Explained with ayahs 45–46
صبر کا مفہوم
اس آیت میں حکم فرمایا جاتا ہے کہ تم دنیا اور آخرت کے کاموں پر نماز اور صبر کے ساتھ مدد طلب کیا کرو، فرائض بجا لاؤ اور نماز کو ادا کرتے رہو روزہ رکھنا بھی صبر کرنا ہے اور اسی لئے رمضان کا صبر کا مہینہ کہا گیا ہے حضور ﷺ فرماتے ہیں روزہ آدھا صبر ہے صبر سے مراد گناہوں سے رک جانا بھی ہے۔ اس آیت میں اگر صبر سے یہ مراد لی جائے تو برائیوں سے رکنا اور نیکیاں کرنا دونوں کا بیان ہوگیا، نیکیوں میں سب سے اعلیٰ چیز نماز ہے۔ حضرت عمر بن خطاب ؓ فرماتے ہیں صبر کی دو قسمیں ہیں مصیبت کے وقت صبر اور گناہوں کے ارتکاب سے صبر اور یہ صبر پہلے سے زیادہ اچھا ہے۔ حضرت سعید بن جبیر فرماتے ہیں انسان کا ہر…
Read the full tafseer →سورة الْبَقَرَة 60
یعنی اگر تمہیں نیکی کے راستے پر چلنے میں دشواری محسوس ہوتی ہے تو اس دشواری کا علاج صبر اور نماز ہے، ان دوچیزوں سے تمہیں وہ طاقت ملے گی جس سے یہ راہ آسان ہوجائے گی۔
صَبْر کے لغوی معنی روکنے اور باندھنے کے ہیں اور اس سے مراد ارادے کی وہ مضبوطی، عَزْم کی وہ پختگی اور خواہشات نفس کا وہ انضباط ہے، جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلے میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کیے ہوئے راستے پر لگاتار بڑھتا چلا جائے۔ ارشاد الہٰی کا مدّ عا یہ ہے کہ اس اخلاقی صفت کو اپنے اندر پرورش کرو اور اس کو باہر سے طاقت پہنچانے کے لیے نماز کی پابندی کرو۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
خشوع کی حقیقت
اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْن قرآن وسنت میں جہاں خشوع کی ترغیب مذکور ہے اس سے مراد وہ قلبی سکون و انکساری ہے جو اللہ کی عظمت اور اس کے سامنے اپنی حقارت کے علم سے پیدا ہوتی ہے اس کے نتیجہ میں اطاعت آسان ہوجاتی ہے کبھی اس کے آثار بدن پر بھی ظاہر ہونے لگتے ہیں کہ وہ باادب متواضع اور شکستہ قلب نظر آتا ہے اگر دل میں خوف خدا اور تواضع نہ ہو تو خواہ وہ ظاہر میں کتنا ہی باادب اور متواضع نظر آئے وہ خشوع کا حامل نہیں۔
بلکہ آثار خشوع کا قصداً اظہار کرنا بھی پسندیدہ نہیں حضرت عمر فاروق ؓ نے ایک نوجوان کو دیکھا کہ سر جھکائے بیٹھا ہے فرمایا سر اٹھا خشوع دل میں ہوتا ہے ،
حضرت ابراہیم نخعی کا ارشاد…
Read the full tafseer →لفظ صلوٰۃ کی تحقیق بقرہ کی آیت ۳ کی تفسیر کرتے ہوے بیا ن ہو چکی ہے اس وجہ سے یہاں ہم صرف لفظ صبر کی تحقیق پر کفایت کریں گے۔
لفظ صبر کے اصل معنی روکنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ، مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ قرآن مجید میں اسی حقیقت نے کچھ زیادہ پاکیزہ صورت اختیار کر لی ہے۔ یعنی قرآن میں عموماً اس کا مفہوم یہ ہوتا ہے کہ بندہ پوری طمانیت قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد پر ڈٹا رہے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور اس راہ میں اس کو جن مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کو پرکاہ کے برابر بھی وقعت نہ دے۔
صبر کا مفہوم لوگ عام طور پر عجزومسکنت سمجھتے ہیں لیکن لغت عرب اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
45۔ 1 صبر اور نماز ہر اللہ والے کے لئے دو بڑے ہتھیار ہیں۔ نماز کے ذریعے سے ایک مومن کا رابطہ وتعلق اللہ تعالیٰ سے استوار ہوتا ہے۔ جس سے اسے اللہ تعالیٰ کی تائید اور نصرت حاصل ہوتی ہے۔ صبر کے ذریعے سے کردار کی پختگی اور دین میں استقامت حاصل ہوتی ہے۔ حدیث میں آتا ہے نبی ﷺ کو جب بھی کوئی اہم معاملہ پیش آتا آپ فورا نماز کا اہتمام فرماتے (فتح القدیر)۔
