظ سے کرنی چاہئے۔
اس آیت میں بنی اسرائیل کے جس مطالبہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے اس کا ذکر تورات کی کتاب گنتی کے باب ۱۱ میں اس طرح ہے۔
“اور جو ملی جلی بھیڑ ان لوگوں میں تھِی وہ طرح طرح کی حرص کرنے لگی اور…
Read the full tafseer →61۔ 1 یہ قصہ اسی میدان تیہ کا ہے۔ مصر سے مراد یہاں مصر نہیں بلکہ کوئی ایک شہر ہے۔ مطلب یہ ہے کہ یہاں سے کسی بھی شہر میں چلے جاؤ اور وہاں کھیتی باڑی کرو اپنی پسند کی سبزیاں، دالیں اگاؤ اور کھاؤ انکا یہ مطالبہ چونکہ کفران نعمت تھا۔ ان سے کہا گیا تمہارے لئے وہاں پر مطلوبہ چیزیں ہیں۔
61۔ 2 کہاں وہ انعامات و احسانات، جس کی تفصیل گزری ؟ اور کہاں وہ ذلت و مسکنت جو بعد میں ان پر مسلط کردی گئی اور وہ غضب الٰہی کے مصداق بن گئے، غضب بھی رحمت کی طرح اللہ کی صفت ہے جس کی تاویل ارادہ عقوبیت یا نفس عقوبیت سے کرنا صحیح نہیں۔ اللہ تعالیٰ ان پر غضب ناک ہوا۔
61۔ 3 یہ ذلت اور غضب الٰہی کی وجہ بیان کی جا رہی ہے۔…
Read the full tafseer →47 : یہ وہی واقعہ ہے جو اوپر حاشیہ نمبر 45 میں بیان کیا گیا ہے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ ، ان کی طفلانہ درخواست سن کر سخت رنجیدہ ہوئے ۔
” کیا ایک بہتر چیز کے بجائے ، تم ایک ادنیٰ درجے کی چیز لینا چاہتے ہو ؟ “ اللہ تعالیٰ تو تمہارے لئے بلند یاں پسند کرتا ہے اور تم ہو کہ گرے جارہے ہو۔
” اچھا کسی شہری آبادی (یا مصر) میں جارہو ، جو کچھ مانگتے ہو ، وہاں مل جائے گا۔ “
اس کے دومعنی ہوسکتے ہیں ۔ ایک یہ کہ جو کچھ وہ طلب کررہے ہیں وہ تو بالکل ایک معمولی چیز ہے ۔ اس لئے کوئی لمبی چوڑی درخواست دینے اور دعا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے ، کسی شہری آبادی میں چلے جائیں وہاں یہ چیزیں بڑی مقدار میں انہیں مل سکتی ہیں ۔ دوسرے یہ کہ تم دوبارہ لوٹ کر مصر چلے جاؤ، جہاں سے تمہیں نکالا گیا تھا۔…
Read the full tafseer →4 یہ قصہ بھی اسی جنگل کا ہے بنی اسرائیل طعام آسمانی من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے تو کہنے لگے کہ ہم سے ایک طرح کے کھانے پر صبر نہیں ہوسکتا۔ ہم کو تو زمین کا اناج ' ترکاری ' ساگ ' سبزی چاہیے۔
5 یعنی من وسلویٰ جو ہر طرح بہتر ہے۔ لہسن اور پیاز وغیرہ سے بدلتے ہو۔
6 اگر یہی جی چاہتا ہے تو کسی شہر میں جاؤ تمہاری مطلوب چیزیں تم کو سب ملیں گی پھر ایسا ہی ہوا۔
7 ذلت یہ کہ ہمیشہ مسلمان اور نصاریٰ کے محکوم اور رعیت رہتے ہیں۔ کسی کے پاس مال ہوا تو کیا حکومت سے بالکل محروم ہوگئے ' جو موجب عزت تھی اور محتاجی یہ کہ اول تو یہود میں مال کی قلت اور جن کے پاس مال ہو بھی تو حکام وغیرہ کے خوف سے اپنے آپ کو مفلس…
Read the full tafseer →آیت 61 وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ “
من وسلویٰ کھا کھا کر اب ہم اکتا گئے ہیں۔
فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ “
یعنی زمین کی پیداوار میں سے ‘ نباتات ارضی میں سے ہمیں رزق دیا جائے۔
مِنْم بَقْلِہَا وَقِثَّآءِھَا“
یہ لفظ کھیرے اور ککڑی وغیرہ سب کے لیے استعمال ہوتا ہے۔
وَفُوْمِہَا
فُوم کا ایک ترجمہ گیہوں کیا گیا ہے ‘ لیکن میرے نزدیک زیادہ صحیح ترجمہ لہسن ہے۔ عربی میں اس کے لیے بالعموم لفظ ”ثُوم“ استعمال کیا جاتا ہے۔ لہسن کو فارسی میں توم اور پنجابی ‘ سرائیکی اور سندھی میں ”تھوم“ کہتے ہیں اور یہ فوم اور ثوم ہی کی بدلی ہوئی شکل ہے ‘…
