یہود پر تسلسل احسانات
یہ ایک اور نعمت یاد دلائی جا رہی ہے کہ جب تمہارے نبی نے تمہارے لئے پانی طلب کیا تو ہم نے اس پتھر سے چشمے بہا دئیے جو تمہارے ساتھ رہا کرتا تھا اور تمہارے ہر قبیلے کے لئے اس میں سے ایک ایک چشمہ ہم نے جاری کرا دیا جسے ہر قبیلہ نے جان لیا اور ہم نے کہہ دیا کہ من وسلویٰ کھاتے رہو اور ان چشموں کا پانی پیتے رہو بےمحنت کی روزی کھا پی کر ہماری عبادت میں لگے رہو نافرمانی کر کے زمین میں فساد مت پھیلاؤ ورنہ یہ نعمتیں چھن جائیں گی۔ حضرت ابن عباس ؓ فرماتے ہیں یہ ایک چکور پتھر تھا جو ان کے ساتھ ہی تھا۔ حضرت موسیٰ ؑ نے بحکم اللہ اس پر لکڑی ماری چاروں طرف سے تین تین نہریں بہ نکلیں۔ یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
سورة الْبَقَرَة 74
یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہوسکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہوگا۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو، جو یَرِْیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کردیے۔ (گنتی۔ باب 25، آیت 8-1)
سورة الْبَقَرَة…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب (حضرت) موسیٰ ؑ نے پانی کی دعا مانگی اپنی قوم کے واسطے، اس پر ہم نے (موسیٰ ؑ کو) حکم دیا کہ اپنے اس عصا کو فلاں پتھر پر مارو (اس سے پانی نکل آوے گا) بس (عصا پتھر پر مارنے کی دیر تھی) فورا اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے (اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ ہی خاندان تھے چنانچہ) ہر ہر شخص نے اپنے پانی پینے کا موقع معلوم کرلیا اور ہم نے یہ نصیحت کی کہ کھانے کو) کھاؤ اور (پینے کو) پیو اللہ تعالیٰ کے رزق سے اور حد (اعتدال) سے مت نکلو فساد (وفتنہ) کرتے ہوئے سر زمین میں۔
فائدہیہ قصہ بھی وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ ؑ نے دعا کی تو ایک خاص پتھر کو صرف عصا…
Read the full tafseer →تورات سے معلوم ہوتا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پانی کے لئے یہ دعا دشت صین میں کی ہے۔ کتاب گنتی باب ۲۰ میں ہے:
“اور پہلے مہینہ میں بنی اسرائیل کی ساری جماعت دشت صین میں آ گئی اور وہ لوگ قاوس میں رہنے لگے۔۔۔۔ اور جماعت کے لوگوں کے لئے وہاں پانی نہ ملا۔ سو وہ موسٰیؑ اور ہارونؑ کے خلاف اکٹھے ہوئے اور لوگ موسٰیؑ سے جھگڑنے اور یہ کہنے کہ کاش ہم بھی اس وقت مر جاتے جب ہمارے بھائی خداوند کے حضور مرے۔ تم خداوند کی جماعت کو اس دشت میں کیوں لے آئے ہو کہ ہم بھی اور ہمارے جانور بھی یہاں مریں اور تم نے کیوں ہم کو مصر سے نکال کر اس بری جگہ پہنچایا ہے۔ یہ تو بونے کی اور انجیروں کی اور تاکوں اور اناروں کی…
Read the full tafseer →(1) یہ واقعہ بعض کے نزدیک تیہ کا اور بعض کے نزدیک صحرائے سینا کا ہے وہاں پانی کی طلب ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ سے کہا اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ چناچہ پتھر سے بارہ چشمے جاری ہوگئے قبیلے بھی بارہ تھے۔ ہر قبیلہ اپنے اپنے چشمے سے سیراب ہوتا۔ یہ بھی ایک معجزہ تھا جو حضرت موسیٰ ؑ کے ذریعے اللہ تعالیٰ نے ظاہر فرمایا۔
Read the full tafseer →:46 یہ واقعہ بھی اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل میدان تیہ (صحرائے سینا) میں محصور تھے وہاں پانی کا کوئی چشمہ نہیں تھا، اللہ تعالیٰ نے ایک معجزہ کے طور پر بارہ چشمے پیدا فرمادئے، حضرت یعقوب (اسرائیل) ؑ کے بارہ بیٹے تھے ہر بیٹے کی اولاد ایک مستقل قبیلہ بن گئی اور اس طرح بنی اسرائیل بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے کے لئے الگ چشمہ جاری فرمادیا تاکہ کوئی الجھن پیش نہ آئے۔
