Al-Baqara 2:46

Al-Baqara · from ayah 46

2:46

الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّهُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ وَاَنَّهُمْ اِلَیْهِ رٰجِعُوْنَ ۟۠الَّذِيۡنَ يَظُنُّوۡنَ اَنَّهُمۡ مُّلٰقُوۡا رَبِّهِمۡ وَاَنَّهُمۡ اِلَيۡهِ رٰجِعُوۡنَ

اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— Fateh Muhammad Jalandhari

Who are certain that they will meet their Lord and that they will return to Him.

— Saheeh International

Juz 1 · Ruku 5 of surah · Ruku 5 of juzع

Read the whole surah · Surah Al-Baqara

All translations of 2:46

مگر ان فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

— مولانا سید ابوالاعلی مودودی · تفہیم القرآن

اور جو یقین کئے ہوئے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور اس کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا فتح محمد جالندہری

جو جانتے ہیں کہ بے شک وه اپنے رب سے ملاقات کرنے والے اور یقیناً وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں

— مولانا محمد جوناگڑہی

جو اس بات کا خیال رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں اور ان کو اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— مفتی محمد تقی عثمانی · آسان ترجمۂ قرآن

جنہیں یقین ہے کہ انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پھرنا-

— امام احمد رضا خان · کنز الایمان

(یہ وہ لوگ ہیں) جو یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں،

— علامہ طاہر القادری · عرفان القرآن

وہ جو یقین رکھتے ہیں کہ بیشک وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور یہ کہ بیشک وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔

— مولانا عبد السلام بھٹوی

جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے (عنقریب) ملنے والے ہیں اور اسی کی طرف واپس جانے والے ہیں

— مولانا عبد الرحمٰن کیلانی · تیسیر القرآن

جو گمان رکھتے ہیں کہ انہیں اپنے رب ملنا ہے اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں

— مولانا امین احسن اصلاحی · تدبر قرآن

جو یہ یقین رکھتے ہیں کہ انہیں ملنا ہے بہرحال اپنے رب سے (اور اس کے حضور پیش ہونا ہے) اور انہیں (ہر صورت میں) آخرکار اسی کے حضور لوٹ کر جانا ہے،

— مولانا اسحاق مدنی

جنہیں اس کا خیال رہتا ہے کہ انہیں اپنے پروردگار سے ملنا (بھی) ہے اور اس کا کہ انہیں اس کی طرف واپس ہونا ہے۔۔

— مولانا عبد الماجد دریابادی · تفسیر ماجدی

جنہیں یہ یقین ہے کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنے والے ہیں اور (جنہیں یہ یقین ہے کہ) بالآخر انہیں اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے

— ڈاکٹر اسرار احمد · بیان القرآن

جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے

— محترمہ رفعت اعجاز

who realize that ultimately they shall meet their Lord and shall return to Him.

— Syed Abul Ala Maududi · The Meaning of the Quran

who bear in mind that they are to meet their Lord, and that to Him they are to return.

— Muhammad Taqi Usmani

who bear in mind that they are to meet their Lord, and that to Him they are to return.

— Muhammad Taqi Usmani (variant)

(They are those) who are certain that they are going to meet their Lord, and that unto Him they are going to return.

— Safi-ur-Rahman al-Mubarakpuri

Who know that they will have to meet their Lord, and that unto Him they are returning.

— Muhammed William Pickthall · The Meaning of the Glorious Koran

Who are certain that they will meet their Lord and that they will return to Him.

— Saheeh International

who are certain of their meeting with their Lord and their return to Him.

— Muhammad Sarwar

Who know that they shall meet their Lord and that they shall return to Him.

— Muhammad Habib Shakir

Who know that verily they are going to meet their Lord, and that verily unto Him they are going to return,

— Abdul Majid Daryabadi

Who bear in mind the certainty that they are to meet their Lord, and that they are to return to Him.

— Abdullah Yusuf Ali · The Holy Quran: Text, Translation and Commentary

Tafseer of 2:46

Tafseer Ibn-e-Kaseerتفسیر ابنِ کثیر

Explained with ayahs 45–46

صبر کا مفہوم اس آیت میں حکم فرمایا جاتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو، فرائض بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے اور اسی لئے رمضان کا صبر کا مہینہ کہا گیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں روزہ آدھا صبر ہے صبر سے مراد گناہوں سے رک جانا بھی ہے۔ اس آیت میں اگر صبر سے یہ مراد لی جائے تو برائیوں سے رکنا اور نیکیاں کرنا دونوں کا بیان ہوگیا، نیکیوں میں سب سے اعلیٰ چیز نماز ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں مصیبت کے وقت صبر اور گناہوں کے ارتکاب سے صبر اور یہ صبر پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں انسان کا ہر…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quranتفہیم القرآن

