Al-Baqara 2:53

Al-Baqara · from ayah 53

2:53

وَاِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ ۟وَاِذۡ اٰتَيۡنَا مُوۡسَى الۡكِتٰبَ وَالۡفُرۡقَانَ لَعَلَّكُمۡ تَهۡتَدُوۡنَ

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [recall] when We gave Moses the Scripture and criterion that perhaps you would be guided.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:53

یاد کرو کہ (ٹھیک اس وقت جب تم یہ ظلم کر رہے تھے) ہم نے موسیٰؑ کو کتاب اور فرقان عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور معجزے عنایت کئے، تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور ہم نے (حضرت) موسیٰ(علیہ السلام) کو تمہاری ہدایت کے لئے کتاب اور معجزے عطا فرمائے

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور (یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب دی، اور حق و باطل میں تمیز کا معیار (بخشا) تاکہ تم راہ راست پر آؤ۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عطا کی اور حق و باطل میں تمیز کردینا کہ کہیں تم راہ آؤ -

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور جب ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب اور حق و باطل میں فرق کرنے والا (معجزہ) عطا کیا تاکہ تم راہِ ہدایت پاؤ،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور (حق و باطل میں) فرق کرنے والی چیز عطا کی، تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

اور (اسی میقات کے دوران) ہم نے موسیٰ کو کتاب اور قانون فیصل دیا تاکہ تم ہدایت کی راہ پا سکو

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فرقان تاکہ تم ہدایت حاصل کرو

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (ہمارا احسان بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے موسیٰ کو وہ (عظیم الشان) کتاب (یعنی توراۃ) دی، اور (حق و باطل کے درمیان) فیصلے کا سامان بھی، تاکہ تم لوگوں کو راستہ مل سکے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور فرقان دیئے تاکہ تم راہ یاب ہوجاؤ۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور یاد کرو جب کہ ہم نے موسیٰ ؑ کتاب اور فرقان عطا فرمائی تاکہ تم ہدایت پاؤ۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور جب ہم نے موسیٰ کو کتاب اور حق کو ناحق سے جدا جدا کرنے والے احکام دیئے، تاکہ تم سیدھی راہ پاؤ۔

— محترمہ رفعت اعجاز

Remember that (at that very time, when you were committing this gross iniquity) We gave Moses the Book and the criterion of right and wrong so that you might be guided aright.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

Then We gave Musa the Book and the Criterion (of right and wrong) , so that you may find the right path.

— Muhammad Taqi Usmani

Then We gave Musa the Book and the Criterion (of right and wrong) , so that you may find the right path.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when We gave Musa the Scripture (the Tawrah) and the criterion (of right and wrong) so that you may be guided aright.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And when We gave unto Moses the Scripture and the criterion (of right and wrong), that ye might be led aright.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [recall] when We gave Moses the Scripture and criterion that perhaps you would be guided.

— Saheeh International

We gave Moses the Book and the criteria (of discerning right from wrong) so that perhaps you would be rightly guided.

— Muhammad Sarwar

And when We gave Musa the Book and the distinction that you might walk aright.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time We vouchsafed unto Musa the Book and the distinction that haply ye may be guided.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember We gave Moses the Scripture and the Criterion (Between right and wrong): There was a chance for you to be guided aright.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:53

