دوغلاپن اور یہودی
یعنی اہل کتاب اس علم کے باوجود جو کہے اور نہ کرے " اس پر کتنا عذاب نازل ہوتا ہے پھر تم خود ایسا کرنے لگے ہو ؟ جیسا دوسروں کو تقویٰ طہارت اور پاکیزگی سکھاتے ہو خود بھی تو اس کے عامل بن جاؤ لوگوں کو روزے نماز کا حکم دینا اور خود اس کے پابند نہ ہونا یہ تو بڑی شرم کی بات ہے دوسروں کو کہنے سے پہلے انسان کو خود عامل ہونا ضروری ہے اپنی کتاب کے ساتھ کفر کرنے سے لوگوں کو روکتے ہو لیکن اللہ کے اس نبی کو جھٹلا کر تم خود اپنی ہی کتاب کے ساتھ کفر کیوں کرتے ہو ؟ یہ بھی مطلب ہے کہ دوسروں کو اس دین اسلام کو قبول کرنے کے لئے کہتے ہو مگر دنیاوی ڈر خوف سے خود قبول نہیں کرتے۔ حضرت ابو الدردا ؓ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
سورة الْبَقَرَة 59
نماز اور زکوٰۃ ہر زمانے میں دین اسلام کے اہم ترین ارکان رہے ہیں۔ تمام انبیا کی طرح انبیائے بنی اسرائیل نے بھی اس کی سخت تاکید کی تھی۔ مگر یہودی ان سے غافل ہوچکے تھے۔ نماز باجماعت کا نظام ان کے ہاں تقریباً بالکل درہم برہم ہوچکا تھا۔ قوم کی اکثریت انفرادی نماز کی بھی تارک ہوچکی تھی، اور زکوٰۃ دینے کے بجائے یہ لوگ سود کھانے لگے تھے۔
Read the full tafseer →بےعمل واعظ کی مذمت
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ اس آیت میں خطاب اگرچہ علمائے یہود سے ہے ان کو ملامت کی جارہی ہے کہ وہ اپنے دوستوں اور رشتہ داروں کو یہ تلقین کرتے کہ تم محمد ﷺ کی پیروی کرتے رہو اور دین اسلام پر قائم رہو (جو علامت ہے اس بات کی کہ علمائے یہود دین اسلام کو یقینی طور پر حق سمجھتے تھے) مگر خود نفسانی خواہشات سے اتنے مغلوب تھے کہ اسلام قبول کرنے کے لئے تیار نہ تھے لیکن معنی کے اعتبار سے یہ ہر اس شخص کی مذمت ہے جو دوسروں کو تو نیکی اور بھلائی کی ترغیب دے مگر خود عمل نہ کرے دوسروں کو خدا سے ڈرائے مگر خود نہ ڈرے ایسے شٰخص کے بارے میں احادیث میں بڑی ہولناک…
Read the full tafseer →بِرّ:“بِرّ”عربی زبان میں ایفائے عہد، وفاداری اور ادائے حقوق کے معنی میں آتا ہے۔ حقوق میں ہر قسم کے حقوق شامل ہیں۔ بنیادی اور حقیقی بھی۔ مثلاً خدا کی فرمانبرداری، والدین کی اطاعت اور خلق کے ساتھ ہمدردی۔ پھر آگے چل کر اس میں وہ حقوق بھی شامل ہوجاتے ہیں جو قول واقرار اور معاہدات سے پیدا ہوتےہیں۔ اسی وجہ سے یہ لفظ احسان اور نیکی کی تمام قسموں پر حاوی ہے اور عدم کا بھی ہم معنی ہے۔ اپنے استعمالات کے لحاظ سے یہ لفظ اثم (حق تلفی) عقوق (والدین کی نافرمانی) غدر (بے وفائی) اور ظلم کا ضد ہے۔ بَرٌّ اور بَارٌُ اس سے صفت کے صیغے استعمال ہیں مثلاً کہیں گے بَرٌُ بِوَالِدِہ وہ اپنے باپ کا فرمانبردار ہے۔ برَّ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
41۔ 1 بِہِ کی ضمیر قرآن کی طرف یا حضرت محمد رسول اللہ ﷺ کی طرف ہے۔ دونوں ہی قول صیح ہیں کیونکہ دونوں آپس میں لازم اور ملزوم ہیں، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا اس نے محمد رسول اللہ کے ساتھ کفر کیا، جس نے قرآن کے ساتھ کفر کیا، اس نے محمد رسول ﷺ ساتھ کفر کیا (ابن کثیر) پہلے کافر نہ بنو کا مطلب ہے ایک تو تمہیں جو علم ہے دوسرے اس سے محروم ہیں، اس لئے تمہاری ذمہ داری سب سے زیادہ ہے۔ دوسرے مدینہ میں یہود کو سب سے پہلے دعوت ایمان دی گئی، ورنہ ہجرت سے پہلے بہت سے لوگ قبول اسلام کرچکے ہوتے، اس لئے انہیں تنبیہ کی جا رہی ہے کہ یہودیوں میں تم اولین کافر مت بنو۔ اگر ایسا کرو گے تو تمام یہودیوں کے کفر کا وبال…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–48
39: رکوع کا ذکر خاص طور پر اس لئے کیا گیا کہ یہودیوں کی نماز میں رکوع نہیں ہوتا تھا۔
