Al-Baqara 2:49

Al-Baqara · from ayah 49

2:49

وَاِذْ نَجَّیْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْٓءَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَكُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَكُمْ ؕ— وَفِیْ ذٰلِكُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِیْمٌ ۟وَاِذۡ نَجَّيۡنٰکُمۡ مِّنۡ اٰلِ فِرۡعَوۡنَ يَسُوۡمُوۡنَكُمۡ سُوۡٓءَ الۡعَذَابِ يُذَبِّحُوۡنَ اَبۡنَآءَكُمۡ وَيَسۡتَحۡيُوۡنَ نِسَآءَكُمۡ‌ؕ وَفِىۡ ذٰلِكُمۡ بَلَاۤءٌ مِّنۡ رَّبِّكُمۡ عَظِيۡمٌ

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

— Fateh Muhammad Jalandhari

And [recall] when We saved your forefathers from the people of Pharaoh, who afflicted you with the worst torment, slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 6 of surah · Ruku 6 of juz

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:49

یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں کی غلامی سے نجات بخشی اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور (ہمارے ان احسانات کو یاد کرو) جب ہم نے تم کو قومِ فرعون سے نجات بخشی وہ (لوگ) تم کو بڑا دکھ دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو تو قتل کر ڈالتے تھے اور بیٹیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (سخت) آزمائش تھی

— مولانا فتح محمد جالندہری

اور جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی جو تمہیں بدترین عذاب دیتے تھے جو تمہارے لڑکوں کو مار ڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو چھوڑ دیتے تھے، اس نجات دینے میں تمہارے رب کی بڑی مہربانی تھی

— مولانا محمد جوناگڑہی

اور وہ (وقت یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون کے لوگوں سے نجات دی جو تمہیں بڑا عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے اور اس ساری صورت حال میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا بڑا امتحان تھا۔

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

اور (یاد کرو) جب ہم نے تم کو فرعون والوں سے نجات بخشی کہ وہ تم پر برا عذاب کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی بلا تھی (یا بڑا انعام)

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

اور (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں قومِ فرعون سے نجات بخشی جو تمہیں انتہائی سخت عذاب دیتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری بیٹیوں کو زندہ رکھتے تھے، اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی (کڑی) آزمائش تھی،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

اور جب ہم نے تمہیں فرعون کی قوم سے نجات دی، جو تمہیں برا عذاب دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو بری طرح ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بہت بڑی آزمائش تھی۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

پھر (وہ وقت بھی یاد کرو) جب ہم نے تمہیں آل فرعون سے نجات دی تھی۔ یہ لوگ تمہیں سخت دکھ دیتے تھے، تمہارے بیٹوں کو تو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور تمہاری اس حالت میں تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش تھی

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

اور یاد کرو جب کہ ہم نے تم کو آل فرعون کے قبضہ سے چھڑایا۔ وہ تمہیں برے عذاب چکھاتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے اور اس میں تماہرے رب کی طرف سے بڑی ہی آزمائش تھی

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

اور (وہ بھی یاد کرو کہ) جب ہم نے نجات دی تم کو (اپنی رحمت و عنایت سے) فرعون والوں سے، جو کہ چکھاتے تھے تم لوگوں کو (طرح طرح کے) برے عذاب، تمہارے بیٹوں کو وہ چن چن کر ذبح کرتے، اور تمہاری بیٹیوں کو وہ (اپنی اغراض کے لئے) زندہ رکھ چھوڑتے، اور اس میں بڑی آزمائش تھی تمہارے رب کی جانب سے

— مولانا اسحاق مدنی

اور (وہ وقت یاد کرو) جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی تھی جو تمہارے اوپر بڑا عذاب توڑ رہے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے۔ اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

اور ذرا یاد کرو جب کہ ہم نے تمہیں نجات دی تھی فرعون کی قوم سے وہ تمہیں بدترین عذاب میں مبتلا کیے ہوئے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے۔ اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے لیے بڑی آزمائش تھی۔

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

اور اس وقت کو یاد کرو، جبکہ ہم نے تمہیں فرعون کے لوگوں سے رہائی دی جو تم پر بڑا عذاب کرتے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے اور اس میں تمہارے رب کی طرف سے بڑی آزمائش تھی

— محترمہ رفعت اعجاز

Recall the time when We delivered you from the slavery of Pharaoh's people. They had inflicted a dreadful torment on you: they killed your sons and let your daughters live. And in this there was a hard trial for you from your your Lord.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

(Remember) when We delivered you from the people of Pharaoh! They had been inflicting on you grievous torment, slaughtering your sons and leaving your women alive. In all that, there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani

(Remember) when We delivered you from the people of Pharaoh! They had been inflicting on you grievous torment, slaughtering your sons and leaving your women alive. In all that, there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

And (remember) when We delivered you from Fir`awn's (Pharaoh) people, who were afflicting you with a horrible torment, killing your sons and sparing your women, and therein was a mighty trial from your Lord.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

And (remember) when We did deliver you from Pharaoh's folk, who were afflicting you with dreadful torment, slaying your sons and sparing your women: that was a tremendous trial from your Lord.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

And [recall] when We saved your forefathers from the people of Pharaoh, who afflicted you with the worst torment, slaughtering your [newborn] sons and keeping your females alive. And in that was a great trial from your Lord.

— Saheeh International

(Children of Israel, recall My favor) of saving you from the Pharaoh's people who afflicted you with the worst kind of cruelty, slaying your sons and sparing your women. Your suffering was indeed a great trial from your Lord.

— Muhammad Sarwar

And when We delivered you from Firon's people, who subjected you to severe torment, killing your sons and sparing your women, and in this there was a great trial from your Lord.

— Muhammad Habib Shakir

And recall what time We delivered you from the house of Fir'awn imposing upon you evil torment, slaughtering your sons and letting your women live; and therein was a trial, from your Lord, Mighty.