Read the full tafseer →حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب فرمایا۔ اور انہوں نے یہ درخواست اپنے رب سے کی اور اس نے قبول فرمائی ۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ سے کہا کہ وہ ایک متعین پتھر کو اپنے عصا سے ماریں ۔ آپ نے حکم کی تعمیل کی اور پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے ۔ یہ بارہ چشمے بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کی تعداد کے مطابق تھے ۔ کیونکہ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتوں کے بعد یہ لوگ بارہ قبیلوں میں تقسیم ہوگئے تھے ۔ حضرت یعقوب کا نام اسرائیل تھا جس کی طرف یہ لوگ نسبت کرتے ہیں ۔ حضرت یعقوب (علیہ السلام) کے پوتے اسباط کے نام سے مشہور ہیں ، جن کا ذکر باربار قرآن کریم میں آیا ہے ۔ یہ لوگ بنی اسرائیل کے…
Read the full tafseer →2 یہ قصّہ بھی اسی جنگل کا ہے پانی نہ ملا تو ایک پتھر پر عصا مارنے سے بارہ چشمے نکلے اور بنی اسرائیل کے قبیلے بھی بارہ ہی تھے۔ کسی قوم میں آدمی زیادہ کسی میں کم ہر قوم کے موافق ایک چشمہ تھا اور وجہ شناخت بھی یہی موافقت تھی یا یہ مقرر کر رکھا تھا کہ پتھر کی فلاں جہت فلاں جانب سے جو چشمہ نکلے گا وہ فلاں قوم کا ہوگا اور جو کوتاہ نظر ان معجزات کا انکار کرتے ہیں۔ نیستند آدم غلاف آدم اند دیکھو مقناطیس تو لوہے کو اپنی طرف کھینچ لیتا ہے اس پتھر نے پانی کھینچ لیا تو انکار کی کیا وجہ۔
3 یعنی پھر فرمایا حق تعالیٰ نے کھاؤ من وسلویٰ اور پیو ان چشموں کا پانی اور عالم میں فساد مت پھیلاؤ۔
Read the full tafseer →اب یہاں پھر صحراء سینا کے واقعات بیان ہو رہے ہیں۔ ان واقعات میں ترتیب زمانی نہیں ہے۔ اریحا کی فتح حضرت موسیٰ علیہ السلام کے بعد ہوئی ‘ جس کا ذکر گزشتہ آیات میں ہوا ‘ لیکن ‘ اب یہاں پھر اس دور کے واقعات آ رہے ہیں جب بنی اسرائیل صحرائے تیہہ میں بھٹک رہے تھے۔ آیت 60 وَاِذِ اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ ط“
صحرائے سینا میں چھ لاکھ سے زائد بنی اسرائیل پڑاؤ ڈالے ہوئے تھے اور وہاں پانی نہیں تھا۔ انہوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے پانی طلب کیا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ سے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو انہیں اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ اپنے عصا سے…
Read the full tafseer →76 بارہ چشموں کا پھوٹنا :۔ یہ واقعہ بھی اسی وادی سینا میں پیش آیا۔ سایہ اور غذا کے علاوہ انہیں پانی کی بھی شدید ضرورت تھی اور وہاں دور تک کہیں پانی کا نام و نشان تک نہ تھا۔ لوگوں نے موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کی شکایت کی تو موسیٰ نے اللہ تعالیٰ سے پانی کے لیے دعا کی۔ اللہ تعالیٰ نے ایک چٹان سے اتنی کثیر اور وافر مقدار میں پانی نکالا جو اس لاکھوں کے لشکر کی روزانہ ضروریات کے لیے کافی ہوتا تھا۔ یہ قوم بارہ قبیلوں میں منقسم تھی تو اللہ تعالیٰ نے اس چٹان میں 12 ہی چشمے رواں کردیے۔ کوئی شگاف بڑا تھا، کوئی چھوٹا اور یہی صورت ان بارہ قبیلوں کے افراد کی تعداد کی تھی۔ پانی کی اس طرح تقسیم سے ان میں…
Read the full tafseer →202 ۔ اب قوم اسرائیل فلسطین سے دور اور مصر سے الگ، دونوں کے درمیان معلق، جزیرہ نمائے سینا کے لق ودق بیابان وریگستان میں اپنے خیمہ وخرگاہ کے ساتھ کوچ درکوچ ایک مقام سے دوسرے مقام اور ایک منزل سے دوسری منزل کو منتقل ہورہی ہے۔ قدیم گلہ بان قوموں میں یہ دستور عام تھا اور آج بھی بہت سی خانہ بدوش قوموں میں عام ہے، خشک ملک اور پھر مقامی جغرافیہ سے ناواقفیت، چلتے چلتے یہ لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی نایاب تھا اور ساتھ کا ذخیرہ ختم ہوچکا تھا۔ صورت حال کا ذراتصور کیجئے۔ پیاس سے بےحال اور بیدم تو ہو ہی رہے تھے، مرنے مارنے پر آمادہ ہوگئے اور لگے اپنی جھنجھلاہٹ اور غصہ اپنے رہبر اور سردار حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →آیت نمبر 60 تا 61
وَاذْکُرُ اِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہ .... الیٰ .... بَمَا عَصَوْا وَّکَانُوْا یَعْتَدُوْنَ ۔
