Explained with ayahs 51–53
چالیس دن کا وعدہ
یہاں بھی اللہ برترو اعلیٰ اپنے احسانات یاد دلا رہا ہے جب کہ تمہارے نبی حضرت موسیٰ ؑ چالیس دن کے وعدے پر تمہارے پاس سے گئے اور اس کے بعد تم نے گوسالہ پرستی شروع کردی پھر ان کے آنے پر جب تم نے اس شرک سے توبہ کی تو ہم نے تمہارے اتنے بڑے کفر کو بخش دیا اور قرآن میں ہے آیت (وَوٰعَدْنَا مُوْسٰي ثَلٰثِيْنَ لَيْلَةً وَّاَتْمَمْنٰهَا بِعَشْرٍ) 7۔ الاعراف :142) یعنی ہم نے حضرت موسیٰ سے تیس راتوں کا وعدہ کیا اور دس بڑھا کر پوری چالیس راتوں کا کیا کہا جاتا ہے کہ یہ وعدے کا زمانہ ذوالقعدہ کا پورا مہینہ اور دس دن ذوالحجہ کے تھے یہ واقعہ فرعونیوں سے نجات پا کر دریا سے بچ کر نکل جانے کے بعد…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
سورة الْبَقَرَة 67
مصر سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ ؑ کو اللہ تعالیٰ نے چالیس شب و روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ وہاں اس قوم کے لیے، جو اب آزاد ہوچکی تھی، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں۔ (ملاحظہ ہو بائیبل، کتاب خروج، باب 24 تا 31)
سورة الْبَقَرَة 68
گائے اور بیل کی پرستش کا مرض بنی اسرائیل کی ہمسایہ اقوام میں ہر طرف پھیلا ہوا تھا۔ مصر اور کَنْعان میں اس کا عام رواج تھا۔ حضرت یوسف ؑ کے بعد بنی اسرائیل جب انحطاط میں مبتلا ہوئے اور رفتہ رفتہ قبطیوں کے غلام بن گئے تو انہوں نے من جملہ اور امراض کے ایک یہ مرض بھی اپنے…
Read the full tafseer →اور (وہ زمانہ یاد کرو) جبکہ وعدہ کیا تھا ہم نے موسیٰ ؑ سے (تورات دینے کا ایک مدت گذرنے پر جس میں دس رات کا اضافہ ہوکر) چالیس رات کا (زمانہ ہوگیا تھا) پھر تم لوگوں نے (پرستش کے لئے) تجویز کرلیا گوسالہ کو موسیٰ ؑ کے (جانے کے) بعد اور تم نے (اس تجویز میں صریح) ظلم پر کمر باندھ رکھی تھی (کہ ایسی بےجا بات کے قائل ہوگئے تھے)
فائدہیہ قصہ اس وقت ہوا جب فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل بقول بعض مصر میں واپس آکر رہنے لگے یا بقول بعض کسی اور مقام پر ٹھر گئے تو موسیٰ ؑ سے بنی اسرائیل نے عرض کیا کہ اب ہم بالکل مطمئن ہوگئے اگر کوئی شریعت ہمارے لئے مقرر ہو تو اس کو اپنا دستور العمل بنائیں موسیٰ ؑ کی عرض…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
یہ اس وعدے کی طرف اشارہ ہے جو مصر سے نکلنے اور دریا کو پار کر چکنے کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام سے اللہ تعالیٰ نے اپنے احکام و ہدایات دینے کےلئے فرمایا اور اس مقصد کے لئے ان کو طور پر بلایا۔ یہ چالیس دن کی مدت اس قلبی و روحانی تیاری کے لئے تھی جو کتاب الہٰی کے بار عظیم کے متحمل ہونے کے لئے ضروری تھی۔ ابتداءً یہ وعدہ تین دنوں کا تھا لیکن حضرت موسیٰ علیہ السلام مقررہ وقت سے پہلے پہنچ گئے۔ ان کی اس جلدی کے سبب اللہ تعالیٰ کی حکمت تربیت مقتضی ہوئی کہ یہ مدت ۳۰ دنوں سے بڑھا کر چالیس دن کی کردی جائے۔ مذکورہ آیت میں یہ پوری مدت جمع کر دی گئی ہے۔ سورہ اعراف میں اس کی تفصیل اس طرح درج ہے۔
وَوٰعَدْنَا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