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 51–53

چالیس دن کا وعدہ یہاں بھی اللہ برترو اعلیٰ اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے جب کہ تمہارے نبی حضرت موسیٰ ؑ چالیس دن کے وعدے پر تمہارے پاس سے گئے اور اس کے بعد تم نے گوسالہ پرستی شروع کردی پھر ان کے آنے پر جب تم نے اس شرک سے توبہ کی تو ہم نے تمہارے اتنے بڑے کفر کو بخش دیا اور قرآن میں ہے آیت (وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ) 7۔ الاعراف :142) یعنی ہم نے حضرت موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس بڑھا کر پوری چالیس راتوں کا کیا کہا جاتا ہے کہ یہ وعدے کا زمانہ ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے یہ واقعہ فرعونیوں سے نجات پا کر دریا سے بچ کر نکل جانے کے بعد…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 69 فُرقَان وہ چیز جس کے ذریعہ سے حق اور باطل کا فرق نمایاں ہو۔ اردو میں اس کے مفہُوم سے قریب تر لفظ ”کَسوَٹی“ ہے۔ یہاں فرقان سے مراد دین کا وہ علم اور فہم ہے، جس سے آدمی حق اور باطل میں تمیز کرتا ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب (تورات) دی اور فیصلہ کی چیز اس توقع پر کہ تم چلتے رہو، فائدہفیصلہ کی چیز یا تو ان احکام شرعیہ کو کہا جو تورات میں لکھے ہیں (کیونکہ) شرع سے تمام تر اعتقادی اور عملی اختلافات کا فیصلہ ہوجاتا ہے۔ یا معجزوں کو کہا کہ ان سے بچے، جھوٹے دعوی کا فیصلہ ہوتا ہے یا خود تورات ہی کو کہہ دیا کہ اس میں کتاب ہونے کی صفت بھی ہے اور فیصل ہونے کی صفت بھی۔

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

فرقان کے معنی ہیں حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز یہاں واو بیان اور تفسیر کے لئے ہے۔ یعنی کتاب تورات ہی کو فرقان کے لفظ سے تعبیر کر کے اس کے ایک اور پہلو کو واضح کر دیا ہے۔ قرآن مجید میں قرآن اور تورات دونوں کے لئے فرقان کی تعبیر استعمال ہوئی ہے۔ مثلاً وَلَقَدْ اٰتَیْْنَا مُوْسٰی وَہَارُوْنَ الْفُرْقَانَ (۴۸ انبیاء) اور ہم نے موسیٰ اور ہارون کو فرقان دی۔ اسی طرح قرآن مجید کے متعلق ہے۔ تَبَارَکَ الَّذِیْ نَزَّلَ الْفُرْقَانَ عَلٰی عَبْدِہٖ (۱۔ الفرقان) بڑی ہی بابرکت ہے وہ ذات جس نے اپنے بندے پر فرقان اتارا۔ ان کتابوں کو فرقان کے لفظ سے تعبیر کرنے میں کئی پہلو مدنظر ہیں۔ ایک یہ کہ یہ تمام…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

53۔ 1 یہ بھی بحرہ قلزم پار کرنے کے بعد کا واقعہ ہے (ابن کثیر) ممکن ہے کتاب یعنی تورات کو فرقان سے بھی تعبیر کیا گیا ہو کیونکہ ہر آسمانی کتاب حق و باطل کو واضح کرنے والی ہوتی ہے یا معجزات کو فرقان کہا گیا ہے کہ معجزات بھی حق و باطل کی پہچان میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 51–55

42 : حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس دن اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی ؛ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر تشریف لے گئے، ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل کو اسے اپنا معبود قرار دینے اور اس کی عبادت کرنے پر آمادہ کرلیا اور اس طرح وہ شرک میں مبتلا ہوگئے، حضرت موسیٰ ؑ کو اطلاع ہوئی وہ گھبراکر واپس تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو توبہ کی تلقین فرمائی، اس توبہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے تھے وہ ملوث ہونے والوں کو قتل کریں ؛ چنانچہ ان کی ایک بڑی…

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 51–54

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

1 کتاب تو تورات ہے اور فرقان فرمایا ان احکام شرعیہ کو جن سے جائز ناجائز معلوم ہو یا فرقان کہا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے معجزوں کو جن سے جھوٹے سچے اور کافر و مومن کی تمیز ہو یا تورات ہی کو کہا کہ وہ کتاب بھی ہے اور اس سے حق اور ناحق بھی جدا ہوتا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 53 وَاِذْ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَہْتَدُوْنَ ”فرقان“ سے مراد حق اور باطل کے درمیان فرق کردینے والی چیز ہے اور کتاب کا لفظ عام طور پر شریعت کے لیے آتا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

