Explained with ayahs 49–50
احسانات کی یاد دہانی
ان آیتوں میں فرمان باری ہے کہ اے اولاد یعقوب میری اس مہربانی کو بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہیں فرعون کے بدترین عذابوں سے چھٹکارا دیا، فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قطعی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں اس کا غرور ٹوٹے گا اس کے اللہ کے دعویٰ کی بدترین سزا اسے ملے گی اس لئے اس ملعون نے چاروں طرف احکام جاری کر دئیے کہ بنی اسرائیل میں جو بچہ بھی پیدا ہو، سرکاری طور سے اس کی دیکھ بھال رکھی جائے اگر لڑکا ہو تو فوراً مار ڈالا جائے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
سورة الْبَقَرَة 64
یہاں سے بعد کے کئی رکوعوں تک مسلسل جن واقعات کی طرف اشارے کیے گئے ہیں، وہ سب بنی اسرائیل کی تاریخ کے مشہور ترین واقعات ہیں، جنہیں اس قوم کا بچّہ بچّہ جانتا تھا۔ اسی لیے تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک ایک واقعہ کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔ اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصود ہے کہ ایک طرف یہ اور یہ احسانات ہیں جو خدا نے تم پر کیے، اور دوسری طرف یہ اور یہ کرتوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے۔
سورة الْبَقَرَة 65
”اٰلِ فِرْعَون“ کا ترجمہ ہم نے اس لفظ سے کیا ہے۔ اس میں خاندان فراعنہ اور مصر کا حکمراں طبقہ دونوں شامل ہیں۔
سورة الْبَقَرَة 66
آزمائش اس امر کی کہ اس…
Read the full tafseer →خلاصہ تفسیر
اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ شق کردیا ہم نے تمہارے (رستہ دینے کی) وجہ سے دریائے شور کو پھر ہم نے (ڈوبنے سے) بچا لیا تم کو اور غرق کردیا متعلقین فرعون کو (مع فرعون کے) اور تم (اس کا) معائنہ کر رہے تھے،
فائدہیہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ ؑ پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے جب وہ کسی طرح نہ مانا تو حکم ہوا کہ بنی اسرائیل کو خفیہ طور پر لے کر یہاں سے چلے جاؤ، راستہ میں دریا حائل ہوا اور اسی وقت پیچھے سے فرعون بھی مع لشکر آپہنچا حق تعالیٰ کے حکم سے دریا شق ہوگیا اور بنی اسرائیل کو گذرنے کا راستہ مل گیا یہ تو پار ہوگئے فرعون کے پہنچنے تک دریا اسی طرح رہا وہ بھی تعاقب…
Read the full tafseer →فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ: کا ترجمہ یہ ہو گا کہ ہم نے تمہیں ساتھ لے کر دریا کو پھاڑتے ہوئے عبور کیا۔ مطلب یہ ہو گا کہ جس طرح کوئی کسی کو گود میں اٹھا کر دریا پار کرا دے اسی طرح ہم نے تمہیں پار کرایا۔
وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ: یعنی اپنی نجات کے بعد فرعون اور اس کے غرق ہونے کا ماجرا تم نے ساحل پر کھڑے اپنی آنکھوں سے دیکھا۔
یہاں تاریخ بنی اسرائیل کے جن واقعات کی طرف اشارات کئے جارہے ہیں ان کے متعلق دو باتیں ملحوظ رکھنی چاہئیں۔
ایک یہ کہ تمام واقعات بنی اسرائیل کی تاریخ کے نہایت اہم اور مشہور واقعات ہیں جن سے ان کا بچہ بچہ واقف تھا اس وجہ سے ان کی تفصیل کی ضرورت نہیں تھی۔ صرف اشارات کافی…
Read the full tafseer →50۔ 1 سمندر کا یہ پھاڑنا اور اس میں سے راستہ بنادینا ایک معجزہ تھا جس کی تفصیل سورة شعراء میں بیان کی گئی ہے۔ یہ سمندر کا مدوجزر نہیں تھا جیسا کہ سر سید احمد خان اور دیگر منکرین معجزات کا خیال ہے۔
Read the full tafseer →41 : اس کا واقعہ بھی مذکورہ بالا دو سورتوں میں تفصیل کے ساتھ آیا ہے۔