— Abdul Majid Daryabadi

And remember, We delivered you from the people of Pharaoh: They set you hard tasks and punishments, slaughtered your sons and let your women-folk live; therein was a tremendous trial from your Lord.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:49

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 49–50

احسانات کی یاد دہانی ان آیتوں میں فرمان باری ہے کہ اے اولاد یعقوب میری اس مہربانی کو بھی یاد رکھو کہ میں نے تمہیں فرعون کے بدترین عذابوں سے چھٹکارا دیا، فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ بھڑکی جو مصر کے ہر ہر قطعی کے گھر میں گھس گئی اور بنی اسرائیل کے مکانات میں وہ نہیں گئی جس کی تعبیر یہ تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں اس کا غرور ٹوٹے گا اس کے اللہ کے دعویٰ کی بدترین سزا اسے ملے گی اس لئے اس ملعون نے چاروں طرف احکام جاری کر دئیے کہ بنی اسرائیل میں جو بچہ بھی پیدا ہو، سرکاری طور سے اس کی دیکھ بھال رکھی جائے اگر لڑکا ہو تو فوراً مار ڈالا جائے اور…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

Explained with ayahs 49–50

سورة الْبَقَرَة 64 یہاں سے بعد کے کئی رکوعوں تک مسلسل جن واقعات کی طرف اشارے کیے گئے ہیں، وہ سب بنی اسرائیل کی تاریخ کے مشہور ترین واقعات ہیں، جنہیں اس قوم کا بچّہ بچّہ جانتا تھا۔ اسی لیے تفصیل بیان کرنے کے بجائے ایک ایک واقعہ کی طرف مختصر اشارہ کیا گیا ہے۔ اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصود ہے کہ ایک طرف یہ اور یہ احسانات ہیں جو خدا نے تم پر کیے، اور دوسری طرف یہ اور یہ کرتوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے۔ سورة الْبَقَرَة 65 ”اٰلِ فِرْعَون“ کا ترجمہ ہم نے اس لفظ سے کیا ہے۔ اس میں خاندان فراعنہ اور مصر کا حکمراں طبقہ دونوں شامل ہیں۔ سورة الْبَقَرَة 66 آزمائش اس امر کی کہ اس…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

خلاصہ تفسیر اوپر جن خاص برتاؤں کا حوالہ دیا ہے اب یہاں سے ان کی تفصیل بیان کرنی شروع کی پہلا معاملہ تو یہ ہے کہ اور (وہ زمانہ یاد کرو) جب کہ رہائی دی ہم نے تم (لوگوں کے آباء و اجداد) کو متعلقین فرعون سے جو فکر میں لگے رہتے تھے تمہاری دل آزاری کے گلے کاٹتے تھے تمہاری اولاد (ذکور) کے اور زندہ چھوڑ دیتے تھے تمہاری عورتوں کو (لڑکیوں کو کہ زندہ رہ کر بڑی عورتیں ہوجائیں) اور اس واقعہ میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہارا ایک بڑا بھاری امتحان تھا، فائدہکسی نے فرعون سے پشینگوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیری سلطنت جاتی رہے گی اس لئے اس نے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آل فرعون، یعنی قوم فرعون۔ آل سے مراد صرف کسی شخص کی اولاد نہیں ہوا کرتی بلکہ یہ لفظ آل و اولاد ، قوم وقبیلہ اور اتباع وانصار سب پر حاوی ہے۔ نابغہ ذبیانی کا شعر ہے: من آل میہ رایح اومغتدی عجل نذازاد وغیر مزود میہ کے قبیلہ کے لوگوں میں کوئی صبح روانہ ہوا کوئی شام، کوئی زاد راہ کےساتھ، کوئی بغیر زادراہ کے۔ سورہ مومن ۴۵ میں ہے، وَحَاقَ بِآلِ فِرْعَوْنَ سُوْءُ الْعَذَابِ اور آل فرعون کو برے عذاب نے گھیر لیا۔ وَلَقَدْ اَخَذْنَا اٰلَ فِرْعَوْنَ بِالسِّنِیْنَ وَنَقْصٍ مِّنَ الثَّمَرَاتِ (۱۳۰) اور ہم نے آل فرعون کو قحط اور پھلوں کی کمی میں مبتلا کر دیا۔ ان آیات میں جس عذاب کا ذکر ہے ظاہر ہے کہ وہ…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

آل فرعون سے مراد صرف فرعون اور اس کے اہل خانہ ہی نہیں بلکہ فرعون کے تمام پیروکار ہیں۔ جیسا کہ آگے (وَاَغْرَقْنَآ اٰلَ فِرْعَوْنَ) 8:54 ہے (ہم نے ال فرعون کو غرق کردیا) یہ غرق ہونے والے فرعون کے گھر کے ہی نہیں تھے اس کے فوجی اور دیگر پیروکار بھی تھے۔ اس کی مزید تفصیل الاحزاب میں انشاء اللہ آئے گی۔

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

40 : فرعون مصر کا بادشاہ تھا جہاں بنی اسرائیل بڑی تعداد میں آباد تھے، اور فرعون کی غلامی میں دن گزار رہے تھے، فرعون کے سامنے کسی نجومی نے یہ پیشینگوئی کردی کہ اس سال بنی اسرائیل میں ایک بچہ پیدا ہوگا جو اس کی بادشاہی کا خاتمہ کردے گا، یہ سن کر اس نے یہ حکم دے دیا کے اسرائیلیوں میں جو کوئی بچہ پیدا ہو اسے قتل کردیا جائے، البتہ لڑکیوں کو زندہ رکھا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے، اس طرح بہت سے نو زائیدہ بچے قتل کئے گئے، اگرچہ حضرت موسیٰ ؑ اسی سال پیدا ہوئے مگر اللہ تعالیٰ نے ان کو محفوظ رکھا، اس کا مفصل واقعہ سورة طہ اور سورة القصص میں خود قرآن کریم میں ذکر فرمایا ہے۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

