Explained with ayahs 55–56
ہم بھی اللہ عزوجل کو خود دیکھیں گے
موسیٰ ؑ جب اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستر شخصوں کو لے کر اللہ تعالیٰ کے وعدے کے مطابق کوہ طور پر گئے اور ان لوگوں نے کلام الٰہی سنا تو حضرت موسیٰ سے کہنے لگے ہم تو جب مانیں جب اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے خود دیکھ لیں۔ اس گستاخانہ سوال پر ان پر آسمان سے ان کے دیکھتے ہوئے بجلی گری اور ایک سخت ہولناک آواز ہوئی جس سے سب کے سب مرگئے۔ موسیٰ ؑ یہ دیکھ کر گریہ وزاری کرنے لگے اور رو رو کر جناب باری میں عرض کرنے لگے کہ اللہ بنی اسرائیل کو میں کیا جواب دوں گا یہ جماعت تو ان کے سرداروں اور بہترین لوگوں کی تھی پروردگار اگر یہی چاہت تھی تو انہیں اور مجھے اس سے پہلے ہی مار…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 71
یہ اشارہ جس واقعہ کی طرف ہے اس کی تفصیل یہ ہے کہ چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر جب حضرت موسیٰ ؑ طُور پر تشریف لے گئے تھے، تو آپ ؑ کو حکم ہوا تھا کہ اپنے ساتھ بنی اسرائیل کے ستّر نمائندے بھی لے کر آئیں۔ پھر جب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو کتاب اور فرقان عطا کی، تو آپ نے اسے ان نمائندوں کے سامنے پیش کیا۔ اس موقع پر قرآن کہتا ہے کہ ان میں سے بعض شریر کہنے لگے کہ ہم محض تمہارے بیان پر کیسے مان لیں کہ خدا تم سے ہم کلام ہوا ہے۔ اس پر اللہ تعالیٰ کا غضب نازل ہوا اور انہیں سزا دی گئی۔ لیکن بائیبل کہتی ہے کہ
”انہوں نے اسرائیل کے خدا کو دیکھا۔ اس کے پاؤں کے نیچے نیلم کے پتھر کا چبوترا…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر ہم نے (موسیٰ ؑ کی دعا سے) تم کو زندہ کر اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے،
فائدہموت کے لفظ سے ظاہراً معلوم ہوتا ہے کہ یہ لوگ اس بجلی سے مرگئے تھے ان کے دوبارہ زندہ کئے جانے کا قصہ یہ ہوا کہ موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ سے عرض کیا کہ بنی اسرائیل یوں ہی بدگمان رہتے ہیں اب وہ یہ سمجھیں گے کہ میں نے ان کو کہیں لے جا کر کسی تدبیر سے ان کا کام تمام کرا دیا ہوگا مجھ کو اس تہمت سے محفوظ رکھئے اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت سے ان کو پھر زندہ کردیا
Read the full tafseer →اس صاعقہ اور زلزلہ سے ان ستر سرداروں پر جو اس ۱ موقع پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ساتھ طور پر گئے تھے جو حالت طاری ہوئی، قرآن مجید نے اس کو موت سے تعبیر کیا ہے۔ اس موت سے موت بھی مراد ہوسکتی ہے اور بطریق استعارہ بے ہوشی بھی۔ عربی زبان میں موت کا لفظ استعارہ کے طور پر نیند اور بے ہوشی کے لئے بھی استعمال ہوا ہے۔۲ چنانچہ سو کر اٹھنے کے بعد کی جو مشہور دعا احادیث میں نقل ہوئی ہے اس کے الفاظ یہ ہیں، الحمد لِلہ الذی احیانا بعد ما اماتنا والیہ النشور (اس اللہ کے لئے شکر ہے جس نے ہمیں مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کیا اور اسی کی طرف لوٹنا ہے) اسی طرح بعثت کا لفظ بھی اصحاب کہف کے واقعہ میں ان کو نیند سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