Read the full tafseer →78 بنی اسرائیل کا من وسلویٰ پر قناعت نہ کرنا :۔ یہ بھی اسی جنگل کا واقعہ ہے جہاں ایک طویل مدت کے لئے بنی اسرائیل کو محصور کیا گیا تھا۔ انہیں من وسلویٰ جیسی نعمتیں بلا مشقت مل رہی تھیں۔ مگر وہ ان چیزوں کو کھاتے کھاتے اکتا گئے تھے تو زمینی پیداوار کا مطالبہ کردیا۔ موسیٰ نے انہیں سمجھایا کہ جو چیز تمہیں یہاں سے بلامشقت مل رہی ہے وہ اس سے بدرجہا بہتر ہے جو تم مانگ رہے ہو اور وہ مشقت کے بعد ہی تمہیں حاصل ہوگی۔ لیکن جب ان لوگوں نے اپنے مطالبہ پر اصرار کیا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے بالآخر ان کا مطالبہ تسلیم کرتے ہوئے کہا کہ اگر یہی چاہتے ہو تو فلاں شہر میں چلے جاؤ، وہاں تمہیں یہ چیزیں میسر آجائیں…
Read the full tafseer →207 (اور اسے کھاتے کھاتے اکتا گئے ہیں) یہ ذکر بھی اسی دشت سینا کے زمانہ خانہ بدوشی کے کسی اور موقع کا ہے، قرآن مجید بیان واقعات میں ان کی تاریخی ترتیب کے تسلسل کا ہرگز پابند نہیں۔ بنی اسرائیل عرصہ دراز تک ایک ہی قسم کی غذا کھاتے کھاتے اکتا گئے تھے اور اب اپنے پیغمبر (علیہ السلام) سے فرمائش کررہے تھے کہ اس بیابان سے نکلا کر کہیں دوسری جگہ لے چلیے، جہاں قسم قسم کے شہری اور دیہاتی کھانے موجود ہوں۔ (آیت) ” طعام واحد “ یعنی ایک ہی قسم کا کھانا، بیٹر اور ترنجبین جو ہمیں ہر روز ملے چلا جاتا ہے۔
208 ۔ (اور جن کے خوگر ہم مصر میں رہ چکے ہیں) مصریوں کی مرغوب غذا اکثر زراعت پیشہ قوموں کی طرح یہی زمینی…
Read the full tafseer →وَاِذْقُلْتُمْ یَامُوْسٰی، یہ قصہ بھی اسی میدان تیہ کا ہے، مصر سے یہاں ملک مصر مراد نہیں بلکہ کوئی بھی شہر مراد ہے مطلب یہ ہے کہ اگر تم کو مطلوبہ ثیزیں درکار ہیں تو کسی بستی میں چلے جاؤ اور وہاں کھیتی باڑی کرو، اپنی پسند کی سبزیاں دالیں اگاؤ، یہ مطالبہ چونکہ کفران نعمت اور استکبار پر مبنی تھا، اس لئے زجر و توبیخ کے انداز میں ان سے کہا گیا کہ تمہاری مطلوبہ چیزیں وہاں ملیں گی کھیتی باڑی کر اور کھاؤ، تم کو مَن وسلوی جیسی عمدہ اور لذیذ بےمشقت حاصل ہونے والی غذا کی قدر نہیں ہے۔
اس زجر و توبیخ کا ایک مقصد یہ بھی تھا کہ جس بڑے مقصد یعنی اپنے ملک کی آزادی کے لئے یہ صحرا نوردی تم سے کرائی جا رہی ہے،…
Read the full tafseer →وَ اِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ ( اور ( وہ وقت بھی یاد کرو) جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم تو ایک کھانے پر ہرگز نہ رہیں گے) طعام واحد ایک کھانے سے مراد مَن اور سلویٰ ہے۔ واحد سے مراد وہ ہے جو تبدیل نہ کیا جائے یعنی دونوں وقت ایک ہی قسم کا کھانا ہو یہ مراد نہیں کہ ایک شے ہو۔
فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا ( پس مانگئے ہمارے لیے اپنے پروردگار سے کہ پیدا کردے) یخرج جوابِ اَمر ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے۔
مِمَّا تُنْبِتُ الاَرْضُ مِنْ بَقْلِھَا وَ قَثَّاآھَا و فُوْمِھَا وَعَدَسِھَا وَ بَصَلِھَا ( ان چیزوں میں سے جنہیں زمین اگاتی ہے سبزی، ککڑی اور گہیوں اور مسور اور…
Read the full tafseer →(61) اور تم نے پھر کہا کہ صرف اس ایک قسم کے کھانے یعنی ترنجبین اور بٹیر پر ہم نہیں رہ سکتے، اللہ تعالیٰ سے زمین کی پیداوار مانگنے لگے تاکہ ساگ، لہسن، پیاز ککڑی، وغیرہ پیدا ہو، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا لہسن اور پیاز جیسی ادنی چیز کو ”من وسلوی“ کے مقابلے میں جو افضل اور اعلی ہے تبدیل کرتے ہو یعنی ادنی درجے کی چیز کو مانگتے ہو اور اعلی درجے کی چیز کو چھوڑتے ہو، جس شہر سے آئے ہو وہاں چلے جاؤ یا اور کسی شہر میں، وہاں جو تم لوگوں نے درخواست کی ہے وہی ملے گا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے بعد ان پر جزیہ کی ذلت اتاری گئی، اور وہ فقر و افلاس کی مصیبت میں پڑگئے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے لعنت وذلت اور مسکنت کی سزا…
