سخت ترین سزا
یہاں ان کی توبہ کا طریقہ بیان ہو رہا ہے انہوں نے بچھڑے کو پوجا اور اس کی محبت نے ان کے دلوں میں گھر کرلیا پھر حضرت موسیٰ ؑ کے سمجھانے سے ہوش آیا اور نادم ہوئے اور اپنی گمراہی کا یقین کر کے توبہ استغفار کرنے لگے تب انہیں حکم ہوا کہ تم آپس میں قتل کرو۔ چناچہ انہوں نے یہی کیا اور اللہ تعالیٰ نے ان کی توبہ قبول کی اور قاتل و مقتول دونوں کو بخش دیا۔ اس کا پورا بیان سورة طہ کی تفسیر میں آئے گا انشاء اللہ تعالیٰ۔ حضرت موسیٰ ؑ کا یہ فرمان کہ اپنے خالق سے توبہ کرو بتارہا ہے کہ اس سے بڑھ کر ظلم کیا ہوگا کہ تمہیں پیدا اللہ تعالیٰ کرے اور تم پوجو غیروں کو۔ ایک روایت میں ہے کہ موسیٰ ؑ نے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
سورة الْبَقَرَة 70
یعنی اپنے ان آدمیوں کو قتل کرو جنہوں نے گوسالے کو معبود بنایا اور اس کی پرستش کی۔
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم بیشک تم نے اپنا بڑا نقصان کیا اس گوسالہ (پرستی) کی تجویز سے سو تم اب اپنے خالق کی طرف متوجہ ہو پھر بعض (جنہوں نے گوسالہ پرستی نہیں کی) بعض آدمیوں کو (جنہوں نے گوسالہ پرستی کی) قتل کرو یہ (عمل درآمد) تمہارے لئے بہتر ہوگا تمہارے خالق کے نزدیک پھر (اس عملدر آمد کرنے سے) حق تعالیٰ تمہارے حال پر (اپنی عنایت سے) متوجہ ہوئے بیشک وہ تو ایسے ہی ہیں کہ توبہ قبول کرلیتے ہیں اور عنایت فرماتے ہیں،
فائدہیہ اس طریق کا بیان ہے جو ان کی توبہ کے لئے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کئے جائیں جیسا ہماری شریعت میں بھی بعض گناہوں کی سزا…
Read the full tafseer →“برء”کا مفہوم لفظ خلق کے مفہوم سے ملتا جلتا ہے۔ قرآن مجید میں ایک ہی جگہ اللہ تعالیٰ کی صفتیں بیان ہوئی ہیں۔ (ھُوَاللہُ الۡخَالِقُ الۡبَارِیُ الۡمُصَوِّرُ) خلق کا مفہوم ہے کسی چیز کا خاکہ design تیار کرنا،“برء”کا مفہوم ہے اس کو ٹھیک ٹھاک کرنا، تصویر کے معنی ہیں اس کو مکمل کرنا۔ اس اعتبار سے اگرچہ خالق اور باری دونوں لفظوں کے لغوی مفہوم میں ایک باریک سا فرق ہے لیکن عام استعمال میں دونوں ایک دوسرے کی جگہ پر استعمال ہوتے ہیں۔
فَاقْتُلُوۡا أَنْفُسَكُمْ: پس اپنے آپ کو قتل کرو کے معنی یہ نہیں ہیں کہ اپنی تلواریں خود اپنی گردنوں پر چلا دو بلکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہر قبیلہ میں سے جو لوگ اس فتنہ شرک و…
Read the full tafseer →54۔ 1 جب حضرت موسیٰ ؑ نے شرک پر متنبہ فرمایا تو پھر انہیں توبہ کا احساس ہوا توبہ کا طریقہ قتل تجویز کیا گیا (فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ) 2:54 (اپنے آپ کو آپس میں قتل کرو) کی تفسیریں کی گئی ہیں ایک یہ کہ سب کو دو صفوں میں کردیا گیا اور انہوں نے ایک دوسرے کو قتل کیا دوسری یہ کہ ارتکاب شرک کرنے والوں کو کھڑا کردیا گیا جو اس سے محفوظ رہے تھے انہیں قتل کرنے کا حکم دیا گیا۔ چناچہ انہوں نے قتل کیا۔ مقتولین کی تعداد ستر ہزار بیان کی گئی ہے (ابن کثیر و فتح القدیر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
42 : حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس دن اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی ؛ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر تشریف لے گئے، ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل کو اسے اپنا معبود قرار دینے اور اس کی عبادت کرنے پر آمادہ کرلیا اور اس طرح وہ شرک میں مبتلا ہوگئے، حضرت موسیٰ ؑ کو اطلاع ہوئی وہ گھبراکر واپس تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو توبہ کی تلقین فرمائی، اس توبہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے تھے وہ ملوث ہونے والوں کو قتل کریں ؛ چنانچہ ان کی ایک بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ…
