Al-Baqara 2:59

Al-Baqara · from ayah 59

2:59

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَهُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۟۠فَبَدَّلَ الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا قَوۡلاً غَيۡرَ الَّذِىۡ قِيۡلَ لَهُمۡ فَاَنۡزَلۡنَا عَلَى الَّذِيۡنَ ظَلَمُوۡا رِجۡزًا مِّنَ السَّمَآءِ بِمَا كَانُوۡا يَفۡسُقُوۡنَ

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

— Fateh Muhammad Jalandhari

But those who wronged changed [those words] to a statement other than that which had been said to them, so We sent down upon those who wronged a punishment from the sky because they were defiantly disobeying.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:59

مگر جو بات کہی گئی تھی، ظالموں نے اُسے بدل کر کچھ اور کر دیا آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی، جو وہ کر رہے تھے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

تو جو ظالم تھے، انہوں نے اس لفظ کو، جس کا ان کو حکم دیا تھا، بدل کر اس کی جگہ اور لفظ کہنا شروع کیا، پس ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا، کیونکہ نافرمانیاں کئے جاتے تھے

— مولانا فتح محمد جالندہری

پھر ان ﻇالموں نے اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی بدل ڈالی، ہم نے بھی ان ﻇالموں پر ان کے فسق ونافرمانی کی وجہ سے آسمانی عذاب نازل کیا

— مولانا محمد جوناگڑہی

مگر ہوا یہ کہ جو بات ان سے کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر ایک اور بات بنالی نتیجہ یہ کہ جو نافرمانیاں وہ کرتے آرہے تھے ہم نے ان کی سزا میں ان ظالموں پر آسمان سے عذاب نازل کیا

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

تو ظالموں نے اور بات بدل دی جو فرمائی گئی تھی اس کے سوا تو ہم نے آسمان سے ان پر عذاب اتارا بدلہ ان کی بے حکمی کا۔

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

پھر (ان) ظالموں نے اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا ایک اور کلمہ سے بدل ڈالا سو ہم نے (ان) ظالموں پر آسمان سے (بصورتِ طاعون) سخت آفت اتار دی اس وجہ سے کہ وہ (مسلسل) حکم عدولی کر رہے تھے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

پھر ان لوگوں نے جنھوں نے ظلم کیا، بات کو اس کے خلاف بدل دیا جو ان سے کہی گئی تھی، تو ہم نے ان لوگوں پر جنھوں نے ظلم کیا تھا، آسمان سے ایک عذاب نازل کیا، اس لیے کہ وہ نافرمانی کرتے تھے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

مگر ان ظالموں نے وہ بات ہی بدل دی جو ان سے کہی گئی تھی۔ سو ہم نے ان ظالموں پر ان کی نافرمانیوں کی بنا پر آسمان سے عذاب نازل کیا

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

تو جنہوں نے ظلم کیا انہوں نے بدل دیا اس بات کو جو ان سے کہی گئی تھی دوسری بات سے پس ہم نے ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا ان کی نافرمانی کے سبب سے آسمان سے عذاب اتارا

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

مگر بدل دیا ان ظالموں نے اس کو ایک اور ہی بات سے، اس کے خلاف جو کہی گئی تھی، جس کے نتیجے میں ہم نے اتارا ان ظالموں پر ایک بڑا ہی سخت (اور ہولناک) عذاب آسمان سے، ان کی ان نافرمانیوں (اور حکم عدولیوں) کی بنا پر جو کہ یہ لوگ کرتے چلے آرہے تھے

— مولانا اسحاق مدنی

مگر ان زیادتی کرنے والوں نے جو انہیں بتایا گیا تھا اس کے خلاف ایک اور کلمہ بدل ڈالا۔ سو ہم نے ان زیادتی کرنے والوں پر ایک بلاآسمان سے نازل کی۔ اس سبب سے کہ وہ نافرمانی کرتے رہے تھے۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

پھر بدل ڈالا ظالموں نے بات کو خلاف اس کے جو ان سے کہہ دی گئی تھی پھر ہم نے اتارا ظلم کرنے والوں پر ایک بڑا عذاب آسمان سے بسبب اس نافرمانی کے جو انہوں نے کی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

ظالموں نے اس بات کو اس کے خلاف بدل ڈالا جو ان سے کہی گئی تھی۔ پھر ہم نے ظالموں پر آسمان سے عذاب اتارا چونکہ وہ نافرمانی کرتے تھے

— محترمہ رفعت اعجاز

But the transgressors perverted the words said to them entirely into a different thing. So We sent down upon the transgressors a severe torment from the sky: that was the punishment for the disobedience they were showing.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

But those who were unjust substituted another word for the one that was prescribed for them. So, We sent down a scourge from heaven upon those who were unjust, because they had acted sinfully.

— Muhammad Taqi Usmani

But those who were unjust substituted another word for the one that was prescribed for them. So, We sent down a scourge from heaven upon those who were unjust, because they had acted sinfully.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

But those who did wrong changed the word from that which had been told to them for another, so We sent upon the wrongdoers Rijz (a punishment) from the heaven because of their rebellion.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

But those who did wrong changed the word which had been told them for another saying, and We sent down upon the evil-doers wrath from heaven for their evil-doing.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

But those who wronged changed [those words] to a statement other than that which had been said to them, so We sent down upon those who wronged a punishment from the sky because they were defiantly disobeying.