55۔ 1 حضرت موسیٰ ؑ ستر (70) آدمیوں کو کوہ طور پر تورات لینے کے لئے ساتھ لے گئے۔ جب حضرت موسیٰ ؑ واپس آنے لگے تو انہوں نے کہا جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو اپنے سامنے نہ دیکھ لیں ہم تیری بات پر یقین کرنے کے لئے تیار نہیں ہیں۔ جس پر بطور عتاب ان پر بجلی گری اور مرگئے۔ حضرت موسیٰ ؑ سخت پریشان ہوئے اور ان کی زندگی کی دعا کی جس پر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندہ کردیا۔ دیکھتے ہوئے بجلی گرنے کا مطلب یہ ہے کہ ابتداء میں جن پر بجلی گری آخر والے اسے دیکھ رہے تھے حتٰی کہ سب موت کی آغوش میں چلے گئے۔
Read the full tafseer →43 : جب حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور سے تورات لے کر تشریف لائے تو بنی اسرائیل نے ان سے کہا کہ ہمیں کیسے یقین آئے کہ واقعی اللہ نے ہمیں اس کتاب پر عمل کرنے کا حکم دیا ہے، شروع میں ان پر حجت تمام کرنے کے لئے انہیں اللہ تعالیٰ نے براہ راست خطاب فرما کر تورات پر عمل کا حکم دیا مگر وہ کہنے لگے کہ جب تک ہم اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے نہ دیکھ لیں گے ہمیں یقین نہ آئے گا، ان کے اس گستاخانہ طرز عمل پر ایک بجلی کے کڑکے نے انہیں آگھیرا اور وہ بعض روایات کے مطابق مرگئے اور بعض روایات کے مطابق بےہوش ہوگئے پھر اللہ تعالیٰ نے انہیں دوبارہ زندگی دی۔ اس واقعے کی تفصیل بھی انشاء اللہ سورة اعراف میں آئے گی۔
Read the full tafseer →چناچہ اس کے بعد دوبارہ ان کو اللہ کی رحمت ڈھانپ لیتی ہے ۔ انہیں دوبارہ زندگی کا موقع دیا جاتا ہے تاکہ وہ نصیحت حاصل کریں اور رب العزت کا شکر ادا کریں۔
یہاں اللہ تعالیٰ انہیں اپنی وہ نعمت یاددلاتے ہیں ثُمَّ بَعَثْنَاكُمْ مِنْ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُونَ ” مگر پھر ہم نے تم کو جلااٹھایا ، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاؤ۔ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
5 اس وقت کو بھی ضرور یاد کرو کہ باوجود اس قدر احسانات کے جب تم نے کہا تھا کہ اے موسیٰ ہم ہرگز تمہارا یقین نہ کریں گے کہ یہ اللہ کا کلام ہے جب تک آنکھوں سے صریحاً خدائے تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں۔ اس پر بجلی نے تم کو ہلاک کیا اس کے بعد موسیٰ کی دعا سے ہم نے تم کو زندہ کیا اور یہ اس وقت کا حال ہے کہ حضرت موسیٰ ستر آدمیوں کو منتخب فرما کر کوہ طور پر کلام الٰہی سننے کی غرض سے لے گئے تھے۔ پھر جب انہوں نے کلام الٰہی کو سنا تو انہی ستر نے کہا اے موسیٰ پردے میں سننے کا ہم اعتبار نہیں کرتے آنکھوں سے خدا کو دکھاؤ۔ اس پر ان ستر آدمیوں کو بجلی نے ہلاک کردیا تھا۔
Read the full tafseer →آیت 56 ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ
بعض لوگ اس کی ایک تاویل کرتے ہیں کہ یہ موت نہیں تھی ‘ بلکہ زبردست کڑک کی وجہ سے سب کے سب بےہوش ہو کر گرپڑے تھے ‘ لیکن میرے نزدیک یہاں تاویل کی ضرورت نہیں ہے ‘ بعث بعد الموت اللہ کے لیے کچھ مشکل نہیں ہے۔ مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ کے الفاظ اپنے مفہوم کے اعتبار سے بالکل صریح ہیں ‘ انہیں خواہ مخواہ کوئی اور معنی پہنانا درست نہیں ہے۔
لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ
Read the full tafseer →72 اب موسیٰ (علیہ السلام) کو یہ فکر دامن گیر ہوئی کہ اکیلے واپس جا کر قوم کو کیا کہیں گے۔ چناچہ پھر اللہ تعالیٰ سے دعا کی اور فرمایا : اے اللہ ! اگر تیری یہ مشیت تھی تو آج سے پہلے انہیں اور مجھے بھی ہلاک کردیا ہوتا، کیا آج تو ان نادان لوگوں کی بات پر ہمیں ہلاک کرتا ہے ؟ (7 : 155) چناچہ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ کی دعا قبول فرما کر انہیں ازسر نو زندہ کردیا۔
Read the full tafseer →187 ۔ یہ احیاء حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی سفارش پر ہوا تھا۔ اسرائیلی روایات اس باب میں خاموش ہیں (آیت) ” بعثنکم “۔” جلااٹھایا تم کو “ یعنی انہیں ستر بزرگان قوم کو۔ (آیت) ” بعثنکم من بعد موتکم “ موت اور بعث دونوں کے کھلے ہوئے معنی مرنے اور جی اٹھانے کے ہیں۔ اور ایسا ہی مفسرین نے عموما سمجھا ہے، بلکہ یہ کہہ دیا ہے کہ بعد موت کے قید لگائی ہی اس لیے گئی ہے کہ بعث کو کوئی غشی یا نیند کے بعد نہ سمجھے۔ اے احییناکم (قرطبی) وقید البعث لانہ قدیکون ارواحہم ثم رد والا ستیفاء اجالھم (قرطبی) وقید البعث لانہ قد یکون عن اغماء اونوم (بیضاوی) والموت ھنا ظاھرہ مفارقۃ الروح الجسد وھذا ھو الاحقیقۃ (بحر) بحر، روح…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعْثَنَاکُمْ مِّنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ، یعنی پھر ہم نے (موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کی دعائ) سے تم کو زندہ کو اٹھایا تمہارے مرجانے کے بعد اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے۔
فائدہ : '' موت '' کے لفظ سے ظاہر ہے کہ : یہ لوگ بجلی سے مرگئے تھے، اس مرنے کا قصہ اور سبب یہ ہوا کہ : جب موسیٰ علیہ
الصلوٰةو السلام نے کوہ طور سے تورات لاکر پیش کی اور اللہ تعالیٰ سے شرف ہم کلامی کی خوشخبری سنائی تو بعض گستاخ لوگوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ خود ہم سے کہہ دے کہ یہ ہماری کتاب ہے، تو بیشک ہم کو یقین آجائے گا، بنی اسرائیل نے اس کام کے لئے ستر آدمی منتخب کر کے حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ ( پھر ہم نے تمہیں زندہ کھڑا کیا) بعث کے معنی لغت میں کسی شے کو اس کی جگہ سے اٹھانے کے ہیں :
مِنْ بَعْدِ مَوْتِکُمْ ( تمہارے مرنے کے بعد) قتادہ کہتے ہیں کہ حق تعالیٰ نے انہیں اس لیے زندہ کردیا تاکہ وہ اپنی بقیہ عمریں اور رزق پورے کرلیں اور اگر اپنی عمر ختم کرکے مرتے تو پھر قیامت ہی میں اٹھائے جاتے۔
لَعَلَّکُمْ تَشْکُروْن ( شاید تم احسان مانو) یعنی تاکہ تم اس زندہ اٹھانے کا شکر کرو یا صاعقہ کے پہنچنے سے جو تمہیں عذاب پہنچا اور اس سے تمہارے گناہ معاف کئے گئے اس کا شکار کرو۔
Read the full tafseer →(56) پھر ہم نے تمہیں مارنے کے بعد زندہ کیا تاکہ اس زندہ کرنے پر تم اللہ کا شکر ادا کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