یہاں اس کربناک صورتحال کو ان کے پردہ ذہن پر دوبارہ اجاگر کیا جارہا ہے ، جس میں ان کے آباء و اجداد فرعون کے زمانے میں مبتلا تھے ۔ کیونکہ یہ لوگ ان بنی اسرائیل کی اولاد تھے جو اس عذاب میں مبتلا ہوئے ۔ تعذیب اور مظالم کی تصویر کشی کے بعد ، اللہ تعالیٰ ان کے سامنے وہ منظر بھی پیش فرماتے ہیں ، جس سے انہیں نجات دی گئی ۔ انہیں کہا جاتا ہے ذرا اس وقت کو یاد کرو جب ہم نے تمہیں فرعونیوں سے نجات دی ، جو تمہیں مسلسل عذاب میں مبتلا کئے ہوئے تھے ۔ يَسُومُونَ کے معنی ہیں ” ہمیشہ تمہیں عذاب میں رکھتے تھے۔ “ یہ لفاظ سام الماشیتہ ” اس نے مویشیوں کو ہمیشہ چرنے والا (سائمہ) بنایا۔ “ گویا فرعونیوں نے ان مظالم کو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

6 فرعون نے خواب دیکھا تھا نجومیوں نے اس کی تعبیر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جو تیرے دین اور سلطنت کو غارت کر دے گا۔ فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل میں جو بیٹا پیدا ہو اس کو مار ڈالو اور جو بیٹی ہو اس کو خدمت کے لئے زندہ رہنے دو ، خدائے تعالیٰ نے موسیٰ (علیہ السلام) کو پیدا کیا اور زندہ رکھا۔ 7 بلاء کے چند معنی آتے ہیں اگر ذٰلکُم کا اشارہ ذبح کی طرف لیا جائے تو اس کے معنی مصیبت کے ہوں گے اور اگر نجات کی طرف اشارہ ہے تو بلاء کے معنی نعمت کے ہوں گے اور مجموعہ کی طرف ہو تو امتحان کے معنی لئے جائیں گے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 49 وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ”“ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآءَ ‘ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآءَ کُمْ ط فرعون نے حکم دیا تھا کہ بنی اسرائیل میں جو بھی لڑکا پیدا ہو اس کو قتل کردیا جائے اور لڑکیوں کو زندہ رہنے دیا جائے تاکہ ان سے خدمت لی جاسکے اور انہیں لونڈیاں بنایا جاسکے۔ بنی اسرائیل کے ساتھ یہ معاملہ دو مواقع پر ہوا ہے۔ اس کی تفصیل ان شاء اللہ بعد میں آئے گی۔ وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآءٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ “

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

68 فرعون کی بنی اسرائیل کو تعذیب کی وجہ :۔ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا جس کی تعبیر اس کے نجومیوں نے یہ دی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک شخص پیدا ہوگا جو تمہیں اور تمہاری سلطنت کو غارت کر دے گا۔ فرعون نے اس کا حل یہ سوچا کہ اپنی مملکت میں حکم دے دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو بچہ پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکیاں پیدا ہوں انہیں اپنی لونڈیاں بنا لیا جائے۔ اپنی حکومت کو بچانے کے لیے اس کی یہ تدبیر انتہائی ظالمانہ تھی۔ مگر جو کام اللہ کو منظور تھا وہ ہو کے رہا اور فرعون کے سر پر چڑھ کر ہوا۔ موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرعون کے منہ پر جوت مارا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی پرورش…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

164 ۔ ال لغت میں اھل کا مرادف ہے۔ اور مراد اس سے اہل و عیال، اتباع، ہم مذہب اور ہم نسب ہوتے ہیں اھل الرجل عیالہ واتباعہ واولیاءہ (تاج) فرق یہ ہے کہ اھل کا استعمال عام ہے، اور ال صرف خصوصیت اور اہمیت رکھنے والوں کے لیے آتا ہے۔ لا یستعمل الال الامافیہ شرف غالبا (تاج) ۔ (آیت) ” فرعون “ یہ کسی متعین بادشاہ کا ذاتی نام یا علم نہیں۔ قدیم شاہان مصر کا عام لقب تھا۔ جیسے ہمارے زمانہ میں بھی تک جرمنی کے بادشاہ کو قیصر، روس کے تاجدار کو زار، اور ٹرکی کے فرمانرواکو سلطان کہتے تھے یا آج بھی والئی مصر کو خدیو اور والئی دکن کو نظام کہتے ہیں۔ فرنگی مؤرخین کا خیال ہے کہ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے ہم عصر کوئی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

وَاذکروا اِذْنَجَّیْنٰکُمْ مِّنْ آل فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ ، سابقہ آیات میں بنی اسرائیل پر جن انعامات و احسانات کا اجمالا ذکر تھا، (اب یہاں سے مسلسل کئی رکوعوں تک) ان کی قدرے تفصیل بیان کی جا رہی ہے، اس تاریخی بیان میں دراصل یہ دکھانا مقصود ہے کہ ایک طرف یہ احسانات و انعامات ہیں جو خدا نے تم پر کئے اور دوسری طرف تمہارے یہ کرتوت ہیں جو ان احسانات کے جواب میں تم کرتے رہے ہو۔ مِنْ آل فِرْعَوْنَ ، ال یہ اہل کامرادف ہے اور مراد اس سے فرعون کی قبطی قوم ہے آل اور اہل میں فرق صرف اس قدر ہے کہ اہل کا استعمال عام ہے اور آل صرف خصوصیت اور اہمیت رکھنے والوں کے لئے استعمال ہوتا ہے۔ فرعون کسی متعین…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

وَ اِذْ نَجَّیْنٰکُمْ ( اور یاد کرو جب ہم نے تم کو چھڑا یا) یعنی تمہارے باپ دادوں کو بنی اسرائیل پر جو نعمتیں حق تعالیٰ نے مبذول فرمائی ہیں ان کا یہاں تفصیل سے بیان فرماتا ہے۔ شروع رکوع میں تو اجمالاً سب نعمتوں کا بیان آچکا تھا اب یہاں سے اس اجمال کی تفصیل ہے چونکہ آباؤ اجداد کے نجات پانے سے اولاد کو بھی نجات حاصل ہوتی ہے اس لیے اللہ تعالیٰ نے اولاد کو مخاطب بنا کر فرمایا جب ہم نے تمہیں چھڑایا۔ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ ( فرعون کے لوگوں سے) فرعون کے متعلقین اور اس کے ہم مشرب لوگ مراد ہیں اور آل اصل میں اہل تھا۔ کیونکہ اس کی تصغیر اہیل آتی ہے اور آل کے لفظ کا استعمال انبیاء اور بادشاہ اور بڑے بڑے…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