45۔ 2 نماز کی پابندی عام لوگوں کے لئے گراں ہے، لیکن خشوع و خضوع کرنے والوں کے لئے یہ آسان بلکہ اطمینان اور راحت کا باعث ہے۔ یہ کون لوگ ہیں ؟ وہ جو قیامت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔ گویا قیامت پر یقین اعمال خیر کو کردیتا اور آخرت سے بےفکری انسان کو بےعمل…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
39: رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
وَاسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ وَإِنَّهَا لَكَبِيرَةٌ إِلا عَلَى الْخَاشِعِينَ (45) الَّذِينَ يَظُنُّونَ أَنَّهُمْ مُلاقُو رَبِّهِمْ وَأَنَّهُمْ إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
بیشک نماز اور صبر سے مدد لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگر ان فرماں بردار بندوں کے لئے مشکل نہیں ہے ، جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے رب سے ملنا ہے اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔ “
میں سمجھا ہوں کہ انہا کی ضمیر شان ہے (یعنی کسی فرد کی طرف اشارہ نہیں بلکہ صورت حال کی طرف اشارہ ہے) یعنی صورت حال یہ ہے کہ بنی اسرائیل کو اعتراف حق کی دعوت دینا ، جب کہ اس کی راہ میں ایسی رکاوٹیں کھڑی ہوں ، بڑامشکل اور جاں گسل کام…
Read the full tafseer →2 علمائے اہل کتاب جو بعد وضوح حق بھی آپ پر ایمان نہ لاتے تھے اس کی بڑی وجہ حب جاہ اور حب مال تھی۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں کا علاج بتادیا صبر سے مال کی طلب اور محبت جائے گی اور نماز سے عبودیت و تذلل آئے گا اور حب جاہ کم ہوگی۔
Read the full tafseer →آیت 45 وَاسْتَعِیْنُوْا بالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط“
یہاں پر صبر کا لفظ بہت بامعنی ہے۔ علماء سوء کیوں وجود میں آتے ہیں ؟ جب وہ صبر اور قناعت کا دامن ہاتھ سے چھوڑ دیتے ہیں تو حب مال ان کے دل میں گھر کرلیتی ہے اور وہ دنیا کے کتے بن جاتے ہیں۔ پھر وہ دین کو بدنام کرنے والے ہوتے ہیں۔ بظاہر دینی مراسم کے پابند نظر آتے ہیں لیکن دراصل ان کے پردے میں دنیاداری کا معاملہ ہوتا ہے۔ چناچہ انہیں صبر کی تاکید کی جا رہی ہے۔ سورة المائدۃ میں یہود کے علماء و مشائخ پر بایں الفاظ تنقید کی گئی ہے : لَوْلاَ یَنْہٰہُمُ الرَّبّٰنِیُّوْنَ وَالْاَحْبَارُ عَنْ قَوْلِہِمُ الْاِثْمَ وَاَکْلِہِمُ السُّحْتَ ط المائدۃ : 63…
Read the full tafseer →64 پریشانیوں اور مصائب کا علاج :۔ مصیبت اور پریشانی کی حالت میں صبر اور نماز کو اپنا شعار بنانے کا حکم دیا گیا ہے کہ اللہ کی یاد میں جس قدر طبیعت مصروف ہو اسی قدر دوسری پریشانیاں خود بخود کم ہوجاتی ہیں۔ بعض لوگوں نے یہاں صبر سے روزہ بھی مراد لیا ہے اور رسول اللہ ﷺ کی عادت مبارکہ تھی کہ جب آپ ﷺ کو کوئی پریشانی لاحق ہوتی تو خود بھی نماز میں مشغول ہوتے اور اپنے اہل بیت کو بھی اس کی دعوت دیتے تھے۔
اور صبر کسے کہتے ہیں یہ بھی رسول اللہ ﷺ کی زبانی سنیے۔
صبر کی تعریف :۔ انس بن مالک ؓ کہتے ہیں کہ آپ ﷺ کا ایک عورت پر گزر ہوا جو ایک قبر کے پاس بیٹھی رو رہی تھی۔ آپ ﷺ نے اسے فرمایا اللہ سے ڈرو اور صبر…
Read the full tafseer →159 ۔ (ایمان کی ثابت قدمی اور شعائر کفر کے ترک پر)
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
آیت نمبر 43 تا 46
وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰةَ وَاتُوا الزَّکوٰةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ .... الیٰ .... وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