Read the full tafseer →وَإِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَأَنْجَيْنَاكُمْ وَأَغْرَقْنَا آلَ فِرْعَوْنَ وَأَنْتُمْ تَنْظُرُونَ “ اس نجات کی تفصیلات سورة بقرہ سے پہلے نازل ہونے والی مکی سورتوں میں بالتفصیل آچکی تھی۔ یہاں ان لوگوں کو جو تفصیلات سے واقف تھے ، محض یاددہانی کے طور پر بتایا جارہا ہے ۔ مخاطب اس قصے کی تفصیلات کو جانتے تھے ، قرآن کریم سے یا اپنے محفوظ قصوں یا مذہبی کتابوں کی وساطت سے ، یہاں ان کے سامنے دوبارہ اس نجات کی تصویر کشی کی جارہی ہے تاکہ وہ اسے پردہ خیال پر لاکر اس سے متاثر ہوں ۔ انداز بیان تو دیکھئے کہ گویا خودمخاطب دیکھ رہے ہیں کہ دریا پھٹ رہا ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے بنی اسرائیل حضرت موسیٰ…
Read the full tafseer →8 یعنی یاد کرو اے بنی اسرائیل اس نعمت عظیم کو کہ جب تمہارے باپ دادا فرعون کے ڈر سے بھاگے اور آگے دریا اور پیچھے فرعون کا لشکر تھا اور ہم نے تم کو بچا لیا اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرق کردیا۔ یہ قصہ آئیندہ مفصل آئے گا۔
Read the full tafseer →آیت 50 وَاِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ
یہ ایک مختلف فیہ بات ہے کہ بنی اسرائیل نے مصر سے جزیرہ نمائے سینا آنے کے لیے کس سمندر یا دریا کو عبور کیا تھا۔ ایک رائے یہ ہے کہ دریائے نیل کو عبور کر کے گئے تھے ‘ لیکن یہ بات اس اعتبار سے غلط ہے کہ دریائے نیل تو مصر کے اندر بہتا ہے ‘ وہ کبھی بھی مصر کی حد نہیں بنا۔ دوسری رائے یہ ہے کہ بنی اسرائیل نے خلیج سویز کو عبور کیا تھا۔ بحیرۂ قلزم Red Sea اوپر جا کر دو کھاڑیوں میں تبدیل ہوجاتا ہے ‘ مشرق کی طرف خلیج عقبہ اور مغرب کی طرف خلیج سویز ہے اور ان کے درمیان جزیرہ نمائے سینا Sinai Peninsula ہے۔ یہ اسی طرح کی تکون ہے جیسے جزیرہ نمائے ہند Indian Peninsula…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–53
69 بنی اسرائیل پر بیتے ہوئے تاریخی واقعات چونکہ بہت مشہور اور زبان زد خاص و عام تھے۔ لہذا یہاں ان کا اجمالی ذکر ہی آیا ہے۔ البتہ بعض دوسرے مقامات پر ان کی تفصیل بھی بیان کردی گئی ہے۔ انہیں میں سے ایک واقعہ بنی اسرائیل کی نجات اور فرعون کی غرقابی کا بھی ہے۔
بنی اسرائیل کی گؤ سالہ پرستی :۔ فرعون کی غرقابی کے بعد بنی اسرائیل جب جزیرہ نمائے سینا میں پہنچ گئے، تو اللہ تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو چالیس راتوں کے لیے کوہ طور پر طلب فرمایا تاکہ اس نئی آزاد شدہ قوم (بنی اسرائیل) کو عملی ہدایات و احکام عطا کئے جائیں۔ موسیٰ (علیہ السلام) کے جانے کے بعد اس قوم نے گؤ سالہ پرستی شروع کردی۔ مصر میں گؤ…
Read the full tafseer →168 ۔ فرعون اور مصری گورنمنٹ کے مظالم سالہا سال تک برداشت کرنے کے بعدبالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی قیادت میں ساری قوم اسرائیل نے مصر کی سکونت ترک کرکے اپنے آبائی وطن شام و فلسطین کو چلا جانا طے کرلیا۔ سفر مصری حکومت سے چھپ چھپا کر رات کیو قت شروع کیا۔ زمانہ وہ تھا کہ نہ آج کل کی سی باقاعدہ سڑکیں تھیں، نہ راستوں میں لمپ لالٹین، شب کی تاریکی میں اسرائیلی راستہ بھول گئے۔ اور بجائے اس کے کہ شمال کی طرف کچھ اور آگے بڑھ کر اپنے دائیں پر مشرق کی طرف مڑتے، پہلے ہی ادھر گھوم پڑے۔ ادھر فرعون کو خبر ہوگئی، اور وہ اپنے لشکر کی کمان خود کرتا ہوا تیزی سے تعاقب میں آپہنچا۔ اب اسرائیلیوں کے سامنے یعنی…