Explained with ayahs 50–53

69 بنی اسرائیل پر بیتے ہوئے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔ بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

175 (اور جزئیات تک کے لیے زندگی کا ایک دستورالعمل ہاتھ آجائے) اجمالا راہ ہدایت یعنی توحید کی تعلیم تو اسرائیلیوں کو پہلے سے ملی ہوئی تھی، اور پیمبر ان کے درمیان موجود ہی تھے۔ اب کتاب اس لیے نازل فرمادی گئی کہ ایک مستقل ومرتب دستورالعمل جزئیات زندگی کا ان کے ہاتھ میں آجائے، اور آئندہ یہ راہ سے بھٹکنے نہ پائیں۔ (آیت) ” الکتب “ یعنی توریت۔ قرآن مجید میں مطلق (آیت) ” الکتب “ کا لفظ، علاوہ قرآن کے توریت کے لیے بھی آیا ہے۔ (آیت) ” الفرقان “ فرقان اپنے لفظی معنی میں ہر وہ چیز ہے جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ کل ما فرق بہ بین الحق والباطل فھو فرقان (لسان) (آیت) ” الفرقان “ قرآن کا بھی ایک…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 51–54

وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعْیِنَ لَیْلَةً ، بنی اسرائیل فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد دریا عبور کرکے جب جزیرہ نما صحراء سینا میں پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ وہاں اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہوچکی ہے، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) بن عمر ان سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور اور جلیل القدر پیغمبر ہیں تورات میں ہے کہ ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی۔ (ماجدی) آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کے تخمینہ کے مطابق پندرہویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کا تھا، سال ولادت غالبا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذْ اٰتَیْنَا مُوسٰی الْکِتَابَ وَالْفُرْقَانَ ( اور وہ وقت بھی یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب عنایت فرمائی اور قالون فیصل) الکتاب سے مراد توریت اور الفرقان سے مراد بھی بعض مفسرین کے قول پر توریت ہی ہے۔ توریت ہی کو حق تعالیٰ نے دو ناموں سے ذکر فرمایا ہے۔ کسائی نے کہا کہ الفرقان الکتاب کی نعت ہے اور واؤ زائد ہے الفرقان کے معنی ہیں حق اور باطل میں فرق کرنے والی۔ بعض نے کہا الفرقان سے مراد معجزات ہیں اور فرقان ( فرق کرنے والا) انہیں اس لیے کہا کہ معجزات اہل حق اور اہل باطل میں فرق کردیتے ہیں۔ بعض نے کہا الفرقان شریعت موسوی ہے جو حلال و حرام میں فرق کرنے والی تھی۔ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ (…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(53) اور جس وقت ہم نے موسیٰ ؑ کو تو تورات دی اور اس میں حلال و حرام اور امر و نہی وغیرہ کو بیان کیا، ایک یہ بھی تفسیر ہے کہ اس میں فرعون پر غلبہ حاصل کرنے کو بیان فرمایا تاکہ تم لوگوں نے کو گمراہی سے ہدایت حاصل ہو۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

Explained with ayahs 52–53

الْكِتٰبَ) سے مراد بالاتفاق تورات ہے اور ”الفرقان“ (حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز) سے مراد معجزے بھی ہیں اور موسیٰ ؑ کو عطا کردہ قوت فیصلہ بھی جو حق و باطل میں فرق کرتی تھی، اگر ”واؤ“ کو تفسیری مانیں تو خود تورات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی تھی۔