(49) اور جس وقت ہم نے تمہیں فرعون اور اس کی قوم سے نجات دی، جو تمہیں سخت قسم کا عذاب دیا کرتے تھے، اللہ تعالیٰ ان کے عذاب کی کیفیت کو بیان فرماتے ہیں کہ تمہاری چھوٹی اولاد کو وہ ذبح کر ڈالتے تھے اور بڑی عورتوں کو خادم بنالیتے تھے اور یہ تمہارے اللہ کی جانب سے بہت بڑی آزمائش تھی، یہ بھی تفسیر ہے کہ پھر فرعون سے نجات دلانے میں یہ اللہ تعالیٰ کی بہت ہی بڑی نعمت تھی، اب نجات دے کر جو ان لوگوں پر احسان کیا اور فرعون اور اس کی قوم کو غرق کیا ہے اللہ تعالیٰ اس کا ذکر کرتے ہیں

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

یہاں سے بنی اسرائیل پر کیے جانے والے انعامات اور انھیں دی جانے والی فضیلت کی تفصیل شروع ہوتی ہے۔ طبری نے ابن عباس ؓ سے نقل فرمایا ہے کہ فرعون اور اس کے درباریوں نے باہمی مشورہ کیا کہ بنی اسرائیل کا کہنا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ابراہیم ؑ سے وعدہ کیا تھا کہ ان کی اولاد میں انبیاء اور بادشاہ پیدا فرمائے گا (سو ان کا بندوبست ہونا چاہیے) ، تو انھوں نے مشورہ سے متفقہ فیصلہ یہ کیا کہ ایسے آدمی مقرر کیے جائیں جن کے پاس چھریاں ہوں، وہ بنی اسرائیل میں چکر لگاتے رہیں، جہاں کوئی نو مولود لڑکا ملے اسے ذبح کردیں، انھوں نے ایسا ہی کیا۔ پھر جب دیکھا کہ بنی اسرائیل کے بڑی عمر کے لوگ تو طبعی موت سے مر رہے ہیں اور…

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت 49 اس آیت میں تیرہ مسائل ہیں۔ مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : واذ نجینکم من ال فرعون، اذ حالت نصب میں ہے۔ اس کا اذ کروا نعمتی پر عطف ہے۔ یہ اور بعد والی آیات میں بنی اسرائیل کو وہ بعض نعمتیں یاد دلا نا ہے جو ان پر تھیں۔ یعنی تم میری نعمت کو یاد کرو کہ میں نے تمہیں دشمن سے نجات دی اور تم میں انبیاء بنائے۔ یہ خطاب موجودہ لوگوں کو ہے اور مرادان کے آباء ہیں۔ جیسا کہ فرمایا : انا لما طغا الماء حملنکم فی الجاریۃ۔ (الحاقہ) (یعنی ہم نے تمہارے آباء کو کشتی میں سوار کیا) بعض علماء نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے فرمایا : نجینکم کیونکہ آباء کی نجات، موجودہ لوگوں کی نجات کا سبب تھی اور نجینکم کا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ کاہنوں نے فرعون سے کہا اس سال میں ایسا لڑکا پیدا ہونے والا ہے جو تیری بادشاہی کو ختم کر دے گا تو فرعون نے ہر ہزار عوتوں پر سو آدمیوں کو اور ہر سو پر دس آدمیوں کو اور ہر دس پر ایک آدمی کو مقرر کردیا اور ان سے کہہ دیا کہ شہر میں ہر حاملہ عورت کو دیکھو جب اس کا لڑکا پیدا ہو تو اس کو ذبح کر دو اور اگر لڑکی پیدا ہو تو اس کو چھوڑ دو اور وہ اللہ تعالیٰ کا قول ہے لفظ آیت ” یذبحون ابناء کم ویستحیون نساء کم “ (الآیہ) (2) امام ابن ابی حاتم نے ابو العالیہ سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” یسومونکم سوء العذاب “ (الآیہ) سے مراد ہے کہ فرعون ان کا چار سو سال سے…

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ : اور جب ہم نے نجات دی تم لوگوں کو ] [ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ : فرعون کے پیروکاروں سے ] [ يَسُوْمُوْنَكُمْ : وہ لوگ تکلیف دیتے تھے تم کو ] [ سُوْۗءَ الْعَذَابِ : برے عذاب کی ] [ يُذَبِّحُوْنَ : وہ لوگ ذبح کرتے تھے ] [ اَبْنَاۗءَكُمْ : تمہارے بیٹوں کو ] [ وَيَسْتَحْيُوْنَ : اور وہ لوگ زندہ رکھتے تھے ] [ نِسَاۗءَكُمْ ۭ : تمہاری عورتوں کو ] [ وَفِىْ ذٰلِكُمْ : اور اس میں تھی ] [ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ : تمہارے رب کی طرف سے ایک بڑی آزمائش ] ن ج و [ نجاۃ اور نجاء : (ن) ] کسی کا کسی چیز سے الگ ہوجانا، اس بنیادی مفہوم کے ساتھ مختلف معانی میں استعمال ہوتا ہے۔ (1)…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

مصر میں بنی اسرائیل کی مظلومیت اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل پر اپنے ایک بہت بڑے انعام کا تذکرہ فرمایا ہے۔ پہلے گزر چکا ہے کہ بنی اسرائیل کے تمام قبیلے مصر میں رہتے تھے۔ غیر ملکی ہونے کی وجہ سے مصر کے لوگ (فرعون اور فرعون کی قوم) ان پر بری طرح مسلط تھے، ان کی زندگی غلاموں سے بھی بدتر تھی، ان سے بڑی بڑی بیگاریں لیتے تھے اور ایسی بدترین غلامی میں بنی اسرائیل مبتلا تھے کہ مصری لوگ ان کے بیٹوں کو ذبح کردیتے تھے تو یہ ذرا چوں بھی نہیں کرسکتے تھے۔ حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل میں پیدا فرمایا، پھر ان کو اور ان کے بھائی ہارون ( علیہ السلام) کو نبوت عطا فرمائی، فرعون…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