— Saheeh International

The unjust ones among you changed what they were told to say. Then, We afflicted them with a torment from the heavens for their evil deeds.

— Muhammad Sarwar

But those who were unjust changed it for a saying other than that which had been spoken to them, so We sent upon those who were unjust a pestilence from heaven, because they transgressed.

— Muhammad Habib Shakir

Then those who did wrong changed the Word that had been told them for anot her; so We sent down upon those who did wrong a scourge from heaven, for they were wont to transgress.

— Abdul Majid Daryabadi

But the transgressors changed the word from that which had been given them; so We sent on the transgressors a plague from heaven, for that they infringed (Our command) repeatedly.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:59

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–59

یہود کی پھر حکم عدولی جب موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورة مائدہ میں ذکر ہے قریہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ سدی، ربیع، قتادہ، ابو مسلم وغیرہ نے یہی کہا ہے، قرآن میں ہے کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اس پاک زمین میں جاؤ جو تمہارے لئے لکھ دی گئی ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد ریخاء ہے بعض نے کہا ہے مصر مراد ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے یہ واقعہ تیہ سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 58–60

سورة الْبَقَرَة 74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہوسکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہوگا۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو، جو یَرِْیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کردیے۔ (گنتی۔ باب 25، آیت 8-1) سورة الْبَقَرَة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر سو بدل ڈالا ان ظالموں نے ایک اور کلمہ جو خلاف تھا اس کلمہ کے جس (کے کہنے) کی ان سے فرمائش کی گئی تھی اس پر ہم نے نازل کی ان ظالموں پر ایک سماوی آفت اس وجہ سے کہ وہ عدول حکمی کرتے تھے، فائدہیہ آیت آیت سابقہ کا تتمہ ہے وہ کلمہ خلاف یہ تھا کہ حطۃ بمعنی توبہ کی جگہ از راہ تمسخر۔ حبۃ فی شعیرۃ (یعنی غلہ درمیان جو کے) کہنا شروع کیا وہ آفت سماوی طاعون تھا جو حدیث کی رو سے بےحکموں کے لئے عذاب اور حکم برداروں کے لئے رحمت ہے اس شرارت کی ان کو یہ سزا ملی کہ ان میں طاعون پھوٹ پڑا اور بہت سے آدمی فنا ہوگئے (بعضوں نے ہلاک شدگان کی تعداد ستر ہزار تک بتائی) (قرطبی) معارف و مسائل کلام میں لفظی تغیر…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

یعنی دعا کے لئے جو لفظ ان کو تلقین کیا گیا تھا اس کو انہوں نے بالکل مختلف مفہوم رکھنے والے لفظ سے بدل لیا۔ بعض لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ یہاں مراد الفاظ کی تبدیلی نہیں ہے بلکہ رویہ کی تبدیلی ہے۔ پرانوں میں سے ابو مسلم اصفہانی کا یہی خیال ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے اس خیال کی تائید نہیں ہوتی۔“بدل”کا لفظ جب اپنے دو مفعولوں کے ساتھ آتا ہے، جیسا کہ یہاں ہے اگرچہ ایک محذوف ہے، تو اس کے معنی یہی ہوتے ہیں کہ ایک چیز کی جگہ دوسری چیز رکھ دی۔ پھر جب واضح الفاظ میں یہاں یہ بات کہی گئی ہے کہ ظالموں نے اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا ایک دوسرے قول سے بدل دیا جو ان سے نہیں کہا گیا تو اس سے مراد صرف رویہ اور عمل…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

59۔ 1 اس کی وضاحت ایک حدیث میں آتی ہے جو صحیح بخاری اور صحیح مسلم وغیرہ میں ہے نبی ﷺ نے فرمایا ان کو حکم دیا گیا کہ سجدہ کئے ہوئے داخل ہوں، لیکن وہ سروں کو زمین میں گھسیٹتے ہوئے داخل ہوئے اور حکم بجا لانے کی بجائے ان سے ان کی سرتابی و سرکشی کا جو ان کے اندر پیدا ہوگئی تھی اور احکام الہی سے تمسخر اور مذاق جس کا ارتکاب انہوں نے کیا اندازہ کیا جاسکتا ہے۔ واقع یہ ہے جب کوئی قوم کردار کے لحاظ سے زوال پذیر ہوجائے تو اس کا معاملہ پھر احکام الٰہی کے ساتھ اسے طرح کا ہوجاتا ہے 59۔ 2 یہ آسمانی عذاب کیا تھا ؟ بعض نے کہا غضب الٰہی، سخت پالا، طاعون۔ اس کی آخری معنی کی تائید حدیث سے ہوتی ہے۔ نبی ﷺ نے فرمایا…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