Read the full tafseer →2 قوم سے مراد خاص وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچھڑے کو سجدہ کیا۔
3 یعنی جنہوں نے بچھڑے کو سجدہ نہ کیا تھا وہ سجدہ کرنے والوں کو قتل کریں اور بعض کا قول ہے کہ بنی اسرائیل میں تین گروہ تھے۔ ایک وہ جنہوں نے گوسالہ پرستی نہ کی اور دوسروں کو بھی روکا۔ دوسرے وہ جنہوں نے گوسالہ کو سجدہ کیا۔ تیسرے وہ جنہوں نے خود تو سجدہ نہ کیا مگر دوسروں کو منع بھی نہ کیا۔ فریق دوئم کو حکم ہوا کہ مقتول ہوجاؤ۔ تیسرے فریق کو حکم ہوا کہ ان کو قتل کرو تاکہ ان کے سکوت کرنے کی توبہ ہوجائے۔ اور فریق اول اس توبہ میں شریک نہیں ہوئے۔ کیونکہ ان کو توبہ کی حاجت نہ تھی۔
4 علماء کا اس میں اختلاف ہے کہ مقتول ہوجانا ہی توبہ تھی یا توبہ کا…
Read the full tafseer →آیت 54 وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ باتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰی بَارِءِکُمْ فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ط
یہ واقعہ تورات میں تفصیل سے آیا ہے ‘ قرآن میں اس کی تفصیل مذکور نہیں ہے۔ بہت سے واقعات جن کا قرآن میں اجمالاً ذکر ہے ان کی تفصیل کے لیے ہمیں تورات سے رجوع کرنا پڑتا ہے ‘ ورنہ بعض آیات کا صحیح صحیح مفہوم واضح نہیں ہوتا۔ یہاں الفاظ آئے ہیں : فَاقْتُلُوْا اَنْفُسَکُمْ ط ”مار ڈالو اپنی جانیں“ یا ”قتل کرو اپنے آپ کو“۔ اس کے کیا معنی ہیں ؟ یہ دراصل قتل مرتد کی سزا ہے۔ بنی اسرائیل کے بارہ قبیلے تھے۔ ہر قبیلے میں سے کچھ لوگوں نے یہ کفر…
Read the full tafseer →70 گؤسالہ پرستوں کا قتل عام :۔ موسیٰ جب کوہ طور سے تورات لے کر واپس لوٹے تو انہیں بنی اسرائیل کی اس گؤ سالہ پرستی کا علم ہوا اور اس بات سے سخت دکھ ہوا۔ قوم سے کہا کہ اب اس ظلم کی سزا یہ ہے کہ جن جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی انہیں چن چن کے مار ڈالو۔ اس وقت بنی اسرائیل کے تین گروہ بن گئے تھے۔ ایک وہ جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ دوسرے وہ جو انہیں گؤسالہ پرستی سے منع کرتے تھے۔ تیسرے وہ جو غیر جانبدار رہے۔ نہ خود گؤسالہ پرستی کی اور نہ ہی کرنے والوں کو منع کیا۔ انہیں حکم یہ دیا گیا کہ منع کرنے والے بچھڑا پوجنے والوں کو قتل کریں اور جو غیر جانبدار رہے انہیں معاف کردیا گیا۔
Read the full tafseer →176 ۔ (بعد اس کے کہ بنی اسرائیل شرک اور گوسالہ پرستی کے مرتکب ہوچکے تھے)
177 ۔ (کہ توحید جیسی دولت بےبہا پاکر پھر شرک اور مخلوق پرستی کی سفلیت پر اتر آئے)
178 ۔ (آیت) ” فتوبوا میں فاسببیہ ہے کہ نہ انہوں نے ظلم کیا ہوتا نہ آج توبہ کی نوبت آتی والفاء للتسبیب (بیضاوی) لان الظلم سبب للتوبۃ (بحر) توریت میں ہے :۔ ” اور موسیٰ (علیہ السلام) نے کہا کہ آج خداوند کے لیے اپنے تئیں مخصوص کرو۔ ہر ایک مرد اپنے بیٹے اور بھائی پر حملہ کرے تاکہ وہ تمہیں برکت دیوے۔ “ (خروج۔ 32:29)
179 ۔ (اپنے ہاتھ سے یعنی غیرمجرمین مجرمین کو قتل کریں) فلیقتل الذی لم یعبد العجل الذی عبدہ (ابن عباس ؓ شرک شریعت موسوی اور آئیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعْیِنَ لَیْلَةً ، بنی اسرائیل فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد دریا عبور کرکے جب جزیرہ نما صحراء سینا میں
پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ وہاں اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہوچکی ہے، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) بن عمر ان سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور اور جلیل القدر پیغمبر ہیں تورات میں ہے کہ ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی۔ (ماجدی)
آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کے تخمینہ کے مطابق پندرہویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کا تھا، سال ولادت غالبا…
Read the full tafseer →وَ اِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاِتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْا اِلٰی بَارِءِکُمْ ( اور وہ وقت بھی یاد کرو جب موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا کہ بھائیو ! تم نے بچھڑے کی پرستش سے اپنے اوپر ( بڑا ہی) ظلم کیا سو اب اپنے خالق کی جناب میں توبہ کرو) لِقَوْمِہٖ سے مراد وہ قوم ہے جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔ ظلمتم انفسکم یعنی اپنا نقصان کیا الیٰ بَارِءِکُمْ یعنی اس ذات کی طرف رجوع کرو جس نے تمہیں اعتدال کے ساتھ پیدا کیا اور کسی طرح کا نقص تم میں نہ کیا اور ایک دوسرے کی شکل و صورت متمیز و جدا بنائی اور اصل ترکیب ان حروف ( یعنی بَ رَاء) کی کسی شئے کو دوسری…
Read the full tafseer →(54) حضرت موسیٰ ؑ کا ان کی قوم کے ساتھ جو واقعہ پیش آیا، اللہ تعالیٰ اس کا ذکر فرماتے ہیں، حضرت موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اس بچھرے کی پوجا سے تم لوگوں نے اپنے آپ کو نقصان پہنچایا ان کی قوم نے ان سے کہا اب آپ ہمیں کیا حکم دیتے ہیں۔
حضرت موسیٰ ؑ نے کہا اپنے رب سے توبہ کرو۔ انہوں نے کہا کہ کس طرح، حضرت موسیٰ ؑ نے کہا کہ جس نے بچھڑے کی پوجا نہیں کی وہ اس کو قتل کرے کہ جس نے بچھڑا پرستی کی ہے اس قتل کے ذریعے جو توبہ ہوگی وہ تمہارے حق میں تمہارے پروردگار کی جناب میں بہتر ہوگی اور وہ تمہیں معاف کردے گا اور جو توبہ کرے وہ اس کو معاف کرنے والا اور جو توبہ پر مرجائے وہ اس کے حق میں رحیم ہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل میں جس طرح شادی شدہ زانی کی سزا رجم تھی اسی طرح شرک کے ارتکاب پر بھی انھیں قتل کی سزا سنائی گئی اور اس پر عمل بھی ہوا۔ ہماری امت میں بھی ارتداد کی سزا قتل ہے۔ عبداللہ بن عباس ؓ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : (مَنْ بَدَّلَ دِیْنَہٗ فَاقْتُلُوْہُ) ”جو شخص مرتد ہوجائے اسے قتل کر دو۔“ [ أبو داوٗد، الحدود، باب الحکم فیمن ارتد : 4351، و صححہ الألبانی ؓ ] مگر اتنی تخفیف کردی گئی کہ مرتد توبہ کرلے تو اسے معاف کردیا جائے گا، البتہ رجم کی حد توبہ کے باوجود جاری کی جائے گی۔
طبری نے ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ موسیٰ ؑ نے اللہ کے حکم سے اپنی قوم کو حکم دیا کہ اپنے آپ کو قتل کرو،…
Read the full tafseer →آیت نمبر 54
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذا قال موسیٰ لقومہ قوم، صرف مردوں کی جماعت کو کہتے ہیں جس میں عورتیں نہ ہوں۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : لا یسخر قوم من قومٍ (الحجرات : 11) پھر فرمایا : ولا نساءٌ من نسأءٍ (الحجرات :11)
زہیر نے کہا :
وما ادری وسوف اخال ادری اقوم آل حصن ام نساء
اس شعر میں اقوم سے مراد شاعر نے مرد لئے ہیں عورتوں کا علیحدہ ذکر کیا ہے۔
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ولوطاً اذ قال لقومہ (اعراف :80) یہاں صرف مرد مراد ہیں عورتیں نہیں کبھی قوم کا اطلاق مردوں اور عورتوں پر ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا : انا ارسلنا نوحاً الیٰ قومہ (نوح :1) اسی طرح ہر نبی کو عورتوں اور مردوں دونوں کی…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم کو اپنے رب کا یہ حکم دیا کہ تم اپنی جانوں کو قتل کرو تو وہ لوگ جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی وہ گوٹ مار کر بیٹھ گئے اور وہ لوگ کھڑے ہوگئے جنہوں نے بچھڑے کی پوجا کی تھی اور انہوں نے اپنے ہاتھوں میں خنجر اٹھالئے۔ شدید اندھیرا ان پر چھا گیا اور وہ ایک دوسرے کو قتل کرنے لگے۔ جب ان سے اندھیرا ختم ہوا تو ستر ہزار افراد قتل ہوچکے تھے ہر ایک ان میں سے جو قتل ہوا یہ اس کی توبہ تھی اور جو باقی بچ گیا تھا اس کے لیے بھی یہی توبہ تھی۔