سورة الْبَقَرَة 61 یعنی جو شخص خدا کا فرماں بردار نہ ہو اور آخرت کا عقیدہ نہ رکھتا ہو، اس کے لیے تو نماز کی پابندی ایک ایسی مصیبت ہے، جسے وہ کبھی گوارا ہی نہیں کرسکتا۔ مگر جو برضا ورغبت خدا کے آگے سر اطاعت خم کرچکا ہو اور جسے یہ خیال ہو کہ کبھی مر کر اپنے خدا کے سامنے جانا بھی ہے، اس کے لیے نماز ادا کرنا نہیں، بلکہ نماز کا چھوڑنا مشکل ہے۔

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

Explained with ayahs 45–46

خشوع کی حقیقت اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں۔ بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے ، حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد…

Read the full tafseer →

Tadabbur-e-Quranتدبرِ قرآن

آدمی کسی چیز کے متعلق اس کے دیکھے بغیر جو رائے قائم کرتا ہے اس کو ظن کہتے ہیں۔ اس طرح کی رائے پر بالعموم چونکہ یقین نہیں ہوا کرتا اس وجہ سے ظن کا لفظ کچھ شک کے ہم معنی سا بن گیا ہے۔ چنانچہ عربی زبان اور قرآن مجید میں یہ لفظ اس معنی میں بہت استعمال ہوا ہے۔ طرفہ کا مشہور شعر ہے۔ واعلم علمًا لیس بالظن انہ اذا ذل مولَی المرء فھو ذلیل میں ایک بات جانتا ہوں جو محض گمان نہیں ہے کہ جب آدمی کا چچا زاد بھائی ذلیل ہوجائے تو وہ خود بھی ذلیل ہو کر رہ جاتا ہے۔ اسی طرح قرآن مجید میں ہے۔ اِنْ نَّظُنُّ اِلَّا ظَنًّا وَمَا نَحْنُ بِمُسْتَیْْقِنِیْنَ (جاثیہ : ۳۲) ہم محض ایک گمان کر رہے ہیں اور ہم یقین کرنے والے…

Read the full tafseer →

Ahsan-ul-Bayanاحسن البیان

Explained with ayahs 45–46

45۔ 1 صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ وتعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا آپ فورا نماز کا اہتمام فرماتے (فتح القدیر)۔ 45۔ 2 نماز کی پابندی عام لوگوں کے لئے گراں ہے، لیکن خشوع و خضوع کرنے والوں کے لئے یہ آسان بلکہ اطمینان اور راحت کا باعث ہے۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ جو قیامت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ گویا قیامت پر یقین اعمال خیر کو کردیتا اور آخرت سے بےفکری انسان کو بےعمل…

Read the full tafseer →

Aasan Quranآسان قرآن

Explained with ayahs 43–48

39: رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا تھا۔

Read the full tafseer →

Fi-Zilal-al-Quranفی ظلال القرآن

Explained with ayahs 45–46

وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “ میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Usmaniتفسیرِ عثمانی

3 یعنی صبر اور نماز حضور دل سے بہت بھاری ہے مگر ان پر آسان ہے جو عاجزی کرتے ہیں اور ڈرتے ہیں جن کا خیال اور دھیان یہ ہے کہ ہم کو خدا کے روبرو ہونا اور اس کی طرف پھرجانا ہے (یعنی نماز میں خدا کا قرب اور گویا اس سے ملاقات ہے) یا قیامت میں حساب و کتاب کے لئے روبرو جانا ہے۔

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranتفسیر بیان القرآن

آیت 46 الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّہُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ میں نے شروع میں وَبِالْاٰخِرَۃِ ھُمْ یُوْقِنُوْنَ کے ذیل میں توجہّ دلائی تھی کہ یہ ایمان بالآخرت ہی ہے جو انسان کو عمل کے میدان میں سیدھا رکھتا ہے۔ وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ انہیں اس کے روبروحاضر ہونا ہے۔

Read the full tafseer →

Taiseer-ul-Quranتیسیر القرآن

65 یعنی جو لوگ مرنے کے بعد اپنے پروردگار سے ملنے اور اس کے حضور جواب دہی کا یقین رکھتے ہیں۔ ان کے لیے نماز کی ادائیگی کبھی مشکل نہیں ہوا کرتی بلکہ اگر کوئی نماز چھوٹ جائے یا نماز میں تاخیر ہوجائے تو ان کی طبیعت گراں بار ہوجاتی ہے اور جب تک وہ نماز ادا نہ کرلیں انہیں چین نہیں آتا اور جو لوگ روز آخرت پر پورا یقین نہیں رکھتے، ان کے لیے نماز ایک مصیبت اور مفت کی بیگار ہوتی ہے۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Majidiتفسیرِ ماجدی