Read the full tafseer →من اور سلویٰ کو ایک کھانا اس لیے قرار دیا کہ روزانہ یہی کھانے کو ملتا تھا، اس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوتی تھی۔ پرندوں کا گوشت اور صحرا کی فطری خود رو چیزیں اللہ تعالیٰ کی خاص نعمت اور صحت کے لیے بہترین غذا تھیں، پھر انھیں آزادی اور فراغت حاصل تھی، جس میں وہ علم حاصل کرسکتے تھے اور جہاد کی تیاری کر کے عزت و اقتدار حاصل کرسکتے تھے، مگر انھوں نے ان نعمتوں کی قدر نہ کی اور ان چیزوں کا تقاضا کرنے لگے جن کے وہ زمانۂ غلامی میں عادی تھے اور جو آزاد فضا میں ملنے والے من وسلویٰ کے مقابلے میں بالکل ہیچ تھیں۔ پھر اس کے لیے کھیتی باڑی میں مشغول ہونا پڑتا تھا، جو ہمیشہ فاتح قومیں مفتوح قوموں سے کرواتی ہیں…
Read the full tafseer →آیت نمبر 61
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قلتم یموسیٰ لن نصبر علیٰ طعامٍ واحدٍ یہ انہوں نے تیہ کے صحراء میں کیا تھا جب وہ من وسلویٰ کھا کھا کر اکتا گئے تھے۔ انہوں نے اپنی پہلی شہری زندگی کو یاد کیا (1) ۔ حسن نے کہا : وہ سبزیوں، پیازوں اور دالوں کے کھانے کے عادی تھے۔ پس وہ اپنی عادت کی طرف مائل ہوگئے۔ ان کی طبیعتیں، ان کی سابقہ عادت کا اشتیاق کرنے لگیں۔ انہوں نے کہا : ہم ایک جیسے کھانے پر صبر نہیں کریں گے۔ انہوں نے من وسلویٰ کو ایک کھانا کہا حالانکہ یہ دو کھانے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان میں سے ایک کھانے کو دوسرے کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے۔ اسی وجہ سے انہوں نے کہا : ایک کھانا۔ بعض علماء نے…
Read the full tafseer →(1) امام عبدبن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا قلتم یموسی نصبر علی طعام واحد “ سے مراد من او سلوی ہے اس کے بدلے انہوں نے سبزیاں طلب کیں اور دیگر دوسری اشیاء جن کا ذکر آیت میں ہے۔
(2) عبد بن حمید، ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ بنی اسرائیل جب جنگل میں اس کھانے سے اکتا گئے تو انہوں نے اس معیشت (یعنی خوراک) کا مطالبہ کیا جس پر وہ پہلے گزارہ کرتے تھے اور کہنے لگے لفظ آیت ” ادع لنا ربک “ یعنی اپنے رب سے دع فرمائیے۔
(3) عبد بن حمید، ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے کئی طریق سے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” وقومھا “ سے مراد روٹی ہے۔ دوسرے لفظ میں گندم…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قُلْتُمْ : اور جب کہا تم لوگوں نے ] [ يٰمُوْسٰى: اے موسیٰ ] [ لَنْ نَّصْبِرَ : ہم ہرگز صبر نہیں کریں گے ] [ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ : کسی ایک کھانے پر ] [ فَادْعُ : پس آپ پکاریے ] [ لَنَا : ہمارے لیے ] [ رَبَّكَ : اپنے رب کو ] [ يُخْرِجْ لَنَا : کہ وہ نکالے ہمارے لیے ] [ مِمَّا : اس میں سے جو ] [ تُنْۢبِتُ : اگاتی ہے ] [ الْاَرْضُ : زمین ] [ مِنْۢ: جیسے کہ ] [ بَقْلِهَا : اس کی سبزی ] [ وَقِثَّاۗىِٕهَا : اور اس کی ککڑی ] [ وَفُوْمِهَا : اور اس کا گندم ] [ وَعَدَسِهَا : اور اس کی مسور ] [ وَبَصَلِهَا ۭ : اور اس کی پیاز ] [ قَالَ : انہوں نے کہا ] [ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ : کیا تم لوگ تبدیلی…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا کہنا کہ ہم ایک کھانے پر صبر نہیں کرسکتے، ہمیں پیاز، لہسن چاہئے !