(2) امام ابن ابی حاتم نے حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے روایت کیا کہ قوم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى: اور جب کہا موسیٰ نے ] [ لِقَوْمِهٖ : اپنی قوم سے ] [ يٰقَوْمِ : اے میری قوم ] [ اِنَّكُمْ : بیشک تم لوگوں نے ] [ ظَلَمْتُمْ : ظلم کیا ہے ] [ اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ پر ] [ بِاتِّخَاذِكُمُ : تمہارے بنانے سے ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الہ)] [ فَتُوْبُوْٓا : پس تم لوگ توبہ کرو ] [ اِلٰى بَارِىِٕكُمْ : تم کو وجود بخشنے والے سے ] [ فَاقْتُلُوْٓا : تو تم لوگ قتل کرو ] [ اَنْفُسَكُمْ ۭ : اپنوں کو ] [ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ: یہ بہتر ہے ] [ لَّكُمْ : تمہارے لیے ] [ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ ۭ : تم کو وجود بخشنے والے کے نزدیک ] [ فَتَابَ عَلَيْكُمْ ۭ : تو اس نے تمہاری توبہ قبول کی ] [ اِنَّھٗ…
Read the full tafseer →گؤ سالہ پرستی کرنے والوں کی توبہ اور اس بارے میں جانوں کو قتل کرنا
جب موسیٰ (علیہ السلام) توریت شریف لے کر واپس بنی اسرائیل کے پاس تشریف لائے تو دیکھا کہ بہت بڑی تعداد میں یہ لوگ گؤسالہ پرستی یعنی بچھڑے کی عبادت میں منہمک ہوچکے ہیں اس پر انہیں بہت زیادہ غصہ آیا اور ان کو بت پرستی سے توبہ کرنے پر متوجہ فرمایا۔ ان لوگوں کو بھی حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے توجہ دلانے سے اپنی گمراہی کا احساس ہوگیا جیسا کہ سورة اعراف میں فرمایا :
(وَ لَمَّا سُقِطَ فِیْٓ اَیْدِیْھِمْ وَ رَاَوْا اَنَّھُمْ قَدْ ضَلُّوْا قَالُوْا لَءِنْ لَّمْ یَرْحَمْنَا رَبُّنَا وَ یَغْفِرْلَنَا لَنَکُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِیْنَ ) ”…
Read the full tafseer →انعام ہفتم : واذ قال موسیٰ لقومی یقوم انکم ظلمتم انفسکم الایۃ۔ اور اے بنی اسرائیل اس انعام کو بھی یاد کرو جب کہ موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنی قوم سے کہا کہ اے میری قوم بچھڑا بنا کر تم نے اپنی جانوں پر بڑا ہی ظلم کیا اس بچھڑے سے تو فرعون اور ہامان ہی بہتر تھا۔ جب ایک انسان کی پرستش کفر اور شرک ہوئی تو ایک احمق حیوان کی پرستش کیسے کفر اور شرک نہ ہوگی۔ لہذا فوراً ہی بلا کسی تاخیر اور مہلت کے اپنے اس خالق کی طرف رجوع کرو۔ جس نے تم کو کفر اور شرک سے پاک اور بری منزہ اور مبرا پیدا کیا اس علیم و حکیم نے تم کو حنیف اور فطرۃ اسلام پر پیدا کیا تھا تم نے اپنی جہالت اور نادانی سے اس کو شرک اور ظلم عظیم کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
ف 112 ۔ یہ تیسرا انعام ہے۔ سمندر پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے حکم خداوندی سے کوہ طور پر پہنچے۔ وہاں آپ نے چالیس راتیں بسر کیں۔ اور اللہ کی طرف سے تورات حاصل کی۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ ۔ اِتَّخَذْتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ای اتخذتم العجل الہاً ۔ یعنی تم نے گوسالہ کو معبود بنا لیا (ابو السعود ص 528 ج 1، قرطبی ص 396 ج 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر خود کوہ طور پر چلے گئے تو سامری نے جو ایک منافق تھا، سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو پگھلا کر ان سے بچھڑے کا بت تیار کیا اور حضرت ابن عباس اور معمر کے قول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