160 ۔ (آیت) ” انھا “ ضمیر نماز کی طرف ہے۔ نماز کا حکم ابھی ابھی ملا ہے۔ اب بیان ان طریقوں کا ہورہا ہے، جن سے نماز آسان ہوجائے اور نماز کی پابندی میں سہولتیں پیدا ہوجائیں۔ خاشعین، خشوع کا ذکر پہلے بھی آچکا ہے۔ اب یہاں آیت میں خشوع قلب کے دو خاص اثرات کا بیان ہورہا ہے۔ پہلا اثر یہ ہے کہ خاشعین کو اس کا دھیان لگا رہتا ہے کہ یہ عبادتیں رائگاں جانے والی نہیں۔ اپنے شفیق وکریم پروردگار کے حضور میں بہرحال حاضر ہونا ہے۔ اس وقت یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی، اور استحقاق سے کہیں بڑھ کر اجر ملے گا، شوق نماز اس مراقبہ سے پیدا ہوجانا یقینی ہے۔ دوسرا اثر خشوع قلب کا یہ ہے کہ خاشعین کے دل میں یہ بات جم جاتی ہے…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Jalalainتفسیرِ جلالین

Explained with ayahs 43–46

آیت نمبر 43 تا 46 وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰةَ وَاتُوا الزَّکوٰةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ .... الیٰ .... وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ ترجمہ : اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، نماز پڑھنے والوں (یعنی) محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھو، اور (آئندہ) آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے کہا کرتے تھے، کہ دین محمد پر قائم رہو اس لئے کہ وہ حق ہے، کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی) محمد ﷺ پر ایمان کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، کہ خود کو ایمان کا حکم نہیں کرتے باوجود یکہ تم کتاب تورات پڑھتے ہو اور اس میں قول و فعل کی…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Mazhariتفسیرِ مظہری

اَلَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ ( جنہیں خیال ہے) یعنی وہ لوگ جو اللہ کے ملنے کی امید یا یقین رکھتے ہیں۔ علامہ بغوی فرماتے ہیں کہ لفظ ظن اضداد سے ہے کبھی تو اس کے معنی شک کے ہوتے ہیں اور کبھی یقین کے۔ مراد یہ کہ لفظ ظن مشترک ہے۔ بعض نے کہا ہے کہ یہ لفظ مشترک تو نہیں اس کے معنی فقط گمان غالب کے ہیں لیکن مجازاً کبھی کبھی یقین کو ظن اس لئے بول دیتے ہیں کہ اس میں بھی ایک طرف غالب ہوتی ہے۔ میں کہتا ہوں کہ حق تعالیٰ نے جو لفظ ظن ارشاد فرمایا اور علم و یقین کا لفظ نہ فرمایا تو اس کی وجہ یہ ہے کہ یہ بات معلوم ہوجائے کہ جسے اس امر کا گمان غالب بھی ہوگا کہ میں اللہ سے ملنے والا ہوں اور اللہ تعالیٰ نیکی بدی کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-Ibne-Abbasتفسیر ابن عباس

Explained with ayahs 46–47

(46۔ 47) اے یعقوب ؑ کی اولاد ! میرے ان انعامات کو یاد رکھو جو میں نے تم پر کیے ہیں اور میں نے تمہیں کتاب، رسول اور اسلام کے ذریعے تمہارے زمانے کے جہان پر تمہیں فضیلت دی ہے۔

Read the full tafseer →

Al-Quran-al-Kareemتفسیر القرآن الکریم

نماز کی پابندی ویسے تو ایک نہایت مشکل ذمہ داری ہے، مگر جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کا یقین ہے ان پر یہ بھاری نہیں ہے۔ یہاں ظن سے مراد یقین ہے، جیسا کہ فرمایا : (وَبِالْاٰخِرَةِ ھُمْ يُوْقِنُوْنَ) [ البقرۃ : 4 ] ”اور آخرت پر وہی یقین رکھتے ہیں۔“ [ أضواء البیان ]