51۔ 1 یہ گؤ سالہ پرستی کا واقعہ اس وقت ہوا جب فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد بنو اسرائیل جزیرہ نماء سینا پہنچے۔ وہاں اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ؑ کو تورات دینے کے لئے چالیس راتوں کے لئے کوہ طور پر بلایا، حضرت موسیٰ ؑ کے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے سامری کے پیچھے لگ کر بچھڑے کی پوجا شروع کردی۔ انسان کتنا ظاہر پرست ہے کہ اللہ تعالیٰ کی قدرت کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھنے کے باوجود اور نبیوں (حضرت ہارون و موسیٰ علیہ السلام) کی موجودگی کے باوجود بچھڑے کو اپنا معبود سمجھ لیا۔ آج کا مسلمان بھی شرکیہ عقائد واعمال میں بری طرح مبتلا ہے لیکن وہ سمجھتا ہے کہ مسلمان مشرک کس طرح ہوسکتا ہے ؟ ان مشرک مسلمانوں نے شرک…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
42 : حضرت موسیٰ ؑ سے اللہ تعالیٰ نے وعدہ فرمایا تھا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس دن اعتکاف کریں تو انہیں تورات عطا کی جائے گی ؛ چنانچہ حضرت موسیٰ ؑ کوہ طور پر تشریف لے گئے، ان کی غیر موجودگی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے سامری جادوگر نے ایک گائے کا بچھڑا بنایا اور بنی اسرائیل کو اسے اپنا معبود قرار دینے اور اس کی عبادت کرنے پر آمادہ کرلیا اور اس طرح وہ شرک میں مبتلا ہوگئے، حضرت موسیٰ ؑ کو اطلاع ہوئی وہ گھبراکر واپس تشریف لائے اور بنی اسرائیل کو توبہ کی تلقین فرمائی، اس توبہ کا ایک حصہ یہ تھا کہ بنی اسرائیل میں سے جو لوگ اس شرک میں ملوث نہیں ہوئے تھے وہ ملوث ہونے والوں کو قتل کریں ؛ چنانچہ ان کی ایک بڑی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی عدم موجودگی میں بنی اسرائیل کا بچھڑے کو خدا بنا لینا ، اور اس کی پوجا کرنا ، جبکہ موسیٰ (علیہ السلام) چالیس دن کے لئے کوہ طور پر گئے تھے ، سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی سورت ، سورت طہٰ میں بالتفصیل بیان ہوا ہے ۔ یہاں صرف انہیں اس کی یاددہانی کرائی جارہی ہے کیونکہ وہ اس کی تفصیلات سے خوب واقف ہیں ۔ اللہ تعالیٰ انہیں یاد دلا رہے ہیں کہ ان کی یہ حالت تھی کہ نبی کے اوجھل ہوتے ہی بچھڑے پر ٹوٹ پڑتے ہیں ۔ حالانکہ نبی نے انہیں فرعونیوں کے دردناک عذاب سے محض اللہ تعالیٰ کے نام پر رہائی دلائی تھی ۔ اللہ تعالیٰ یہاں ان کے موقف پر تبصرہ کرتے ہوئے فرماتے ہیں ، وَأَنْتُمْ…
Read the full tafseer →9 اور یہ قصّہ اور احسان بھی یاد کرنے کے قابل ہے کہ ہم نے تورات عطا فرمانے کا وعدہ موسیٰ سے چالیس دن رات کا کیا اور ان کے طور پر تشریف لے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے بچھڑے کی پرستش شروع کردی اور تم بڑے بےانصاف ہو کہ بچھڑے کو خدا بنا لیا۔ مفصل یہ قصّہ آئیندہ آئے گا۔
Read the full tafseer →آیت 51 وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو تورات عطا فرمانے کے لیے چالیس دن رات کے لیے کوہ طور پر بلایا۔
ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْم بَعْدِہٖ ”“
بنی اسرائیل نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی غیر حاضری میں بچھڑے کی پرستش شروع کردی اور اسے معبودبنا لیا۔
وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ”۔“
بچھڑے کو معبود بنا کر تم نے بہت بڑے ظلم کا ارتکاب کیا تھا۔ الفاظ قرآنی : اِنَّ الشِّرْکَ لَظُلْمٌ عَظِیْمٌ کے مصداق عظیم ترین ظلم جو ہے وہ شرک ہے ‘ اور بنی اسرائیل نے شرک جلی کی یہ مکروہ ترین شکل اختیار کی کہ بچھڑے کی پرستش شروع کردی !