نزول توراۃ : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات فرمائے ان کا ذکر مسلسل آرہا ہے ۔ فرعون کی غلامی سے نجات دلانے۔ دریا کو پھاڑ کر معجزانہ طور پر پانی میں راستے بنانا اور بنی اسرائیل کو بچانا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت وغیرہ کا ذکر آچکا ہے۔ اس درس میں بعض مزید انعامات کا تذکرہ ہے۔ منجملہ ان کے بنی اسرائیل کو کتاب اور شریعت عطا کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “ واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ” اس بات کو دھیان میں لاؤ جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ کوہ طور پر چالیس رات تک تنہائی میں اعتکاف کریں۔ قرآن پاک میں ہے کہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ مُوْسٰى لِقَوْمِہٖ يٰقَوْمِ اِنَّكُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَكُمْ بِاتِّخَاذِكُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْٓا اِلٰى بَارِىِٕكُمْ فَاقْتُلُوْٓا اَنْفُسَكُمْ 0 ۭ ذٰلِكُمْ خَيْرٌ لَّكُمْ عِنْدَ بَارِىِٕكُمْ 0 ۭ فَتَابَ عَلَيْكُمْ 0 ۭ اِنَّہٗ ھُوَالتَّوَّابُ الرَّحِيْمُ 54
قول
القَوْلُ والقِيلُ واحد . قال تعالی: وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122]
( ق و ل ) القول
القول اور القیل کے معنی بات کے ہیں قرآن میں ہے : ۔ وَمَنْ أَصْدَقُ مِنَ اللَّهِ قِيلًا[ النساء/ 122] اور خدا سے زیادہ بات کا سچا کون ہوسکتا ہے ۔
قوم
والقَوْمُ : جماعة الرّجال في الأصل دون النّساء، ولذلک قال : لا…
Read the full tafseer →ترکیب : واذقال فعل، موسیٰ فاعل، لقومہ متعلق ہے قال کے یا قوم الخ یہ سب مقولہ ہے یا حرف ندا قوم منا دی مضاف ی متکلم مضاف الیہ محذوف کسرئہ میم اس کے قائم مقام ہے انکم الخ ندا باقی جملے صاف ہیں۔
تفسیر : پانچواں انعام : یہ پانچواں انعام یاد دلاتا ہے کہ اس گوسالہ پرستی کی سزا میں تم کو اس سرے سے اس سرے تک ہلاک کیا جاتا تو کوئی بات نہ تھی مگر توبہ میں قتل کا حکم دے کر پھر اس کو بھی معاف کردیا۔ اس کی تفسیر یہ ہے کہ جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے تشریف لائے اور یہ حال دیکھا تو ان کو ملامت کی کہ تم نے اپنی جانوں پر بڑا ظلم کیا۔ اب تم توبہ کرو اور تمہاری توبہ یہ ہے کہ اپنے آپ کو قتل کرو اور ہر شخص…
Read the full tafseer →وَاِذْ قَالَ مُوسٰی لِقَوْمِہٖ یٰقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ بِاتِّخَاذِکُمُ الْعِجْلَ فَتُوْبُوْآ اِلٰی بَارِئِکُمْ فَاقْتُلُوْٓااَنْفُسَکُمْط ذٰلِکُمْ خَیْرٌ لَّکُمْ عِنْدَ بَارِئِکُمْط فَتَابَ عَلَیْکُمْ ط اِنَّہٗ ھُوَ التَّوَّابُ الرَّحِیْمُ ۔ (البقرۃ : 54)
(اور یاد کرو ! جب کہ موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا، اے میری قوم ! تم نے بچھڑے کو معبود بناکر اپنی جانوں پر ظلم کیا ہے۔ پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو اور اپنی جانوں کو قتل کرو، یہ تمہارے لیے بہتر ہے تمہارے پیدا کرنے والے کے نزدیک۔ پھر اس نے تمہاری توبہ قبول فرمائی۔ بیشک وہی توبہ قبول کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : سنگین جرم معاف کرتے ہوئے پانچواں احسان۔
