یہود پہ احسانات الہیہ کی تفصیل
سابقہ آیات میں بیان ہوا تھا کہ فلاں فلاں بلائیں ہم نے تم پر سے دفع کردیں اب بیان ہو رہا ہے کہ فلاں فلاں نعمتیں بھی ہم نے تمہیں عطا فرمائیں غمام غمامتہ کی جمع ہے چونکہ یہ آسمان کو چھپا لیتا ہے اس لئے اسے غمامہ کہتے ہیں یہ ایک سفید رنگ کا بادل تھا جو وادی تیہ میں ان کے سروں پر سایہ کئے رہتا تھا جیسے نسائی وغیرہ میں ابن عباس سے ایک لمبی حدیث میں مروی ہے، ابن ابی حاتم کہتے ہیں کہ ابن عمر ربیع بن انس ابو مجاز ضحاک اور سدی نے بھی یہی کہا ہے حسن اور قتادہ بھی یہی کہتے ہیں اور لوگ کہتے ہیں کہ یہ بادل عام بادلوں سے زیادہ ٹھنڈک والا اور زیادہ عمدہ تھا۔ حضرت مجاہد فرماتے…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 72
یعنی جزیرہ نمائے سینا میں جہاں دھوپ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ تمہیں میسّر نہ تھی، ہم نے ابر سے تمہارے بچاؤ کا انتظام کیا۔ اس موقع پر خیال رہے کہ بنی اسرائیل لاکھوں کی تعداد میں مصر سے نکل کر آئے تھے اور سینا کے علاقے میں مکانات کا تو کیا ذکر، سر چھپانے کے لیے ان کے پاس خیمے تک نہ تھے۔ اس زمانے میں اگر خدا کی طرف سے ایک مدّت تک آسمان کو ابر آلود نہ رکھا جاتا، تو یہ قوم دھوپ سے ہلاک ہوجاتی۔
سورة الْبَقَرَة 73
مَنّ و سَلْویٰ وہ قدرتی غذائیں تھیں، جو اس مہاجرت کے زمانے میں ان لوگوں کو چالیس برس تک مسلسل ملتی رہیں۔ مَنّ دھنیے کے بیج جیسی ایک چیز تھی، جو اوس کی طرح گرتی اور…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور سایہ فگن کیا ہم نے تم پر ابر کو (میدان تیہ میں) اور (خزانہ غیب سے) پہنچایا ہم نے تمہارے پاس ترنجین اور بٹیریں (اور تم کو اجازت دی کہ) کھاؤ نفیس چیزوں سے جو کہ ہم نے تم کو دی ہیں (مگر وہ لوگ اس میں بھی خلاف بات کر بیٹھے) اور (اس سے) انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا لیکن اپنا ہی نقصان کرتے تھے،
فائدہدونوں قصے وادی تیہ میں واقع ہوئے وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام ہے حضرت یوسف ؑ کے وقت میں مصر آئے تھے اور یہاں ہی رہ پڑے اور ملک شام میں عمالقہ نامی قوم کا تسلط ہوگیا فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے تو اللہ تعالیٰ کا ان کو حکم ہوا کہ عمالقہ سے…
Read the full tafseer →یہ ان انعامات کا بیان ہے جو بنی اسرائیل پر صحرائے سینا میں اللہ تعالیٰ نے ان کو دھوپ اور فاقے کی مصیبت سے بچانے کے لئے کئے۔
“مَنّ”کے اصل معنی فضل واحسان کے ہیں لیکن یہاں اس سے مراد وہ خاص غذا ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے صحرائے سینا میں خاص اپنے فضل سے مہیا فرمائی، جس کے لئے نہ انہیں ہل چلانے پڑے، نہ تخم ریزی اور آب پاشی کی زحمتیں اٹھانی پڑیں۔ اس کی تفصیل اس طرح بیان ہوئی ہے:
“اور یوں ہوا کہ شام کو اتنی بٹیریں آئیں کہ ان کی خیمہ گاہ کو ڈھانپ لیا اور صبح کو خیمہ کے آس پاس اوس پڑی ہوئی تھی اور جب اوس جو پڑی تھی سوکھ گئی تو کیا دیکھتے ہیں کہ بیابان میں ایک چھوٹی چھوٹی گول چیز، ایسی…
Read the full tafseer →57۔ 1 اکثر مفسرین کے نزدیک یہ مصر اور شام کے درمیان میدان تیہ کا واقعہ ہے۔ جب انہوں نے حکم الٰہی عمالقہ کی بستی میں داخل ہونے سے انکار کردیا اور بطور سزا بنو اسرائیل چالیس سال تک تیہ کے میدان میں پڑے رہے۔ بعض کے نزدیک یہ تخصیص صحیح نہیں۔ یہ صحرائے سینا میں اترنے کے بعد جب سب سے پہلے پانی اور کھانے کا مسئلہ درپیش آیا تو اسی وقت یہ انتظام کیا گیا۔
58۔ 1 بعض کے نزدیک اوس جو درخت اور پتھر پر گرتی شہد کی طرح میٹھی ہوتی اور خشک ہو کر گوند کی طرح ہوجاتی۔ بعض کے نزدیک شہد یا میٹھا پانی ہے۔ بخاری و مسلم وغیرہ میں حدیث ہے کھمبی مَن کی اس قسم سے ہے جو حضرت موسیٰ ؑ پر نازل ہوئی، اس کا مطلب یہ ہے جس طرح…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