Read the full tafseer →وَاِذْفَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ فَانْجَیْنَکُمْ ، بحر سے مراد یہاں دریائے نیل نہیں جیسا کہ بعض ثقات کو دھوکا ہوا ہے، بلکہ بحر قلزم (بحراحمر)
مراد ہے اسرائیلی اپنے کو ہر طرف سے محصور پاکر قدرة سخت پریشان ہوئے لیکن رہنمائی اللہ کے ایک پیغمبر کر رہے تھے، آپ نے وحی الٰہی کے اشارہ پر فرمایا کہ بلا توقف سمندر میں داخل ہوجاؤ، سمندر کا پانی سمٹ کر دونوں طرف پہاڑ جیسی دیواروں کی طرف کھڑا ہوگیا، درمیان میں خشک راستہ پیدا ہوگیا اسرائیلیوں کا قافلہ عبور کرگیا، اس دوران فرعونی بھی لب ساحل پہنچ گئے، اور یہ منظر دیکھ کر وہ بھی پیدال اور سوار خشک سمندر میں داخل ہوگئے، لیکن ابھی درمیان ہی میں تھے کہ پانی کی…
Read the full tafseer →وَ اِذْ فَرَقْنَا بِکُمُ الْبَحْرَ ( اور یاد کرو جب ہم نے تمہارے لیے دریا کو پھاڑا) فَرَقْنَا بِکُمْ (یعنی ہم نے تمہارے داخل ہونے کے سبب دریا کو چیر دیا۔ بعض نے یہ معنی بیان کئے کہ دریا کو تمہارے لیے چیر دیا۔ یہ قصہ یوں ہوا تھا کہ جب فرعون کے ہلاک ہونے کا زمانہ قریب آیا اور حق تعالیٰ نے حضرت موسیٰ ( علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنی اسرائیل کو لے کر چلے جاؤ تو موسیٰ ( علیہ السلام) نے سب کو کہہ دیا کہ راتوں رات یہاں سے چل نکلو اور کوچ کا سب سامان اپنے اپنے گھروں کے اندر ہی کریں حتی کہ گھوڑوں کے زین بھی اندر ہی اندر کسیں۔ تاکہ کسی کو کانوں کان خبر نہ ہو اور قبطیوں میں جس قدر بنی اسرائیل کے ولد…
Read the full tafseer →(50) اور جس وقت ہم نے دریا کو پھاڑ کر تمہیں غرق ہونے سے بچایا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کردیا اور اس منظر کو تم تین دن بعد تک دیکھتے رہے۔
Read the full tafseer →اس واقعہ کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورة یونس (90) اور سورة شعراء (52 تا 67)
Read the full tafseer →آیت نمبر 50
اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ فرقنا بکم البحرفانجینکم، اذ محل نصب میں ہے اور فرقنا کا مطلب ہے ہم نے پھاڑ دیا، ہر حصہ ایک بڑے پہاڑ کی طرح۔ الفرق کا معنی جدا ہونا ہے۔ اسی سے فرق الشعر اسی سے الفرقان ہے کیونکہ قرآن نے حق و باطل کے درمیان جدائی کی۔ اسی سے فالفا رقات فرقاً ہے یعنی ملائکہ حق و باطل کے درمیان فرق کے ساتھ اترتے ہیں اسی سے یوم الفرقان ہے یعنی جنگ بدر کا دن۔ اس دن حق و باطل کے درمیان فرق ہوا۔ اسی سے وقرآنا فرقناہ یعنی قرآن کو ہم نے بیان کیا اور اسے ہم نے پختہ کیا۔ زہری نے فرقنا را کی شد کے ساتھ پڑھا ہے، یعنی ہم نے اسے جدا جدا کردیا۔ بکم کا معنی لکم ہے۔ با بمعنی لام ہے۔ بعض…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون “ سے مراد ہے اللہ تعالیٰ نے سمندر کو ان کے لیے پھاڑ دیا یہاں تک کہ خشک راستہ بن گیا جس میں وہ چل رہے تھے لفظ آیت ” فانجینکم واغرقنا ال فرعون “ یعنی ان کے دشمن کو اللہ تعالیٰ نے غرق کردیا یہ انعام ہے اللہ تعالیٰ کی طرف سے وہ ان کو جتا رہا ہے تاکہ وہ شکر کریں اور اس کے حق کو پہچانیں۔
(2) امام احمد، بخاری، مسلم، نسائی اور بیہقی نے ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے یہودیوں کو دیکھا کہ وہ یوم عاشوراء کا روزہ رکھتے ہیں آپ نے ان سے فرمایا یہ دن کونسا ہے جس میں تم…