45 : اسی صحرا میں رہتے ہوئے جب مدت گزر گئی اور بنی اسرائیل من وسلوی سے بھی اکتا گئے تو انہوں نے یہ مطالبہ کیا کہ ہم ایک ہی قسم کے کھانے پر گزارہ نہیں کرسکتے، ہم زمین کی ترکاریاں وغیرہ کھانا چاہتے ہیں، ان کا یہ مطالبہ آگے آیت نمبر : 61 میں آرہا ہے، اس موقع پر ان کی یہ خواہش بھی پوری کی گئی اور یہ اعلان فرمایا گیا کہ اب تمہیں صحرا کی خاک چھاننے سے نجات دی جاتی ہے، سامنے ایک شہر ہے اس میں چلے جاؤ؛ لیکن اپنے گناہوں پر ندامت کے اظہار کے طور پر سر جھکائے ہوئے اور معافی مانگتے ہوئے شہر میں داخل ہو، وہاں اپنی رغبت کے مطابق جو حلال غذا چاہو کھاسکوگے، لیکن ان ظالموں نے پھر ضد کا مظاہرہ کیا، شہر میں…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں اللہ تعالیٰ بالخصوص ان لوگوں کا ذکر کرتے ہیں جنہوں نے اللہ تعالیٰ کے اس حکم ونصیحت کو بدل دیا تھا۔ یعنی الَّذِينَ ظَلَمُوایا تو اس لئے کہ بنی اسرائیل میں سے ایک گروہ نے یہ کام کیا تھا اور یا اس لئے کہ یہ ثابت کردیا جائے کہ بنی اسرائیل سب کے سب ظالم ہیں اور ان سب نے اس کریہہ فعل کا ارتکاب کیا۔ فَأَنْزَلْنَا عَلَى الَّذِينَ ظَلَمُوا رِجْزًا مِنَ السَّمَاءِ بِمَا كَانُوا يَفْسُقُونَ ” آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا ۔ یہ سزا تھی ان نافرمانیوں کی ، جو وہ کررہے تھے ۔ “ الرجز کے معنی ہیں عذاب اور فسق کے معنی ہیں حکم کی مخالفت اور دائرہ حق سے خروج ۔ اور یہ دونوں صفات بنی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 تبدیلی یہ کی کہ بجائے حطۃ براہ تمسخر حنطۃ کہنے لگے (یعنی گیہوں) اور سجدہ کی جگہ اپنے سرینوں پر پھسلنا شروع کیا جب شہر میں پہنچے تو ان پر طاعون پڑا ' دوپہر میں ستر ہزار یہود مرگئے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 59 فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلاً غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَہُمْ “ ان میں سے جو ظالم تھے ‘ بدکردار تھے انہوں نے ایک اور قول اختیار کرلیا اس قول کی جگہ جو ان سے کہا گیا تھا۔ ان سے کہا گیا تھا کہ ”حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ“ کہتے ہوئے داخل ہونا ‘ لیکن انہوں نے اس کی بجائے ”حِنْطَۃٌ حِنْطَۃٌ“ کہنا شروع کردیا ‘ یعنی ہمیں تو گیہوں چاہیے ‘ گیہوں چاہیے ! اگلے رکوع میں یہ بات آجائے گی کہ مَنّ وسلویٰ کھاتے کھاتے بنی اسرائیل کی طبیعتیں بھر گئی تھیں ‘ ایک ہی چیز کھا کھا کر وہ اکتا گئے تھے اور اب وہ کہہ رہے تھے کہ ہمیں زمین کی روئیدگی اور پیداوار میں سے کوئی چیز کھانے کو ملنی چاہیے۔ اس خواہش کا اظہار ان…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

75 بنی اسرائیل کا فتح کے وقت تکبر :۔ مگر ان لوگوں نے اللہ تعالیٰ کی ہدایات کو پس پشت ڈال کر اس کے بالکل الٹ کام کیے۔ بستی میں داخل ہوتے وقت سجدہ ریز ہونے کے بجائے اکڑتے ہوئے اور سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے، اور توبہ و استغفار کرنے کے بجائے دنیوی مال و دولت کے پیچھے پڑگئے جیسا کہ درج ذیل حدیث سے واضح ہے۔ سیدنا ابوہریرہ ؓ فرماتے ہیں : نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ : بنی اسرائیل کو حکم دیا گیا تھا کہ شہر کے دروازے میں جھک کر داخل ہونا اور زبان سے (حطۃ) (یعنی گناہوں کی بخشش مانگنا) لیکن وہ اپنی سرینوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور (حِطَّۃٌ) کے بجائے حَبَّۃٌ فی شعرۃ (دانہ بالی کے اندر) کہنے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