44 : جیسا کے سورة آل عمران میں آئے گا، بنی اسرائیل نے جہاد کے ایک حکم کی نافرمانی کی تھی جس کی پاداش میں انہیں صحرائے سینا میں مقید کردیا گیا تھا ؛ لیکن اس سزا یابی کے دوران بھی اللہ تعالیٰ نے انہیں جن نعمتوں سے نوازا یہاں ان کا ذکر ہورہا ہے، صحرا میں چونکہ کوئی چھت ان کے سروں پر نہیں تھی اس لئے ان کو دھوپ کی تمازت سے بچانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے غیب سے یہ انتظام فرمایا کہ ایک بادل ان پر مسلسل سایہ کئے رہتا تھا اسی صحرا میں جہاں کوئی غذا دستیاب نہیں تھی اللہ تعالیٰ نے غیب سے من وسلوی کی شکل میں انہیں بہترین خوراک مہیا فرمائی، بعض روایات کے مطابق من سے مراد ترنجبین ہے جو اس علاقے میں افراط سے…
Read the full tafseer →اس کے بعد اللہ تعالیٰ انہیں وہ مراعات اور احسانات یاددلاتے ہیں ، جو اس نے ان پر سینائی کے چٹیل میدان میں کئے ، ان کو کھانے کے لئے مطلوبہ خوراک دی گئی ۔ جس کے لئے انہیں کوئی خاص محنت نہ کرنی پڑتی تھی ، بےکدوکاش وہ انہیں مل جاتی تھی ۔ پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی حکمت اور تدبیر خاص سے انہیں صحرا کی تپش اور سورج کی جھلسادینے والی گرمی سے بچایا۔
وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَأَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوَى كُلُوا مِنْ طَيِّبَاتِ مَا رَزَقْنَاكُمْ وَمَا ظَلَمُونَا وَلَكِنْ كَانُوا أَنْفُسَهُمْ يَظْلِمُونَ ” ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا ، من سلویٰ کی غذا تمہارے لئے فراہم کی اور تم سے…
Read the full tafseer →6 جب فرعون غرق ہوچکا اور بنی اسرائیل بحکم الٰہی مصر سے شام کو چلے جنگل میں ان کے خیمے پھٹ گئے اور گرمی آفتاب کی ہوئی تو تمام دن ابر رہتا اور اناج نہ رہا تو مَن وسلویٰ کھانے کے لیے اترتا من ایک چیز تھی شیریں دھنیے کے سے دانے ترنجبین کے مشابہ رات کو اوس میں برستے لشکر کے گرد ڈھیر لگ جاتے صبح کو ہر ایک اپنی حاجت کے موافق اٹھا لیتا۔ اور سلویٰ ایک پرندہ ہے جس کو بٹیر کہتے ہیں۔ شام کو لشکر کے گرد ہزاروں جمع ہوجاتے۔ اندھیرا ہوئے بعد پکڑ لاتے کباب کر کے کھاتے مدتوں تک یہی کھایا کیئے۔
7 یعنی اس لطیف و لذیذ غذا کو کھاؤ اور اس پر اکتفا کرو نہ آگے کے لیے ذخیرہ جمع کر کے رکھو اور نہ دوسری غذا سے مبادلہ کی…
Read the full tafseer →آیت 57 وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ
جزیرہ نمائے سینا کے لق و دق صحرا میں چھ لاکھ کا قافلہ چل رہا ہے ‘ کوئی اوٹ نہیں ‘ کوئی سایہ نہیں ‘ دھوپ کی تپش سے بچنے کا کوئی انتظام نہیں۔ ان حالات میں ان پر اللہ تعالیٰ کا یہ فضل ہوا کہ تمام دن ایک بادل ان پر سایہ کیے رہتا اور جہاں جہاں وہ جاتے وہ بادل ان کے ساتھ ساتھ ہوتا۔
وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی ط“
صحرائے سینا میں بنی اسرائیل کے پاس کھانے کو کچھ نہیں تھا تو ان کے لیے مَنّ وسلویٰ نازل کیے گئے۔ ”مَنّ“ رات کے وقت شبنم کے قطروں کی مانند اترتا تھا ‘ جس میں شیرینی بھی ہوتی تھی ‘ اور اس کے قطرے زمین پر آکر جم جاتے تھے اور دانوں کی…
Read the full tafseer →73 بنی اسرائیل کا جہاد سے انکار :۔ یہ واقعہ تفصیل سے سورة مائدہ میں آئے گا۔ مختصر یہ کہ موسیٰ (علیہ السلام) جب بنی اسرائیل کو لے کر وادی سینا میں پہنچے تو اس وقت یہ قوم لاکھوں کی تعداد میں تھی۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے ملک شام پر حملہ کرنے کے لیے کہا ( یہی وہ ملک تھا جس کا ان سے وعدہ کیا گیا تھا) تو کہنے لگے ! موسیٰ وہاں تو جابر قسم کے لوگ رہتے ہیں۔ لہذا ہم ان کے مقابلہ کی سکت نہیں رکھتے، اور اگر یہ حملہ ایسا ہی ضروری ہے تو تم اور تمہارا پروردگار دونوں جا کر ان سے جنگ کرو ہم تو یہاں ہی بیٹھتے ہیں۔ ان کا یہ جواب دراصل اس بزدلی کی وجہ سے تھا جو مدتوں فرعون کی غلامی میں رہنے کی وجہ سے ان میں پیدا…