Read the full tafseer →[ وَاِذْ : اور جب ] [ فَرَقْنَا : ہم نے پھاڑ کر الگ کیا ] [ بِكُمُ : تم لوگوں کے لیے ] [ الْبَحْرَ : سمندر کو ] [ فَاَنْجَيْنٰكُمْ : تو ہم نے نجات دی تم کو ] [ وَاَغْرَقْنَآ : اور ہم نے ڈبو دیا ] [ اٰلَ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ : تم لوگ دیکھ رہے تھے ]
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کا سمندر پار کر کے نجات پانا اور آل فرعون کا غرق ہونا
اس آیت شریفہ میں اجمالی طور پر مصریوں سے بنی اسرائیل کی نجات اور آل فرعون کی بربادی اور ہلاکت کا ذکر ہے اللہ جل شانہ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ تم راتوں رات بنی اسرائیل کو لے کر مصر کی آبادیوں سے نکل جاؤ اس وقت مصر میں فرعون کی حکومت تھی فرعون مصر کے ہر فرمانروا کو کہا جاتا تھا اور اس فرعون کا نام جو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے زمانے میں تھا بعض مفسرین نے ولید بتایا ہے۔ بعض لوگوں نے کہا کہ اس کا نام بھی موسیٰ تھا۔ اس کا تعلق قوم عاد سے بتاتے ہیں۔ یہ بڑا سرکش بادشاہ تھا اپنے آپ کو سب سے اونچا معبود منواتا تھا۔ حضرت…
Read the full tafseer →در بہ بست و دشمن اندر خانہ بود قصۂ فرعون زیں افسانہ بود
انعام سوم : واذ فرقنا بکم البحر فانجینکم واغرقنا ال فرعون وانتم تنظرون۔ اور اے بنی اسرائیل اس نعمت کو بھی یاد کرو جب کہ ہم نے محض تمہاری وجہ سے دریا کو پھاڑا یعنی محض تمہارے صحیح سالم گذر جانے کی وجہ سے ہم نے اپنے ارادہ اور مشیت سے دریا کو شق کیا۔ اتفاقی طور پر جزر و مد نہ تھا۔ پس تم کو نجات دی۔ دشمن سے بھی نجات ملی اور خدا تعالیٰ کے علم وقدرت میں اور حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی نبوت میں جو شبہات تھے ان سے بھی تم کو نجات ملی۔ سارے شبہ رفع ہوئے اور فقط تمہارے نجات دینے پر کفایت نہیں کی۔ بلکہ قوم فرعون کو جو تمہاری دشمن تھی غرق کیا تاکہ…
Read the full tafseer →ف 110 ۔ یہ دوسرا انعام ہے۔ بِکُمْ میں با بمعنی لام ہے۔ یعنی ہم نے تمہارے لیے سمندر کو چیر کر اس میں راستے بنائے۔ ای فرقنا لکم (معالم ص 49 ج 1، قرطبی ص 387 ج 1) یا " باء " سببیت کے لیے ہے۔ فرقناہ بسببکم وبسبب انجاء کم (کبیر ص 818 ج، روح ص 25 ج 1) اور البحر سے مراد یہاں بحر احمر ہے جس کا دوسرا نام بحر قلزم ہے ویذکران البحر ھو بحر القلزم (قرطبی ص 390 ج 1) حضرت موسیٰ (علیہ السلام) شب وروز تبلیغ میں مصروف رہے مگر فرعون اور اس کی قوم پر ان کی دعوت کا کوئی اثر نہ ہوا۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے تبلیغ و ارشاد اور معجزات کے ذریعے ان پر حجت خداوندی قائم کردی۔ ادھر اللہ تعالیٰ نے مظلوم بنی اسرائیل کی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
ربط آیات : پہلے رکوع میں اجمال تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے۔ اور انہیں وہ انعامات یاد دلائے ہیں جو ان پر ظاہر کیے گئے تھے ، نزول قرآن کے زمانے کے بنی اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ایمان قبول کرلیں۔ نیز اس قوم میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ اہل ایمان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روش سے بچتے رہیں۔ کہیں ان کی خرابیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ فرعون کی غلامی میں عرصہ دراز تک رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بیشمار خربیاں اور سرکشی کا مادہ پیدا ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیشمار انبیاء (علیہم السلام) تشریف…