اکثر مفسرین کا کہنا ہے کہ یہ بات کہنے والے وہ ستر آدمی تھے جن کا سورة اعراف (155) میں ذکر ہے، جنھیں موسیٰ ؑ نے اللہ تعالیٰ کے مقرر کردہ وقت کے لیے چنا تھا، جب موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے کلام کیا تو انھوں نے کہا کہ ہم تمہارے کہنے پر ہرگز یقین نہیں کریں گے کہ اللہ تعالیٰ تم سے ہم کلام ہوئے ہیں، جب تک ہم خود اپنی آنکھوں سے اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں، اس پر وہ رجفہ (زلزلہ) اور صاعقہ (بجلی کی کڑک) سے بےہوش ہو کر مرگئے، پھر موسیٰ ؑ کی دعا سے دوبارہ زندہ ہوئے۔ یہاں موت سے بےہوشی مراد لینا درست نہیں، کیونکہ یہاں واضح طور پر (مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ) آیا ہے اور سورة اعراف (155) میں موسیٰ ؑ کی دعا میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
آیت 55
اس میں پانچ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ قلتم یہ معطوف ہے۔ یموسیٰ ندا مفرد ہے لن تؤمن لک۔ ہم تیری تصدیق نہیں کریں گے۔ حتیٰ نری اللہ جھرۃً بعض علماء نے فرمایا : یہ وہ ستر آدمی تھے جن کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اختیار کیا تھا۔ جب انہوں نے اللہ تعالیٰ کا کلام انہیں سنایا تو انہوں نے اس کے بعد کہا : لن نؤمن لک انبیاء پر ایمان لانا ان کے معجزات کے ظہور کے بعد واجب ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان پر آسمان سے آگ بھیجی اور انہیں جلا دیا۔ پھر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے دعا مانگو تو اللہ تعالیٰ نے انہیں زندہ کردیا جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ثم بعثنکم من…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(1) امام ابن جریر، ابن المنذر، اور ابن ابی حاتم نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” حتی نری اللہ جھرۃ “ کا مطلب ہے علانیہ (یعنی اعلانیہ طور پر دیکھنا)
(2) امام ابن جریر اور ابن ابی حاتم نے ربیع بن انس (رح) عنہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ قلتم یموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ “ سے مراد وہ ستر آدمی ہیں جن کو موسیٰ (علیہ السلام) نے (طور پر لے جانے کے لیے) چنا تھا۔ لفظ آیت ” فاخذتکم الصعقۃ “ یعنی وہ سب (عذاب کی وجہ سے) مرگئے۔ ” ثم بعثنکم من بعد موتکم “ موت کے بعد پھر اللہ تعالیٰ نے ان کو زندہ فرما دیا تاکہ وہ اپنی (زندگی کی) موت کو پورا کریں۔
(3) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے…
Read the full tafseer →[ ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ : پھر ہم نے اٹھایا تم کو ] [ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ : تمہاری موت کے بعد ] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : تاکہ تم لوگ شکر ادا کرو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
بنی اسرائیل کی بیجا جسارت اور دنیا میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا سوال
جب موسیٰ نبینا (علیہ السلام) توریت شریف لے کر تشریف لائے تو بنی اسرائیل کو پایا کہ ان میں سے بہت سے لوگ بچھڑے کی عبادت کرچکے ہیں بچھڑے اور اس کی عبادت کرنے والوں کا انجام اوپر بیان ہوچکا ہے۔ بنی اسرائیل نے گؤ سالہ پرستی کے علاوہ ایک اور اڑ لگائی۔ اور انہوں نے کہا کہ آپ جو فرما رہے ہیں کہ یہ اللہ کی کتاب ہے۔ ہمارے پاس اس کی کیا دلیل ہے۔ ہم تو اس کو جب مانیں گے جب اللہ تعالیٰ ہم سے خود فرمائیں کہ یہ میری کتاب ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا چلو یہ بھی سہی تم لوگ اپنے نمائندے تیار کرلو اور جو لوگ میرے ساتھ چلیں وہ روزہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