Read the full tafseer →189 ۔ (تمہیں آفتاب کی تپش سے بچانے کے لیے جب کہ تم صحرائے سینا میں بھٹک رہے تھے) جزیرہ نمائے سینا جیسے ریگستانی ملک اور چٹیل میدان کی دھوپ میں سایہ میسرآجانا واقعی سایہ رحمت سے کم نہیں۔ توریت میں ستون ابر اور ستون زر دونوں کا ذکر بہ طور معجزہ کے ہیں سیاق قرآنی سے معجزہ کا پہلو لازم نہیں آتا۔ ذکر عام نعمتوں کا ہورہا ہے جو بنی اسرائیل پر ان کی توریت میں ہے :۔ ” اور خداونددن کو بدلی کے ستون میں تاکہ انہیں راہ بتائے اور رات کو آگ کے ستون میں ہو کے تاکہ انہیں روشنی بخشے ان کے آگے چلا جاتا تھا تاکہ دن رات چلے جائیں اور بدلی کا ستون دن کو اور آگ کا ستون رات کو ان کے آگے سے ہرگز نہ اٹھاتا تھا۔ “…
Read the full tafseer →وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ ، (الآیة) یہ دونوں قصے وادی تیہ میں پیش آئے، وادی تیہ کی حقیقت یہ ہے کہ بنی اسرائیل کا اصل وطن ملک شام ہے، یہ لوگ حضرت یوسف علیہ الصلوٰة والسلام کے زمانہ میں مصر آئے تھے، اور یہاں کے باشندے ہوگئے اور ملک شام پر پھر عمالقہ نامی ایک قوم کا تسلط ہوگیا، فرعون جب غرق ہوگیا اور یہ لوگ مطمئن ہوگئے، تو اللہ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا کہ عمالقہ سے جہاد کرو اور اپنے وطن کو ان سے آزاد کراؤ بنی اسرائیل اسی ارادہ سے مصر سے روانہ ہوئے، ان کی حدود میں پہنچ کر جب عمالقہ کے زوروقوت کا حال معلوم ہوا تو ہمت ہار بیٹھے اور جہاد سے صاف انکار کردیا اور کہہ دیا، فاذھب انت وربک الخ…
Read the full tafseer →وَ ظَلَّلْنَا عَلَیْکُمْ الْغَمَامَ ( اور ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا) غمام ( ابر) غم (بمعنی چھپانے اور پوشیدہ کرنے) سے مشتق ہے اور ابر کو غمام اس وجہ سے کہتے ہیں کہ وہ آفتاب کو چھپا لیتا ہے۔ یہ قصہ اس طرح ہوا تھا کہ بنی اسرائیل کو قوم عمالقہ سے جہاد کرنے کا حکم ہوا یہ تعمیل حکم میں جھجکے اور سستی کی اس پر انہیں ایک سنسان ہُو کے میدان 1 میں چالیس سال تک حیران و پریشان پھرنے کی سزا ملی تو آخر کار اس ہولناک میدان میں کہ جس میں نہ کوئی درخت سایہ دار تھا اور نہ کوئی سایہ کی شے تھے بھٹکتے پھرے سب نے موسیٰ (علیہ السلام) سے شکایت کی آپ کی مناجات پر حق تعالیٰ نے ایک پتلا پتلا سفید ابر بارش کے ابر…
Read the full tafseer →(57) اور ہم نے وادی تیہ میں تم پر بادل کو سایہ فگن کیا اور بٹیر تمہارے پاس وادی تیہ میں پہنچائے اور یہ حلال روزیاں ہم نے تمہیں کھانے کو دیں مگر کل کے لیے اس میں سے جمع کرکے مت رکھو لیکن تم نے ایسا ہی کیا اور ہم نے ان کے ذخیرہ بنانے کی وجہ سے کوئی کمی نہیں مگر کل کے لئے اس میں سے جمع کرکے مت رکھو لیکن تم نے ایسا ہی کیا اور ہم نے ان کے ذخیرہ بنانے کی وجہ سے کوئی کمی نہیں مگر خود انہوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا۔
Read the full tafseer →صحرائے سینا میں ان کے پاس کھانے کے لیے کچھ نہ تھا اور صحرا کی دھوپ انھیں جلائے دیتی تھی تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل کا سایہ کردیا اور کھانے کے لیے من وسلویٰ کا انتظام فرما دیا۔ ”مَنَّ“ کی تفسیر میں سب سے صحیح رسول اللہ ﷺ کی تفسیر ہے، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (اَلْکَمَأَۃُ مِنَ الْمَنِّ وَمَاءُھَا شِفَاءٌ لِلْعَیْنِ) [ بخاری، الطب، باب المن شفاء للعین : 5708۔ مسلم : 2069، عن سعید بن زید ؓ ] ”کھنبی ”مَنَّ“ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھ کے لیے شفا ہے۔“ اس سے معلوم ہوا کہ ”مَنَّ“ متعدد چیزیں تھیں جو صحرا میں خود بخود پیدا ہوتی تھیں، ان میں سے ایک کھنبی بھی تھی۔ اسی طرح وہ میٹھی گوند…
Read the full tafseer →آیت نمبر 57