Read the full tafseer →وَاِذْ فَرَقْنَا بِكُمُ الْبَحْرَ فَاَنْجَيْنٰكُمْ وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْتُمْ تَنْظُرُوْنَ 50
فرق
الفَرْقُ يقارب الفلق لکن الفلق يقال اعتبارا بالانشقاق، والفرق يقال اعتبارا بالانفصال . قال تعالی: وَإِذْ فَرَقْنا بِكُمُ الْبَحْرَ [ البقرة/ 50] ، والفِرْقُ : القطعة المنفصلة، ومنه : الفِرْقَةُ للجماعة المتفرّدة من النّاس، وقیل : فَرَقُ الصّبح، وفلق الصّبح . قال : فَانْفَلَقَ فَكانَ كُلُّ فِرْقٍ كَالطَّوْدِ الْعَظِيمِ [ الشعراء/ 63] ،
(ر ق ) الفرق
والفلق کے قریب ایک ہی معنی ہیں لیکن معنی انشقاق یعنی پھٹ جانا کے لحاظ سے فلق کا لفظ بولا جاتا ہے اور مغی انفعال یعنی الگ الگ ہونے کے…
Read the full tafseer →ترکیب : فرقنا فعل بافاعل بکم موضع نصب میں مفعول ثانی ہے اور البحر مفعول اول ہے اور ب بمعنی لام ہے فانجیناکم جملہ فعلیہ معطوف علیہ واغرقنا الخ جملہ فعلیہ معطوف وانتم تنظرون حال ہے اغرقنا سے۔
تفسیر : انعام سوم : یہ تیسرا انعام ہے جو خروج مصر کے بعد بنی اسرائیل پر خدا نے کیا تھا۔ جب حضرت موسیٰ (علیہ السلام) بنی اسرائیل کو فرعونیوں کی قید سے چھڑا کر کنعان کی طرف روانہ ہوئے تو فرعون اور اس کے لشکر نے قلزم کے پاس تعاقب کرکے بنی اسرائیل کو آلیا اب پیچھے تو فرعون اور اس کا خونخوار لشکر جس کی ہیبت نے بنی اسرائیل کو ہوش باختہ کردیا اور سامنے سمندر، نہ آگے جاسکتے ہیں نہ پیچھے پھر سکتے ہیں۔ اس وقت بنی…
Read the full tafseer →وَاِذْ فَرَقْـنَا بِکُمُ الْـبَحْرَ فَاَنْجَیْنٰـکُمْ وَاَغْرَقْـنَـآ اٰلَ فِرْعَوْنَ وَاَنْـتُمْ تَنْظُرُوْنَ ۔
(اور (وہ وقت یاد کرو ! ) جب ہم نے تمہارے لیے سمندر کو پھاڑ دیا، پھر ہم نے تمہیں نجات دے دی، اور آل فرعون کو ہم نے غرق کردیا، دراں حالیکہ تم دیکھ رہے تھے) (البقرۃ : 50)
بنی اسرائیل کا بحر قلزم کو عبور کرنا
موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا گیا کہ بحر قلزم پر اپناعصا مارو، چناچہ جیسے ہی آپ نے اپنا عصا پانی کی طرف بڑھایا، بحر قلزم کی موجیں دائیں بائیں پہاڑوں کی طرح کھڑی ہوگئیں اور نیچے خشک زمین نظر آنے لگی۔ اب بنی اسرائیل کو حکم ہوا کہ سمندر میں اترجاؤ اور بےتأمل اسے پار کرجاؤ۔ اس آیت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل سے خطاب جاری ہے اس میں دو احسانات کا تذکرہ فرما کر نصیحت کی گئی ہے۔
اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس وقت کے نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔
یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو ادوار میں ہوا…
Read the full tafseer →وَاِذْفَرَقْنَا : (جب ہم نے پھاڑ دیا تمہارے لئے سمندر کو) بعض کو بعض سے جدا کردیا۔ یہاں تک کہ راستے بن گئے
فَرقنا : یہ شد کے ساتھ پڑھا گیا۔ ہم نے جدا کیا کہا جاتا ہے اس نے دو چیزوں میں جدائی کردی اور چیزوں میں تفریق کردی۔ کیونکہ راستے بارہ تھے۔ جتنی قبائل بنی اسرائیل کی تعداد تھی۔
بِکُمُ الْبَحْرَ : (تم پر سمندر کو) وہ ان پر چل رہے تھے۔ اور تمہارے چلتے ہوئے پانی الگ الگ تھا۔ گویا ان کے ساتھ پھاڑا یا ہم نے تمہارے سبب سے پھاڑا۔ یا ہم نے پھاڑا اس حال میں کہ وہ تمہارے ساتھ متلبس تھا۔ اس صورت میں یہ حال بنے گا۔
روایت میں آیا ہے کہ بنی اسرائیل نے موسیٰ ( علیہ السلام) کو کہا۔ ہمارے ساتھی کہاں ہیں ؟…
Read the full tafseer →(تفسیر) 50:
(آیت)” واذ فرقنا بکم البحر “ بعض نے کہا اس کا معنی (آیت)” فرقنا لکم “ ہے یعنی سمندر کو ہم نے خاص تمہاری خاطر پھاڑا اور کہا گیا ہے ” فرقنا بدخولکم ایاہ “ کہ ہم نے سمندر کو تمہارے داخلہونے کے سبب پھاڑا ، سمندر کو بحر اس کی وسعت کے پیش نظر کہا گیا ہے اور اسی سے ہے گھوڑے کو بھر کہنا جب وہ اپنے دوڑنے میں وسعت اختیار کرے اور یہ اس لیے جب فرعون کی ہلاکت کا وقت قریب آیا ، اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو حکم دیا کہ بنو اسرائیل کو مصر سے رات کے وقت لے چلے تو حضرت موسیٰ (علیہ السلام) نے (بنو اسرائیل) اپنی قوم کو حکم دیا کہ گھروں مین صبح تک چراغ جلائے رکھیں اور اللہ تعالیٰ نے قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
یہ پورا قصہ تو سورة طہ سورة شعرا اور قصص میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس سے سوا بنی اسرائیل کے محل کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ہیں۔ اس نے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا۔ فرعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ اس تاریخ سے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کو چھوڑ دینے کا حکم دیا مگر تقدیر الٰہی کے آگے آدمی کی کیا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–57
یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا :
آیت 49-57
(آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 46–59
اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل
قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…
Read the full tafseer →144 بنی اسرائیل کیلئے سمندر کو پھاڑنے کا انعام : سو یہ بنی اسرائیل کے لئے ایک خاص انعام تھا کہ سمندر کو پھاڑ کر ان کے لیے را ستے بنا دئے گئے تاکہ وہ آرام اور سہولت کے ساتھ اس سے پار ہو سکیں۔ سو ان کو خطاب کر کے ارشاد فرمایا گیا کہ ہم نے اپنی قدرت بےپایاں اور رحمت شاملہ سے تمہارے لئے سمندر کو اس طرح پھاڑ دیا، تاکہ اس طرح ایک طرف تو تمہاری نجات اور دشمن کے ظلم و ستم سے تمہاری رہائی کا سامان ہوسکے۔ اور دوسری طرف اسطرح کے معجزانہ انتظام سے تمہاری تعظیم و تکریم بھی۔ اور تیسری طرف تمہارے دشمن اور اپنے وقت کے سب سے بڑے کافر کی اپنے لاؤ لشکر سمیت غرقابی کا بندوبست بھی ۔ فَسُبْحَان اللّٰہ مِنْ قَادِرٍ…
Read the full tafseer →فرعون کی غرقابی
تشریح : جیسا کہ پہلے بیان ہوچکا کہ بنی اسرائیل مصریوں کی سختیاں کئی سال تک برداشت کرتے رہے بالآخر حضرت موسیٰ (علیہ السلام) اپنی قوم کو لے کر اپنے آبائی وطن شام کی طرف چل پڑے۔ اس پر مصری حکومت ان سے سخت ناراض تھی احتیاط کے طور پر بنی اسرائیل نے رات کے وقت سفر شروع کیا۔ اندھیرے کی وجہ سے راستہ سے بھٹک گئے پھر مصری فوج کا خوف بھی طاری تھا گھروں کو چھوڑنے کا دکھ بھی تھا ان تمام پریشانیوں کے ساتھ چل پڑے، سامنے مشرق کی طرف سمندر تھا اور معلوم ہوا کہ مصری فوج کو اطلاع ہوگئی ہے اور وہ ان کے تعاقب میں نکل پڑے ہیں۔ اب بنی اسرائیل کے لئے بہت بڑی مصیبت اور آزمائش پیدا ہوچکی تھی اس وقت…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–59
آیات 47- 59
تفسیر :
اسرارو معارف
گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔
زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…