Read the full tafseer →“ اس کے بعد یہودیوں کو عموماً اور ان کے مذہبی پیشواؤں کو خصوصاً اس بات کی تنبیہ کی جاتی ہے کہ وہ مشرکین اہل عرب میں اپنے آپ کو ایمان کا داعی کہتے ہیں اور اہل کتاب ہونے کی حیثیت سے وہ ایسے ہیں بھی ، اس لئے کہ وہ مشرکین کے مقابلے میں اہل توحید ہیں ، لیکن اس کے باوجود ، خود اپنی قوم کو ، اللہ کے اس دین پر ایمان لانے سے روکتے ہو ، جو تمام سابق ادیان کی تصدیق کرتا ہے۔ أَتَأْمُرُونَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ أَنْفُسَكُمْ وَأَنْتُمْ تَتْلُونَ الْكِتَابَ أَفَلا تَعْقِلُونَ تم دوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لئے کہتے ہو ، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ، حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے…
Read the full tafseer →1 بعض علمائے یہود یہ کمال کرتے تھے کہ اپنے لوگوں سے کہتے تھے کہ یہ دین اسلام اچھا ہے اور خود مسلمان نہ ہوتے تھے اور نیز علمائے یہود بلکہ اکثر ظاہر بینوں کو اس موقع پر یہ شبہ پڑھ جاتا ہے کہ جب ہم تعلیم احکام شریعت میں قصور نہیں کرتے اور حق پوشی بھی نہیں کرتے تو اس کی ضرورت نہیں کہ ہم خود بھی احکام پر عمل کریں جب ہماری ہدایت کے موافق بہت سے آدمی اعمال شریعت بجا لاتے ہیں تو بحکم قاعدہ الدال علی الخیر کفاعلہ وہ ہمارے ہی اعمال ہیں تو اس آیت میں دونوں کا بطلان فرما دیا گیا اور آیت سے مقصود یہ ہے کہ واعظ کو اپنے وعظ پر ضرور عمل کرنا چاہیے یہ غرض نہیں کہ فاسق کسی کو نصیحت نہ کرے۔
Read the full tafseer →آیت 44 اَتَاْمُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ
ان آیات کے اصل مخاطب علماء یہود ہیں ‘ جو لوگوں کو تقویٰ اور پارسائی کی تعلیم دیتے تھے لیکن ان کا اپنا کردار اس کے برعکس تھا۔ ہمارے ہاں بھی علماء اور واعظین کا حال اکثر و بیشتر یہی ہے کہ اونچے سے اونچا وعظ کہیں گے ‘ اعلیٰ سے اعلیٰ بات کہیں گے ‘ لیکن ان کے اپنے کردار کو اس بات سے کوئی مناسبت ہی نہیں ہوتی جس کی وہ لوگوں کو دعوت دے رہے ہوتے ہیں۔ یہی درحقیقت علماء یہود کا کردار بن چکا تھا۔ چناچہ ان سے کہا گیا کہ ”کیا تم لوگوں کو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو مگر خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو ؟“
وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ…
Read the full tafseer →63 بعض یہودی علماء اپنے عزیزوں کو جو مسلمان ہوگئے تھے۔ کہتے تھے کہ اسی دین (اسلام) پر قائم رہو کیونکہ یہ دین برحق ہے۔ مگر بعض دنیوی مفادات کی بنا پر خود مسلمان نہیں ہوتے تھے۔ تب یہ آیت نازل ہوئی اور یہ حکم سب کے لیے عام ہے۔
Read the full tafseer →157 ۔ یعنی کیسے غضب کی بات ہے کہ دوسروں کو تو ایمان لانے کا مشورہ دے دیتے ہو اور خود ایمان نہیں لاتے۔ خطاب یہود سے چلاآرہا ہے۔ اوپر کسی حاشیہ میں یہ آچکا ہے کہ یہود اپنے صاحب علم و کتاب ہونے کی بنا پر مشرکین عرب کی نظر میں بھی محترم اور قابل وقعت تھے، اہل یثرب اکثر ان کے پاس آکر رسول اللہ ﷺ اور آپ کی دعوت کے باب میں استفادۃ مشورے کیا کرتے کہ اس مدعی نبوت کے دعو وں میں کہاں تک صداقت ہے ؟ ہم اس کی تصدیق کریں یا نہ کریں ؟ وغیرہا۔ احبار یہود ایسے موقعوں پر بارہایہ مشورہ دے اٹھتے کہ بیشک ان میں علامتیں تو ہمارے ہاں کی پیشگوئیوں کے مطابق پائی جاتی ہیں۔ قالوا ھو صادق وامرہ حق فاتبعوہ (کبیر) نزلت فی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
آیت نمبر 43 تا 46
وَاَقِیْمُوا الصَّلوٰةَ وَاتُوا الزَّکوٰةَ وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ .... الیٰ .... وَاَنَّہُمْ اِلَیْہِ رٰجِعُوْنَ ۔
ترجمہ : اور نماز قائم کرو اور زکوٰة ادا کرو اور رکوع کرنے والوں کے ساتھ رکوع کرو، نماز پڑھنے والوں (یعنی) محمد ﷺ اور ان کے اصحاب کے ساتھ نماز پڑھو، اور (آئندہ) آیت ان علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی جو اپنے رشتہ داروں سے کہا کرتے تھے، کہ دین محمد پر قائم رہو اس لئے کہ وہ حق ہے، کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی) محمد ﷺ پر ایمان کا حکم کرتے ہو اور خود کو بھول جاتے ہو، کہ خود کو ایمان کا حکم نہیں کرتے باوجود یکہ تم کتاب تورات پڑھتے ہو اور اس میں قول و فعل کی…