میدان تیہ میں بنی اسرائیل کو دونوں وقت کھانے کے لیے من وسلوی ملتا تھا۔ انسان کا کچھ ایسا مزاج ہے کہ وہ ایک قسم کا کھانا کھاتے کھاتے بددل ہوجاتا ہے۔ اور اس کی طبیعت کا تقاضا ہوتا ہے کہ مختلف قسم کے کھانے کھائے بنی اسرائیل من وسلوی کھاتے کھاتے اکتا گئے لیکن انہوں نے طبعی اکتاہٹ کو دیکھا اور اس بات کو نہ دیکھا کہ ہم ایسی بد ترین غلامی سے نکل کر آئے ہیں جہاں ہمارے بچے ذبح کر دئیے جاتے تھے اور اف نہ کرسکتے تھے ایسے بڑے دشمن کا ہلاک اور برباد ہونا اور اس سے نجات پانا یہ اللہ تعالیٰ کی اتنی بڑی نعمت ہے کہ اس کے سامنے…
Read the full tafseer →قال تعالیٰ واذ قلتم یموسی لن نصبر علی طعام واحد۔۔۔ الی۔۔ ذلک بما عصوا وکانوا یعتدون۔
(ربط): یہاں تک حق تعالیٰ شانہ نے اپنے انعامات اور احسانات کا ذکر فرمایا آئندہ بنی اسرائیل کی شرارتوں اور عادات شنیعہ اور انبیاء اللہ کے ساتھ ان کے تعنت اور عناد کو بیان فرماتے کہ جس قدر ہماری طرف سے ان پر نعمتیں برستی رہیں اسی قدر ان کے تمرد اور سرکشی میں اضافہ ہوتا رہا اور پھر اس سلسلہ میں سب سے پہلی شناعت جو ذکر فرمائی تو وہ کفران نعمت اور ان کی طبع دناءت اور خست کی ذکر فرمائی کہ جو خصیس کو نفیس پر ترجیح دینے کا باعث بنی اس لیے اب انعامات کے ان کی شناعتوں اور شرارتوں اور عقوبتوں کو بیان کرتے ہیں تاکہ گزشتہ…
Read the full tafseer →ف 125 ۔ یہ دوسرا عذاب ہے۔ یہ واقعہ بھی میدان تیہ کا ہے۔ جب بنی اسرائیل سالہا سال تک ایک ہی طرز کا کھانا یعنی من وسلوی کھا کھا کر اکتا گئے تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے اس کی شکایت کی اور کہا کہ وہ اللہ سے درخواست کریں کہ وہ ہمارے لیے مختلف قسم کی ترکاریاں اور غلے پیدا کرے۔ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے دعا کرنے کی درخواست کی کیونکہ انبیاء (علیہم السلام) کی دعاء اقرب الی الاجابۃ ہوتی ہے۔ اس سے زندہ بزرگ سے دعا کرانے کا جواز نکلتا ہے۔ وَفُوْمِہا۔ فوم کے معنی گیہوں اور لہسن دونوں کے آتے ہیں۔ لیکن یہاں لہسن مراد ہے۔ وھو مروی عن ابن عباس و مجاھد واختیار الکسائی…
Read the full tafseer →ربط آیات : اللہ تعالیٰ کے بنی اسرائیل پر انعامات ، ان کی سرکشی اور تمرد اور پھر ان پر اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کا تذکرہ گزشتہ دروس سے چلا آرہا ہے۔ فرعون کے مظالم ، بنی اسرائیل کا مصر سے خروج ۔ پھر چالیس سال تک صحرائے سینا میں سرگردانی۔ شام و فلسطین میں داخلہ۔ من وسلویٰ اور پانی کی فراہمی کے تمام واقعات تفصیلاً آچکے ہیں۔ اب اس آیت میں جس واقعہ کی طرف اشارہ ہے ۔ وہ بھی بنی اسرائیل کو صحرائے سینا میں ہی پیش آیا۔
غلامی کے اثرات : دراصل مسلسل غلامی کی وجہ سے بنی اسرائیل کی اخلاقی قدریں بالکل ختم ہوچکی تھیں۔ ان میں طرح طرح کی کمزوریاں پیدا ہوچکی تھیں۔ اسی غلامی کے متعلق ڈاکٹر اقبال مرحوم نے کہا…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْتُمْ يٰمُوْسٰى لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِـمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِہَا وَقِثَّـاۗىِٕہَا وَفُوْمِہَا وَعَدَسِہَا وَبَصَلِہَا 0 ۭ قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِىْ ھُوَاَدْنٰى بِالَّذِىْ ھُوَخَيْرٌ 0 ۭ اِھْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَكُمْ مَّا سَاَلْتُمْ 0 ۭ وَضُرِبَتْ عَلَيْہِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْكَنَۃُ 0 ۤ وَبَاۗءُوْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللہِ 0 ۭ ذٰلِكَ بِاَنَّھُمْ كَانُوْا يَكْفُرُوْنَ بِاٰيٰتِ اللہِ وَيَقْتُلُوْنَ النَّـبِيّٖنَ بِغَيْرِ الْحَقِّ 0 ۭ ذٰلِكَ بِمَا عَصَوْا وَّكَانُوْا يَعْتَدُوْنَ 61 ۧ