اس میں آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وظللنا علیکم الضمام یعنی ہم نے بادل کو تم پر چھتری کی مانند کردیا۔ الغمام جمع ہے غمامۃ کی جیسے سحابۃ اور سحاب۔ یہ اخفش سعید نے کہا ہے۔ فراء نے کہا : غمائم بھی جائز ہے اس سے مراد بادل ہیں کیونکہ وہ آسمان کو ڈھانپ دیتے ہیں۔ ہر وہ چیز جو ڈھانپی گئی ہو وہ مغموم ہے۔ اسی سے المغموم علی عقلہ اور غم الھلال ہے جب چاند کو بادل ڈھانپ دے۔ الغین بھی الغیم کی مثل ہے۔ نبی کریم ﷺ کا ارشاد ہے : انہ لیعان علی قلبی۔ میرے دل پر چھا جائے۔ صاحب العین نے کہا : غین علیہ کا مطلب اسے ڈھانپا گیا۔ الغین گھنے درختوں کو کہتے ہیں۔ سدی نے کہا : الغمام…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیم الغمام “ سے مراد ہے جس بادل سے بنی اسرائیل پر سایہ کیا گیا اس سے ٹھنڈا اور پاکیزہ بادل وہ ہوگا جس میں قیامت کے دن اللہ کا حکم آئے گا قیامت کے دن آئے گا اور یہ وہی بادل ہے جس میں بدر کے دن فرشتے اترے تھے اور یہ بادل ان کے ساتھ میدان تیسہ میں رہا تھا۔
(2) حضرت وکیع، عبد بن حمید، ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وظللنا علیکم الغمام “ سے مراد یہ وہ بادل نہیں ہوتا جس میں اللہ تعالیٰ قیامت کے دن تشریف لائیں گے اور یہ صرف ان (بنی اسرائیل) کے لیے تھا۔
(3) حضرت ابو الشیخ نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ…
Read the full tafseer →[ وَظَلَّلْنَا : اور ہم نے سایہ فگن کیا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْغَمَامَ : بادل کو ] [ وَاَنْزَلْنَا : اور ہم نے اتارا ] [ عَلَيْكُمُ : تم لوگوں پر ] [ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى ۭ : من اور سلوی ] [ كُلُوْا : تم لوگ کھاؤ ] [ مِنْ طَيِّبٰتِ مَا : اس کے پاکیزہ سے جو ] [ رَزَقْنٰكُمْ ۭ : ہم نے عطا کیا تم لوگوں کو ] [ وَمَا ظَلَمُوْنَا : اور انہوں نے ظلم نہیں کیا ہم پر ] [ وَلٰكِنْ : اور لیکن ] [ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ : وہ لوگ اپنے آپ پر ظلم کیا کرتے تھے ]
Read the full tafseer →میدان تیہ میں بنی اسرائیل پر بادلوں کا سایہ کرنا اور من وسلوی نازل ہونا
جب بنی اسرائیل مصر سے سے نکلے اور دریا پار کرکے ایک بیابان جنگل میں پہنچے جہاں سے ان کو اپنے وطن کنعان جانا تھا اور وہاں پہنچنے میں چالیس سال لگ گئے صبح کو جہاں سے چلتے تھے شام کو وہیں موجود ہوتے تھے۔ (ذکرہ البیضاوی فی تفسیر قولہ تعالیٰ یَتِیْھُوْنَ فِی الْاَرْضِ ) ۔ دھوپ اور گرمی میں چلنا اور روزانہ چلنا نہایت تکلیف دہ تھا انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) سے عرض کیا کہ ہمارے لیے کچھ سایہ کا انتظام ہونا چاہیے۔ موسیٰ (علیہ السلام) نے بارگاہ خداوندی میں دعاء کی جس کی وجہ سے ان کے لیے بادل بھیج دئیے گئے دن میں جب وہ سفر…
Read the full tafseer →وظللنا علیکم الغمام وانزلنا علیکم المن والسلوی۔ جب بنی اسرائیل کو عمالقہ سے جہاد کرنے کا حکم ہوا تو بہت شاق اور گراں ہوا اور بالآخر یہ کہہ دیا کہ اے موسیٰ تم اور تمہارا رب جا کر جہاد اور قتال کرلو ہم تو یہیں بیٹھے ہیں اس جرم میں چالیس سال تک ایک میدان میں حیران وپریشان پھرنے کی سزا ملی اس وقت موسیٰ (علیہ السلام) کی دعاء سے ایک سفید ابر سایہ کے لیے بھیجا تاکہ دھوپ کی تکلیف نہ ہو اور کھانے کے لیے من وسلوی نازل فرمایا اور ایک نور کا ستون عطاء فرمایا جو اندھیری راتوں میں چاند کا کام دیتا تھا آئندہ آیت میں اسی واقعہ کی طرف اشارہ ہے اور اے بنی سارائیل سایہ کیا وادی تیہ میں ہم نے تم پر ابر کا۔ قتادہ…