Read the full tafseer →اَتَامُرُوْنَ النَّاس بالْبِرِّ ( کیا تم لوگوں کو نیک کام کا حکم کرتے ہو) یہ آیت سابقہ آیت کے مضمون کی تاکید و تقریر ہے اور اس میں ایک تعجب آمیز دھمکی بھی ہے۔ البر ( خوب دل کھول کر نیکی کرنا) بر ( بمعنی میدان وسیع) سے مشتق ہے اور ہر قسم کی نیکی کو بر بولتے ہیں۔ علامہ بغوی نے فرمایا ہے کہ یہ آیت علماء یہود کے بارے میں نازل ہوئی ہے۔ شان نزول اس کا یہ ہوا تھا کہ یہود میں سے کچھ لوگ جو مسلمان ہوگئے تھے اپنے غیر مسلم یہودی اعزاء اوراقرباء سے رسول اللہ ﷺ کے بارے میں دریافت کیا کرتے تھے کہ تمہاری کیا رائے ہے آیا یہ دین حق ہے یا کیا ہے تو ان کے عزیز وا قارب کہتے کہ تم جس دین پر ہو جمے رہو کیونکہ جو…
Read the full tafseer →(44) اب اللہ تعالیٰ جل شانہ سرداروں کی حالت کو بیان کرتے ہیں کہ تم کمتر اور ذلیل لوگوں کو تو، توحید اور محمد ﷺ کی اتباع کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھلائے بیٹھے ہو، خود اتباع نہیں کرتے اور ان کو خود کتاب پڑھ کر سناتے ہو، کیا تمہارے پاس سمجھ اور عقل نہیں
Read the full tafseer →یعنی لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیتے ہو اور خود بھول جاتے ہو کہ اس میں نبی ﷺ پر ایمان لانے کا حکم بھی موجود ہے۔ (ابن ابی حاتم عن ابن عباس : 1؍122، ح : 474، 475) قتادہ ؓ نے فرمایا : ”بنی اسرائیل لوگوں کو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیکی کا حکم دیتے اور خود عمل نہ کرتے تو اللہ تعالیٰ نے انھیں عار دلائی۔“ (عبد الرزاق)
اب مسلمانوں کا حال بھی بنی اسرائیل جیسا ہوگیا، اللہ تعالیٰ رحم فرمائے۔ اس سے یہ نہیں سمجھنا چاہیے کہ جو شخص خود عمل نہ کرے وہ دوسروں کو بھی نیکی کا حکم نہ دے، کیونکہ یہود کو اس بات پر عار دلائی ہے کہ وہ عمل نہیں کرتے، اس پر نہیں کہ وہ نیکی کا حکم دیتے ہیں اور جو شخص دعوت دے کر…
Read the full tafseer →آیت نمبر 44
اس میں نو مسائل ہیں۔
مسئلہ نمبر 1: اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے : اتامرون الناس بالبر یہ استفہام ہے اس کا معنی زجروتوبیخ ہے (1) اور اہل تاویل کے نزدیک اس سے مراد علماء یہود ہیں۔ حضرت ابن عباس نے فرمایا : مدینہ طیبہ کے یہودی اپنے کسی سسرالی رشتہ والے یا کسی قرابت دار یا کسی رضاعی رشتہ دار کو کہتے جو مسلمانوں میں سے ہوتا تو اس دین پر قائم رہ جس پر تو ہے، جس کا تجھے یہ شخص حکم دیتا ہے اس سے ان کی مراد حضرت محمد ﷺ ہوتے۔ کیونکہ اس کا امر حق ہے وہ لوگوں کو اس کا حکم دیتے تھے اور خود ایسا نہیں کرتے تھے۔ حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ یہود کے علماء اپنے مقلدین اور اپنے پیروکاروں کو تورات کی پیروی…
Read the full tafseer →(1) امام عبد بن حمید نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ لفظ آیت ” اتامرون الناس بالبر وتنسون انفسکم “ سے وہ اہل کتاب مراد ہے جو لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے تھے اور اپنے آپ کو بھول جاتے تھے حالانکہ وہ کتاب کی تلاوت کرتے تھے لیکن اس سے نفع نہیں اٹھاتے تھے جو اس کے اندر احکام ہیں (یعنی اس پر عمل نہیں کرتے تھے) ۔
(2) امام ثعلبی اور واحدی نے حضرت ابن عباس ؓ سے روایت کیا کہ یہود مدینہ کے بارے میں یہ آیت نازل ہوئی ان میں سے ایک آدمی تھا جو سسرالی اور نسبتی رشتہ داروں اور اس شخص سے جو اس کے اور ان کے درمیان مسلمانوں میں سے رضاعت کا رشتہ تھا کہا کرتا تھا اس دین پر قائم رہ جس پر تو ہے اور اس پر بھی جو یہ آدمی…
