Explained with ayahs 51–53
چالیس دن کا وعدہ
یہاں بھی اللہ برترو اعلیٰ اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے جب کہ تمہارے نبی حضرت موسیٰ ؑ چالیس دن کے وعدے پر تمہارے پاس سے گئے اور اس کے بعد تم نے گوسالہ پرستی شروع کردی پھر ان کے آنے پر جب تم نے اس شرک سے توبہ کی تو ہم نے تمہارے اتنے بڑے کفر کو بخش دیا اور قرآن میں ہے آیت (وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ) 7۔ الاعراف :142) یعنی ہم نے حضرت موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس بڑھا کر پوری چالیس راتوں کا کیا کہا جاتا ہے کہ یہ وعدے کا زمانہ ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے یہ واقعہ فرعونیوں سے نجات پا کر دریا سے بچ کر نکل جانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
سورة الْبَقَرَة 67
مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے، جو اب آزاد ہوچکی تھی، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں۔ (ملاحظہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 24 تا 31)
سورة الْبَقَرَة 68
گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا۔ حضرت یوسف ؑ کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
پھر بھی ہم نے (تمہاری توبہ کرنے پر) درگذر کیا تم سے اتنی بڑی بات ہوئے پیچھے اس توقع پر کہ تم احسان مانو گے،
فائدہاس توبہ کا بیان آگے کی تیسری آیت میں مذکور ہے اللہ تعالیٰ کے اس توقع رکھنے کا مطلب نعوذ باللہ یہ نہیں کہ خدا تعالیٰ کو شک تھا بلکہ مطلب یہ ہے کہ یہ درگذر کرنا ایسی چیز ہے کہ دیکھنے والوں کو شکر گذاری کی توقع کا گمان ہوسکتا ہے،
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
یہ اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو مصر سے نکلنے اور دریا کو پار کر چکنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام و ہدایات دینے کےلئے فرمایا اور اس مقصد کے لئے ان کو طور پر بلایا۔ یہ چالیس دن کی مدت اس قلبی و روحانی تیاری کے لئے تھی جو کتاب الہٰی کے بار عظیم کے متحمل ہونے کے لئے ضروری تھی۔ ابتداءً یہ وعدہ تین دنوں کا تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ ان کی اس جلدی کے سبب اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت مقتضی ہوئی کہ یہ مدت ۳۰ دنوں سے بڑھا کر چالیس دن کی کردی جائے۔ مذکورہ آیت میں یہ پوری مدت جمع کر دی گئی ہے۔ سورہ اعراف میں اس کی تفصیل اس طرح درج ہے۔
وَوٰعَدْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 1 یہ گؤ سالہ پرستی کا واقعہ اس وقت ہوا جب فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد بنو اسرائیل جزیرہ نماء سینا پہنچے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تورات دینے کے لئے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، حضرت موسیٰ ؑ کے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ انسان کتنا ظاہر پرست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اور نبیوں (حضرت ہارون و موسیٰ علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود بچھڑے کو اپنا معبود سمجھ لیا۔ آج کا مسلمان بھی شرکیہ عقائد واعمال میں بری طرح مبتلا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ مسلمان مشرک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ان مشرک مسلمانوں نے شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