Read the full tafseer →ف 115 ۔ یہ ساتواں انعام ہے۔ بنی اسرائیل کا اصلی وطن ملک شام تھا۔ حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں مصر میں آکر آباد ہوگئے تھے۔ جب فرعون غرق ہوگیا اور اسرائیلی بالکل مطمئن ہوگئے تو انہیں قوم عمالقہ سے جو اس وقت ملک شام پر قابض تھے جہاد کر کے اپنا وطن آزاد کرانے کا حکم ملا تو یہ لوگ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سر کردگی میں جہاد کے لیے چل نکلے جب قریب پہنچے اور عمالقہ کی طاقت اور قوت کا پتہ چلا تو ہمت ہار بیٹھے اور ان سے لڑنے صاف انکار کردیا۔ اس پر اللہ نے ان کو یہ سزا دی کہ وہ پورے چالیس سال میدان تیہ میں سرگرداں اور مارے مارے پھرتے رہے۔ یہ جنگل بالکل چٹیل اور بےآب وگیاہ تھا۔ اس میں نہ سایہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ربط آیات : بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کی سرکشی کا ذکر آچکا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر جو انعامات کیے ان کا ذکر بھی ہوگیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا۔ “ واذ اتینا موسیٰ الکتب والفرقان ” یعنی اس وقت کو دھیان میں لاؤ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فیصلہ کن بات عنایت کی۔ اس کے لیے خود بنی اسرائیل کے لوگوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے لیے کوئی ضابطہ حیات ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر اعتکاف بیٹھنے کی ہدایت کی اور تکمیل اعتکاف پر اللہ تعالیٰ نے توراۃ عطا فرمائی ۔
رؤیت اعلیٰ کی خواہش : موسیٰ (علیہ السلام) کتاب توراۃ لے کر قوم کے پاس آئے اور انہیں…
Read the full tafseer →وَظَلَّلْنَا عَلَيْكُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَيْكُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰى 0 ۭ كُلُوْا مِنْ طَيِّبٰتِ مَا رَزَقْنٰكُمْ 0 ۭ وَمَا ظَلَمُوْنَا وَلٰكِنْ كَانُوْٓا اَنْفُسَھُمْ يَظْلِمُوْنَ 57
ظلل
الظِّلُّ : ضدُّ الضَّحِّ ، وهو أعمُّ من الفیء، فإنه يقال : ظِلُّ اللّيلِ ، وظِلُّ الجنّةِ ، ويقال لكلّ موضع لم تصل إليه الشّمس : ظِلٌّ ، ولا يقال الفیءُ إلّا لما زال عنه الشمس، ويعبّر بِالظِّلِّ عن العزّة والمنعة، وعن الرّفاهة، قال تعالی: إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي ظِلالٍ [ المرسلات/ 41] ، أي :
في عزّة ومناع،
( ظ ل ل ) الظل
۔ سایہ یہ الضح ( دهوپ ) کی ضد ہے اور فیی سے زیادہ عام ہے کیونکہ ( مجازا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–59
ترکیب : ظللنا فعل بافاعل علیکم متعلق ہے فعل سے الغمام مفعول اور یہ جنس ہے اور جب واحد مراد ہوتا ہے توت زیادہ کرتے ہیں غمامہ بولتے ہیں۔ کلوا فعل بافاعل شیئًا مفعول محذوف من بیان ہے اس محذوف کا طیبات مضاف مارزقناکم مضاف الیہ انفسہم مفعول ہے یظلمون کا ای کانوا یظلمون انفسہم۔ واذ قلنا فعل نحن فاعل ادخلوا فعل انتم فاعل ھذہ موصوف القریہ صفت یہ مجموعہ مفعول فیہ ہوا ادخلوا کا اور کل مقولہ ہوا قلنا کا رغدا منصوب ہے۔ یا اس وجہ سے کہ مفعول مطلق ہے ای اکلا واسعا یا حال ہے فاعل کلوا سے سجدا جمع ساجد حال ہے فاعل اد خلوا سے ای متواضعین۔ حطۃ خبر ہے مبتداء محذوف کی ای سوالنا حطۃ پھر یہ مجموعہ مقولہ ہے قولو…
Read the full tafseer →وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰیط کُلُوْا مِنْ طَیِّبٰتِ مَارَزَقْنٰکُمْ ط وَمَاظَلَمُوْنَا وَلٰکِنْ کَانُوْٓ اَنْفُسَھُمْ یَظْلِمُوْنَ ۔ (البقرۃ : 57)
(اور تم پر بدلیوں کا سایہ کیا اور تم پر من وسلویٰ اتارے، کھائو ان پاکیزہ چیزوں میں سے جو ہم نے تم کو بخشی ہیں اور انھوں نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا بلکہ وہ اپنی ہی جانوں پر ظلم کرتے رہے)
اللہ کے احسانات
ہم پیچھے پڑھ چکے ہیں کہ بحر قلزم عبور کرنے کے بعد بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سیناکے مختلف علاقوں میں قیام پذیر ہوئے۔ یہ لوگ بےسروسامانی میں گھر سے نکلے تھے۔ کوئی خیمہ ڈیرہ ساتھ نہ تھا۔ ہوتابھی تو کب تک…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل پر من وسلویٰ کی شکل میں ساتواں اور آٹھواں احسان۔
