Al-Baqara 2:58

Al-Baqara · from ayah 58

2:58

وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا هٰذِهِ الْقَرْیَةَ فَكُلُوْا مِنْهَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّةٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰیٰكُمْ ؕ— وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۟وَاِذۡ قُلۡنَا ادۡخُلُوۡا هٰذِهِ الۡقَرۡيَةَ فَکُلُوۡا مِنۡهَا حَيۡثُ شِئۡتُمۡ رَغَدًا وَّادۡخُلُوا الۡبَابَ سُجَّدًا وَّقُوۡلُوۡا حِطَّةٌ نَّغۡفِرۡ لَـكُمۡ خَطٰيٰكُمۡ‌ؕ وَسَنَزِيۡدُ الۡمُحۡسِنِيۡنَ

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [recall] when We said, "Enter this city and eat from it wherever you will in [ease and] abundance, and enter the gate bowing humbly and say, 'Relieve us of our burdens.' We will [then] forgive your sins for you, and We will increase the doers of good [in goodness and reward]."

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:58

پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ، "یہ بستی جو تمہارے سامنے ہے، اس میں داخل ہو جاؤ، اس کی پیداوار جس طرح چاہو، مزے سے کھاؤ، مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہو ئے داخل ہونا اور کہتے جانا حطۃ حطۃ، ہم تمہاری خطاؤں سے در گزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے"

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہم نے (ان سے) کہا کہ اس گاؤں میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو، خوب کھاؤ (پیو) اور (دیکھنا) دروازے میں داخل ہونا تو سجدہ کرنا اور حطة کہنا، ہم تمہارے گناہ معاف کر دیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ دیں گے

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے تم سے کہا کہ اس بستی میں جاؤ اور جو کچھ جہاں کہیں سے چاہو بافراغت کھاؤ پیو اور دروازے میں سجدے کرتے ہوئے گزرو اور زبان سے حِطّہ کہو ہم تمہاری خطائیں معاف فرمادیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیاده دیں گے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا کہ ”اس بستی میں داخل ہوجاؤ اور اس میں سے جہاں سے چاہو جی بھر کر کھاؤ اور (بستی کے) دروازے میں جھکے سروں سے داخل ہونا اور یہ کہتے جانا کہ (یا اللہ) ہم آپ کی بخشش کے طلب گار ہیں (اس طرح) ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور نیکی کرنے والوں کو اور زیادہ (ثواب) بھی دیں گے۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

پھر اس میں جہاں چاہو بے روک ٹوک کھاؤ اور دروازہ میں سجدہ کرتے داخل ہو اور کہو ہمارے گناہ معاف ہوں ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور قریب ہے کہ نیکی والوں کو اور زیادہ دیں-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (یاد کرو) جب ہم نے فرمایا: اس شہر میں داخل ہو جاؤ اور اس میں جہاں سے چاہو خوب جی بھر کے کھاؤ اور (یہ کہ شہر کے) دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہونا اور یہ کہتے جانا: (اے ہمارے رب! ہم سب خطاؤں کی) بخشش چاہتے ہیں، (تو) ہم تمہاری (گزشتہ) خطائیں معاف فرما دیں گے، اور (علاوہ اس کے) نیکوکاروں کو مزید (لطف و کرم سے) نوازیں گے،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہم نے کہا اس بستی میں داخل ہوجاؤ، پس اس میں سے کھلا کھاؤ جہاں چاہو اور دروازے میں سجدہ کرتے ہوئے داخل ہوجاؤ اور کہو بخش دے، تو ہم تمہیں تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیکی کرنے والوں کو جلد ہی زیادہ دیں گے۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (وہ واقعہ بھی یاد کرو) جب ہم نے انہیں کہا تھا کہ : اس بستی میں داخل ہوجاؤ اور جہاں سے جی چاہے سیر ہو کر کھاؤ پیو، البتہ جب اس بستی کے دروازے سے گزرنے لگو تو سجدہ کرتے ہوئے گزرنا اور حِطّۃ کہتے جانا۔ ہم تمہاری خطائیں معاف کردیں گے اور نیکوکاروں پر مزید فضل و کرم کریں گے۔

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ ہم نے کہا، داخل ہوجاؤ۔ اس بستی میں، پس کھاؤ اس میں سے جہاں سے چاہو فراغت کے ساتھ اور داخل ہو دروازے میں سرجھکائے ہوئے اور دعا کرو کہ اے رب ہمارے گناہ بخش دے، ہم تمہارے گناہ بخش دیں گے اور اچھی طرح حکم بجا لانے والوں پر ہم مزید فضل کریں گے

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرنے کے لائق ہے کہ) جب ہم نے (تم سے) کہا کہ داخل ہوجاؤ تم اس بستی میں، اور وہاں تم لوگ کھاؤ (پیو فراغت اور) بےتکلفی کے ساتھ جہاں سے چاہو، اور داخل ہونا اس کے دروازے سے جھکے ہوئے، اور (زبان سے) کہتے جانا حطتہ (ہماری توبہ) تو ہم بخش دیں گے تمہاری خطاؤں کو، اور مزید (عنایتوں سے) نوازیں گے نیکوکاروں کو،

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے کہا تھا۔ کہ اس بستی میں داخل ہوجاؤ۔ اور اس میں جہاں سے چاہوخوب کھاؤ پیو۔ اور دروازہ (شہر) میں عاجزی سے جھکے ہوئے داخل ہونا۔ اور کہتے جانا توبہ ہے۔ ہم تمہاری خطائیں بخش دیں گے اور ہم نیک کاروں کو زیادہ ہی دیتے ہیں۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جبکہ ہم نے تم سے کہا تھا کہ داخل ہوجاؤ اس شہر میں اور پھر کھاؤ اس میں سے بافراغت جہاں سے چاہو جو چاہو لیکن دیکھنا (بستی کے) دروازے میں داخل ہونا جھک کر اور کہتے رہنا مغفرت مغفرت تو ہم تمہاری خطاؤں سے درگزر فرمائیں گے۔ اور محسنین کو ہم مزید فضل و کرم سے نوازیں گے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہم نے کہا اس شہر میں داخل ہوجاؤ پھر کھاؤ اس میں جہاں چاہوبا فراغت اور دروازہ سے داخل ہو تو سجدہ کرتے ہوئے اور کہتے جاؤ بخش دے ہم تمہارے قصور معاف کردیں گے اور عنقریب نیکی کرنے والوں کو ہم زیادہ دیں گے

— محترمہ رفعت اعجاز

Then call to mind the time when We said, "Go into the town' before you and eat to your hearts' content therein, wherefrom you will, but enter the gate bowing down with humility, repeating 'hittatun'; We will forgive your sins and increase the reward of the righteous".