Read the full tafseer →

Al-Qurtubiتفسیر القرطبی

آیت نمبر 46 اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : الذین یظنون، الذین محل جر میں ہے کیونکہ یہ خاشعین کی صفت ہے اور قطع کے اعتبار سے اس کو محل رفع میں کرنا بھی جائز ہے۔ جمہور علماء کے نزدیک یہاں ظن بمعنی یقین ہے، اسی سے اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : انی ظننت انی ملقٍ حسابیہ۔ (الحاقہ) (مجھے یقین تھا کہ میں اپنے حساب کو پہنچوں گا) اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : النار فظنوا انھم مواقعوھا (الکہف :53) (وہ خیال کریں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں ) ۔ درید بن الصمہ نے کہا : فقلت لھم ظنوا بالفی مدجج سراتھم فی الفارسی المسرد (1) شاعر نے یہاں ظن بمعنی یقین استعمال کیا ہے۔ ابو داؤد نے کہا : رب ھم فرجتہ بغریم وغیوب کشف تھا…

Read the full tafseer →

Dure-Mansoorتفسیر درِ منثور

(1) امام ابن جریر، ابن المنذر اور ابن ابی حاتم نے مجاہد (رح) سے روایت کیا کہ ہر (لفظ) ظن قرآن میں یقین کے معنی میں ہے (2) امام ابن جریر نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ جو آخرت کے ظن میں سے ہے سو وہ علم کے معنی میں ہے۔ (3) امام ابن جریر نے ابو العالیہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” وانھم الیہ رجعون “ سے مراد ہے کہ وہ اس بات کا یقین رکھتے ہیں کہ وہ قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔

Read the full tafseer →

Mutaliya-e-Quranتفسیر مطالعہ قرآن

[ الَّذِيْنَ : وہ لوگ جو ] [ يَظُنُّوْنَ : خیال کرتے ہیں ] [ اَنَّھُمْ : کہ وہ لوگ ] [ مُّلٰقُوْا رَبِّهِمْ : اپنے رب کی ملاقات کرنے والے ہیں ] [ وَاَنَّھُمْ : اور یہ کہ وہ لوگ ] [ اِلَيْهِ : اس کی طرف ہی ] [ رٰجِعُوْنَ : لوٹنے والے ہیں ]

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanتفسیر انوار البیان

Explained with ayahs 45–47

صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرو اس آیت شریفہ میں صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا طریقہ بتایا ہے، لفظ صبر تین معنی میں آتا ہے۔ (اوّل) طاعات پر جما رہنا، خاص کر فرائض اور واجبات کو پابندی سے ادا کرنا۔ (دوم) گناہوں سے پوری طرح اہتمام کے ساتھ بچنا۔ (سوم) جو مصائب اور مشکلات در پیش ہوں ان پر صبر کرنا۔ عام طور سے لوگوں میں یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔ تینوں قسم کا صبر اللہ تعالیٰ کی مدد کو لانے والا ہے۔ زندگی میں عموماً صبر کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔ عبادات بھی صبر ہی سے ادا ہوتی ہیں۔ نفس عبادت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو صحیح طریقہ سے ادا کرنے سے بچتا ہے۔…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quranمعارف القرآن

الذین یظنون انھم ملقوا ربھم وانھم الیہ راجعون۔ جن کو خیال ہے کہ ہم یقینا خدا سے ملنے والے ہیں اور بلاشبہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں۔ یعنی صبر اور نماز حقیقت میں دشوار نہیں کہ جس کا بجا لانا ناممکن ہو۔ ہاں ان لوگوں پر جو خدا سے ملنے کی امید نہیں رکھتے نماز ان پر بہت شاق اور گراں ہے وہ اس کو محض مشقت اور محنت خیال کرتے ہیں مگر ان خاشعین پر جو عذاب الیم سے ڈرتے ہیں اور ثواب عظیم اور نعیم مقیم کی امید رکھتے ہیں ان پر نماز شاق اور گراں تو کیا ہوتی ان کے لیے تو آنکھوں کی ٹھنڈک اور دلوں کی فرت اور مسرت ہے۔ : جو علم اور ادراک ان علامات سے حاصل ہو جو نہ حسی ہوں اور نہ بدیہی لغت میں اس کو ظن کہتے ہیں…

Read the full tafseer →

Jawahir-ul-Quranجواھر القرآن

ف 104 ۔ لفظِ ظن عربی زبان میں شک اور یقین دونوں معنوں میں استعمال ہوتا ہے۔ الظن من الاضداد یکون شکا ویقیناً (معالم ص 47 ج 1) العرب قد تسمی الیقین ظنا والشک ظنا (ابن جریر ص 200 ج 1) یہاں یقین کے معنوں میں استعمال ہوا ہے۔ یظنون یستیقنون (ابن جریر ص 271 ج 1) والظن ھنا فی قول الجمہور بمعنی الیقین (قرطبی ص 375 ج 1) یعنی وہ یقین رکھتے ہیں کہ وہ اپنے پروردگار سے ملنے والے ہیں کسی کام پر آمادہ کرنے کے لیے دو ہی چیزیں محرک ہوسکتی ہیں۔ یعنی " امید " اور خوف۔ مُلٰقُوا رَبِّھِمْ میں صفت ربوبیت کی صراحت سے اشارہ فرمایا ہے کہ وہ اپنے مہربان رب کے پاس جائیں گے جس سے ان کی تمام امیدیں وابستہ ہیں۔ وَاَنَّھُمْ…