199 ۔ یعنی جو الفاظ انہیں تلقین کیے گئے تھے انہیں چھوڑ چھاڑ کچھ اور کلمے ہزل اور تمسخر کے زبان پر لانے لگے۔ یہ کلمے کیا تھے، اس میں روایتیں مختلف ہیں مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے کہ بجائے توبہ وانابت کے اب وہ کام تمسخر و استہزاء سے لے رہے تھے ومعنی الایۃ الھم انہم وضعوا مکان ما امروا بہ من التوبۃ والاستغفار قولا مغائرا لہ مشعرا باستھزاء ھم بما امروا بہ کل ذلک عدم مبالاۃ باوامر اللہ (بحر) 200 ۔ (آیت) ” رجزا “ رجز عام ہے ہر عذاب کے لیے خواہ وہ کسی صورت میں ہوالرجز ھو العذاب (لسان) لفظ کی تنوین عذاب کی شدت وہیبت کے اظہار کے لیے ہے والتنوین للتھویل والتفخیم (ابوسعود) (آیت) ” من السمآء “ سے مراد یہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا، (الآیة) یعنی جو الفاظ ان کو تلقین کئے گئے تھے، ان کو چھوڑ کر دوسری ہزل و تمسخر کے کلمے زبان پر لانے لگے، ہزل و تمسخر کے کلمے کیا تھے ؟ اس میں روایات مختلف ہیں مگر ماحصل سب کا ایک ہی ہے کہ بجائے توبہ وانابت کے تمسخر اور استہزاء کا کلامہ کہہ رہے تھے۔ رِجْزًا مِّنْ السَّمَآئِ ، رجز عام ہے ہر عذاب کے لئے استعمال ہوتا ہے، خواہ وہ کسی صورت میں ہو۔ مِنَ السَّمَآئِ ، کا مطلب یہ نہیں ہے کہ وہ عذاب برف یا بارش کی شکل میں آسمان سے نازل ہوا تھا، مطلب یہ ہے کہ وہ عذاب اسباب طبعی سے پیدا نہیں ہوا تھا، بلکہ وہ عذاب آسمانی حاکم کی طرف سے نازل ہوا تھا۔ ای مقدرٔ من السمائ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ ( تو بدل ڈالی شریر لوگوں نے وہ بات جو ان سے کہی گئی تھی) دوسرے لفظ سے بظاہر اس آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ تبدیلی کل بنی اسرائیل سے صادر نہیں ہوئی اس لیے بَدَّلُوْا ضمیر راجع کرکے نہیں فرمایا بلکہ ان میں سے بعض نے استغفار و توبہ کی بجائے جس کا حکم ہوا تھا لذائذ دنیوی کی طلب کے کلمات بدل دئیے تھے۔ علامہ بغوی نے اپنی سند سے بخاری کے طریق سے ابوہریرہ ؓ سے روایت کیا ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ دروازہ میں سجدہ کرتے اور حِطَّۃ کہتے ہوئے داخل ہونا سو انہوں نے حِطَّۃ کو بدلا اور سرین کے بل گھسٹتے ہوئے گئے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(59) چناچہ ان اصحاب حطہ نے جو اپنے حق میں ظالم تھے ہمارے حکم کو تبدیل کرڈالا اور حطۃ (یعنی توبہ) کہنے کے بجائے بطور مذاق کے حنطۃ سمعانا ، (یعنی سرخ گیہوں کہنا) شروع کردیا، نتیجہ یہ نکلا کہ ان اصحاب حطہ پر جنہوں نے ہمارے حکم میں تبدیلی کی تھی، ہم نے اس حکم عدولی کی بنا پر ان پر طاعون کی بیماری مسلط کردی۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

مگر ان ظالموں نے اللہ کے اس حکم کا مذاق اڑایا، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ”بنی اسرائیل سے کہا گیا : (وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا)”اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجاؤ اور کہو بخش دے۔“ تو انھوں نے اسے بدل دیا اور اپنے سرینوں پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور انھوں نے کہا : (حَبَّۃٌ فِیْ شَعْرَۃٍ) ”دانہ بالی میں“ [ بخاری، أحادیث الأنبیاء، بابٌ : 3403۔ مسلم : 3015 ] بتائیے کہ اس سے بڑھ کر عناد اور حکم الٰہی کی مخالفت اور کیا ہوسکتی تھی اس عظیم نافرمانی کو قرآن نے ”فسق“ سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی حدود اللہ سے کلیتاً نکل جانے کے ہیں، اس بنا پر انھیں ظالم قرار دیا اور ان کے اس ظلم کی سزا میں ان…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 59 اس میں چار مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : فبدل الذین ظلموا قولاً ، الذین محل رفع میں ہے یعنی ان میں سے ظالموں نے بدلا اور بات سے جو انہیں کہا گیا تھا۔ یہ اس طرح ہے کہ انہیں کہا گیا تھا کہ تم کہو : حطۃ ٌ تو انہوں نے کہا حنطۃ جس طرح کہ پہلے گزر چکا ہے۔ انہوں نے ایک حرف کلام سے زیادہ کردیا۔ پس وہ مصیبت سے دو چار ہوئے، اس میں یہ آگاہی دی کہ دین میں زیادتی اور شریعت میں اپنی ایجاد عظیم خطرہ اور شدید نقصان کا باعث ہے۔ یہ ایک کلمہ کی تبدیلی کی وجہ سے ہوا جو توبہ سے تعبیر تھا وہ ایسے بڑے عذاب کا موجب بنا پھر تمہارا کیا خیال ہے جو معبود کی صفات میں تبدیلی کرتے ہیں۔ یہ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ہر چیز اللہ کتاب میں ” رجزا “ سے مراد عذاب ہے۔ (2) امام احمد، عبد بن حمید، مسلم، نسائی، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے سعید بن مالک، اسامہ بن زید اور خزیمہ بن ثابت ؓ (تینوں حضرات) سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا بالشبہ یہ طاعون رجز ہے اور اس عذاب کا بقیہ ہے جس سے تم سے پہلے لوگوں کو عذاب دیا گیا۔ جب یہ (طاعون) اس زمین میں ہو جس میں تم رہتے ہو تو وہاں سے نہ نکلو اور جب تم کو یہ (بات) پہنچے کہ (طاعون) فلاں زمین میں ہے تو اس میں داخل نہ ہو۔ (3) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے اس آیت کے بارے میں روایت کیا کہ رجز سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ فَبَدَّلَ : تو تبدیل کیا ] [ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : ان لوگوں نے جنہوں نے ظلم کیا ] [ قَوْلًا : بات کو ] [ غَيْرَ الَّذِىْ : اس کے علاوہ جو ] [ قِيْلَ لَھُمْ : کہی گئی ان سے ] [ فَاَنْزَلْنَا : تو ہم نے نازل کیا ] [ عَلَي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا : ان لوگوں پر جنہوں نے ظلم کیا ] [ رِجْزًا : ایک عذاب ] [ مِّنَ السَّمَاۗءِ : آسمان سے ] [ بِمَا : بسبب اس کے جو ] [ كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ : وہ لوگ حکم عدولی کرتے تھے ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