ترجمہ : اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، نماز پڑھنے والوں (یعنی) محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھو، اور (آئندہ) آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے کہا کرتے تھے، کہ دین محمد پر قائم رہو اس لئے کہ وہ حق ہے، کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی) محمد ﷺ پر ایمان کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، کہ خود کو ایمان کا حکم نہیں کرتے باوجود یکہ تم کتاب تورات پڑھتے ہو اور اس میں قول و فعل کی…
Read the full tafseer →وَاسْتَعِیْنُوا بالصَّبْرِ ( اور مدد چاہو صبر سے) مطلب یہ ہے کہ تم کو جو طرح طرح کی بلاؤں اور مصیبتوں نے منہ دکھا رکھا ہے ان کے دفع کرنے کے لیے صبر اور نماز سے مدد چاہو یعنی صبر کرو اور نماز پڑھو۔ لفظ صبر بہت سے معانی کو شامل ہے۔ اول یہ کہ اللہ پر توکل کرکے خوشی اور حاجت روائی کا انتظار کرو۔ دوسرے یہ کہ اپنے نفس کو فریاد اور جزع و فزع سے روکو کیونکہ جزع و فزع کچھ نافع نہیں جو کچھ مقدر میں ہے وہی ہو کر رہے گا۔ تیسرے یہ کہ اپنے نفس کو معاصی سے بچاؤ اور طاعات پر جماؤ اس سے سب مصیبتیں جاتی رہیں گی کیونکہ حق تعالیٰ فرماتا ہے : وَ مَا اَصَابَکُمْ مِنْ مُّصِیْبَۃٍ فِبْمَا کَسَبَتْ اَیْدِیْکُمْ (…
Read the full tafseer →(45) اور اللہ تعالیٰ کے فرائض کی ادائیگی اور گناہوں کے ترک پر صبر سے اور گناہوں کا خاتمہ کرنے کے لیے زیادہ نمازوں سے مدد لو، اور نماز بہت بھاری ہے مگر تواضع کرنے والوں پر، جو اس بات کو جانتے ہیں اور انہیں یقین ہے کہ وہ اپنے پروردگار کا دیدار کریں گے اور مرنے کے بعد اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔
شان نزول : (آیت) ”اتامرون الناس بالبر“۔ (الخ)
واحدی ؒ اور ثعلبی ؒ نے کلبی ؒ ، ابوصالح ؒ کے ذریعہ سے حضرت عبداللہ ؓ ابن عباس ؓ سے روایت کیا ہے یہ آیت کریمہ مدینہ منورہ کے یہود کے متعلق نازل ہوئی کیوں کہ ان میں سے ہر ایک اپنی ننھیال، اپنے رشتہ داروں اور ان مسلمانوں سے جن کے ساتھ ان کا معاہدہ تھا کہتے تھے کہ…
Read the full tafseer →یعنی کسی بھی مصیبت کے برداشت کرنے میں ان دو چیزوں کا سہارا لو۔ نبی ﷺ کو جب اچانک کوئی حادثہ پیش آتا تو آپ ﷺ نماز پڑھتے۔ [ أبو داوٗد، التطوع، باب وقت قیام النبی ﷺ من اللیل : 1319، و حسنہ الألبانی، عن حذیفۃ ؓ ] اہل علم نے فرمایا : ”صبر تین قسم پر ہے، مصیبت پر صبر، اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر صبر اور نافرمانی سے بچنے پر صبر۔“
Read the full tafseer →آیت نمبر 45
“ اور مدد لو صبر اور نماز سے اور بیشک نماز ضرور بھاری ہے مگر عاجزی کرنے والوں کے لئے نہیں ”۔
اس آٹھ مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے واستعینوا بالصبر والصلوٰۃ، الصبر کا لغوی معنی روکنا ہے۔ قتل فلان صبراً ، فلاں باندھا گیا اور روکا گیا حتیٰ کہ تلف ہوگیا۔ صبرت نفسی علی الشیء میں نے اپنے آپ کو اس کام یہ روکا۔ المصبورۃ۔ وہ جس سے منع کیا گیا ہو۔ حدیث میں اس سے مراد وہ جانور ہے جو موت پر روکا گیا ہو، اسی کو المجثمہ بھی کہتے ہیں۔ عشرہ نے کہا :
فصبرت عارفۃ لذالک حرۃ ترسو اذا نفس الجبان تطلع
میں نے اس وجہ سے آزاد عارفہ سے اپنے آپ کو روکا جو ٹھہری ہوئی تھی جبکہ بزدل کا نفس…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” واستعینوا بالصبر والصلوۃ “ سے مراد ہے کہ یہ دونوں (یعنی صبر اور نماز) اللہ تعالیٰ کی طرف سے مدد کرنے والے ہیں لہٰذا ان دونوں سے مدد حاصل کرو۔
(2) امام ابن الانباری نے کتاب العزاء میں اور ابن ابی حاتم نے سعید بن جبیر (رح) سے روایت کیا کہ صبر بندہ کی طرف سے اعتراف ہے اللہ کے لیے جو اس کو مصیبت پہنچی اور اللہ تعالیٰ کے ہاں ثواب کی امید کا مظاہرہ ہوتا ہے اور کبھی ایک آدمی جزع فزع کرتا ہے حالانکہ وہ سخت مزاج ہوتا ہے اس سے صرف صبر ہی کو دیکھا جاتا ہے۔