قول
القَوْلُ…
Read the full tafseer →ترکیب : واذقلتم فعل انتم فاعل یا موسیٰ الٰی بصلہا اس کا مقولہ یہ تمام جملہ معطوف ہوا اگلے جملے پر یخرج فعل ربک فاعل شیئاً محذوف من بیانیہ ما موصولہ تنبت الارض جملہ اس کا صلہ من بقلہا الخ اس کا بیان اور موضع اس کا نصب ہے حال ہونے کی وجہ سے ضمیر محذوف سے تقدیرہ مماتنبت الارض کائنامن بقلہا۔ پس یہ تمام جملہ بیان ہوا شیئاً کا اور یخرج جواب امر ہے۔ یعنی ادع کا جواب ہے اس لیے مجذوم ہوا قال فعل موسیٰ فاعل آ استفہامیہ تستبدلون فعل انتم فاعل الذی ادنٰی ای حقیریہ مفعول بالذی ہیں با سے مقابلہ پس تمام جملہ استفہام انکاریہ ہو کر مقولہ ہوا قال کا اھبطوا مصراً جملہ انشائیہ فان لکم خبر ہے ان کی اور ما موصولہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ فَادْعُ لَنَا رَبَّکَ یُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْبِتُ الْاَرْضُ مِنْ بَقْلِھَا وَقِثَّآئِھَا وَفُوْمِھَا وَعَدَسِھَا وَبَصَلِھَاط قَالَ اَتَسْتَبْدِلُوْنَ الَّذِیْ ھُوَاَدْنٰی بِالَّذِیْ ھُوَ خَیْرٌط اِھْبِطُوْا مِصْرًا فَاِنَّ لَکُمْ مَّاسَاَلْتُمْط وَضُرِبَتْ عَلَیْھِمُ الذِّلَّۃُ وَالْمَسْکَنَۃُ وَبَآئُ وْ بِغَضَبٍ مِّنَ اللّٰہِطذٰلِکَ بِاَنَّھُمْ کَانُوْا یَکْفُرُوْنَ بِاٰیٰتِ اللّٰہِ وَیَقْتُلُوْنَ النَّبِیّٖنَ بِغَیْرِ الْحَقِّط ذٰلِکَ بِمَا عَصَوْاوَّکَانُوْایَعْتَدُوْنَ ۔
(البقرۃ : 61)
(اور یاد کرو ! جب تم نے کہا کہ اے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سواں احسان : قبائل کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری فرمائے لیکن اس قوم نے صبح وشام من وسلوی اور ٹھنڈا پانی ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔
قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو زیب داستان اور حکایت گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو مختلف اجزاء کی صورت میں موقع محل کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی کڑیوں اور اجزا کو تقدم و تاخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک خاص نصیحت اور کیفیت پیدا کردی جاتی ہے۔
یہاں بھی…
Read the full tafseer →طعام واحد کا مطلب :
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰی طَعَامٍ وَّاحِدٍ : (اور جب تم نے کہا اے موسیٰ ہم ہرگز ایک کھانے پر صبر نہیں کریں گے) تیہ میں ان کو من وسلوٰی کا رزق دیا گیا۔ مگر انہوں نے کہا طعام واحدٍ ایک کھانے پر حالانکہ وہ دو کھانے تھے۔ کیونکہ انہوں نے واحد سے مراد ایسا کھانا لیا۔ جو نہ بدلے بلکہ ایک ہی رہے۔ اگر کسی آدمی کے دستر خوان پر قسم قسم کے کھانے ہوں اور ہر روزان پر وہ مداومت کرے۔ تو کہا جاتا ہے۔ لا یا کل فلان الاطعامًا واحدًا۔ فلاں تو ایک ہی کھانا کھاتا ہے واحد سے مراد وحدت ہے کہ ایک جیسا کھانا مختلف اور تبدیل نہیں کرتا۔ یا مراد ایک قسم کے مانوس کھانے یعنی ساگ…
Read the full tafseer →(تفسیر) 61:
(آیت)” واذ قلتم یا موسیٰ لن نصبر علی طعام واحد “ اور یہ اس لیے انہوں نے اتفاق کیا اور اکتا گئے من وسلوی کے کھانے سے اور علی طعام واحد اس لیے کہا حالانکہ وہ دو کھانے تھے اس لیے کہ عرب والے دو کو لفظ واحد سے تعبیر کرتے ہیں جیسا کہ واحد کو ۔