Read the full tafseer →[ اَتَاْمُرُوْنَ : کیا تم لوگ ترغیب دیتے ہو ] [ النَّاسَ : لوگوں کو ] [ بِالْبِرِّ : نیکی کی ] [ وَتَنْسَوْنَ : اور تم لوگ بھول جاتے ہو ] [ اَنْفُسَكُمْ : اپنے آپ کو ] [ وَ : اس حال میں کہ ] [ اَنْتُمْ تَتْلُوْنَ : تم لوگ تلاوت کرتے ہو الْكِتٰبَ ۭ: کتاب کی ] [ اَفَلَاتَعْقِلُوْنَ : تو کیا تم لوگ سوچ سمجھ سے کام نہیں لیتے ]
Read the full tafseer →مبلغ اور داعی اپنے نفس کو نہ بھولے
اس آیت میں بھی یہودیوں سے خطاب کیا گیا ہے، چونکہ یہ لوگ قرآن کو اور رسول اللہ ﷺ کو حق جانتے تھے، اس لیے پوشیدہ طور پر کبھی کبھی اپنے عوام اور رشتہ داروں کو اسلام قبول کرنے کا مشورہ دیتے تھے اور خود اسلام قبول نہیں کرتے تھے۔ تفسیر ابن کثیر اور در منثور میں حضرت ابن عباس سے اس آیت کی تفسیر میں یہ بات نقل کی ہے ” رسول اللہ ﷺ ایک یہودی لڑکے کی عیادت کے لیے تشریف لے گئے جو آپ کی خدمت کیا کرتا تھا آپ تشریف لائے اور اس کے سر کے پاس تشریف فرما ہوگئے اور اس کو اسلام کی دعوت دی، اس نے اپنے باپ کی طرف دیکھا، جو وہاں موجود تھا اس کے باپ نے کہا کہ أبو القاسم (محمد رسول…
Read the full tafseer →توبیخ عالم بےعمل
اتامرون الناس بالبر وتسون انفسکم وانتم تتلون الکتب۔ افلا تعقلون۔ کیا تم دوسرروں کو نیکی اور بھلائی کا حکم کرتے ہو اور اپنے نفسوں کو بھولتے ہو حالانکہ تم کتاب یعنی توریت کو پڑھتے ہو جس میں عالم بےعمل کی مذمت جا بجا مذکور ہے۔ پس کیا تم سمجھتے نہیں کہ دوروں کو نیکی اور بھلائی کا راستہ بتلانا اور دیدہ دانستہ اپنے کو ہلاک اور برباد کرنا یہ عقل اور فراست نہیں بلکہ عین سفاہت اور عین حماقت ہے۔ تعجب ہے کہ تم دوسروں کے ساتھ تو احسان کرتے ہو مگر اپنے نفس کے ساتھ احسان نہیں کرتے حالانکہ وہ احسان کا زیادہ مستحق ہے اپنی بدخواہی اور دوسروں کی خیر خواہی عقل کا اقتضاء نہیں عقل کو عقل اسی لیے…
Read the full tafseer →ف 102 ۔ یہاں استفہام اظہار حیرت وتعجب کے لیے ہے یعنی تمہارا حال قابل تعجب ہے کہ تم لوگوں کو تو نیکی کا حکم دیتے ہو مگر خود نیکی نہیں کرتے ہو۔ یہ خطاب علمائے یہود سے ہے کہ وہ لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کی تلقین کرے تھے مگر خود اس پر عمل نہیں کرتے تھے۔ تورات میں نبی کریم (علیہ السلام) کی صداقت کی نشانیاں موجود تھیں مگر انہوں نے آپ کو نہ مانا۔ ان الیھود کانوا یامرون غیرھم باتباع التورۃ ثم انھم خالفوہ لانھم وجدوا فیھا ما یدل علی صدق محمد ﷺ ثم انھم ما امنوا بہ (کبیر ص 490 ج 1) بعض مفسرین کا قول ہے کہ جب مشرکین مکہ یا یہودیوں کے مسلمان رشتہ داروں میں سے کوئی شخص پوشیدہ طور پر علمائے یہود سےحضور ﷺ…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
گزشتہ سے پیوستہ : اس رکوع کی ابتداء میں اللہ تعالیٰ نے حضرت آدم (علیہ السلام) کی خلافت کا ذکر فرمایا ۔ پھر زمین پر اترنے کا حکم دیا۔ اور ہدایت و راہنمائی کا وہ اصول ہی بتلا دیا۔ جس پر جنت میں دوبارہ داخلے کا دار و مدار ہے۔ اس کے بعد بنی اسرائیل سے خطاب ہوا۔ دوسری قوموں کے مقابلے میں بنی اسرائیل کو مدت دراز تک فضیلت حاصل رہی۔ نبوت اور حکومت ان میں رہی۔ ان میں بڑے بڑے عابد و زاہد لوگ پیدا ہوئے۔ مگر ایک طویل عرصہ کے بعد اس قوم میں خرابیاں پیدا ہوگئیں ۔ جن کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے خلافت ارضی بنی اسرائیل سے بنی اسماعیل میں منتقل کردی۔
گزشتہ درس میں بنی اسرائیل کو خطاب کرکے ان پر کیے گئے انعامات…
Read the full tafseer →اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ 0 ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ 44
الف ( ا)
الألفات التي تدخل لمعنی علی ثلاثة أنواع :
- نوع في صدر الکلام .
- ونوع في وسطه .
- ونوع في آخره .
فالذي في صدر الکلام أضرب :
- الأوّل : ألف الاستخبار، وتفسیره بالاستخبار أولی من تفسیر ه بالاستفهام، إذ کان ذلک يعمّه وغیره نحو : الإنكار والتبکيت والنفي والتسوية .