Read the full tafseer →ف 3) بآلا خر فرعون کے مظالم برداشت کرنے کے بعد موسیٰ (علیہ السلام) ایک رات بنی اسرائیل کو مصر سے روانہ ہوگئے اور راستہ بھو لنے کی وجہ سے صبح کے قریب مصر سے مشرق کی طرف بحر قلزم کے شمالی تنگنائے پر پہنچ گئے۔ اب دائیں بائیں پہاڑ یاں تھیں اور پیچھے سے فرعون کا لشکر تعاقب میں تھا اللہ تعالیٰ کے حکم سے سمندر کا پانی سمٹ کر دونوں جانب پہاڑوں کی طرح کھڑا ہوگیا اور درمیان میں راستہ بن گیا۔ اسرائیلی سمندر پار کر گئے ان کے تعاقب میں فوعونی بھی سمندر میں داخل ہوگئے اتنے میں سمندر کا پانی حسب معمول آگیا اور فرعون اپنے لاؤ لشکر سمیت غرق ہوگیا مفصل دیکھئے ( سورة شعرا رکوع :4) یہ واقعہ عاشورہ کے دن پیش آیا…
Read the full tafseer →(2:50) واذ۔۔ ملاحظہ ہو (2:49)
فرقنا۔ ماضی جمع متکلم ہم نے پھاڑ دیا، ہم نے الگ الگ کردیا۔ فوق مصدر بمعنی الگ الگ ہونا ۔ اسی سے فرقہ ہے جو جماعت سے الگ ہوگیا ہو۔ ب بمعنی ل ہے۔ واذ فرقنا بکم البحر۔ جب ہم نے تمہارے لئے دریا کو پھاڑ دیا فلق بھی قریب قریب انہی معنوں میں آتا ہے قرآن مجید میں ہے فانقلق فکان کل فرق کا الطود العظیم (6:63) تو دریا پھٹ گیا اور ہر ایک ٹکڑا یوں ہوگیا ، گویا بڑا پہاڑ ہو البحر سے مراد بحیرہ قلزم ہے جسے حضرت موسیٰ اور ان کی قوم نے مصر سے ہجرت کے وقت طے کیا تھا۔
فانجینکم ۔ ن تعقیب کی ہے انجینا ماضی کا صیغ جمہ متکلم ۔ انجاء (افعال) مصدر نجو مادہ۔ بچالینا ، نجات دینا۔ کم ضمیر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–50
تشریح : آیت نمبر 47 تا 50
ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی جس فضیلت و برتری پر تمہیں فخر وناز ہے وہ عظمتیں اللہ ہی نے تو عطا کی تھیں۔ اگر تم پھر وہی عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستگی اختیار کرلو۔ اللہ سے اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہارے یہ جھوٹے فخر و غرور کام نہ آسکیں گے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ کچھ دے دلا کر چھوٹ سکے گا اور نہ کسی کی طرف سے مدد کی جائے گی وہاں محض انبیاء کی نسبت پر نازل کرنا اور جھوٹے معبودوں کے وہ سہارے جنہوں نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے کسی کام نہ آسکیں گے وہاں صرف اللہ سے کیا ہوا عہدو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 47–51
فرعون کا خواب اور عاشورہ کے روزہ کا ذکر : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے محلہ کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ۔ اس نے نجومیوں سے تعبیر پوچھی ۔ انہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے وال ہے ۔ اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا ۔ فرعون نے اس کی تعبیر سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ، ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مگر تقدیر الہی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور خود فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے نبی کیا ۔ اس کے بعد فرعونیوں کے ظلم ستم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 48–50
[40] یعنی روز قیامت سے
Read the full tafseer →(ف 3) البحر سے مراد یہاں دریائے قلزم ہے ، موسیٰ (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو آمادہ کرلیا کہ وہ راتوں رات ارض مصر سے نکل جائیں نہ یہ ہجرت اس لئے تھی کہ تاکہ فرعون کے اثر سے الگ رہ کر ان میں صحیح طریق پر دین کی روح پھونکی جائے ، غلامی سے دماغی اور ذہنی قوی کمزور ہوجاتے ہیں ‘ اس لئے ضرورت تھی کہ آزاد آب و ہوا میں انہیں لے جایا جائے ، فرعون کو جب یہ معلوم ہوا کہ بنی اسرائیل ہاتھ سے نکلے جاتے ہیں تو اس نے باقاعدہ بنی اسرائیل کا تعاقب کیا اور دریائے قلزم پر ان کو جالیا ، وہ دریا کے پھٹ جانے کی وجہ سے پار اتر گئے اور فرعون بمعہ اپنے لشکر کے دریا میں ڈوب گیا ، یہ اس لئے تھا کہ بنی اسرائیل اپنی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