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

When We said, :Enter this town, and eat to your heart‘s content wherever you wish in it; and enter the gate prostrating yourselves and say: HiTTah (we seek forgiveness) , so that We forgive your errors. And We shall give much more to those who do good.

— Muhammad Taqi Usmani

When We said, :Enter this town, and eat to your heart‘s content wherever you wish in it; and enter the gate prostrating yourselves and say: HiTTah (we seek forgiveness) , so that We forgive your errors. And We shall give much more to those who do good.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when We said: "Enter this town (Jerusalem) and eat bountifully therein with pleasure and delight wherever you wish, and enter the gate in prostration (or bowing with humility) and say: `Forgive us,' and We shall forgive you your sins and shall increase (reward) for the good-doers."

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when We said: Go into this township and eat freely of that which is therein, and enter the gate prostrate, and say: "Repentance." We will forgive you your sins and will increase (reward) for the right-doers.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [recall] when We said, "Enter this city and eat from it wherever you will in [ease and] abundance, and enter the gate bowing humbly and say, 'Relieve us of our burdens.' We will [then] forgive your sins for you, and We will increase the doers of good [in goodness and reward]."

— Saheeh International

(Children of Israel, recall My favors) when We told you, "Enter this city, enjoy eating whatever you want therein, prostrate yourselves and ask forgiveness when passing through the gate, and We shall forgive your sins, and add to the rewards of the righteous ones".

— Muhammad Sarwar

And when We said: Enter this city, then eat from it a plenteous (food) wherever you wish, and enter the gate making obeisance, and say, forgiveness. We will forgive you your wrongs and give more to those who do good (to others).

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time We said: enter this town and eat plenteously therefrom as ye list, and enter the gate prostrating yourselves and say: forgiveness; We shall forgive you your trespasses, and anon We shall increase unto the well-doers.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember We said: "Enter this town, and eat of the plenty therein as ye wish; but enter the gate with humility, in posture and in words, and We shall forgive you your faults and increase (the portion of) those who do good."

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:58

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 58–59

یہود کی پھر حکم عدولی جب موسیٰ ؑ بنی اسرائیل کو لے کر مصر سے آئے اور انہیں ارض مقدس میں داخل ہونے کا حکم ہوا جو ان کی موروثی زمین تھی ان سے کہا گیا کہ یہاں جو عمالیق ہیں ان سے جہاد کرو تو ان لوگوں نے نامردی دکھائی جس کی سزا میں انہیں میدان تیہ میں ڈال دیا گیا جیسے کہ سورة مائدہ میں ذکر ہے قریہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ سدی، ربیع، قتادہ، ابو مسلم وغیرہ نے یہی کہا ہے، قرآن میں ہے کہ موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا اے میری قوم اس پاک زمین میں جاؤ جو تمہارے لئے لکھ دی گئی ہے بعض کہتے ہیں اس سے مراد ریخاء ہے بعض نے کہا ہے مصر مراد ہے لیکن صحیح قول پہلا ہی ہے کہ مراد اس سے بیت المقدس ہے یہ واقعہ تیہ سے…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 58–60

سورة الْبَقَرَة 74 یہ ابھی تک تحقیق نہیں ہوسکا ہے کہ اس بستی سے مراد کونسی بستی ہے۔ جس سلسلہء واقعات میں یہ ذکر ہو رہا ہے وہ اس زمانے سے تعلق رکھتا ہے، جبکہ بنی اسرائیل ابھی جزیرہ نمائے سینا ہی میں تھے۔ لہٰذا اغلب یہ ہے کہ یہ اسی جزیرہ نما کا کوئی شہر ہوگا۔ مگر یہ بھی ممکن ہے کہ اس سے مراد شِطّیم ہو، جو یَرِْیْحُو کے بالمقابل دریائے اُرْدُن کے مشرقی کنارے پر آباد تھا۔ بائیبل کا بیان ہے کہ اس شہر کو بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ ؑ کی زندگی کے اخیر زمانے میں فتح کیا اور وہاں بڑی بدکاریاں کیں جن کے نتیجے میں خدا نے ان پر وبا بھیجی اور 24 ہزار آدمی ہلاک کردیے۔ (گنتی۔ باب 25، آیت 8-1) سورة الْبَقَرَة…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے حکم کیا کہ تم لوگ اس آبادی کے اندر داخل ہو پھر کھاؤ اس کی چیزوں میں جس جگہ تم رغبت کرو بےتکلفی سے اور (یہ بھی حکم دیا کہ جب اندر جانے لگو تو) دروازہ میں داخل ہونا (عاجزی سے) جھکے جھکے اور (زبان سے یہ) کہتے جانا کہ توبہ ہے (تو یہ ہے) ہم معاف کردیں گے تمہاری (پچھلی) خطائیں (توسب کی) اور مزید برآں اور دیں گے دل سے نیک کام کرنے والوں کو، فائدہبقول شاہ عبد القادر صاحب یہ قصہ بھی زمانہ وادی تیہ کا ہے کہ جب من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے اور اپنے معمولی کھانے کی درخواست کی (جیسا آگے کی چوتھی آیت میں آرہا ہے) تو ان کو ایک شہر میں جانے کا حکم ہوا تھا کہ وہاں…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