ایک بستی میں خشوع کے ساتھ داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی شرارت اور اس پر عذاب آنا یہ کون سی بستی ہے جس میں داخل ہونے کا یہاں اس آیت شریفہ میں ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اریحا بستی تھی جس میں داخل ہونے کا حکم ہوا تھا۔ مفسرابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلا قول ہی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدسہ میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ جب بنی اسرائیل چالیس سال میدان میں حیران و سرگرداں پھرتے رہے تو حضرت یوشع بن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–60

انعام دہم : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ الایۃ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قریہ سے بیت المقدس مراد ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل چالیس سال کے بعد میدان تیہ سے یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں نکلے۔ جمعہ کی شام کو بیت المقدس فتح ہوا اور کچھ دیر کے لیے سرج روکا گیا یہاں تک کہ یوشع بن نون (علیہ السلام) کو فتح حاصل ہوئی۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ تم اس شہر کے دروازہ میں سجدۂ شکر کرتے ہوئے اور زبان سے استغفار اور اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے داخل ہو جیسے حق جل جلالہ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا۔ اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 120 ۔ ان میں سے جو نافرمان اور برخود غلط کار تھے انہوں نے اللہ کی طرف سے تلقین کردہ الفاظ کو چھوڑ کر تمسخر و استہزاء کے طور پر کچھ اور ہی الفاظ الاپنے شروع کردئیے۔ روایتوں میں آتا ہے کہ انہوں نے حِطَّۃٌ کی رٹ شروع کردی (قرطبی ص 415 ج 1، روح ص 266 ج 1 وغیرہ) قولی مخالفت کے ساتھ ساتھ انہوں نے عملاً بھی اللہ کے حکم کی مخالفت کی۔ چناچہ دروازے سے جھک کر گذرنے کے بجائے اکڑتے اور اتراتے ہوئے گذرے۔121 ۔ جن لوگوں نے خدا کی نافرمانی کی اور اس کے حکم کو تمسخر سے بدل دیا ان پر ا آسمانی عذاب نازل کیا گیا۔ یہ عذاب طاعون کی بیماری کی صورت میں ان پر مسلط کیا گیا۔ والمراد بہ الطاعون (بیضاوی ص 25) وقال ابن…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–59

ربط آیات : جس طرح ابتداء رکوع میں بنی اسرائیل سے خطاب تھا۔ “ یبنی اسراء یل اذکروا نعمت التی انعمت علیکم ” اسی طرح ان آیات کے مخاطب بھی بنی اسرائیل ہی ہیں۔ جہاں اس قوم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے تم کو سرکشی اور نافرمانی کا حال بھی بیان ہو رہا ہے۔ انعامات میں سے فرعون کی غلامی سے آزادی کتاب توراۃ کا حصول اور من و سلوٰی کا ذکر ہوا۔ پھر ان کی نافرمانی کا ذکر ہوا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بےادبی کی۔ جس پر انہیں سزا بھی ملی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے معاف بھی کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جہاد کی تیاری کرو۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

فَبَدَّلَ الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِىْ قِيْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَي الَّذِيْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَاۗءِ بِمَا كَانُوْا يَفْسُقُوْنَ۝ 59 ۧ بدل الإبدال والتَّبدیل والتَّبَدُّل والاستبدال : جعل شيء مکان آخر، وهو أعمّ من العوض، فإنّ العوض هو أن يصير لک الثاني بإعطاء الأول، والتبدیل قد يقال للتغيير مطلقا وإن لم يأت ببدله، قال تعالی: فَبَدَّلَ الَّذِينَ ظَلَمُوا قَوْلًا غَيْرَ الَّذِي قِيلَ لَهُمْ [ البقرة/ 59] ، وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ أَمْناً [ النور/ 55] وقال تعالی: فَأُوْلئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئاتِهِمْ حَسَناتٍ [ الفرقان/ 70] قيل : أن…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–59