انعام دوم : واذ نجینکم من ال فرعون۔۔ الی۔۔ من ربکم عظیم۔ اور یاد کرو اس انعام کو جبکہ ہم نے تم کو قوم فرعون سے نجات دی جو تم کو سخت ترین عذاب کی تکلیف دے رہے تھے تمہارے بیٹوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑتے تھے۔ غیور طبیعتیں سمجھ سکتی ہیں عورتوں کا زندہ چھوڑنا بیٹوں کے ذبح سے سخت ہے۔ اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے بڑی آزمائش تھی۔ تم نے دیکھ لیا کہ سوائے خدا تعالیٰ کے کسی نے بھی دنیا میں ان سختیوں میں تمہاری کوئی مدد نہ کی پس سمجھ لو کہ آخرت میں جبکہ نفسی نفسی ہوگی کون تمہاری مدد کرسکے گا۔ فرعون نے ایک وحشت ناک خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس نے مصر کا…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 107 ۔ یہ پہلا انعام ہے۔ آل فرعون سے مراد یہاں قوم فرعون ہے جو کفر وشرک کے مسلک میں اس کہ ہمنوا تھی۔ اما اٰل فرعون فلا شک ان المراد منہ ھھنا من کان من قوم فرعون وھم الذین عزموا علی اھلاک یبنی اسرائیل (کبیر ص 515 ج 1) اٰل فرعون قومہ واتباعہ واھل دینہ (قرطبی ص 381 ج 1) قوم فرعون سے نجات دینے کا مطلب یہ ہے کہ ان کی طرف سے جو مظالم ان پر توڑے جاتے تھے اور جو تکلیفیں اور ایذائیں انہیں دی جاتی تھیں ان سے ان کو بچا لیا۔ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْءَ الْعَذَابِ ۔ فرعون کی قوم چونکہ حکمران تھی اور بنی اسرائیل محکوم تھے اس لیے قوم فرعون ان کو بیاب ر میں پکڑ لیتے اور ان سے سخت محنت اور مشقت کراتے۔ اس طرح…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 47–50

ربط آیات : پہلے رکوع میں اجمال تھا۔ اب یہاں سے اللہ تعالیٰ نے تفصیل کے ساتھ بنی اسرائیل کا ذکر کیا ہے۔ اور انہیں وہ انعامات یاد دلائے ہیں جو ان پر ظاہر کیے گئے تھے ، نزول قرآن کے زمانے کے بنی اسرائیل کو دعوت دی گئی ہے کہ وہ ایمان قبول کرلیں۔ نیز اس قوم میں پیدا ہونے والی خرابیوں کا بھی ذکر کیا گیا ہے۔ ساتھ ساتھ اہل ایمان کو متنبہ کیا گیا ہے کہ وہ بنی اسرائیل کی روش سے بچتے رہیں۔ کہیں ان کی خرابیوں میں مبتلا نہ ہوجائیں۔ فرعون کی غلامی میں عرصہ دراز تک رہنے کی وجہ سے بنی اسرائیل میں بیشمار خربیاں اور سرکشی کا مادہ پیدا ہوگیا تھا حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کے بعد بیشمار انبیاء (علیہم السلام) تشریف…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ۝ 0 ۭ وَفِىْ ذٰلِكُمْ بَلَاۗءٌ مِّنْ رَّبِّكُمْ عَظِيْمٌ۝ 49 نجو أصل النَّجَاء : الانفصالُ من الشیء، ومنه : نَجَا فلان من فلان وأَنْجَيْتُهُ ونَجَّيْتُهُ. قال تعالی: وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] ( ن ج و ) اصل میں نجاء کے معنی کسی چیز سے الگ ہونے کے ہیں ۔ اسی سے نجا فلان من فلان کا محاورہ ہے جس کے معنی نجات پانے کے ہیں اور انجیتہ ونجیتہ کے معنی نجات دینے کے چناچہ فرمایا : ۔ وَأَنْجَيْنَا الَّذِينَ آمَنُوا[ النمل/ 53] اور جو لوگ ایمان…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

ترکیب : واذ موضع نصب میں ہے معطوف اذکروا نعمتی پر اور اسی طرح و اذفرقنا و اذواعدنا اور اذقتلتم یا موسیٰ وغیرہ نجینا فعل یا فاعل کم مفعول من آل فرعون متعلق ہے نجینا سے یسومون فعل ھم ضمیر راجع آل فرعون کی طرف کم مفعول اول سوء العذاب مفعول ثانی یہ تمام جملہ حال ہے آل فرعون سے یا ضمیر نجینا کم سے یا دونوں سے یذبحون ابناء کم اور یستحیون الخ دونوں جملے بیان ہیں یسومونکم کے اور اسی لیے عطف نہ ہوا بلاء موصوف من ربکم اور عظیم صفت مبتداء موخر فی ذلکم خبر۔ تفسیر : انعام دوم : یہ دوسرا انعام یاد دلاتا ہے اسرائیلیوں پر جو فرعون مصر اور اس کی قوم کی طرف سے ہر روز ایک تازہ مصیبت کا سامنا تھا یہاں تک کہ لڑکے…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

وَاِذْ نَجَّیْنٰکُمْ مِنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یَسُوْمُوْنَکُمْ سُوْٓئَ الْعَذَابِ یُذَبِّحُوْنَ اَبْنَآئَ کُمْ وَیَسْتَحْیُوْنَ نِسَآئَ کُمْ ط وَفِیْ ذٰلِکُمْ بَلَآئٌ مِّنْ رَّبِّکُمْ عَظِیْمٌ۔ (البقرۃ : 49) (اور وہ وقت یاد کرو ! جب ہم نے تمہیں فرعون والوں سے نجات دی تھی۔ جو تمہیں برے عذاب چکھاتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے پروردگار کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی) اس آیت کریمہ سے بنی اسرائیل کی تاریخ کے ایسے نمایاں واقعات پیش کیے جارہے ہیں، جس سے بنی اسرائیل کا بچہ بچہ واقف تھا۔ اس لیے بجائے تفصیل بیان کرنے کے اشاروں پر اکتفا…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 49–50