ترجمہ : اور اس وقت کو یاد کرو، جب موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اپنی قوم کے لئے پانی کی دعاء مانگی، درآں حال کہ وہ مقام تیہ میں پیاسے ہوئے، تو ہم نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام) کو حکم دیا کہ اپنی لاٹھی (فلاں) پتھر پر مارو، اور یہ وہی پتھر تھا کہ جو موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کے کپڑے لے کر فرار ہوگیا تھا، (اور) وہ پتھر ہلکا چوکور آدمی کے سر کے مشابہ سفید رنگ کا نرم تھا، چناچہ حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام نے اس پر لاٹھی ماری تو وہ شق ہوگیا، (اور) قبیلوں کی تعداد کے مطابق اس…
Read the full tafseer →وَاِذَا اسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ ( اور ( یاد کرو) جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کیلئے پانی مانگا تو ہم نے کہا : اے موسیٰ ! ( اپنا عصا مار) یہ قصہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل اس میدان لق و دق میں پیاسے تھے۔ مروی ہے کہ موسیٰ کا عصا جنتی آس کا تھا آپ کے قد کے برابر دس ہاتھ لمبا تھا اور اس میں دو شاخیں تھیں تاریکی میں روشن ہوجاتیں اس عصا کو آدم ( علیہ السلام) جنت سے لائے تھے۔ آدم کے بعد انبیاء میں نسلاً بعد نسلٍ چلا آیا حتیٰ کہ شعیب کو مرحمت فرمایا۔
اَلْحَجَر ( پتھر پر) اس میں لام عہد کا ہے ( یعنی خاص پتھر مراد ہے) ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ یہ پتھر آدمی کے…
Read the full tafseer →(60) وادی تیہ میں حضرت موسیٰ ؑ نے پانی کی دعا کی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے اس پتھر پر جو حضرت موسیٰ ؑ کے ساتھ تھا عصا مارنے کا حکم دیا یہ پتھر اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو دیا تھا اس پر بارہ نشان تھے ہر ایک نشان سے جس وقت اس پر اپنا مارتے تھے ایک نہری جاری ہوجاتی تھی، چناچہ بارہ نہریں جاری ہوگئیں اور ہر ایک قبیلے نے اپنی نہر کو پہچان لیا، اللہ تعالیٰ نے ان سے کہا ترنجبین اور بٹیر کھاؤ اور ان تمام نہروں سے پانی پیو اور زمین میں فساد نہ کرو اور موسیٰ ؑ کی نافرمانی نہ کرو۔
Read the full tafseer →(الْحَجَرَ) کا ترجمہ ”اس پتھر پر“ اس لیے کیا ہے کہ ”الف لام عہد“ کا ہے ”الف لام“ جنس کا مانیں تو کوئی بھی پتھر مراد ہوسکتا ہے۔ تفہیم القرآن میں ہے : ”وہ چٹان اب تک جزیرہ نمائے سینا میں موجود ہے، سیاح اسے جا کر دیکھتے ہیں اور چشموں کے شگاف اس میں اب بھی پائے جاتے ہیں۔ بارہ چشموں میں یہ مصلحت تھی کہ بنی اسرائیلی قبیلے بھی بارہ ہی تھے، اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلے کے لیے ایک چشمہ نکال دیا، تاکہ ان کے درمیان پانی پر جھگڑا نہ ہو۔“ مگر ہزاروں سال کے بعد یہ بات یقین کے ساتھ کس طرح کہی جاسکتی ہے کہ یہ وہی چٹان ہے اور بعد میں نہیں بنی، جب کہ اس کی کوئی سند بھی نہیں۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 60
اس میں آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا استسقیٰ موسیٰ لقومہ التقائے ساکنین کی وجہ سے ذال کو کسرہ دیا گیا ہے، سین، سوال کے لئے ہے مثلاً استعلم، استخبر، استنصر (علم طلب کرنا۔ خیر طلب کرنا، مدد چاہنا) یعنی اپنی قوم کے لئے پانی پلانا طلب کیا۔ عرب کہتے ہیں : سقیتہ واسقیتہ یہ دونوں لغتیں ہم معنی ہیں۔ شاعر نے کہا :
سقی قومی بنی مجدٍ واسقی نمیرًا والقبائل من ھلال
اور یہ بھی کہا گیا ہے : سقیتہ یہ سقی الشفۃ سے مشتق ہے۔ اسقیتہ کا مطلب ہے : میں نے پانی پر اس کی رہنمائی کی۔
مسئلہ نمبر 2: الاستسقاء، پانی کے نہ ہونے اور بارش نہ برسنے پر ہوتا ہے۔ جب صورت حال ایسی ہو تو…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے لفظ آیت ” واذا استسقی موسیٰ لقومہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (واقعہ) میدان تیسہ میں ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے پتھر کو مار اتو اس میں پانی کے بارہ چشمے بن گئے۔ ہر ایک قبیلہ کے لیے اس میں سے ایک چشمہ تھا کہ اس میں سے وہ لوگ پیتے تھے۔
(2) امام عبد بن حمید نے قتادہ ؓ سے (اس) آیت ” واذا استسقی موسیٰ لقومہ “ کے بارے میں روایت کیا کہ یہ (واقعہ) صحراء میں ہوا جب ان کو پیاس کا خوف ہوا تو موسیٰ (علیہ السلام) نے (اللہ تعالیٰ سے) پانی مانگا تو حکم ہوا کہ پتھر کو مارو اور (یہ) پتھر طور پہاڑ کا تھا جس کو اپنے اپنے لئے اٹھا لائے تھے۔ جب وہ لوگ (میدان میں اترتے)…