ترکیب : ظللنا فعل بافاعل علیکم متعلق ہے فعل سے الغمام مفعول اور یہ جنس ہے اور جب واحد مراد ہوتا ہے توت زیادہ کرتے ہیں غمامہ بولتے ہیں۔ کلوا فعل بافاعل شیئًا مفعول محذوف من بیان ہے اس محذوف کا طیبات مضاف مارزقناکم مضاف الیہ انفسہم مفعول ہے یظلمون کا ای کانوا یظلمون انفسہم۔ واذ قلنا فعل نحن فاعل ادخلوا فعل انتم فاعل ھذہ موصوف القریہ صفت یہ مجموعہ مفعول فیہ ہوا ادخلوا کا اور کل مقولہ ہوا قلنا کا رغدا منصوب ہے۔ یا اس وجہ سے کہ مفعول مطلق ہے ای اکلا واسعا یا حال ہے فاعل کلوا سے سجدا جمع ساجد حال ہے فاعل اد خلوا سے ای متواضعین۔ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای سوالنا حطۃ پھر یہ مجموعہ مقولہ ہے قولو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

وَاِذ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْط وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَالَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 58 تا 59) (اور یاد کرو ! جب ہم نے کہا کہ داخل ہوجاؤ اس بستی میں، پس کھائو اس سے جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ اور داخل ہو بستی کے دروازے میں سر جھکائے ہوئے اور کہتے جاؤ حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ ہم تمہاری خطائوں سے درگزر کریں گے اور خوب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : نواں احسان : دشمن پر غلبہ عطا فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ناشکری کی اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم رکھا۔ بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے داخل ہونے کے واقعہ کے بارے میں مفسرین کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ ان کا داخلہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا تھا اور دوسروں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے لیکن ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اکثریت کا خیال یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔ ” حطۃ “ کا مفہوم یہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

بدلنے کی تشریح : فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْاقَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ : (پس بدل دیا ظالموں نے بات کو اور بات سے جو ان کو کہی گئی تھی) اس میں حذف ہے اور تقدیر عبارت اس طرح ہے۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا بِالَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ قَوْلًا غَیْرَ الَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ پس بدل دیا ظالموں نے اس کہی ہوئی بات کو اور بات سے جو کہی گئی تھی ان کو۔ پس بدّ ل یہ ایک مفعول کی طرف متعدی بنفسہٖ ہے اور دوسرے مفعول کی طرف باء سے متعدی ہوگا جو باء کے ساتھ ہے وہ متروک ہے۔ اور جو باء کے بغیر ہے وہ موجود ہے یعنی حطۃ کی جگہ اور بات کو رکھا یعنی ان کو حکم تو اس بات کا تھا جس سے توبہ و استغفار ہو۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

59۔ اپنے فضل سے ” فبدل “ پس بدل دیا (آیت)” الذین ظلموا “ اپنے نفسوں پر اور کہا (آیت)” قولا غیر غیر الذی قیل لھم “ اور یہ کہ بیشک انہوں نے حطۃ کے لفظ کو حنطۃ سے بدل دیا ، پس انہوں نے اپنی زبان میں کہا ” حطانا سمقانا “ یعنی سرخ گندم اللہ تعالیٰ کے امر کی اہانت کرتے ہوئے حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ ان کے لیے دروازہ کو پست کردیا گیا تاکہ اپنے سروں کو جھکا کر گزریں تو انہوں نے حالت سجدہ میں داخل ہونے سے انکار کردیا ۔ چناچہ حکم الہی کی مخالفت کرتے ہوئے چوتڑوں کے بل گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اور فعلا مخالفت ایسے کی جیسے قول خداوندی کو تبدیل کردیا تھا اور جو بات ان کو کہنے کے لیے کہی گئی تھی اس کے خلاف…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–61

پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–59

آیت 58-59 یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہوجائیں یہ بستی ان کے لئے باعث عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہوگی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بےروک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں (آیت) سجدا ” سجدے کی حالت میں “ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں اخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول وہ (آیت) حطۃ ” بخش دے “ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کردی جائیں۔ (آیت) نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ تمہارے مغفرت کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

171 بنی اسرائیل کی ایک اور گستاخی اور باغیانہ جسارت : یعنی انہوں نے اللہ تعالیٰ کے حکم کی خلاف ورزی کی۔ اور جو کچھ ان سے کہا گیا تھا اس کو بجا نہ لائے۔ اس خلاف ورزی اور حکم عدولی کو یہاں پر تبدیل سے تعبیر فرمایا گیا۔ جیسا کہ سورة فتح کی پندرھویں آیت کریمہ میں تبدیل کا لفظ اسی معنی کے اعتبار سے استعمال ہوا ہے۔ یہ حضرات مفسرین کرام کا ایک قول ہے۔ جیسا کہ تفسیر المراغی اور تفسیر القاسمی وغیرہ میں ذکر کیا گیا ہے۔ جبکہ دوسرے قول کے مطابق لفظ تبدیل یہاں پر اپنے مشہور و معروف اور متبادر معنوں میں ہی استعمال ہوا ہے۔ یعنی یہ کہ ان ظالموں نے اپنے رب کی طرف سے تعلیم فرمودہ لفظ " حطۃ " کو جو کہ خود انہی…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