انعام ہشتم : واذ قلتم یموسی لن نؤمن لک حتی نری اللہ جھرۃ فاخذتکم الصعقۃ وانتم تنظرون۔ اور یاد کرو اے بنی اسرائیل اس وقت کو کہ جب تم نے کہا کہ اے موسیٰ ہم محض تمہارے کہنے سے اس کا ہرگز یقین نہ کریں گے کہ ہم نے جو کچھ سنا وہ اللہ جل جلالہ ہی کا کلام ہے ممکن ہے کہ پس پردہ کوئی اور کلام کرتا ہو جب تک کہ ہم خود اللہ کو علانیہ طور پر نہ دیکھ لیں اس طرح کہ ہمارے اور خدا کے درمیان کوئی حجاب حائل نہ ہو۔ پس آپکڑا تم کو اس گستاخی پر بجلی نے اور تم اس بجلی کو آتے ہوئے دیکھ رہے تھے۔ بنی اسرائیل اس موقعہ پر دو وجہ سے غضب الٰہی کے مورد بنے۔ اول تو اس کہنے کی وجہ سے کہ اے موسیٰ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ…
Read the full tafseer →ف 114 تاکہ تم دوبارہ جی اٹھنے کی نعمت کی قدر کرو اور میری بھیجی ہوئی تورات کو مانو اور عقیدہ توحید کے پابند رہو۔ معتزلہ اور روافض نے اس آیت سے امتناع رویت باری تعالیٰ پر استدلال کیا ہے۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں کیونکہ اس سے امتناع فی الدنیا ثابت ہوتا ہے نہ مطلق امتناع۔ اور اہل سنت کا مسلک یہ ہے کہ رویت باری تعالیٰ فی نفسہ دنیا اور آخرت دونوں جہانوں میں ممکن ہے لیکن دنیا میں اس کا وقوع نہیں ہوگا۔ البتہ آخرت میں مومنین دیدار الٰہی سے مشرف ومحظوظ ہوں گے۔ واھل السنۃ والسلف علی جو ازھا فیہما وقوعھا فیا لاخرۃ (قرطبی ص 403 ج 1)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ربط آیات : بنی اسرائیل کی خرابیوں اور ان کی سرکشی کا ذکر آچکا ہے اللہ تعالیٰ نے اس قوم پر جو انعامات کیے ان کا ذکر بھی ہوگیا ہے۔ گزشتہ درس میں بیان ہوا تھا۔ “ واذ اتینا موسیٰ الکتب والفرقان ” یعنی اس وقت کو دھیان میں لاؤ جب ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فیصلہ کن بات عنایت کی۔ اس کے لیے خود بنی اسرائیل کے لوگوں نے خواہش ظاہر کی تھی کہ ان کے لیے کوئی ضابطہ حیات ہونا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو کوہ طور پر اعتکاف بیٹھنے کی ہدایت کی اور تکمیل اعتکاف پر اللہ تعالیٰ نے توراۃ عطا فرمائی ۔
رؤیت اعلیٰ کی خواہش : موسیٰ (علیہ السلام) کتاب توراۃ لے کر قوم کے پاس آئے اور انہیں…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ مَوْتِكُمْ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 56
بعث
أصل البَعْث : إثارة الشیء وتوجيهه، يقال : بَعَثْتُهُ فَانْبَعَثَ ، ويختلف البعث بحسب اختلاف ما علّق به، فَبَعَثْتُ البعیر : أثرته وسيّرته، وقوله عزّ وجل : وَالْمَوْتى يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ [ الأنعام/ 36] ، أي : يخرجهم ويسيرهم إلى القیامة، يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّهُ جَمِيعاً [ المجادلة/ 6] ، زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَنْ لَنْ يُبْعَثُوا قُلْ بَلى وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ [ التغابن/ 7] ، ما خَلْقُكُمْ وَلا بَعْثُكُمْ إِلَّا كَنَفْسٍ واحِدَةٍ [ لقمان/ 28] ،
فالبعث ضربان :
- بشريّ ، کبعث البعیر، وبعث الإنسان في حاجة .