Read the full tafseer →[ وَاِذِ اسْتَسْقٰى: اور جب پانی مانگا ] [ مُوْسٰى: موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم کے لیے ] [ فَقُلْنَا : تو ہم نے کہا ] [ اضْرِبْ : آپ ماریے ] [ بِّعَصَاكَ : اپنی لاٹھی سے ] [ الْحَجَرَ ۭ : چٹان کو ] [ فَانْفَجَرَتْ : پس پھوٹ بہے ] [ مِنْهُ : اس میں سے ] [ اثْنَتَا عَشْرَةَ : بارہ ] [ عَيْنًا ۭ : چشمے ] [ قَدْ عَلِمَ : جان لیا ] [ كُلُّ اُنَاسٍ : ہر ایک گروہ نے ] [ مَّشْرَبَھُمْ ۭ : اپنے پینے کی جگہ ] [ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا : تم لوگ کھاؤ اور پیو ] [ مِنْ رِّزْقِ اللّٰهِ : اللہ کی دین میں سے ] [ وَلَا تَعْثَوْا : اور تم لوگ انتشار مت پھیلاؤ ] [ فِى الْاَرْضِ : زمین میں ] [ مُفْسِدِيْنَ :…
Read the full tafseer →میدان تیہ میں بنی اسرائیل کے لیے پتھر سے پانی کے چشمے پھوٹنا
یہ بھی میدان تیہ کا قصہ ہے۔ اس میدان میں جب بنی اسرائیل کو پیاس لگی اور پانی کی ضرورت محسوس ہوئی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا سوال کیا جب موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں پانی کی درخواست کی تو اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم فرمایا کہ اپنی لاٹھی کو پتھر پر مارو چناچہ انہوں نے ایسا ہی کیا لاٹھی کا پتھر پر مارنا تھا کہ اس پتھر سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ علامہ بغوی نے معالم التنزیل میں حضرت ابن عباس ؓ سے نقل کیا ہے کہ جس پتھر میں لاٹھی مارنے سے چشمے جاری ہوئے تھے یہ ایک ہلکا سا پتھر تھا جو چوکور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
انعام دہم : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ الایۃ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قریہ سے بیت المقدس مراد ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل چالیس سال کے بعد میدان تیہ سے یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں نکلے۔ جمعہ کی شام کو بیت المقدس فتح ہوا اور کچھ دیر کے لیے سرج روکا گیا یہاں تک کہ یوشع بن نون (علیہ السلام) کو فتح حاصل ہوئی۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ تم اس شہر کے دروازہ میں سجدۂ شکر کرتے ہوئے اور زبان سے استغفار اور اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے داخل ہو جیسے حق جل جلالہ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا۔
اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین…
Read the full tafseer →ف 122 ۔ یہ آٹھواں انعام ہے۔ یہ واقعہ بھی میدانِ تیہ میں پیش آیا۔ وہاں جب اسرائیلیوں کو پیاس لگی تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے پانی کا مطالبہ کیا۔ جمہور المفسرین اجمعوا علی ان ھذا الاستسقاء کان فی التیہ (کبیر ص 540 ج 1) تو انہوں نے خدا کے حکم سے پتھر پر عصا مارا جس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ ۔ الحجر میں الف لام عہد کے لیے ہے۔ اور اس سے کسی مخصوص اور معین پتھر کی طرف اشارہ ہے۔ کان حجرا معینا بدلیل انہ عرفہ بالاف واللام (معالم ص 55 ج 1)123 ۔ اسرائییوں کے بارہ قبیلے تھے اور ان میں باہم منافرت اور نااتفاقی تھی اس لیے ہر قبیلے کے لیے الگ الگ چشمہ جاری کردیا کہ…
Read the full tafseer →ربط آیات : گزشتہ آیات میں ان انعامات کا ذکر ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر کیے۔ منجملہ ان کے دشمن سے رہائی اور ذلت ناک عذاب اور غلامی سے نجات کا تذکرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ایک عظیم الشان کتاب عطا فرمائی۔ صحرائے سینا میں دھوپ سے بچاؤ کے لیے سر پر بادل کا سایہ کیا۔ خوراک کے لئے من اور سلوی فراہم کیا۔ جب بنی اسرائیل نے سبزی اور تر کاری کا مطالبہ کیا تو انہیں ایک دوسری بستی میں اترنے کا حکم دیا جہاں ہر چیز میسر تھی۔ مگر ساتھ یہ نصیحت بھی کردی کہ اس بستی میں سجدہ شکر ادا کرتے ہوئے اور اپنی غلطیوں کی معافی مانگتے ہوئے داخل ہونا۔ مگر بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کے اس قول کو تبدیل…