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
69 بنی اسرائیل پر بیتے ہوئے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔
بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ…
Read the full tafseer →170 جب حضرت موسیٰ اپنی قوم کو مصری حکومت کے پنجہ غضب سے نکال لائے۔ تو اب مشیت خداوندی یہ ہوئی کہ اس قوم کو ایک پورا نظام شریعت اور دستور زندگی عطاہو۔ چناچہ حضرت موسیٰ جزیرہ نمائے سینا کے ایک پہاڑ کی چوٹی کوہ طور پر نوشتہ غیبی لینے کے لیے ایک چلہ کے لیے طلب کیے گئے۔ موسیٰ ۔ موسیٰ بن عمران سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور جلیل القدر پیمبر کا نام ہے۔ توریت میں ہے کہ عمر ایک سو بیس سال کی پائی (استثناء۔ 24:7) آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثریین کا تخمینہ ہے کہ پندرھویں اور سولہویں صدی قبل مسیح (علیہ السلام) کا تھا۔ سال ولادت غالبا 1520 ء ق، م۔ سال وفات غالبا 1400 ق، م۔ (آیت) ” اربعین لیلۃ۔ چالیس رات…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعْیِنَ لَیْلَةً ، بنی اسرائیل فرعونیوں سے نجات پانے کے بعد دریا عبور کرکے جب جزیرہ نما صحراء سینا میں
پہنچ گئے، تو حضرت موسیٰ علیہ الصلوٰة والسلام کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا، تاکہ وہاں اس قوم کے لئے جو اب آزاد ہوچکی ہے، قوانین شریعت اور عملی زندگی کی ہدایات عطا کی جائیں حضرت موسیٰ (علیہ الصلوٰة والسلام) بن عمر ان سلسلہ اسرائیلی کے سب سے زیادہ مشہور اور جلیل القدر پیغمبر ہیں تورات میں ہے کہ ان کی عمر ایک سو بیس سال ہوئی۔ (ماجدی)
آپ کا زمانہ مؤرخین اور اثرئین کے تخمینہ کے مطابق پندرہویں اور سولہویں صدی قبل مسیح کا تھا، سال ولادت غالبا…
Read the full tafseer →وَ اِذْ وَاعَدْنَا مُوْسٰی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ( اور جب ہم نے وعدہ کیا) ابو جعفر اور ابو عمرو نے واعدنا کو ہر جگہ وعدنابلا الف پڑھا ہے اور باقی قراء نے واعد نا الف سے پڑھا ہے اور مفاعلۃ اگرچہ مشارکت کے لیے آتا ہے لیکن یہاں وعدنا اور واعدنا دونوں کے ایک ہی معنی ہیں جیسے عاقبت اللص میں مفاعلۃ مشارکۃ کے لیے نہیں زجاج نے کہا ہے کہ مشارکۃ کے معنی بھی بن سکتے ہیں اس طرح پر کہ حق تعالیٰ کی طرف سے تو امر ہوا اور موسیٰ کی طرف سے قبول ‘ یا یہ معنی کہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجنے کا وعدہ فرمایا اور موسیٰ ( علیہ السلام) نے طور پر آنے کا وعدہ کیا۔ حمزہ اور کسائی نے موسیٰ کو امالہ سے پڑھا ہے اسی طرح جس اسم…
Read the full tafseer →(51) اور یقیناً ہم نے موسیٰ کو کتاب دینے کا وعدہ کیا تھا، پھر تم لوگوں نے حضرت موسیٰ ؑ کے پہاڑ پر جانے کے بعد بچھڑے کی پوجاشروع کردی مگر حقیقت میں تم نقصان اٹھانے والے تھے۔
Read the full tafseer →فرعون سے نجات پانے کے بعد جب بنی اسرائیل صحرائے سینا میں پہنچے تو ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی، اس وقت تک وہ موسیٰ ؑ کی اس وحی پر عمل کرتے آ رہے تھے جو تورات سے پہلے موسیٰ ؑ پر اتری تھی۔ گویا حدیث پر عمل تھا، اب اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ؑ کو چالیس دن رات کے لیے طور پر بلایا، تاکہ انھیں تورات عطا فرمائی جائے، لیکن ان کے جانے کے بعد بنی اسرائیل نے ایک بچھڑا بنا کر اس کی پوجا شروع کردی، اسی بنا پر یہاں ان کو ظالم قرار دیا گیا ہے کہ وہ صریح طور پر شرک کے مرتکب ہوئے تھے اور شرک سے بڑھ کر اور کون سا ظلم ہوسکتا ہے۔ بچھڑے کے واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة طٰہٰ (87 تا 97)۔
Read the full tafseer →آیت نمبر 51