فہم القرآن ربط کلام : بنی اسرائیل سے خطاب جاری ہے اس میں دو احسانات کا تذکرہ فرما کر نصیحت کی گئی ہے۔ اہل تاریخ بنی اسرائیل پر فرعون کے بد ترین مظالم کی دو وجوہات تحریر کرتے ہیں۔ ایک جماعت کا نقطۂ نگاہ یہ ہے کہ اس وقت کے نجومیوں نے فرعون کو اس بات کی خبر دی کہ بنی اسرائیل میں ایک ایسا بچہ پیدا ہونے والا ہے جو بڑا ہو کر تیرے اقتدار کو چیلنج کرے گا۔ دوسرے لوگوں کا خیال ہے کہ بنی اسرائیل کی بڑھتی ہوئی افرادی قوت کے خوف سے فرعون نے ان کے بچوں کو قتل کرنے اور عورتوں کو باقی رکھنے کا حکم جاری کیا تھا۔ یاد رہے بنی اسرائیل کے جوانوں کا قتل عام اور ان کی بیٹیوں کو باقی رکھنے کا معاملہ دو ادوار میں ہوا…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

وَاِذْ نَجَّیْنٰـکُمْ مِّنَ اٰلِ فِرْعَوْنَ : (جب ہم نے تم کو آل فرعون سے نجات دی) آل کا اصل اہل ہے اس لیے کہ تصغیر اھیل آتی ہے ھَا کو الف سے بدل دیا۔ اس کا استعمال بڑے لوگوں کے لیے آتا ہے مثلًا بادشاہ اور ان کے ہم مثل۔ او اور آل حجام نہیں کہتے۔ فرعون۔ عمالقہ کے ہر بادشاہ کا لقب تھا۔ جیساقیصر، رومی بادشاہوں کا۔ کسریٰ ، فارس کے بادشاہوں کا۔ سوم کا مفہوم : یَسُوْمُوْنَکُمْ : (وہ تمہیں تکالیف دیتے) یسومونکم یہ آل سے حال ہے۔ تمہیں تکالیف دیتے یہ سامہ خسفا سے ہے جبکہ ظلم سے اس کا والی بنے۔ اور اس کا اصل سام السلعۃ سے ہے۔ جب اس کو طلب کرے۔ گویا یہ یبغونکم کے معنی ہیں یعنی تمہارے لیے طلب کرتے۔ سوء…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

49۔ (آیت)” واذنجیناکم “ یعنی تمہارے بڑے بزرگوں اور آباء و اجداد کو اللہ تعالیٰ نے موجود زماں بنو اسرائیل کے آباء و اجداد کو نجات دیتا موجودہ بنواسرائیل پر بطور احسان کے جتلایا کیونکہ موجودہ بنو اسرائیل کا وجود ان کے اسلام کے نجات کا مرہون منت ہے (آیت)” من آل فرعون “ فرعون کے پیروکار اور اس کے دین پر چلنے والے اور فرعون وہ ولید بن مصعب بن ریان ہے جو قوم عمالقہ کے خاندان قبط سے تھا اور چار سو (400) سال سے زیادہ عمر پائی ۔ ” یسومونکم “ تمہیں تکلیف دیتے اور تمہیں چکھاتے تھے (آیت)” سوء العذاب “ سخت ترین عذاب اور بدترین عذاب اور کہا گیا ہے تمہیں عذاب میں کبھی پھیرتے تھے جیسے اونٹ جو چرنے والے ہوں…

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

Explained with ayahs 49–50

یہ پورا قصہ تو سورة طہ سورة شعرا اور قصص میں آوے گا۔ ان آیتوں کا مطلب سمجھنے کے قابل اس قصہ کا حاصل یہ ہے کہ فرعون نے ایک خواب دیکھا تھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس سے سوا بنی اسرائیل کے محل کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ہیں۔ اس نے نجومیوں سے اپنے اس خواب کی تعبیر پوچھی انہوں نے یہ تعبیر بتلائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے والا ہے اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا۔ فرعون نے اس تعبیر سے بچنے کے لئے یہ تدبیر کی کہ اس تاریخ سے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کو چھوڑ دینے کا حکم دیا مگر تقدیر الٰہی کے آگے آدمی کی کیا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 49–57

یہاں سے بنی اسرائیل پر اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا تفصیلاً شمار شروع ہوتا ہے، چناچہ فرمایا : آیت 49-57 (آیت) وَاِذْ نَجَّيْنٰكُمْ مِّنْ اٰلِ فِرْعَوْنَ یعنی فرعون، اس کے سرداروں اور اس کی فوجوں سے نجات دی جو انہیں اس سے قبل ذلت آمیز عذاب میں مبتلا رکھتے تھے (آیت) يَسُوْمُوْنَكُمْ سُوْۗءَ الْعَذَابِ ” وہ دیتے تھے تمہیں سخت عذاب۔ “ یعنی تمہیں ایذاء پہنچاتے اور تم سے کام لیتے تھے (آیت) يُذَبِّحُوْنَ اَبْنَاۗءَكُمْ ۔ اور وہ یہ کہ تمہارے بیٹوں کو اس خوف سے ذبح کرتے تھے کہ کہیں تمہاری تعداد بڑھ نہ جائے (آیت) وَيَسْتَحْيُوْنَ نِسَاۗءَكُمْ ” اور تمہاری عورتوں کو زندہ رکھتے تھے “ یعنی وہ تمہاری عورتوں کو…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 48–49