جب موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور سے اتر کر اپنی قوم کی طرف آئے تو انہوں نے بچھڑے کو جلا کر دریا میں پھینک دیا اور فرمایا اللہ تعالیٰ کا حکم ہے کہ جن لوگوں نے شرک کا ارتکاب کیا ہے ان کے رشتہ داروں کی ذمہ داری ہے کہ وہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل کردیں۔ یہی تمہاری توبہ ہے اور یہی توبہ کا طریقہ تمہارے رب کے ہاں مقبول ہے۔ جب مشرک ہزاروں کی تعداد میں قتل ہوچکے تو اللہ کی بار گاہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے ان کی معافی کی درخواست پیش کی جس کو قبول کرتے ہوئے رب کریم نے باقی ماندہ لوگوں کی توبہ قبول فرمائی کیونکہ اللہ تائب ہونے والوں کی…
Read the full tafseer →قوم سے مراد :
وَاِذْ قَالَ مُوْسٰی لِقَوْمِہٖ : (جب موسیٰ ( علیہ السلام) نے اپنی قوم کو کہا) قوم سے مراد یہاں وہ لوگ ہیں جنہوں نے بچھڑے کی عبادت کی۔
یٰـقَوْمِ اِنَّکُمْ ظَلَمْتُمْ اَنْفُسَکُمْ : (اے میری قوم بیشک تم نے اپنے آپ پر ظلم کیا)
بِاتِّخَاذِ کُمُ الْعِجْلَ : (بسبب تمہارے بنا لینے بچھڑے کو) معبود۔
فَتُوْبُوْٓا اِلٰی بَارِپکُمْ : (پس تم اپنے پیدا کرنے والے کی طرف رجوع کرو)
الباری : وہ ذات جس نے مخلوق کو فرق سے بری بنایا۔ جو ان کو بچھڑے کی عبادت کی طرف لے جاتے جو غباوت وبلادت میں ضرب المثل ہے۔
(فیہ لغباوۃ العابدین للعجل)
قتل کا مفہوم :
فَاقْتُلُوْٓ ا اَنْفُسَکُمْ : (تم اپنے نفسوں کو قتل…
Read the full tafseer →54۔ (آیت)” واذ قال موسی) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے بچھڑے کی پوجا کرنے والوں سے کہا (آیت) ” یا قوم انکم ظلمتم انفسکم “۔ کہ تم نے اپنے نفسوں کو دھوکہ دیا (آیت)” باتخاذکم العجل “ (بچھڑے کو) معبود (پکڑنے کے سبب) انہوں نے کہا تو اب ہم کیا کریں ؟ فرمایا (آیت)”’ فاقتلوا انفسکم “ یعنی چاہیے کہ تم میں سے جو بےگناہ ہے وہ مجرم کو قتل کرے ” ذلکم “ یعنی قتل کرنا ” خیرلکم عندبارئکم “ جب ان کو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے قتل کا حکم دیا تو وہ کہنے لگے ۔
سب کے سب ایک صحن میں اپنی چادروں سے گوٹ مار کر سرجھکا کر بیٹھ گئے حکم ہوا اگر کوئی اپنی گوٹ کھولے یا نگاہ اٹھا کر قاتل کر دیکھے یا ہاتھ پیر کے ذریعے سینچے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(51 ۔ 52): پورا قصہ تو سورة اعراف اور طہٰ میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے لئے اس قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی تو بنی اسرائیل کو آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آن کر چالیس راتیں راہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر تورات نازل کی جاوے گی۔ اس حکم کے موافق حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر کر خود کوہ طور پر چلے گئے۔ بنی اسرائیل جس رات مصر سے نکلے اس رات فرعونیوں سے ایک شادی کا بہانہ کر کے تمام رات سفر کی تیار کے لئے جاگتے رہے اور اس شادی کے حیلہ سے انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →152 شرک خود اپنے اوپر ظلم ہے ۔ والعیاذ باللہ العظیم : سو مشرک شرک کے ذریعے خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتا ہے۔ والعیاذ باللہ ۔ سو بچھڑے کو اپنا معبود ٹھہرا کر تم لوگوں نے خود اپنی جانوں پر ظلم کیا، کہ اسطرح تم لوگوں نے کھلے اور صریح شرک کا ارتکاب کیا جو کہ سب سے بڑا جرم اور سنگین گناہ ہے اور جو کہ ناقابل معافی جرم اور ظلم عظیم ہے۔ سو اس کے لئے توبہ کرنا اشد ضروری ہے۔ اور اس کا طریقہ تمہارے لئے یہ قتل ہے کہ تم لوگوں نے حیوان اور بچھڑے جیسے حیوان کو اپنا معبود ٹھہرا کر ہولناک ظلم کا ارتکاب کیا، جو کہ بیوقوفی میں ضرب المثل ہے۔ سو مشرک شرک کے ذریعے خود اپنے ہی اوپر ظلم کرتا ہے اور اس طرح وہ راہ حق و…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–56
شرک کی سزا اور موت کے بعد زندگی