ف 1۔ اور اے بنی اسرائیل اس زمانے کو یاد کرو جبکہ ہم نے تم کو فرعون کی قوم اور اس کے متبعین کے مظالم اور ان کی غلامی سے نجات دی جن کی حالت یہ تھی کہ وہ تم کو سخت اور بدترین سزا دینے کی تلاش اور فکر میں لگے رہتے تھے اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑدیا کرتے تھے اور سا عذاب اور اس نجات میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی اور تم وہ موقعہ بھی یاد کرو جب ہم نے تمہارے راستہ دینے کی خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو تو غرق ہونے سے بچا لیا اور فرعون کی قوم اور اس کے متعبین کو تمہاری آنکھوں دیکھتے اس سمندر میں غرق کردیا۔ (تیسیرا)
فرعون عمالقہ کی قوم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 50–52
ف 2۔ یہ قصہ اس وقت ہوا کہ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہو کر پیغمبر ہوگئے اور مدتوں فرعون کو سمجھاتے رہے۔
Read the full tafseer →بنی اسرائیل کی مصر سے ہجرت اور بحر احمر کو عبور کرنا :
107: حضرت موسیٰ (علیہ السلام) فرعون وقت کو پیغام الٰہی پہچانے پر مامور ہوئے تھے اور اس کے پاس یہ مطالبہ بھی لے کر آئے تھے کہ جو مظالم قوم بنی اسرائیل پر کئے جا رہے ہیں ان کو ترک کردے۔ یہ دعوت ایک مدت تک جاری رہی فرعون نے نہ دعوت قبول کی اور نہ ہی بنی اسرائیل کے مظالم میں کوئی کمی کی۔ بلکہ الٹا الزام موسیٰ (علیہ السلام) پر رکھا۔ چناچہ قرآن کریم میں ہے کہ :
” بلاشبہ ! ہم نے موسیٰ (علیہ السلام) کو اپنی نشانیاں اور واضح دلائل دے کر بھیجا۔ فرعون ، ہامان ، اور قارون کی طرف مگر انہوں نے موسیٰ (علیہ السلام) کو جادوگر اور جھوٹا بتایا۔ غرض جب وہ ان…
Read the full tafseer →Verse 50 refers to certain things which had happened in the days of Sayyidna Musa (علیہ السلام) (Moses). He, in his capacity as a messenger of Allah, continued efforts for a long time to make the Pharaoh and his people see Truth, but when they persisted in their denial, Allah commanded him to take the Israelites along with him and leave Egypt surreptitiously. On their way, they came across a sea while the Pharaoh was behind him with his army in hot pursuit. Allah commanded the sea to split, and make way for Sayyidna Musa (علیہ السلام) and his people. So, they went over smoothly. But when the…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 49–50
64. From here on, through the several sections that follow, reference is made to the best
65. We have rendered 'Al Fir'awn' as 'Pharaoh's people'. This includes the members of the Pharaonic family as well as the aristocracy of Egypt.
66. The test was whether they would emerge from the crucible of persecution as pure gold, or as mere dross. The test also lay, in whether or not, after their miraculous deliverance from so great a calamity, they would become grateful servants of God.
Read the full tafseer →