اس آیت میں چھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃً ابو عمرو نے وعدنا بغیر الف کے پڑھا ہے۔ ابو عبید نے اسے اختیار کیا ہے اور اسے راجح قرار دیا ہے اور واعدنا کا انکار کیا ہے۔ انہوں نے کہا : مواعدہ انسان کی طرف سے ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ وعدہ اور وعید میں منفرد ہے۔ اسی پر ہم نے قرآن کے الفاظ کو پایا۔ جیسے ارشاد ہے : وعدکم وعد الحق (ابراہیم :22) (جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ وعدہ سچا تھا) اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : وعد اللہ الذین امنوا منکم وعملوا الصلحت (نور :55) (وعدہ فرمایا ہے اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں سے جو ایمان لائے تم میں سے اور نیک عمل کیے) اور…
Read the full tafseer →(1) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا وہ فرماتے ہیں لفظ آیت ” واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ “ سے مراد ہے ذی القعدہ (کا مہینہ) اور دس دن ذی الحجہ کے (یہ اس آیت کا واقعہ) ہے جب موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے ساتھیوں کو پیچھے چھوڑا اور (اپنے بھائی) ہارون (علیہ السلام) کو ان پر خلیفہ بنایا وہ طور پر چالیس راتیں ٹھہرے اور ان پر تورات تختیوں پر لکھی ہوئی اتاری گئی (پھر) رب تعالیٰ نے ان کے قریب سرگوشی کرتے ہوئے اور ان سے کلام فرمایا اور انہوں نے قلم کے چلنے کی آواز سنی اور ہم کو یہ بات (بھی) پہنچی ہے کہ ان کو چالیس راتوں میں آپ کو کوئی حدث لاحق نہ ہوا یہاں تک کہ آپ طور سے اتر آئے۔
وما قولہ…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ وٰعَدْنَا : اور جب ہم نے معاہدہ کیا ] [ مُوْسٰٓى: موسیٰ سے ] [ اَرْبَعِيْنَ لَيْلَةً : چالیس راتوں کا ] [ ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ : پھر تم لوگوں نے بنایا ] [ الْعِجْلَ : بچھڑے کو (الہ) ] [ مِنْۢ بَعْدِهٖ : اس کے بعد ] [ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ : اور تم لوگ ظلم کرنے والے تھے ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا طور پر جانا اور بنی اسرائیل کا بچھڑے کی عبادت کرنا
جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو لے کر سمندر پار ہوگئے تو ایک میدان میں پہنچ گئے۔ یہاں سے ان کو اپنے وطن فلسطین جانا تھا لیکن چالیس سال کے بعد وہاں پہنچ سکے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی وفات کے بعد ان کے علاقے میں ان کو جانا نصیب ہوا ان کی وفات اسی میدان میں ہوگئی۔ اور اسی عرصہ میں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو توریت شریف عطا فرمائی۔ طور پہاڑ اسی میدان میں ہے۔ اللہ جل شانہ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو وہاں بلایا ایک مہینہ اعتکاف کرنے اور روزے رکھنے کا حکم ہوا تھا۔ لیکن تیس راتیں گزرنے کے بعد حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →انعام چہارم : واذ واعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ثم اتخذتم العجل من بعدہ وانتم ظلمون۔ فرعون کے غرق ہونے کے بعد بنی اسرائیل مصر میں داخل ہوئے تو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی ہدایت کے لیے توریت عطا فرمانے کا وعدہ فرمایا اور یہ بھی وعدہ فرمایا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کوہ طور پر چالیس شب کا اعتکاف فرمائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) تو کوہ طور پر تشریف لے گئے۔ سامری جو کہ منافق تھا اس نے بعد میں گوسالہ پرستی کا فتنہ کھڑا کردیا جس کا مفصل قصہ آئندہ آئے گا۔ چناچہ ارشاد فرماتے ہیں۔ اے بنی اسرائیل اور تم ہمارے اس انعام کو یاد کرو جبکہ ہم نے موسیٰ سے چالیس رات کا وعدہ کیا۔ تیس راتیں ذی قعدہ کی اور دس راتیں ذی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–55