بنی اسرائیل کا آزادی کے بعدشکر کی بجائے شرک کرنا، جناب موسیٰ (علیہ السلام) پر عدم اعتماد کا اظہار اور اللہ تعالیٰ کو خود دیکھنے کا گستاخانہ مطالبہ، وطن کی آزادی کے لیے جہاد فی سبیل اللہ سے انکار جیسے پے در پے سنگین جرائم کرنے کے بعد چاہیے تو یہ تھا کہ ان کو صحرائے سینا میں تڑپ تڑپ کر بھوک سے مرنے دیا جاتا۔ لیکن اس کے باوجود رحیم و کریم رب نے انہیں پہلے سے زیادہ عمدہ و لذیذ کھانا ‘ گھنے بادلوں کا سایہ، پینے کے لیے میٹھے اور صاف و شفاف چشموں کا پانی عنایت کرتے ہوئے فرمایا کہ انہوں نے ہم پر زیادتی نہیں کی وہ خود…
Read the full tafseer →وَظَلَّلْنَا عَلَیْکُمُ الْغَمَامَ : (ہم نے تم پر بادلوں کا سایہ کردیا) ہم نے بادلوں کو تمہیں سایہ کرنے والا بنادیا یہ میدان تیہ کا واقعہ ہے بادل کو ان کے کام میں لگادیا۔ کہ ان کے چلنے پر ساتھ چلیں۔ اور دھوپ سے ان پر سایہ کریں۔ اور رات کو روشنی کے ستون اترتے جن کی روشنی میں چلتے۔ ان کے کپڑے میلے نہ ہوتے۔ اور نہ پرانے ہوتے۔
وَاَنْزَلْنَا عَلَیْکُمُ الْمَنَّ وَالسَّلْوٰی : (اور اتارا تم پر من وسلوٰی) ترنجبین وہ طلوع شمس کے وقت برف کی طرح ان پر اترتا۔ ہر انسان کے لیے ایک جیسا ہوتا۔
السلوٰی : جنوبی ہوا سے اللہ تعالیٰ ان پر سلویٰ پر ندے بھیجتا۔ وہ بٹیر ہے ‘ پھر آدمی اپنی ضرورت کے مطابق ذبح کرلیتا۔…
Read the full tafseer →57۔ (آیت)” وظللنا علیکم الغمام “۔ (تم پر بادلوں کا سایہ کیا) جنگل میں جو تمہیں سورج کی گرمی سے بچاتا تھا اور غمام غم سے ہے جس کا اصل معنی چھپانا ستر کرنا ہے بادل کو غمام اس لیے کہا جاتا ہے کیونکہ وہ سورج کے چہرے کو چھپاتا ہے اور یہ اس لیے کہ ان کے لیے جنگل میں کسی قسم کا کوئی جھونپڑا وغیرہ نہ تھا جو ان کو چھپاتا تو انہوں نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف شکایت کی ، پس اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف سفید اور پتلا بادل بھیجا جو بارش کے بادل سے زیادہ طیب تھا اور ان کے لیے نور کا ستون بھیجا جو ان کے لیے رات کو چمکتا تھا جب رات چاندنی نہ ہوتی (آیت)” وانزلنا علیکم المن والسلوی “ یعنی جنگل میں اکثر حضرات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–61
پورا قصہ تو سورة مائدہ میں آئے گا مگر ان آیتوں کا مطلب اس قصہ کے اس قدر خلاصہ سے سمجھ میں آسکتا ہے۔ کہ بیت المقدس میں اس زمانہ میں جب کہ بنی اسرائیل مصر سے نکلے تھے قوم عاد کے بقیہ لوگ بستے تھے جو عمالقہ قوم کے نام سے مشہور تھے۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی اور اس میں بنی اسرائیل بس جائیں گے۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ان کا حال سن کر بنی اسرائیل نے ان کے ساتھ لڑنے سے انکا کردیا۔ اس شرارت اور گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان ایک جنگل میں چالیس برس تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →162 بنی اسرائیل کیلئے عظیم الشان سائے کا انتظام : سو بنی اسرائیل کے لیے اس تپتے صحرا میں بادلوں کے ایک عظیم الشان سائبان کی نعمت کا اہتمام و انتظام کیا گیا جب مصر سے نکلنے کے بعد جزیرہ نمائے سینا میں تمہارے لئے سر چھپانے کی بھی کوئی جگہ میسر نہ تھی، تو ہم نے ٹھنڈے اور سفید بادلوں سے ۔ کما قال ابن عباس ۔ تمہارے لئے عمدہ سائے کا عظیم الشان انتظام کیا، ورنہ اس گرم اور تپتے ہوئے صحرا میں اتنے لاکھ لوگوں کیلئے اس طرح سائے کا انتظام کرنا کسی کے بس میں نہ تھا، اور اگر اس سائے کا انتظام نہ کیا جاتا تو کھلے آسمان تلے اس صحرا کی آگ برساتی دھوپ میں تم لوگ جل کر مرجاتے، سو سوچو کہ یہ تم پر تمہارے رب کا…