تشریح : جب بنی اسرائیل کی توبہ قبول ہوگئی تو وہ دوبارہ کوہ طور پر گئے تب اللہ تعالیٰ نے انہیں آسمانی کتاب کا تحفہ دیا۔ جس کا نام تورات ہے۔ یہ شریعت، قانون، احکامات اور رشد و ہدایت کا مجموعہ تھا، اسی لئے اس کو فرقان کہا گیا ہے۔ یعنی فرق کرنے والی جھوٹ اور سچ، حق اور باطل کے درمیان اور اس، میں نیک و بد کو جدا جدا کرکے تفصیل سے بتا دیا گیا ہے تاکہ ہر ایک کو واضح طور پر سمجھ آسکے اور بنی اسرائیل پر مزید ایک احسان اللہ تعالیٰ نے اس آسمانی کتاب تورات کے ذریعہ کیا۔ اسی طرح قرآن مجید کو بھی فرقان کہا گیا ہے۔ تمام بنی نوع انسان کو چاہیے کہ وہ ان تمام قرآنی احکامات پر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ حضرت ابن عباس ؓ کے قول کے مطابق اس کی صورت یہ تھی کہ جن لوگوں نے بچھڑے کی پرستش نہیں کی وہ ان کو قتل کریں جو اس جرم کے مر تکب ہوئے ہیں چناچہ اس پر عمل شروع ہونے پر اللہ تعالیٰ نے ان کو معاف فرمادیا۔ اوپر آیت 52، میں جس عفو کی خبر دی گئی ہے وہ اس قتل کے بعد کا ہے۔ ( رازی۔ قرطبی) ارتد اد کی سزا قتل ہے حدیث میں من بد لا دینہ فاقتلوہ کو جو شخص مرتد ہوجائے اسے قتل کردو۔ (ابو دو ؤد) جب مو دی (علیہ السلام) مع ستر آدمیوں کے تورات لے کر پلٹے تو انہوں نے کہا کہ ہم تمہارے کہنے یہ باور نہیں کریینگے کہ اللہ تعالیٰ تم سے ہم کلام ہوئے ہیں جب تک ہم خود اپنی خود اپنی آنکھ سے اللہ تعالیٰ کو نہ دیکھ لیں…
Read the full tafseer →(2:54) واذقال ۔ ملاحظہ ہو 2:49 ۔ یا قوم ۔ یا حرف نداء قوم منادی۔ قوم اصل میں تومی تھا۔ ی متکلم حذف کرکے کسرہ کو اس کے قائم مقام کردیا گیا۔
باتخاذکم العجل۔ باء سببیہ ہے ۔ اتخاذ مصدر (ملاحظہ ہو 2:51) مضاف کم ضمیر جمع مذکر حاضر۔ مضاف الیہ۔ التجل مفعول انتخاذ مصدر کا۔ اپنی گئوسالہ گیری کے سبب سے۔ یعنی گائے کے بچھڑے کو بطور معبود کے اپنا لینے کے سبب سے تم نے اپنی جانوں پر ظلم کیا۔
فتوبوا ۔سببیہ ہے۔ توبوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر ہے۔ پس تم توبہ کرو۔
بارئکممضاف مضاف الیہ۔ باری اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے۔ ایجاد و اختراع کرنے والا۔ پیدا کرنے والا۔ اس کا مادہ برء ہے۔ البر والبراء والبراء کے اصل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 54
(وعدنا): ہم نے وعدہ کیا۔ (اربعین): چالیس۔ (لیلۃ): رات۔ (اتخذتم): تم نے بنایا ۔ (العجل): بچھڑا (گائے کا بچہ) ۔ (عفونا): ہم نے معاف کردیا۔ (من بعد ذلک): اس کے بعد۔ (تشکرون): تم شکر کرو گے۔ (اتینا) : ہم نے دیا۔ (الفرقان): حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔ (تھتدون): تم ہدایت حاصل کرو گے۔ (ظلمتم): تم نے ظلم کیا۔ (اتخاذ): بنانا، بنا کر۔ (توبوا): تم توبہ کرو۔ (بارئی): پیدا کرنے والا۔ (اقتلوا): تم قتل کرو۔ (انفسکم): اپنوں کو (نفس کی جمع) ۔ (خیر): بہتری، بھلائی۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 54
فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ نے نبی اسرائیل کو فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر توریت لنے جانا اور ان کی غیر حاضری میں قوم کی گئو سالہ پرستی کرنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس راتیں رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر توریت نازل کی جائے گی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر خود کوہ طور پر چلے گئے ۔ اسی رات کی صبح کو سب فرعونی ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس لئے ان کے زیور کا کوئی طلبگار باقی نہ رہا اور تمام زیور بنی اسرائیل کے پاس رہا ۔ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