Read the full tafseer →

Mualim-ul-Irfanمعالم العرفان

Explained with ayahs 43–46

گزشتہ سے پیوستہ : اس رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرمایا ۔ پھر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ اور ہدایت و راہنمائی کا وہ اصول ہی بتلا دیا۔ جس پر جنت میں دوبارہ داخلے کا دار و مدار ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خطاب ہوا۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو مدت دراز تک فضیلت حاصل رہی۔ نبوت اور حکومت ان میں رہی۔ ان میں بڑے بڑے عابد و زاہد لوگ پیدا ہوئے۔ مگر ایک طویل عرصہ کے بعد اس قوم میں خرابیاں پیدا ہوگئیں ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل کردی۔ گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان پر کیے گئے انعامات…

Read the full tafseer →

Mufradat-ul-Quranمفردات القرآن

الَّذِيْنَ يَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّہِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَيْہِ رٰجِعُوْنَ۝ 46 ۧ ظن والظَّنُّ في كثير من الأمور مذموم، ولذلک قال تعالی: وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] ، وَإِنَّ الظَّنَ [ النجم/ 28] ، وَأَنَّهُمْ ظَنُّوا كَما ظَنَنْتُمْ [ الجن/ 7] ، ( ظ ن ن ) الظن اور ظن چونکہ عام طور پر برا ہوتا ہے اس لئے اس کی مذمت کرتے ہوئے فرمایا : وَما يَتَّبِعُ أَكْثَرُهُمْ إِلَّا ظَنًّا[يونس/ 36] اور ان میں کے اکثر صرف ظن کی پیروی کرتے ہیں ۔

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Haqqaniتفسیرِ حقانی

Explained with ayahs 44–46

ترکیب : اَ استفہامیہ داخل ہے جملہ تامرون الناس الخ پر اور یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہ کرو تامرون الناس الخ جملہ معطوف علیہ وتنسون الخ دوسرا جملہ اس پر معطوف وانتم تتلون الکتاب جملہ اسمیہ حال ہے ضمیر فاعل تنسون سے افلاتعقلون جملہ استفہامیہ بمعنی توبیخ یہاں تک یہ جملہ معترضہ سا تھا اس کا شان نزول ابن 1 ؎ عباس ؓ سے یوں منقول ہے کہ علمائِ یہود اپنے ان اقارب سے جو مسلمان ہوگئے تھے یہ کہتے تھے کہ اسی دین پر قائم رہو کیونکہ یہ حق ہے اور از خود اسلام میں داخل نہ ہوتے تھے (جلالین) بعض کہتے ہیں کہ اوروں کو صدقہ اور خیرات کا حکم دیتے تھے اور خود نہ کرتے تھے (بیضاوی) واستعینوا الخ معطوف ہے اذکروا…

Read the full tafseer →

Ruh-ul-Quranروح القرآن

Explained with ayahs 45–46

وَاسْتَعِیْنُوْابِاالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔ ( اور مدد چاہوصبر اور نماز سے، اور بیشک یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں۔ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں ) (البقرۃ : 645 تا 46) عہد الٰہی کی پابندی کے لیے صبر اور نماز سے استعانت بنی اسرائیل سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم عہد الٰہی کو ازسر نو استوار کرنا چاہتے ہو اور تمہارے لیے اس عہد الہٰی کی پابندی دشوار ہورہی ہے اور تمہارے سرکش قلوب احکام…

Read the full tafseer →

Fahm-ul-Quranفہم القرآن

Explained with ayahs 45–46

فہم القرآن ربط کلام : دوغلا پن اختیار کرنے کی بجائے، عُسرویُسر میں دین پر قائم رہو اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب بنو۔ اے بنی اسرائیل ! تمہیں اپنے آپ کو شریعت کا پابند صبر و شکر کا خوگر اور نماز قائم کرنے والا بننا چاہیے لیکن یاد رکھو یہ کام نسبتاً مشکل ہیں۔ اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صبر و شکر اور نماز کی ادائیگی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جن کے دل ” اللہ “ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ آخر کار ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور فکر آخرت کے نتیجہ میں آدمی سے…