ف 112 ۔ یہ تیسرا انعام ہے۔ سمندر پار کرنے کے بعد حضرت موسیٰ (علیہ السلام) تورات لینے کے لیے حکم خداوندی سے کوہ طور پر پہنچے۔ وہاں آپ نے چالیس راتیں بسر کیں۔ اور اللہ کی طرف سے تورات حاصل کی۔ ثُمَّ اتَّخَذْتُمْ ۔ اِتَّخَذْتُم کا دوسرا مفعول محذوف ہے ای اتخذتم العجل الہاً ۔ یعنی تم نے گوسالہ کو معبود بنا لیا (ابو السعود ص 528 ج 1، قرطبی ص 396 ج 1) جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنے بڑے بھائی حضرت ہارون (علیہ السلام) کو اپنا نائب بنا کر خود کوہ طور پر چلے گئے تو سامری نے جو ایک منافق تھا، سونے کے زیورات اکٹھے کیے اور ان کو پگھلا کر ان سے بچھڑے کا بت تیار کیا اور حضرت ابن عباس اور معمر کے قول کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
نزول توراۃ : اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر انعامات فرمائے ان کا ذکر مسلسل آرہا ہے ۔ فرعون کی غلامی سے نجات دلانے۔ دریا کو پھاڑ کر معجزانہ طور پر پانی میں راستے بنانا اور بنی اسرائیل کو بچانا اور پھر فرعون اور اس کی قوم کی ہلاکت وغیرہ کا ذکر آچکا ہے۔ اس درس میں بعض مزید انعامات کا تذکرہ ہے۔ منجملہ ان کے بنی اسرائیل کو کتاب اور شریعت عطا کرنا ہے۔ چناچہ ارشاد ہوتا ہے۔ “ واذ وعدنا موسیٰ اربعین لیلۃ ” اس بات کو دھیان میں لاؤ جب کہ ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس راتوں کا وعدہ کیا تھا۔ یعنی موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ کوہ طور پر چالیس رات تک تنہائی میں اعتکاف کریں۔ قرآن پاک میں ہے کہ…
Read the full tafseer →وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓى اَرْبَعِيْنَ لَيْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِنْۢ بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ 51
وعد
الوَعْدُ يكون في الخیر والشّرّ. يقال وَعَدْتُهُ بنفع وضرّ وَعْداً ومَوْعِداً ومِيعَاداً ، والوَعِيدُ في الشّرّ خاصّة . يقال منه : أَوْعَدْتُهُ ، ويقال : وَاعَدْتُهُ وتَوَاعَدْنَا . قال اللہ عزّ وجلّ : إِنَّ اللَّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِ [إبراهيم/ 22] ، أَفَمَنْ وَعَدْناهُ وَعْداً حَسَناً فَهُوَ لاقِيهِ [ القصص/ 61] ،
( وع د ) الوعد
( وعدہ کرنا ) کا لفظ خیر وشر یعنی اچھے اور برے ( وعدہ دونوں پر بولا جاتا ہے اور اس معنی میں استعمال ہوتا ہے مگر الوعید کا لفظ خاص کر شر (…
Read the full tafseer →بقیہ پچھلی آیت میں
فصل 2 : اور یوسف (علیہ السلام) کی ہڈیوں کو ساتھ لیا کیونکہ انہوں نے تاکید کردی تھی کہ میری ہڈیوں کو بھی ساتھ لے جانا۔ اب موسیٰ (علیہ السلام) کی اسی اور ان کے بھائی ہارون (علیہ السلام) کی تراسی برس کی عمر ہے پس بنی اسرائیل نے رعمیس 2 ؎ سے سکات تک اول منزل کی اور سید ھارستہ فلسطین کا کہ جو مشرق و شمال کی طرف سے تھا چھوڑ دیا اور قلزم کی طرف مشرق کے رخ بیابانوں میں پڑگئے۔ بنی اسرائیل مرد و زن کئی لاکھ آدمی تھے۔ پھر سکات سے روانہ ہوئے اور ایتام میں اتر پڑے اور وہاں سے کوچ کرکے فی الحیرت میں بعل سفون کے مقابل کہ جو بحر قلزم پر واقع تھا مقام
کیا۔ اس میں شاہ مصر کو خبر دی گئی کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً ثُمَّ اتَّخَذْتُمُ الْعِجْلَ مِن ْم بَعْدِہٖ وَاَنْتُمْ ظٰلِمُوْنَ ۔ ثُمَّ عَفَوْنَا عَنْکُمْ مِنْم بَعْدِ ذٰلِکَ لَعَلَّـکُمْ تَشْکُرُوْنَ ۔ (البقرۃ : 51 تا 52)
(اور یاد کرو ! جب کہ ہم نے موسیٰ سے چالیس راتوں کا وعدہ ٹھہرایا، پھر تم نے اس کے بعد بچھڑے کو معبود بنالیا اور تم ظلم کرنے والے تھے۔ پھر ہم نے تم سے درگزر کیا، اس کے بعد، تاکہ تم شکر گزار بنو)
گوسالہ پرستی کا واقعہ
بنی اسرائیل جب فرعونیوں کی غلامی سے نجات پاکر بحرقلزم عبور کرکے جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے۔ کچھ عرصہ گزرنے کے بعدانھوں نے خود موسیٰ (علیہ السلام) سے مطالبہ کیا کہ اب ہمیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل پر تیسرا اور چوتھا احسان۔
اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو مدین کے علاقہ سے واپسی کے وقت سفر کے دوران نبوت سے سرفراز فرمایا اور دو معجزے عطا فرمائے۔ لاٹھی کا اژدہا بن جانا اور ہاتھ کا روشن ہونا۔ ان معجزات کے ساتھ موقع بموقع حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو ہدایات ملتی رہیں۔ جن میں حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون ( علیہ السلام) کو فرعون کے پاس جا کر نہایت نرمی کے ساتھ سمجھانے کی ہدایت ‘ توحید کے دلائل ‘ بنی اسرائیل کی آزادی کا مطالبہ مظلوم بنی اسرائیل کو صبر اور نماز کی تلقین اور ہر قسم کی راہنمائی کا بندوبست، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اور فرعون کے مجادلہ کے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–53
وَاِذْ وٰعَدْنَا مُوْسٰٓی : (جب ہم نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا) کیونکہ وہ وعدہ وحی سے تھا۔ اور وہ طور پر آنے کا تھا۔
وٰعَدْنَا : جہاں تک میری تحقیق ہے۔ بنی اسرائیل مصر میں ہلاکت فرعون کے بعد داخل نہ ہوئے اور اس وقت ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی۔ جس کی طرف رجوع کریں۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ ( علیہ السلام) سے وعدہ کیا۔ وہ ان پر تورات اتاریں گے۔ اللہ تعالیٰ نے وقت مقرر کیا۔ ذوالقعدہ اور دس دن ذی الحجہ کے اور فرمایا۔ اَرْبَعِیْنَ لَیْلَۃً : کیونکہ مہینہ کی ابتداء راتوں سے ہوتی ہے۔ اور چالیس راتیں۔
نحو : اَرْبَعِیْنَ یہ وعدنا کا مفعول ثانی ہے ظرف نہیں ہے۔ اس لیے اس کا معنی چالیس راتوں میں نہیں…
Read the full tafseer →(تفسیر) 51۔:
(آیت)” واذ واعدنا “ یہ اس باب مفاعلہ سے ہے جو ایک طرف سے ہوتا ہے جیسے کہ اہل عرب کہتے ” عافاک اللہ “ (اللہ تعالیٰ تمہیں عافیت بخشے) یا عقبت اللعص (میں نے چور کو سزا دی) یا طارقت النعل “ (میں نے جوتے میں کیل ٹھونکی) زجاج فرماتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے قبول کرنا تھا پس اس لیے لفظ مواعدہ سے تعبیر فرمایا ، ابو عمرو اور اہل بصرہ نے (آیت)” واذ وعدنا “ پڑھا یعنی وعد سے ۔ ” موشی “ عبرانی نام ہے جسے عربی بنایا گیا ، عبرانی زبان میں موشی کا معنی پانی اور درخت ہے ، حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کا نام موسیٰ (علیہ السلام) اس لیے رکھا گیا کہ وہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–56
(51 ۔ 52): پورا قصہ تو سورة اعراف اور طہٰ میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے لئے اس قصے کا حاصل یہ ہے کہ جب فرعون کے ہاتھ سے بنی اسرائیل کو نجات ہوگئی تو بنی اسرائیل کو آزمانے کے لئے اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آن کر چالیس راتیں راہیں اور اللہ تعالیٰ کی عبادت کریں تو پھر ان پر تورات نازل کی جاوے گی۔ اس حکم کے موافق حضرت موسیٰ حضرت ہارون کو اپنے خلیفہ کے طور پر بنی اسرائیل کی نگرانی کے لئے چھوڑ کر کر خود کوہ طور پر چلے گئے۔ بنی اسرائیل جس رات مصر سے نکلے اس رات فرعونیوں سے ایک شادی کا بہانہ کر کے تمام رات سفر کی تیار کے لئے جاگتے رہے اور اس شادی کے حیلہ سے انہوں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →146 بچھڑے کی پوجا ایک ظلم عظیم۔ والعیاذ باللہ : سو بچھڑے، اور وہ بھی ایک مصنوعی بےحقیقت اور بےجان بچھڑے کی پوجا بنی اسرائیل کا ایک ظلم تھا، تم نے اس بےحقیقت بچھڑے کو اپنا معبود ٹھہرایا اور تم اس کے آگے جھک گئے جو سامری نے خود تمہارے زیورات سے تمہارے سامنے گھڑا اور تراشا اور تمہاری پوجا کے لئے پیش کردیا اور کہا کہ " یہ معبود ہے تمہارا بھی اور موسیٰ کا بھی مگر وہ بھول گئے " ۔ { ہٰذا اِلٰہُکُمْ وَاِلٰہُ مُوْسٰی فَنَسِیَ } ۔ اور تم نے نہ آؤ دیکھا نہ تاؤ فوراً اس کے آگے جھک گئے اور اس کو اپنا معبود مان لیا۔ اور اس ہولناک ظلم کا ارتکاب کرکے تم نے اپنے خالق ومالک کے عذاب کو دعوت دے دی ۔ والعیاذ…
Read the full tafseer →بچھڑے کی پوجا