دو کے لفظ کے ساتھ تعبیر کرتے ہیں جیسے اللہ تعالیٰ کا قول ہے (آیت)” یخرج منھما اللؤلؤ والمرجان “ حالانکہ لؤلؤ اور مرجان بحر شور سے نکلتے ہیں بحر شیریں سے نہیں اور کہا گیا ہے کہ بنی اسرائیل ایک کو دوسرے کے ساتھ ملا کر کھاتے تھے ، پس گویا کہ وہ دونوں طعام واحد تھے ، حضرت عبدالرحمن بن زید بن اسلم ؓ فرماتے ہیں کہ وہ من کو سلوی کے ساتھ گوندھتے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک…
Read the full tafseer →آیت 61
تم اس وقت کو بھی یاد کرو جب تم نے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں سے اکتا کر اور ان کو حقیر جانتے ہوئے کہا تھا : (آیت) لَنْ نَّصْبِرَ عَلٰي طَعَامٍ وَّاحِدٍ یعنی ہم ایک ہی جنس کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے۔ ان کا کھانا جیسا کہ (گزشتہ سطور میں) گزر چکا ہے اگرچہ متعدد انواع کا تھا مگر ان میں تبدیلی نہ ہوئی تھی۔ (آیت) فَادْعُ لَنَا رَبَّكَ يُخْرِجْ لَنَا مِمَّا تُنْۢبِتُ الْاَرْضُ مِنْۢ بَقْلِهَا ” پس تو ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کر، وہ نکالے ہمارے لئے وہ جو اگتا ہے زمین سے، سبزی ‘ یعنی زمین کی نباتات، جن کا شمار تن آور درختوں میں نہیں ہوتا۔ (آیت) وَقِثَّاۗىِٕهَا یعنی ککڑی (آیت) وَفُوْمِهَا یعنی لہسن…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
تفسیر آیت 67 تا 73:
قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…
Read the full tafseer →178 بنی اسرائیل کی ناشکری اور جسارت کی ایک اور مثال : یہ بنی اسرائیل کے بےادبانہ انداز تخاطب اور گنوارپن کا ایک مظہر ہے کہ اپنے پیغمبر کو نام لیکر پکارتے اور مخاطب کرتے ہیں۔ حالانکہ اپنے سے بڑے کو نام لیکر پکارنا تہذیب و ثقافت سے گری ہوئی بات، اور ایک گستاخانہ طریقہ ہے۔ اسی لئے پورے قرآن پاک میں کسی ایک جگہ بھی آنحضرت ﷺ کو آپ ﷺ کے نام نامی سے پکار کر مخاطب نہیں فرمایا گیا، یعنی کسی ایک مقام پر بھی آپ کو " یا محمد "، کہہ کر نہیں پکارا گیا، بلکہ آپ ﷺ کو کسی نہ کسی وصف کے ساتھ ہی مخاطب فرمایا گیا ہے، جیسے " یٰآ أُیُّہا النَّبِیُّ "، " یٰآ ایُّہا الرَّسُوْلُ "، " یٰآ اَُیُّہا الْمّزمِّل " اور "…
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی بےصبری
تشریح : یہ آیت بنی اسرائیل کے ان اعمال کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ جو کچھ انہوں نے جزیرہ نمائے سینا میں کیا۔ من وسلویٰ ایک طویل مدت تک وہ لوگ مزے سے بغیر کسی تکلیف کے کھاتے رہے۔ آخر ان کی شرارت، ناشکری اور فساد کی عادت نے پھر سر اٹھایا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہنے لگے کہ ہمیں کہیں دوسری جگہ لے کر چلیں جہاں پر ہر قسم کے شہری و دیہاتی کھانے مثلاً سبزیاں، ترکاریاں وغیرہ موجود ہوں۔ ہم یہ آسمانی خوراک کھاتے کھاتے اکتا گئے ہیں، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کو سمجھانے کی کوشش کی کہ یہ چیزیں ان چیزوں سے کئی گنا بہتر ہیں ان کے حصول کیلئے تمہیں محنت کرنا پڑے گی جبکہ یہ مفت میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت 60- 61
اسرارومعارف
توہم نے تمہیں وہ بھی خرق عادت کے طور پر بخشا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور ہر شخص کو اس کا مشرب یعنی سیراب ہونے کا چشمہ بھی بتادیا گیا۔ کس قدر عنایات ہیں کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری فرما دیئے اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کہ امور عادیہ میں نسانی محنت ضروری ہے کہ اگر بارش ہوتی تو اس کے لئے تالاب بناتے پھر پانی صاف نہ رہتا گدلا ہوتا رہتا یا اور کسی طرح کے مصائب بنتے مگر اللہ نے پانی ہی خرق عادت کے طور پر عطا فرمایا اور اس میں بھی اس قدر رعایت برتی کہ ہر قبیلے کے لئے علیحدہ وچشمہ جاری فرمایا اور اسے بتا بھی دیا…