قریہ کے معنی اصل لغت میں جمع ہونے کی جگہ کے ہیں۔ عربی میں کہیں گے قری الماء فی الحوض (اس نے حوض میں پانی جمع کر دیا) یہیں سے یہ لفظ بستی کے معنی میں استعمال ہوا ہے اس لئے کہ وہ لوگوں کے مجتمع ہونے کی جگہ ہوتی ہے۔ اس لفظ کے استعمالات سے صاف معلوم ہوتا ہے کہ یہ صرف چھوٹے دیہات ہی کے لئے استعمال نہیں ہوتا بلکہ بڑے بڑے شہروں اور مرکزی آبادیوں کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ اس قریہ سے یہاں مراد سرزمین فلسطین ہی کا کوئی شہر ہوسکتا ہے اس لئے کہ آگے فَكُلُوۡا مِنْهَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا کے الفاظ سے اس کی جو تعریف وارد ہے وہ اسی سرزمین کے کسی شہر پر منتطبق ہو سکتی ہے۔ ہوسکتا ہے کہ اس سے مراد اریحا یا…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

1 اس بستی سے مراد جمہور مفسرین کے نزدیک بیت المقدس ہے۔ 2 سجدہ سے بعض حضرات نے یہ مطلب لیا ہے کہ جھکتے ہوئے داخل ہو اور بعض نے سجدہ شکر ہی مراد لیا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ بارگاہ الٰہی میں عجز اور انکسار کا اظہار اور اعتراف شکر کرتے ہوئے داخل ہو۔ 3 حِطَّةٌ اس کے معنی ہیں ہمارے گناہ معاف فرما دے۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 57–58

44 : جیسا کے سورة آل عمران میں آئے گا، بنی اسرائیل نے جہاد کے ایک حکم کی نافرمانی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں صحرائے سینا میں مقید کردیا گیا تھا ؛ لیکن اس سزا یابی کے دوران بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں جن نعمتوں سے نوازا یہاں ان کا ذکر ہورہا ہے، صحرا میں چونکہ کوئی چھت ان کے سروں پر نہیں تھی اس لئے ان کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے یہ انتظام فرمایا کہ ایک بادل ان پر مسلسل سایہ کئے رہتا تھا اسی صحرا میں جہاں کوئی غذا دستیاب نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے غیب سے من وسلوی کی شکل میں انہیں بہترین خوراک مہیا فرمائی، بعض روایات کے مطابق من سے مراد ترنجبین ہے جو اس علاقے میں افراط سے…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

بعض روایات میں اس کی تصریح آتی ہے کہ اس گاؤں سے مراد بیت المقدس ہے ۔ مصر سے خروج کے بعد اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو حکم دیا تھا کہ وہ اس شہر میں داخل ہوجائیں ۔ اس وقت اس میں عمالقہ آباد تھے ۔ بنی اسرائیل کو یہ حکم تھا کہ وہ ان لوگوں کو نکال دیں۔ لیکن بنی اسرائیل نے اس سے انکار کردیا اور کہا تھا ” اے موسیٰ ! اس شہر میں ایک جبار قوم آباد ہے ۔ ہم تو اس میں اس وقت تک داخل نہیں ہوسکتے جب تک وہ وہاں سے نکل نہیں جاتے ۔ اگر وہ نکل جاتے ہیں تو ہم داخل ہوں گے ۔ “ نیزاسی شہر کے بارے میں انہوں نے اپنے پیغمبر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے کہا تھا ” اے موسیٰ (علیہ السلام) ہم ہرگز اس شہر میں داخل نہ ہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

9 جب جنگل مزکورہ بالا میں پھرتے پھرتے تنگ آگئے اور من وسلویٰ کھاتے کھاتے اکتا گئے تو بنی اسرائیل کو ایک شہر میں داخل ہونے کا حکم ہوا اس کا نام اریحا تھا اس میں قوم عمالقہ جو قوم عاد سے تھی مقیم تھی اور بعض نے بیت المقدس فرمایا ہے۔ 10 اس شہر کے دروازہ میں سے سجدہ شکر کرتے ہوئے جاؤ (اور یہ شکر بدنی ہوا) اور بعض فرماتے ہیں کہ براہ تواضع کمر کو جھکا کر جاؤ۔ 11 اور زبان سے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے جاؤ (یہ شکر زبانی ہوا) جو یہ دونوں باتیں کرے گا اس کی خطائیں ہم معاف کردیں گے اور نیک بندوں کے لیے ثواب بڑھا دیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 58 وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ہٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِءْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَکُمْ خَطٰیٰکُمْ ط وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ بنی اسرائیل کے صحرائے سینا میں آنے اور تورات عطا کیے جانے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام ہی کے زمانے میں انہیں جہاد اور قتال کا حکم ہوا ‘ لیکن اس سے پوری قوم نے انکار کردیا۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے ان پر یہ سزاّ مسلط کردی کہ یہ چالیس برس تک اسی صحرا میں بھٹکتے پھریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ اگر یہ ابھی جہاد اور قتال کرتے تو ہم پورا فلسطین ان کے ہاتھ سے ابھی فتح کرا دیتے ‘ لیکن چونکہ انہوں نے…

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

74 پھر جب یہ تربیت کا عرصہ گزر گیا اور انہوں نے ایک بستی کو فتح کرلیا تو ہم نے انہیں ہدایت کی کہ اس شہر میں اللہ کے حضور سجدہ ریز ہو کر اور منکسرانہ انداز سے داخل ہونا اور اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کرنا (یعنی بدنی اور قولی دونوں طرح کی عبادت کرنا اور (حِطَّۃٌ) کا ایک یہ معنی بھی ہوسکتا ہے کہ جن لوگوں پر تم فتح پاؤ، ان میں قتل و غارت نہ شروع کرنا بلکہ انہیں معاف کردینا (جیسا کہ فتح مکہ کے موقعہ پر رسول اللہ ﷺ نے یہی کچھ کیا تھا) تاکہ ہم تمہاری خطائیں معاف کر کے تمہیں انعامات سے نوازیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