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 53 اذ ماضی کے لئے اسم ہے اور اذا مستقبل کے لئے اسم ہے، اتینا کا مطلب ہے ہم نے عطا کیا۔ ان تمام الفاظ کے معانی پہلے گزر چکے ہیں۔ الکتب سے مراد بالا جماع تورات ہے اور الفرقان کے بارے اختلاف ہے۔ فراء اور قطرب نے کہا : اس کا معنی ہے : ہم نے موسیٰ کو تورات اور محمد ﷺ کو فرقان عطا کی۔ نحاس نے کہا : یہ اعراب اور معنی میں غلطی ہے، رہا اعراب تو کسی شے پر معطوف اس کی مثل ہوتا ہے اور اس قول کے اعتبار سے کسی شے پر معطوف اس کے خلاف ہوگا۔ رہا معنی تو اللہ تعالیٰ نے فرمایا : اتینا موسیٰ وھرون الفرقان (الانبیاء : 48) ابو اسحاق الزجاج نے کہا : فرقان سے مراد الکتاب ہی ہے تاکید کے لئے دو اسموں کے ساتھ…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام عبد بن حمید اور ابن جریر نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذا اتینا موسیٰ الکتب والفرقان “ کہ کتاب سے مراد فرقان ہے حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی ہے۔ (2) امام ابن جریر اور ابن المنذر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ ” فرقان “ تورات، انجیل، زبور اور فرقان کا جامع اسم ہے۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ اٰتَيْنَا : اور جب ہم نے دیا ] [ مُوْسَى: موسیٰ کو ] [ الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ : کتاب اور فرق واضح کرنے والا ] [ لَعَلَّكُمْ تَهْتَدُوْنَ : تاکہ تم لوگ ہدایت پاؤ ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

توریت شریف عطا فرمانے کا انعام اس آیت میں توریت شریف عطا فرمانے کا ذکر ہے بنی اسرائیل پر جو اللہ تعالیٰ کے بڑے بڑے انعامات ہوئے ان میں سے ایک یہ ہے کہ ان کو ایک جامع کتاب دی گئی جو احکام پر مشتمل تھی اس میں احکام دینیہ پوری طرح واضح طور پر بیان فرما دیئے گئے تھے سورة انعام میں فرمایا : (ثُمَّ اٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ تَمَامًا عَلَی الَّذِیْٓ اَحْسَنَ وَ تَفْصِیْلًا لِّکُلِّ شَیْءٍ وَّ ھُدًی وَّ رَحْمَۃً لَّعَلَّھُمْ بِلِقَآءِ رَبِّھِمْ یُؤْمِنُوْنَ ) ” پھر ہم نے موسیٰ کو کتاب دی جس سے اچھی طرح عمل کرنے والوں پر نعمت پوری ہوجائے اور سب احکام کی تفصیل معلوم ہوجائے۔ اور رہنمائی ہو اور رحمت…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انعام ششم : واذ اتینا موسیٰ الکتب والفرقان لعلکم تھتدون۔ اور اے بنی اسرائیل اس انعام کو بھی یاد کرو جبکہ ہم نے موسیٰ کو کتاب یعنی توریت دی جو احکام الٰہی کی جامع تھی۔ (حاشیہ : اشارۃ الی ان اصل الکتاب ھو الجمع سمی الکتاب کتابا لکونہ جامعا للعلوم والقواعد واللہ اعلم۔ 12 منہ) اور جو حق اور باطل روا اور ناروا میں فرق کرنے والی تھی۔ شاید کہ تم راہ راست پاؤ۔ علامہ زمخشری کے نزدیک اس جگہ الکتاب اور الفرقان دونوں سے توریت ہی مراد ہے۔ اور یہ دونوں توریت کی صفتیں ہیں۔ اور بعض مفسرین کے نزدیک کتاب سے توریت مراد ہے اور الفرقان سے معجزات مراد ہیں کہ جن سے حق اور باطل کا فرق واضح اور نمایاں ہوتا ہے جب بنی…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