فالاستفهام نحو قوله تعالی: أَتَجْعَلُ فِيها مَنْ يُفْسِدُ فِيها [ البقرة/ 30] ، والتبکيت إمّا للمخاطب أو لغیره نحو : أَذْهَبْتُمْ طَيِّباتِكُمْ [ الأحقاف/ 20] ، أَتَّخَذْتُمْ عِنْدَ اللَّهِ عَهْداً […
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
ترکیب : اَ استفہامیہ داخل ہے جملہ تامرون الناس الخ پر اور یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا نہ کرو تامرون الناس الخ جملہ معطوف علیہ وتنسون الخ دوسرا جملہ اس پر معطوف وانتم تتلون الکتاب جملہ اسمیہ حال ہے ضمیر فاعل تنسون سے افلاتعقلون جملہ استفہامیہ بمعنی توبیخ یہاں تک یہ جملہ معترضہ سا تھا اس کا شان نزول ابن 1 ؎ عباس ؓ سے یوں منقول ہے کہ علمائِ یہود اپنے ان اقارب سے جو مسلمان
ہوگئے تھے یہ کہتے تھے کہ اسی دین پر قائم رہو کیونکہ یہ حق ہے اور از خود اسلام میں داخل نہ ہوتے تھے (جلالین) بعض کہتے ہیں کہ اوروں کو صدقہ اور خیرات کا حکم دیتے تھے اور خود نہ کرتے تھے (بیضاوی) واستعینوا الخ معطوف ہے اذکروا…
Read the full tafseer →ارشاد فرمایا :
اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَکُمْ وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْکِتٰبَط اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ۔
(کیا تم لوگوں کو وفاداری کا حکم دیتے ہو اور اپنے آپ کو بھول جاتے ہو اور حال یہ ہے کہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں) (البقرۃ۔ 44)
اَلْبِرْ کا مفہوم
اس آیت کریمہ میں البر کا لفظ استعمال ہوا ہے کہ ” اے علمائے یہود ! تم لوگوں کو تو بِرٌّ کا حکم دیتے ہو اور خود اپنے آپ کو بھول جاتے ہو “۔ برکا ترجمہ عام طور پر ” نیکی “ سے کیا جاتا ہے۔ لیکن یہاں جس طرح علماء یہود پر گرفت ہورہی ہے اور ان کے اس گناہ کو قومی جرم کے طور پر پیش کیا جارہا ہے اس کو سامنے رکھتے…
Read the full tafseer →فہم القرآن
ربط کلام : بنی اسرائیل کے مذہبی راہنماؤں کا کردار کہ وہ لوگوں کو نیکی کا حکم کرتے مگر اپنے آپ کو بھول جاتے تھے جو دانشمندی کے خلاف ہے۔
بنی اسرائیل کے علماء نے دین اور اس کی تبلیغ کو پیشہ کے طور پر اختیار کر رکھا تھا۔ بظاہر ان کا اوڑھنا بچھونا دین ہی تھا۔ لیکن دین کو محض ڈیوٹی اور پیشہ کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ دینی فرائض کی بظاہر ادائیگی اور نیکی کی نمائش کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں تھا۔
ایسے لوگوں کو سمجھایا جا رہا ہے کہ دینی مشغلے سے تمہیں وقتی مفاد تو حاصل ہوجائے گا۔ لیکن حقیقی اور دائمی فائدے سے محروم رہو گے۔ کتاب اللہ کا علم جاننے اور منصب امامت سنبھالنے کے باوجود ایسا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–46
وَاَنْتُمْ تَعْ ( علیہ السلام) لَمُوْنَ : (حالانکہ تم جانتے ہو) یہ جاننے کی حالت میں کہ تم التباس کرنے والے، چھپانے والے ہو اور یہ ان کے لیے قبیح ترین چیز تھی۔ کیونکہ قبیح سے ناواقفی بسا اوقات مرتکب قبیح کے لیے عذربن جاتی ہے۔
وَاَقِیْمُوا الصَّلٰوۃَ وَاٰتُوا الزَّکٰوۃَ : (اور تم نماز قائم کرو اور زکوٰۃ ادا کرو) یعنی مسلمانوں والی نماز و زکوٰۃ
رکوع کی مراد :
وَارْکَعُوْا مَعَ الرّٰکِعِیْنَ : (اور رکوع کرو رکوع کرنے والوں کے ساتھ) جو ان میں سے رکوع کرنے والے ہیں کیونکہ یہود کی نماز میں رکوع نہ تھا۔ (مگر اس کے لیے ثبوت درکار ہے جبکہ حضرت مریم کو فرمایا یا مریم اقنتی لربک واسجدی وارکعی مع…
Read the full tafseer →44۔ (آیت)” اتامرون الناس بالبر “ یعنی طاعت کے ساتھ یہ علمائے یہود کے حق میں نازل ہوئی ، یہ اس لیے کہ ان میں سے کوئی ایک شخص اپنے قریبی ساتھی اور اپنے حلیف ایمان والے کو اس وقت کہتا جب وہ ایمان والا حضور ﷺ کے بارے میں پوچھتا کہ تو اپنے دین پر قائم رہ کیونکہ حضور ﷺ کا معاملہ حق پر مبنی ہے اور اس کی بات سچی ہے ، بعض نے کہا گیا ہے کہ یہ خطاب ان کے احبار سے ہے جب انہوں نے اپنے متبعین کو (احکام) تورات کو مضبوطی سے تھامنے کا حکم دیا اور خود تورات کی مخالفت کی اور (تورات میں موجود) صفات نبوی کو بدل ڈالا ۔ ” وتنسون “۔