42 : حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس دن اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی ؛ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر تشریف لے گئے، ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل کو اسے اپنا معبود قرار دینے اور اس کی عبادت کرنے پر آمادہ کرلیا اور اس طرح وہ شرک میں مبتلا ہوگئے، حضرت موسیٰ ؑ کو اطلاع ہوئی وہ گھبراکر واپس تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو توبہ کی تلقین فرمائی، اس توبہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے تھے وہ ملوث ہونے والوں کو قتل کریں ؛ چنانچہ ان کی ایک بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ…
Read the full tafseer →10 مطلب یہ ہے کہ باوجود اس شرک جلی کے ہم نے تم سے درگزر فرمائی اور تمہاری توبہ منظور کی اور تم کو فی الفور ہلاک نہ کیا (جیسے آل فرعون کو اس سے کم قصور پر ہلاک کردیا تھا) کہ تم ہمارا شکر ادا کرو اور احسان مانو۔
Read the full tafseer →آیت 52 ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْم بَعْدِ ذٰلِکَ ”“ یہ ہمارا کرم رہا ہے ‘ ہماری رحمت رہی ہے۔
لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ “
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
69 بنی اسرائیل پر بیتے ہوئے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔
بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ…
Read the full tafseer →173 (تمہارے توبہ و استغفار اور تم میں سے ایک خاص گروہ کی سزا یابی کے بعد) گوسالہ پرستی اور شرک جیسے انتہائی جرم کی سزا چاہیے تو یہ تھا کہ ساری قوم کو ملتی، شرک کرنے والوں کو شرک کی، اور باقی تماشہ دیکھتے رہنے والوں کو سکوت عن الحق اور اعانت جرم کی۔ لیکن واقعۃ سزا صرف ایک مخصوص گروہ کو ملی۔ جیسا کہ ابھی آتا ہے، اور باقی ساری قوم توبہ و استغفار کے بعد بچ گئی۔
174 (کہ شکر گزاری اور منت پزیری تو جوہر شرافت اور لازمہ انسانیت ہے) اس موقع پر عملی شکر گزاری توحید وطاعت پر ثابت قدمی تھی۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعْیِنَ لَیْلَةً ، بنی اسرائیل فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد دریا عبور کرکے جب جزیرہ نما صحراء سینا میں
پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ وہاں اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہوچکی ہے، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) بن عمر ان سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور اور جلیل القدر پیغمبر ہیں تورات میں ہے کہ ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی۔ (ماجدی)
آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کے تخمینہ کے مطابق پندرہویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کا تھا، سال ولادت غالبا…
Read the full tafseer →ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِّنْ بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْن ( پھر اس کے بعد بھی ہم نے تم سے در گذر کی تاکہ تم احسان مانو) یعنی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے درگذر کی عفو ( گناہ کے محو کرنے کو کہتے ہیں) عفا ( مٹ گیا، محو ہوا) سے مشتق ہے۔ مِنْ بَعْدِ ذٰلِکَ ( یعنی بعد اس معبود بنانے کے) مفسرین نے کہا ہے کہ شکر سے مراد طاعت ہے اور شکر قلب، زبان، اعضا سب سے ہوتا ہے۔ حسن نے کہا ہے کہ نعمت کا شکر اس کا ذکر کرنا ہے اور سید الطائفہ حضرت جنید بغدادی (رح) فرماتے ہیں کہ نعمت کا شکریہ ہے کہ اس نعمت کو منعم حقیقی کی رضا میں صرف کیا جائے بعض نے کہا ہے کہ شکر کی حقیقت شکر سے عجز کا ظاہر کرنا ہے۔ علامہ…
Read the full tafseer →(52) اس بچھڑے کی پوجا کے بعد ہم نے تمہیں چھوڑدیا اور تمہارا خاتمہ نہیں کیا، تاکہ تم میرے معاف و درگزر کرنے پر شکر بجالاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