Explained with ayahs 51–55

ف 112 ۔ یہ تیسرا انعام ہے۔ سمندر پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے حکم خداوندی سے کوہ طور پر پہنچے۔ وہاں آپ نے چالیس راتیں بسر کیں۔ اور اللہ کی طرف سے تورات حاصل کی۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ ۔ اِتَّخَذْتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ای اتخذتم العجل الہاً ۔ یعنی تم نے گوسالہ کو معبود بنا لیا (ابو السعود ص 528 ج 1، قرطبی ص 396 ج 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر خود کوہ طور پر چلے گئے تو سامری نے جو ایک منافق تھا، سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو پگھلا کر ان سے بچھڑے کا بت تیار کیا اور حضرت ابن عباس اور معمر کے قول کے…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 51–54

نزول توراۃ : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات فرمائے ان کا ذکر مسلسل آرہا ہے ۔ فرعون کی غلامی سے نجات دلانے۔ دریا کو پھاڑ کر معجزانہ طور پر پانی میں راستے بنانا اور بنی اسرائیل کو بچانا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت وغیرہ کا ذکر آچکا ہے۔ اس درس میں بعض مزید انعامات کا تذکرہ ہے۔ منجملہ ان کے بنی اسرائیل کو کتاب اور شریعت عطا کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “ واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ” اس بات کو دھیان میں لاؤ جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ کوہ طور پر چالیس رات تک تنہائی میں اعتکاف کریں۔ قرآن پاک میں ہے کہ…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّكُمْ تَہْتَدُوْنَ۝ 53 آتینا وَأُتُوا بِهِ مُتَشابِهاً [ البقرة/ 25] ، وقال : فَلَنَأْتِيَنَّهُمْ بِجُنُودٍ لا قِبَلَ لَهُمْ بِها [ النمل/ 37] ، وقال : وَآتَيْناهُمْ مُلْكاً عَظِيماً [ النساء/ 54] . [ وكلّ موضع ذکر في وصف الکتاب «آتینا» فهو أبلغ من کلّ موضع ذکر فيه «أوتوا» ، لأنّ «أوتوا» قد يقال إذا أوتي من لم يكن منه قبول، وآتیناهم يقال فيمن کان منه قبول ] . وقوله تعالی: آتُونِي زُبَرَ الْحَدِيدِ [ الكهف/ 96] وقرأه حمزة موصولة أي : جيئوني . { وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا } [ البقرة : 25] اور ان کو ایک دوسرے کے ہم شکل میوے دیئے جائیں گے ۔…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 52–53

بقیہ پچھلی آیت میں پائو گے پس موسیٰ نے کہا الٰہی میں اور میرا بھائی تیری بندگی کو حاضر ہیں اور باقی اس فاسق قوم سے مجھ کو کچھ سروکار نہیں ہم کو ان سے جدائی نصیب کر۔ تب قہرالٰہی نمودار ہوا اور یہ فرمایا کہ مجھے اپنی حیات کی قسم جس طرح اس قوم نے باوجودیکہ ہزارہا معجزات دیکھ چکے ہیں میری نافرمانی کی میں ان کو اس بیابان میں ہلاک کر دوں گا۔ وقت خروج سے جس کی 20 برس کی عمر تھی یا اس سے اوپر ان میں سوائے کالب اور یوشع کے کوئی بھی ملک کنعان میں نہیں پہنچا۔ وہ تمام لوگ چالیس برس تک فاران کے جنگل میں مقام اور کوچ کرتے رہے تخمیناً بیس بار کوچ کیا کئی کئی برس ایک جگہ گزار دیے جب یہ سب مرچکے تو نئی نسل…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْاٰتَیْنَا مُوْسَی الْکِتٰبَ وَالْفُرْقَانَ لَعَلَّکُمْ تَھْتَدُوْنَ ۔ (البقرۃ : 53) (اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے موسیٰ کو کتاب دی اور فرقان دیا تاکہ تم ہدایت حاصل کرو) فرقان کا مفہوم یعنی اللہ کے ساتھ شرک کرنے کا جرم تم نے اس وقت کیا جب ہم موسیٰ (علیہ السلام) کو کتاب اور فرقان دے رہے تھے یعنی ہم تو تمہاری ہدایت کا سامان کررہے تھے اور تمہیں زندگی گزارنے کے لیے صحیفہ حیات دے رہے تھے اور تم کتاب سے تو خیر کیا فائدہ اٹھاتے تم نے کتاب دینے والی کی ذات وصفات میں شریک بناکر کھڑا کردیا۔ اس آیت کریمہ میں کتاب سے مراد تو ظاہر ہے ” تورات “ ہے۔ لیکن یہ فرقان کیا ہے ؟ اس پر غور کرنے سے دو باتیں سمجھ…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 51–53