[43] یعنی اپنے ان لوگوں کو قتل کرو جنہوں نے بچھڑے کی پرستش کی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(ف 2) قوموں کا آپریشن :
جس طرح بدن کے بعض حصے اس لئے کاٹ دینا پڑتے ہیں کہ وہ سارے نظام بدن کو بیکار نہ کردیں ، اسی طرح قوموں میں جب ناقابل اصلاح خرابیاں پیدا ہوجائیں تو پھر آپریشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے باوجود ہارون (علیہ السلام) کے موجود ہونے دوبارہ بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کے وہ مصر میں عادی تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ان لوگوں کو جن کی رگ رگ میں شرک کے مہلک جراثیم موجود ہیں ‘ ہلاک کردیا جائے ، ورنہ خطرہ ہے کہ تمام بنی اسرائیل اس روحانی مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں اور پھر اصلاح کی کوئی توقع نہ رہے گی ۔
اس میں شک نہیں کہ خدا رحیم ہے لیکن یہ بھی یقین ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 53–54
ف 3۔ اور ہمارا وہ احسان یاد کرو جب ہم نے موسیٰ کو کتاب توریت اور فرقان عطا فرمایا تاکہ تم سیدھی راہ پائو اور اس پر چلتے رہو اور اے بنی اسرائیل ! تم وہ بات بھی یاد کرو جب حضرت موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا کہ اے میری قوم ! بلاشبہ تم نے اس بچھڑے کو معبود بنا کر اپنا بڑا نقصان کیا۔ اب اس شرک کی تلافی یونہی ہوسکتی ہے کہ تم اپنے موجد اور خالق کی طرف رجوع کرو اور اس کی جناب میں توبہ کرو جس کا طریقہ یہ ہے کہ تم آپس میں ایک دوسرے کو قتل کرو اور یہ قتل تمہارے خالق کے نزدیک بہتر ہے چناچہ اس عمل کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے تم پر توجہ فرمائی اور تمہاری توبہ قبول کی۔ یقین جانو ! وہ بڑا ہی توبہ قبول کرنے والا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–56
ف 4۔ یہ بیان ہے اس طریق کا جو ان کی توبہ کے لیے تجویز ہوا یعنی مجرم لوگ قتل کیے جاویں۔
Read the full tafseer →توبہ گناہ کو کھا جاتی ہے :
113: موسیٰ (علیہ السلام) جب کتاب الٰہی کے ساتھ طور سے واپس آئے اور دیکھا کہ قوم کی اکثریت شرک کی ناپاکی میں لت پت ہے یعنی وہ
ایک بچھڑے کی پوجا میں لگے ہوئے ہیں۔ یہ دیکھنا تھا کہ گویا خون کھول گیا اور جلالی طبیعت کے تقاضا میں جلالت نے اپنا رنگ دکھایا۔ اپنے بھائی کو پکڑ کر خوب جھنجھوڑا اور استفسار کیا کہ تم نے میری خلافت کا کیا حق ادا کیا ؟ موسیٰ (علیہ السلام) کے بھائی ہارون نے معذرت خواہانہ انداز میں کہا کہ تیری قوم کو میں نے اس برائی سے روکنے کی حتی المقدور کوشش کی جس کے نتیجہ میں قریب تھا کہ وہ مجھے قتل ہی کردیتے۔ پھر مجھے قتل ہوجانے کا بھی کوئی خوف نہیں تھا۔ مجھے…
Read the full tafseer →This verse describes the special mode of offering their Taubah توبہ (repentance) which was prescribed for the Israelites in this situation, -- that is to say, those who had not indulged in the worship of the golden calf should execute those who had. Similarly, in the Islamic Shari'ah too, certain major sins necessarily entail capital punishment even when the sinner has offered this Taubah توبہ -- for example, life in return for a life in the case of intentional homicide, or death by stoning in the case of adultery established through proper evidence.
Then the Israelites acted upon this…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 54–55
70. That is, they should put to death those of their own number who made the calf an object of worship and actually worshipped it.
Read the full tafseer →