تشریح : جب بنی اسرائیل مصر سے آزادی حاصل کرچکے اور اس آزاد قوم کو عملی زندگی کے لئے قوانین اور شریعت کی ضرورت تھی تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ چالیس دن تک کوہ طور پر جاکر عبادت کریں۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بڑے جلیل القدر نبی تھے۔ آپ کے والد کا نام عمران، بہن کا نام مریم اور بھائی کا نام ہارون تھا آپ کا زمانہ پندرہ سو یا تیرہ سو سال قبل مسیح بیان کیا جاتا ہے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے اپنے بھائی ہارون کو اپنی جگہ سربراہ مقرر کیا کہ ان کی عدم موجودگی میں قوم کو سنبھالے رکھیں اور خود کوہ طور پر چلے گئے ان کے جانے کے بعد قوم نے بچھڑے کی پرستش شروع…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →ف 4 فرعون سے نجات پانے کے بعد جب اسرائیل جزیرہ نمائے سینا میں پہنچے تو اب ان کے پاس کوئی کتاب نہ تھی چناچہ اللہ تعالیٰ
موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس دن رات کے لیے کوہ طور پر بلایا تاکہ انہیں تورات عطا کردی جائے بعد میں بنی اسرائیل نے ایک بچھڑے کی پوجا شروع کردی اسی بنا پر یہاں ان کو ظالم قرار دیا ہے کہ وہ صریح طور پر شرک کے مر تکب ہوئے تھے اور شرک سے بڑھ کر اور کو نسا ظلم ہوسکتا ہے۔
Read the full tafseer →(2:51) عدنا ماضی جمع متکلم مواعدۃ (مفاعلۃ) مصدر، باب مقاعلہ اگرچہ اشتراک عمل چاہتا ہے لیکن اہل عرب کے روزمرہ میں واحد کے لئے بھی استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً کہتے ہیں داویت العلیل۔ میں نے بیمار کا علاج کیا۔ عاقبت اللص میں نے چور کو سزا دی۔ اس صورت میں ترجمہ ہوگا ۔ ہم نے (موسی سے) وعدہ کیا۔
اشتراک کی صورت ۔۔ یہ بھی ہوسکتی ہے کہ خداوند تعالیٰ نے وعدہ کیا۔ اور حضرت موسیٰ نے اسے قبول کیا۔ گویا حضرت موسیٰ کا وعدہ کو قبول کرنا وعدہ سے مشابہ فعل ہونے کی وجہ سے وعدہ ہی کے ضمن میں آتا ہے۔
فائدہ : جب بنی اسرائیل غلامی کی لعنت سے نجات حاصل کرکے آزادی کی نعمت سے سرفراز کئے گئے تو مثیت ایزدی یہ ہوئی کہ انہیں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–54
لغات القرآن : آیت نمبر 51 تا 54
(وعدنا): ہم نے وعدہ کیا۔ (اربعین): چالیس۔ (لیلۃ): رات۔ (اتخذتم): تم نے بنایا ۔ (العجل): بچھڑا (گائے کا بچہ) ۔ (عفونا): ہم نے معاف کردیا۔ (من بعد ذلک): اس کے بعد۔ (تشکرون): تم شکر کرو گے۔ (اتینا) : ہم نے دیا۔ (الفرقان): حق اور باطل کے درمیان فرق کرنے والی چیز۔ (تھتدون): تم ہدایت حاصل کرو گے۔ (ظلمتم): تم نے ظلم کیا۔ (اتخاذ): بنانا، بنا کر۔ (توبوا): تم توبہ کرو۔ (بارئی): پیدا کرنے والا۔ (اقتلوا): تم قتل کرو۔ (انفسکم): اپنوں کو (نفس کی جمع) ۔ (خیر): بہتری، بھلائی۔
تشریح : آیت نمبر 51 تا 54
فرعون اور اس کے لشکر کی تباہی و بربادی کے بعد اللہ نے نبی اسرائیل کو فرعون…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
فرعون کا خواب اور عاشورہ کے روزہ کا ذکر : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے محلہ کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ۔ اس نے نجومیوں سے تعبیر پوچھی ۔ انہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے وال ہے ۔ اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا ۔ فرعون نے اس کی تعبیر سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ، ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مگر تقدیر الہی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور خود فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے نبی کیا ۔ اس کے بعد فرعونیوں کے ظلم ستم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
[41] جب موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو فرعون کے پنجہ غضب سے نکال لائے تو اب اللہ کی مشیت یہ ہوئی کہ اس قوم کو ایک پورا قانون شریعت اور دستور زندگی عطا ہوا۔ چناچہ موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے چالیس روز کے لئے کوہ طور پر طلب فرمایا۔