Read the full tafseer →تشریح : اس آیت مبارکہ میں ایک اور احسان کا ذکر کیا جارہا ہے۔ جزیرہ نمائے سینا میں کوئی جائے پناہ نہ تھی یعنی کوئی سایہ نہ تھا ہزاروں کی تعداد میں بنی اسرائیل وہاں ٹھہرے ہوئے تھے، اور لوگ دھوپ کی تپش سے بےچین ہو رہے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر ابر سے سایہ کا انتظام کردیا اور کھانے پینے کا سامان بھی کردیا کہ بڑی ہی معمولی محنت سے ان لاکھوں افراد کا پیٹ بھرتا رہا وہ خوراک من وسلویٰ کے نام سے مشہور ہے۔ ” من “ تو دھنیا کے دانوں کی طرح اوس کی شکل میں آسمان سے گرتی جسے وہ اکٹھا کرلیتے اور ” سلویٰ “ یہ چھوٹے بٹیر کی شکل میں ان کو دیئے گئے یہ نیچی پرواز کرتے اور بڑی آسانی سے پکڑ لئے جاتے تھے۔ بنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 1 ۔ جزیرہ نمائے سینا میں ان کے غذا کے ذخیرے ختم ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل سے سایہ کیا اور کھانے کے لیے من وسلوی اتارا۔ دھنیے کے دانوں جیسی میٹھی چیز تھی جو ان پر اوس کی مانند رات کے وقت گرتی اور لشکر کے گرد ڈھیر لگ جاتے مفسرین نے لکھا ہے ایک قسم کا گوند تھا جو نہا یت شریں اور لذیذ تھا۔ اور سلوی بٹیر کی طرح ایک پرند تھا جو شام کے وقت لشکر کے گرد ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوجاتا اور بنی اسرائیل انہیں پکڑ کھالیتے ہیں ابن کثیر، قرطبی)
Read the full tafseer →(2:57) وظلنا علیکم الغمام اور انزلنا علیکم المن والسلوی ہر دو جملوں کا عطف بعثنکم پر ہے۔ ظللنا، ماضی جمع متکلم تظلیل (تفعیل) مصدر سے، ہم نے سایہ کیا۔ ہم نے سایہ فگن کردیا۔
علیکم الغمام۔ علیکم جار مجرور مل کر متعلق فعل ہے اور الغمام اسم جنس ہے اور فعل ظللنا کا مفعول ہے بمعنی ابر، بادل المن اسم ہے۔ شبنمی گوند جو وادی یتہ میں بھٹکنے والے اسرائیلوں کے کھانے کے لئے اللہ تعالیٰ روزانہ درختوں پر جما دیتا تھا۔
السلوی۔ ایک پرندہ ہے جس کو بٹیر کہتے ہیں۔
کلوا۔ امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر، اکل (باب نصر) مصدر سے اصل میں اوکلوا تھا ۔ تم کھاؤ۔
طیبت، ستھری چیزیں۔ پاکیزہ چیزیں۔ طیبۃ کی جمع طیبت مضاف ہے…
Read the full tafseer →لغات القرآن : آیت نمبر 57
ظلمنا (ہم نے سایہ کردیا) ۔ الغمام (بادل، ابر) ۔ من (من، دھنیے کے دانوں کی طرح لذیذ اور شیریں روٹی کی طرح) ۔ السلوی (سلوی، (صحرائے سینا کا پرندہ ، بٹیر) ۔ ظلموا (انہوں نے ظلم کیا) ۔ ما ظلمونا (انہوں نے ہم پر ظلم نہیں کیا) ۔ یظلمون (وہ ظلم و زیادتی کرتے ہیں۔
تشریح : آیت نمبر 57
بنی اسرائیل کا اصل وطن شام (فلسطین ) تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) کے زمانے میں حضرت یعقوب (علیہ السلام) اور ان کے تمام بیٹے کنعان سے مصر آگئے تھے۔ اس وقت تو ان کی تعداد بہتر (72) تھی لیکن پھر ان کے بارہ بیٹوں کی اولاد پھیلتی گئی اور بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے بن گئے۔ عمالقہ کا دور حکومت تھا جنہوں…
Read the full tafseer →من وسلویٰ کا ذکر : اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو ساتھ لے کر عمالقہ قوم سے لڑو ۔ اللہ کے حکم سے یہ بستی فتح ہوجائے گی ۔ یہ کنعانی عمالقہ نام کے لوگ قوی اور صاحب جسامت تھے ۔ ان کو دیکھ کر بنی اسرائیل نے ان سے لڑنے سے انکار کردیا ۔ اس گستاخی کی سزا میں ملک شام اور مصر کے درمیان کے جنگل میں چالیس برس تک بنی اسرائیل کو اللہ تعالیٰ نے قید کردیا ۔ دھوپ کے وقت ان پر سایہ ابر کا ہوتا تھا ، اور المن والسلویٰ ان کی غذا تھی ۔ مفسرین نے لکھا ہے کہ من ترنجبین کا نام ہے اور سلویٰ ایک قسم کے جانور تھے جو بنی اسرائیل کے پڑاؤ کی جگہ آجاتے تھے اور بنی اسرائیل ان کو پکڑلیتے…
Read the full tafseer →[44] من وسلویٰ قدرتی غذائیں تھیں جو بنی اسرائیل کو مہاجرت کے زمانے میں جزیرہ نمائے سینا میں چالیس سال تک ملتی رہیں۔ من سوکھے دھنیے کی مانند تھا اور سلویٰ ایک قسم کا بٹیر۔
[45] یعنی ان نعمتوں کو پا کر شکرگزار بننے کی بجائے ان کی ناقدری اور اللہ کی نافرمانی کرتے رہے۔