” انفسکم “ یعنی اپنے آپ کو چھوڑ دیتے ہو اور تورات کی اتباع نہیں کرتے ہو (آیت)” وانتم…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
علمائے یہود اپنی قوم کے جاہل لوگوں کو نیک کام کرنے کی نصیحت تورات کے موافق کرتے تھے اور خود آپ اسی نیک کام کے کرنے کے پابند نہ ہوتے تھے۔ ان میں یہ بات بھی تھی کہ یوں کہنے کو تو تورات کی آیتوں کے موافق عمل کرنے کو اپنی قوم کے لوگوں سے کہتے تھے۔ مگر تورات میں نبی آخر الزمان کی نشانیوں کی جو آیتیں تھیں ان کو چھپاتے تھے۔ ان پر اللہ تعالیٰ نے ان کو یہ تنبیہ فرمائیں۔ صحیحین میں اسامہ بن زید سے روایت ہے جس کا حاصل یہ ہے کہ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ دوزخ میں ایک شخص کی انتڑیاں باہر نکلی ہوئی پڑی ہوں گی اور وہ اپنی انتڑیوں کے گرد پھرتا ہوگا اور عذاب میں مبتلا ہوگا۔ دوزخی لوگ اس سے کہویں گے کہ اے شخص تو تو…
Read the full tafseer →آیت 44-
(آیت) اَتَاْمُرُوْنَ النَّاسَ بِالْبر ” کیا تم لوگوں کو نیکی (یعنی ایمان اور بھلائی) کا حکم دیتے ہو ؟ “ (آیت) ’ِرِّ وَتَنْسَوْنَ اَنْفُسَكُمْ ’ اور بھول جاتے ہو اپنے آپ کو “ یعنی تم اپنے آپ کو ایمان اور بھلائی کا حکم دینا چھوڑ دیتے ہو۔ (آیت) وَاَنْتُمْ تَتْلُوْنَ الْكِتٰبَ 0ۭ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ ] اور تمہارا حال یہ ہے کہ تم کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہو، کیا تم سمجھتے نہیں ؟ عقل کو اس لئے عقل کہا اجتا ہے کیونکہ اس کے ذریعے سے فائدہ مند چیز اور بھلائی کا شعور حاصل کیا جاتا ہے اور اس کے ذریعے سے اس چیز سے بچا جاتا ہے جو ضر ررساں ہے، اس لیے کہ عقل انسان کو اس بات پر آمادہ کرتی ہے کہ وہ جس…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–45
قول باری ہے : واستعینوا بالصبروا الصلوۃ اور صبر اور نماز کے ذریعے مدد کرو) اس میں صبر کرنے کا حکم اللہ تعالیٰ کے فرض کردہ فرائض کی ادائیگی اور اس کے معاصی سے اجتناب پر فرض نماز کو بروئے کار لانے کے ساتھ متعلق ہے۔ سعید نے قتادہ سے روایت بیان کی ہے کہ صبر اور نماز دونوں باتیں اللہ تعالیٰ کی اطاعت نماز کی ادائیگی، گناہوں سے اجتناب اور فرائض کی بجا آوری میں بڑی ممد و معاون ہیں جس طرح یہ قول باری ہے :
(بےشک نماز بےحیائی اور ناشائستہ کاموں سے روکتی رہتی ہے) یہاں بھی احتمال ہے کہ آیت میں مذکورہ صبر اور صلوۃ سے مستحب صبر و صلوۃ ، مثلاً نفلی روزے اور نفلی نماز مراد ہو، مفروض صبر و صلوۃ مراد نہ ہوں…
Read the full tafseer →132 اپنی فکر سب سے پہلے کرنے کی ضرورت : ۔ سو اس ارشاد سے دوسروں کو ہدایت کرنے اور خود اپنے آپ کو بھول جانے کی مہلک روش سے بچنے کی ہدایت فرمائی گئی ہے کہ دوسروں کو تو احکام تورات پر عمل کرنے کی تعلیم دیتے ہو مگر خود ایسا نہیں کرتے۔ یہ خطاب علماء یہود سے ہے۔ (تفسیر کبیر، وغیرہ) مزید یہ کہ جب مشرکین مکہ اور یہود کے اہلِِ ایمان اپنے ان پیشواؤں سے اسلام کی حقانیت اور صداقت کے بارے میں پوچھتے تو وہ ان سے کہتے کہ بیشک یہ وہی نبی ہیں جن سے متعلق پیشگوئیاں ہماری کتابوں میں آئی ہیں، اور یہ وہی آخری پیغمبر اور آخری دین ہے، جس کی ہمیں انتظار تھی، لہذا تم ان پر ایمان لے آؤ مگر خود ایمان نہیں لاتے تھے اس…
Read the full tafseer →دوسروں کو نصیحت، خود میاں فضیحت
تشریح : اس آیت میں یہودی علماء کو فضیحت کے انداز میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں کتاب دی جا چکی ہے جس میں تمام احکامات تفصیل سے بیان کئے جا چکے ہیں مگر تم نے دل سے ان کو نہ تو قبول کیا ہے اور نہ ہی خلوص سے ان پر عمل پیرا ہوئے ہو۔ ایسی حالت میں جب تم زبانی کلامی لوگوں کو نیکی کی ہدایت کرتے ہو تو بتاؤ تمہاری زبانی ہدایات کا دوسروں پر کیا اثر ہوسکتا ہے۔ صرف اپنی نیک نامی کے لئے تم لوگوں کو راہ دکھانے کا کام کرتے ہو۔ دراصل تم خود راست بازی اور نیکی سے مکمل غافل ہوچکے ہو۔ حالانکہ عقل کا تقاضہ یہ ہے کہ پہلے خود انسان اپنی اصلاح کرے خلوص نیت سے پاکی اور راست بازی…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