کلام الٰہی میں تحریف کی سزا تشریح : اس آیت میں تحریف کلام الٰہی کی سزا کا ذکر کیا گیا ہے اکثر مفسرین کا خیال ہے کہ جب حضرت یوشع (علیہ السلام) کا زمانہ آیا تب بنی اسرائیل نے اریحا شہر کو فتح کیا، مگر بتائے ہوئے لفظ کو بدل کر اور غرور و نخوت سے شہر میں داخل ہوئے۔ حکم ہوا تھا کہ شہر میں داخلہ کے وقت ” حِطَّۃٌ“ یعنی استغفار کہنا مگر بنی اسرائیل نے اس کو ” حِنْطَۃٌ“ کہنا شروع کردیا مزید نافرمانی یہ کی کہ بجائے عاجزی و انکساری کے اکڑتے ہوئے نخوت و غرور کا اظہار کرتے ہوئے شہر میں داخل ہوئے اس صریح نافرمانی کی بدولت ان پر عذاب الٰہی نازل ہوا، طاعون کی بیماری پھوٹ پڑی اور ستر ہزار اسرائیلی اس عذاب کا…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 47–59

آیات 47- 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 3 ۔ مگر ان ظالموں نے اللہ کے اس حکم کا مذاق اڑایا اور حطتہ کی بجائے حنطتہ فی شھرہ ( یعنی گندم بالی میں) کہتے ہوئے بجائے نیازیی مندی اور سجدہ ریز ہونے کے اپنے سرینوں کو زمین پر گھسیٹتے ہوئے داضل ہوئے۔ بتایئے کہ اس سے بڑھ کر عناد اور حکم الہی کی مخالفت اور کہا ہوسکتی تھی اس عظیم نافرمانی کو قرآن نے فسق سے تعبیر فرمایا ہے جس کے معنی طاعت حدود کلیتہ نکل جانے کے ہیں اس بنا پر ان کو ظالم قرار دیا اور ان کے اس ظلم کی سزا میں ان پر طاعون کا عذاب نازل فرمایا ہے رجز کے معنی گو مطلق عذاب کے ہیں مگر روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ طاعون " مراد ہے سنن نسائی میں ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا الطا عون رجز عذابہ من…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:59) فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لہم۔ فاء عاطفہ ہے بدل فعل الذین ظلموا یہ جملہ فاعل ہے فعل بدل کا قولا غیر الذی قیل لہم اپنی جملہ تراکیب نحوی کے ساتھ مفعول ہے۔ فعل بدل کا۔ فعل اپنے فاعل اور مفعول کے ساتھ مل کر جملہ فعلیہ ہے۔ مطلب یہ کہ وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا۔ (یعنی جو نافرمانی کرنے والے تھے) اس قول کو جو ان سے کہا گیا تھا بدل کر کوئی غیر قول بولنے لگے۔ یعنی جو الفاظ ان کو تلقین کئے گئے تھے۔ انہیں ترک کرکے ازراہ استہزاء اور کلمات بکنے لگے۔ اس امر میں مختلف اقوال ہیں کہ یہ کلمات کیا تھے لیکن حاصل یہی ہے کہ بجائے تو بہ وانابت کے وہ تمسخر سے کام لینے لگے۔ فانزلنا۔ فاء ترتیب کی ہے اس…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 59 ادخلوا (داخل ہوجاؤ) ۔ القریۃ (بستی، آبادی، گاؤں) ۔ سجد (جھکے جھکے ، سجدہ کرتے ہوئے) ۔ حطۃ (الٰہی توبہ) ۔ نغفر (ہم معاف کردیں گے) ۔ خطیا (خطائیں ، لغزشیں) ۔ بدل (بدل ڈالا) ۔ غیر الذی قیل (جو کہی نہ گئی تھی) ۔ انزلنا (ہم نے نازل کیا، اتارا) ۔ رجز (عذاب، سزا) ۔ یفسقون (فسق کرتے ہیں، نافرمانیاں کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ملک شام کی ایک بستی “ یریحو ” جسے آج کل “ اریحا ” کہتے ہیں بڑی خوشحال بستی تھی۔ اس بستی والوں کو زندگی کی تمام سہولتیں اور راحتیں حاصل تھیں۔ سرسبزی و شادابی، پھلوں سے لدے ہوئے باغات اور کثرت سے پانی عطا کیا گیا تھا۔ مگر وہ زندگی کی ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