193 ۔ (بنی اسرائیل سے ان کے پیمبر (علیہ السلام) کی وساطت سے) یہ واقعہ اگر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا ہے تو وہی مراد ہیں، اور اگر ان کے بعد کا ہے تو ان کے جانشین حضرت یوشع (علیہ السلام) قرآن مجید، جیسا کہ پہلے بھی کہا جاچکا ہے، توریت کے بعض حصوں کی طرح تاریخ کی کوئی کتاب نہیں۔ اس لیے اس کے بیانات میں تسلسل زمانی اور ترتیب تاریخی ہرگز ضروری نہیں، اس کا مقصود صرف نتایج وعبر ہیں، اخلاقی وروحانی سبق، نہ کہ واقعات کی روداد، اس ایک حقیقت کو پیش نظر نہ رکھنے سے یہود ونصاری آج قرآن فہمی میں طرح طرح کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں، یہ واقعہ جس کا ذکر اب شروع ہو رہا ہے۔ تاریخ اسرائیل ہی کا ایک مسلم…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاِذْقُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَةَ ، یہ بستی کونسی تھی، بعض مفسرین نے بیت المقدس بتایا ہے اور ممکن ہے کہ فلسطین کا مشہور شہر اریحا ہو، جو موجودہ نقشوں میں (Jericho) کے نام سے ملے گا، یہ بحر مردار کے شمال سے پانچ میل کے فاصلہ پر واقع ہے، اسے اسرائیلیوں نے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰةو السلام کی وفات کے بعد حضرت یوشع علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں فتح کیا تھا، اس کے علاوہ بھی متعدد شہروں اور مقامات کے نام لئے گئے ہیں، بعض شہروں کے نام اب بدل گئے ہیں مثلا ایلہ کہ اب اسے عقبہ کہتے ہیں، یہ بھی ممکن ہے کہ مراد شہر سطیم ہو، یہ علاقہ مواب میں واقع ہے، جو بحر مردار کے مشرق میں ہے، اس زمانہ میں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذْ قُلْنَا ادْخُلُوا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ (اور ( وہ وقت) یاد کرو جب ہم نے کہا داخل ہوجاؤ اس گاؤں میں ابن عباس ؓ فرماتے ہیں کہ ھٰذِِ الْقَرْیۃ سے مراد اریحا ہے قریہ جبارین بھی یہی ہے اس میں قوم عاد کے بقیہ لوگ رہتے تھے جو عمالقہ کے نام سے مشہور تھے مجاہد فرماتے ہیں کہ بیت المقدس مراد ہے بعض نے کہا ایلیا بعض نے کہا شام۔ فَکُلُوْا مِنْھَا حَیْثُ شِءْتُمْ رَغَدًا ( اور اس میں جہاں چاہو با فراغت کھاؤ) رغدًا یا تو مفعول مطلق ہونے کی وجہ سے منصوب ہے اور یا فکلوا کی ضمیر سے حال ہونے کے سبب حال ہونے پر یہ معنی ہوں گے کھاؤ جہاں سے چاہو اس حال میں کہ رزق تمہارے لیے وسیع ہے۔ وَّادْخُلُو الْبَابَ ( اور…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(58) اور جس وقت ہم نے کہا کہ اس ”اریحا“ نامی بستی میں داخل ہو اور جہاں سے چاہو کھاؤ تمہارے لیے فراخی اور وسعت ہے اور اس بستی کے دروازہ سے جھکتے ہوئے اپنے گناہوں کی معافی مانگتے ہوئے یا لاالہ الا اللہ“۔ کہتے ہوئے داخل ہونا، ہم تمہارے گناہوں کی معافی کے ساتھ، تمہاری نیکیوں میں بھی اضافہ کریں گے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

اس شہر سے مراد کون سا شہر ہے، بعض مفسرین نے کہا ہے کہ اس سے اریحاء شہر مراد ہے۔ مگر یہ بعید ہے، کیونکہ اس وقت بنی اسرائیل بیت المقدس کی طرف جا رہے تھے اور یہ اس راستے پر نہیں ہے اور بعض نے فرعون والا مصر مراد لیا ہے، یہ قول اس سے بھی زیادہ بعید ہے۔ زیادہ صحیح قول جسے اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے، یہ ہے کہ اس سے بیت المقدس کا شہر ہی مراد ہے، جیسا کہ سورة مائدہ (21) میں ہے : (يٰقَوْمِ ادْخُلُوا الْاَرْضَ الْمُقَدَّسَةَ الَّتِيْ كَتَبَ اللّٰهُ لَكُمْ)”اے میری قوم ! اس مقدس زمین میں داخل ہوجاؤ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے۔“ (ابن کثیر) یہاں یہ اشکال پیدا ہوتا ہے کہ بیت المقدس تو موسیٰ ؑ کی…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 58 اس میں نو مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ، قلنا سے الف کو حذف کیا گیا ہے اس کے سکون اور اس کے بعد دال کے سکون کی وجہ سے۔ اور وہ الف جس کے ساتھ ابتدا کی گئی ہے دال سے پہلے وہ الف وصل ہے۔ مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ھذہ القریۃ یعنی شہر۔ شہر کو قریۃ اس لئے کہتے ہیں کیونکہ اس میں اجتماع ہوتا ہے۔ اسی سے ہے : قریت الماء فی الحوض میں نے حوض میں پانی جمع کیا اس پانی کا نام قرئ ہوتا ہے، اسی طرح جس کے ساتھ مہمان نوازی کی جائے اسے قرئ کہتے ہیں۔ یہ جوہری کا قول ہے۔ المقراۃ، حوض کے لئے بولا جاتا ہے۔ القری، پانی کی گزرگاہ کے لئے اور…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد الرزاق، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ادخلوا ھذہ القریۃ “ میں قریہ سے مراد بیت المقدس ہے۔ (2) وکیع الفریابی، عبد بن حمید ابن جریر، ابن المنذر، ابن ابی حاتم اور حاکم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” ادخلوا الباب “ میں باب سے مراد ہے تنگی دروازہ۔ ” سجدا “ سے مراد ہے ” رکعا “ یعنی رکوع کی حالت میں ” وقولوا حظۃ “ سے مراد ہے ” مغفرۃ “ یعنی مغفرت طلب کرتے ہوئے (لیکن) وہ اپنے سرین کے بل (گھسٹتے ہوئے) داخل ہوئے اور مذاق کرتے ہوئے (حطۃ کی بجائے) حنطۃ کہنے لگے اسی بات کو اللہ تعالیٰ نے فرمایا لفظ آیت ” فبدل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لہم “۔ (3)…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ قُلْنَا : اور جب ہم نے کہا ] [ ادْخُلُوْا : تم لوگ داخل ہو ] [ ھٰذِهِ الْقَرْيَةَ : اس بستی میں ] [ فَكُلُوْا : تو تم لوگ کھاؤ ] [ مِنْهَا : اس میں سے ] [ حَيْثُ : جہاں سے ] [ شِئْتُمْ : تم چاہو ] [ رَغَدًا : جی بھر کے ] [ وَّادْخُلُوا : اور تم داخل ہو ] [ الْبَابَ : دروازے میں ] [ سُجَّدًا : سجدہ کرنے والوں کی حالت میں ] [ وَّقُوْلُوْا : اور کہو ] [ حِطَّةٌ: معافی ہو ] [ نَّغْفِرْ : تو ہم بخش دیں گے ] [ لَكُمْ : تمہارے لیے ] [ خَطٰيٰكُمْ ۭ : تمہاری خطاؤں کو ] [ وَسَنَزِيْدُ : اور ہم زیادہ کریں گے (بلحاظ درجہ)] [ الْمُحْسِنِيْنَ : بلا کم وکاست کام کرنے والوں کو ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 58–59