آیات 40- 46
اسرارو معارف
جیسا کہ پہلے عرض کیا جاچکا ہے کہ یہ سورة بلحاظ نزول مدنی ہے اور مدینہ منورہ میں یہود کا کافی تسلط تھا۔ قلعے اور جاگیریں بھی تھیں کاروباری لحاظ سے بھی بہت بڑھے ہوئے تھے اور ان میں بڑے بڑے علماء بھی تھے نیز وہ اپنے آسمانی مذہب پر ہونے اور حق پر ہونے کے مدعی بھی تھے۔
لہٰذا اللہ کریم نے سب سے پہلے مومن کے اوصاف ، پھر کافر اور منافق کے حالات بیان فرمائے پھر عمومی دعوت تمام انسانیت کو دی اور آپ روئے سخن براہ راست یہود کی طرف ہے کہ اسے اولاد یعقوب (علیہ السلام) کہتے ہیں اسرائیل حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ان سے لے کر حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) تک تمام نبی بنی اسرائیل…
Read the full tafseer →ف 5 ۔ یا تم اپنے آپ کو کیوں نہیں روکتے قتادہ کہتے ہیں اللہ تعالیٰ نے یہودی علماء کے اس طرز عمل پر عاردلائی ہے جو دوسروں کے سامنے اسلامن کی تعریف کرتے اور خود اسلام قبول نہ کرتے تھے اس سے یہ نہیں سمجھنا چا ہیئے کہ جو شخص خود عمل پیرا نہ ہو وہ دسرو کو بھی منع نہ کرے کیونکہ یہود کر زجر ان کے امربا لمعروف پر نہیں ہے بلکہ ترک عمل پر ہے زیادہ سزا ملے گی۔ حدیث میں ہے قیاتم کے روز ایک شخص کو دوزخ میں ڈالا جائے گا اس کی انتڑیاں نکل کر ڈھیر ہوجائیں گی اور وہ شخص آگ میں ان کے گرد یوں کھومے گا جیسے گدھا چکی کے گرد گھومتا ہے لوگ اس سے دریافت کریں گے کیا تم ہم کو نیکی کا حکم نہیں دیتے تھے اور برائی سے منع…
Read the full tafseer →(2:44) اتامرون ۔ الف استفہامیہ ہے اور جملہ تامرون الناس ۔۔ الخ پر داخل ہے یہ استفہام انکاری ہے یعنی ایسا مت کرو۔ تامرون مضارع جمع مذکر حاضر امر مصدر (باب نصر) تم حکم دیتے ہو۔ اتامرون الناس بالبر۔ کیا تم لوگوں کو نیکی کرنے کا حکم دیتے ہو (اور ۔۔ الخ) البر۔ نیکی کرنا۔ بھلائی کرنا۔ نیکوکاری مصدر ہے۔
وانتم تتلون الکتب ۔ یہ جملہ حال ہے ضمیر فاعل تنسون۔ سے۔ تتلون۔ مضارع جمع مذکر حاضر تلاوۃ (باب نصر) مصدر۔ تم پڑھتے ہو، تم تلاوت کرتے ہو۔ الکتب سے مراد یہاں توراۃ ہے۔
افلا تعقلون۔ الف استفہامیہ ہے اور فاء عاطفہ ہے۔ اس صورت کی مندرجہ ذیل توجیہات ہیں۔
(1) جیسا کہ اجزائے جملہ معطوفہ کا عام قاعدہ ہے کہ حرف…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 40–46
لغات القرآن : آیت نمبر 40 تا 46
(بنی) : بیٹے، اولاد، ابن کی جمع بنین ہے، اضافت کی وجہ سے نون گر گیا۔ (اسرائیل): حضرت یعقوب (علیہ السلام) کا لقب ہے۔ ترجمہ : اللہ کا بندہ ۔ (اوفوا) : پوراکرو۔ (عھد): وعدہ، معاہدہ۔ (ارھبون ) : مجھ سے ڈرو۔ (ارھبوا۔ ۔۔ ۔ تم ڈرو، وقایہ ، فارھبونی، ” ی “ گرگئی ) ۔ (مصدق): تصدیق کرنے والا، سچا بتانے والا۔ (لا تکونوا): تم نہ ہو۔ (کافر): انکار کرنے والا۔ (لا تشتروا): تم فروخت نہ کرو۔ (ثمنا قلیلاً ): تھوڑی قیمت، گھٹیا قیمت۔ (فاتقون): مجھ سے ڈرو، (یہ بھی ارھبون کی طرح ہے) ۔ (لا تلبسوا): نہ ملاؤ۔ (الحق): سچ۔ (الباطل): جھوٹ۔ (تکتموا): تم نہ چھپاؤ۔ (یہاں اصل میں لفظ ہے لا…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–46
سچی نماز کا ذکر
فوائد القرآن : مسند امام احمد اور ابوداؤد میں حضرت حذیفہ ؓ سے روایت ہے کہ آنحضرت ﷺ کا دل جب کسی بات سے پریشان ہوتا تو آپ نماز میں پڑھا کرتے تھے۔ پھر فرمایا کہ اس طرح کی نماز جس سے بری خصلت چھوٹ جاوے اور دل کی پریشانی رفع ہوجاوے انہی لوگوں کی ہے جو نماز پڑھتے وقت خدا کا خوف دل میں رکھتے ہیں۔
Read the full tafseer →Explained with ayahs 41–44
[37] حق کو کسی دنیوی مادی مصلحت کی بنا پر چھوڑ دینا حق فروشی ہے اس کے معاوضے میں انسان خواہ دنیا بھر کی دولت لے لے بہرحال وہ تھوڑی قیمت ہی ہے کیونکہ حق سے زیادہ گراں کوئی چیز نہیں۔