Read the full tafseer →

Madarik-ut-Tanzilمدارک التنزیل

Explained with ayahs 44–46

وَاَنْتُمْ تَعْ ( علیہ السلام) لَمُوْنَ : (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ جاننے کی حالت میں کہ تم التباس کرنے والے، چھپانے والے ہو اور یہ ان کے لیے قبیح ترین چیز تھی۔ کیونکہ قبیح سے ناواقفی بسا اوقات مرتکب قبیح کے لیے عذربن جاتی ہے۔ وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ : (اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو) یعنی مسلمانوں والی نماز و زکوٰۃ رکوع کی مراد : وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : (اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ) جو ان میں سے رکوع کرنے والے ہیں کیونکہ یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ (مگر اس کے لیے ثبوت درکار ہے جبکہ حضرت مریم کو فرمایا یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Baghwiتفسیرِ بغوی

46۔ (آیت)” الذین یظنون “ یقین رکھتے ہیں پس ظن اضداد میں سے ہے (یعنی ان لفظوں میں سے ہے جن کے متضاد معنی ہوتے ہیں) تو ظن کا معنی شک والا بھی ہوگا اور یقین والا بھی جیسے رجاء کا معنی امن بھی ہے اور خوف بھی ۔ ” انھم ملاقوا “ دیکھنے والے ہیں ” ربھم “ آخرت میں اور وہ ” ملاقات “ دیدار خداوندی ہے اور کہا گیا ہے کہ ملاقات سے مراد اللہ تعالیٰ کی طرف رجوع کرنا ہے (آیت)” وانھم الیہ راجعون “ پس ان کو ان کے اعمال کی جزا دے گا ۔

Read the full tafseer →

Ahsan-ut-Tafaseerاحسن التفاسیر

اوپر کی آیتوں میں اللہ تعالیٰ نے یہود کو ان کی چند بری خصلتوں سے روکا تھا۔ اب اس آیت میں عام طور پر ارشاد ہے کہ انسان کو اپنی بری خصلتوں سے باز رہنے کے لئے دو چیزوں سے مدد لینی چاہیے۔ اول تو صبر یعنی شریعت میں جو باتیں منع ہیں ان کے کرنے سے سے اپنے جی کو روکنا۔ دوسری چیز نماز ہے کہ آدمی کی بری خصلتیں چھڑا دیتی ہے۔ دل کی پریشانی دور کردیتی ہے۔ مسند امام احمد میں حضرت ابوہریرہ سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ ایک شخص کا ذکر آنحضرت ﷺ کے روبرو اس طرح پر آیا کہ وہ رات کو تو نماز پڑہتا ہے اور دن کو چوری کرتا ہے۔ آپ نے فرمایا کہ اس کی نماز اس کی چوری کی عادت چھوڑا دیوے گی 1۔ مسند امام احمد اور ابو…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Saadiتفسیرِ سعدی

Explained with ayahs 45–48

آیت 45-48 (آیت) 44؀ وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ” اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام امور میں صبر کی تمام اقسام سے مدد لیں۔ صبر کی اقسام یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنے نفس کو پابند کرنا۔ (2) اس کی نافرمانی سے اپنے آپ کو روکنا یہاں تک کہ اسے ترک کر دے۔ (3) اس کی تقدیر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ ہر معاملے میں صبر کے ذریعے سے بڑی مدد ملتی ہے۔ جو کوئی صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر کرن کی تفویق سے نواز دیتا ہے۔ اسی طرح نماز ہے جو کہ ایمان کی میزان ہے اور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ ہر…

Read the full tafseer →

Ahkam-ul-Quranاحکام القرآن

Explained with ayahs 46–59

اذکار کے توقیفی ہونے کی دلیل قول باری ہے : فبذل الذین ظلموا قولا غیر الذی قیل لھم (مگر جو بات کہی گئی تھی ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا) اس آیت میں اذکار و اقوال کے سلسلے میں جس توقیف، یعنی جوں کے توں رکھنے کا جو ذکر ہے اس سے یہ استدلال کیا جاتا ہے کہ اذکار و اقوال میں تغیر و تبدل جائز نہیں ہے۔ اس سے بعض دفعہ ہمارے مخالفین ہمارے اس قول کے خلاف استدلال کرتے ہیں کہ ہم تعظیم و تسبیح کے الفاظ سے تحریمہ صلوۃ جائز قرار دیتے ہیں۔ اسی طرح امام ابوحنیفہ کے نزدیک نماز کے اندر فارسی میں قرأت کا جواز ہے، نیز ہم تملیک کے لفظ سے بیع اور اسی طرح کے دوسرے عقود کے جواز کے قائل ہیں، لیکن ہمارے مخالفین کا…