ایک بستی میں خشوع کے ساتھ داخل ہونے کا حکم اور بنی اسرائیل کی شرارت اور اس پر عذاب آنا یہ کون سی بستی ہے جس میں داخل ہونے کا یہاں اس آیت شریفہ میں ذکر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے فرمایا ہے کہ اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ اور بعض حضرات نے فرمایا ہے کہ یہ اریحا بستی تھی جس میں داخل ہونے کا حکم ہوا تھا۔ مفسرابن کثیر لکھتے ہیں کہ پہلا قول ہی صحیح ہے۔ کیونکہ یہ مصر سے آکر اپنے علاقہ ارض مقدسہ میں جا رہے تھے اور اریحا ان کے راستہ میں نہیں پڑتا تھا اور پھر لکھتے ہیں کہ یہ واقعہ سیدنا موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانہ کا نہیں ہے بلکہ جب بنی اسرائیل چالیس سال میدان میں حیران و سرگرداں پھرتے رہے تو حضرت یوشع بن…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 58–60

انعام دہم : واذ قلنا ادخلوا ھذہ القریۃ الایۃ۔ حافظ ابن کثیر فرماتے ہیں کہ اس آیت میں قریہ سے بیت المقدس مراد ہے اور یہ واقعہ اس وقت کا ہے جب بنی اسرائیل چالیس سال کے بعد میدان تیہ سے یوشع بن نون (علیہ السلام) کی معیت میں نکلے۔ جمعہ کی شام کو بیت المقدس فتح ہوا اور کچھ دیر کے لیے سرج روکا گیا یہاں تک کہ یوشع بن نون (علیہ السلام) کو فتح حاصل ہوئی۔ اس وقت یہ حکم ہوا کہ تم اس شہر کے دروازہ میں سجدۂ شکر کرتے ہوئے اور زبان سے استغفار اور اپنے گناہوں کا اعتراف اور اقرار کرتے ہوئے داخل ہو جیسے حق جل جلالہ نے اپنے نبی (علیہ الصلوۃ والسلام) کو حکم دیا۔ اذا جاء نصر اللہ والفتح ورایت الناس یدخلون فی دین…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 117 ۔ یہ پہلا عذاب ہے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی تو میدان تیہ ہی میں وفات ہوچکی تھی اور حضرت یوشع (علیہ السلام) آپ کے جانشیں ہوچکے۔ ادھر بنی اسرائیل کے وہ بڑے بوڑھے سرکش بھی ختم ہوچکے تھے جنہوں نے جہاد سے انکار کیا تھا۔ اب حضرت یوشع (علیہ السلام) نے نوجوانوں کی نئی پود کو جہادِ عمالقہ پر آمادہ کیا اور ملک شام کو فتح کرلیا اس کے بعد انہیں بیت المقدس کے شہر میں داخل ہونے کا حکم ملا یہاں القریہ سے مراد بیت المقدس کا شہر ہے۔ وھو اختیار قتادۃ والربیع وابی مسلم الاصفہانی۔ انہ بیت المقدس (کبیر ص 534 ج 1)118 ۔ یہاں دنیوی لذائذ سے متمع ہونے کی اباحت فرمائی۔ وَّادْخُلُوا الْبَابَ ۔ الباب سے مراد بیت…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 58–59

ربط آیات : جس طرح ابتداء رکوع میں بنی اسرائیل سے خطاب تھا۔ “ یبنی اسراء یل اذکروا نعمت التی انعمت علیکم ” اسی طرح ان آیات کے مخاطب بھی بنی اسرائیل ہی ہیں۔ جہاں اس قوم پر اللہ تعالیٰ کے انعامات کا تذکرہ ہو رہا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ بنی اسرائیل کے تم کو سرکشی اور نافرمانی کا حال بھی بیان ہو رہا ہے۔ انعامات میں سے فرعون کی غلامی سے آزادی کتاب توراۃ کا حصول اور من و سلوٰی کا ذکر ہوا۔ پھر ان کی نافرمانی کا ذکر ہوا۔ انہوں نے اللہ تعالیٰ کی بےادبی کی۔ جس پر انہیں سزا بھی ملی۔ اس کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے معاف بھی کردیا۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا کہ تم جہاد کی تیاری کرو۔…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْيَۃَ فَكُلُوْا مِنْہَا حَيْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّادْخُلُوا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ۝ 0 ۭ وَسَنَزِيْدُ الْمُحْسِـنِيْنَ۝ 58 قول القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] ( ق و ل ) القول القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔ دخل الدّخول : نقیض الخروج، ويستعمل ذلک في المکان، والزمان، والأعمال، يقال : دخل مکان کذا، قال تعالی: ادْخُلُوا هذِهِ الْقَرْيَةَ [ البقرة/…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 57–59