-…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ترکیب : واذقلتم فعل یا موسیٰ فاعل الخ اس کا مقولہ لن نؤمن لک ای لاجلک اولن نقر لک نری فعل بافاعل لفظ اللہ مفعول ذی الحال جہرۃ حال اور ممکن ہے کہ فاعل سے حال ہو اور ممکن ہے کہ یہ مفعول مطلق ہو کر منصوب ہو۔ (بیضاوی)
تفسیر : چھٹا انعام : یہ چھٹا انعام ہے جو ان معافیوں کے بعد بنی اسرائیل کے جرم جدید پر وقوع میں آیا جس کی تفصیل یہ ہے علماء کا اس امر میں اختلاف ہے کہ یہ کہاں کا واقعہ ہے محمد بن اسحاق جو فن سیرت کے امام ہیں یہ فرماتے ہیں کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے کہ جب گوسالہ پرستی کی سزا میں بنی اسرائیل پر قتل نفس کی توبہ مقرر ہوئی تو موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کے ستر شخصوں کو لے کر کوہ طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
وَاِذْ قُلْتُمْ یٰمُوْسٰی لَنْ نُّؤْمِنَ لَکَ حَتّٰی نَرَی اللّٰہَ جَھْرَۃً فَاَخَذَتْکُمُ الصّٰعِقَۃُ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔ ثُمَّ بَعَثْنٰکُمْ مِنْم بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 55 تا 56)
(اور یاد کرو ! جب کہ تم نے کہا کہ اے موسیٰ ! ہم ہرگز تمہارا یقین کرنے والے نہیں، جب تک ہم خدا کو اعلانیہ دیکھ نہ لیں۔ تو تم کو کڑک نے آپکڑا اور تم دیکھتے رہ گئے، پھر ہم نے تمہاری موت کے بعد تمہیں اٹھایا تاکہ تم شکرگزار بنو)
گوسالہ پرستی کے حادثہ کے بعد اپنی قوم کے ستر منتخب آدمیوں کو لے کر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر گئے کہ گوسالہ پرستی جیسے عظیم گناہ پر اجتماعی طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
فہم القرآن
ربط کلام : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی بدترین گستاخی معاف کرتے ہوئے ان پر چھٹا احسان فرمایا۔
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قوم نے آسمانی دستاویزات یعنی تورات کو یہ کہہ کر تسلیم کرنے سے انکار کردیا کہ جب تک ہم اللہ کے ساتھ ہم کلام اور اس کو خود نہیں دیکھ لیتے اس وقت تک ہم اس کتاب کی تصدیق نہیں کریں گے۔ اس نازک صورت حال کے پیش نظر موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ کے حضور فریاد کی کہ اے رب کریم ! انہیں اپنی ہم کلامی اور زیارت سے مشرف فرما۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم ہوا کہ آپ اپنی قوم کے ستر نمائندہ لوگوں کو کوہ طور پر لے آئیں۔ جب یہ لوگ طور سینا پر پہنچے تو زور دار…
Read the full tafseer →ثُمَّ بَعَثْنٰـکُمْ : (پھر ہم نے تمہیں اٹھایا) ہم نے تمہیں زندہ کیا۔ اس کا اصل اثار یثیراثارۃً سے ہے ( اٹھانا)
مِّنْ م بَعْدِ مَوْتِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ : (تمہاری موت کے بعد تاکہ تم احسان مانو) موت کے بعد اٹھائے جانے کے انعام کا۔
Read the full tafseer →56۔ (آیت)” ثم بعثناکم “ تم کو زندہ کیا اور بعث کسی شئی کو اپنی جگہ سے ابھارنا کہا جاتا ہے ، بعثت البعیر میں نے اونٹ کو اٹھایا ” وبعثت النائم “ اور میں نے سونے والے کو اٹھایا ، ابھارا ” فانبعث “ پس وہ اٹھا گیا (آیت)” من بعد موتکم “ حضرت قتادہ (رح) فرماتے ہیں ان کو اللہ تعالیٰ نے زندہ فرمایا تاکہ وہ اپنی بقیہ مدت عمر کو اور اپنے رزق کو پورا کریں ، اگر وہ اپنی مدت عمر پورا ہونے پر مرتے تو ان کو قیامت تک نہ اٹھایا جاتا ۔ (آیت)” لعلکم تشکرون “۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(51 ۔ 52): پورا قصہ تو سورة اعراف اور طہٰ میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے لئے اس قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی تو بنی اسرائیل کو آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آن کر چالیس راتیں راہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر تورات نازل کی جاوے گی۔ اس حکم کے موافق حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر کر خود کوہ طور پر چلے گئے۔ بنی اسرائیل جس رات مصر سے نکلے اس رات فرعونیوں سے ایک شادی کا بہانہ کر کے تمام رات سفر کی تیار کے لئے جاگتے رہے اور اس شادی کے حیلہ سے انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →160 " مِنْ بَعْد مَوْتِکُمْ " سے مراد ؟ : سو " من بعد موتکم " میں وارد لفظ " موت " کے بارے میں حضرات اہل علم کے دو قول ہیں۔ ایک یہ کہ یہاں پر موت سے مراد اس کا حقیقی معنی نہیں بلکہ اس سے مراد اس کا مجازی معنی ہے۔ اس لئے کہ موت کا اطلاق بطور مجاز، نیند، غنودگی اور بےہوشی وغیرہ پر بھی ہوتا ہے، جیسا کہ سو کر اٹھنے کے بعد پڑھی جانے والی دعائے ماثور میں ارشاد فرمایا گیا ہے۔ " الْحَمْدُ لِلّٰہ الَّذِیْ اَحْیَانَا بَعْدَ مَااَمَاتَنَا وَاِلَیْہ النُّشُوْرُ " ۔ کہ اس دعا میں وارد لفظ موت سے نیند ہی مراد ہے۔ اسی لئے بعض لوگوں نے کہا کہ " من بعد موتکم " میں بھی موت سے مراد حقیقی موت نہیں بلکہ نیند ہے۔…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
شرک کی سزا اور موت کے بعد زندگی
تشریح : جب بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ دوبارہ کوہ طور پر گئے تب اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانی کتاب کا تحفہ دیا۔ جس کا نام تورات ہے۔ یہ شریعت، قانون، احکامات اور رشد و ہدایت کا مجموعہ تھا، اسی لئے اس کو فرقان کہا گیا ہے۔ یعنی فرق کرنے والی جھوٹ اور سچ، حق اور باطل کے درمیان اور اس، میں نیک و بد کو جدا جدا کرکے تفصیل سے بتا دیا گیا ہے تاکہ ہر ایک کو واضح طور پر سمجھ آسکے اور بنی اسرائیل پر مزید ایک احسان اللہ تعالیٰ نے اس آسمانی کتاب تورات کے ذریعہ کیا۔ اسی طرح قرآن مجید کو بھی فرقان کہا گیا ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام قرآنی احکامات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–57
ف 1 ۔ جزیرہ نمائے سینا میں ان کے غذا کے ذخیرے ختم ہوگئے تو اللہ تعالیٰ نے ان پر خاص قسم کے بادل سے سایہ کیا اور کھانے کے لیے من وسلوی اتارا۔ دھنیے کے دانوں جیسی میٹھی چیز تھی جو ان پر اوس کی مانند رات کے وقت گرتی اور لشکر کے گرد ڈھیر لگ جاتے مفسرین نے لکھا ہے ایک قسم کا گوند تھا جو نہا یت شریں اور لذیذ تھا۔ اور سلوی بٹیر کی طرح ایک پرند تھا جو شام کے وقت لشکر کے گرد ہزاروں کی تعداد میں جمع ہوجاتا اور بنی اسرائیل انہیں پکڑ کھالیتے ہیں ابن کثیر، قرطبی)
Read the full tafseer →(2:56) بعثنکم ۔ بعثنا ماضی جمع متکلم ۔ بعث (باب فتح) مصدر، اٹھا کھڑا کرنا ، دوبارہ زندہ کرنا۔ چناچہ یوم البعث اس سے ہے یعنی دوبارہ اٹھنے کا دن۔ لعلکم شاید کہ تم ۔ (ملاحظہ ہو 2:21 ، 2:52)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
لغات القرآن : آیت نمبر 55 تا 56
(قلتم): تم نے کہا۔ (لن نؤمن): ہم ہرگز ایمان نہ لائیں گے۔ (نری): ہم دیکھیں گے۔ (جھرۃ): سامنے ، کھلم کھلا اعلانیہ۔ (اخذت): پکڑ لیا، آگھیرا۔ (بعثنا): ہم نے اٹھا کھڑا کیا) ۔
تشریح : آیت نمبر 55 تا 56
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے توریت لے کر واپس تشریف لائے تو وہ لوگ جو بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے تھے ان میں سے بعض گستاخ لوگوں نے کہنا شروع کیا اے موسیٰ (علیہ السلام) تم کہتے ہو کہ اللہ تم سے باتیں کرتا ہے ہم اس بات کا کیسے یقین کرلیں ہم تو اس وقت تک یقین نہیں کریں گے جب تک اپنی آنکھوں اور کانوں سے سب کچھ دیکھ اور سن نہ لیں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے پوری…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر توریت لنے جانا اور ان کی غیر حاضری میں قوم کی گئو سالہ پرستی کرنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس راتیں رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر توریت نازل کی جائے گی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر خود کوہ طور پر چلے گئے ۔ اسی رات کی صبح کو سب فرعونی ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس لئے ان کے زیور کا کوئی طلبگار باقی نہ رہا اور تمام زیور بنی اسرائیل کے پاس رہا ۔ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