141 قیامت کے یوم عظیم کی ہولناکی کا ایک اہم پہلو : مصیبت میں کسی دوسرے کے کام آنے کی بالعموم یہی چار صورتیں ہوسکتی ہیں کہ یا تو کوئی اس کی جگہ اپنی جان پیش کر دے، یا سفارش کرکے اسے چھڑا دے، یا پھر فدیہ اور مال پیش کرکے اس کو رہا کراوے، یا یہ کہ اپنی قوت بازو کی مدد سے اس کی جان بخشی کرا دے۔ پس یہاں پر ان چاروں صورتوں کی نفی فرما دی گئی ہے کہ نفسی نفسی کے اس عالم میں کوئی شخص ان میں سے کسی بھی طریق سے کسی دوسرے کے کچھ کام نہ آسکے گا۔ واضح رہے کہ یہاں جس شفاعت و سفارش کی نفی کی گئی ہے، وہ اس مشرکا نہ شفاعت و سفارش کی نفی ہے، جس کا عقیدہ اہلِِ شرک رکھتے تھے، کہ ہم کچھ بھی کریں فلاں فلاں ہستیاں…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

بنی اسرائیل پر مصائب تشریح : اس آیت کی تشریح ” درس قرآن “ سے ماخوذ ہے، مفسر لکھتے ہیں : ” فرعون مصر کے بادشاہوں کا لقب تھا حضرت یوسف (علیہ السلام) نے بنی اسرائیل کو مصر میں لاکر آباد کیا تھا انہیں یہاں رہتے صدیاں گزر گئیں اور ان کی تعداد لاکھوں تک پہنچ گئی۔ مصر کے بادشاہوں نے انہیں غلام بنا لیا اور ان سے نہایت ذلیل اور ناروا سلوک روا رکھا۔ ایک دفعہ مصر کے بادشاہ نے خواب دیکھا۔ صبح کو تمام کاہنوں کو جمع کرکے ان سے اس کی تعبیر پوچھی کہ میں نے بیت المقدس کی طرف سے ایک آگ آتے دیکھی ہے جس نے تمام مصر کو گھیر لیا ہے اور چن چن کر ایک ایک قبطی کو جلا دیا ہے یہ سن کر کاہنوں نے کہا کہ بنی اسرائیل میں…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 47–59

آیات 47- 59 تفسیر : اسرارو معارف گزشتہ رکوع میں بنی اسرائیل کے عہد کا ذکر فرمایا گیا تھا اور اس کی ذیل میں اطاعت شریعت اسلامی کا حکم ہوا تھا کہ بالکل یہی تقاضا ان کی اپنی کتاب کا بھی تھا یہاں پھر سے انہیں براہ راست خطاب فرما کر اپنے انعامات گنوائے جا رہے ہیں کہ اس قدر عظیم انعامات پر تمہیں نافرمانی زیب نہیں دیتی اور پھر وہ منعم ایسا ہے کہ اطاعت پر مزید انعامات سے نوازنے والا ہے۔ زیادہ زور کلام بنی اسرائیل کے ساتھ اس لئے ہے کہ ایک تو یہ انبیاء کی اولاد تھے دوسرے ان ہی میں علماء کا وجود تھا اور اکثر مشرک بھی یہود ونصاریٰ کے علماء سے رجوع کرتے اور حضور اکرم ﷺ کی ذات گرامی اور دعوت کے بارے رائے…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

ف 2 ۔ فرعون اس زمانہ میں مصر کے بادشاہ کا لقب ہوتا تھا موسیٰ علی السلام کے زمانے میں جو فرعون مصر تھا اس کے نام میں اختلاف ہے تفا سیر میں عموم ولید مصعب مذکور ہے اور آل فر عون سے اس کے اتباع اور ہم مذہب لوگ مراد ہیں حضرت موسیٰ (علیہ السلام) کی پیدا ئش سے قبل فرعون نے ایک خواب دیکھا کہ بیت المقدس سے ایک آگ نکلی ہے جس نے مصر کا احاطہ کرلیا ہے اور تمام قبطی اس لئے لپیٹ میں آگئے ہیں صرف بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہوگا جو تیری سلطنت اور تیرے دین کو تباہ کر دے گا اس پر فرعون نے حکم دیا کہ بنی اسرائیل کے ہاں جو لڑکا پیدا ہو اسے مار ڈالا جائے اور جو لڑکی پیدا ہو اسے زندہ رہنے دیا جائے چناچہ منصوبے…

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:49) واذا۔ واؤعاطفہ ہے۔ اذ بمعنی جب۔ جبکہ جس وقت، چونکہ، اسم ظرف ہے (اذ کبھی مفاجات یعنی کسی بات کے اچانک واقع ہونے کے لئے بھی آتا ہے) اس سے قبل عبارت مقدر ہے تقدیر یوں ہے۔ واذکر اذ۔۔ اور یاد ر کیجئے (یا ان سے ذکر کیجئے جب ۔۔ قرآن مجید میں جہاں بھی واذ آیا ہے وہاں لفظ اذکر محذوف ہے۔ یہاں یہ جملہ اذکروا نعمتی (2:47) کا معطوف ہے اور اسی طرح واذفرقنا (2:50) واذوعدنا (2:51) واذ اتینا موسیٰ (2:53) واذ قال موسیٰ (2:54) واذ قلتم (3:55) وغیرہ کا عطف اذکروا نعمتی پر ہے۔ نجینکم ۔ نجینا ماضی جمع متکلم ۔ تنجیۃ (تفعیل) مصدر کم ضمیر مفعول جمع مذکر حاضر۔ ہم نے تم کو بچایا۔ ہم نے تم کو نجات دی۔ یسومونکم،…

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 47–50

تشریح : آیت نمبر 47 تا 50 ان آیات میں ایک مرتبہ پھر بنی اسرائیل کو بتایا جا رہا ہے کہ دنیا کی جس فضیلت و برتری پر تمہیں فخر وناز ہے وہ عظمتیں اللہ ہی نے تو عطا کی تھیں۔ اگر تم پھر وہی عظمتیں حاصل کرنا چاہتے ہو تو اللہ کے دین سے پوری طرح وابستگی اختیار کرلو۔ اللہ سے اور اس دن سے ڈرتے رہو جس دن تمہارے یہ جھوٹے فخر و غرور کام نہ آسکیں گے نہ کوئی کسی کی سفارش کرسکے گا، نہ کچھ دے دلا کر چھوٹ سکے گا اور نہ کسی کی طرف سے مدد کی جائے گی وہاں محض انبیاء کی نسبت پر نازل کرنا اور جھوٹے معبودوں کے وہ سہارے جنہوں نے تمہیں گناہوں کی دلدل میں پھنسا دیا ہے کسی کام نہ آسکیں گے وہاں صرف اللہ سے کیا ہوا عہدو…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 47–51