جب عمالقہ کی بستی فتح ہوئی تو حکم تھا کہ اس بستی کے دروازہ پر شکریہ کا سجدہ کر کے جاؤ اور حطۃ کا لفظ کہو جس کے معنی ” گناہوں کے زائل ہوجانے کے ہیں “۔ بنی اسرائیل نے یہ شرارت کہ کہ بجائے سجدہ کے وہ چوتڑوں کے بل گسٹنے لگے اور بجائے حطۃ کے حنطۃ کہا جس کے معنی :” گیہوں “ کے ہیں ۔ اس شرارت کے وبال سے ان میں طاعون پھیلا اور دوپہر کے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی ہلاک ہوگئے ۔ مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے ۔ جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ، مسئلہ : صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وبا میں رضائے الٰہی پر صابر رہیں ، اگر…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 59–60

[47] یعنی حِطّۃ کی بجائے ازراہ تمسخر حِنْطَۃ کہنے لگے جس کے معانی ہیں گیہوں۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–60

(ف 1) بارہ چشمے : جنگل میں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آئے تھے ، وہ بےآب وگیاہ جنگل تھا ، پانی کی سخت تکلیف تھی ، اس لئے ان کی درخواست پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے درخواست کی حکم ہوا پتھر پر معجز طراز لٹھ رسید کرو تعمیل کی گئی اور بطور اعجاز کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹ نکلے جو بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لئے کافی تھے ۔ قرآن حکیم کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہ تھا ، درخواست تھی ، پھر تکمیل درخواست کو اس معجزانہ شکل میں پیش کیا ، وہ لوگ جو اس کی تاویل کرتے تھے ، صحیح مسلک پر نہیں ہیں قرآن حکیم کے الفاظ کسی تاویل کے مستحق نہیں اور نہ متحمل ۔ حل لغات : رجز :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 4 پھر ان ظالموں اور نا انصافوں نے اس کلمہ کی بجائیجس کا ان کو حکم دیا گیا تھا ایک اور کلمہ اس کلمہ کے خلاف بدل لیا یعنی جو کچھ بتایا تھا اس کے خلاف کہنے لگے۔ تب ہم نے ان ظالموں پر اس توجہ سے کہ وہ عدول حکمی اور نافرمانی کیا کرتے تھے۔ آسمان سے عذاب نازل کیا۔ مطلب یہ ہے کہ ہماری بتائی ہوئی بات کا مذاق اڑایا حطۃ کی بجائے۔ حبۃ فی شعیرۃ یا حتطۃ فی شعیرۃ یا حنطۃ کہنا شروع کیا یعنی غلہ جو میں ملا ہوا آیا۔ گیہوں جو میں ملے ہوئے یا گیہوں یا حنطۃ حمراء یعنی لال گیہوں اور داخل ہوتے وقت بجائے تواضع کے پائوں آگے پھیلا کے سرین کے بل زمین پر گھسٹتے ہوئے داخل ہوئے اس گستاخی اور سرکشی کے باعث اللہ تعالیٰ نے…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

(ف 6) وہ کلمہ خلاف یہ تھا کہ حطۃ بمعنی توبہ کی جگہ براہ تمسخر حبة فی شعیرة بمعنی غلہ درمیان جو کے کہنا شروع کیا اور وہ آفت سماوی طاعون تھا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

لاتوں کے بھوت باتوں سے کب مانتے ہیں ؟ 120: جاہل اور اجڈ قوم کی یہی نشانی ہے کہ وہ کسی پابندی کو برداشت نہیں کرسکتی ۔ وہ بےلگام گھوڑے کی طرح چھوٹ ہوتی ہے جو منہ میں آیا کہہ دیا۔ جو جی میں آیا کرلیا۔ بالکل یہی حال بنی اسرائیل کا تھا ۔ انہوں نے دونوں احکام کی کوئی پروانہ کی ۔ زنا کے مرتکب ہوئے۔ گناہوں میں مبتلا ہوئے ۔ شرک جیسی نا پاکی و رجس سے وہ اپنے آپ کو نہ بچا سکے ۔ جو ماں کا نہ ہو وہ ماسی کا کیسے ہوگا ؟ کی مثل کے مطابق شریعت کے احکام واوامر کی عزت ان کے دلوں میں کیونکر آسکتی تھی ؟ بلکہ وہ تو ان کو تمسخر اور استہزاء کی نظر سے دیکھتے اور ان پر طرح طرح سے نکتہ چینی کرتے انہوں نے سجدئہ شکر ادا…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

This verse is a continuation of the preceding verse. Allah had commanded the Israelites to keep, while entering the city, repeating the word Hittatun حِطَّةٌ (which indicates repentance for one's sin and the request for pardon). But they replaced this word with another phrase by way of mockery, and started saying, Habbatun fi sha` irah (grain in the midst of barley), or Hintatun حِطَّةٌ (wheat). The punishment which descended on them was plague that wiped out seventy thousand men (Qurtubi). In passing, we may recall a hadith which says that plague is a punishment for the disobedient, and a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–59

74. It has not yet been possible to arrive at any conclusion about the identity of the locality mentioned here. The series of events in the context of which God's command to enter the city is mentioned belong to the period of the exodus of the Children of Israel in the Sinai peninsula. It is therefore probable that the place mentioned in this verse is some Sinaitic city. Another plausible suggestion is that it is Shattim, which was located opposite Jericho on the eastern bank of the river Jordan. According to the Bible the Iscaelites conquered this town during the last years of.the life of…

Read the full tafseer →