Read the full tafseer →رکوع نمبر 7
وَاِذِ اسْتَسْقٰى مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاكَ الْحَجَرَ 0 ۭ فَانْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَيْنًا 0 ۭ قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ 0 ۭ كُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللہِ وَلَا تَعْثَوْا فِى الْاَرْضِ مُفْسِدِيْنَ 60
إذا
إذا يعبّر به عن کلّ زمان مستقبل، وقد يضمّن معنی الشرط فيجزم به، وذلک في الشعر أكثر، و «إذ» يعبر به عن الزمان الماضي، ولا يجازی به إلا إذا ضمّ إليه «ما» نحو :إذ ما أتيت علی الرّسول فقل له
( اذ ا ) اذ ا
۔ ( ظرف زماں ) زمانہ مستقبل پر دلالت کرتا ہے کبھی جب اس میں شرطیت کا مفہوم پایا جاتا ہے تو فعل مضارع کو جزم دیتا ہے…
Read the full tafseer →ترکیب : واذا استسقی فعل موسیٰ فاعل لقومہ متعلق ہے فعل سے۔تعقیب قلنا فعل نحن فاعل اضرب فعل انت فاعل بعصاک میں باء استعانت کے لیے جار مجرور متعلق اضرب کے ہوا۔ الحجر مفعول یہ سب جملہ مقولہ ہوا قلنا کا انفجرت فعل اثنتا عشرۃ فاعل ممیز عینا تمیز اے ضرب فانفجرت قد علم فعل کل اناس فاعل مشربہم مفعول۔ مفسدین خال مؤکدہ ہے لاتعثوا سے العثی فساد کرنا۔ الانفجار پھوٹ نکلنا پانی کا۔
تفسیر : نواں انعام : یہ نواں انعام ہے اس میں ایک واقعہ کی طرف اشارہ ہے کہ جس میں خدا تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر بڑا احسان کیا تھا۔ جب بنی اسرائیل سین کا بیابان طے کرکے رفیدیم میں پہنچے تو اس میں پانی نہ تھا۔ لوگ موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →وَاِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ فَقُلْنَا اضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَط فَا نْفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْنًاط قَدْ عَلِمَ کُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْط کُلُوْا وَاشْرَبُوْا مِنْ رِّزْقِ اللّٰہِ وَلَا تَعْثَوْا فِیْ الْاَرْضِ مُفْسِدِیْنَ ۔ (البقرۃ : 60)
(اور یاد کرو ! جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی، تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصاء مارو، تو اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے۔ ہر گروہ نے جان لیا اپنے اپنے گھاٹ کو۔ (ہم نے کہا) کھائو اور پیو، اللہ کے رزق میں سے اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو)
پانی کے لیے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا
حضرتِ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
فہم القرآن
ربط کلام : گزشتہ سے پیوستہ۔ سواں احسان : قبائل کی تعداد کا لحاظ رکھتے ہوئے ٹھنڈے، میٹھے پانی کے بارہ چشمے جاری فرمائے لیکن اس قوم نے صبح وشام من وسلوی اور ٹھنڈا پانی ملنے کے باوجود اللہ تعالیٰ کے احکام کی نافرمانی کی۔
قرآن مجید کا اسلوب بیان ہے کہ وہ کسی واقعہ کو زیب داستان اور حکایت گوئی کے لیے بیان نہیں کرتا یہی وجہ ہے کہ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے واقعہ کے سوا باقی تمام واقعات کو مختلف اجزاء کی صورت میں موقع محل کے مطابق بیان کیا گیا ہے اور کبھی یوں ہوتا ہے کہ کسی واقعہ کی کڑیوں اور اجزا کو تقدم و تاخر کے ساتھ بیان کرتے ہوئے ایک خاص نصیحت اور کیفیت پیدا کردی جاتی ہے۔
یہاں بھی…
Read the full tafseer →تفسیر آیت : 60
وَاِذِاسْتَسْقٰی مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کے لیے پانی مانگا) واذموضع نصب میں ہے گویا اصل اس طرح ہے واذکروا اذاستسقٰی یعنی انہوں نے استدعا کی کہ ان کی قوم کو سیراب کیا جائے۔
پتھر سے مراد کونسا :