Read the full tafseer →تنظیم جماعت کے اصول :
(ف 2) قرآن حکیم بار بار جس غلط فہمی کو دور کردینا چاہتا ہے وہ قول وعمل میں عدم توافق ہے قرآن کہتا ہے کہ تبلیغ و اشاعت کا آغاز ، رہنمائی اور قیادت کا شروع اپنے نفس سے ہو ، اپنے قریبی ماحول سے ہو ، ورنہ محض شعلہ مقال کوئی چیز نہیں (آیت) ” لم تقولون ما لا تفعلون “۔ یہودیوں اور عیسائیوں میں بےعملی کا مرض عام ہوچکا تھا ، ان کے علماء واولیاء محض باتوں کے علماء تھے عمل سے معرا ‘ اخلاق سے کورے اور زبان کے رسیلے لوگ خدا کو پسند نہیں ۔ وہ تو عمل چاہتا ہے جدوجہد کا طالب ہے ، اس کے حضور میں کم گو لیکن ہمہ کا ہش لوگ زیادہ مقرب ہیں
Read the full tafseer →Explained with ayahs 42–44
ف 1۔ اور حق کو باطل اور ناحق کے ساتھ مخلوق نہ کرو اور حق بات کو جان بوجھ کر چھپائو نہیں اور نماز کی پابندی کرو اور زکوٰۃ ادا کیا کرو اور نماز پڑھنے والوں کے ساتھ مل کر نماز پڑھا کرو کیا تم اور لوگوں کو بھلے اور نیک کام کرنی کی تعلیم دیتے ہو اور حکم کرتے ہو اور اپنے آپ کو اس بھلے کام سے فراموش کئے بیٹھے ہو حالانکہ تم کتاب توریت پڑھتے ہو تو کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے کہ دوسروں کو نیک کام کی ترغیب دینا اور خود اس کام کو نہ کرنا کیسا برا ہے۔ ( تیسیر)
خود غرض اور حرض و ہوا کے بندے احکام شرعیہ کو دو طرح بدلتے تھے ایک تو حق بات کو چھپالیا کرتے تھے اور کہتے تھے کہ یہ بات توریت میں نہیں ہے اور…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 44–47
ف 6۔ اس سے یہ مسئلہ نہیں نکلتا کہ بےعمل کو واعظ بننا جائز نہیں بلکہ یہ نکلتا ہے کہ واعظ کو بےعمل بننا جائز نہیں۔
Read the full tafseer →یہود کی یہ گمراہی کہ دوسروں کو نصیحت اور خود میاں فضیحت :
97: دین اسلام کی نشانی ہی یہ ہے کہ وہ جب دعوت دے گا تو عمل کی دعوت ہی دے گا۔ اس لئے کہ اس کے اوا مرو احکام ایک ایسی امت پیدا کرنا چاہتے ہیں جو یکسر عمل ہی عمل ہو۔ اس لئے ہر وہ شخص جو اپنی قوت عملیہ فنا کر دے ، اسلام کے نزدیک مردود ہے۔ پھر ان لوگوں کی کیا حالت ہوگی جو دوسروں کو تو کام کرنے کی دعوت دیتے ہیں مگر خود اس سے محروم محض رہتے ہیں ؟ قرآن کریم نے شاعر لوگوں کی ایک اصولی غلط کاری بیان کی ہے اور وہی دراصل ان کے تمام امراض و مفاسد کی علت العلل اور بمنزلہ بنیادی پتھر کے ہے فرمایا گیا کہ یہ وہ لوگ ہیں کہ :
وَ اَنَّهُمْ یَقُوْلُوْنَ…
Read the full tafseer →An admonition to preachers without practice
Verse 44 addresses the religious scholars of the Jews, and reprimands them for a strange contradiction in their behaviour - they used to advise their friends and relatives to follow the Holy Prophet ﷺ and to be steadfast in their Islamic faith, which shows that they regarded Islam as the true faith, but, being enslaved to their desires, were not prepared to accept this faith themselves, although they were regular readers of the Torah and knew how emphatically it denounces the scholar who does not act upon his knowledge. Though externally addressed…
Read the full tafseer →Explained with ayahs 43–44
59. Prayer and Purifying Alms (Zakah) have always been among the most important pillars of the Islamic faith. Like other Prophets, the Prophets of Israel laid great stress upon them. The Jews had, however, become very negligent about these duties. Congregational Prayer had all but ceased among them; in fact, a great majority of the Jews did not perform Prayers even individually. They had also not only ceased to pay Purifying Alms, but some had even gone so far as to make their living out of interest.
Read the full tafseer →