الْكِتٰبَ) سے مراد بالاتفاق تورات ہے اور ”الفرقان“ (حق و باطل میں فرق کرنے والی چیز) سے مراد معجزے بھی ہیں اور موسیٰ ؑ کو عطا کردہ قوت فیصلہ بھی جو حق و باطل میں فرق کرتی تھی، اگر ”واؤ“ کو تفسیری مانیں تو خود تورات بھی حق و باطل میں فرق کرنے والی تھی۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 52
اس میں چار مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : ثم عفونا عنکم، العفو، اللہ تعالیٰ کا اپنی مخلوق کو معاف کرنا۔ کبھی عفو سزا کے بعد ہوتا ہے اور کبھی سزا سے پہلے، بخلاف الغفران کے کہ اس کے ساتھ یقیناً عقوبت ہوتی ہے۔ ہر وہ شخص جو عقوبت کا مستحق ہو پھر اسے سزا (عقوبت) نہ دی گئی ہو تو اسے معاف کیا گیا۔ العفو کا مطلب گناہ کو مٹا نا ہے، یعنی ہم نے تمہارے گناہوں کو مٹا دیا اور تم سے تجاوز کیا۔ یہ عفت الریح الاثر سے ماخوذ ہے یعنی ہوا نے اثر مٹا دیا، عفا الشیء کسی شے کا کثیر ہونا یہ اضداد میں ہے۔ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : حتی عفوا (اعراف :95)
مسئلہ نمبر 2: اللہ تعالیٰ کا ارشاد…
Read the full tafseer →(1) ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون “ سے مراد ہے کہ بچھڑے کی پوجا کرنے کے بعد ہم نے تم کو معاف کردیا۔
Read the full tafseer →[ ثُمَّ عَفَوْنَا : پھر ہم نے درگزر کیا ] [ عَنْكُمْ : تم لوگوں سے ] [ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ : اس کے بعد ] [ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ : تاکہ تم لوگ شکر کرو ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر جانا اور بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت کرنا
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر سمندر پار ہوگئے تو ایک میدان میں پہنچ گئے۔ یہاں سے ان کو اپنے وطن فلسطین جانا تھا لیکن چالیس سال کے بعد وہاں پہنچ سکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے علاقے میں ان کو جانا نصیب ہوا ان کی وفات اسی میدان میں ہوگئی۔ اور اسی عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف عطا فرمائی۔ طور پہاڑ اسی میدان میں ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں بلایا ایک مہینہ اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن تیس راتیں گزرنے کے بعد حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →انعام پنجم۔ ثم عفونا عنکم من بعد ذلک لعلکم تشکرون۔ پھر ہم نے اس جرم عظیم کے بعد بھی تم کو معاف کیا تاکہ تم احسان مانو کہ ہم نے اپنے فضل اور رحمت سے تم کو معاف کیا آل فرعون کی طرح ہلاک نہ کیا، ورنہ یہ جرم قابل عفو نہ تھا۔ عفو سے اس جگہ مراد ترک مؤاخذہ ہے کہ تم کو اس جرم کے بعد نیست ونابود کو کے نہیں چھوڑا۔
حکایت : بارگاہ خداوندی میں موسیٰ (علیہ السلام) نے عرض کیا کہ اے پروردگار تو نے بیشمار نعمتیں مجھ کو عطاء فرمائیں اور ان پر شکر کا حکم دیا تیری نعمتوں کا شکر خود ایک عظیم الشان نعمت ہے پھر کس طرح شکر کروں۔ اللہ جل جلالہ کی طرف سے ارشاد ہوا کہ اے موسیٰ بندہ کا یہ سمجھ لینا کہ جو نعمت بھی ہے وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
ف 112 ۔ یہ تیسرا انعام ہے۔ سمندر پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے حکم خداوندی سے کوہ طور پر پہنچے۔ وہاں آپ نے چالیس راتیں بسر کیں۔ اور اللہ کی طرف سے تورات حاصل کی۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ ۔ اِتَّخَذْتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ای اتخذتم العجل الہاً ۔ یعنی تم نے گوسالہ کو معبود بنا لیا (ابو السعود ص 528 ج 1، قرطبی ص 396 ج 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر خود کوہ طور پر چلے گئے تو سامری نے جو ایک منافق تھا، سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو پگھلا کر ان سے بچھڑے کا بت تیار کیا اور حضرت ابن عباس اور معمر کے قول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