فَقُلْنَااضْرِبْ بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ : (پس ہم نے کہا تم اپنا عصا پتھر پر مارو) ان کو تیہ میں پیاس لگی۔ موسیٰ ( علیہ السلام) نے ان کے لیے پانی کی درخواست کی۔ جس پر انہیں حکم ملا کہ پتھر پر اپنی لاٹھی ماریں۔ اس میں لام عہد کا ہے اس سے مقررہ پتھر مراد ہے۔ روایت میں آیا یہ طور کا پتھر تھا۔ جس کو اپنے ساتھ لائے تھے۔ اور مربّع پتھر تھا۔ جس کی چار طرفیں تھیں۔…
Read the full tafseer →خاصیت آیت 60
(آیت)” وَإِذِ اسْتَسْقَی مُوسَی لِقَوْمِہِ فَقُلْنَا اضْرِب بِّعَصَاکَ الْحَجَرَ فَانفَجَرَتْ مِنْہُ اثْنَتَا عَشْرَۃَ عَیْْناً قَدْ عَلِمَ کُلُّ أُنَاسٍ مَّشْرَبَہُمْ کُلُواْ وَاشْرَبُواْ مِن رِّزْقِ اللَّہِ وَلاَ تَعْثَوْاْ فِیْ الأَرْضِ مُفْسِدِیْنَ (60)
ان آیات کو مٹی کے پاکیزہ برتن میں لکھے جو چکنا ہو یا شیشہ یا پتھر کے پیالہ میں لکھے اور موسم بہار کی بارش کے پانی سے دھو کر بوتل میں ڈال لے ۔ تین دن اس بوتل کو اسی طرح رہنے دے اس کے بعد اس پانی کو شربت گلاب میں ڈال کر اس میں تھوڑا ساسرخ بکری کا دودھ ملا کر آگ پر پکائے جب پک کر گاڑھا ہوجائے تو اس کو محفوظ کرلے ۔
جس آدمی کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک…
Read the full tafseer →آیت 60
یعنی جب حضرت موسیٰ ٰ ( علیہ السلام) نے بنی اسرئایل کے لئے پانی مانگا تاکہ وہ اس پانی کو پینے کے لئے استعمال کرسکیں (آیت) فقلناالضرب بعصاک الحجر ” تو ہم نے کہا : اپنی لاٹھی پتھر پر مار۔ “ یہاں (الحجر) کے معرفہ ہونے کی وجہ یہ ہے کہ یا تو یہ کوئی مخصوص پتھر تھا جسے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) جانتے تھے یا اسم جنس کی بنا پر معرفہ ہے۔ (آیت) فَانْفَجَرَتْ مِنْهُ اثْنَتَا عَشْرَةَ عَيْنًا ” پس اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے “ اور بنی اسرائیل کے بھی بارہ قبیلے تھے۔ (آیت) قَدْ عَلِمَ كُلُّ اُنَاسٍ مَّشْرَبَھُمْ ۔ یعنی ہر ایک قبیلے نے اپنی وہ جگہ معلوم کرلی جہاں انہوں نے ان چشموں سے پانی پینا ہے، تاکہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–67
تفسیر آیت 67 تا 73:
قول باری ہے : انا اللہ یامرکم ان تذبحوا بقرۃ، قالوا اتتخذنا ھزواً (اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے، کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو) تا قول باری : واذ قتلتم نفساً فادار اتم فیھا واللہ مخرج ما کنتم تکتمون، فقلنا اضربوہ ببعضھا (اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کو قتل کردیا تھا، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے یہ فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو اسے کھول کر رکھ دے گا۔ اس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اس کے ایک حصے سے ضرب لگائو تا آخر آیت۔
ابوبکر جصاص کہتے ہیں کہ ان آیات اور ان میں مذکورہ…
Read the full tafseer →174 بنی اسرائیل کے لئے پانی کی دعا و درخواست : سو میدان تیہ کے اس تپتے صحرا میں بنی اسرائیل کیلئے حضرت موسیٰ نے اپنے رب کے حضور پانی کی دعاء و درخواست پیش کی۔ یعنی میدان تیہ کے اسی لق و دق صحرا اور تپتے دہکتے ریگستان میں، جہاں پانی کا کوئی نام نشان بھی نہ تھا، حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کیلئے اپنے رب سے پانی کی درخواست کی کہ حاجت روا و مشکل کشا سب کا وہی وحدہ لاشریک ہے، حضرات انبیاء و رسل بھی اسی کے محتاج اور اسی کے در کے سوالی ہیں۔ حضرت موسیٰ جیسے جلیل القدر پیغمبر بھی اسی کے حضور دست دعاء وسوال دراز کرتے ہیں تو پھر اور کوئی حاجت روا و مشکل کشا کس طرح ہوسکتا ہے ؟ سو غلط کہتے اور کرتے اور شرک کا…
Read the full tafseer →بارہ چشموں کا معجزہ
تشریح : جزیرہ نمائے سینا میں بسیار تلاش کے بعد بھی جب بنی اسرائیل کو پانی نہ ملا، تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے بگڑنے لگے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر ایک فضل اور کیا وہ اس طرح کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ فلاں پتھر پر اپنا عصا مارو جب انہوں نے عصا مارا تو اس میں سے بارہ چشمے پھوٹ پڑے۔ اس لئے کہ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے مصلحت یہ تھی کہ اپنا اپنا چشمہ سنبھال لیں اور دنگا فساد نہ کریں۔ اللہ نے فرمایا کہ میرا دیا ہوا رزق کھاؤ اور پانی پیو، سکون سے رہو اور فتنہ و فساد نہ پھیلاؤ۔ سبق اس سے یہی ملتا ہے کہ جب کوئی سہارا نہ ملے تو اللہ کو سچے دل سے پکارو وہی مسبب…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 60–61