Read the full tafseer →

Tafseer-e-Madaniتفسیرِ مدنی

Explained with ayahs 46–47

138 عقیدہ آخرت ایک انقلاب آفریں عقیدہ : سو ایمان بالآخرت یعنی اللہ تعالیٰ کے حضور حاضری کا ایمان و یقین ایک عظیم الشان اور انقلاب آفرین عقیدہ۔ پس ایسے لوگوں کیلئے نماز کوئی بھاری نہیں بلکہ ان کیلئے ایک عظیم الشان قوت وسعادت ہے جن کو یہ یقین ہے کہ ان کو بہرحال لوٹ کر اپنے رب کے یہاں جانا ہے، اور وہاں پہنچ کر اپنے کئے کرائے کا بدلہ پانا ہے۔ اور وہاں کی کامیابی اور رب کی رضا سب سے بڑا مقصد اور سب سے بڑی اور حقیقی غایت اور اصل کامیابی ہے، جس کے حصول کا سب سے بڑا ذریعہ یہی نماز ہے۔ پس اس یقین و ایمان کی بناء پر نماز ان کے لئے ایک نہایت ہی محبوب عبادت اور لذیذ عمل بن جاتی ہے۔ سبحان اللہ ! کیسی دولت…

Read the full tafseer →

Mafhoom-ul-Quranمفہوم القرآن

Explained with ayahs 45–46

صبر اور نماز سے مدد تشریح : اس آیت مبارکہ میں اگرچہ یہود کو ہی مخاطب کیا گیا ہے، لیکن دراصل یہ پوری نوع انسانی کو بتایا گیا ہے کہ نیکی اختیار کرنے، نیکی کی راہ دکھانے اور دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ صبر اور نماز سے اللہ کی مدد طلب کرو، کیونکہ صبر کی برکات بیشمار ہیں۔ تفہیم القرآن میں کیا خوب تعریف کی گئی ہے صبر کی ملاحظہ ہو۔ ” صبر کے لغوی معنی ہیں روکنا اور باندھنا اور اس سے مراد ارادہ کی وہ مضبوطی، عزم کی وہ پختگی اور خواہشات نفس کا وہ انضباط ہے جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلہ میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کئے ہوئے راستہ پر لگا تار…

Read the full tafseer →

Asrar-ut-Tanzilاسرار التنزیل

Explained with ayahs 40–46

آیات 40- 46 اسرارو معارف جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔ لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…

Read the full tafseer →

Ashraf-ul-Hawashiاشرف الحواشی

(فتح القدیر) نماز کی پابندی ویسے تو ایک نہایت مشکل ذمہ داری ہے مگر جن کے دو لوں میں اللہ تعالیٰ کا خوف اور آخرت کا یقین ہے ان پر یہ بھا ری نہیں ہے۔ (وحیدی )

Read the full tafseer →

Anwar-ul-Bayanانوار البیان

(2:46) الذین ۔۔ الیہ راجعون ۔ اپنی جملہ تراکیب نحوی کے ساتھ صفت ہے اپنے موصوف الخشعین کی۔ ملاقوا ربھم۔ ملاقوا اسم فاعل جمع مذکر مضاف، ربھم مضاف مضاف الیہ مل کر مضاف الیہ (اضافت کی وجہ سے ملاقون کا نون جمع گرگیا ہے) اپنے رب کو پہنچنے والے، اپنے رب کو پانے والے۔ راجعون اسم فاعل جمع مذکر رجوع مصدر راجع واحد، لوٹنے والے۔ پھر آنے والے۔

Read the full tafseer →

Baseerat-e-Quranبصیرتِ قرآن

Explained with ayahs 40–46

لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46 (بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…

Read the full tafseer →

Mazhar-ul-Quranمظہر القرآن

Explained with ayahs 43–46

سچی نماز کا ذکر فوائد القرآن : مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دل جب کسی بات سے پریشان ہوتا تو آپ نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی نماز جس سے بری خصلت چھوٹ جاوے اور دل کی پریشانی رفع ہوجاوے انہی لوگوں کی ہے جو نماز پڑھتے وقت خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔

Read the full tafseer →

Tafseer-al-Kitaabتفسیر الکتاب

Explained with ayahs 45–46

[38] '' لفظ صبر '' کے اصل معنی روکنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ، مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ اس کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ بندہ پوری طمانیّتِ قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد پر ڈٹا رہے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور راہ حق میں اس کو جن مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دے۔ صبر کے اصل معنی قرآن نے خود بھی واضح کردیئے ہیں، چناچہ سورة بقرہ میں فرمایا (وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ 177۔ ) 2 ۔ البقرة :177) (177) (اور ثابت قدمی دکھانے والے سختی میں تکلیف میں اور لڑائی کے وقت) یہاں صبر کے تین مواقع کا ذکر کیا…