فرعون کا خواب اور عاشورہ کے روزہ کا ذکر : ان آیتوں کا مطلب یہ ہے کہ اسرائیل کے محلہ کے اور مصر کے سب گھر جل گئے ۔ اس نے نجومیوں سے تعبیر پوچھی ۔ انہوں نے یہ تعبیر بتائی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا پیدا ہونے وال ہے ۔ اس کے سبب سے فرعون کی سلطنت کو زوال ہوجاوے گا ۔ فرعون نے اس کی تعبیر سے بچنے کے لئے بنی اسرائیل میں جس قدر لڑکے پیدا ہوں ، ان کے مار ڈالنے کا اور جس قدر لڑکیاں پیدا ہوں ان کے چھوڑنے کا حکم دیا ۔ مگر تقدیر الہی سے حضرت موسیٰ (علیہ السلام) پیدا ہوئے اور خود فرعون کے گھر میں پرورش پائی اور ان کو اللہ تعالیٰ نے نبی کیا ۔ اس کے بعد فرعونیوں کے ظلم ستم کو دیکھ کر حضرت موسیٰ (علیہ…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

(ف 2) یوسف (علیہ السلام) کے زمانہ سے بنی اسرائیل مصر میں آکر آباد ہوئے ، موسیٰ (علیہ السلام) تک ان کو تقریبا چار صدیاں ہوئی ہیں ، اس عرصے میں قبطیوں نے تمام مناصب پر قبضہ جما لیا اور سارے نظام حکومت پر چھا گئے ، بنی اسرائیل کے لئے سوائے محنت و مزدوری اور کوئی کام باقی نہ رہا ، ادھر فراعنہ نے جب یہ دیکھا کہ بنی اسرائیل زیادہ قوی اور ذہین ہیں تو انہیں خطرہ پیدا ہوا کہ کہیں ساری حکومت ہی ان کے ہاتھ میں نہ آجائے ، عموما حکومتیں زور آور توانا قوموں سے خائف رہتی ہیں ، اس لئے انہوں نے اور زیادہ مظالم توڑے تاکہ ان میں رہی سہی قوت بھی جاتی رہے ، بالاخر جب کاہنوں نے فرعون کو ڈرایا کہ بنی اسرائیل میں…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 49–50

ف 1۔ اور اے بنی اسرائیل اس زمانے کو یاد کرو جبکہ ہم نے تم کو فرعون کی قوم اور اس کے متبعین کے مظالم اور ان کی غلامی سے نجات دی جن کی حالت یہ تھی کہ وہ تم کو سخت اور بدترین سزا دینے کی تلاش اور فکر میں لگے رہتے تھے اور وہ تمہارے بیٹوں کو ذبح کردیا کرتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ چھوڑدیا کرتے تھے اور سا عذاب اور اس نجات میں تمہارے رب کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی اور تم وہ موقعہ بھی یاد کرو جب ہم نے تمہارے راستہ دینے کی خاطر سمندر کو پھاڑ دیا پھر ہم نے تم کو تو غرق ہونے سے بچا لیا اور فرعون کی قوم اور اس کے متعبین کو تمہاری آنکھوں دیکھتے اس سمندر میں غرق کردیا۔ (تیسیرا) فرعون عمالقہ کی قوم…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

ف 1۔ کسی نے فرعون سے پیش گوئی کردی تھی کہ بنی اسرائیل میں ایک لڑکا ایسا پیدا ہوگا جس کے ہاتھوں تیرے سلطنت جاتی رہے گی اس نے اس لیے نوزائیدہ لڑکوں کو قتل کرنا شروع کردیا۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

انعامات الٰہی کا تذکرہ بنی اسرائیل کے لئے ایک نصیحت : 104: فرعون نام نہیں بلکہ لقب ہے جس طرح ایران کے بادشاہ کو کسریٰ اور روما کے بادشاہ کو قصیر کہا جاتا تھا ، اس طرح مصر کے حکمران کا لقب فرعون ہوتا تھا۔ آل فرعون سے مراد فرعون کے لوگ یعنی فرعون کی پارٹی۔ آل کے معنی وہی ہیں جو اہل کے ہیں فرق یہ ہے کہ آل کا لفظ ہمیشہ عظیم الشان انسانوں کی طرف مضاف کیا جاتا ہے جیسے عظیم الشان انبیائے کرام اور عظیم الشان بادشاہوں کی طرف اور اس کی وسعت میں سارے کے سارے متبعین داخل ہوجاتے ہیں۔ ہمارے رسول اللہ ﷺ کا ارشاد ہے کہ ہر ایک متقی و پرہیز گار برائیوں سے بچنے والا اور میری سنت کے مطابق عمل کرنے والامیری آل…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Verse 47 had spoken of the special favours shown to the Israelites by Allah. Now, with Verse 49 begins the account of these favours. Someone had made a prediction to the Pharaoh (فرعون) that a child was going to be born among the Israelites who would destroy his kingship. So, he began slaughtering all the male infants as soon as they were born. But he would spare the females, as there was nothing to fear from them, and, moreover, they could, on growing up, serve as maid-servants. So, even this leniency was motivated by self-interest. What the verse refers to as "a great trial" is either the…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

Explained with ayahs 49–50

64. From here on, through the several sections that follow, reference is made to the best 65. We have rendered 'Al Fir'awn' as 'Pharaoh's people'. This includes the members of the Pharaonic family as well as the aristocracy of Egypt. 66. The test was whether they would emerge from the crucible of persecution as pure gold, or as mere dross. The test also lay, in whether or not, after their miraculous deliverance from so great a calamity, they would become grateful servants of God.

Read the full tafseer →