نزول توراۃ : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات فرمائے ان کا ذکر مسلسل آرہا ہے ۔ فرعون کی غلامی سے نجات دلانے۔ دریا کو پھاڑ کر معجزانہ طور پر پانی میں راستے بنانا اور بنی اسرائیل کو بچانا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت وغیرہ کا ذکر آچکا ہے۔ اس درس میں بعض مزید انعامات کا تذکرہ ہے۔ منجملہ ان کے بنی اسرائیل کو کتاب اور شریعت عطا کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “ واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ” اس بات کو دھیان میں لاؤ جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ کوہ طور پر چالیس رات تک تنہائی میں اعتکاف کریں۔ قرآن پاک میں ہے کہ…
Read the full tafseer →ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْكُمْ مِّنْۢ بَعْدِ ذٰلِكَ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ 52
عفو
العَفْوُ : القصد لتناول الشیء، يقال : عَفَاه واعتفاه، أي : قصده متناولا ما عنده، وعَفَتِ الرّيحُ الدّار : قصدتها متناولة آثارها، وبهذا النّظر قال الشاعر : أخذ البلی أبلادها وعَفَتِ الدّار : كأنها قصدت هي البلی، وعَفَا النبت والشجر : قصد تناول الزیادة، کقولک : أخذ النبت في الزّيادة، وعَفَوْتُ عنه : قصدت إزالة ذنبه صارفا عنه، فالمفعول في الحقیقة متروک، و «عن» متعلّق بمضمر، فالعَفْوُ : هو التّجافي عن الذّنب . قال تعالی: فَمَنْ عَفا وَأَصْلَحَ [ الشوری/ 40] ، وَأَنْ تَعْفُوا أَقْرَبُ لِلتَّقْوى [ البقرة/ 237] ، ثُمَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
بقیہ پچھلی آیت میں
پائو گے پس موسیٰ نے کہا الٰہی میں اور میرا بھائی تیری بندگی کو حاضر ہیں اور باقی اس فاسق قوم سے مجھ کو کچھ سروکار نہیں ہم کو ان سے جدائی نصیب کر۔ تب قہرالٰہی نمودار ہوا اور یہ فرمایا کہ مجھے اپنی حیات کی قسم جس طرح اس قوم نے باوجودیکہ ہزارہا معجزات دیکھ چکے ہیں میری نافرمانی کی میں ان کو اس بیابان میں ہلاک کر دوں گا۔ وقت خروج سے جس کی 20 برس کی عمر تھی یا اس سے اوپر ان میں سوائے کالب اور یوشع کے کوئی بھی ملک کنعان میں نہیں پہنچا۔ وہ تمام لوگ چالیس برس تک فاران کے جنگل میں مقام اور کوچ کرتے رہے تخمیناً بیس بار کوچ کیا کئی کئی برس ایک جگہ گزار دیے جب یہ سب مرچکے تو نئی نسل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن ْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 51 تا 52)
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظلم کرنے والے تھے۔ پھر ہم نے تم سے درگزر کیا، اس کے بعد، تاکہ تم شکر گزار بنو)
گوسالہ پرستی کا واقعہ
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کی غلامی سے نجات پاکر بحرقلزم عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعدانھوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اب ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل پر تیسرا اور چوتھا احسان۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کے علاقہ سے واپسی کے وقت سفر کے دوران نبوت سے سرفراز فرمایا اور دو معجزے عطا فرمائے۔ لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا۔ ان معجزات کے ساتھ موقع بموقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایات ملتی رہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی کے ساتھ سمجھانے کی ہدایت ‘ توحید کے دلائل ‘ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ مظلوم بنی اسرائیل کو صبر اور نماز کی تلقین اور ہر قسم کی راہنمائی کا بندوبست، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مجادلہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی : (جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا) کیونکہ وہ وعدہ وحی سے تھا۔ اور وہ طور پر آنے کا تھا۔