Read the full tafseer →ف 1 من اور سلوی دونوں کی طعام واحد ایک کھانا قرار دینا اس بنا پر ہے کہ روزانہ یہی کھاتے اور اس میں کوئی تبدیلی نہ ہوتی یہ ان پر اللہ تعالیٰ نعمت تھی مگر ان بدبختوں نے اس نعمت کی قدر نہ کی اران سے کمتری چیزوں کا مطالبہ کرنے لگے حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ وہ مصر میں جس قسم کی چیزوں کے عادی تھے وہی طلب کرنے لگے۔ (ابن کثیر)2 یہ اں مصرا کا لفظ متصرف اور تنوین کے ساتھ ہے کیونکہ مصاحف عثمانیہ کے رسم الخط میں الف موجود ہے لہذا اس سے مراد کوئی ایک شہر ہے حضرت ابن عباس ؓ نے اس کی یہی تفسیر کی ہے بعض نے مصر فرعون مراد لیا ہے۔ (ابن کثیر)3 عضب بھی اللہ تعالیٰ کی صفت ہے۔ بعض علماء نے اس کی تاویل کی ہے اور…
Read the full tafseer →واذا قلتم : ای واذکر الوقت اذ قلتم اور وہ وقت بھی یاد کرو جب تم نے کہا۔
طعامد احد مراد اس سے وہ خوارک تھی جو صحرائے تیہ میں ان کو بصورت من وسلوی ملتی تھی۔ طعام واحد اس لئے کہا کہ روز یہی دو چیزیں ایک ہی قسم کی بلا تنوع ملتی تھیں اور بس ۔
فادع لنا۔ فاء عاطفہ سببیہ ہے۔ ہمارے عدم صبر کے سبب سے ہمارے لئے مانگو۔ ادع فعل امر واحد مذکر حاضر دعوۃ باب نصر۔ مصدر سے ۔ تو مانگ۔ تو دعا کر۔
یخرج لنا۔ یخرج مضارع مجزوم بوجہ جواب امر، صیغہ واحد مذکر غائب ۔ ضمیر کا مرجع ربک (تیرا رب ) ہے کہ ہمارے لئے پیدا کرے۔ یخرج لنا کے بعد شیئا محذوف ہے کہ کوئی ایسی شے پیدا کرے۔
مما مرکب ہے من تبعیضیہ اور ما موصولہ سے۔
تنبت…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 61
لن نصبر (ہم ہرگز صبرنہ کریں گے) ۔ طعام (کھانا) ۔ واحد (ایک) ۔ ادع (تو دعا کر) ۔ یخرج (نکال دے) ۔ تنبت (اگاتی ہے) ۔ بقل (ترکاری، ساگ ) ۔ قثاء (ککڑی) ۔ فوم (گیہوں ، (لہسن) ۔ عدس (مسور) ۔ بصل (پیاز) ۔ اتستبدلون (کیا تم بدلتے ہو) ۔ ادنیٰ (گھٹیا، معمولی، بےقیمت) ۔ خیر (زیادہ بہتر) ۔ مصر (شہر۔ اس سے مراد ملک مصر بھی ہو سکتا ہے جہاں کی ذلت بھری زندگی سے نکل کر آئے ہیں) ۔ سالتم (تم نے سوال کیا) ۔ ضربت (ماردی گئی، مسلط کردی گئی) ۔ الذلۃ (ذلت، رسوائی، خواری) ۔ المسکنۃ (محتاجی، فقیری، ناداری) ۔ باء وا (وہ کمالائے، وہ لوٹے) ۔ یقتلون (وہ قتل کرتے ہیں) ۔ بغیر الحق (ناحق، جس کا…
Read the full tafseer →عذاب الہیٰ کس پر زیادہ ہوگا ؟ ان آیتوں کا حاصل مطلب یہ ہے کہ باوجود اللہ تعالیٰ کے ہر طرح کے احسانات کے جب بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے نبیوں کے ساتھ حد سے زیادہ بد سلوکی کی یہاں تک کہ ان کو شہید کر ڈالا ، اور عمالقہ کی بستی جب فتح ہوگئی تو جس طرح سے ان کو اس بستی میں داخل ہونے کا حکم تھا ۔ اس حکم کے بجا لانے میں انہوں نے نافرمانی کی ، اور من وسلویٰ ، جو بغیر محنت ومشقت کے ان کو کھانے کو ملتا تھا ، اس کی ناشکری کر کے انہوں نے یہ کہا کہ اس ایک کھانے سے ہمارا دل نہیں بھرتا ۔ غرض اس طرح کی ان نافرمانیوں سے اللہ تعالیٰ کا ان پر غصہ ہوا اور بےمحنت ومشقت کا کھانا بند ہو کر ہمیشہ کی ذلت و خواری ان…
Read the full tafseer →[48] روکھی پھیکی غذا جو آزادی کے ساتھ نصیب ہو، غلامی کے حلوے مانڈے سے بہتر ہے۔ انسان کا ضمیر اگر زندہ ہو تو وہ کھانے کی لذت دسترخوان کے تنوعات کے اندر نہیں ڈھونڈتا بلکہ ضمیر و آزادی کے اندر تلاش کرتا ہے۔
Read the full tafseer →(ف 1) شوق تنوع :
من وسلوی کھا کھا کے بنی اسرائیل اکتا گئے ، جنگل کی زندگی سے طبیعت بیزار ہوگئی تو انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا ، ہم ایک ہی طرح کی طرز معیشت پر قانع نہیں رہ سکتے ، اللہ سے دعا کیجئے ہمیں پھر گہیؤں عنایت ہوں ہم خود زراعت کریں گے ، اللہ ہمارے کھیتوں میں برکت دے یہ شوق تنوع تھا ۔