صبر کے درجات
(3) امام ابن ابی حاتم نے حضرت عمر بن خطاب ؓ سے روایت کیا کہ صبر دو ہیں ایک…
Read the full tafseer →[ وَاسْتَعِيْنُوْا : اور تم لوگ (اللہ سے) مدد مانگو ] [ بِالصَّبْرِ : ثابت قدمی کے ذریعے ] [ وَالصَّلٰوةِ ۭ : اور نماز کے ذریعے ] [ وَاِنَّهَا : اور یقینا یہ ] [ لَكَبِيْرَةٌ: بھاری ہے ] [ اِلَّا : سوائے ] [ عَلَي الْخٰشِعِيْنَ : فروتنی کرنے والوں پر ]
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–47
صبر اور صلوٰۃ کے ذریعہ مدد حاصل کرو
اس آیت شریفہ میں صبر اور نماز کے ذریعہ اللہ تعالیٰ سے مدد مانگنے کا طریقہ بتایا ہے، لفظ صبر تین معنی میں آتا ہے۔ (اوّل) طاعات پر جما رہنا، خاص کر فرائض اور واجبات کو پابندی سے ادا کرنا۔ (دوم) گناہوں سے پوری طرح اہتمام کے ساتھ بچنا۔ (سوم) جو مصائب اور مشکلات در پیش ہوں ان پر صبر کرنا۔
عام طور سے لوگوں میں یہ تیسرا معنی ہی زیادہ معروف ہے۔ تینوں قسم کا صبر اللہ تعالیٰ کی مدد کو لانے والا ہے۔ زندگی میں عموماً صبر کے مواقع پیش آتے رہتے ہیں۔ عبادات بھی صبر ہی سے ادا ہوتی ہیں۔ نفس عبادت کے لیے تیار نہیں ہوتا۔ اگر تیار ہوتا ہے تو صحیح طریقہ سے ادا کرنے سے بچتا ہے۔…
Read the full tafseer →اصلاح نفس کا طریقہ اور حب مال اور جب جاہ کا علاج
واستعینوا بالصبر والصلوۃ۔ اور اگر تم حب دنیا اور ہوا ہوس کے مہلک مرض میں مبتلا ہوگئے ہو تو شہوات اور لذات سے پرہیز کرو اور اس کے معالجہ کے لیے یہ دوائیں استعمال کرو یعنی صبر سے مدد طلب کرو یعنی نفس کو صبر اور قناعت کا خوگر اور ترک لذات اور شہوات کا عادی بناؤ تاکہ دنیا کی محبت دل سے زائل ہو۔ اور حق اور باطل میں تمیز کرسکو مرض کا ازالہ جب ہی ممکن ہے کہ اول مضرات سے پورا پورا پرہیز ہو اور پھر دوا کا استعمال ہو۔ اسی طرح باطنی امراض کے ازالہ کے لیے صبر، بمنزلہ پرہیز کے ہے اور شکر بمنزلہ دوا کے ہے چناچہ حدیث میں ہے کہ الایمان نصفان نصف فی الصبر ونسف…
Read the full tafseer →ف 103 ۔ یہ آٹھواں امر ہے علمائے یہود کے اسلام (مسئلہ توحید) قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ قبول کرنے میں سب سے بڑی رکاوٹ ان کی آمدنی تھی جو انہیں معتقدین کے ذریعے حاصل ہوتی تھی۔ نیز ان کی شان و شوکت اور ریاست وسیادت جو عوام پر قائم تھی اسلام قبول کرنے کی صورت میں ان سب چیزوں سے ہاتھ دھونے پڑتے تھے۔ اور ساتھ ہی حرام خوری کی وجہ سے ان کے دل مردہ ہوچکے تھے۔ ان کے دلوں سے خوف خدا اور احساس حق بالکل محو ہوچکا تھا۔ اس آیت میں اللہ تعالیٰ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
گزشتہ سے پیوستہ : اس رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرمایا ۔ پھر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ اور ہدایت و راہنمائی کا وہ اصول ہی بتلا دیا۔ جس پر جنت میں دوبارہ داخلے کا دار و مدار ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خطاب ہوا۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو مدت دراز تک فضیلت حاصل رہی۔ نبوت اور حکومت ان میں رہی۔ ان میں بڑے بڑے عابد و زاہد لوگ پیدا ہوئے۔ مگر ایک طویل عرصہ کے بعد اس قوم میں خرابیاں پیدا ہوگئیں ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل کردی۔
گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان پر کیے گئے انعامات…
Read the full tafseer →وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ 0 ۭ وَاِنَّہَا لَكَبِيْرَۃٌ اِلَّا عَلَي الْخٰشِعِيْنَ 45 ۙ
استِعَانَةُ :
طلب العَوْنِ. قال : اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45]