ترکیب : ظللنا فعل بافاعل علیکم متعلق ہے فعل سے الغمام مفعول اور یہ جنس ہے اور جب واحد مراد ہوتا ہے توت زیادہ کرتے ہیں غمامہ بولتے ہیں۔ کلوا فعل بافاعل شیئًا مفعول محذوف من بیان ہے اس محذوف کا طیبات مضاف مارزقناکم مضاف الیہ انفسہم مفعول ہے یظلمون کا ای کانوا یظلمون انفسہم۔ واذ قلنا فعل نحن فاعل ادخلوا فعل انتم فاعل ھذہ موصوف القریہ صفت یہ مجموعہ مفعول فیہ ہوا ادخلوا کا اور کل مقولہ ہوا قلنا کا رغدا منصوب ہے۔ یا اس وجہ سے کہ مفعول مطلق ہے ای اکلا واسعا یا حال ہے فاعل کلوا سے سجدا جمع ساجد حال ہے فاعل اد خلوا سے ای متواضعین۔ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای سوالنا حطۃ پھر یہ مجموعہ مقولہ ہے قولو…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 58–59

وَاِذ قُلْنَا ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ فَکُلُوْا مِنْہَا حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَدًا وَّ ادْخُلُوْا الْبَابَ سُجَّدًا وَّقُوْلُوْا حِطَّۃٌ نَّغْفِرْلَکُمْ خَطٰیٰکُمْط وَسَنَزِیْدُ الْمُحْسِنِیْنَ ۔ فَبَدَّلَ الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا قَوْلًا غَیْرَالَّذِیْ قِیْلَ لَھُمْ فَاَنْزَلْنَا عَلَی الَّذِیْنَ ظَلَمُوْا رِجْزًا مِّنَ السَّمَآئِ بِمَا کَانُوْا یَفْسُقُوْنَ ۔ (البقرۃ : 58 تا 59) (اور یاد کرو ! جب ہم نے کہا کہ داخل ہوجاؤ اس بستی میں، پس کھائو اس سے جہاں سے چاہو، فراغت کے ساتھ اور داخل ہو بستی کے دروازے میں سر جھکائے ہوئے اور کہتے جاؤ حِطَّۃٌ حِطَّۃٌ ہم تمہاری خطائوں سے درگزر کریں گے اور خوب…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 58–59

فہم القرآن ربط کلام : نواں احسان : دشمن پر غلبہ عطا فرمایا لیکن بنی اسرائیل نے اللہ تعالیٰ کا شکریہ ادا کرنے کی بجائے ناشکری کی اور ظلم و زیادتی کا بازار گرم رکھا۔ بیت المقدس میں بنی اسرائیل کے داخل ہونے کے واقعہ کے بارے میں مفسرین کے دو نقطہ نگاہ ہیں۔ ایک مکتب فکر کا خیال ہے کہ ان کا داخلہ جناب موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ہوا تھا اور دوسروں کا نقطہ نظر یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے لیکن ٹھوس حقائق کی بنیاد پر اکثریت کا خیال یہ ہے کہ بنی اسرائیل حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیت المقدس میں داخل ہوئے تھے۔ ” حطۃ “ کا مفہوم یہ ہے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

تفسیر آیت : 58: وَاِذْقُلْنَا : (اور جب ہم نے کہا) ہم نے میدان تیہ سے نکلنے کے بعد کہا۔ ادْخُلُوْا ھٰذِہِ الْقَرْیَۃَ ۔ (تم اس بستی میں داخل ہوجائو) یعنی تم بیت المقدس میں داخل ہوجائو۔ یا اریحا میں۔ القریہ۔ اس بات پر اتفاق ہے یہ قریت سے ہے اس لیے کہ بستی لوگوں کو جمع کرتی ہے تیہ کے بعد ان کو داخلے کا حکم ملا۔ فَکُلُوْامِنْھَا : (تم اس میں سے کھائو) تم بستی کے غلہ جات اور پھل کھائو۔ حَیْثُ شِئْتُمْ رَغَداً ۔ : (جہاں سے چاہو بافراغت) وَّادْخُلُوا الْبَابَ : (اور دروازے میں داخل ہو) باب القریہ : الباب سے مراد بستی کا دروازہ یا باب قبہ مراد ہے جس کی طرف وہ نماز پڑھتے تھے۔ کیونکہ موسیٰ ( علیہ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

(تفسیر) 58۔: (آیت)” واذقلنا ادخلوا ھذہ القریۃ “ قصبہ کو عربی زبان میں قریۃ اس لیے کہتے ہیں کہ اس میں قصبہ والے جمع ہوتے ہیں اور اسی سے ہے مقراۃ جو کہ حوض کو کہتے ہیں کیونکہ وہ بھی پانی جمع کرتا ہے۔ حضرت سیدنا عبداللہ بن عباس ؓ فرماتے ہیں اس قصبہ سے مراداریحاء ہے اور یہ جبارین کی بستی تھی ، اس میں قوم عاد کے بقیہ لوگ تھے جنہیں عمالقہ کہا جاتا تھا ، ان کا سردار عوج بن عنق تھا اور کہا گیا ہے کہ بلقاء تھا حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ اس قریہ سے مراد بیت المقدس ہے ، حضرت ضحاک (رح) فرماتے ہیں یہ قریہ رملہ ، اردن ، فلسطین اور تدمر ہے، حضرت مقاتل ؓ فرماتے ہیں یہقریہ ایلیا ہے ، ابن کیسان (رح) فرماتے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 57–61

پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 58–59

آیت 58-59 یہ بھی ان پر اللہ تعالیٰ کی نعمت ہی تھی کہ ان کی نافرمانی کے بعد بھی اس نے ان کو حکم دیا کہ وہ ایک بستی میں داخل ہوجائیں یہ بستی ان کے لئے باعث عزت، ان کا وطن اور ان کا مسکن ہوگی اور اس بستی میں ان کو وافر اور بےروک ٹوک رزق ملے گا۔ بستی میں ان کا داخلہ بالفعل خضوع کی حالت میں ہو یعنی وہ بستی کے دروازے میں (آیت) سجدا ” سجدے کی حالت میں “ گزریں یعنی وہ اس حالت میں دروازے میں اخل ہوں کہ ان پر خشوع و خضوع طاری ہو اور بالقول وہ (آیت) حطۃ ” بخش دے “ کہتے ہوئے دروازے میں داخل ہوں یعنی ان کے مغفرت کے سوال پر ان کی خطائیں معاف کردی جائیں۔ (آیت) نَّغْفِرْ لَكُمْ خَطٰيٰكُمْ تمہارے مغفرت کے…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

166 " قَرْیَۃ " کا مفہوم اور " ھٰذہ القَرْیَۃ " سے مراد ؟ : " قَرْیَۃ " کا لفظ دراصل " قُری " سے ماخوذ ہے جس کے معنی جمع کرنے اور اکٹھا کرنے کے آتے ہیں، چناچہ کہا جاتا ہے " قَرَی المائَ فِی الْحَوْض "، " اس نے پانی کو حوض میں جمع کردیا " اور بستی چونکہ لوگوں کے جمع اور اکٹھا ہونے کی جگہ ہوتی ہے، اور اس میں مکانات وغیرہ بھی ساتھ ساتھ ہوتے ہیں، اس لئے اس کو لفظ " قریہ " سے موسوم کیا جاتا ہے، اور یہ معنی چونکہ بڑے شہروں میں بھی پایا جاتا ہے بلکہ زیادہ نمایاں طور پر پایا جاتا ہے، اس لئے " قریہ " کا اطلاق بڑے شہر پر بھی آتا ہے، جیسا کہ سورة زخرف کی اکتیسویں آیت کریمہ میں ارشاد فرمایا گیا ہے ۔ {…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

بنی اسرائیل کی شہری زندگی تشریح : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو کنعان کی سرزمین دکھائی اور خوشخبری دی کہ بنی اسرائیل کو میں یہ ملک دیتا ہوں اور عنقریب تم شہر اریحا کو فتح کرو گے یہاں تمہیں بافراغت ہر وہ چیز ملے گی جس کی تم لوگ خواہش رکھتے ہو تو اس کا شکریہ اس طرح ادا کرنا کہ جب شہر میں داخل ہو تو غرور اور گھمنڈ کی بجائے عاجزی و انکساری کی وجہ سے سر کو جھکائے ہوئے اور یہ کہتے ہوئے داخل ہونا۔ اللہ ہمیں معاف کر دے اس طرح ہم تمہارے گناہ معاف کردیں گے اور نیک بندوں کو اور بھی زیادہ انعامات دیں گے، مگر بنی اسرائیل نے نافرمانی کی اور عذاب کے مستحق ہوئے۔ آئندہ آیات میں اس کی تفصیل بیان…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 47–59

آیات 47- 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ یہ آٹھو اں انعام ہے سابقہ انعامات کا تعلق دنیوی زندگی سے تھا اور اس تعلق دینی زند گی سے ہے۔ اس میں مقام تیہ کی شدتوں سے نجات اور گناہوں کو نجشش کا طریقہ بتلا یا ہے۔ ( کبیر) اس شہر مراد ہے اس بارے میں علمائے تفسیر نے مختلف اقوال نقل کیے ہیں بعض نے کہا ہے کہ اس سے اریحا شہر مرا اد ہے مگر یہ قیاس ہے کیونکہ اسرائیل اس وقت بیت المقدس جارہے تھے اور یہ راستے پر نہیں ہے۔ اور بعض نے مصر فرعون ہی ماد لے لیا جو پہلے قول سے بھی زیادہ مستبعد ہے لیکن زیادہ صحیح قول جسے اکثر مفسرین نے اختیار کیا ہے یہ ہے کہ اس سے بیت المقدس کا شہر ہی مراد ہے جیسا کہ سورت مائدہ میں ہے ( اے میر قوم اس قوم اس مقدس سر…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:58) منھا۔ ھاء ضمیر واحد مؤنث غائب القریۃ کی طرف راجع ہے ای من طعام القریۃ وثمارھا یعنی اس قریہ میں جو طرح طرح کی نعمتیں اور میوے ہیں وہ کھاؤ۔ القریۃ بستی۔ منصوب بوجہ ظرفیت یا بوجہ مفعول ہے اس کی جمع القوی ہے۔ یہ کونسی بستی تھی اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ حضرت ابن عباس فرماتے ہیں اس سے مراد ریحا ہے بعض کے نزدیک اس سے بیت المقدس مراد ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ اس سے مراد ایلیا ہے۔ اور بعض اس سے شام مراد لیتے ہیں۔ حیث شئتم۔ حیث جہاں۔ جس جگہ۔ ظرف مکان ہے مبنی برضمہ ہے شئتم۔ شاء یشاء مشیۃ (باب سمع) ماضی کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ اصل میں شیئتم تھا۔ ی کی حرکت ما قبل کو دی۔ اور ی اجتماع ساکنین کی وجہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 58–59

لغات القرآن : آیت نمبر 58 تا 59 ادخلوا (داخل ہوجاؤ) ۔ القریۃ (بستی، آبادی، گاؤں) ۔ سجد (جھکے جھکے ، سجدہ کرتے ہوئے) ۔ حطۃ (الٰہی توبہ) ۔ نغفر (ہم معاف کردیں گے) ۔ خطیا (خطائیں ، لغزشیں) ۔ بدل (بدل ڈالا) ۔ غیر الذی قیل (جو کہی نہ گئی تھی) ۔ انزلنا (ہم نے نازل کیا، اتارا) ۔ رجز (عذاب، سزا) ۔ یفسقون (فسق کرتے ہیں، نافرمانیاں کرتے ہیں) ۔ تشریح : آیت نمبر 58 تا 59 ملک شام کی ایک بستی “ یریحو ” جسے آج کل “ اریحا ” کہتے ہیں بڑی خوشحال بستی تھی۔ اس بستی والوں کو زندگی کی تمام سہولتیں اور راحتیں حاصل تھیں۔ سرسبزی و شادابی، پھلوں سے لدے ہوئے باغات اور کثرت سے پانی عطا کیا گیا تھا۔ مگر وہ زندگی کی ان…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 58–59