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل پر تیسرا اور چوتھا احسان۔ اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کے علاقہ سے واپسی کے وقت سفر کے دوران نبوت سے سرفراز فرمایا اور دو معجزے عطا فرمائے۔ لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا۔ ان معجزات کے ساتھ موقع بموقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایات ملتی رہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی کے ساتھ سمجھانے کی ہدایت ‘ توحید کے دلائل ‘ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ مظلوم بنی اسرائیل کو صبر اور نماز کی تلقین اور ہر قسم کی راہنمائی کا بندوبست، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مجادلہ کے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 51–53

وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی : (جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا) کیونکہ وہ وعدہ وحی سے تھا۔ اور وہ طور پر آنے کا تھا۔ وٰعَدْنَا : جہاں تک میری تحقیق ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں ہلاکت فرعون کے بعد داخل نہ ہوئے اور اس وقت ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ جس کی طرف رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا۔ وہ ان پر تورات اتاریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر کیا۔ ذوالقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے اور فرمایا۔ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً : کیونکہ مہینہ کی ابتداء راتوں سے ہوتی ہے۔ اور چالیس راتیں۔ نحو : اَرْبَعِیْنَ یہ وعدنا کا مفعول ثانی ہے ظرف نہیں ہے۔ اس لیے اس کا معنی چالیس راتوں میں نہیں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

53۔ (آیت)” واذ اتینا موسیٰ الکتاب “ یعنی تورات ” والفرقان “ حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں اس سے مراد بھی تورات ہے، تورات کا ذکر دو اسموں سے کیا گیا ، حضرت کسائی (رح) فرماتے ہیں فرقان کتاب کی صفت ہے اور واؤ زائدہ ہے ، یعنی کتاب فرقان ” حلال و حرام میں فرق کرنے والی “ یمان بن ریان فرماتے ہیں فرقان سے اللہ تعالیٰ کی مراد انفراق بحر یعنی سمندر کا جدا ہوجانا ہے جیسے کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا (آیت)” واذ فرقنا بکم البحر فانجینا کم لعلکم تھتدون “ (راہ پاؤ) ساتھ تورات کے۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 51–56

(51 ۔ 52): پورا قصہ تو سورة اعراف اور طہٰ میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے لئے اس قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی تو بنی اسرائیل کو آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آن کر چالیس راتیں راہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر تورات نازل کی جاوے گی۔ اس حکم کے موافق حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر کر خود کوہ طور پر چلے گئے۔ بنی اسرائیل جس رات مصر سے نکلے اس رات فرعونیوں سے ایک شادی کا بہانہ کر کے تمام رات سفر کی تیار کے لئے جاگتے رہے اور اس شادی کے حیلہ سے انہوں…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–57

یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا : آیت 49-57 (آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

149 بنی اسرائیل کیلئے عطائ تورات کی نعمت : یعنی کتاب سے یہاں پر مراد تورات ہے جو کہ اپنے دور میں حق و ہدایت کا منبع ومصدر، اور سرچشمہ فیض تھی، اور اپنے زمانے کیلئے وہ روشنی کا ایک مینار تھی، جیسا کہ دوسری جگہ فرمایا گیا ۔ { فِیْہَا ہُدًی وَّ نُوْرٌ } ۔ سو تم کو تورات کی اس نعمت سے نوازا گیا، تاکہ تمہیں شریعت اور دستور حیات نصیب ہوسکے، اور اس طرح تم حق و ہدایت کی نعمت سے سرفراز ہوسکو، سو تم کو دوسری بیشمار اور عظیم الشان حسی اور ظاہری نعمتوں کے ساتھ ساتھ عطائ تورات کی عظیم الشان معنوی اور روحانی نعمت سے بھی نوازا گیا، مگر تم نے اس کی قدر نہ پہچانی جسکے نتیجے میں تم حرمان نصیبی کے حقدار بن کر…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 53–56