وٰعَدْنَا : جہاں تک میری تحقیق ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں ہلاکت فرعون کے بعد داخل نہ ہوئے اور اس وقت ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ جس کی طرف رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا۔ وہ ان پر تورات اتاریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر کیا۔ ذوالقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے اور فرمایا۔ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً : کیونکہ مہینہ کی ابتداء راتوں سے ہوتی ہے۔ اور چالیس راتیں۔
نحو : اَرْبَعِیْنَ یہ وعدنا کا مفعول ثانی ہے ظرف نہیں ہے۔ اس لیے اس کا معنی چالیس راتوں میں نہیں…
Read the full tafseer →52۔ (آیت)” ثم عفونا عنکم “ تاکہ تم میرے معاف کردینے کے شکر گزار بن جاؤ اور جو کچھ میں نے تمہارے ساتھ احسان کیا ، کہا گیا ہے شکر ظاہر و پوشیدہ تمام اعضاء کے ساتھ اطاعت کا نام حضرت حسن بصری (رح) فرماتے ہیں کہ کسی نعمت کا شکر اس کا ذکر کرنا ہے ، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں (آیت)” واما بنعمۃ ربک فحدث “ (بہرحال اپنے رب کی نعمت کا بیان کیجئے) حضرت فضیل (رح) فرماتے ہیں کہ ہر نعمت کا شکر یہ ہے کہ اس نعمت کے ملنے کے بعد اللہ تعالیٰ کی نافرمانی نہ کی جائے اور کہا گیا کہ حقیقت شکر (یہ ہے) ادائے شکر سے عجز کا اظہار کیا جائے ، حکایت کیا گیا ہے کہ بیشک حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے فرمایا اے اللہ ! تو نے مجھے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(51 ۔ 52): پورا قصہ تو سورة اعراف اور طہٰ میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے لئے اس قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی تو بنی اسرائیل کو آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آن کر چالیس راتیں راہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر تورات نازل کی جاوے گی۔ اس حکم کے موافق حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر کر خود کوہ طور پر چلے گئے۔ بنی اسرائیل جس رات مصر سے نکلے اس رات فرعونیوں سے ایک شادی کا بہانہ کر کے تمام رات سفر کی تیار کے لئے جاگتے رہے اور اس شادی کے حیلہ سے انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →148 نعمائے خداوندی کا تقاضا شکر خداوندی : اور اس کے شکر کے تقاضے میں تم اس کے حضور صدق دل سے جھک کر خود اپنے لئے دارین کی سعادت و سرخروئی کا سامان کرو، کہ شکر نعمت، نعمت کی حفاظت وبقاء اور اس میں خیر و برکت کا ذریعہ ہے، جبکہ ناشکری اور کفران نعمت، نعمت سے محرومی اور عذاب کا باعث ہے ۔ والعیاذ باللہ ۔ جیسا کہ دوسرے مقام پر ارشاد فرمایا گیا ۔ { لَئِنْ شَکَرْتُمْ لَاَزِیْدَنَّکُمْ وَ لَئِنْ کَفَرْتُمْ اَنَّ عَذَابِیْ لَشَدِیْد } ۔ پس شکر نعمت میں تمہارا اپنا بھلا ہے۔ اور کفران نعمت میں خود تمہارا اپنا ہی نقصان ۔ والعیاذ باللہ العظیم ۔ سو شکر نعمت ایک عظیم الشان نعمت ہے۔ روایات میں وارد ہے کہ حضرت…
Read the full tafseer →معافی کا اعلان