Read the full tafseer →

Siraj-ul-Bayanسراج البیان

Explained with ayahs 46–48

(ف 1) ان آیات میں دوبارہ بنی اسرائیل کو مخاطب کیا ہے تاکہ ان پر وہ تمام انعام جو کئے گئے ہیں ، گنائے جائیں اور انہیں دین حنیف کی طرف مائل کیا جائے ، اولا یہ فرمایا کہ تمہیں ہم نے اپنے تمام معاصرین پر مادی وروحانی فضیلت دی ، ثانیا ان کو ان کے موجودہ مزعومات سے باز رہنے کی تلقین فرمائی کہ تم یہ نہ سمجھو کہ تمہارے احباء وعلماء تمہارے اولیاء وشہداء تمہیں مکافات عمل کے ہمہ گیر قانون کی گرفت سے بچا لیں گے ، اس قسم کی سفارش جو ذاتی عمل سے معرا ہو ۔ قطعا سود مند نہیں ہے ۔ قرآن حکیم نے عام طور پر شفاعت کی نفی کی ہے اور کہیں کہیں (آیت) ” الا من اذن لہ الرحمن “ کہہ کر ایک نوع کے لوگوں کو مستثنے قرار دیا…

Read the full tafseer →

Kashf-ur-Rahmanکشف الرحمٰن

Explained with ayahs 45–46

ف 2۔ اور تم لوگ محنت برداشت کرنے اور نماز پڑھنے سے قوت حاصل کرو اور مدد لو ۔ اس میں شک نہیں کہ نماز شاق اور دشوار ضرور ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جن کے قلوب خشوع و خضوع کے خوگر ہیں اور یہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو اس بات کو جانتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ( تیسیر) پڑھا کرو، پہلی آیت میں پیغمبر (علیہ السلام) اور قرآن پر ایمان لانے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اعمال کی پابندی کے لئے تاکید کی گئی تاکہ ایمان کامل ہوجائے اور یہ ظاہر ہے کہ اعتقاد اور اعمال کی جس قدر اصلاح ہوگی اسی قدر سیئات اور بد اعمالیوں سے نفرت بڑھے گی اور یہ…

Read the full tafseer →

Bayan-ul-Quranبیان القرآن

Explained with ayahs 44–47

ف 6۔ اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بےعمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بےعمل بننا جائز نہیں۔

Read the full tafseer →

Urwatul-Wusqaaعروۃ الوثقٰی

اللہ کی خشیت رکھنے والوں کی دو علامات : 100: آیت زیر نظر میں خشوع قلب کے دو خاص اثرات کا بیان ہورہا ہے پہلا اثر یہ ہے کہ خاشعین کو اس کا دھیان لگا رہتا ہے کہ یہ عبادتیں رائیگاں جانے والی نہیں یقیناً ہم کو ان عبادات کا اجر مل کر رہے گا کیونکہ ہم اپنے شفیق و کریم رب کے ہاں ضرور حاضر ہوں گے اور اس وقت یہ ساری محنت وصول ہوجائے گی اور حق سے کہیں بڑھ کر اجر ملے گا۔ یہ دھیان یقیناً ایسا ہے جس سے نماز کا شوق و ذوق بڑھتا ہے۔ دوسرا اثر خشوع قلب کا یہ ہے کہ خاشعین کے دل میں یہ بات اچھی طرح جم جاتی ہے کہ آخر کو واپسی مالک حقیقی کے روبرو ہوگی ، حساب ہر ہر عمل اور ترک عمل کا ہوگا اور ترک نماز کی عادت خود…

Read the full tafseer →

Maarif-ul-Quran (En)معارف القرآن انگلش

Explained with ayahs 45–46

Khushu` خشوع : The Humbleness of Heart Verse 45 speaks of the humble in heart. The "humbleness of heart" (Khushu خشوع `), which the Holy Qur'an and the Hadith speak of, connotes a restfulness of heart and humility arising out of the awareness of Allah's majesty and of one's own insignificance in comparison to it. This quality, once acquired, shows its spiritual fruitfulness in making the obedience to Allah and submission to Him easy and pleasant for one; sometimes it reflects itself even in the bodily posture and appearance of the man who has acquired it, for such a man always behaves in a…

Read the full tafseer →

Tafheem-ul-Quran (En)تفہیم القرآن انگلش

61. This means that Prayer is an insufferable encumbrance and affliction for the man who tends not to want to obey, God and to believe in the After-life. For the man who, of his own voilation, has to stand before God after death, it is failure to perform the Prayer, rather than its performance, that becomes intolerable

Read the full tafseer →