جب عمالقہ کی بستی فتح ہوئی تو حکم تھا کہ اس بستی کے دروازہ پر شکریہ کا سجدہ کر کے جاؤ اور حطۃ کا لفظ کہو جس کے معنی ” گناہوں کے زائل ہوجانے کے ہیں “۔ بنی اسرائیل نے یہ شرارت کہ کہ بجائے سجدہ کے وہ چوتڑوں کے بل گسٹنے لگے اور بجائے حطۃ کے حنطۃ کہا جس کے معنی :” گیہوں “ کے ہیں ۔ اس شرارت کے وبال سے ان میں طاعون پھیلا اور دوپہر کے عرصہ میں ستر ہزار کے قریب آدمی ہلاک ہوگئے ۔ مسئلہ : صحاح کی حدیث میں ہے کہ طاعون پچھلی امتوں کے عذاب کا بقیہ ہے ۔ جب تمہارے شہر میں واقع ہو وہاں سے نہ بھاگو دوسرے شہر میں ہو تو وہاں نہ جاؤ، مسئلہ : صحیح حدیث میں ہے کہ جو لوگ مقام وبا میں رضائے الٰہی پر صابر رہیں ، اگر…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 58–60

(ف 1) بارہ چشمے : جنگل میں بنی اسرائیل موسیٰ (علیہ السلام) کے ساتھ آئے تھے ، وہ بےآب وگیاہ جنگل تھا ، پانی کی سخت تکلیف تھی ، اس لئے ان کی درخواست پر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ سے درخواست کی حکم ہوا پتھر پر معجز طراز لٹھ رسید کرو تعمیل کی گئی اور بطور اعجاز کے بارہ چشمے پتھر سے پھوٹ نکلے جو بنی اسرائیل کے بارہ قبائل کے لئے کافی تھے ۔ قرآن حکیم کے انداز بیان سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ محض اتفاق نہ تھا ، درخواست تھی ، پھر تکمیل درخواست کو اس معجزانہ شکل میں پیش کیا ، وہ لوگ جو اس کی تاویل کرتے تھے ، صحیح مسلک پر نہیں ہیں قرآن حکیم کے الفاظ کسی تاویل کے مستحق نہیں اور نہ متحمل ۔ حل لغات : رجز :…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

ف 3 اور وہ زمانہ یاد کرو جب اے بنی اسرائیل ہم نے تم کو حکم دیا کہ تم اس بستی میں داخل ہو پھر اس کی چیزیں میں سے بےتکلفی کے ساتھ خوب جی بھر کر اور شکم سیر ہو کر کھائو اور یہ بھی حکم دیا کہ جب اس بستی کے دروزے میں داخل ہونے لگو تو عاجزی کے ساتھ کمر کو جھکائے ہوئے داخل ہونا اور زبان سے حطۃ کہتے جانا یعنی بخشدے ہماری توبہ ہے ایسا کرو گے تو ہم تمہائیں خطائیں معاف کردیں گے اور مزید برآں نیک روش اختیار کرنے والوں کے ساتھ اور بھی سلوک کریں گے۔ جس بستی میں داخل ہنے کا حکم ہوا تھا وہ بیت المقدس یا اس کے قریب اور کوئی بستی تھی اور ہوسکتا ہے کہ وہ اریحا ہو جیسا کہ عبداللہ عباس فرماتے ہیں۔ بہرحال بظاہر…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 57–58

ف 5۔ یہ دونوں قصے وادی تیہ میں ہوئے، تیہ کے معنی ہیں سرگردانی۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

شہر میں داخلے کا حکم : 118: اب تک یہ لوگ جنگلوں کی زندگی بسر کرتے تھے ، جہاں ایک طرف تو ضروریات حیات نہایت ہی قلیل اور مختصر تھیں۔ دوسری طرف فواحش و منہیات اور حرام کاری کے سامان بھی نایاب تھے۔ ایک مدت تک جنگل میں رہنے کے بعد ان کے دلوں میں خود بخود شہری زندگی کی آرزو پیدا ہوئی انہیں ایک شہر میں داخلہ کی اجازت تو دی گئی مگر خاص پابندی کے ساتھ ، وہ پابندی یہ تھی کہ ان سے کہہ دیا گیا کہ وہاں نفسی خواہش اور بدکاری کے مواقع تم کو کثرت سے ملیں گے اس لئے ایسی برائیوں اور بدکاریوں سے بچتے رہنا اور قانون کی خلاف ورزی نہ کرنا ، عبادت میں مصروف رہ کر گناہوں سے بچنے کے لئے اللہ سے دعا کرنا کہ وہی ہر قسم…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

There are two views as to when this incident took place. According to Shah ` Abd al-Qadir (رح) ، when the Israelites grew weary of eating the same Mann مَن and Salwa سلوا every day and prayed for being granted the kind of food they were used to (2:61), they were commanded to go to a certain city where they could get what they wished for. So, the commandment in the present verse pertains to the mode of entering this city, and lays down the spiritual etiquette for action and speech on this occasion. On the other hand is the view that the commandment pertains to the city against which the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 58–59

74. It has not yet been possible to arrive at any conclusion about the identity of the locality mentioned here. The series of events in the context of which God's command to enter the city is mentioned belong to the period of the exodus of the Children of Israel in the Sinai peninsula. It is therefore probable that the place mentioned in this verse is some Sinaitic city. Another plausible suggestion is that it is Shattim, which was located opposite Jericho on the eastern bank of the river Jordan. According to the Bible the Iscaelites conquered this town during the last years of.the life of…

Read the full tafseer →