[43] یعنی اپنے ان لوگوں کو قتل کرو جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
(ف 1) بنی اسرائیل نے موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ ہمیں جس خدا کی طرف تو بلاتا ہے ‘ وہ بالمشافہ دکھا ، تاکہ ہم دیکھ کر اس پر ایمان لائیں ، جس کا صاف مطلب یہ ہے کہ وہ خدا کے متعلق نہایت ہی ناقص فہم کا تخیل رکھتے تھے ، ان کا خیال تھا کہ خدا بھی انسانوں کی طرح مجسم ہے اور اسے دیکھا جاسکتا ہے ، اس مطالبہ کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ متواتر ومسلسل بت پرستی کی وجہ سے وہ مشاہدات سے زیادہ مرغوب تھے اور کوئی تنزیہی تخیل جو بالا از تجربہ واحساس ہو ‘ انہیں اپنی طرف جذب نہ کرسکتا تھا ، موسیٰ (علیہ السلام) نے جب خدائے تعالیٰ کی توحید کی جانب ان کو ملتفت کرنا چاہا تو وہ اکڑ گئے کہ جب تک خدا کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
ف 1۔ اور وہ موقعہ بھی یاد کرو جب تم نے حضرت مسویٰ سے کہا تھا کہ جب تک ہم خود اللہ تعالیٰ کو علانیہ اور کھلم کھلا نہ دیکھ لیں گے ہرگز تیری بات کی تصدیق نہیں کریں گے چناچہ اس گستاخی پر ایک کر کناک بجلی نے تمہاری آنکھوں دیکھتے تم کو آلیا پھر ہم نے تمہارے مرے پیچھے تم کو زندہ کر اٹھایا کہ شاید تم ہمارا احسان مانو اور شکر گزار بنو۔ (تیسر)
واقعہ یہ ہے کہ جب حضرت موسیٰ توریت لے کر طور سے واپس آئے تو انہوں نے یہ کہنا شروع کیا کہ ہم جب تک خود اللہ تعالیٰ سے اس کا کلام نہ سنیں تو یہ کیسے مان لیں کہ یہ توریت اسی کا کلام ہے اس پر حضرت موسیٰ نے اپنی قوم کے 70 آدمیوں کو منتخب کیا اور ان کو لیکر طور پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ف 4۔ یہ بیان ہے اس طریق کا جو ان کی توبہ کے لیے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کیے جاویں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 55–56
قوم بنی اسرائیل کی دوسری گمراہی :
114: اب قوم بنی اسرائیل کی دوسری کھلی گمراہی کا ذکر کیا جاتا ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) اللہ تعالیٰ کی طرف سے تورات کی تختیاں لے کر قوم کے پاس آئے اور قوم کی گمراہی دیکھ کر جزبز ہوئے لیکن یہ وقت گزر گیا۔ قوم کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے معافی مل گئی تو انہوں نے ایک نئی گمراہی کا اظہار کردیا وہ یہ کہ کہنے لگے موسیٰ ! ہم تیری لائی ہوئی تعلیمات پر اس وقت ہی عمل کرسکتے ہیں جب کہ ہم ان آنکھوں سے تیرے رب کو دیکھ لیں۔ ہم تیرے ہی کہنے پر یہ کیونکر مان لیں کہ رب تیرے ساتھ ہمکلام ہوتا ہے جب کہ وہ ہمارے ساتھ ہمکلام نہیں ہوتا۔ اس کے جواب میں موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم…
Read the full tafseer →This verse refers to death, which suggests that the thunderbolt had killed them. Since the Israelites had always been mistrusting Sayyidna Musa (علیہ السلام) ، he feared that they would suspect him of having taken the men to a solitary place and got them slaughtered. So, he prayed to Allah to save him from such a vile accusation. Allah granted his prayer, and gave those a new life.
Read the full tafseer →71. The incident referred to here is the following. When Moses went to the mountain he had been ordered to bring with him seventy elders of Israel. Later, when God bestowed upon Moses the Book and the Criterion, he presented them to the people. Some mischief-makers, according to the Qur'an, began to complain that they could not believe in something just because Moses claimed that God had spoken to him. This invited the wrath of God and they were punished. The Old Testament, however, has the following account:
'And they saw the God of Israel and there was under his feet as it were a pavement…
Read the full tafseer →