الا ستعانہ
مدد طلب کرنا قرآن میں ہے : ۔ اسْتَعِينُوا بِالصَّبْرِ وَالصَّلاةِ [ البقرة/ 45] صبر اور نماز سے مدد لیا کرو ۔
صبر
الصَّبْرُ : الإمساک في ضيق، والصَّبْرُ : حبس النّفس علی ما يقتضيه العقل والشرع، أو عمّا يقتضیان حبسها عنه، وَالصَّابِرِينَ وَالصَّابِراتِ [ الأحزاب/ 35] ، وسمّي الصّوم صبرا لکونه کالنّوع له، وقال عليه السلام :«صيام شهر الصَّبْرِ وثلاثة أيّام في كلّ شهر يذهب وحر الصّدر»
( ص ب ر )…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : اَ استفہامیہ داخل ہے جملہ تامرون الناس الخ پر اور یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہ کرو تامرون الناس الخ جملہ معطوف علیہ وتنسون الخ دوسرا جملہ اس پر معطوف وانتم تتلون الکتاب جملہ اسمیہ حال ہے ضمیر فاعل تنسون سے افلاتعقلون جملہ استفہامیہ بمعنی توبیخ یہاں تک یہ جملہ معترضہ سا تھا اس کا شان نزول ابن 1 ؎ عباس ؓ سے یوں منقول ہے کہ علمائِ یہود اپنے ان اقارب سے جو مسلمان
ہوگئے تھے یہ کہتے تھے کہ اسی دین پر قائم رہو کیونکہ یہ حق ہے اور از خود اسلام میں داخل نہ ہوتے تھے (جلالین) بعض کہتے ہیں کہ اوروں کو صدقہ اور خیرات کا حکم دیتے تھے اور خود نہ کرتے تھے (بیضاوی) واستعینوا الخ معطوف ہے اذکروا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
وَاسْتَعِیْنُوْابِاالصَّبْرِ وَالصَّلٰوۃِ ط وَاِنَّھَا لَکَبِیْرَۃٌ اِلَّا عَلَی الْخٰشِعِیْنَ ۔ الَّذِیْنَ یَظُنُّوْنَ اَنَّھُمْ مُّلٰقُوْا رَبِّھِمْ وَاَنَّھُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
( اور مدد چاہوصبر اور نماز سے، اور بیشک یہ بھاری چیز ہے مگر ان لوگوں کے لیے جو ڈرنے والے ہیں۔ جو گمان رکھتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملنے والے ہیں اور وہ اسی کی طرف لوٹنے والے ہیں )
(البقرۃ : 645 تا 46)
عہد الٰہی کی پابندی کے لیے صبر اور نماز سے استعانت
بنی اسرائیل سے فرمایا جارہا ہے کہ اگر تم عہد الٰہی کو ازسر نو استوار کرنا چاہتے ہو اور تمہارے لیے اس عہد الہٰی کی پابندی دشوار ہورہی ہے اور تمہارے سرکش قلوب احکام…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
فہم القرآن
ربط کلام : دوغلا پن اختیار کرنے کی بجائے، عُسرویُسر میں دین پر قائم رہو اور نماز اور صبر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی مدد کے طالب بنو۔
اے بنی اسرائیل ! تمہیں اپنے آپ کو شریعت کا پابند صبر و شکر کا خوگر اور نماز قائم کرنے والا بننا چاہیے لیکن یاد رکھو یہ کام نسبتاً مشکل ہیں۔ اس پر عمل کرنا ہر کسی کے بس کا روگ نہیں۔ صبر و شکر اور نماز کی ادائیگی وہی لوگ کیا کرتے ہیں جن کے دل ” اللہ “ کے خوف سے لرزاں و ترساں رہتے ہیں اور انہیں یقین ہوتا ہے کہ ہم نے دنیا میں ہمیشہ نہیں بیٹھ رہنا بلکہ آخر کار ہمیں اپنے رب کے حضور پیش ہونا ہے۔ یاد رہے کہ اللہ تعالیٰ کے خوف اور فکر آخرت کے نتیجہ میں آدمی سے…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
وَاَنْتُمْ تَعْ ( علیہ السلام) لَمُوْنَ : (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ جاننے کی حالت میں کہ تم التباس کرنے والے، چھپانے والے ہو اور یہ ان کے لیے قبیح ترین چیز تھی۔ کیونکہ قبیح سے ناواقفی بسا اوقات مرتکب قبیح کے لیے عذربن جاتی ہے۔
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ : (اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو) یعنی مسلمانوں والی نماز و زکوٰۃ
رکوع کی مراد :
وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : (اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ) جو ان میں سے رکوع کرنے والے ہیں کیونکہ یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ (مگر اس کے لیے ثبوت درکار ہے جبکہ حضرت مریم کو فرمایا یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع…
Read the full tafseer →(تفسیر) 45۔:
(آیت)” واستعینوا “ (مددحاصل کرو) ان قسم وقسم کی مصیبتوں پر جو تمہیں پیش آنے والی ہیں اور بعض نے کہا طلب آخرت پر (مدد حاصل کرو) ” بالصبر والصلوۃ “ (صبر ونماز کے ساتھ) خالصتا گناہوں کو مٹانے کے سلسلہ میں (صبر سے) مراد گناہوں سے اپنے آپ کو روکنا ہے ، بعض نے کہا کہ صبر سے مراد فرائض کی ادائیگی پر صبر کرنا ہے ۔
حضرت مجاہد (رح) فرماتے ہیں کہ صبر سے مراد روزہ ہے ، اسی سے ماہ رمضان کو صبر کا مہینہ کہا گیا ہے اور یہ اس لیے کہ روزہ دنیا سے بےرغبت کرتا ہے اور نماز آخرت کی طرف راغب کرتی ہے اور کہا گیا ہے کہ ” والصلوۃ “ پر جو واؤ داخل ہے یہ بمعنی علی ہے ، یعنی مدد حاصل کرو ساتھ صبر کے نماز…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
علمائے یہود اپنی قوم کے جاہل لوگوں کو نیک کام کرنے کی نصیحت تورات کے موافق کرتے تھے اور خود آپ اسی نیک کام کے کرنے کے پابند نہ ہوتے تھے۔ ان میں یہ بات بھی تھی کہ یوں کہنے کو تو تورات کی آیتوں کے موافق عمل کرنے کو اپنی قوم کے لوگوں سے کہتے تھے۔ مگر تورات میں نبی آخر الزمان کی نشانیوں کی جو آیتیں تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ تنبیہ فرمائیں۔ صحیحین میں اسامہ بن زید سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں ایک شخص کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی پڑی ہوں گی اور وہ اپنی انتڑیوں کے گرد پھرتا ہوگا اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ دوزخی لوگ اس سے کہویں گے کہ اے شخص تو تو…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–48
آیت 45-48
(آیت) 44 وَاسْتَعِيْنُوْا بِالصَّبْرِ وَالصَّلٰوةِ ” اور مدد حاصل کرو صبر سے اور نماز سے۔ “ اللہ تعالیٰ نے ان کو حکم دیا ہے کہ وہ تمام امور میں صبر کی تمام اقسام سے مدد لیں۔ صبر کی اقسام یہ ہیں۔ (1) اللہ تعالیٰ کی اطاعت پر اپنے نفس کو پابند کرنا۔ (2) اس کی نافرمانی سے اپنے آپ کو روکنا یہاں تک کہ اسے ترک کر دے۔ (3) اس کی تقدیر پر صبر کرنا اور اس پر ناراضی کا اظہار نہ کرنا۔ ہر معاملے میں صبر کے ذریعے سے بڑی مدد ملتی ہے۔ جو کوئی صبر کرنے کی کوشش کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ اسے صبر کرن کی تفویق سے نواز دیتا ہے۔
اسی طرح نماز ہے جو کہ ایمان کی میزان ہے اور فواحش و منکرات سے روکتی ہے۔ ہر…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قول باری ہے : واستعینوا بالصبروا الصلوۃ اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد کرو) اس میں صبر کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ فرائض کی ادائیگی اور اس کے معاصی سے اجتناب پر فرض نماز کو بروئے کار لانے کے ساتھ متعلق ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ صبر اور نماز دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نماز کی ادائیگی، گناہوں سے اجتناب اور فرائض کی بجا آوری میں بڑی ممد و معاون ہیں جس طرح یہ قول باری ہے :
(بےشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) یہاں بھی احتمال ہے کہ آیت میں مذکورہ صبر اور صلوۃ سے مستحب صبر و صلوۃ ، مثلاً نفلی روزے اور نفلی نماز مراد ہو، مفروض صبر و صلوۃ مراد نہ ہوں…