(ف 2) اللہ نے جواب عنایت فرمایا کہ تم بلا تعب ومشقت اب آزوقہ حیات فراہم کرلیتے ہو ، پھر تمہیں محنت کرنا پڑے گی کہ تم اس آسانی اور یسر کو مشکلات سے تبدیل کرنا چاہتے ہو مقصد یہ تھا کہ پیٹ کے دھندوں سے فارغ ہو کر صحیح تربیت حاصل کرو ، مگر وہ برابر مصر تھے ، وہ پہلی سی مادی اور جدوجہد کی زندگی بسر کرنا…
Read the full tafseer →ف 2 اور وہ بات یاد کرو جب تم نے موسیٰ سے کہا تھا اے موسیٰ ہم ایک ہی قسم کی خوراک پر ہرگز صبر نہیں کرسکتے اور ایک ہی قسم کے کھانے پر نہیں رہ سکتے کہ بس من اور سلویٰ ہی کھاتے رہیں تم اپنے رب سے ہمارے واسطے دعا کرو کہ وہ ہمارے لئے ایسی چیزیں پیدا کرے جو زمین اگا کرتی ہیں۔ جیسے زمین کا ساگ اور ککڑی اور اس کا گیہوں اور زمین کی مسور اور اس کی پیاز ان کی اس خواہش اور مطالبہ پر حضرت موسیٰ نے فرمایا کیا تم ایسی چیز کے مقابلہ میں جو بہتر اور بڑھیا ہے وہ لینا چاہتے ہو جو گھٹیا اور کم درجہ کی ہے اچھا اگر تم کو اسی پر اصرار ہے تو اب تم کسی شہر میں جا اترو وہاں تم کو وہ چیزیں ملیں گی جن کا تم مطالبہ کر رہے…
Read the full tafseer →ف 2۔ منجملہ ذلت ومسکنت کے یہ بھی ہے کہ یہودیوں سے سلطنت قرب قیامت تک کے لیے چھین لی گئی۔
Read the full tafseer →یادِ رفتہ :
125: آزادی کے بعد بنی اسرائیل ایک بار شہر کی زندگی دیکھ چکے تھے۔ تمدن و عیش پرستی اور آرام و آسائش کے جس قدر سامان شہر میں میسر آسکتے تھے وہ ریگستان اور جنگل میں کہاں ؟ ان کا ملنا تو فی الوقع نا ممکنات میں سے تھا۔ اس سادگی میں وہ لوازمات کیسے پورے ہو سکتے تھے اب وہ اس سادہ زندگی پر قناعت نہیں کرسکتے اور آخر کار ان سے نہ رہا گیا وہ گئے اور موسیٰ (علیہ السلام) سے درخواست کی لیکن وہ جو کام کرتے تھے بےسوچے سمجھے ، اور ان کا جو مطالبہ ہوتا وہ بےوقت ہی ہوتا۔
ان کو ریگستان میں کیوں رکھا گیا ؟ وہ جنگلات میں دھکے کیوں کھاتے رہے ؟ دراصل ان کو ارض مقدس پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا جارہا تھا۔…
Read the full tafseer →This episode has been indirectly referred to in verse 58, and it also occurred in the wilderness of Tih تیہ . The Israelites grew weary of eating the Mann مَن and the Salwa سلوا (manna and quails) everyday, and wished to have ordinary vegetables and grain. Allah commanded them through Sayyidna Musa (علیہ السلام) to go to a certain town which lay somewhere in the wilderness, to till[ cultivate ] the land there, to grow to eat whatever they liked.
The Israelites were thus being ungrateful and impertinent. Even otherwise, it was so usual with them not only to transgress divine commandments but…
Read the full tafseer →77. This does not mean that their real fault lay in asking for things which entailed cultivation instead of availing themselves of manna and quails which they received without any toil. What is emphasized here is that rather than being concerned with the great purpose for which they had been brought to the Sinai they relished the foods which gratified their palates to such a degree that they could not forgo them even temporarily (cf. Numbers 11: 4-9) .
78. There are several ways in which one might deny the signs of God. First, one might refuse to accept those teachings of God which one found…
Read the full tafseer →