تشریح : حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اللہ تعالیٰ سے معافی کی درخواست کی جو اللہ تعالیٰ نے قبول فرمائی۔ انسان غلطیوں کا پتلا ہے جبکہ اللہ تعالیٰ غفور الرحیم ہے، خطاؤں سے چشم پوشی کرتا اور معاف فرماتا ہے تو اللہ تعالیٰ نے معافی مانگنے پر ان کو معاف کردیا اور مزید احسان کا اعلان کیا اور فرمایا : یہ اس لئے ہے کہ تم نادم ہوجاؤ اپنے گناہوں پر اور بخشش خداوندی پر اس کے احسان مند بندے بن جاؤ۔
سمجھ یہی آتا ہے کہ انسان کو گناہوں سے بچنا چاہیے لیکن اگر گناہ سرزد ہوجائے تو اللہ سے معافی مانگ لینی چاہیے، وہ بڑا غفور الرحیم ہے، معاف کردیتا ہے اور معافی کے اس احسان کو یاد رکھنا چاہئے۔ یہ نہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–53
ف 5 الکتاب سے مراد وہ قوت ہے جو حق و باطل میں امتیاز کے لیے موسیٰ (علیہ السلام) کو عطا ہوئی تھی اگر واؤ کو زائدہ مان لیا جائے تو دونوں سے تورات مراد ہوگی اس میں چونکہ حلال و حرام کے مسائل نہایت تفصیل سے بیان کئے گئے ہیں اس لیے اسے الفرقان کہا ہے۔ ( قرطبی۔ خازن )
Read the full tafseer →(2:53) عفونا عنکم ۔ عفونا (الصلۃ عن) ماضی کا صیغہ جمع متکلم ہے۔ عفو (باب نصر) سے مصدر عن کے صلہ کے ساتھ۔ بمعنی معاف کرنا۔ عفا عن ذنبہ اس نے اس کا گناہ معاف کردیا عفا اللہ عنہ اللہ تعالیٰ اس کے گناہ معاف کرے۔
لعلکم۔ لعل عرف مشابہ بالفعل ہے امید یا خوف پر دلالت کرنے کے لئے لایا جاتا ہے اسم کو نصب اور خبر کو رفع دیتا ہے۔ جیسے لعل الساعۃ قریب (42:17) شاید قیامت قریب ہی آپہنچی ہو، کم اسم ہے لعل کا۔ شاید تم۔
تشکرون مضارع جمع مذکر حاضر، شکر وشکرر (باب نصر) مصدر۔ شکر ادا کرنا۔ لعلکم تشکرون شاید کہ تم شکر گزار بن جاؤ۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 54
(وعدنا): ہم نے وعدہ کیا۔ (اربعین): چالیس۔ (لیلۃ): رات۔ (اتخذتم): تم نے بنایا ۔ (العجل): بچھڑا (گائے کا بچہ) ۔ (عفونا): ہم نے معاف کردیا۔ (من بعد ذلک): اس کے بعد۔ (تشکرون): تم شکر کرو گے۔ (اتینا) : ہم نے دیا۔ (الفرقان): حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔ (تھتدون): تم ہدایت حاصل کرو گے۔ (ظلمتم): تم نے ظلم کیا۔ (اتخاذ): بنانا، بنا کر۔ (توبوا): تم توبہ کرو۔ (بارئی): پیدا کرنے والا۔ (اقتلوا): تم قتل کرو۔ (انفسکم): اپنوں کو (نفس کی جمع) ۔ (خیر): بہتری، بھلائی۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 54
فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ نے نبی اسرائیل کو فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–56
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا کوہ طور پر توریت لنے جانا اور ان کی غیر حاضری میں قوم کی گئو سالہ پرستی کرنا ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوئی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس راتیں رہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر توریت نازل کی جائے گی ۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر خود کوہ طور پر چلے گئے ۔ اسی رات کی صبح کو سب فرعونی ہلاک ہوگئے تھے ۔ اس لئے ان کے زیور کا کوئی طلبگار باقی نہ رہا اور تمام زیور بنی اسرائیل کے پاس رہا ۔ حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[41] جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو فرعون کے پنجہ غضب سے نکال لائے تو اب اللہ کی مشیت یہ ہوئی کہ اس قوم کو ایک پورا قانون شریعت اور دستور زندگی عطا ہوا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 52–54
(ف 2) قوموں کا آپریشن :