آیت 60- 61
اسرارومعارف
توہم نے تمہیں وہ بھی خرق عادت کے طور پر بخشا۔ موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ اپنا عصا پتھر میں سے بارہ چشمے جاری ہوگئے اور ہر شخص کو اس کا مشرب یعنی سیراب ہونے کا چشمہ بھی بتادیا گیا۔ کس قدر عنایات ہیں کہ بارہ قبیلوں کے لئے بارہ چشمے جاری فرما دیئے اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کہ امور عادیہ میں نسانی محنت ضروری ہے کہ اگر بارش ہوتی تو اس کے لئے تالاب بناتے پھر پانی صاف نہ رہتا گدلا ہوتا رہتا یا اور کسی طرح کے مصائب بنتے مگر اللہ نے پانی ہی خرق عادت کے طور پر عطا فرمایا اور اس میں بھی اس قدر رعایت برتی کہ ہر قبیلے کے لئے علیحدہ وچشمہ جاری فرمایا اور اسے بتا بھی دیا…
Read the full tafseer →ف 4 ۔ بارہ چشمے اس لیے کہ بنی اسرائیل کے بھی کل بارہ اسباط (قبیلے) تھے اللہ تعالیٰ نے ہر قبیلہ کے لے الگ چشمہ نکال دیا جزیرہ نمائے سینا میں اب بھی ایک چٹان پائی جاتی ہے جس پر چشموں کے شگاف ہیں اور سیاح اسے دیکھنے آتے ہیں اور جس مقام پر یہ چٹان موجود ہے وہ عیون موسیٰ کے نام سے مشہور ہے جس پتھر پر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) عصا ماتے تھے اس کے متعلق مفسرین عجیب و غریب حکایات نقل کی ہیں کہ وہ پتھر کس شکل کا تھا اور کہاں سے لایا گیا تھا مگر صحیح یہ ہے وہ کوئی سمعین پتھر نہ تھا بلکہ بوقت ضرورت جس پتھر پر بھی عصا مارتے تو اس سے چشمے جاری ہوجاتے حسن بصری سے یہی منقول ہے وھذا اظھر فی المعجز ہ ابین فی…
Read the full tafseer →(2:60) واذ یاد کرو ، جب ، (نیز ملاحظہ ہو 2:49)
استسقی۔ ماضی واحد مذکر غائب۔ استسقاء (استفعال) مصدر اس نے پانی مانگا۔ اس نے پانی طلب کیا۔ سقی مادہ۔ السقی والسقیا کے معنی پانی پینے کی چیز دینے کے ہیں ۔ (مثلاً پانی ۔ شربت۔ شراب وغیرہ) ۔ سقی یسقی (باب ضرب) واسقی یسقی (باب افعال) پانی پینے کے لئے دینا۔ قرآن مجید میں اس کی مثالیں (1) باب ضرب سے وسقاھم ربھم شرابا طھورا (76 : 21) اور ان کا پروردگار ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ (2) باب افعال سے واسقیناکم ماء فراتا (77:27) اور تم کو میٹھا پانی پلایا السقایۃ پینے کا برتن ۔ جعل السقایۃ فی رحل اخیہ (12:70) اس نے اپنے بھائی کے شلیتے یا پالان میں پینے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 60
استسقیٰ (پانی مانگا) ۔ اضرب (تو مار، ضرب لگا) ۔ عصا (لاٹھی) ۔ انفجرت (بہ نکلی۔ (بہہ نکلے) ۔ اثنتا عشرۃ (بارہ) ۔ عینا (چشمہ ۔ (پانی کا چشمہ) ۔ قدم علم (یقیناً جان لیا تھا) ۔ کل اناس (سب لوگوں نے) ۔ مشرب (پینے کی جگہ، گھاٹ) ۔ لا تعثوا (نہ پھرو، بکھرے نہ پھرو) ۔ مفسدین (فساد کرنے والے) ۔
تشریح : آیت نمبر 60
جب بنی اسرائیل سینا کا ریگستان طے کر کے افیدیم پہنچے تو انہیں پانی نہ ملا، پیاس کی شدت اور سفر کی طوالت اور تکان نے ان کو بےحال اور پریشان کردیا تھا۔ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے جھگڑنے لگے اور کہنے لگے کہ اے موسیٰ ہم تو مصر ہی میں اچھے تھے کم از کم زندگی…
Read the full tafseer →معجزہ کلیم (علیہ السلام) وحبیب کریم ﷺ جب بنی اسرائیل نے سفر میں پانی نہ پایا ، شدت پیاس کی شکایت کی تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ اپنا عصا پتھر پر مارو ، آپ نے پتھر پر عصا مارا، اس سے بارہ چشمے جاری ہوگئے سب آدبی اور جانور سیراب ہوگئے ۔ یہ بڑا معجزہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا ہے لیکن سید عالم ﷺ کا انگشت مبارک سے چشمے جاری فرما کر جماعت کثیرہ کو سیراب فرمانا اس سے بہت اعظم واعلیٰ معجزہ ہے کیونکہ عضو انسانی سے چشمہ کا جاری ہونا پتھر کی نسبت زیادہ عجب ہے ۔ (خازن و مدارک)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 59–60