Read the full tafseer →(ف 2) سب سے بڑا فضل جو بنی اسرائیل پر ہوا ، وہ فکر معاش سے بےنیازی تھی ، تاکہ وہ پورے انہماک کے ساتھ دینی کاموں میں مشغول ہو سکیں ، ان پر من وسلوی کی نعمتیں نازل کی گئیں ، انہیں عام تکالیف سے بھی بچایا گیا ، جنگل کی دھوپ سے بچنے کے لئے ابر کا سایہ مہیا کیا گیا ، تاکہ انہیں کوئی شکایت باقی نہ رہے اور وہ پورے وقت ، قوت اور استعداد کے ساتھ اللہ کے مشن کو پورا کریں لیکن وہ انعامات الہیہ سے صحیح صحیح استفادہ نہ کرسکے ،
شہریت کے تین اصول :
بنی اسرائیل کو جب امام المفسرین حضرت ابن عباس ؓ کی روایت کے مطابق اریحاء میں داخلے کی اجازت مل گئی ، جو عمالقہ کا ایک مشہور شہر تھا تو ان پر چند قیود عائد کردی…
Read the full tafseer →ف 2 اور ہم نے تمہارے سروں پر بادل کو سایہ افگن کیا اور تمہارے لئے ہم نے ترنجیں اور بیٹریں نازل فرمائیں اور تم سے کہا کہ جو حلال اور لذیذ چیزیں ہم نے تم کو عطا کی ہیں ان میں سے کھائو اور انہوں نے ہمارا کوئی نقصان نہیں کیا بلکہ وہ خود اپنا ہی نقصان کرتے رہے۔ (تیسیر)
یہ احسان ان پر اس وقت ہوا جب وہ ارض تیہ میں تھے کیونکہ فرعن سے نجات پانے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ تم اپنے اصل وطن شام میں چلے جائو اور وہاں قوم عمالقہ کا قبضہ ہے ان سے جہاد کرو اور ان پر فتح حاصل کرلو بنی اسرائیل پہلے تو اس پر آمادہ ہوگئے لیکن شام کے قریب جا کر لڑنے سے انکار کردیا اللہ تعالیٰ نے سزا دی اور کہا چالیس سال تک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 57–58
ف 5۔ یہ دونوں قصے وادی تیہ میں ہوئے، تیہ کے معنی ہیں سرگردانی۔
Read the full tafseer →ریگستان میں بادلوں کے سایہ کا انعام یعنی تیسرا معجزہ :
115: بنی اسرائیل کو ایسے جنگل یا ریگستان میں رہنا پڑا ، جہاں نہ تو پانی تھا اور نہ ہی کوئی درخت۔ ظاہر ہے گرمی کا موسم ، گرمی کی شدت اور مکانات وہاں موجود نہ تھے ایک طرح کی بدویانہ زندگی اختیار کرنا پڑی۔ پس ان حالات کے اندر بادل کا آنا گویا عظیم الشان نعمائے الٰہی میں سے تھا۔ حالات کی ناسازگاری کے اوقات میں حالات کا سازگار ہوجانا اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا احسان ہے اور وقت کے نبی و رسول کی اطلاع کے بعد بروقت اس کام کا ہونا معجزہ کہلاتا ہے۔ بادلوں کا سایہ سائے کی ضرورت کے وقت احسان الٰہی ہے اور موسیٰ (علیہ السلام) کی پیشگی اطلاع کے سبب اس کو…
Read the full tafseer →These two incidents took place in the wilderness of Tih. The Israelites belonged to Syria, but had gone to Egypt in the time of Sayyidna Yusuf (علیہ السلام) (Joseph), and settled there, while Syria itself had come under the domination of a people called the ` Amaliqah (Amaleks). When the Pharaoh had been drowned and the Israelites could live in peace, Allah commanded them to go to war against the ` Amaliqah, and to free their homeland. The Israelites started on the expedition, but, on approaching Syria, when they came to learn about the military strength of the foe, their courage failed them,…
Read the full tafseer →72. That is, God provided them with shade from clouds in the Sinai peninsula where there was no shelter from the heat of the sun.
It should be remembered that the Israelites had left Egypt in their hundreds of thousands. In Sinai, there were not even any tents in which they could shelter, never mind proper houses. But for the fact that God by His grace kept the sky, overcast for a considerable period, these people would have been scorched to death by the heat of the sun.
73. Manna and quails constituted the natural food that was continually made available to them throughout the forty years of…
Read the full tafseer →