جس طرح بدن کے بعض حصے اس لئے کاٹ دینا پڑتے ہیں کہ وہ سارے نظام بدن کو بیکار نہ کردیں ، اسی طرح قوموں میں جب ناقابل اصلاح خرابیاں پیدا ہوجائیں تو پھر آپریشن کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، بنی اسرائیل کی ایک جماعت نے باوجود ہارون (علیہ السلام) کے موجود ہونے دوبارہ بچھڑے کی پوجا شروع کردی جس کے وہ مصر میں عادی تھے تو اللہ تعالیٰ نے انہیں حکم دیا کہ ان لوگوں کو جن کی رگ رگ میں شرک کے مہلک جراثیم موجود ہیں ‘ ہلاک کردیا جائے ، ورنہ خطرہ ہے کہ تمام بنی اسرائیل اس روحانی مرض میں مبتلا نہ ہوجائیں اور پھر اصلاح کی کوئی توقع نہ رہے گی ۔
اس میں شک نہیں کہ خدا رحیم ہے لیکن یہ بھی یقین ہے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 2 اور وہ موقعہ یاد کرو جب ہم نے حضرت موسیٰ سے چالیس دن اور رات کا وعدہ کیا تھا پھر جب وہ اس وعدے کے مطابق طور پر گئے تو تم نے ان کے جانے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہاری حالت یہ تھی کہ تم ظلم اور ناانصافی پر تلے ہوئے تھے لیکن تمہاری اس ناشائستہ حرکت کے بعد بھی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے تم کو معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا کہ شاید تم اس معافی کا احسان مانو گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب تم فرعون کے مظالم سے نجات پانے کے بعد مطمئن ہوئے اور تم نے یہ خواہش کی کہ اب اگر ہم کوئی شریعت یا مستقل کتاب مل جائے تو ہم اس پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنائیں کیونکہ اب ہم حکومت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 2۔ یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی گمراہی کی معافی کا اعلان :
110: ” ہم نے اپنی خاص رحمت سے تم سے درگزر کی ” ثُمَّ عَفَوْنَا “ کا ترجمہ و مفہوم ہے ، عفو کے اصل معنی کسی چیز کے لئے لینے کا قصد کرنا ہے۔ (راغب) اس لئے یہ لفظ دو مختلف معنوں پر بولا جاتا ہے یعنی مٹانا اور بڑھانا کے معنی کی رو سے حدیث میں آتا ہے ہمارے رسول اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ : اعفا اللحی ، یعنی داڑھی کے بالوں کو بڑھایا جائے معاف کردیا جائے کاٹنے یا کترنے سے بچایا جائے۔ “
یعنی بنی اسرائیل کا یہ بہت بڑا جرم کہ وہ شرک کے مرتکب ہوئے لیکن ہم نے اپنے قانون کے مطابق کہ کسی مجرم کو جرم کرتے ہی فوراً نہیں پکڑ لیتے ان کا اس گناہ سے درگزر کرنے ، معاف کرنے…
Read the full tafseer →The Israelites were forgiven only when they had offered Taubah توبہ (repentance), as recounted in Verse 54. In saying that they were pardoned so that they might learn gratefulness, the present verse employs the Arabic word لَعَلَ La` lla which indicates expectation. In the present context it does not mean that Allah had or could have any doubt or misgiving about this or any other matter; what the word implies here is just that when a man receives a pardon, the onlookers may expect him to feel grateful.
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
67. When the Israelites reached the Sinai peninsula after their exodus from Egypt, God summoned Moses to the mountain for forty days and nights so that the nation which had now achieved independence could be taught law and morality. (See Exodus 24-3l.)
68. The cult of cow-worship was widespread among Israel's neighbours. It was particularly common in Egypt and Canaan. After the time of Joseph, when the Israelites fell prey to degeneracy and became the slaves of the Copts, they were contaminated by many of the corrupt practices prevalent among their rulers. Cow-worship was one of them. (There…
Read the full tafseer →