Read the full tafseer →(ف 1) موسیٰ (علیہ السلام) سے چالیس دن کے لئے وعدہ لیا گیا کہ وہ چالیس دن تک طور پر زہد و عبادت کی زندگی اختیار کریں اور اپنے آپ کو نبوت کے بارگراں کے لئے تیار کریں ، جب جا کے توریت کا نزول ہوگا ۔ موسیٰ (علیہ السلام) اس کے لئے تیار ہوگئے اور ہارون (علیہ السلام) کو بنی اسرائیل میں چھوڑ گئے بنی اسرائیل مصر سے بت پرستی کے جذبات لے کر آئے تھے ، جب سامری نامی ایک شخص نے بچھڑا جس میں آواز پیدا کی گئی تھی ، اسرائیلیوں کے سامنے پیش کیا تو وہ سب اسے پوجنے لگے ، ان آیات میں انہیں واقعات کی طرف اشارہ ہے حضور ﷺ کے وقت یہودیوں کو بتایا گیا ہے کہ تم ہمیشہ سے ایسے ہی رہے ہو کہ ذرا شریعت کا احتساب تم سے اٹھا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
ف 2 اور وہ موقعہ یاد کرو جب ہم نے حضرت موسیٰ سے چالیس دن اور رات کا وعدہ کیا تھا پھر جب وہ اس وعدے کے مطابق طور پر گئے تو تم نے ان کے جانے کے بعد ایک بچھڑے کو معبود بنا لیا اور تمہاری حالت یہ تھی کہ تم ظلم اور ناانصافی پر تلے ہوئے تھے لیکن تمہاری اس ناشائستہ حرکت کے بعد بھی جب تم نے توبہ کی تو ہم نے تم کو معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا کہ شاید تم اس معافی کا احسان مانو گے۔ (تیسیر)
مطلب یہ ہے کہ جب تم فرعون کے مظالم سے نجات پانے کے بعد مطمئن ہوئے اور تم نے یہ خواہش کی کہ اب اگر ہم کوئی شریعت یا مستقل کتاب مل جائے تو ہم اس پر عمل کریں اور اس کو اپنا دستور العمل بنائیں کیونکہ اب ہم حکومت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 2۔ یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے۔
Read the full tafseer →ہجرت کے بعد بنی اسرائیل کی پہلی گمراہی بچھڑے کی پرستش کرنا :
109: بنی اسرائیل فرعون سے نجات پا کر آگے بڑھے تو اب وہ ایک آزاد قوم تھے جن کے لئے قانون اور دستور العمل کی ضرورت تھی۔ اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ وہ کوہ طور پر آکر چالیس روز تک رہیں تاکہ ان کو قوم کے لئے وہ قانون اور دستور عمل دیا جائے اور دوسری طرف قوم کی آزمائش بھی ہوسکے۔ اس کی تفصیل کے لئے بائبل کی طرف مراجعت کرنا ہے تو کتاب خروج باب 24 : 31 کو ملاحظہ کریں۔ وعدنا ، وعدہ سے باب مفاعلہ ہے اس لئے کہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے حکم تھا اور موسیٰ (علیہ السلام) کی طرف سے اس کا قبول کرنا ، یہاں چالیس راتوں کا ذکر ہے اور…
Read the full tafseer →Verse 51 refers to other incidents in the same story. When the Pharaoh had been drowned, the Israelites, according to one report, went back to Egypt, or, according to another, began to live somewhere else. Having at last found a peaceful existence, they now wished they could receive a Shari` ah, or a religious code of laws, from Allah which they should follow. Allah answered the prayer of Sayyidna Musa (علیہ السلام) and promised that if he came to the Mount Tur طور (Sinai) and devoted himself to worship for a month, he would receive a Divine Book. He gladly obeyed the Commandment, and was…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 51–52
67. When the Israelites reached the Sinai peninsula after their exodus from Egypt, God summoned Moses to the mountain for forty days and nights so that the nation which had now achieved independence could be taught law and morality. (See Exodus 24-3l.)
68. The cult of cow-worship was widespread among Israel's neighbours. It was particularly common in Egypt and Canaan. After the time of Joseph, when the Israelites fell prey to degeneracy and became the slaves of the Copts, they were contaminated by many of the corrupt practices prevalent among their rulers. Cow-worship was one of them. (There…
Read the full tafseer →