Read the full tafseer →135 مدد ہمیشہ اللہ ہی سے مانگنے کی تعلیم و تلقین : کہ مدد دینے والا بہرحال وہی وحدہ لاشریک ہے، جیسا کہ مشہور حدیث میں فرمایا گیا ۔ " اِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ باللّٰہ وَاِذَا سأَلْتَ فَاسْأَل اللّٰہَ " ۔ " جب تم مدد مانگو تو اللہ ہی سے مانگو اور جب تم سوال کرو تو اللہ ہی سے کرو " ۔ اسی لئے مومن کو تعلیم دی گئی کہ وہ اپنی ہر نماز کی ہر رکعت میں اپنے رب کے حضور اپنی عرض والتجاء اس طرح پیش کرے۔ { اِیَّاکَ نَعْبُدُ وَاِیَّاکَ نَسْتَعِیْنُ } ۔ کہ " مالک ہم تیری ہی بندگی کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے، اور تجھ ہی سے مدد مانگتے ہیں، اور مانگتے رہیں گے "۔ پھر یہاں پر جیسا کہ سورة فاتحہ کی تفسیر میں…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
صبر اور نماز سے مدد
تشریح : اس آیت مبارکہ میں اگرچہ یہود کو ہی مخاطب کیا گیا ہے، لیکن دراصل یہ پوری نوع انسانی کو بتایا گیا ہے کہ نیکی اختیار کرنے، نیکی کی راہ دکھانے اور دنیا و آخرت میں کامیابیاں حاصل کرنے کے لئے بہترین طریقہ یہ ہے کہ صبر اور نماز سے اللہ کی مدد طلب کرو، کیونکہ صبر کی برکات بیشمار ہیں۔ تفہیم القرآن میں کیا خوب تعریف کی گئی ہے صبر کی ملاحظہ ہو۔ ” صبر کے لغوی معنی ہیں روکنا اور باندھنا اور اس سے مراد ارادہ کی وہ مضبوطی، عزم کی وہ پختگی اور خواہشات نفس کا وہ انضباط ہے جس سے ایک شخص نفسانی ترغیبات اور بیرونی مشکلات کے مقابلہ میں اپنے قلب و ضمیر کے پسند کئے ہوئے راستہ پر لگا تار…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیات 40- 46
اسرارو معارف
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔
لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →ف 6 ۔ یعنی مصائب کے برداشت کرنے میں ان دو چیزوں کا سہا را لو۔ حدیث میں ہے کہ جب کوئی ناگہ حاد ثہ پیش آتا تو آپ ﷺ نماز کی طرف لپکتے اور مزید مروی ہے تمام انبیاء کی یہی عادت تھی۔ (فتح القدیر) اللہ تعالیٰ کی طاعت پر صبر معصیت سے بچنے پر صبر۔
Read the full tafseer →(2:45) استعینوا امر کا صیغہ جمع مذکر حاضر۔ استعانۃ (استفعال) مصدر۔ تم مدد طلب کرو۔ ملاحظہ ہو (1:4)
انھا میں ہا ضمیر واحد مونث غائب کا مرجع الصلوۃ ہے۔
لکبیرۃ میں لام تاکید کے لئے ہے کبیرۃ صفت مشبہ کا صیغہ واحد مؤنث ہے۔ الصلوۃ کی صفت ہے بمعنی شاق، دشوار۔
الخشعین۔ اسم فاعل جمع مذکر خشوع مصدر (باب فتح) ڈرنے والے۔ عاجزی کرنے والے۔ فروتنی کرنے والے۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46
(بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
سچی نماز کا ذکر
فوائد القرآن : مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دل جب کسی بات سے پریشان ہوتا تو آپ نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی نماز جس سے بری خصلت چھوٹ جاوے اور دل کی پریشانی رفع ہوجاوے انہی لوگوں کی ہے جو نماز پڑھتے وقت خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
[38] '' لفظ صبر '' کے اصل معنی روکنے کے ہیں یعنی نفس کو گھبراہٹ، مایوسی اور دل برداشتگی سے بچا کر اپنے موقف پر جمائے رکھنا۔ اس کا قرآنی مفہوم یہ ہے کہ بندہ پوری طمانیّتِ قلب کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے عہد پر ڈٹا رہے اور اس کے وعدوں پر یقین رکھے اور راہ حق میں اس کو جن مشکلات سے بھی دوچار ہونا پڑے ان کو ذرہ برابر بھی وقعت نہ دے۔
صبر کے اصل معنی قرآن نے خود بھی واضح کردیئے ہیں، چناچہ سورة بقرہ میں فرمایا (وَالصّٰبِرِيْنَ فِي الْبَاْسَاۗءِ وَالضَّرَّاۗءِ وَحِيْنَ الْبَاْسِ 177۔ ) 2 ۔ البقرة :177) (177) (اور ثابت قدمی دکھانے والے سختی میں تکلیف میں اور لڑائی کے وقت) یہاں صبر کے تین مواقع کا ذکر کیا…