[47] یعنی حِطّۃ کی بجائے ازراہ تمسخر حِنْطَۃ کہنے لگے جس کے معانی ہیں گیہوں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 58–60
(ف 1) بارہ چشمے :
جنگل میں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آئے تھے ، وہ بےآب وگیاہ جنگل تھا ، پانی کی سخت تکلیف تھی ، اس لئے ان کی درخواست پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے درخواست کی حکم ہوا پتھر پر معجز طراز لٹھ رسید کرو تعمیل کی گئی اور بطور اعجاز کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹ نکلے جو بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لئے کافی تھے ۔
قرآن حکیم کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہ تھا ، درخواست تھی ، پھر تکمیل درخواست کو اس معجزانہ شکل میں پیش کیا ، وہ لوگ جو اس کی تاویل کرتے تھے ، صحیح مسلک پر نہیں ہیں قرآن حکیم کے الفاظ کسی تاویل کے مستحق نہیں اور نہ متحمل ۔
حل لغات :
رجز :…
Read the full tafseer →ف 1 اور وہ موقعہ یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی طلب کیا اور پانی کے لئے خدا سے دعا کی اور اس پر ہم نے حضرت مسویٰ کو حکم دیا کہ تم اپنی لکڑی اس خاص پتھر پر مارو چناچہ لکڑی مارنے سے اس پتھر میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے بنی اسرائیل کے ہر ایک قبیلے نے اپنا اپنا گھاٹ اور پانی پینے کا موقع جان لیا ارشاد ہوا اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی روزی میں سے کھائو اور پئیو اور زمین میں فساد نہ برپا کرتے پھرو۔ (تیسرا)
یہ واقعہ بھی اسی وادی تیہ میں پیش آیا جب پیاس لگی اور پانی باقی نہ رہا۔ بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ سے درخواست کی۔ حضرت موسیٰ نے خد تعالیٰ کی جناب میں دعا کی اس پر ارشاد ہوا کہ فلاں پتھر پر…
Read the full tafseer →ف 1۔ یہ قصہ وادی تیہ میں ہوا وہاں پیاس لگی تو پانی مانگا موسیٰ (علیہ السلام) نے دعا کی تو ایک خاص پتھر سے صرف عصا مارنے سے اس میں بارہ چشمے بقدرت خداوندی نکل پڑے۔ اور کھانے وے مراد من وسلوی کا کھانا ہے اور پینے سے یہی پانی پینا ہے اور فساد وفتنہ فرمایا نافرمانی اور ترک احکام۔
Read the full tafseer →پانی کا فقدان اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پانی کے لئے التجا :
121: شہر میں وباء پڑی اور ہزاروں مر گئے تو تنگ آ کر پھر انہوں نے جنگل کی راہ لی۔ فلسطین سے دور اور مصر سے الگ دونوں کے درمیان معلق جزیرہ نمائے سینا کے لق و دق بیابان و ریگستان میں اپنے خیمہ اور خر گاہ کے ساتھ کوچ در کوچ ایک مقام سے دوسرے مقام ، اور ایک منزل سے دوسری منزل کو منتقل ہو رہے ہیں۔ قدیم گلہ بان قوموں میں یہ دستور عام تھا اور آج بھی بہت سی خانہ بدوش قوموں میں عام ہے۔ ہمارے ہاں کی اوڈ قوم آج بھی انہی کے نقش قدم پر گامزن ہے۔ خشک ملک اور پھر مقامی جغرافیہ سے ناواقفیت ، چلتے چلتے یہ لوگ ایک ایسی جگہ پہنچے جہاں پانی نایاب تھا…
Read the full tafseer →This incident too belongs to the story of the wanderings of the Israelites in the wilderness. Parched with thirst, they requested Sayyidna Musa (رح) ، 1t to pray to Allah for water. Allah commanded him to strike a certain rock with his staff. As he did so, twelve streams gushed forth out of the rock, one for each of the twelve tribes. Sayyidna Ya` qub (علیہ السلام) (Jacob) had twelve sons, and each had a large family of his own. So, the families were considered as tribes, each with its own administrative organisation and its own head. Hence, the number twelve ]. What they have been asked to…
Read the full tafseer →76 That rock can still be seen in the Sinai Peninsula with the twelve holes of the springs. Twelve springs were caused to flow for the Israelites in order to avoid water disputes among their twelve clans.
Read the full tafseer →