شرک کی سزا اور موت کے بعد زندگی تشریح : جب بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ دوبارہ کوہ طور پر گئے تب اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانی کتاب کا تحفہ دیا۔ جس کا نام تورات ہے۔ یہ شریعت، قانون، احکامات اور رشد و ہدایت کا مجموعہ تھا، اسی لئے اس کو فرقان کہا گیا ہے۔ یعنی فرق کرنے والی جھوٹ اور سچ، حق اور باطل کے درمیان اور اس، میں نیک و بد کو جدا جدا کرکے تفصیل سے بتا دیا گیا ہے تاکہ ہر ایک کو واضح طور پر سمجھ آسکے اور بنی اسرائیل پر مزید ایک احسان اللہ تعالیٰ نے اس آسمانی کتاب تورات کے ذریعہ کیا۔ اسی طرح قرآن مجید کو بھی فرقان کہا گیا ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام قرآنی احکامات پر…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 47–59

آیات 47- 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

Explained with ayahs 52–53

ف 5 الکتاب سے مراد وہ قوت ہے جو حق و باطل میں امتیاز کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی اگر واؤ کو زائدہ مان لیا جائے تو دونوں سے تورات مراد ہوگی اس میں چونکہ حلال و حرام کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اس لیے اسے الفرقان کہا ہے۔ ( قرطبی۔ خازن )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:53) الکتب سے مراد ۔ تورات ہے۔ الفرقان کے لغوی معنی ہیں وہ چیز جس سے حق و باطل کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ راغب اصفہانی لکھتے ہیں۔ الفرقان فرق سے ابلغ ہے کیونکہ یہ حق اور باطل کو الگ الگ کردینا کے معنی میں استعمال ہوتا ہے فرق کا لفظ عام ہے جو حق اور باطل کو الگ الگ کرنے کے لئے بھی آتا ہے اور دوسری چیزوں کے متعلق بھی آتا ہے۔ علماء کے اس کے متعلق مختلف اقوال ہیں۔ (1) الکتب اور الفرقان کے درمیان عطف تفسیری ہے اور مراد دونوں سے ایک ہی ہے۔ (2) اس سے مراد یہاں تورات اپنے احکام و شرائع کے لحاظ سے ہے۔ (3) اس سے مراد معجزات ہیں جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئے تھے۔ (4) اس سے مراد وہ فتح و غلبہ…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 51–54

لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 54 (وعدنا): ہم نے وعدہ کیا۔ (اربعین): چالیس۔ (لیلۃ): رات۔ (اتخذتم): تم نے بنایا ۔ (العجل): بچھڑا (گائے کا بچہ) ۔ (عفونا): ہم نے معاف کردیا۔ (من بعد ذلک): اس کے بعد۔ (تشکرون): تم شکر کرو گے۔ (اتینا) : ہم نے دیا۔ (الفرقان): حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔ (تھتدون): تم ہدایت حاصل کرو گے۔ (ظلمتم): تم نے ظلم کیا۔ (اتخاذ): بنانا، بنا کر۔ (توبوا): تم توبہ کرو۔ (بارئی): پیدا کرنے والا۔ (اقتلوا): تم قتل کرو۔ (انفسکم): اپنوں کو (نفس کی جمع) ۔ (خیر): بہتری، بھلائی۔ تشریح : آیت نمبر 51 تا 54 فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ نے نبی اسرائیل کو فرعون…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 52–56

حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر توریت لنے جانا اور ان کی غیر حاضری میں قوم کی گئو سالہ پرستی کرنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس راتیں رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر توریت نازل کی جائے گی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر خود کوہ طور پر چلے گئے ۔ اسی رات کی صبح کو سب فرعونی ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس لئے ان کے زیور کا کوئی طلبگار باقی نہ رہا اور تمام زیور بنی اسرائیل کے پاس رہا ۔ حضرت موسیٰ…

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

[42] یعنی وہ چیز جس سے حق اور باطل، حلال اور حرام کے درمیان فرق کیا جاسکے۔ مراد کتاب تورات ہی ہے جسے فرقان سے تعبیر کر کے اس کے ایک اور پہلو کو واضح کردیا ہے۔

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 52–54

(ف 2) قوموں کا آپریشن : جس طرح بدن کے بعض حصے اس لئے کاٹ دینا پڑتے ہیں کہ وہ سارے نظام بدن کو بیکار نہ کردیں ، اسی طرح قوموں میں جب ناقابل اصلاح خرابیاں پیدا ہوجائیں تو پھر آپریشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے باوجود ہارون (علیہ السلام) کے موجود ہونے دوبارہ بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کے وہ مصر میں عادی تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ان لوگوں کو جن کی رگ رگ میں شرک کے مہلک جراثیم موجود ہیں ‘ ہلاک کردیا جائے ، ورنہ خطرہ ہے کہ تمام بنی اسرائیل اس روحانی مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں اور پھر اصلاح کی کوئی توقع نہ رہے گی ۔ اس میں شک نہیں کہ خدا رحیم ہے لیکن یہ بھی یقین ہے…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 53–54

ف 3۔ اور ہمارا وہ احسان یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب توریت اور فرقان عطا فرمایا تاکہ تم سیدھی راہ پائو اور اس پر چلتے رہو اور اے بنی اسرائیل ! تم وہ بات بھی یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ تم نے اس بچھڑے کو معبود بنا کر اپنا بڑا نقصان کیا۔ اب اس شرک کی تلافی یونہی ہوسکتی ہے کہ تم اپنے موجد اور خالق کی طرف رجوع کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو جس کا طریقہ یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو اور یہ قتل تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے چناچہ اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی اور تمہاری توبہ قبول کی۔ یقین جانو ! وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 3۔ فیصلہ کی چیز یا تو ان احکام کو کہا جو توریت میں لکھے ہیں یا معجزوں کو کہا۔ یا خود تورات ہی کو کہہ دیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

وحی الٰہی کے نزول کا مقصد ہدایت انسانی ہے : 112: فرمایا موسیٰ (علیہ السلام) کا پہاڑ پر جانا بغرض کتابت وحی الٰہی کے تھا اور وحی الٰہی کا منشا انسانی ہدایت یعنی قوم اسرائیل کی صحیح راہنمائی کرنا تھا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو حق و باطل میں فرق کردینے والی کتاب بصورت کتابت شدہ تختیاں دی گئیں۔ جس کی کتابت خود موسیٰ (علیہ السلام) نے ہی کی تھی۔ اس جگہ تورات کو فرقان کہا گیا ہے اور قرآن کریم میں جنگ بدر کو فرقان کہا گیا ہے (الانفال 8 : 41) اور ایک جگہ قرآن کریم کو بھی فرقان کا لقب دیا گیا ہے (الفرقان 25 : 1) مؤمن کو جو ” نور “ حق و باطل میں فرق کرنے کا دیا جاتا ہے اسے بھی فرقان کہا گیا ہے…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Torah is the book which was given to Sayyidna Musa (علیہ السلام) In the language of the Holy Qur'an, al-Furgan الفرقان is a term signifying something which separates truth from falsehood or distinguishes the one from the other. In the present verse, it refers either to (a) the injunctions of the Shari` ah which are to be found in the Torah, for the Shari` ah resolves all the differences that may arise with regard to the doctrines or the practice of good deeds; or to (b) miracles which decide between a true or a false claim in a palpable manner; or even to (c) the Torah itself which has the…

Read the full tafseer →