Read the full tafseer →(ف 3) ان آیات میں کشاکشہائے دنیا کا علاج بیان فرمایا ہے ، یعنی جب تم گھبرا جاؤ یا کسی مصیبت میں مبتلا ہوجاؤ تو پھر صبر کے فلسفے پر عمل کرو ۔ (آیت) ” وبشرالصابرین “۔ اور عقل و توازن کو نہ کھو بیٹھو ، تاکہ مشکلات کا صحیح حل تلاش کیا جاسکے ، وہ جو مصیبت کے وقت اپنے آپے میں نہیں رہتے ، کبھی کامیاب انسان کی زندگی نہیں بسر کرسکتے قرآن حکیم چونکہ ہمارے نوع کے اضطراب کا علاج ہے ‘ اس لئے وہ ہمیں نہایت حکیمانہ مشورہ دیتا ہے جس سے یقینا ہمارے مصائب کا بوجھ ہلکا ہوجاتا ہے ، پھر دوسری چیز جو ضروری ہے وہ نماز ودعا ہے ، (آیت) ” الا بذکر اللہ تطمئن القلوب “۔ اس وقت جب دنیا کے امانت کے سب دروازے بند…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
ف 2۔ اور تم لوگ محنت برداشت کرنے اور نماز پڑھنے سے قوت حاصل کرو اور مدد لو ۔ اس میں شک نہیں کہ نماز شاق اور دشوار ضرور ہے مگر ان لوگوں پر نہیں جن کے قلوب خشوع و خضوع کے خوگر ہیں اور یہ خاشعین وہ لوگ ہیں جو اس بات کو جانتے ہیں کہ وہ اپنے رب سے ملاقات کرنیوالے ہیں اور یہ بھی جانتے ہیں کہ وہ اسی کی طرف لوٹ کر جانے والے ہیں۔ ( تیسیر)
پڑھا کرو، پہلی آیت میں پیغمبر (علیہ السلام) اور قرآن پر ایمان لانے کا حکم دیا تھا اور اس آیت میں اعمال کی پابندی کے لئے تاکید کی گئی تاکہ ایمان کامل ہوجائے اور یہ ظاہر ہے کہ اعتقاد اور اعمال کی جس قدر اصلاح ہوگی اسی قدر سیئات اور بد اعمالیوں سے نفرت بڑھے گی اور یہ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6۔ اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بےعمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بےعمل بننا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →صبر و صلوٰۃ سے تعاون حاصل کرنے کی ہدایت :
98: مفہوم آیت کا عام ہے اور کہا یہ جارہا ہے کہ تمہیں صبر و استقامت اور دعا سے کام لینا چاہئے کہ یہی چیزیں کامیابی کی ذمہ دار و کفیل ہیں مگر اس سے وہی لوگ فائدہ اٹھا سکتے ہیں جنہیں احتساب عمل کا یقین ہو ورنہ دوسروں کو ان تکالیف و مصائب کے برداشت کرنے کی ضرورت کیا ؟
اس مفہوم کو سورة بقرہ آیت 153 میں خصوصاً مسلمانوں کو مخاطب کر کے سمجھایا گیا ارشاد ہوا : ” اے مسلمانو ! صبر اور نماز سے تعاون حاصل کرتے رہو یاد رکھو کہ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ “
دراصل سمجھایا یہ جا رہا ہے کہ دنیا دارالعمل ہے اس میں یاد رکھنے کی بات یہ ہے کہ دعوت اسلامی کو قبول کرنا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 45–46
Khushu` خشوع : The Humbleness of Heart
Verse 45 speaks of the humble in heart. The "humbleness of heart" (Khushu خشوع `), which the Holy Qur'an and the Hadith speak of, connotes a restfulness of heart and humility arising out of the awareness of Allah's majesty and of one's own insignificance in comparison to it. This quality, once acquired, shows its spiritual fruitfulness in making the obedience to Allah and submission to Him easy and pleasant for one; sometimes it reflects itself even in the bodily posture and appearance of the man who has acquired it, for such a man always behaves in a…
Read the full tafseer →60. That is, if they feel difficulty in keeping to righteousness, the remedy lies in resorting to Prayer and patience. From these two attributes they will derive the strength needed to follow their chosen course.
The literal meaning of 'sabr' is to exercise restraint, to keep oneself tied down. It denotes, the will
Read the full tafseer →